16/01/2021
assalamoallaikum
if there is any student near you who need help in arranging fee in govt. institutiins, and he deserve charity based funds, plz let us know.. we will try to help as much as possibly
jazakallah khair
01/06/2018
any student or patient eligible fpr zakat need help???can text in pvt...there are few frnds who want to support in ramadan....
16/02/2018
اسلام علیکم!
ہمارے ملک پاکستان میں اگر جوانوں کی تعداد دیکھئ جائے تو وہ ہمارے ملک کی 20 کروڑ عوام میں نصف سے زیادہ پائ جاتی ہے اور ان 20 کروڑ عوام میں ہمارے ملک کے جوان جو نصف سے زیادہ ہیں ان میں سے صرف 60% جوان تعلیم حاصل کر ر ہے ہیں اور باقی 40% جوان اپنے ماحول کے اثرات کے سبب تعلیم حاصل نہیں کر سکتے.اپنے ملک کو پسماندگی سے نکالنے کے لئے ہم نے ایک تنظیم بنائ ہے جو تمام جوان لڑکے،لڑکیوں کو مفت تعلیم دیتی ہے.اس تنظیم Tre)
at Pakistan by Pakistan) کو ہمارے ملک کے وہ لوگ جو صاحب استعطاعت ہیں اپنے زکواہ اور صدقات کے
تحت ہماری کاوش کا حصہ ہیں.اور ہم چاہتے ہیں کہ ایسے اور لوگ جنہیں اللہ پاک نے دنیا کی تمام نعمتیں عطا فرمائ ہیں وہ اس کاوش کا حصہ ہیں.ایک ایسی کاوش جو ہم نے کہی وہ ایک لڑکی تھی جس کا تعلق ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس سے ہے.وہ اپنے نجی معملات کے با عث تعلیم جاری نہ رکھ سکی ہم نے مل کر اس کے اخراجات اٹھاے اور اس کی تعلیم جاری رکھی.یہ ایک حقیر سی کوشیش ہےکہ کسی غریب نادار کی مدد کی جاے.
05/02/2018
"every single time u help somebody stand up ,you are helping the humanity rise"
Steve Maraboli
21/08/2017
اسلام عکیکم
اللہ تعالئ کے فضل وکرم سے ٹی.پی.بی.پی نے ایک نو مسلم نوجوان جو ایک ادارے میں کلینر کا کام کرتا یے اور اس سے اسکی گزر بسر بہی بہت مشکل سے ہوتی ہے اور وہ کافی دن سے بیمار تھأ کا علاج کرایا جسکے لےء وہ کافی دن سے پریشان تھا.اللہ ربالعزت اسکو اسلام پہ ثابت قدم رکھے اور ہمیں پہلے سے بڑھ کر اپنی مخلوق کی خدمت کرنے کی توفیق و ہمت عطاء فرمائے.اور ہمیں لوگوں میں خوشیاں بانٹنے کا سبب بنائے.آمین
13/07/2017
"Treat Pakistan by Pakistan" ماشااللہ ایسی تنظیم ہے جو اپنے کار خیر کے کاموں میں انتہائی خلوص کے ساتھ سرگرم عمل ہے
یہ تنظیم عظیم مقاصد لے کر عمل میں لائی گئ اور اللہ کے فضل کے ساتھ مقاصد کی کامیابی میں آگے کی طرف رواں دواں ہے۔ حال ہی میں ایک بہت غریب خاندان جو اپنے چار بچوں کے ساتھ بےروزگاری کی وجہ سے کسمپرسی کی زندی گزار رہا تھا اس تنظیم کے تحت انہیں ایک دکان اور اسے چلانے کے وسائل مہیا کر دیےگئے ہیں تاکہ وہ عزت سے اپنے بچوں کو ضروریات زندگی مہیا کر سکیں اور معاشرے کے فعال رکن بن سکیں۔
نیکی کے اس کارواں کے ساتھ چلنے والوں کو اللہ پاک اجر عظیم عطا فرمائےآمین۔ کیوں کہ معاشرے میں انسانوں کو عزت نفس کے ساتھ جینے کا حق دینا سب سے بڑی نیکی ہے۔
اللہ کرے یہ پھل دار درخت پھلتا پھولتا جائےاور اس کے پھل اور رس بےبس و مجبور انسانوں کی زندکیوں میں تروتازگی بھرتے چلے جائیں۔ اس درخت کو لگانے والوں کے ساتھ لوگ جوک درجوک شامل ہوتے جائیں کاروں بنتا جائے آگے بڑھتا جائےاور زندگی کے خوبصورت رنگ سامنے آتے جائیں آمین۔
24/06/2017
keep an eye in ur surrounding and try to help the deprived members of our society to celebrate such auspicious day of eid with you...
01/06/2017
*بندہ کمائے گا نہیں تو کھائے گا کہاں سے*
(ایک عبرت ناک واقعہ)
ستر کی دہائی تھی، کوئی آج کل والا پاکستان تو تھا نہیں، اُس نے کراچی میں موجود امریکی لائبریری میں قدم رکھا اور پڑھنا شروع کردیا۔ وہ پیاسا تھا اور علم پیتا چلا گیا، کچھ ہی سالوں میں انجینئرنگ میں ٹاپ کیا اور امریکہ چلا آیا۔ کام، کام اور بس کام۔ وہ اپنے خاندان میں واحد گریجویٹ تھا، اکیلا خوش نصیب جسے ملک سے باہر کام ملا اور واحد کفیل۔
کام کے دوران اُس کی ایک وائٹ امریکی مارگریٹ سے شادی ہوگئی۔ ترقی پر ترقی، اپنا گھر، اپنی گاڑی، بینک بیلنس، وہ منزلوں پر منزلیں طے کرتا چلا گیا۔
کافی سالوں بعد وہ آج اپنی بیوی کے ساتھ پاکستان لوٹا۔ سن 83ء کا زمانہ تھا۔ سب لوگ خوب خوش ہوئے مگر ایک ضروری کام سے کمپنی نے واپس بلا لیا۔ بیوی کو پاکستان چھوڑ کر ایک ہفتے کے بعد واپس آنے کا کہہ کر وہ امریکہ روانہ ہوگیا۔
26 گھنٹوں کے طویل سفر کے بعد اُس نے رات کی تاریکی میں نیویارک میں موجود اپنے گھر کا دروازہ کھولا اور بستر پر آکر اوندھے منہ لیٹ گیا کہ صبح کام پر پہنچنا تھا۔ اُس نے بمشکل تمام 6 بجے کا الارم لگایا۔
صبح اُس کی آنکھ 11 بجے کھلی، وہ کافی دیر تک حیران و پریشان گھڑی کو دیکھتا رہا، اُس نے چھلانگ مار کر بستر سے اٹھنے کی کوشش کی مگر یہ کیا، وہ تو اپنے آپ کو ایک انچ بھی نہ ہِلا پایا۔ اُس نے گھبراہٹ میں چیخنا چاہا مگر کوئی آواز نہ نکل سکی۔
رات کے کسی پہر جب وہ خوابوں میں دنیا فتح کررہا تھا تو قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اُسے فالج کا اٹیک ہوا اور صبح تک اُس کا جسم، اُس کا چہرہ اور تمام عضلات کسی بھی قسم کی حرکت سے معذور ہوچکے تھے۔ اُس کا دماغ کچھ کچھ کام کر رہا تھا مگر اُسے بڑی مشکل پیش آرہی تھی۔ یہ سوچتے ہوئے کہ وہ کون ہے؟ اُس کا نام کیا ہے؟ بیوی بچے، ماں باپ کون ہیں؟ وہ سب کچھ بھولتا چلا جارہا تھا۔ یاداشت کا کھونا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی قسطوں میں خود کشی کرے۔ ہلکے ہلکے، رفتہ رفتہ، مدھم مدھم وہ تمام لوگ جن کے ہونے کو ہم زندگی کہتے ہیں دماغ سے رخصت ہوتے چلے جاتے ہیں۔ دل میں رہتے ہیں مگر دل تو احساسات کا مجموعہ ہے۔ شکل کو نام اور صفات تو دماغ دیتا ہے۔
مسٹر صدیقی کو بستر پر پڑے پڑے آج تیسرا روز تھا۔ موبائل فون تو اُس دور میں ہوتے نہیں تھے اور اگر ہوتے بھی تو وہ کون سے اِس قابل تھے کہ وہ ہاتھ ہِلا سکتے۔ گھر میں موجود فون بجتا رہا، کبھی آفس والے کال کرتے تو کبھی پاکستان میں گھر والے۔
اتنی بے بسی تو شاید مُردوں کو بھی نہ ہوئی ہوگی کہ انہیں کم از کم اِس بات کا تو سکون ہوتا ہوگا کہ وہ مرچکے ہیں۔ مرنا کتنی بڑی نعمت ہے انہیں آج سمجھ آرہا تھا۔
چوتھا دن، پانچواں دن اور آج چھٹا دن، غلطی سے آج ڈاکیا دروازہ کھلا دیکھ کر مسٹر صدیقی کو ہیلو ہائے کرنے آگیا کہ اُن کے اخلاق اچھے تھے اور وہ ہمیشہ ڈاکیے کو دیکھتے تو حال احوال پوچھتے۔
ڈاکیے نے کھلی آنکھوں مگر ساکت جسم کو دیکھا تو 911 پر ایمرجنسی کال کردی۔ وہ آئے اور اٹھا کر لے گئے۔ اگلے 9 ماہ صدیقی صاحب کومے میں رہے۔ وہاں سے ہوش آیا تو کینٹکی کے ایک ہاس پائس ری ہیبیلی ٹیشن سنیٹر میں منتقل کردیا گیا۔ یہاں ایسے لوگوں کو رکھا جاتا تھا جن کا واحد علاج خود موت ہوتی تھی۔ دن، ہفتے، مہینے اور سال گزرتے چلے گئے۔
بیوی نے سمجھا کہ ’کسی اور‘ کے ساتھ گھر بسالیا اور اسے بھول گئے، اُس نے بھی کہیں اور شادی کرلی۔
بہن بھائیوں اور رشتہ داروں نے سمجھا کہ پیسے کی ہوس نے تمام رشتے ناطے توڑنے پر مجبور کردیا۔
باپ نے سمجھا کہ بیٹا امریکی زندگی میں مصروف ہوگیا اور گھر والوں کی خیریت لینے کا وقت نہیں ہے، وہ ناراض ہوگیا اور اُسی ناراضگی میں کچھ سالوں بعد باپ کا انتقال ہوگیا۔
ماں پھر ماں ہوتی ہے، وہ آخری وقت تک انتظار کرتی رہی کہ ایک دن اُس کا بیٹا ضرور واپس آئے گا۔ اُس نے مرتے وقت بھی وصیت کردی کہ جب بیٹا آئے تو اُس کی قبر پر ضرور لے آئیں۔
آج اِس واقعے کو 33 سال اور 4 ماہ ہونے کو آئے ہیں۔ مسٹر صدیقی (کوئی اُن کا پورا نام نہیں جانتا) آج بھی بولنے کی سکت نہیں رکھتے مگر تھوڑا بہت کھا پی سکتے ہیں۔ پچھلے چند ماہ سے اِس سینٹر میں ایک پاکستانی آتا ہے، اُس کا نام شاہد ہے۔ شاہد انہیں دیکھتا تو اسے شک گزرتا کہ یہ پاکستانی ہیں مگر ایک کلین شیو بوڑھے کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل تھا۔ بول تو وہ سکتے نہیں تھے۔
آج مسٹر شاہد کو ایک ترکیب سوجھی، وہ گھر سے پاکستانی چکن بریانی لے گئے اور مسٹر صدیقی کے سامنے رکھ دی۔
مسٹر صدیقی کے پورے جسم میں صرف آنکھیں بولتی تھیں، آج تو جیسے وہ ابل پڑیں۔ نرس چمچ سے بریانی آہستہ آہستہ منہ میں ڈالتی جاتی مگر اتنے آنسو اس میں مل جاتے کہ اندازہ کرنا مشکل ہوجاتا کہ چمچ میں چاول کی مقدار زیادہ ہے یا آنسوؤں کی۔
یہ آنسو اِس بات کا ثبوت تھے کہ بندہ یا تو پاکستانی ہے یا انڈین۔ شاہد نے مریض کو گلے لگالیا اور دونوں نجانے کتنی دیر تک روتے رہے۔
اگلے 6 ماہ
میں شاہد نے سب پتہ لگالیا کہ یہ شخص کون ہے مگر اب 33 سالوں بعد فیملی کی تلاش ایک بڑا مسئلہ تھا۔
اُس نے اُن کی تصاویر کھینچ کر فیس بک پر لگادیں۔ دو ہی ہفتوں میں اُن کا مسٹر صدیقی کی گزشتہ بیوی اور بہن سے رابطہ ہوگیا۔
اِس ہفتے مسٹر صدیقی اپنی بہن سے امریکہ کے ایک اسپتال میں ملے۔ نہ کچھ بول سکے اور نہ ہاتھ ہلا سکے، ہاں مگر آنسو تو کم بخت ہیں فالج میں بھی نکل آتے ہیں۔
آج رات شاہد سوچ رہا تھا کہ آدمی غرور و تکبر کس بات کا کرے؟ چلتے ہوئے نظام میں سے قدرت نے ایک آدمی کو بِناء موت کے 33 سال کیلئے نکال کر باہر رکھ دیا۔ وہ جو سمجھتا تھا کہ اگر وہ کام نہ کرے تو کھائے گا کہاں سے؟ اُسے بھی بٹھا کر، بلکہ لٹا کر 33 سال کھلاتے رہے۔ صرف بندہ اپنے آپ کو دیکھ لے۔ اُن تمام بیماریوں کا اندازہ کرلے جو اپنے جسم میں ساتھ لے کر چلتا ہے اور اُن میں سے کوئی نکل پڑی تو وہ کہیں کا نہیں رہے گا تو غرور و تکبر آنسو بن کر بہہ جاتے ہیں۔
copied
_________________________________
31/05/2017
میں کہا روکتا ہوں عرش اود فرش کی آواز سے
مجهے جانا ہے بہت اونچا حد پرواز سے
باسمِ ربی۔ محترمين مجلس سلامتی و رحمت ھو۔
آج الله كےشکرسے ایک اور يادگار ہماری يادوں ک جھرونکو ں میں شامل ہونے جارہی ہے۔۔
ایک نوجوان جس کے سر سے والد کا سايہ بیس سال کی عمر ميں اٹھ گيا تھا اس نے اپنی کم عمری کو بھلا کر خاندان کی ساری زمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھا لی اور محنت مذدورى سے اپنے فراہضں انجام دينےلگا مگر شايد وقت کو اس کی کم عمری پر ترس نہ آیا اور Acute respiratory distress syndrome (عام زبان ميں بولے توپھیپھڑوں ميں پانی بهر جانا کہتے ہيں) نے گير لیا ۔۔
مگر جيسا کہ قدرت کا قانون ہے کہ جب ایک دروزه بند هوتاہے تو دوسراضرورکھلتا ہے اور الله کا کرم ہے کہ وه دروازه ٹی پی بی پی بنا اور اس نوجوان کے آ-سی-يو کے بقیاجات اخراجات سہی وقت پر ادا کر دیے گے۔۔ اللہ کے فضل سے اب وہ نوجوان خطرے سے باہر ہے اور ھماری دعا ہے کہ وہ سدا صحتمند رہے اور اپنے خاندان کا سہارا بنے-
اورمختصريہ کہ الله کے شکر سے ٹی پی بی پی اپنا ایک اور کام سر انجام دینے ميں کامياب ہوا۔۔ الله ہميں بهی توفيق دے کہ ہم بهی انسانيت کی خدمت كر سكے اور اپنے آس پاس کےماحول سے کچھ اچھا سیکھ سکیں۔۔
03/05/2017
that would be real n longlasting change.....