Hafiz mohsin Saifi

Hafiz mohsin Saifi iam Islamic speaker and my first priority of life is Allah Mera Kam Islamic ki talemat dena

10/07/2026

Hafiz Mohsin Hafiz mohsin Saifi

سوال:صبح و شام اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کی کیا فضیلت ہے؟جواب:حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنے دادا سے روایت کرتے ...
17/05/2026

سوال:
صبح و شام اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کی کیا فضیلت ہے؟
جواب:
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عربی متن:
" مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ حَجَّ مِائَةَ حَجَّةٍ، وَمَنْ حَمِدَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ حَمَلَ عَلَى مِائَةِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - أَوْ قَالَ : غَزَا مِائَةَ غَزْوَةٍ - وَمَنْ هَلَّلَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ مِائَةَ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ لَمْ يَأْتِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ أَحَدٌ بِأَكْثَرَ مِمَّا أَتَى، إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ، أَوْ زَادَ عَلَى مَا قَالَ "
ترجمہ:
جو شخص صبح کے وقت سو مرتبہ اور شام کے وقت سو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرے، وہ ایسا ہے جیسے اس نے سو حج کیے ہوں۔ اور جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے، وہ ایسا ہے جیسے اس نے اللہ کی راہ میں سو گھوڑے جہاد کے لیے بھیجے ہوں، یا فرمایا: سو جہاد کیے ہوں۔ اور جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ" پڑھے، وہ ایسا ہے جیسے اس نے اولادِ اسماعیل میں سے سو غلام آزاد کیے ہوں۔ اور جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ "اللَّهُ أَكْبَرُ" کہے، تو اس دن کوئی شخص اس سے زیادہ عمل لے کر نہیں آئے گا، مگر وہ جو اتنا ہی کہے یا اس سے زیادہ پڑھے۔
حوالہ:
جامع ترمذی : حدیث 3471

15/05/2026

داڑھی سے متعلق اہم مسئلہ
سوال:
کیا داڑھی کٹوانا، منڈوانا یا شرعی حد سے کم کرنا جائز ہے؟ اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ “باطن اچھا ہونا زیادہ ضروری ہے، چاہے داڑھی شریعت کے خلاف ہو” تو کیا یہ عذر درست ہے؟ نیز اگر کوئی داڑھی رکھنے والوں کا مذاق اڑائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
داڑھی کو شرعی حد سے کم کرنا یا منڈوانا ناجائز اور گناہ ہے۔ داڑھی رکھنا حضور نبی کریم ﷺ، تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام کی سنت اور مسلمانوں کی پہچان ہے۔ اس کے خلاف عمل کرنا شریعت میں منع فرمایا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ
یعنی دس چیزیں فطرت اور انبیاءِ کرام علیہم السلام کی سنتوں میں سے ہیں، ان میں مونچھیں کم کرنا اور داڑھی بڑھانا بھی شامل ہے۔
یہ کہنا کہ “باطن اچھا ہو تو داڑھی کی ضرورت نہیں” درست عذر نہیں، کیونکہ مسلمان کو ظاہر اور باطن دونوں کی اصلاح کا حکم دیا گیا ہے۔ نیک باطن کے ساتھ شریعت کے ظاہری احکام پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔
اور اگر کوئی شخص داڑھی رکھنے والوں کا مذاق اڑائے، ان کی تحقیر کرے یا برے القاب سے پکارے تو یہ سخت گناہ اور بے ادبی ہے، جس سے بچنا لازم ہے۔
حوالہ:
فتاویٰ رضویہ، جلد 22، صفحہ

14/05/2026

موضوع روایت:
حدیث: "سُؤْرُ الْمُؤْمِنِ شِفَاءٌ"
(مومن کا جوٹھا شفا ہے)
◼ حکم:
اس روایت کی کوئی اصل نہیں۔
◼ تحقیق:
اس حدیث کو متعدد علماء نے اُن مشہور روایات میں ذکر کیا ہے جن کی کوئی اصل نہیں، اور بعض نے اسے موضوع (من گھڑت) روایات میں شمار کیا ہے۔
چنانچہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب المصنوع في معرفة الحديث الموضوع (ص 150) میں اس روایت کو ذکر کیا اور فرمایا کہ امام عراقی رحمہ اللہ نے کہا:
"یہ الفاظ لوگوں کی زبانوں پر مشہور ہیں، لیکن اس لفظ کے ساتھ اس کی کوئی اصل نہیں۔"
اور ملا علی قاری رحمہ اللہ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا:
"اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔"
(المصنوع ص 144)
اور مرقاة المفاتيح (5/1839) میں فرمایا:
"یہ معروف نہیں۔"
اسی طرح علامہ عامری رحمہ اللہ نے الجد الحثيث في بيان ما ليس بحديث (1/116) میں فرمایا:
"یہ حدیث نہیں ہے۔"
اور علامہ نجم الدین غزی رحمہ اللہ نے فرمایا:
"یہ حدیث نہیں ہے۔ البتہ دارقطنی نے کتاب الأفراد میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی ہے:
'تواضع میں سے یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کے جوٹھے سے پانی پی لے۔'"
پھر علامہ نجم الدین غزی رحمہ اللہ نے فرمایا:
"اس روایت سے وہ عمل مراد نہیں جو آج کل بعض علاقوں میں رائج ہو گیا ہے کہ خوبصورت کم عمر ساقی کے جوٹھے قہوے کو برکت سمجھ کر پیا جاتا ہے اور اسے "زمزمہ" کہا جاتا ہے۔ بلکہ اس کے ساتھ جو ناجائز نظر، لمس اور میلان شامل ہوتا ہے، وہ فسق ہے۔"
پھر انہوں نے ایک واقعہ ذکر کیا کہ:
"دمشق کے ایک خطیب کے ساتھ میں ایک مجلس میں تھا۔ ساقی آیا تاکہ ہمیں پلائے۔ میں نے اس سے منع کیا تو اس خطیب نے کہا: 'مومن کا جوٹھا شفا ہے۔'
میں نے جواب دیا: 'پہلے ہمیں کوئی حقیقی مومن تو نظر آئے، پھر ہم اس کے جوٹھے کو شفا سمجھیں۔'"

🖊️ :حافظ محسن سیفی:

جھوٹوں میں سے ایک جھوٹامتنِ حدیثحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ،...
13/05/2026

جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا
متنِ حدیث
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ»
ترجمہ
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جس شخص نے میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کی جس کے بارے میں وہ جانتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے، تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔”
وضاحت
اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کرنا جو آپ سے ثابت نہ ہو، انتہائی سخت گناہ اور بہت بڑا جرم ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان، خصوصاً اہلِ علم، خطباء اور مقررین پر لازم ہے کہ کوئی بھی حدیث بیان کرنے سے پہلے اس کی تحقیق ضرور کریں کہ آیا وہ صحیح ہے یا نہیں۔
آج کل سوشل میڈیا اور عام مجالس میں بغیر تحقیق کے احادیث بیان کرنے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے، حالانکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں سخت وعید بیان فرمائی ہے۔
اسی طرح صحیح بخاری کی حدیث میں ہے:
“جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔”
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ حدیثِ مبارکہ بیان کرنے میں انتہائی احتیاط، دیانت اور تحقیق سے کام لیں۔
حوالہ جات
📚 جامع ترمذی — حدیث: 2662
📚 صحیح البخاری — حدیث: 107
✍️ حافظ محسن سیفی

✨ تحقیقِ حدیث ✨حدیثِ مبارکہاَلْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِيمٌایک روایت میں:وَالْمُنَافِقُ خِبٌّ لَئِ...
11/05/2026

✨ تحقیقِ حدیث ✨
حدیثِ مبارکہ
اَلْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِيمٌ
ایک روایت میں:
وَالْمُنَافِقُ خِبٌّ لَئِيمٌ
کے الفاظ بھی منقول ہیں۔
🌸 ترجمہ
مومن سادہ دل، شریف اور پاک طینت ہوتا ہے، جبکہ فاجر و منافق مکار، دھوکے باز اور کمینہ ہوتا ہے۔
📚 تحقیقِ حدیث
1️⃣ اللُّؤْلُؤُ الْمَرْصُوع
امام صغانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو مصابیح کی موضوع روایات میں شمار کیا ہے۔
لیکن ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے امام صغانی رحمۃ اللہ علیہ کی اس رائے کو درست قرار نہیں دیا۔
2️⃣ الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
امام صغانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو موضوع کہا، حالانکہ اس روایت کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے، لہٰذا یہ روایت موضوع نہیں۔
3️⃣ تذكرة الموضوعات للفتني
امام فَتَنی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے کہ:
اس روایت کو بعض علماء نے موضوع قرار دیا ہے۔
4️⃣ المصنوع في معرفة الحديث الموضوع
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
یہ روایت مصابیح کی موضوع روایات میں سے نہیں ہے۔
5️⃣ كشف الخفاء
امام عجلونی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اگرچہ امام صغانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو موضوع کہا ہے، اور یہ لوگوں کی زبانوں پر مشہور بھی ہے، لیکن اس کا معنیٰ درست اور ثابت ہے؛ کیونکہ مومن عموماً سادہ، نرم دل اور بھولا بھالا ہوتا ہے۔
📖 جامع ترمذی کی روایت
متنِ حدیث
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ بِشْرِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
"الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِيمٌ"
قولِ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرمایا:
"هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ"
یعنی:
یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے اسی سند سے جانتے ہیں۔
🌿 امام البانی رحمۃ اللہ علیہ
امام البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
✨ وضاحت
اس حدیث کی سند میں اگرچہ بعض محدثین نے کلام کیا ہے، لیکن اس کے معنیٰ و مفہوم بالکل درست اور شریعت کے اصولوں کے مطابق ہیں۔
🌸 حدیث کا مفہوم
مومن عموماً صاف دل، نرم مزاج، شریف النفس اور دوسروں کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے والا ہوتا ہے، جبکہ فاجر اور منافق مکار، دھوکے باز اور چالاک ہوتا ہے۔

🖊️ حافظ محسن سیفی

11/05/2026

Islamic ve #

10/05/2026

Success demands consistent hard work, unwavering dedication, and a positive mindset.
Stay focused on your goals and never give up despite obstacles.

**

کامیابی کے لیے مسلسل محنت، پوری لگن اور مثبت سوچ ضروری ہے۔
اپنے اہداف پر توجہ رکھیں اور مشکلات میں بھی ہمت نہ ہاریں۔

سیفیہ اسلامک سینٹر کورسز میں داخلہ لینے کے لیے رابطہ کریں 03704336063☺️
05/05/2026

سیفیہ اسلامک سینٹر کورسز میں داخلہ لینے کے لیے رابطہ کریں 03704336063☺️

01/05/2026

Address

G11 Markaz
Islamabad
445560

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hafiz mohsin Saifi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share