Holyquran4all

Holyquran4all

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Holyquran4all, Education, Islamabad.

Holy Quran 4all strives to provide a superior quality service with more dedicated one on one time with the students, parental involvement in the education and grooming of the child in the light of holy Quran. We follow the traditional teaching methodology mixed with modern techniques to cope up with the requirements and limitations in the western society faced by Muslim Families. We provide a very

14/04/2020
Profile pictures 14/08/2018
13/11/2017

Holy Quran 4All

14/08/2017

Ye watan hamara hy. Hum hain pasban es k 70th Anniversary of Pakistan.
14 AUGUST 2017 MUbark.
PaKiSTaN ZiNDaBaD.

Photos 28/10/2015
Untitled album 09/10/2015
Photos 19/06/2015

عام طور پر لوگ یہ اشکال کرتے ہیں کہ اکثر و بیشتر پہلی کا چاند بہت موٹا ہوتا ہے جس کو دیکھ کر بہت سے لوگ یہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ دوسری کا چاند ہے۔
یہ طرز عمل ٹھیک نہیں کیونکہ ایک تو حدیث میں اس کو قیامت کی علامات میں سے کہا گیا ہے (حدیث شریف میں آتا ہے کہ ’’چاند کا موٹا ہونا قرب قیامت کی علامت ہے اور پہلی کا چاند دیکھ کر لوگ کہیں گے کہ یہ دوسری کا ہے ( طبرانی و ابن شیبہ))
دوسری بات یہ ہے کہ انتیس دنوں کے بعد نظر آنے والا چاند تیس دنوں کے بعد نظر آنے والے چاند سےباریک ہوتا ہے محققین کے نزدیک چار مہینے مسلسل انتیس دنوں کے ہوسکتے ہیں اور اسی طرح چار مہینے مسلسل تیس دنوں کے بھی ہوسکتے ہیں اب اگر کوئی چاند دو انتیس دنوں والے مہینے کے بعد نظر آرہا ہے تو وہ اور زیادہ باریک ہوگا اور تین انتیس دنوں والے مہنے کے بعد نظر آنے والا چاند اور زیادہ باریک ہوگا اس کے برعکس دو تیس دنوں کے مہینے کے بعد نظر آنے والا چاند ایک تیس دنوں والے مہینے کے بعد نظر آنے والے چاند سے زیادہ موٹا ہوگا اسی طرح ایسے تین مہینوں کے بعد نظر آنے والا چاند اور زیادہ موٹا ہوگا ۔
خلاصہ یہ ہے کہ جو چاند جتنے مسلسل انتیس دنوں والے مہنوں کے بعد آئے گا اتنا زیادہ باریک ہوگا اور جو جتنے زیادہ تیس دنوں والے مہینے کے بعد آئے گا وہ اتنا زیادہ موٹا ہوگا لہذا محض چاند کے پتلے یا موٹے ہونے کی بنیاد ہر تاریخ کا فیصلہ کرنا مناسب نہیں ۔
تیسری بات یہ ہے کہ بعض مرتبہ مطلع کے بدلنے سے بھی چاند کے سائز میں فرق آجاتا ہے اسے بطور مثال یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ مثلا چاند پیدا ہونے کے سولہ گھنٹے بعد اس کے نظر آنے کا امکان ہے اب ایک جگہ جب سورج غروب ہوا تو اس وقت چاند کو پیدا ہوئے 15 گھنٹے گزرے تھے اس لئے چاند نظر نہیں آسکا لیکن 15 درجے طول البلد کا سفر طے کرنے کے بعد جب چاند کو سولہ گھٹے گزرگئے تو دوسری جگہ پر چاند نظر آگیا، اگلے روز (24 گھنٹے گزرنے کے بعد) جب پہلی جگہ کے افق پر نظر آئے گا تو اس وقت اس کی عمر انتالیس گھنٹے ہوگی (24+ 15 = 39) ظاہر ہے کہ یہ چاند کافی موٹا ہوگا لیکن پہلی کا چاند ہوگا جبکہ دوسری جگہ کے افق پر دوسرے دن چالیس گھنٹے کا چاند ہوگا (24+16 =40) اور دوسری رات کا ہوگا ۔
(دونوں چاند پہلی رات کے ہیں دوسری جگہ کے افق پر اس کی عمر دگنا ہوجانے کے باعث چاند اسی قدر موٹا دکھائی دے گا اور اسی حساب سے افق سے کافی بلند ہوگا جسے لوگ غلطی سے دوسری رات کا چاند خیال کریں گے )۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ محض چاند کے قدرے موٹے ہونے کی بنیاد پر اسے دوسری تاریخ کا چاند کہنا درست نہیں۔
آسان فلکایت ، مولانا اعجاز احمد صمدانی (صفحہ :75)
رؤیت ہلال، فلکیات، جغرافیہ اور خلائی سائنس کی اپ ڈیٹس :

23/03/2015

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا - تم لوگ اللہ تعالٰی کی عظمت کا جو ذکر کرتے ہو، یعنی تسبیح [ سبحان اللہ ]، تہلیل ( لاالہ الا اللہ ) اور تحمید [ الحمدللہ ] کے الفاظ کہتے ہو، وہ عرش کے اردگرد چکر لگاتے ہیں - ان کی ایسی بھنبھناہٹ ہوتی ہے جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ-وہ اپنے کہنے والے کا ( اللہ کے دربار میں ) ذکر کرتے ہیں - کیا تم نہیں چاہتے کہ ( اللہ کے دربار میں ) تمہارا ذکر ہوتا رہے؟
سنن ابن ماجہ - ابواب ادب، حديث # 3809

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Islamabad