Ataullah Yardad

Ataullah Yardad

Share

حضرت مولانا یرداد خان بانی،مہتمم و استاد الحدیث جامعہ انوار الاسلام۔ و خطیب جامع مسجد بلال۔
YouTube link 🔗:- https://www.youtube.com/@infoatyardad

27/04/2026

آپ لوگوں نے یہ ویڈیو دیکھی ہے جہاں ایک ایف آئی اے کے افسر کیلئے بے قرار الحسن کتے کی طرح بھونک رہا ہے اس ویڈیو کے بہت سارے پہلو ہے پہلا پہلو جب کسی افسر کو اس حد تک چینل یا اپنی مشہوری کیلئے دباتے رہنگے وہ اپنے ادارے اور یونیفارم کے عزت کو سامنے رکھ کر یا اپنے بچوں کی روٹی پانی کو سامنے رکھ کر خاموش تو ہوگا لیکن وہ پھر کسی بھی اثر رسوخ والے پر ہاتھ نہیں ڈالےگا اپنی عزت احترام اور بچوں کی روزی کی خاطر تو یہ اثر رسوخ والے اپنے پیچھے رکھے بیکوں میں پتہ نہیں کیا کیا ساتھ لے جاتے رہنگے اور یہ آفیسر احساس کمتری کے شکار ہوکر اپنے منصب میں کوتاہی برتنے شروع کرنے گے اس میں اور بھی لکھا جاسکتا ہے دوسرا پہلو یہ ایک صحافی ہے تو صحافی کے لہجے میں بات کرنا چاہیے لیکن سلطان راہی اور شفقت چیمہ کی طرح فلموں میں بھونکنے کی طرح بھونکنا نہیں چاہیے یہ فلم انڈسٹری نہیں یہ انٹرنیشنل ایئر پورٹ ہے یہاں صرف اس کے چیلے نہیں پوری دنیا کے انٹرنیشنل لوگ دیکھ رہے ہوتے وہ کیا تاثر لیکر اپنے اپنے ملک جائنگے یہ صرف اس ایئرپورٹ پر نہیں چیخا اس کے کلپ اٹھا کر دیکھو اور جگہ بھی باؤلہ ہوا ہے تیسرا پہلو اس نے ایک پارٹی بنائ ہے اس کا لیڈر ہے اور اس نے ملازم سے بھی اور پبلک سے ووٹ لینا ہے اور اگر یہ لیڈر ہے تو لیڈر کے ماتحت لوگوں میں یہ آفیسر ہے اور لیڈر ایسا پاگلوں کی طرح غلہ پھلا کر چیخ چیخ کر بولتے ہیں ایسے پتہ چلتا ہے جیسے گلیوں کا لونڈا ہے اس کے اندر تو لیڈر کا دور دور تک صفات نہیں پائے جاتے نہ یہ صحافی ہے نہ یہ لیڈر ہے یہ ایک جاہل شف سرکار کو دبا کر شیر بنا ہے اسکا کسی تکڑے آدمی کو منہ نہ لگا ہے اس کے ناک منہ برابر کرتا ہے میں ابھی رمضان میں عمرہ کیلئے جانے لگا تو ایف آئی اے کا اہلکار میرے پاس آیا سلام کیا پوچھا اتنا مہنگا عمرہ پر جارہے ہو آپ کیا کام کرتے ہو میں نے کہا امام مسجد ہوں پھر کہنے لگا امام مسجد کا بہت تھوڑا تنخواہ ہوتا ہے آپ نے ساڑھے چار لاکھ روپے بھرا ہے کدھر سے لایا ہے ادب سے بول رہا تھا میں نے کہا آپ صحیح کہ رہے میرے یہ دوست نے اپنے ساتھ اپنی خدمت اور ساتھ عمرہ بھی ادا ہو لایا ہے پھر اس نے اس سے پوچھا آپ کا کیا کام ہے اس نے اس کو بتایا پھر اس نے ہم سے دعاؤں کی درخواست کیا کہ میرے لئے دعا کرنا اب یہاں ہم دونوں ساتھی اس کیلئے اقرار الحسن بن جاتے ہیں تم کون ہو ہمارے ٹکس کے پیسے سے پل کر ہمارے نوکر ہم سے ایسا سوال کرتے اس کو تحس سے نحس کرتے ائیرپورٹ پر طوفان کھڑا کرتے اپنے آپ کو مشہور کرتے پبلک کیلئے تماشہ بنتے تو وہ آفیسر سوچتا کس ملک کا ملازم ہوں میرا اس ملازمت کا حکومت وقت کو کیا فائدہ میں کسی سے کچھ پوچھ بھی نہیں سکتا میں نے اس آفسیر کو شاباش دیا کہ آپ اپنی ڈیوٹی پورا کرتے ہو وہ خوش ہوا بارحال اس کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے سارے خراب نہیں ہوتے وہ بھی ہمارے ہی بھائ ہے ایک ات بدتمیز ہوتے میری ساری زندگی میں ایک پولیس والا مدرسے میں کسی کام سے آیا تھا ایک سپاہی اور ساتھ لیکر اس نے اخلاقیات سے ہٹ کر ایک جملہ مزاق میں کہا وہ مزاق میں لیکن مجھ برا لگا میں نے اس کو پیار محبت میں کہا کہ آپ کو یونیفارم میں یہ جملہ نہیں کہنا چاہیے تھا نہ یہ جملہ ہمارے ساتھ شوٹ کرتا نہ آپ کے ساتھ اس پر وہ سمجھ گیا اور معذرت کے ساتھ ہمارے تعریف کرنے لگ گیا اللّٰہ اس بے قرار ہو عقل دے اور قرار دیں اس آفسیر کے شرافت بتا رہا ہے کسی اچھے ماں اور بات کا بیٹا ہے ایسے صبر والے کم ہوتے ہیں مجھ انتہائی افسوس ہوا اس بے قرار کی حرکت اور چیخنے پر

16/04/2026

اسلام آباد سے گلگت داریل روانگی اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے سفر بخیر کریں

16/04/2026

میں اس شخص کو نہیں جانتا جو اس کانفرنس میں انکے ہمنوا بنا ہے اس شخص کو اپنے پیچھے لکھا ہوا قرآن مجید کی تحریف شدہ آیت نظر نہیں آتی کہ وہ انکی عقیدت میں اندھا ہوا ہے اس پر آواز بلند کرو اور پوسٹ کو شیئر کرو پہلے تو یہ قرآن کو نہیں مانتے تھے ابھی تحریف بھی کرنا شروع کئے ہیں اصل آیت یوں ہے﴿وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا﴾

11/04/2026

آج سکیورٹی اداروں پر بھونکنے والوں کیلئے یہ بات اظہر من الشمس ہوئ ہوگی کہ پاکستانی سکیورٹی مسلمان ہے غیرت مند ہے جرآت مند ہے وہ کفر کو دبانا بھی جانتے ہیں سمجھنا بھی جانتے ہیں سپر طاقت کے ساتھ آنے والے اسرائیلی صحافیوں کو بھگانا بھی جانتے اور اپنے ملک میں ناپاک پاؤں داخل ہونے سے روکنا بھی جانتے ہیں انھوں نے پاکستانی غیرت مند ماؤں کا دودھ پیا ہے پاکستان زندہ باد پاکستانی سکیورٹی افواج زندہ باد دعا ہے اللہ تعالیٰ پاکستان کو عالمی دنیا میں سرخ رو فرمائے آمین یارب العالمین عطاء اللہ یرداد

29/03/2026

تہجد کے وقت کی پیکچر ہیں امام الانبیاء فخر الرسل رحمت للعالمین محبوب دو جہاں ساقی کوثر شافی محشر آمنہ کی لال جس پر میرے والدین اولاد جان تن من سب فدا ہو اس حسین وجمیل امت کی آنکھوں کے ٹھنڈک دلوں کے سکون محبوب عرب وعجم کا مزار پورا اپنا جلووں کے ساتھ جلو افروز ہیں زیارت کیجیے پوری عقیدت کی آنکھ سے دیکھنا غفلت کے نظروں سے نہ دیکھنا فقد والسلام آپ کا بھائ عطاء اللہ یارداد حال مدینہ منورہ

25/03/2026

دنیا کی سب سے بڑی شاہی محل بارعب جہاں بادشاہوں کے بھی طوطے اڑ جاتے ہر ایک بن دیکھے ایک عشق ومحبت کی مستی میں اشک بہا رہا مرنے مٹنے کیلئے تیار ہے اگر موقع دیا جائے تو سارے زندگی حضور کے قدموں بلا کھائے پئیے پڑا رہے اور وہی دم نکل جائے اطراف دنیا سے محمد کے دیوانے پروانے محبت کی آگ میں کودنے کیلئے دیوانہ وار روضہ انور کی جالیوں پر نظریں مرکوز کیے ہوئے اتے اھل دل جب جب اس حسین وجمیل تجلیات و رحمتوں کے مرکز کے قریب ہوتے ہیں آنسوں کی برسات شروع ہوتی دل سوز محمد علیہ السلام کی محبت میں جل رہے ہوتے دل ودماغ حضور انور اور اس کے ساتھیوں پر گزرے ہوئے لمحات کی طرف جاتا ہے جسم کے بال بال پر امت کے اس وقت کے حالات دیکھ کر طوفان برپا ہوتا ہے کل عصر کو مسجد نبوی پر حاضر ہوئے عشاء کے بعد تک ہمت نہیں تھی کہ فخر الرسل امام الانبیاء کے ہاں پیش ہوں کیونکہ حضور کی معطر ذات کے سامنے چہرہ انور کے سامنے وہ مطھر اور مقدس دل کے سامنے وہ جس کے خوشبوں سے سارا عرب اور عجم مہکا اپنے آپ کو گٹرکا ایک کیڑا محسوس کررہا تھا انکی اور انکی ساتھوں کی محنت وہ غم امت کیلئے اور امت کجا جو اپنا نماز سبق بھی بھول کر دنیا کے غلام بنا بیٹھا ہے شکلوں تک بدلے لباس تک بدلے دین تک بدلے جب کہ مسلمان کے لیے تو علامہ کا وہ شعر تھا کیا محمد سے وفا تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں تیری ہے یہ جہاں چیز کیا لوح وقلم تیرے ہیں رحمت للعالمین سرکار دو عالم پر لاکھوں درود سلام ہو خیر عصر کے بعد بے شمار درود پڑھ پڑھ کر استغفار کی کثرت سے اپنے آپ کو دھو کراور ستار العیوب غفار الذنوب کی فریادی بن کرآخر شاہی محل میں حاضری کیلئے آگے بڑھا الحمدللہ وہ موقع ملا کے دل باغ بہار ہواجو سلام پیش کیا وہ پیش خدمت ہے السلام علیک یارسول اللہ اسلام علیک یا رحمت للعالمین اسلام علیک یا کافہ للناس اسلام علیک یا امام الانبیاء اسلام علیک یا فخر الرسل اسلام علیک ایھا النبی ورحمت اللہ وبرکاتہ یہ سلام وہ تھی جو عین چہرہ انور کے پاس جالی کے دو فٹ کے فاصلے پر اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اس کے بعد درود ابراھیم پڑھتے ہوئے نکلا آپ کا بھائی خاکسار عطاء اللہ یارداد مدینہ منورہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے

21/03/2026

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محلہ اور گھر کی زیارت کریں جہاں رسول اللہ نے اپنی زندگی کے 53 سال گزارے

21/03/2026

تمام بہن بھائیوں کو حرمین شریفین سے عید الفطر مبارک ہو، تقبل اللہ منا ومنکم صالح اعمال

09/03/2026

ارض حرم میں شخصیت محترم سے ملاقات بقلم عطاء اللہ یارداد کچھ خواب حقیقت میں بدل جاتے ہیں عشاء کے بعد حرم سے ہوٹل میں آکر فیس بک کھولا تو کسی نے پوسٹ کیا تھا کہ قاضی صاحب مکہ میں ہیں دل پر باربار خیال گزر رہا تھا انکے نمبر کیسے حاصل کیا جائے کبھی خیال آتا کہ اپنے پیچ پر ہوسٹ چلاادوں تو کبھی کچھ اور خیال ساتھ یہ بھی سوچتا تھا انہ علیم بذات الصدور جس کے مہمان ہیں وہ کبھی کبھی دعا تو دعا دل پر گزرنے والے خیالات کو بھی حقیقت میں بدل دیتا ہے اور حرم جب بھی آئے ایسا کئی بار ہوا اس لئے خصوصا حجاج اور معتمرین عموماً سارے مسلمان اپنی بڑی سے بڑی حاجت اور چھوٹی سے چھوٹی حاجت فعال لما یرید ان اللّٰہ علی کل شیء قدیر صاحب کن فیکوں وقال ربکم ادعونی استجب لکم کے سامنے رکھ کر اس کے قبول ہونے کا پورا یقین رکھے اس کیلئے کوئ حاجت پورا کرنا مشکل نہیں باقی سب کیلئے اس نے چلینچ کیا بیسواں پارہ کے شروع میں امن یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوء ویجعلکم خلفاء الارض حرم سے ہوٹل آتے دیکھا تو مجھ سےکافی آگے قاضی صاحب جارہے ہیں باوجود پہلے ملاقات نہ ہونے کے دور سے پہچان لیا خیر قاضی صاحب کے صاحب یہ میرا پہلا ملاقات تھی اس ملاقات کا نام دینا ہوں ارض حرم میں شخیصت محترم سے ملاقات قاضی صاحب پر قاتلانہ حملہ کے بعد ملاقات کی اشتیاق بڑھ گیا تھا مصروفیات نے ساتھ نہیں چھوڑا ایک زمانے سے یہ والی عادتیں بھی ساتھ ہوئ جس کو شاعر یوں بیان کرتا ہے یہ کس نے کردیا سب دوستوں سے مجھ کو بیگانہ مجھ آپ دوستی بھی دشمنی معلوم ہوتی میں رونا اکیلا روتا ہوں وہ ہنس ہنس کہ سنتے ہیں مجھ یہ دل لگی بس دل ❤️ لگی معلوم ہوتی ہے بس شاہیں کو اکیلا اڑنے کا شوق ہوتا ہے بارحال قاضی صاحب کے ساتھ ملاقات پرمسرت تھی خوشی کے لمحات تھےپہلی ملاقات تھی لیکن کوئ اجنبیت محسوس نہیں تھی ایسا لگتا تھا جیسے برسوں کی رفاقت ہے دل سے دل کا رابط اپنی جگہ تھا محبت بھری نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا جارہا تھا بہت ہی زیادہ انس ومحبت تھی قاضی صاحب کا چہرہ بہت ساری صفات کا سکرین بنا ہوا تھا تقوی علم حلم تواضع عاجزی انکساری برد باری معصومیت ٹپک رہی تھی ہرگز نہیں لگ رہا تھا کہ یہ کسی قوم وملت کا قائد ہے بہت سادہ بھولا بھالا تھا یہ ہمارے اکابرین کے نمایاں صفات ہیں جو کہ قاضی صاحب کے اندر نظر آرہی تھی باتیں ان سے کررہا تھا اور اندر اندر سے انکو پڑھتا بھی جارہا تھا اللّٰہ تعالیٰ اس بے ضرر مشفق برد بار نورانی چہرے کی ہر درندے سے ہر باؤلے سے ہر ظالم اور قاتل سے حفاظت فرمائے ایسا شخصیات بہت کم پیدا ہوتی والسلام آپ کا بھائی عطاء اللہ یارداد حال مکہ مکرمہ

08/03/2026

ابھی ٹھوڑی دیر میں حرم سے تراویح لائیو ہوگا ان شاءاللہ لنک yardadkhan15

03/03/2026

تجلیات کے مرکز کا زیارتِ کیجئے

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Village Talhar P/O Gokina District Islamabad
Islamabad
1542