15/04/2026
سیکٹر نیلور کے لوگوں کے لیے خوشخبری
IMCB NILORE میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے طلبہ کے امتحانات کے لیے سینٹر بنایا گیا
Education is the ability to listen to almost anything without losing your temper or your self-confid
15/04/2026
سیکٹر نیلور کے لوگوں کے لیے خوشخبری
IMCB NILORE میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے طلبہ کے امتحانات کے لیے سینٹر بنایا گیا
15/01/2026
Free
3 MonthsFashion Designing Course
For Female
25/01/2022
26/10/2021
السلام علیکم
محترم والدین
گزارش کی جاتی ہے کہ جن بچوں کو ویکسینیشن نہیں کروائے گی وہ جلد از جلد ویکسینیشن سن کروا لیں
حکومت پاکستان کی طرف سے بچوں کو ویکسینیشن کروانے کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں ہیں
10/10/2021
مزید پڑھیے: https://www.express.pk/story/2234188/1/
10/10/2021
ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان انتقال کرگئے وہ اسلام آباد کے اسپتال میں زیر علاج...;
07/09/2021
ملک بھر میں کورونا کی چوتھی لہر کے پیش نظر اسلام آباد کے وفاقی تعلیمی ادارے 4 ستمبر سے 11ستمبرتک بندکردیے گئے ہیں،اس دوران اون لائن کلاسز کے زریعے پڑھائی ہو سکے گی..
10/09/2020
وفاقی حکومت کے تعلیمی ادارے 15 ستمبر2020 کو کھل رہے ہیں
بادشاہ اور قیدی کے درمیان مکالمہ★
☆روم کے بادشاہ ہرقل اور ایک مسلمان قیدی کے درمیان مکالمہ☆
☆حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے روم سے لڑنے کے لیے ایک فوجی دستہ روانہ کیا، اس دستے میں ایک نوجوان صحابی عبد اللہ بن حذافہ بن قیس السھمی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ مسلمانوں اور قیصر کی فوج کے درمیان لڑائی نے طول پکڑ لی، قیصر مسلمانوں کی بہادر اور ثابت قدمی پر حیران ہوا اور حکم دیا کہ مسلمانوں کا کوئی جنگی قیدی ہو تو حاضر کیا جائے۔عبد اللہ بن حذافہ کو گھسیٹ کر حاضر کیا گیا جن کے ہاتھوں اور پاوں میں ہتھکڑیاں تھی، قیصر نے ان سے بات چیت شروع کی تو ان کی ذہانت سے حیران رہ گئے، دونوں کے درمیان یہ مکالمہ ہوا:-
قیصر: نصرانیت قبول کر لے تمہیں رہا کر دوگا
عبد اللہ: نہیں
قیصر: نصرانیت قبول کر لے آدھی سلطنت تمہیں دے دوں گا
عبد اللہ: نہیں
قیصر: نصرانیت قبول کر لے آدھی سلطنت دوں گا اور تمہیں حکمرانی میں شریک کروں گا
عبد اللہ: نہیں، اللہ کی قسم اگر تم مجھے اپنی پوری مملکت، اپنے آباواجداد کی مملکت، عرب وعجم کی حکومتیں بھی دے میں پلک جھپکنے کے لیے بھی اپنے دین سے منہ نہیں موڑوں گا۔
قیصر غضبناک ہوا اور کہا : تجھے قتل کر دوں گا، عبد اللہ: مجھے قتل کردے۔
قیصر نے حکم دیا کہ ان کو ایک ستون پر لٹکا کر ان کے آس پاس تیروں کی بارش کی جائے(ڈرانے کے لیے) پھر اس کو عیسائیت قبول کرنے یا موت کو گلے لگانے میں سے ایک بات کا اختیار دیا جائے۔
جب قیصر نے دیکھا کہ اس سے بھی بات نہیں بنی وہ کسی حال میں اسلام چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تو حکم دیا کہ قید میں ڈال دو اور کھانا پینا بند کر دو ۔۔۔عبد اللہ کو کھانا پینا نہیں دیا گیا یہاں تک کہ پیاس اور بھوک سے موت کے قریب ہو گئے تو قیصر کے حکم سے شراب اور خنزیر کا گوشت ان کے سامنے پیش کیا گیا۔۔۔جب عبد اللہ نے یہ دیکھا تو کہا : اللہ کی قسم مجھے معلوم ہے کہ میں وہ مضطر( پریشان حال) ہوں جس کے لیے یہ حلال ہے، مگر میں کفار کو خوش کر نا نہیں چاہتا، یہ کہہ کر کھانے کو ہاتھ بھی نہ لگا یا۔ یہ بات قیصر کو بتائی گئی تو اس نے عبد اللہ کے لیے بہترین کھانا لانے کا حکم دیا ، اس کے بعد ایک حسین وجمیل لڑکی کو ان کے پاس بھیجا گیا کہ ان کو چھیڑے اور فحاشی کا مظاہر ہ کرے۔۔۔اس لڑکی نے بہت کوشش کی مگر عبد اللہ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی اوراللہ کےذکر میں مشغول رہے۔۔۔جب لڑکی نے یہ دیکھا تو غصے سے باہر چلی آئی اور کہا : تم نے مجھے کیسے آدمی کے پاس بھیجا میں سمجھ نہ سکی کہ وہ انسان ہے یا پتھر۔۔۔اللہ کی قسم اس کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ میں مذکر ہوں یا مونث!!
جب قیصر کا ہر حربہ ناکام ہوا اور وہ عبد اللہ کے بارے میں مایوس ہوا تو ایک پیتل کی دیگ منگوائی اور اس میں تیل ڈال کر خوب گرم کیا اور عبد اللہ کو اس دیگ کے سامنے لایا اور ایک اور مسلمان قیدی کو زنجیروں سے باندھ کر لایا گیا اور ان کو اٹھا کر اس ابلتے تیل میں ڈالا گیا جن کی ایک چیخ نکلی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی ہڈیاں الگ ہو گئیں اور تیل کے اوپر تیرنے لگی، عبد اللہ یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے،اب ایک بار پھر قیصر عبد اللہ کی طرف متوجہ ہوا اور نصرانیت قبول کرنے اور اسلام چھوڑنے کی پیش کش کر دی مگر عبد للہ نے انکار کر دیا۔
قیصر غصے سے پاگل ہو نے لگا اور حکم دیا کہ یہ دیگ میں موجود تیل اٹھا کر عبد اللہ کے سر پر ڈال دی جائے، جب قیصر کے کارندوں نے دیگ کھینچ کر عبد اللہ کے قریب کیا اور اس کی تپش کو محسوس کیا تو عبد اللہ رونے لگے!!آپ کی ان خوش نصیب آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے جن آنکھوں نے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ انور دیکھا تھا!!یہ دیکھ کر قیصر خوشی سے جھومنے لگا اور کہا : عیسائی بن جاو معاف کر دوں گا۔
عبد اللہ نے کہا : نہیں
قیصر: پھر رویا کیوں ؟
عبد اللہ : اللہ کی قسم میں اس لیے رو رہا ہوں کہ میری ایک ہی جان ہے جو اس دیگ میں ڈالی جائے گی ۔۔۔میری یہ تمنا ہے کہ میری میرے سر کے بالوں کے برابر جان ہوں اور وہ ایک ایک کر کے اللہ کی راہ میں نکلیں۔۔۔یہ سن کر قیصر نے مایوسی کے عالم میں عبد اللہ سے کہا: کیا یہ ممکن ہے کہ تم میرے سر کو بوسہ دو اور میں تمہیں رہا کرو؟
عبد اللہ: اگر میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کر تے ہو تو میں تیرے سر کو بوسہ دینے کے لیے تیار ہوں۔
قیصر : ٹھیک ہے عبد اللہ نے اپنے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو رہا کرنے کے لیے اس کافر کے سرکوبوسہ دیا اور سارے مسلمان رہا کیے گئے۔
جب واپس عمر بن الخطاب کے پاس پہنچ گئے اور آپ کو واقعہ بتا دیا گیا تو عمر نے کہا : عبد اللہ بن حذافہ کے سر کو بوسہ دینا ہر مسلمان پر ان کا حق ہے اور خود اٹھے اور عبد اللہ کے سر کو بوسہ دیا ۔ رضی اللہ عنھم کیسی سیرت تھی صحابہ کی !
کیسی قربانیاں تھیں ان کی ! کیا یہ اپنے بچوں کو پڑھانا چاہیے!!
بلکہ یہی اصل ہیرو ہیں زندگیوں کے, اور آج کل ہمارے پاس اپنی اولادوں کو اسلام کے ہیروؤں کے بارے میں بتانے کا وقت نہیں ھے, ہماری اولادیں یہ تو جانتی ھیں, کہ سپرمین, آئرن مین, بیٹ مین,.......... یہ ہیرو ہیں جو ایک خیالی ہیں, اور اصل ہیرو کون اور کیسے ھوتے ہیں یہ ہی نہیں علم, اللہ سب کو علم دین سیکھنے اور سکھانے کی توفیق عطا کرے,
آمین
23/01/2019
Examining the cooking and presenting skills of students of class 6th......... All of them have been very skillful and expert at their task.... Well done...
09/05/2018
Today Prize Distribution Ceremony in .
With AEO SECTOR NILORE
and others AEO's and all Respecting Teachers and Principals
Great Job Mam
| Monday | 08:30 - 14:00 |
| Tuesday | 08:30 - 14:00 |
| Wednesday | 08:30 - 14:00 |
| Thursday | 08:30 - 14:00 |
| Friday | 08:30 - 12:00 |