26/09/2026
ہم وقت کیسے ناپ سکتے ہیں؟⏳
اور یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے یا آہستہ؟
وقت کے دلچسپ احساس اور معمے کو انسانوں نے ازل سے سمجھنے اور ناپنے کی کوشش کی ہے۔ اب تک وقت کی پیمائش کے لیے جن طریقوں اور ذرائع کا سہارا لیا گیا ہے وہ بنیادی طور پر مختلف پیمانوں پر دہرائی جانے والی حرکات پر مبنی ہیں۔
وقت کی اس جستجو کا آغاز انسانی نبض اور دل کی دھڑکن سے ہوتا ہے جن کا دھڑکنا ایک خاص تال کے ساتھ ہوتا ہے اور طبی معائنے یا چھوٹے وقفوں کا اندازہ لگانے کے لیے لوگ اسی اندرونی گھڑیوں کا سہارا لیتے تھے اگرچہ یہ جذباتی کیفیت کے ساتھ تبدیل ہو جاتی ہیں۔
اس کے بعد انسان نے کائناتی سطح پر زمین کی گردش اور سورج کے گرد اس کے مدار کو وقت کا ایک بڑا پیمانہ سمجھا۔ زمین اپنے محور پر ایک چکر پورا کرکے دن اور رات بناتی ہے جبکہ سورج کے گرد اس کا چکر سال اور موسموں کا تعین کرتا ہے جو تمام زمینی زندگی کے لیے وقت کا بنیادی کینوس فراہم کرتا ہے۔
وقت کی اس پیمائش کو جب مکینیکل شکل دینے کا وقت آیا تو پینڈولم گھڑی نے ایک سائنسی انقلاب برپا کیا۔ فزکس کے اصولوں کے تحت ایک مخصوص طوالت کا پینڈولم دائیں بائیں ہلتے ہوئے ہر بار ایک ہی مدت میں اپنا چکر پورا کرتا ہے۔ اس ایجاد نے وقت کو سیکنڈوں، منٹوں اور گھنٹوں میں انتہائی باقاعدگی کے ساتھ تقسیم کر کے روزمرہ زندگی اور سائنسی تجربات کو ایک درست سمت دی۔
وقت کی پیمائش کا یہ سفر جب کوانٹم فزکس اور ذرات کی دنیا تک پہنچا تو انسان نے جدید اٹامک کلاک کی صورت میں کائنات کی درست ترین گھڑی ایجاد کی۔ یہ گھڑیاں سیزیم جیسے ایٹمز کے اندرونی توانائی کے مدار میں ہونے والی تبدیلیوں کی فریکوئینسی پر کام کرتی ہیں اور کروڑوں سال میں ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہیں ڈالتیں۔ آج یہی اٹامک کلاک جی پی ایس نیویگیشن، انٹرنیٹ نیٹ ورکس اور مواصلاتی سیاروں کے لیے سیکنڈ کے کروڑویں حصے کی درستگی فراہم کرتی ہے۔
یوں وقت کوئی مادی شے نہیں بلکہ اشیاء کی حرکت اور تبدیلی کا نام ہے، جو کبھی نبض اور دل کی صورت میں دھڑکتا ہے، کبھی زمین اور سورج کے چکر سے پہچانا جاتا ہے، کبھی پینڈولم کے جھولنے سے بندھتا ہے اور کبھی ایٹم کی گہرائیوں میں جا کر کمال درستگی کو چھوتا ہے۔
For more see atomic optical clocks here👇
https://www.facebook.com/share/v/1CGK91oNos/?mibextid=wwXIfr
Physics with Mirza 🕰️ Mirza Akbar Ali