*ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ہے؟*
جواب ملا...
میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا لوگوں نے شور مچا رکھا ہے.
آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ دراصل خواہشات کا پورا نہ ہونا ہے
ہم نے تو غربت کے وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ اسکول میں تختی پر (گاچی) کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو (مٹی) لگایا کرتے تھے.
(سلیٹ) پر سلیٹی کے پیسے نہیں ہوتے تھے (بجری کا کنکر) استعمال کرتے تھے.
اسکول کے کپڑے جو لیتے تھے وہی عید پر بھی پہن لیتے تھے.
اگر کسی شادی بیاہ کے لیے کپڑے لیتے تھے تو اسکول کلر کے ہی لیتے تھے.
کپڑے اگر پھٹ جاتے تو سلائی کر کے بار بار پہنتے تھے.
جوتا بھی اگر پھٹ جاتا بار بار سلائی کرواتے تھے.
اور جوتا سروس یا باٹا کا نہیں پلاسٹک کا ہوتا تھا.
گھر میں اگر مہمان آجاتا تو پڑوس کے ہر گھر سے کسی سے گھی کسی سے مرچ کسی سے نمک مانگ کر لاتے تھے.
آج تو ماشاء اللہ ہر گھر میں ایک ایک ماہ کا سامان پڑا ہوتا ہے.
مہمان تو کیا پوری بارات کا سامان موجود ہوتا ہے.
آج تو اسکول کے بچوں کے دو یا تین یونیفارم ضرور ہوتے ہیں
آج اگر کسی کی شادی پہ جانا ہو تو مہندی بارات اور ولیمے کے لیے الگ الگ کپڑے اور جوتے خریدے جاتے ہیں.
ہمارے دور میں ایک چلتا پھرتا انسان جس کا لباس تین سو تک اور بوٹ دوسو تک ہوتا تھا اور جیب خالی ہوتی تھی.
آج کا چلتا پھرتا نوجوان جو غربت کا رونا رو رہا ہوتا ہے اُسکی جیب میں تیس ہزار کا موبائل، کپڑے کم سے کم دو ہزار کے، جوتا کم سے کم تین ہزار کا...
غربت کے دن تو وہ تھے جب گھر میں بتّی جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا روئی کو سرسوں کے تیل میں ڈبو کر جلا لیتے...
آج کے دور میں خواہشوں کی غربت ہے...
اگر کسی کی شادی میں شامل ہونے کے لیے تین جوڑے کپڑے یا عید کے لیے تین جوڑے کپڑے نہ سلا سکے وہ سمجھتا ہے میں
غریب ہوں.
آج خواہشات کا پورا نہ ہونے کا نام غربت ہے.
*ہم ناشکرے ہوگئے ہیں, اسی لئے برکتیں اٹھ گئی ہیں۔۔*
Tipu
Islamic, Quiz or Funny at this page...
12/11/2023
🔥 Emporia Armani 🔥
◼️An Amazing Beast watch in beautiful looks
◼️Sporty look Dail 46mm
◼️ Chronograph Multifunctional
◼️ BEAUTIFUL LUME 😍
◼️ Rotating bezel and Aftermarket straps
◼️Solid Stainless steel Build in almost like new condition
◾24 Hours indicater
◾Japan Quartz movement
◾Cod available
16500/-
+923235513368
08/11/2023
KENNETH COLE
Movement Japan Analog Quartz
Dial Colour white
Bezel Material Stainless steel
Shape Rectangle
Dial window skeleton
Clasp type Tang Buckel
Case Diameter's 35mm
Case Thickness 10mm
Band Length Men's Standard
Band Width 24mm
Band Colour Silver
Bezel Funcation Stationary
Cod available
Plan Box
Rs. 8500/-
+923235513368
08/11/2023
🇮🇹 WeWood 🇮🇹 (Italy)
🌟 A royalty on your wrist an Absolute Beauty 💛
🌟 A very slim and sleek Dress Watch
🌟 Side Sec
🌟 Approx 38mm in size with leather straps
🌟 Like Brand new condition
🌟 Plan Box
🌟 6500/-
🌟 Cod available
+923235513368
08/11/2023
GIORDANO
Japan Quartz Movement
Multifuncation
Beauty colour combination
Rose Gold/ Blue
Dial size 42 mm
Strap Leather
Strap 22mm
Day/Date Meter's also 24 hours indicator
Market sample
Plan Box
Cod available
9500/-
+923235513368
Copied
پانچویں کے بعد ہائی سکول میں داخلہ لیا تو انگریزی پڑھنی شروع کی۔ ایک دن چھٹی کی درخواست لکھواتے ہوئے استاد یوسف صاحب نے I beg to say لکھوایا تو ہاتھ پتھر کے ہو گئے۔دل نے آواز دی کہ چھٹی کوئی دے یا نہ دے لیکن یہ بھیک نہیں مانگی جا سکتی کہ I beg to say۔
ابھی دماغ میں Beg کی ذلت کا احساس ختم نہیں ہوا تھا کہ درخواست ختم بھی ہو گئی۔ اب کی بار درخواست کے اختتام پر استاد جی نے لکھوایا: Your obedient servant.۔ اب تو کنپٹیاں ہی سلگ اٹھیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں خود کوکسی کا تابع فرمان قسم کا نوکر قرار دے دوں؟
وکالت کے شعبے میں آیا تو یہاں بھی وہی تذلیل دیکھی۔ جو انصاف مانگنے آتا تھا اسے سائل کہا جاتا تھا۔ سائل ہماری عدالتوں اور کچہری میں ہمیشہ عرض گزار ہی پایا گیا۔ انصاف مانگا نہیں جا سکتا تھا۔ سائل یہ مطالبہ نہیں کر سکتا تھا کہ انصاف دیا جائے۔ ہاں وہ Prayer یعنی التجا اور درخواست پیش کر سکتا تھا۔
میں بیٹھ کر سوچتا کہ اگر عدالت بنی ہی انصاف دینے کے لیے ہے اور اگر اللہ کا حکم ہے کہ انصاف کرو ،یہ تقوی کے قریب تر ہے تو پھر اس بنیادی انسانی حق کے حصول کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا ، گڑگڑاتے لہجوں میں مسکینی طاری کر کے Prayer کیوں کی جا تی ہے۔ باوقار طریقے سے ڈیمانڈ کیوں نہیں کی جاتی۔
بہت بعد میں پتا چلا کہ یہ سب اتفاق نہیں ہے۔ یہ برطانوی دور غلامی میں سکھائے گئے غلامی کے وہ آداب ہیں جو ہمارے لہو میں دوڑ رہے ہیں۔انگریز لکھاریوں نے ہمیں آداب غلامی سکھانے کے لیے باقاعدہ کتابیں لکھیں۔ان میں سے ایک کتاب ڈبلیو ٹی ویب نے لکھی جس کا عنوان ہے: English etiquette for Indian gentlemen ۔
یہ کتاب کم اور غلامی کی دستاویز زیادہ ہے۔ اس میں ایک ایک کر کے مقامی لوگوں کو بتایا گیا کہ اب ان کا دور نہیں رہا ا، ان کی تہذیب بھی پرانی ہو چکی۔ نئے آقا اب جو چاہتے ہیں انہیں اسی تہذیب کو اپنانا ہو گا۔ ڈبلیو ۔ٹی۔ ویب کی اس کتاب میں بعض مقامات پر واضح طور پر آداب غلامی سکھائے گئے ہیں۔
تفصیل سے بتایا گیا ہے انگریز کے حضور حاضر ہونے کے آداب کیا ہیں، اس سے ملنے کے آداب کیا ہیں ، اس سے مخاطب کیسے ہونا ہے۔ مقامی یعنی ہندوستانی ڈیزائن کے جوتے پہن کر جانا ہے تو جوتے باہر برآمدے میں اتار کر اندر حاضر ہونا ہے، ایسے جوتے پہن کر انگریز کے حضور حاضر ہونا اس کی توہین ہے۔
خبردار سلام کے لیے اس وقت تک ہاتھ نہ بڑھایا جائے جب تک صاحب یا میم خود تمہیں اس قابل نہ سمجھیں۔
انگریزوں کو پیٹ درد جیسے الفاظ سننا پسند نہیں۔ خبردار جو کسی انڈین جنٹل مین نے ان کے سامنے پیٹ درد جیسے الفاظ استعمال کیے۔
کسی انگریز کو صرف اس کے نام سے نہیں پکارنا القابات لگانا ضروری ہے۔کسی یورپی سے سر راہ ملاقات ہو جائے تو اد ب کے تقاضے کیسے پورے کرنے ہیں اور ان میں سے کسی کو مدعو کرنا ہے تو میزبانی کے آداب کیا ہوں گے، وغیرہ وغیرہ۔
مقامی تہذیب کو مکمل طور پر قصہ پارینہ قرار دیتے ہوئے سونے سے جاگنے تک اور جاگنے سے سونے تک ، ہر معاملے اور ہر لمحے میں انگریزی طور طریقے سکھائے گئے ہیں۔ کھانا کیسے کھانا ہے۔ چھری کانٹا کیسے استعمال کرنا ہے۔ ہاتھ سے کھانا ایک برائی ہے ،خبردار جو کسی جنٹل مین نے گوشت ہاتھ سے کھایا۔
اہتمام سے بتایا گیا کہ کسی میم صاحب کے کھانے کی تعریف مت کرنا کیونکہ اس سے میم صاحب کی توہین ہو سکتی ہے کیونکہ میم صاحب کھانا نہیں بناتیں ، نوکر بناتے ہیں۔
تمیز سکھائی گئی ہے کہ کسی پارٹی میں جائیں تو وہاں نوکروں کا شکریہ ادا کرنے سے باز رہنا ہے۔ خبردار کوئی نوکروں کاشکریہ ادا نہ کرے۔ انگریزوں کی حساسیت کا خیال رکھنے کا بار بار ’ حکم‘ دیا گیا ہے لیکن مقامی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ تمہاری بے عزتی ہو جائے تو برا نہ مانا کرو۔
اور ہاں اگر تم معزز بننا چاہتے ہوں تو شادی کے دعوت ناموں میں چشم براہ جیسی فضولیات کی جگہ RSVP لکھا کرو۔انگریز کو یہاں سے گئے آج پون صدی ہو گئی ہے لیکن ہمارے شادی کے دعوت ناموں سے RSVP ختم نہیں ہو سکا ۔ ہم آج بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے معززین بننے کے چکروں میں ہیں۔
مقامی تہذیب و اقدار کی تذلیل پر مشتمل عمومی ’ ادب و آداب‘ کے بیان میں اگر کوئی کسر رہ گئی تھی کتاب کے آخر میں ’ درخواست لکھنے کے آداب‘ لکھ کر کے پوری کر دی گئی۔ باب نمبر گیارہ میں بتایا گیا ہے کہ درخواست ، پیٹیشن وغیرہ کیسے لکھی جائیں اور ساتھ ہی نمونے کے طور پر کچھ درخواستوں اور پیٹیشنز لکھی گئی ہیں کہ ان کو دیکھ کر ’ مقامی جنٹل مین‘ رہنمائی حاصل کریں۔
ان تمام درخواستوں میں چند چیزیں اہتمام سے بتائی گئی ہیں۔
اول: درخواست کی شروعات ، جو انتہائی غلامانہ، فدویانہ اور ذلت آمیز انداز سے کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر I beg to say کاا نداز سکول کے بچوں کی درخواست سے لے کر سرکاری عرضیوں تک ہر جگہ استعمال کیا گیا ہے تا کہ سکولوں سے ہی بچے یہ سیکھ لیں کہ آداب غلامی کیا ہوتے ہیں اور کیسے ایک دن کی چھٹی کی درخواست کا آغاز بھی Beg سے ہوتا ہے۔
دوم: ہر درخواست کے آخر پر Your servant،Your most obedient servant ، جیسے الفاظ لکھے گئے تھے تا کہ مقامی لوگوں کو یہ معلوم ہو رہے کہ انکی اوقات نوکر اور رعیت سے زیادہ نہیں۔
یہ ایک پوری تہذیبی واردات تھی جو اس سماج پر مسلط کی گئی۔چونکہ اہم مناصب پر پھر یہی ’ مقامی جنٹل مین‘ فائز ہوئے اور نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد یہی افسر شاہی ہمیں ورثے میں ملی اور کسی نے اس سماجی واردات پرنظر ثانی کی ضرورت محسوس نہیں کی اس لیے یہ ’مقامی جنٹل مین‘ آج بھی ’ انگریزی آداب‘ سے سماج کی پشت لال اور ہری کیے ہوئے ہیں۔
اس جنٹل مینی کے خلاف پہلی آواز دلی سے اٹھی۔ لعل گوردیج نامی ایک مداری دلی کے چوراہے میں بندر لے کر آتا اور ڈگڈگی بجا کر اسے کہتا : جنٹل مین بن کے دکھا۔لعل گوردیج کا بندر ہیٹ لگاتا ، چشمہ پہنتا اور پورا ’ جنٹل مین‘ بن جاتا۔ بندر اور مداری دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔مقامی جنٹل مین ناراض ہو گئے۔( دل چسپ بات یہ ہے کہ بندر نچانے والے آج بھی بندر نچاتے وقت یہ مطالبہ ضرور کرتے ہیں کہ جنٹل مین بن کے دکھا۔ شاید اسی لیے انگریز نے ان کا شمار ’ مجرم قبیلوں‘ میں کیا ہوا تھا)۔
کبھی کبھی جب دن ڈھل رہا ہوتا ہے ، مارگلہ سے اترتا ہوں تو یوں لگتا ہے جنگل سے بندر شور مچا مچا کر کہہ رہے ہوں: ’’ جنٹل مین بن کر تو دکھائو‘‘۔
پہاڑ سے اترتا ہوں تو دیکھتا ہوں سارا ہی شہر جنٹل مین بنا ہوتا ہے۔
مولوی اور جشن آزادی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولوی کو معلوم ہی نہیں کہ جشنِ آزادی کیسے مناتے ہیں ؟
بےچارہ مسجد تک دوڑ لگانے والا ۔
آج پھر مسجد میں مصلیٰ بچھائے رب سے ملکی ترقی کی دعائیں مانگ رہا ہےـ
ارے بیوقوف ـــــــــــــ
یوم آزادی پر تو کوئی تعمیری کام کرلیتا.
نہ سائلنسر نکالا ، نہ منہ رنگین کیا ،
نہ کاروں میں زوردار ترانے چلائے ،
نہ لڑکیوں پر جملے کسے ،
نہ موسیقی ٬ نہ رقص۔
نہ ٹریفک جام کیا،
نہ پاکستانی جھنڈا زیبِ تن کیا،
نہ ون ویلنگ کرتے ہوئے ملکی قوانین کی دھجیاں اڑائیں.
بس ایک ہی دھن سوار ہے :
اے میرے رب !!!!! ـ ـ ـ ـ ـ
" میرے ملک کو اندرونی و بیرونی دشمنوں سے بچا
اور اسے ترقیاں نصیب فرما ."
ھونہہ ــــــــــــــــــ!!
اولڈ مائنڈڈ مُلا کو کسی چیز کا بھی ڈھنگ نہیں.
*مجھے چار طرح کے غافلوں پر تعجب ہے جو چار مسائل کے حل سے غافل ہیں۔*
1- *مجھے تعجب ہے اس پر جو " غم " سے آزمایا گیا اور پھر بھی اس آیت سے غفلت کرتا ہے*
🌹*۞ لا إلهَ إلاّ أنتَ سُبحانكَ إني كنتُ من الظالمين ۞*🌹
*الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بیشک میں ﻇالموں میں ہو گیا*
*(الأنبياء 21:87)*
*کیا تم نہیں جانتے کہ اس دعا پر اللہ نے کیا جواب دیا؟*
*الله سبحانہ و تعالٰی نے اس کے بعد فرمایا*
*🌹۞فاستجبنا لهُ ونجيناهُ من الغم۔۔۔۔۔۔ ۞*🌹
*تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں.*
2 *مجھے تعجب ہے*
*اس پرجو بیماری سے آزمایا گیاکہ وہ کیسے اس دعا سے غفلت کرتا ہے*
*🌺۞ ربي إني مسّنيَ الضرُ وأنتَ أرحمُ الراحمين ۞*🌺
*اے میرے رب! مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیاده رحم کرنے واﻻ ہے*
*(الأنبياء 21:83)*
*کیا تم نہیں جانتے کہ اس دعا کے بارے میں اللہ نے کیا فرمایا؟*
*الله نے فرمایا ہے؛*
*🌹۞ فا ستجبنا له وكشفنا ما به من ضر ۞*🌹
*تو ہم نے اس کی سن لی اور جو دکھ اسے تھا وہ دور کر دیا۔*
3- *مجھے تعجب ہےاس پر جو خوف سے آزمایا گیا،کہ وہ کیسے اس آیت سے غفلت کرتا ہے*
*. 🌺۞ حسبنا الله ونعم الوكيل ۞*🌺
*ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے*
*(سورة آل عمران 3:173)*
*کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس پر اللہ نے کیا فرمایا؟*
*الله فرماتا ہے؛*
*۞ فانقلبوا بنعمةٍ من اللهِ وفضلٍ لم يمسسهم سوء۞*
*(نتیجہ یہ ہوا کہ) وہ اللہ کی نعمت وفضل کے ساتھ لوٹے، انہیں کوئی برائی نہ پہنچی،*
4- *مجھے تعجب ہے اس پر جو لوگوں کے مکرسے آزمایا گیا، کہ وہ کیسے اس دعا سے غفلت کرتا ہے*
,🌺*۞وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ" ۞*🌺
*میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یقیناً اللہ تعالیٰ بندوں کا نگراں ہے*
*(غافر 40:44)*
*کیا تم نہیں جانتے کہ اس دعا پر اللہ نے کیا جواب دیا؟*
*اس پر الله نے فرمایا؛*
*۞ فوقاهُ اللهُ سيئاتِ ما مكروا۔۔۔۔۔ ۞*
*پس اسے اللہ تعالیٰ نے تمام بدیوں سے محفوظ رکھ لیا جو انہوں نے سوچ رکھی تھیں۔*
واہ حسینؓ... شاہ حسینؓ
میرا حسینؓ.....ابھی ننھا ہی تھا کہ سیدہؓ کی وفات ہو گئی تھی ، بن ماں کا یہ ننھا حسینؓ، اپنی ضرورتوں کے لئے اپنی نانیؓ کے پاس جاتا ہوگا.... اور حسین کی نانی، نبیﷺ کی گھر والیاںؓ (نانی) تھیں... وہ حسین کو دیکھا کرتی ہوں گی تو انہیں حسینؓ کی والدہؓ (سیدہ خاتون جنت) یاد آجاتی ہونگی، وہ حسینؓ کو گود میں لے کر چوما کرتی ہوں گی اور حسینؓ اپنی نانی کی گودوں میں کھیلا ہوگا .....
پھر جب حسینؓ اپنے بڑے بھائیؓ کے ساتھ ساتھ جب مسجد نبوی میں جاتا ہوگا تو صحابہؓ اسکا چہرے دیکھتے ہوں گے ....انہیں حسینؓ کے چہرے میں گویا بہت کچھ نظر آتا ہوگا... وہ حسینؓ کو دیکھ دیکھ کر مسکراتے ہوں گے اور کبھی مسکراتے مسکراتے انکی آنکھیں بھر آتی ہوں گی... صحابہ کرامؓ کو حسینؓ، چچا جان چچا جان کہتا ہوگا اور وہؓ حسینؓ کو بھتیجے بھتیجے کہتے ہوں گے....
حسنؓ و حسینؓ تو یوں بھی سارے ہی صحابہؓ کے لاڈلے تھے ....
حسینؓ نے سنا ہوگا کہ ہجرت سے قبل مکہ میں اسکے چچا ابوبکرؓ اور دوسرے چند صحابیؓ، کیسے ڈٹے رہے تھے .. حسینؓ نے سنا ہوگا کہ اسکے چچا عمرؓ نے مشرکین مکہ کو للکارا تھا..حسینؓ نے اپنے چچا بلالؓ کی احد احد کا قصہ بھی سن لیا ہوگا....حسینؓ نے سنا ہوگا کہ کیسے ہجرت میں اسکے چچا ابوبکرؓ نے جانبازی دکھائی تھی..حسینؓ نے انصاریوںؓ کی قربانیاں بھی سمجھ لی ہوں گی... حسینؓ بدر و احد کے قصے بھی سنتا رہا ہوگا... وہؓ کبھی خندق کی جگہ کو بھی دیکھتا رہا ہوگا... حسینؓ جب جب مکہ جاتا ہوگا تو مکی دور ہی نہیں، فتح مکہ کو بھی یاد کرتا ہوگا.....حسینؓ نے تبوک اور حنین کے معرکے بھی سنیں ہوں گے...
حسینؓ کے کردار میں اس کے چچاؤںؓ کی عزیمت ، استقامت ، جرات اور وفا کی داستانوں نے رنگ بھردیا تھا...حسینؓ صحابہ کرامؓ کے اندر رہ کر ان کی کاپی بن گیا تھا... حسینؓ سراپا خلاصہ صحابیت بن گیا تھا...... حسینؓ صحابہؓ کا نمائندہ بن گیا تھا.... حسینؓ صحابہؓ کا تعارف بن گیا تھا........ کہ... حسینؓ صحابی تھا.... اور..... صحابی حسینؓ تھا..
پھر جب کربلا کا معرکہ پیش ہوا.... تو حسینؓ نے وہ سارے سبق سنا دئے جو اس کو یاد کروائے گئے تھے.... حسینؓ نے ثابت کیا.... وہ اپنے چچاؤںؓ کا سچا وارث تھا....... حسینؓ نے ثابت کیا کہ وہ روئے زمین پر انبیاءؑ کے بعد سب سے بہترین جماعتؓ کا لاڈلا اور تربیت یافتہ نمائندہ تھا...... حسینؓ نے وہی کیا... جو ایک اولوالعزم صحابیؓ رسول کو کرنا تھا .....
حسینؓ کامیاب تھا.... صحابہؓ کامران تھے....
اللھم صل علی محمد و علٰی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم و علٰی آل ابراہیم انک حمید مجید اللھم بارک علٰی محمد و علٰی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم و علٰی آل ابراہیم انک حمید مجید..
پس نوشت
ہم اہلسنت، حسین رضی اللہ عنہ کی ایسی تعریف کو لازمی سمجھتے ہیں جو ہم اہلسنت کو روافض سے جدا گانہ موقف کی عکاسی کرتی ہو۔
*سوچنے کا وقت ہے... *
*جب کبھی خون کے رشتے دل دکھائیں تو حضرت یوسف علیہ السلام کو یاد کر لینا جن کے بھائیوں نے انھیں کنویں میں پھینک دیا تھا ۔🌹*
*جب کبھی لگے که تمھارے والدین تمھارا ساتھ نہیں دے رہے تو ایک بار حضرت ابراھیم ؑ کو ضرور یاد کر لینا جن که بابا نے انکا ساتھ نہیں دیا بلکہ انکو آگ میں پھنکوانے والوں کا ساتھ دیا.🌹*
*جب کبھی لگے که تمہارا جسم بیماری کی وجہ سے درد میں مبتلا ہے تو ہائے کرنے پہلے صرف ایک بار حضرت ایوبؑ کو یاد کرنا جو تم سے زیادہ بیمار تھے.🌹*
*جب کبھی کسی مصیبت یا پریشانی میں مبتلا ہو تو شکوہ کرنے سے پہلے حضرت یونسؑ کو ضرور یاد کرنا جو مچھلی کے پیٹ میں رہے اور وہ پریشانی تمہاری پریشانیوں سے زیادہ بڑی تھی ۔🌹*
*اگر کبھی جھوٹا الزام لگ جائے یا بہتان لگ جائے ناں ! تو ایک بار اماں عائشہ ؓ کو ضرور یاد کرنا ۔🌹*
*اگر کبھی لگے که اکیلے رہ گۓ ہو تو ایک بار اپنے بابا آدم ؑکو یاد کرنا جن کو اللّٰہ نےاکیلا پیدا کیا تھا اور پھر انکو ساتھی عطا کیا ۔تو تم ناامید نہ ہونا تمہارا بھی کوئی ساتھی ضرور بنے گا ۔🌹*
*اگر کبھی اللّه کے کسی حکم کی سمجھ نہ آرہی ہو تو اس وقت نوح ؑ کو یاد کرنا جنہوں نے بغیر کوئی سوال کیے کشتی بنائی تھی پر اللّه کے حکم کو مانا تھا تو تم بھی ماننا ۔🌹*
*اور اگر کبھی تمھارے اپنے ہی رشتے دار اور دوست تمہارا تمسخر اڑائیں تو نبیوں کے سردار محمّد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کو یاد کر لینا ۔۔۔🌹*
آج مسلمان دنیا میں مار اس وجہ سے کھا رہا ہے کہ دین کی محنت نہ ہونے کی وجہ سے ہم مسلمانوں کے عزت ۔ زلت ۔ کامیابی ۔ ناکامی کے معیار بدل گئے جن چیزوں میں کامیابی تھی ان کو ناکامی سمجھ لیا اور جن چیزوں میں ناکامی ان کو کامیابی سمجھ لیا ۔۔۔ ہمارے رہنما ہمارے رہبر حضرت محمد مصطفی ﷺ ہیں جن کی زندگی میں ہی کامیابی ہے ۔۔۔ لیکن دین کی محنت نہ ہونے کی وجہ سے ہم زہنی غلام بن گئے ۔۔۔ کافر آدھے سر کے بال کٹاتے ہیں تو ہم بھی شروع ہو گئے وہ پینٹ پھاڑ کے پہنتے ہیں تو ہم بھی شروع ہو گئے ۔۔۔ اس غلامی کی زندگی سے نکلنے کا ایک ہی حل ہے دین کی محنت جو سارے انبیاء علیہم السلام نے کی۔۔۔🌹
*تمام نبیوں کو اللّه نے آزمائش میں ڈالا کہ ہم ان کی زندگیوں سے صبر و استقامت ، ہمت وتقوٰی اور ڈٹے رہنے کا سبق حاصل کریں ۔۔۔🌹*
*اپنے نبیوں کی زندگیوں کو اپنا رول ماڈل بنائیں۔ انھیں اپنا آئیڈیل بنائیں۔۔۔🌹*
آنکھیں کھولیے،موسم روٹھ رہے ہیں
آصف محمود | ترکش | روزنامہ 92 نیوز
گرمی کی تازہ لہر نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔لیکن اس لہر اور اس کے خطرناک اثرات پر بحث، تحقیق اور گفتگو برطانیہ اور امریکہ میں ہو رہی ہے۔ امپیریل کالج لندن اور یونیورسٹی آف ہوائی میں محققین بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ موسم کی یہ انگڑائی پاکستان کا کیا حشر کر سکتی ہے لیکن پاکستان کے کسی یونیورسٹی کے لیے یہ سرے سے کوئی موضوع ہی نہیں ہے۔سوئٹزرلینڈ میں بیٹھا ڈاکٹر رابرٹ روڈ دہائی دے رہا ہے کہ موسموں کے اس آتش فشاں کو سنجیدگی سے لیجیے ورنہ ہزاروں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے لیکن پاکستان کے اہل دانش سیاست کی دلدل میں غرق ہوئے پڑے ہیں۔
ندی خشک پڑی ہے اور چشمے کا پانی نڈھال ہے۔مارگلہ کے جنگل میں آج درجہ حرارت 42کو چھو رہا ہے۔ عید پر بارش ہوئی تو درجہ حرارت 22 تک آ گیا تھا لیکن عید سے پہلے اپریل کے آخری دنوں میں بھی یہ 40 سے تجاوز کر گیا تھا۔ مارگلہ میں چیت اورو ساکھ کے دنوں میں ایسی گرمی کبھی نہیں پڑی۔ یہ جیٹھ ہاڑ کا درجہ حرارت ہے جو چیت اور وساکھ میں آگیا ہے۔ موسموں کی یہ تبدیلی بہت خطرناک ہے لیکن یہاں کسی کو پرواہ نہیں۔ اس معاشرے اور اس کے اہل فکرو دانش کو سیاست لاحق ہو چکی اور ان کے لیے سیاست کے علاووہ کسی موضوع پر بات کرنا ممکن نہیں رہا۔
مارگلہ میں موسم گرما اچانک نہیں آتا۔ یہ ایک مالا ہے جس کے ہر موتی کا اپنا رنگ اور اپنی خوشبو ہوتی ہے۔ہر موسم دوسرے سے الگ اور جداہے۔اسُو یہاں جاڑے کا سندیسہ لے کر اترتا ہے اور چیت اُنہالے کا۔ چیت کے آخری ایام بتاتے ہیں کہ موسم گرما آنے کو ہے۔ وساکھ یہاں موسم گرما کی پہلی دستک کا نام ہے۔درختوں کی چھاؤں میٹھی ہوتی ہے مگر دھوپ میں ذرا سی حدت۔ پھر جیٹھ ہاڑ کی شدید گرمی اور آخرمیں ساون بھادوں کی بارشیں اترتی ہیں جب جنگل پہلی محبت کی طرح حسین ہو جاتا ہے۔
ایسا کبھی نہیں ہو کہ یہ تابستانی رنگ اپنی شناخت کھو دیں۔اس بار مگر وساکھ میں ہی جیٹھ کی حدت آ گئی ہے۔ندی کنارے بیٹھا ہوں، سامنے چشمے بہہ رہا ہے اور چشمے کے کنارے پر ایک کوئل نڈھال بیٹھی ہے۔ زبان باہر کو نکلی ہوئی ہے اور حدت سے اس کے کندھے اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں۔ وقفے وقفے سے وہ چشمے میں اترتی ہے، ڈبکی سی لگاتی ہے اور پھر کنارے پر بیٹھ کر پروں کو پھڑ پھڑانے لگتی ہے۔چیت اور وساکھ کی ان دوپہرں میں تو کوئل نغمے سنایا کرتی تھی، آج مگر بدلتے موسم نے اسے گھائل کر چھوڑا۔
موسموں کی اس تبدیلی سے صرف مارگلہ متاثر نہیں ہو گا، پورے ملک پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ مارگلہ میں تو درجنوں چشمے ہیں اور ندیاں، کچھ رواں رہتی ہیں کچھ موسموں کے ساتھ سوکھتی اور بہتی ہیں، لیکن جنگل کے پرندوں اور جانوروں کے لیے یہ کافی ہیں۔سوال تو انسان کا ہے، انسان کا کیا بنے گا۔ افسوس کہ انسان کے پاس اس سوال پر غور کرنے کا وقت نہیں۔مریض کو جیسے کوئی موذی مرض لاحق ہو جائے، ایسے اس معاشرے کو سیاست لاحق ہو گئی ہے۔ یہی ہماری تفریح ہے اور یہی ہمارا موضوع بحث۔ اس کے سوا ہمیں کچھ سوجھتا ہی نہیں۔
ابلاغ کی دنیا ان کے ہاتھ میں ہے جو سنجیدہ اور حقیقی موضوعات کا نہ ذوق رکھتے ہیں نہ اس پر گفتگو کی قدرت۔ نیم خواندگی کا آزار سماج کو لپیٹ میں لے چکا ہے۔ سر شام ٹی وی سکرینوں پر جو قومی بیانیہ ترتیب پاتا ہے اس کی سطحیت اور غیر سنجیدگی سے خوف آنے لگا ہے۔نوبت یہ ہے کہ دنیا چیخ چیخ کر ہمیں بتا رہی ہے کہ آپ ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں لیکن ہمارا دانشور صبح سے شام تک یہی گنتی کر رہا ہوتا ہے کہ کس قائد انقلاب کے جلسے میں کتنے لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔یہی حال سوشل میڈیا کا ہے۔ موضوعات کا افلاس آسیب بن چکا ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن ماحولیات کی تباہی سے یکسر بے نیاز۔گلی کوچوں سے پارلیمان تک یہ سوال کہیں زیر بحث ہی نہیں کہ درجہ حرارت بڑھنے کا مطلب کیا ہے؟زیر زمین پانی کی سطح جس تیزی سے گر رہی ہے، خوفناک ہے۔ چند سال پہلے اسلام آباد میں 70 یا 80 فٹ پر پانی مل جاتا تھا لیکن اب تین سے چار سو فٹ گہرے بور کرائیں تو بمشکل اتنا پانی دستیاب ہے کہ پانچ سے دس منٹ موٹر چل سکتی ہے۔ موسم کی حدت کا عالم یہی رہا تو پانچ دس سال بعد زیر زمین پانی چھ سات سو فٹ گہرائی میں بھی مل جائے تو غنیمت ہو گی۔
اسلام آباد دارالحکومت ہے لیکن پانی کا بحران اسے لپیٹ میں لے چکا ہے۔ ایک ٹینکر اب دو ہزار کا ملتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ٹینکر بھی تو کنووں سے پانی بھر لاتے ہیں، زیر زمین پانی کی سطح یونہی نیچے جاتی رہی تو ٹینکرز کہاں سے پانی لائیں گے؟ ایک آدھ سیکٹر کو چھوڑ کر سارا شہر اس مصیبت سے دوچار ہے لیکن اپناکمال دیکھیے کہ شہر میں کسی محفل کا یہ موضوع نہیں ہے۔نہ اہل سیاست کا، نہ اہل مذہب کا نہ اہل صحافت کا۔ سب مزے میں ہیں۔
یہ بحران صرف اسلام آباد کا نہیں، پورے ملک کا ہے۔ بس یہ ہے کہ کسی کی باری آج آ رہی ہے کسی کی کل آئے گی۔جب فصلوں کے لیے پانی نہیں ہو گا اور فوڈ سیکیورٹی کے مسائل کھڑے ہو جائیں گے پھر پتا چلے گا کہ آتش فشاں پر بیٹھ کر بغلیں بجانے والوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
***جنگل کٹ رہے ہیں، درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے (یعنی کراچی کے سر پر خطرہ منڈلا رہا ہے)، گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور سیلابوں کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ابھی گلگت بلتستان میں گلیشیر کے پگھلنے سے حسن آباد پل تباہ ہوا ہے۔ کئی گھر اس کی لپیٹ میں آئے ہیں۔ خود اس پل کی تزیراتی اہمیت تھی کہ یہ چین اور پاکستان کو ملا رہا تھا۔ پل کی تزویراتی اہمیت کی نسبت سے یہ حادثہ ہمارے ہاں زیر بحث آ جائے تو وہ الگ بات ہے لیکن ماحولیاتی چیلنج کی سنگینی کو ہم آج بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔اخبارات، ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا، پریس ٹاک، جلسہ عام۔۔۔۔کہیں اس موضوع پر کوئی بات ہوئی ہو تو بتائیے۔***
مارگلہ کی ندیاں بھی اجنبی ہوتی جا رہی ہیں۔ ابھی چندسال پہلے درہ جنگلاں کی ندی ساون بھادوں میں یوں رواں ہوئی کہ چار ماہ جوبن سے بہتی رہی۔ اب دو سال سے خشک پڑی ہے۔ ساون اس طرح برسا ہی نہیں کہ ندی رواں ہوتی۔ رملی کی ندی بہہ تو رہی ہے مگر برائے نام۔جب پوش سیکٹروں کا سیوریج ان ندیوں میں ملا دیا جائے گا تو ندیاں شاید ایسے ہی ناراض ہو جاتی ہیں۔اب تو یوں لگتا ہے نظام فطرت ہی ہم سے خفا ہو گیا ہے۔موسم ہم سے روٹھتے جا رہے ہیں۔
ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ ماحولیات سے جڑے چیلنجز کی سنجیدگی کو سمجھا نہ گیا تو بہت بڑا اور خوفناک بحران ہماری دہلیز پر دستک دینے والا ہے۔
کاپی.....
بس کی چھت پر بیٹھے شخص نے آواز لگائی "مجید" اندر بیٹھے شخص نے جیسے ہی گردن باہر نکال کے دیکھا تو اوپر سے کسی نے اس کے سر پر جوتا مارا، اور اس نے فورا" گردن اندر کرلی۔ تھوڑی دیر میں پھر آواز آئی "مجید" اور پھر وہی سب ہوا۔ جب اندر بیٹھے شخص نے تیسری بار جوتا کھا کر گردن اندر کی تو برابر بیٹھے شخص نے پوچھا "بھائی صاحب آپکا نام مجید ہے؟" پہلے شخص نے جواب دیا "نہیں"۔ تو پھر آپ بار بار گردن باہر کیوں نکال رہے ہیں؟ اور جوتے کھانے والے نے تاریخی جواب دیا "اوپر والے کو بےوقوف بنا رہا ہوں 😉"۔
لہذا اسوقت PTI کے سپورٹرز کی کوئی پوسٹ دیکھا کریں تو سمجھ جایا کریں کہ اسے باہر سے آواز آئی ہے۔۔۔ "مجید" 😆
1۔سلامتی کونسل کمیٹی نے ہمارے موقف پے مہر سبت کی۔
شاہ محمود قریشی
2۔سلامتی کونسل کو اس میٹنگ کی ضرورت نہیں تھی۔
شاہ محمود قریشی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
G-9 Markaz
Islamabad
44000