ام المومنین ام سلمہ کے مطابق معاویہ کی بیعت "بیعت الضلالۃ "تھی۔
ام المومنین ام سلمہ کے مطابق معاویہ کی بیعت گمراہی کی بیعت تھی۔گمراہی کی بیعت وہ کہلاتی ہے جب کوئی بدکار،مجرم اور سفاک شخص مسلمانوں کی گردنوں پر مسلط ہوجائے تو جان بچانے کی خاطر ایسے فرعون صفت شخص کی بیعت کی جائے۔
میں امام ابن ابی شیبہ اور امام بخاری کی مذکور بالا مفہوم کی حامل روایات کی عبارت حوالے کے ساتھ پیش کرنے سے پہلے ان کا خلاصہ اردو میں پیش کروں گا۔
خلاصہ روایت:جس سال امام حسن نے خلع خلافت کے بعد حکومت معاویہ کے سپرد کی اسی سال معاویہ نے بسر بن ارطاہ کو مدینہ بھیجا تاکہ ان کی بیعت حاصل کرے۔جابربن عبداللہ الانصاری معاویہ کی بیعت نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے وہ چھپ گئے۔
جب جابر ابن عبداللہ کے قبیلہ والے بسرکے پاس بیعت کرنے کےلئے حاضر ہوئے تو اس ظالم نے کہا جب تک جابر کو حاضر نہیں کرتے میں اس وقت تک تمہاری بیعت قبول نہیں کروں گا۔
قبیلہ والے جابر کے پاس آئے اور منت سماجت کرنے لگے کہ آپ بیعت کرلیں نہیں تو یہ ہمارے مردوں کو قتل اور خواتین کو کنیزیں بنائےگا۔جابر نے ان سے کچھ مہلت مانگی۔
اس دوران میں جابر ام المومنین حضرت ام سلمہ رضوان اللہ تعلی علیھا سے ملا اور اس بارے میں مشورہ طلب کیا۔ام المومنین نے فرمایا جاؤ اور بیعت کرو اور اپنے قوم والوں کو قتل ہونے سے بچاؤ۔میں اپنے بھتیجے کو بھی یہی مشورہ دیا ۔ یہ بیعت گمراہی کی بیعت ہے۔
ففي مصنف ابن أبي شيبة - (ج 2 / ص 262 ): حدثنا أبو أسامة قال حدثني الوليد بن
كثير عن وهب بن كيسان قال : سمعت جابر بن عبد الله يقول : لما كان عام الجماعة بعث معاوية إلى المدينة بسر بن أرطاة ليبايع أهلها على راياتهم وقبائلهم ، فلما كان يوم جاءته الانصار جاءته بنو سليم فقال : أفيهم جابر ؟ قالوا : لا ،قال : فليرجعوا فإني لست مبايعهم حتى يحضر جابر ، قال : فأتاني فقال : ناشدتك الله إلا ما انطلقت معنا فبايعت
فحقنت دمك ودماء قومك ، فإنك إن لم تفعل قتلت مقاتلتنا وسببت ذرارينا ، قال : فأستنظرهم إلى الليل ، فلما أمسيت دخلت على أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرتها الخبر فقالت : يا ابن أم ! انطلق ! فبايع واحقن دمك ودما قومك ، فإني قد أمرت ابن أخي يذهب فيبايع، والحديث في التاريخ الصغير للبخاري - (ج 1 / ص141 ): حدثني سعيد بن محمد الجرمي ثنا يعقوب بن إبراهيم ثنا أبي عن محمد بن إسحاق حدثني أبو نعيم وهب بن كيسان مولى الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله يقول قدم بسر بن أرطاة المدينة زمان معاوية فقال لا أبايع رجلا من بنى سلمة حتى يأتي جابر فأتيت أم سلمة بنت أبي أمية زوج النبي صلى الله عليه وسلم فقالت بايع فقد أمرت عبد الله بن زمعة بن أخي أن يبايع على دمه وماله أنا أعلم أنها بيعة ضلالة۔
Defending Shia'ism
مکتبِ اہل بیت (تشیع) کے افکار کا ترجمان صفحہ۔
برادر زاہد مغل نے شیاطین بنی امیہ کی وکالت کرتے ہوئے خاندان رسالت کے بارے میں رکیک زبان استعمال کرتے ہوئے انہیں وظیفہ خور،الفئۃ الباغیہ الداعیہ الی النار کی مدد کرنے والے اور بے وقوف قرار دیا ہے۔میں نے تین تبصروں میں ان کی باتوں کا جواب دیا ہے جنہیں میں قارئین کی نذر کرتا ہوں۔
(1)رسالت مآب ،خاندان رسالت اور مھاجرین و انصار نے تو شیاطین بنی امیہ کی حقیقت کھول کھول کر بیان کی ہے مگر جس کے دل پر مہر اور آنکھوں پر پٹی بندھی ہو اور اسے دن رات اور رات دن لگتا ہو اس کا علاج لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ایسے شخص کے لئے صرف دعا کی جاسکتی ہے۔
(2)امام حسن علیہ السلام نے خلع خلافت کے وقت معاویہ کے اصرار پر ایک خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔اس کے آخر میں سورہ انبیاء کی آیات کی تلاوت فرمائی تھی۔آخری آیت ان ادری لعلہ فتنۃ لکم و متاع الی حین(111)میں نہیں جانتا (یہ تاخیر عذاب )تمہارے لئے فتنہ ہو اور ایک مدت کے لئے مہلت۔یہ آیت پڑھتے ہوئے امام حسن نے معاویہ کی طرف اشارہ کیا۔معاویہ آگ بگولہ ہوگیا اور فرزند رسول سے پوچھا آپ کی اس آیت سے کیا مراد تھی۔جنت کے سردار نے جواب دیا وہی مراد تھی جو اللہ کی اس سے مراد ہے۔یوں وارث قرآن نے لوگوں کے نفاق کا پردہ چاک کرکے چھوڑا۔ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں اس واقعے کو قلمبند کرنے کے بعد لکھا ہے کہ حسن کی اس بات سے معاویہ کے دل میں گرہ لگ گئی۔اس واقعے کو سیراعلام النبلاء میں ذھبی نے ابن سیرین سے نقل کیا ہے جس کی سند پر شعیب ارناووط نے حاشیہ میں صحیح کا حکم لگایا ہے۔ویسے اس خطبے کو دوست اور دشمن سب نے مل کر تواتر سے نقل کیا ہے۔
(3)وظیفہ خور وہ کہلاتا ہے جو پیسوں کے لئے ظالم کے جھوٹ اور ظلم کی تائید کرے یا چپ رہے۔اھل بیت نبی ، مھاجرین و انصار اور امھات المومنین کی زبان سے معتبر ذرائع سے جو بھی معاویہ کے بارے میں نقل ہوا ہے اس میں اس کے لئے ملامت ہی ملامت ہے۔باقی آپ امام نیساپوری حنفی کا احکام القرآن میں وضیفوں کے بارے میں کی گئی بحث کو پڑھئے تاکہ آپ پر حقیقت موضوع آشکار ہو۔نیز صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں نبی پاک نے معاویہ کو صعلوک قرار دیا ہے جس کا ترجمہ شیعان معاویہ فقیر و مفلس کرتے ہیں۔جو کچھ بیت المال میں ہوتا تھا وہ معاویہ کی جاگیر نہیں تھا۔وہ مسلمانوں کا خزانہ تھا جس میں اللہ نے خاندان رسالت اور سابقین کے لئے حصص مقرر کئے تھے۔معاویہ وہ مختص حصص بھی ہڑپ کرتا تھا اور ان کی ادائیگی میں ہمیشہ لعت و لعل سے کام لیتا تھا۔
امام زین العابدین ع کی شان میں فرزدق شاعر کا قصیدہ
انتخاب : سید حسنی
اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کا دور حکومت ہے، حج کے موسم میںہزاروں بندگان خدا حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے دُور دُور سے کھنچے چلے آرہے ہیں،صحن کعبہ میں ازدحام کا یہ عالم ہے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں ہے ۔اس حج کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس سال خلیفۃ المسلمین کا بیٹا اور ولی عہد ہشام بن عبدالملک بھی ملک شام سے سفر کرکے حج بیت اللہ کے لیے آیا ہے ، اس کے ساتھ اراکین سلطنت اور اعیان مملکت کے علاوہ اس کے بہت سے شامی دوست بھی ہیں ۔اس حج میں عہد اموی کا مشہور شاعرابو فراس ہمام بن غالب فرزدق ؔ تمیمی بھی ہے ۔
ہشام بن عبدالملک حجر اسود کا بوسہ لینے کے لیے آگے بڑھا ،شاید اس کے ذہن میں یہ بات ہو کہ ولی عہدی، دنیاوی کروفر اور شان وشوکت دیکھ کر لوگ اس کے سامنے سے ہٹ جائیں گے اوروہ بہ آسانی حجر اسود کا بوسہ لے لے گا ۔لیکن لوگوں نے ہشام اور اس کے لاؤ لشکر کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی ، کچھ دیر بھیڑ میں دھکے کھانے کے بعد ہشام نے حجر اسود کو بوسہ دینے کا ارادہ ترک کیا اور مطاف کے ایک کنارے پر آکر کھڑا ہوگیا۔
اسی درمیان گلستان نبوت کے گل سرسبد ،خانوادہ ٔ شیر خدا کے چشم وچراغ ،خاتون جنت کے لخت جگر اور امام عالی مقام کے صاحبزادے امام زین العابدین علی بن حسین ( رضی اللہ تعالیٰ عنہم )صحن کعبہ میں داخل ہوئے ، جیسے ہی لوگوں کی نظر امام زین العابدین کے چہرہ ٔ انور پر پڑی بھیڑ کائی کی طرح پھٹ گئی، آپ پورے اطمنان کے ساتھ حجر اسود کے پاس پہنچے اور اس کو بوسہ دے کر طواف کا آغاز کیا ، دوران طواف آپ جس طرف سے بھی گزرتے لوگ ادب واحترام سے ایک طرف ہٹ جاتے، ہشام کے ساتھ جو لوگ شام سے آئے تھے ان کے لیے یہ بڑا حیرت انگیز نظارہ تھا کیوں کہ وہ کچھ دیر پہلے مملکت بنو امیہ کے ولی عہد کی قدر ومنزلت دیکھ ہی چکے تھے۔ انہیں میں سے کسی شخص نے ہشام سے پوچھا کہ ’’ یہ کون ہے ؟‘‘ ۔
ہشام امام زین العابدین کو خوب اچھی طرح جانتاپہچانتا تھا، مگر وہ پہلے ہی ان شامیوں کے سامنے خفت محسوس کررہا تھااس نے سوچا کہ اگر ان نوجوان کے بارے میں ان کو بتاؤں تو کہیں یہ شامی انہیں کی طرف مائل نہ ہوجائیں، یہ سوچ کر اس نے تجاہل عارفانہ برتتے ہوئے یک گونہ اہانت آمیز لہجے میں جواب دیا کہ ’’ میں نہیں جانتا یہ کون ہے ‘‘ ۔
ابو فراس فرزدق ؔ قریب ہی کھڑا ہوا تھا ، اس کو اہل بیت نبوت کے اس گل ِ سرسبد کی یہ اہانت برداشت نہیں ہوئی، اس کی اسلامی غیرت بیدار ہوئی اور وہ شامی کی طرف متوجہ ہوکر بولا کہ مَیں ان کو جانتا ہوں،مجھ سے پوچھو یہ نوجوان کون ہے ؟شامی نے کہا کہ بتائو یہ کون ہیں؟فرزدق نے امام زین العابدین کی شان میںفی البدیہ ایک فصیح وبلیغ قصیدہ نظم کرکے برجستہ سنا دیا ۔اس نے کہا کہ:
1)ہٰذَا الَّذِیْ تَعْرِفُ الْبَطْحَائُ وَطْأَتَہٗ٭وَالْبَیْتُ یَعْرِفُہٗ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ
یہ وہ مقدس شخصیت ہے کہ جس کے نقش قدم کو وادیٔ بطحا (یعنی مکہ مکرمہ ) پہچانتی ہے ، اور بیت اللہ ( یعنی کعبہ ) اور حل وحرم سب ان کو جانتے پہچانتے ہیں۔
( ۲)ہٰذَا ابْنُ خَیْرِ عِبَادِ اللّٰہِ کُلِّہِمٖ ٭ہٰذَاالتَّقِیُّ النَّقِیُّ الطَّاہِرُ الْعَلَمُ
یہ تو اس ذات گرامی کے لخت جگر ہیں جو اللہ کے تمام بندوں میں سب سے بہتر ہیں ( یعنی حضور اکرم ﷺ ) یہ پرہیز گار، تقویٰ والے، پاکیزہ ، صاف ستھرے اور قوم ( قریش )کے سردار ہیں ۔
( ۳)اِذا رَأتْہٗ قُرَیْشٌ قَالَ قَائِلُہا ٭اِلٰی مَکارِمِ ہٰذَا یَنْتَہِی الْکَرَمُ
جب ان کو قبیلہ ٔ قریش کے لوگ دیکھتے ہیں تو ان کو دیکھ کر کہنے والا یہی کہتاہے کہ ان کی بزرگی وجواں مردی پر بزرگی وجواں مردی ختم ہے ۔
( ۴)یَنْمِیْ اِلٰی ذِرْوَۃِ الْعِزِّ الَّذِیْ قَصُرَتْ ٭عَنْ نَیْلِہٖ عَرَبُ الْاِسْلامِ وَالْعَجَمُ
ترجمہ: یہ عزت وبزرگی کے اس اوج کمال پر فائز ہیں جس کے حصول سے اسلام کے عرب وعجم قاصر ہیں۔
( ۵)یَکَادُ یُمْسِکُہٗ عِرْفَانَ رَاحَتِہٖ٭رُکْنُ الْحَطِیْمِ اِذَا مَاجَائَ یَسْتَلِمُ
ترجمہ:جب وہ حجر اسود کو بوسہ دینے کے لیے آتے ہیں توایسا لگتا ہے کہ حجر اسود ان کی خوشبو پہچان کر ان کا ہاتھ پکڑ لے گا ۔
( ۶)فِیْ کَفِّہٖ خِیْزُرَانٌ رِیْحُہٗ عَبِقٗ ٭فِیْ کَفِّ اَرْوَعَ فِیْ عِرْنِیْنِہٖ شَمَمُ
ترجمہ: ان کے دست مبارک میں ایک عصا ہے جو عمدہ خوشبو والا ہے ،یہ عصا ایسے عمدہ اور بہترین شخص کے ہاتھ میںہے جو بلند ناک والا ہے ( یعنی عزت وشرف والا ہے)
( ۷)یَغْضِیْ حَیَائً وَیُغْضیٰ مِنْ مَہَابَتِہٖ ٭ فَمَا یُکَلَّمُ اِلَّا حِیْنَ یَبْتَسِمُ
ترجمہ: وہ شرم وحیا سے نگاہیں نیچی رکھتے ہیں، اور ان کے رعب و ہیبت سے دوسروں کی نگاہیں نیچی رہتی ہیں، اس لیے ان سے اسی وقت گفتگوکی جاسکتی ہے جب وہ تبسم فرمارہے ہوں ۔
( ۸)یَنْشَقُّ نُوْرُ الْہُدیٰ مِنْ نُوْرِ غُرَّتِہٖ ٭ کَالشَّمْسِ یَنْجَابُ عَنْ اِشْرَاقِہَا الظُّلَمُ
ترجمہ: ان کی روشن ومنور پیشانی سے ہدایت کا نورپھوٹ رہا ہے ،جیسے تاریکیاں سورج کے نور سے چھٹ جاتی ہیں ۔
( ۹)مَنْ جَدُّہٗ دَانَ فَضْلُ الْاَنْبِیَائِ لَہٗ ٭ وَفَضْلُ اُمَّتِہٖ دَانَتْ لَہٗ الْاُمَمُ
ترجمہ: یہ وہ ذات گرامی ہے کہ جن کے جد محترم ( حضور اکرم ﷺ )کے سامنے تمام انبیائے کرام کی فضیلتیں سر نگوں ہیں( یعنی وہ تمام انبیائے کرام سے افضل ہیں)اورتمام امتوں کی بزرگی اور فضیلت ان کی امت کے آگے سر خم کیے ہوئے ہے۔( یعنی ان کی امت تمام امتوں سے افضل ہے )مرآۃ الجنان اور وفیات الاعیان دونوں میں یہ شعر نہیں ہے ۔
( ۱۰)مُنْشَقَّۃٌ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ نَبْعَتُہٗ ٭ طَابَتْ عَنَاصِرُہٗ وَالْخِیْمُ وَالشِّیَمُ
ترجمہ:آپ کی اصل اور نمود رسول اکرم ﷺ سے ہے، آپ کے عناصر اور طبیعت وعادت سب عمدہ اور پاکیزہ ہیں۔
(۱۱ )ہٰذَا ابْنُ فَاطِمَۃٍ اِنْ کُنْتَ جَاہِلَہٗ ٭ بِجَدَّہٖ اَنْبِیائُ اللّٰہِ قَدْ خُتِمُوا
ترجمہ: یہ خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کے لخت جگر ہیں، اگر تو ان کو نہیں جانتا ( تو سن لے کہ ) ان کے محترم نانا ( حضور اکرم ﷺ ) پرانبیائے کرام کے سلسلے کا اختتام ہواہے ۔
( ۱۲)اَللّٰہُ شَرَّفَہٗ قِدْماً وَعَظَّمَہٗ ٭ جَرَیٰ بِذاکَ لَہٗ فِیْ لَوْحِہٖ الْقَلَمُ
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے قدیم زمانے سے ان کو شرف وعظمت عطا فرمائی، اوران کے لیے اسی شرف وعظمت کے واسطے اس کی لوح محفوظ میںقلم چل چکا ہے ۔( یعنی شرف وعظمت ان کا مقدر کی جاچکی ہے) ۔
( ۱۳)اَللّیْثُ اَہْوَنُ مِنْہٗ حِیْنَ تُغْضِبُہٗ ٭وَالْمَوْتُ اَیْسَرُ مِنْہٗ حِیْنَ یُہْتَضَمُ
ترجمہ: اگر تم ان کو غصہ دلادو تو پھر( ان کے غصے کے مقابلے ) شیر کا غصہ بھی ہلکا ہے ،اور اگر ان پر ظلم وستم کردیا جائے تو( اس ظلم وستم کی سزا اور بدلے کے مقابلے میں ) موت بھی آسان ہے ۔
دیوان فرزدق،البدایہ والنہایہ ،مرآۃ الجنان اور وفیات الاعیان چاروں میں یہ شعر نہیں ہے ۔
( ۱۴)فَلَیْسَ قَوْلُکَ مَنْ ہٰذَا بِضَائِرِہٖ ٭ اَلْعُرْبُ تَعْرِفُ مَنْ اَنْکَرْتَ وَالْعَجَمُ
ترجمہ: تمہارا یہ کہنا کہ ’’ یہ کون ہیں ؟ ‘‘ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا ،جس ذات گرامی ( کو پہچاننے) سے توانکار کررہاہے ان کو تو عرب وعجم سب جانتے ہیں۔
( ۱۵)کِلْتَا یَدَیْہٖ غِیَاثٌ عَمَّ نَفْعُہُمَا ٭ تُسْتَوْکِفَانِ وَلَا یَعْرُوْہُمَا عَدَمُ
ترجمہ: ان کے دونوں ہاتھ ایسے فریاد رس اور بخشنے والے ہیں کہ ان کا نفع عام ہے ،ان ہاتھوں سے مسلسل خیرات تقسیم کی جاتی ہے ( اس کے باوجودبھی)اس میں کوئی کمی نہیں آتی ۔
( ۱۶)سَہْلُ الْخَلِیْقَۃِ لَا تُخْشیٰ بَوَادِرُہٗ ٭ یَزِیْنُہٗ اثْنَانِ حُسْنُ الْخَلْقِ وَالشِّیَمُ
ترجمہ: وہ نرم خو ہیں ان کی تیز ی( جلد غصہ ہونے ) سے خوف نہیں کیا جاتا، وہ دونوں خوبیوںسے آراستہ ہیںحسن صورت اور ( عمدہ )عادات۔
( ۱۷)حَمَّالُ اَثْقَالِ اَقْوَامٍ اِذَا فُدِحُوْا ٭ حُلْوُ الشَّمَائِلِ تَحْلُوْا عِنْدَہٗ نِعَمُ
ترجمہ: جب لوگ ( قرض سے ) گراں بار ہوجائیںتووہ لوگوں کا بار اٹھانے والے ہیں ،ایسے شیریں خصلت والے ہیں کہ ان کا احسان بھی شیریں ہوجاتا ہے ۔
( ۱۸)مَا قَالَ لَا قَطُّ اِلّا فِیْ تَشَہُّدِہٖ ٭لَوْلَا التَّشَہُّدُ کَانَتْ لَائُ ہٗ نَعَمُ
ترجمہ: آ پ نے تشہد میں ’’ اشہد ان لا الٰہ الا اللہ ‘‘کہنے کے علاوہ کبھی ’’ لا ‘‘ ( نہیں ) نہیں فرمایا،اگر تشہد نہ ہوتا تو آپ کا یہ لا ( نہیں ) بھی ’’ نعم ‘‘ ( ہاں ) ہوتا۔یعنی کسی مانگنے والے کے جواب میں آپ کی زبان سے کبھی’’ نہیں‘‘ نہ نکلا ۔
( ۱۹)لَا یُخْلِفُ الْوَعْدَ مَیْمُوْنٌ نَقِیْبَتُہٗ ٭رَحْبُ الْفِنَا ئِ اَرِیْبٌ حِیْنَ یَعْتَزِمُ
ترجمہ: کبھی وعدہ خلافی نہ کرنے والے ،مبارک نفس والے، وسیع صحن والے، اور جب ٹھان لیتے ہیں تو کر گذرنے والے ہیں۔یہ شعر دیوان میں نہیں ہے ۔
( ۲۰)عَمَّ الْبَرِیّۃَ بِالْاِحْسَانِ فَانْقَشَعَتْ٭عَنْہَا الْعِنَایَۃُ وَالْاِمْلَاقُ وَالْعَدَمُ
ترجمہ: ان کا جود ونوال تمام خلائق کے لیے عام ہے ،اس لیے اس ( مخلوق)کے رنج وغم ، مفلسی اور تنگ دستی دور ہوگئی ۔
( ۲۱)مِنْ مَعْشَرٍ حُبُّہُمْ دِیْنٌ وَبُغْضُہُمُ ٭کُفْرٌ وَقُرْبُہُمُ مَنْجَیً وَمُعْتَصَمُ
ترجمہ: وہ تو اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں کہ جن کی محبت عین ایمان ہے ، اور ان سے بغض کفر ہے ، اور ان کاقرب جائے پناہ اورسہارا ہے ۔
( ۲۲)اِنْ عُدَّ اَہْلُ الُّتقیٰ کَانُوا اَئِمَّتَہُمْ ٭اَوْ قِیْلَ مَنْ خَیْرُ اَہْلِ الْاَرْضِ قِیْلَ ہُمُ
ترجمہ: یہ تو ان لوگوں میں سے ہیں کہ اگر پرہیز گاروں کو شمار کیا جائے تو یہ حضرات پرہیزگاروں کے امام ہوں گے ،یا اگر یہ پوچھا جائے کہ زمین میں سب سے بہتر کون لوگ ہیں؟ تو جواب میں کہا جائے گا کہ یہی ( اہل بیت ) ہیں۔
( ۲۳)لَا یَسْتَطِیْعُ جَوَادٌ بُعْدَ غَایَتِہِمْ ٭وَلَا یُدَانِیْہِمُ قَوْمٌ وَاِنْ کَرُمُوْا
ترجمہ: کوئی جواں مرد اور سخی ان کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا ،اور نہ کوئی قوم ان کے قریب پہنچ سکتی ہے اگرچہ کتنی ہی بزرگی والی کیوں نہ ہو۔
( ۲۴)ہُمُ الْغُیُوْثُ اِذَا مَا اَزْمَۃٌ اَزَمَتْ ٭وَالْاُسْدُ اُسْدُالثَّرَیٰ وَالْبَاْسُ مُحْتَدِمُ
ترجمہ:جب سخت قحط لوگوں کو گھیر لے تو یہ حضرات ابر باراں ہیں ، اور جب معرکۂ کارزار گرم ہو تو یہ حضرات‘‘ ثریٰ‘‘ کے شیروں کی طرح شیر ہیں۔
(عرب میں کوہ سلمیٰ کے ایک علاقے کا نام ثریٰ ہے جہاں شیر بکثرت ہوتے تھے)
( ۲۵)لاَ یَنْقُصُ الْعُسْرُ بَسْطاً مِنْ اَکُفِّہِمٖ ٭سِیَّانِ ذٰلِکَ اِنْ اَثَرُوْا وَاِنْ عَدِمُوْا
ترجمہ: تنگ دستی اور سختی ان کی جود وسخا کو کم نہیں کرتی ،مال کا ہونا یا نہ ہونا ان کے لیے برابر ہے (یعنی ان کے پاس مال ہو یا نہ ہو اس سے ان کے سخاوت پر کوئی فرق نہیں پڑتا)
یہ شعر مرآۃ الجنان میں نہیں ہے۔
( ۲۶)مُقَدَّمٌ بَعْدَ ذِکْرِ اللّٰہِ ذِکْرُہُمُ ٭ فِیْ کُلِّ بَدْئٍ وَمَخْتُوْمٌ بِہٖ الْکَلِمُ
ترجمہ: اللہ کے ذکر کے بعد انہی کاذکر سب سے مقدم ہے ،اسی کے ذریعے آغاز ہوتا ہے اور اسی پر گفتگو ختم ہوتی ہے ۔
( ۲۷)یَأ بَیٰ لَہُمْ اَن یَّحُلَّ الذَّمُّ سَاحَتَہُمْ ٭خِیْمٌ کَرِیْمٌ وَاَیْدِی بِالنَّدَیٰ ہُضُمُ
ترجمہ: کوئی برائی ان کے دربار تک نہیں آسکتی،یہ نیک خو ہیں، ان کے ہاتھ عطا کرنے والے ہیں۔یہ شعر دیوان میں نہیں ہے۔
( ۲۸)اَیُّ الْخَلَائِقِ لَیْسَتْ فِیْ رِقَابِہِمٖ ٭ لِاَوَّلِیِّۃِ ہٰذَا اَوْ لَہٗ نِعَمُ
ترجمہ: مخلوق میں وہ کون ہے جو ان کی غلامی میں نہیں ہے ،ان کی اولیت وتقدم کی وجہ سے یاپھر ان کے احسانات کی وجہ سے۔یہ شعر مرآۃ الجنان میں نہیں ہے۔
( ۲۹)مَنْ یَعْرِفِ اللّٰہَ یَعْرِفْ اَوَّلِیَّۃَ ذَا ٭ وَالدِّیْنَ مِنْ بَیْتِ ہٰذَا نَالَہٗ الْاُمَمُ
ترجمہ: جو شخص اللہ کو جانتا ہے وہ ان کی اولیت اور تقدیم کو بھی جانتا ہے ، اور تمام لوگوں کو دین ان کے گھر سے ہی ملا ہے ۔
( ۳۰)یُسْتَدْفَعُ الشَّرُّ وَالْبَلْوَی بِحُبِّہِم ٭وَیَسْتَزِیْدُ بِہٖ الاحْسَانُ وَالْکَرَمُ
ترجمہ:ان کی محبت کے وسیلے سے مصیبتیں اور آفتیں دور کی جاتیں ہیں، اور ان کے ذریعے احسان وکرم میں اضافہ ہوتا ہے ۔یہ شعر دیوان اور البدایہ والنہایہ سے اضافہ کیا گیا ہے ، درر نضید، وفیات الاعیان اور مرآۃ الجنان وغیرہ میں نہیں ہے۔
(اشعار کا ترجمہ اُسید الحق بدایونی کا ہے)
بعد از واقعہ کربلا، حیاتِ امام زین العابدین کا اجمالی تذکرہ:
امام علی بن حُسین بن علی بن ابی طالب علیھم السلام ملقب بہ زین العابدین، دیگر آئمہ اہل بیت کی طرح عظیم مرتبہ پر فائز ہیں۔ مدینہ منورہ میں علم و فضل، حسب و نسب میں کوئی آپ کا ثانی نہ تھا۔ آپؑ کی ولادت مدینہ منورہ میں ۳۸ ہجری میں ہوئی جبکہ وفات ۹۵ ھجری میں ہوئی۔ آپ کربلا میں اپنے والد کے ساتھ موجود تھے، تاہم مریض ہونے کی وجہ سے نہ لڑ پائے، چنانچہ اہلِ بیت کے قافلے کے ساتھ واپس مدینہ تشریف لائے۔ آپؑ واقعہءِ کربلا کے چشم دید راوی ہیں، اِس لحاظ سے آپؑ سے واقعاتِ کربلا اور مصائب بھی مروی ہیں۔ آپؑ کی اعلمیت اور علوِ مرتب کا علماء نے بھرپور اظہار کیا ہے، سُنی عالم امام نووی لکھتے ہیں کہ علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب مشہور تابعی ہیں، آپ عبادت گزاروں کی زینت (زین العابدین) سے معروف ہیں۔
علم و عمل ہر میدان میں آپ کی جلالت پر سب کا اتفاق ہے۔
یحیی انصاری کہتے ہیں کہ مدینہ میں سب سے افضل ہاشمی آپ تھے۔
امام زہری کے مطابق مدینہ بھر میں آپ سے افضل کوئی نہیں تھا۔
امام بخاری کے استاد ابنِ ابی شیبہ نے زہری کی امام زین العابدین سے مروی احادیث کو اصح الاسانید کہا ہے۔
آپ کی وفات کے وقت معلوم ہوا کہ آپ مدینہ کے سو گھرانوں کی مخفی انداز سے آپ کفالت فرمایا کرتے تھے۔
(تھذیب الاسماء واللغات للنووی، جلد 1، صفحہ 343)
بڑے بڑے مُحدثین نے آپؑ سے احادیثِ اہلِ بیت کو نقل کیا ہے۔ آپؑ کو قرآن مجید سے بہت اُنس تھا، امام زُہری نے قرآن مجید کے حوالے سے آپؑ سے کئی احادیث نقل کیں، اُن میں سے دو رویات پیش کرتا ہوں جنھیں مُحدث کُلینی نے اپنی الکافی کی کتاب ’’فضل القرآن‘‘ میں لایا ہے
عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ عليه السلام يَقُولُ آيَاتُ الْقُرْآنِ خَزَائِنُ فَكُلَّمَا فُتِحَتْ خِزَانَةٌ يَنْبَغِي لَكَ أَنْ تَنْظُرَ مَا فِيهَا۔
زہرى کہتے ہیں: میں نے حضرت على بن الحسين زین العابدین علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا: قرآن کی آیتیں (علوم و معارف کا) خزانے ہیں پس ضرورت اس امر کی ہے کہ جب تم ایک خزانے کا دروازہ کھولو تو اس پر نظر ڈالو اور اس میں غور کرو۔
عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عليه السلام لَوْ مَاتَ مَنْ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَمَا اسْتَوْحَشْتُ بَعْدَ أَنْ يَكُونَ الْقُرْآنُ مَعِي وَ كَانَ عليه السلام إِذَا قَرَأَ مالِكِ يَوْمِ الدِّينِ يُكَرِّرُهَا حَتَّى كَادَ أَنْ يَمُوتَ۔
زھری کہتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: اگر مشرق اور مغرب کے مابین رہنے والے تمام لوگ مر جائیں میں تنہائی سے ہراساں نہیں ہونگا جب کہ قرآن مجید میرے پاس ہو؛ اور حضرت سجاد عليہ السلام کا شيوہ تھا کہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت جب سورہ فاتحہ کی آیت "مالك يوم الدين" پر پہنچتے تو اسے اس قدر زیادہ دہراتے کہ موت کے قریب پہنچ جاتے۔
حافظ ذہبی نے اپنی کتاب ’’سیر اعلام النُبلاء‘‘ میں آپؑ کا ذکر خیر کیا ہے، وہ حضرت سعید ابن مسیب کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ایک آدمی نے اُن سے کہا کہ فُلاں بندہ بڑا متقی اور پرہیزگار ہے، تو حضرت سعید نے فرمایا کہ تُم نے زین العابدینؑ کو دیکھا ہے؟ ما رأيت أورع منه . آپؑ سے بڑا متقی میں نے نھیں دیکھا۔ آپؑ کے متعلق ایک اور واقعہ جسے علامہ ذہبی سمیت علماء و محدثین نے نقل کیا ہے کہ خلیفہ ہشام حج کرنے آیا، اُس کے ساتھیوں نے امام زین العابدینؑ کو دیکھا کہ لوگ حج کے موقع پر اُن کا بے پناہ احترام کر رہے ہیں اور حضر اسود کی طرف آپؑ جیسے بڑھے لوگ آگے سے، احتراماً ہٹ رہے ہیں تو ہشام سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ ہشام نے سُنی اَن سُنی کر دی تو پاس کھڑے شاعر فرزدق نے فوری امامؑ کی شان میں ایک طویل قصیدہ کہا، جس کے چند اشعار ’’سیر اعلام النُبلاء‘‘ سے ہی علامہ ذہبی کی روایت سے نقل کرتا ہوں
هذا الذي تعرف البطحاء وطأته
والبيت يعرفه والحل والحرم
هذا ابن خير عباد الله كلهم
هذا التقي النقي الطاهر العلم
إذا رأته قريش قال قائلها
إلى مكارم هذا ينتهي الكرم
يكاد يمسكه عرفان راحته
ركن الحطيم إذا ما جاء يستلم
يغضي حياء ويغضى من مهابته
فما يكلم إلا حين يبتسم
هذا ابن فاطمة إن كنت جاهله
بجده أنبياء الله قد ختموا
اشعار کا مفہوم کچھ یُوں ہے کہ یہ وہ ہستی ہیں کہ جس کے نقش قدم کو وادیٔ بطحا (یعنی مکہ مکرمہ ) پہچانتی ہے اور بیت اللہ اور حل وحرم سب ان کو جانتے پہچانتے ہیں۔ یہ تو اس ذات گرامی کے فرزند ہیں جو اللہ کے تمام بندوں میں سب سے بہتر ہیں یہ پرہیز گار، تقویٰ والے، پاکیزہ ، صاف ستھرے اور سید و سردار ہیں۔ جب ان کو بنی قُریش دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ان کی بزرگی و جواں مردی پر بزرگی وجواں مردی ختم ہے۔ جب وہ حجر اسود کو بوسہ دینے کے لیے آتے ہیں توایسا لگتا ہے کہ حجر اسود ان کی خوشبو پہچان کر ان کا ہاتھ پکڑ لے گا ۔وہ شرم وحیا سے نگاہیں نیچی رکھتے ہیں، اور ان کے رعب و ہیبت سے دوسروں کی نگاہیں نیچی رہتی ہیں، اس لیے ان سے اسی وقت گفتگوکی جاسکتی ہے جب وہ تبسم فرمارہے ہوں ۔ یہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے فرزند ہیں، اگر تو ان کو نہیں جانتا تو سُن لے کہ اِن کے محترم نانا خاتم الرُسُل ہیں ۔
واقعہءِ کربلا کے بعد آپؑ نے مدینہ منورہ میں احادیثِ اہلِ بیتؑ کی ترویج شروع کی، آپؑ ہر وقت عبادت، تلاوتِ قرآن، بیانِ احادیث اور دعا و مناجات میں مصروف رہتے، آپؑ سے مروی دعاوں پر مشتمل کتاب ’’ صحیفہءِ سجادیہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ انسانی حقوق پر آپ کا ایک تفصیلی خط ’’رسالۃ الحقوق‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ آپؑ نے مدینہ منورہ میں علوم و معارفِ اہل بیت کی وسیع پیمانے پر تبلیغ کی۔ آپؑ کا تفصیلی حالات علماء نے مختلف کتابوں میں ذکر کیے ہیں۔ واقعہءِ کربلا کے بعد آپؑ نے تقریباً ۳۴ سالہ زندگی میں کارِ امامت و ہدایت کو باحسن انجام دیا۔ آپؑ کو ’’بیمارِ کربلا‘‘ اِس مناسبت سے کہا جاتا ہے کہ اُس وقت آپؑ مریض تھے، تاہم واقعہ کربلا کے بعد آپؑ نے بڑی مجاہدانہ زندگی بسر کی، بہت سے شاگرد تیار کیے، احادیث لکھوائیں، مدینہ منورہ کو علمی مرکز قرار دیا۔ بعد ازاں آپؑ ہی کے طرز کو اپناتے ہوئے آپؑ کے فرزند امام محمد باقرؑ اور پوتے امام جعفر صادقؑ نے علومِ اہلِ بیت سے عالم کو بہرہ مند کیا۔ نسلِ حُسینی آپؑ سے ہی چلی۔ سلام اللہ علیھم اجمعین۔آپؑ کے بارے میں شیعی ذاکرین کا یہ تاثر کہ آپؑ دائمی مریض اور واقعہءِ کربلا کو یاد کر کے ہر وقت روتے ہی رہتے تھے، نادرست ہے۔
کیا حضرت ابوبکر سب سے پہلے اسلام لائے؟
حضرت ابوبکر پچاس لوگوںکے بعد یہاں تک کہ حضرت عمر کے بھی بعد اسلام لائے جیسا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص سے نقل کیاگیا ہے.لہذا یہ کہنا جھوٹ ہو گا کہ وہ سب سے پہلے اسلام لائے :
((محمد بن سعد ، قلت لأبی : أکان أبوبکر أوّل اسلاما ؟ فقال : لا ولقد أسلم قبلہ أکثر من خمسین ))
(تاریخ طبری ١: ٥٤٠؛ فتح الباری شرح صحیح بخاری٧: ٢٩)
عسقلانی کہتے ہیں : فقد کان حینئذ جماعة من أسلم لکنّھم کانوایخفونہ من أقاربھم .
خالد بن سعید بن عاص حضرت ابو بکر سے پہلے اسلام لا چکے تھے اور محمد بن ابو بکر اور دسیوں مؤرخین کے بقول جو شخص سب سے پہلے اسلام لایا وہ حضرت علی تھے ؟ جیسا کہ معاویہ کے نام ایک نامے میں اس حقیقت کا اعتراف کیاہے .اگر یہ سب حقیقت رکھتا ہے جیسا کہ ہمارے مؤرخین نے کہا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اس قدر اصرار کرتے ہیں کہ سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت ابو بکر ہیں ؟
کیا اس جھوٹی سازش کا مقصد خلیفہ اوّل کی شان بڑھانا ہے یا یہ کہ خلیفہ چہارم کی شان گھٹانا ہے ؟
1۔ نامہ محمد بن ابوبکر : ((فکان أوّل من أجاب وأناب وآمن و صدّق ووافق فأسلم وسلّم أخوہ وابن عمّہ علیّ وھوالسّابق المبرز فی کلّ خیر ، أوّل النّاس اسلاما )).
شرح نہج البلاغہ ،ابن ابی الحدید ٣: ١٨٨
2۔ ابو الیقظان : ((انّ خالد بن سعید بن العاص أسلم قبل أبی بکر الصدّیق)) المستدرک علی الصحیحین ٣: ٢٧٨
3۔ سعد بن ابی وقاص :ابو بکر سے پہلے پچاس سے زیادہ لوگ اسلام لا چکے تھے .( تاریخ طبری ١: ٥٤٠)
4۔ امام زہری: حضرت عمر تقریبا چالیس لوگوں کے بعد اسلام لائے .( تاریخ الاسلام( السّیرة النبویّة ) : ١٨٠؛ طبقات ابن سعد ٣: ٢٦٩؛ صفة الصفوة
معاویہ باغی و ظالم تھا:
محدث شاہ عبدالعزیز دہلوی اپنی مشہور کتاب تحفہءاثنا عشریہ، ص 181 میں بیان کرتے ہیں:
یہ معلوم ہونا چاہئے کہ تمام قطب ِاہل ِسنت کا اس پر اجماع ہے کہ معاویہ بن ابی صفیان، حضرت امیر کی امامت کے شروع سے ہی اور امام حسن سے صلح تک باغی رہا اور اپنے وقت کے امام کی اطاعت نہ کی۔
تحفہءاثنا عشریہ، ص 181
اسی طرح کتاب کے صفحہ 11 پر ہم پڑھتے ہیں:
اصل فرقہ اہل ِسنت والجماعت کا تھا جو کہ صحابہ و تابعین کا تھا۔ وہ مہاجرین و انصار تھے جو کہ علی کے غلام تھے اور خلافت کے مددگار تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ عثمان کی شہادت کے بعد مرتضیٰ امام برحق تھے اور تمام انسانوں پر ان کی اطاعت فرض تھی۔ علی اپنے دور میں سب سے زیادہ افضل تھے، جس کسی نے بھی خلافت کے معاملہ پر ان سے اختلاف کیا یا ان کی خلافت کو رد کیا وہ گناہگار اور باغی ہے۔
تحفہءاثنا عشریہ، ص 11
(سید عابد افتخار کی وال سے ماخوذ)
اصحاب النبی اور معیار حق :
قرآن مقدس نے کہا تھا ؛ ليس بأمانيكم ولا اماني أهل الكتاب من يعمل سوء يجزبه ؛ تمہاری اور اہل کتاب کی خواہشات کے مطابق فیصلہ نہیں ہوگا ، جو شخص بھی کسی بُرائی کا ارتکاب کرے گا اُسے اس کا بدلہ مل کر رہے گا ۔
لیکن ہمارے علماء ، فقہاء و محدثین نے یک زبان ہوکر کہا کہ قرآن کی بات اپنی جگہ درست ہے مگر اصحاب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اگر کوئی بُرائی سرزد ہو تو اسے بُرائی نہیں کہیں گے بلکہ اسے اجتہادی غلطی کہا جائے گا اور اجتہادی غلطی تو بڑی خوبی کی بات ہے اور خدا کو اتنی اچھی لگتی ہے کہ غلط کار مجتہد اُس کے ہاں اجر و ثواب کا مستحق بن جاتا ہے ۔
آخر جس شخص نے اجتہاد میں ٹھوکر کھائی اس کی یہ ہمت کچھ کم قابل داد ہے کہ اُس نے اجتہاد تو کیا ، باقی رہا غلطی کا معاملہ تو غلطی سے کون بچ سکا ہے ۔
※ یہ اجتہادی غلطی ؛ ایک ایسی ملعون اصطلاح ایجاد کی گئی جس نے ہر گناہ کو نیکی اور ہر بُرائی کو بھلائی کا رُوپ دے دیا اور ہر بدنیت و بد کردار شخص نے اس اصطلاح کی آڑ لیکر اُن تمام خباثتوں کا ارتکاب کیا ہے جن سے اسلام کی روح کانپ اٹھتی ہے ۔
※ خلیفہ برحق کے خلاف خروج و بغاوت گناہ کبیرہ ہے اور گناہ کبیرہ پر اصرار کفرو ارتداد ہے لیکن اگر اس کا ظہور جناب معاویہ بن ابی سفیان کی طرف سے ہو تو پھر یہ اجتہادی غلطی کہلائے گی ۔
※ علی بن ابی طالب کی خلافت برحق ہے لیکن اگر صحابہ کا ایک گروہ ان کے خلاف معاندانہ روش اختیار کرے ، نوبت خون خرابہ تک پہنچ جائے، ہزاروں مسلمان شہید ہوجائیں ، ہزاروں خاندان تباہی کا شکار ہوجائیں ، تو حرف شکایت زبان پر مت لاؤ کیونکہ یہ سب کچھ اجتہادی غلطی کی بدولت ہوا ، اور اجتہادی غلطی پر خدا کے ہاں کوئی گرفت نہیں ہے بلکہ اجرا ثواب کی یقین دہانی موجود ہے، یعنی کیا ہی اسلام و اجتہاد کی خوبصورت شکل ہے کہ ہزاروں لوگوں کو قتل کرنے اور اصحاب رسول کے سر کاٹ کر نیزوں پر چڑھا کر مختلف شہروں میں اپنی اس دہشت کی نمائش کرنے پر بھی اجر و ثواب ہے ۔
※ ان دماغ سوختگان عقل و دانش کو اتنی موٹی سی بات بھی معلوم نہیں کہ اجتہادی غلطی کا تعلق فکری اور نظری مسائل سے ہوتا ہے ، جب اعمال میں غلطی رونما ہو اور بار بار رونما ہو تو اسلام کی اصطلاح میں اسے فسق و فجور اور گناہ و معصیت کہا جاتا ہے ۔ پھر گناہ و معصیت کا مرتکب کوئی صحابی ہو یا غیر صحابی ، یکساں طور پر مستحق تعذیر ہے ۔
رسول اکرم نے حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ، حمنہ بنت جحش کو حد قذف میں کوڑے لگائے حالانکہ یہ صحابی تھے، مسطح بدری صحابی ہے، حسان شاعر اسلام ہے، اور حمنہ نبی اکرم کی سالی ہے ام المؤمنین زینب بنت جحش کی سگی بہن اور صحابیہ ہے ۔
ماعز اسلمی کو عادی بدکار ہونے کی سزا دیتے ہوئے سنگسار کردیا گیا ، یہ بھی صحابی تھے ۔
حضرت عمر بن خطاب نے اپنے سالے اور ام المؤمنین حفصہ کے سگے ماموں ابن مظعون کو شراب کی حد میں اسی کوڑے مارے ، جبکہ یہ بدری صحابی تھے ۔
اسلامی قانون نے صحابی کی کوئی رعایت نہیں کی اور جرم و گناہ پر تعذیر و حد نافذ کی گئی، لیکن سوختگان عقل و دانش نے علی بن ابی طالب کے سیاسی حریفوں کے لیے ان کی بغاوت کو تحفظ دینے کے لیے اجتہاد کی اصطلاح کا سہارا لیا ۔
※ صحابہ کے متعلق سوء ظن ناجائز ہے لیکن علی کے مقابلہ میں معاویہ کا کردار کوئی ظنی چیز تو نہیں ہے کہ بد گمانی کی گنجائش ہو ، یہاں تو واقعات و حقائق کا ایک انبار ہے جو قدم قدم پر فریقین کے طرز عمل کی شہادت دے رہا ہے اور معاویہ بن ابی سفیان اور ان کے ساتھیوں کی غلط روش کو نمایاں کر رہا ہے ، اس کردار کے لیے آخر عمل نیک کہاں سے فراہم کیا جائے اور بد گمانی سے بچنے کی کونسی راہ تلاش کی جائے ۔ بہر حال محض مقام صحابیت کسی فرد کو قانون سے بالا تر نہیں کر سکتا ۔
※ شرف صحابیت میں اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ ہر صحابی پاکباز ہوتا ہے ، نجات یافتہ ہے اور مرحوم و مغفور ہے ۔ نہ جانے یہ عجیب و غریب اصول کہاں سے گھڑ لیا گیا کہ محض صحابی رسول ہونا نجات اخروی کا ضامن ہے اور ایک صحابی کو یہ تحفظ کہاں سے مل گیا کہ وہ اس اعزاز کی بنا پر جُرموں کی پاداش سے بچ جائے گا، اگر ایسا کوئی تحفظ صحابہ کے لیے موجود ہوتا تو رسول رحمت مذکورہ صحابہ کو سزا نہ دیتے اور حضرت عمر بدری صحابی کو کوڑے نہ مارتے ، رہ گئی آخرت کی بات تو خدا کے قانون عدل کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا ۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میں اس قسم کے حقوق یافتہ طبقہ کا کوئی وجود نہیں ہے ، اسلام کا اپنا مزاج بھی اس امتیاز کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ جس کتاب مقدس میں خود پیغمبر سے یہ کہہ دیا گیا ہو کہ :
قل لا ادري ما يفعل بي ولا بكم ؛ اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ مجھے کچھ خبر نہیں کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے ؛۔ اس کی رو سے یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسے افراد جن کی پوری زندگی حق کے خلاف بغاوت میں گذری ہو پروانہ مغفرت عطا کردیا جائے، پھر ان سے بڑھکر ان حضرات کی عقلوں پر ماتم کیجیے کہ پیغمبر اور قران تو کہے کہ مجھے اپنے اور تمہارے بارے میں کچھ خبر نہیں کہ کیا ہونے والا ہے لیکن ان کو خبر لگ گئی کہ کیا ہونے والا ہے حق کے باغیوں کے لیے رضی اللہ عنہ کے تمغے بانٹتے پھرتے ہیں ۔ کبُرت کلمة تخرج من افواههم ان يقولون الا كذبا -
※ پیغمبر اکرم کے صحابہ کرام قابل احترام اور لائق صد تکریم ہیں لیکن ہر وہ شخص جس نے ایمان کی حالت میں پیغمبر کو دیکھا ہو وہ شرف صحابیت سے مشرف نہیں ہوسکتا ، یہ مفہوم لغت عرب کے لحاظ سے بھی صحیح نہیں اور شرع کی رُو سے بھی صحیح نہیں ، دور بنو امیہ اور دور بنو عباس کے خود فروش علماء نے اگر کچھ اصطلاحیں وضع کرلی ہیں تو ہم اس کے پابند نہیں کہ انہیں درست مان لیں ۔
ہر کس و ناکس پر صحابی کا اطلاق موزوں نہیں ( تلویح تفتازانی ، مطبوعہ مصر )
※ جن نفوس قدسیہ کی آنکھوں نے حضور پُر نور کو دیکھا، پیغمبر کی شب و روز کی محفلوں اور صحبتوں نے جن کی سیرت و کردار کو نکھارا تھا اور جن کی زندگی کا یہ انداز مرتے دم تک قائم رہا ، جنہوں نے پیغمبر کی زندگی میں اور پیغمبر کی وفات کے بعد پیغمبر کے اسوہ حسنہ کو حرز جان بنا ئے رکھا ۔ جو پیغمبر کی اتباع کو سرمایہ حیات سمجھتے رہے اور ہمیشہ اس پر گامزن رہے ، جو نہ کبھی وقت کے ساتھ بہے اور نہ ہی وقتی مصلحتوں اور ہنگاموں نے انُکے پائے عزیمت و استقامت میں کوئی لغزش پیدا کی ، بلاشبہ ایسے لوگ اس کائنات کے سب سے زیادہ معزز لوگ اور قابل احترام و تکریم ہیں ، یہی ہیں جن کے متعلق قران نے کہا: والسابقون الاولون من المهاجرين والأنصار والذين اتبعوهم باحسان رضي الله عنهم ورضوا عنه واعد لهم جنات -
لیکن جن لوگوں نے پیغمبر کے اسوہ کو فراموش کردیا، دنیا کی لذتوں کو اپنا مشغلہ بنا لیا ، عیش و عشرت کی ہنگامہ آرائیوں میں مبتلا ہوکر سنت سنت نبوی سے منحرف ہوگئے ، یزید پلید جیسے شخص کو امت پر مسلط کرنے کی مہم چلاتے رہے، تقوی و طہارت کے جادہ مستقیم سے دور جا پڑے ، نہ مہاجر نہ انصار اور نہ ہی مہاجرین و انصار کی اتباع بالاحسان کی ان کے لیے اجر و انعام کا وعدہ باقی نہ رہا ، وہ بہر حال اپنی سزا کو پہنچیں گے کہ یہی آئین و دستور خدا وندی ہے اور ولن تجد لسنة الله تبديلا ، ایسوں ہی کے لیے بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
عن أبي هريرة أنه كان يحدث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يرد علي يوم القيامة رهط من أصحابي فيحلئون عن الحوض فأقول يا رب أصحابي فيقول إنك لا علم لك بما أحدثوا بعدك إنهم ارتدوا على أدبارهم القهقرى
میرے صحابہ کا ایک گروہ قیامت کے دن میرے سامنے آئے گا مگر انہیں حوض سے ہٹا دیاجائے گا ، میں عرض کروں گا اے میرے رب یہ تو میرے صحابی ہیں ، جواب دیا جائے گا کہ آپ کو خبر نہیں کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کچھ کیا ، یہ اپنے قول و قرار سے پھر گئے تھے۔ بخاری ہی کی دوسری روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : فاقول سُحقا سُحقا لمن غیر بعدی ؛ میں کہوں گا انہیں مجھ سے دور لے جاؤ کہ انہوں نے میرے بعد میرے راستے سے انحراف کر لیا تھا ۔
※ نیک نفس اور پاکباز صحابہ قابل احترام ضرور ہیں لیکن معیار حق وہ بھی نہیں۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ہی صرف معیار حق ہے ، پیغمبر کے علاوہ کوئی شخصیت نہ معیار حق ہے اور نہ ہی اس کا قول و فعل حجت بن سکتا ہے ، اسلام نے اس سلسلہ میں اس قدر احتیاط کی ہے کہ پیغمبر کی اطاعت کے لیے بھی ؛ معروف ؛ کی شرط کو لازم قرار دیا ، حدیث میں آتا ہے کہ نبی علیہ السلام جب کسی شخص سے بیعت لیتے تو فرماتے : الطاعة في معروف ؛ کہ تم پر میری اطاعت معروف کی حد تک واجب ہوگی۔
لیکن ہماری بدقسمتی کی یہ حالت ہے کہ ہم نے پیغمبر کی ذات کو چھوڑ کر باقی سب کو حق و عدل کا معیار قرار دے لیا ہے اور شخصیت پرستی کی لعنت میں اس حد تک مبتلا ہوچکے ہیں کہ جہاں واقعات و شواہد اور نصوص قطعیہ موجود ہوں وہاں بھی نظر سب سے پہلے اُس شخصیت کی طرف اُٹھتی ہے جو ہماری عقیدتوں کا مرکز ہو، اور ہم سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ اس کی رائے اس بارے میں کیا ہے ، اور وہ اس معاملے میں کیا موقف رکھتا ہے ۔
※ پیغمبر گرامی کا ارشاد تھا؛ دوروا مع الکتاب حیث دار ؛ ( بھیقی ) جس طرف کتاب الہی کارُخ ہو اُسی طرف گھوم جاؤ ۔ یعنی قانون خدا کو مرکزی نقطہ بنا کر خود اس کے مطابق چلو،لیکن ہم کتاب کو گُھماتے ہیں یا ہوا کے رُخ چلنے کے عادی ہیں یا جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے ہم قائل ہیں یا پھر اندھا دُھند تقلید ہمارا شعار ہے ۔
※ مشہور محدث ابن جوزی اپنی مشہور کتاب ؛ تلبیس ابلیس میں اس روش سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
وا علم ان عموم اصحاب المذاهب يعظم في قلوبهم الشخص فيتبعون قوله من غير تدبر بما قال و هذا عين الضلال لان النظر ينبغي ان يكون الي القول لا الي المقائل كما قال علي عليه السلام لحارث بن حوطه وقد قال الاتظن انا نظن ان طلحة والزبير كانا علي باطل ؟ فقال لا يا حارث ، انه ملبوس عليك ، ان الحق لايعرف بالرجال اعرف الحق تعرف لاهله ؛
یہ بات ذہن نشین رہے کہ اصحاب مذاہب کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ جس کے معتقد ہوتے ہیں اس کی بات کو سوچے سمجھے بغیر قبول کر لیتے ہیں اور یہ صریحاً گمراہی ہے کیونکہ قائل سے زیادہ قول پر نظر رکھنی چاہیے ، جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے حارث بن حوطہ کی اس بات کے جواب میں کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ طلحہ و زبیر کو ہم غلطی پر سمجھنے لگ جائیں ؟ یہ فرمایا تھا : حارث تمہیں دھوکہ ہوا ہے ، یاد رکھو حق انسانوں کے ذریعہ نہیں پہچانا جاتا بلکہ حق کے ذریعے اہل حق پہچانے جاتے ہیں ۔
مفتی محمد فاروق علوی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Islamabad