18/12/2025
خود کو اذیت میں رکھنا؟
خدا کی نعمتیں چاروں طرف بکھری ہوئیں، مگر ہماری نگاہ اکثر وہاں جا ٹھہرتی ہے جہاں درد، کمی اور محرومی ہو۔
صبح آنکھ کھلتی ہے تو سانس کی نعمت موجود ہوتی ہے۔
جسم سلامت ہوتا ہے۔
کھانے کو کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔
کسی نہ کسی شکل میں تحفظ میسر ہوتا ہے۔
کوئی آواز سننے والا، کوئی چہرہ پہچاننے والا، کوئی راستہ دکھانے والا موجود ہوتا ہے۔
یہ سب معمولی نہیں، بہت بڑی نعمتیں ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان نعمتوں پر رکنے کے بجائے، دن بھر ان چیزوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو ہمیں تکلیف دیں۔
ہم خوشی کو نظر انداز کر کے غم کا انتخاب کرتے ہیں۔
ہم شکر کے مواقع چھوڑ کر اپنے سامنے شکایات کے انبار لگادیتے ہیں۔
ہماری زندگی میں سکون ہوگا لیکن جان بوجھ کر غمگین گانے سننے لگ جائیں گے
ایسا ادب پڑھیں گے، جو اداسی کو گہرا کرے،
ایسے خیالات میں ڈوبے رہیں گے جو دل کو بوجھل کر دیں،
اور پھر کہتے ہیں دل خوش کیوں نہیں؟
خوشی اکثر دروازہ کھٹکھٹا رہی ہوتی ہے،
مگر ہم خود دروازہ نہیں کھولتے۔
یہ رویہ صرف ایک عادت نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ ایک نفسیاتی جال بن جاتا ہے۔
انسان دکھ میں ایک عجیب سا مانوس پن محسوس کرنے لگتا ہے۔
غم اس کی شناخت بن جاتا ہے،
اور شکر اجنبی سا لگنے لگتا ہے۔
الحزن رفیقی
غم کوئی گناہ نہیں،
لیکن غم کو چننا،
اور نعمتوں کو نظر انداز کرنا
ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
خوداذیتی ایک بیماری کی صورت اختیار کرجاتی ہے
ہر وقت خود کی مذمت کرنا اور خود کو اذیت دینا
کبھی رک کر سوچیے:
اگر آج ایک ہی نعمت چھن جائے
صحت، وقت، ہوش، یا کسی اپنے آس پاس کے بے شمار خوبصورت رشتوں کی موجودگی
ہمیں اندازہ ہو کہ ہم کتنے امیر تھے۔
اصل عقل مندی یہ ہے کہ
ان نعمتوں پر توجہ دی جائے جو ہمارے پاس ہیں،
نہ کہ اُن کمیوں پر جن کا شور ہمارے اندر مسلسل چلتا رہتا ہے۔
زندگی خود بخود آسان نہیں ہوتی،
بلکہ شکر گزاری
اسے خوبصورت بناتی ہے۔
Writer Abdullah Usman