26/06/2016
کل نفس ذائقۃ الموت
سب کی آنکھوں نے دیکھا
شفق شام کے رنگ میں
موت کی زردیاں
آج پھر گھل گئیں
ہم نے کس حوصلے سے سنا
شورِ گریہ ، صدائے بکا
صحن میں چارپائی پہ جب
ہم نے رکھا تھا اک نوجواں
ساکت و سرد مٹی کا
ستواں بدن
گرد بیٹھی ہوئی پیرہ زن ، لؑعبتیں
بال بکھرائے گریہ کناں
اور چوپال میں مرنے والے کے ساتھی ، اعزّا ، شناسا
سبھی دل گرفتہ ، سروں کو جھکائے
گراں بارِ غم
آسمانوں پہ بیٹھا خدا
موت اور زندگی کا خدا
جو کبھی اس تماشائے پیہم سے تھکتا نہیں
جانتا ہے
فنا کی قدیمی کہانی کے انجام کو
موت کی یہ خلش
حجلۂ جان و دل سے نکلتی نہیں
روپ بدلے ہوئے
بستیوں ، راستوں ، کھیتیوں ، آنگنوں
کارخانوں ، فضاؤں میں رقصاں
فقط مرگ کا راج ہے
چار سو مرگ ہے
عصرِ موجود کے سب مکیں
زندگی کے سزاوار
آبِ بقا ڈھونڈتے ڈھونڈتے
ارتقا کے حسیں خواب کے زانوئے گرم پر
سر ٹکائے ہوئے
سرد ہو جائیں گے
ایک دن آئے گا
ہم بھی مر جائیں گے
( رفعت اقبال )