17/07/2025
Contact: 03198114086 #
Al Hafiz Online Quran Academy
17/07/2025
Contact: 03198114086 #
I need Male Quran teacher for kid
Direct contact on WhatsApp 👇
+92 3198114086
15/04/2025
Al Hafiz Online Quran Academy. Contact : +923198114086
15/04/2025
logo
Al Hafiz Online Quran Academy ♥️
حدیث ’ خيركم من تعلم القرآن وعلمه ‘ کا ترجمہ و تشریح
حدیث ’ خيركم من تعلم القرآن وعلمه ‘ کا ترجمہ و تشریح
حدیث ’ خيركم من تعلم القرآن وعلمه ‘ کا ترجمہ و تشریح
تم میں سب سے بہتر شکص وہ جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔۔
قرآن حکیم سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت کا بیان
116. عَنْ عُثْمَانَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم، قَالَ:خَيْرُکُم مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ. رواه البخاري.
وفي رواية عنه: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم: إِنَّ أَفْضَلَکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرآنَ وَعَلَّمَهُ. رواه البخاري.
”حضرت عثمان (بن عفان) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن (پڑھنا اور اس کے رموز و اَسرار اور مسائل) سیکھے اور سکھائے۔”اور ایک روایت میں ان ہی سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تم میں سے افضل شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔“
117. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: مَنْ سَلَکَ طَرِيْقًا يَلْتَمِسُ فِيْهِ عِلْمًا سَهَّلَ اﷲُ لَهُ بِهِ طَرِيْقًا إِلَی الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَومٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اﷲِ يَتْلُونَ کِتَابَ اﷲِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلاَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّکِيْنَةُ، وَ غَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلاَئِکَةُ، وَذَکَرَهُمُ اﷲُ فِيْمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ. رواه مسلم وأبوداود.
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص طلبِ علم کے لئے کسی راستہ پر چلا، اﷲ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے اور جب بھی لوگ اﷲ تعالیٰ کے گھروں (مسجدوں) میں سے کسی گھر (مسجد) میں جمع ہوتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں اسے سیکھتے سکھاتے ہیں تو ان لوگوں پر سکون و اطمینان نازل ہوتا ہے، رحمتِ الٰہی انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے پر باندھ کر ان پر چھائے رہتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ ملاءِ اعلی کے فرشتوں میں ان کاذکر کرتا ہے، اور جس شخص کے اعمال اس کو پیچھے کردیں اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔“
118. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم بَعْثًا وَهُمْ ذُو عَدَدٍ، فَاسْتَقْرَأَهُمْ، فَاسْتَقْرَأَ کُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَا مَعَهُ مِنَ الْقُرْآنِ فَأَتَی عَلَی رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، فَقَالَ: مَا مَعَکَ يَا فُلاَنُ؟ قَالَ: مَعِي کَذَا وَکَذَا وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ. قَالَ: أَمَعَکَ سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيْرُهُمْ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِهِمْ: وَاﷲِ! يَا رَسُوْلَ اﷲِ! مَا مَنَعَنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ إِلاَّ خَشْيَةَ أَلاَّ أَقُوْمَ بِهَا. فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْرَءُوهُ، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ کَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْکًا يَفُوحُ رِيْحُهُ فِي کُلِّ مَکَانٍ، وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَيَرْقُدُ وَهُوَ فِي جَوفِهِ کَمَثَلِ جِرَابٍ وُکِيئَ عَلَی مِسْکٍ. رواه الترمذي والنسائي وابن ماجة وابن خزيمة وابن حبان. وقال أبو عيسی: هذا حديث حسن.
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت سے افراد پر مشتمل ایک لشکر بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قرآن پڑھنے کا حکم فرمایا تو جسے جو کچھ یاد تھا اس نے پڑھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے عمر کے لحاظ سے سب سے چھوٹے شخص کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے فلاں! تجھے کچھ یاد ہے؟ اس نے عرض کیا: مجھے فلاں فلاں سورۃ اور سورۃ البقرہ یاد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر (خوشی سے) فرمایا: کیا تجھے سورۃ البقرہ یاد ہے؟ عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جا تو ان (سب لشکریوں) کا امیر ہے۔ اس پر ان کے معززین میں سے ایک شخص بولا: اﷲ کی قسم! یا رسول اللہ! میں نے تو صرف اس لئے سورۃ البقرہ نہیں سیکھی کہ میں (اس کی طوالت کی وجہ سے) اسے نماز میں نہیں پڑھ سکتا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن سیکھو اور اسے پڑھتے رہا کرو، اس لئے کہ جو قرآن سیکھے پھر اسے پڑھے، اس کی مثال اس تھیلے کی طرح ہے جس میں مُشک بھرا ہوا ہو اور اس کی خوشبو جگہ جگہ پھیل رہی ہو؛ اور جس نے قرآن پڑھنا سیکھا اور سینے میں لئے سورہا (کبھی تلاوت نہ کی) اس کی مثال اس تھیلے کی سی ہے جس میں مُشک بھر کر اس کا منہ سی دیا گیا ہو۔“
119. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيْهِ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَتَعَلَّمَهُ وَعَمِلَ بِهِ أُلْبِسَ يَومَ الْقِيَامَةِ تَاجًا مِنْ نُوْرٍ ضَوْؤُهُ مِثْلُ ضَوْءِ الشَّمْسِ، وَيُکْسَی وَالِدَيْهِ حُلَّتَانِ لَايُقَوَّمُ بِهِمَا الدُّنْيَا. فَيَقُولَانِ: بِمَ کُسِيْنَا هَذَا؟ فَيُقَالُ: بِأَخْذِ وَلَدِکُمَا الْقُرْآنَ. رواه الحاکم. وقال: هذا حديث صحيح علی شرط مسلم.
”حضرت عبد اﷲ بن بریدہ اَسلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن پڑھا، اس کا علم حاصل کیا اور اس پر عمل پیرا ہوا اسے قیامت کے دن نور کا ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی کی طرح ہوگی۔ اور اس کے والدین کو دو ایسے حلّے (لباس) پہنائے جائیں گے کہ ساری دنیا بھی ان کی قیمت کے برابر نہ ہوگی۔ تو وہ عرض کریں گے: ہمیں یہ لباس کس وجہ سے پہنایا گیا ہے؟ تو انہیں جواب دیا جائے گا: اس لئے کہ تمہارے بیٹے نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا تھا۔“
120. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ لِي رَسُوْلُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: يَا أَبَا ذَرٍّ! لَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ آيَةً مِنْ کِتَابِ اﷲِ، خَيْرٌ لَکَ مِنْ أَنْ تُصَلِّي مِائَةَ رَکْعَةٍ. وَلَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ، عُمِلَ بِهِ أَوْ لَمْ يُعْمَلْ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تُصَلِّي أَلْفَ رَکْعَةٍ. رواه ابن ماجة بإسناد حسن.
”حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے ابوذر! بیشک تم صبح کو جا کر اﷲ تعالیٰ کی کتاب کی ایک آیت سیکھ لو تو یہ تمہارے لئے سو رکعات نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ اور اگر علم کا ایک باب سیکھ لو، اس باب پر عمل ہو رہا ہو یا نہ ہو رہا ہو (یہ الگ بات ہے)، تو بھی یہ تمہارے لئے ایک ہزار رکعات (نفل) نماز سے بہتر ہے۔“
121. عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: سَمِعَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه ضَجَّةَ نَاسٍ فِي الْمَسْجِدِ، يَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ وَ يُقْرِءُوْنَ، فَقَالَ: طُوبَی لِهَؤُلاَءِ، هَؤُلاَءِ کَانُوا أَحَبَّ النَّاسِ إِلَی رَسُولِ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم. رواه الطبراني.
”حضرت عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مسجد میں لوگوں کے قرآن پڑھنے اور پڑھانے کی آوازیں سنیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہیں مبارک ہو، یہ وہ لوگ ہے جو سب سے زیادہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند تھے۔“
122. عَنْ سَعْدٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: خِيَارُکُمُ مَنْ تَعْلَّمَ الْقُرآنَ وَعَلَّمَهُ. قَالَ: وَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا أُقْرِءُ. رواه ابن ماجة وأحمد والدارمي وابن أبي شيبة.
”حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن مجید سیکھیں اور سکھائیں۔ عاصم کہتے ہیں: مصعب نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے (اعلیٰ) مقام پر بٹھایا اور فرمایا: یہ سب سے بڑے قاری ہیں۔“
123. عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضي الله عنه کَانَ يَقُولُ: إِنَّ هَذَا الْقُرآنَ مَأْدُبَةُ اﷲِ، فَمَنْ دَخَلَ فِيْهِ فَهُوَ آمِنٌ. رواه الدارمي وابن المبارک.
وفي رواية عنه قال: هَذَا الْقُرْآنُ مَأْدُبَةُ اﷲِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ يَتَعَلَّمَ مِنْهُ شَيْئًا فَلْيَفْعَلْ. رواه الطبراني بأسانيد، ورجال هذا الطريق رجال الصحيح.
”حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرمایا کرتے تھے کہ بیشک یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا دسترخوان ہے، پس جو اس دسترخوان میں شامل ہوگیا اسے امن نصیب ہوگیا۔
”اور ایک دوسری روایت میں آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: یہ قرآن اللہ تبارک و تعالیٰ کا دسترخوان ہے پس تم میں سے جو شخص اس سے سیکھنے کی استطاعت رکھتا ہے اسے چاہیئے کہ وہ اس سے ضرور سیکھے