24/05/2026
🔥 وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ — سینیارٹی صرف بھرتی کے وقت بنائی گئی میرٹ لسٹ کے مطابق بنائی جائے گی ،جوائننگ ڈیٹ سے بنائی گئی سینیارٹی لسٹ کالعدم قرار ۔
وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمین کے حقوق کے حوالے سے ایک نہایت اہم اور رہنما فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اگر ملازمین ایک ہی سلیکشن پراسس اور ایک ہی بیچ کے ذریعے بھرتی ہوں تو ان کی سینیارٹی کا تعین صرف میرٹ (Merit) کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ جوائننگ کی تاریخ کی بنیاد پر۔
📌 کیس کا خلاصہ
کیس Capt. Muhammad Ali Khan Vs Port Qasim Authority میں یہ معاملہ سامنے آیا کہ کچھ ملازمین کو محض پہلے جوائن کرنے کی بنیاد پر سینئر قرار دے دیا گیا، حالانکہ میرٹ لسٹ میں اپیلنٹ کا درجہ ان سے بلند تھا۔
⚖️ وفاقی آئینی عدالت کے سنہری اصول
✅ میرٹ کو فوقیت حاصل ہے
سلیکشن کمیٹی/پبلک سروس کمیشن کی مرتب کردہ میرٹ لسٹ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، یہی سینیارٹی کا اصل معیار ہے۔
✅ جوائننگ ڈیٹ فیصلہ کن نہیں
محض ایک دن پہلے یا بعد میں جوائن کرنا سینیارٹی کا معیار نہیں بن سکتا، خاص طور پر جب بھرتی ایک ہی بیچ میں ہو۔
✅ کنٹریکٹ کی خلافِ قانون شرائط بے اثر
اگر ملازمت کے کنٹریکٹ میں کوئی ایسی شرط ہو جو سروس رولز یا قانون سے متصادم ہو تو وہ کالعدم سمجھی جائے گی۔
✅ تاخیر کا اعتراض تبھی جب اطلاع ثابت ہو
اگر محکمہ یہ ثابت نہ کر سکے کہ ملازم کو سینیارٹی لسٹ کی بروقت اطلاع دی گئی تھی تو تاخیر (Laches) کا اعتراض قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
❌ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم کر دیا اور حکم دیا کہ سینیارٹی لسٹ ازسرِ نو میرٹ کے مطابق ترتیب دی جائے۔
📢 تمام سرکاری اداروں کے لیے اہم ہدایات
🔹 ہر نئی بھرتی، پروموشن یا ریگولرائزیشن کے بعد سینیارٹی لسٹ تیار کی جائے
🔹 ہر سال جنوری میں سینیارٹی لسٹ کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے
🔹 سینیارٹی لسٹ کو متعلقہ ملازمین تک پہنچایا جائے
🔹 سینیارٹی لسٹ کو سرکاری ویب سائٹس پر اپلوڈ کیا جائے
🏆 فیصلہ کیوں اہم ہے؟
یہ فیصلہ ہزاروں سرکاری ملازمین کے لیے ایک مثبت نظیر (Precedent) ہے جو میرٹ کے باوجود سینیارٹی میں پیچھے کر دیے جاتے تھے۔
👉 اب اصول واضح ہے:
“ایک ہی بیچ میں بھرتی = سینیارٹی صرف میرٹ لسٹ کے مطابق”
✍️ اختتامی پیغام
یہ فیصلہ نہ صرف انصاف کی بالادستی کو مضبوط کرتا ہے بلکہ سرکاری نظام میں شفافیت، میرٹ اور برابری کے اصول کو بھی یقینی بناتا ہے