21/07/2017
kalam mian sahib Policewala Selected poetry from Hazrat Mian Muhammad Baksh Saheb’s “Saif-ul-Malook”.
Welcome to,Alhudaquranacademy the Quran teaching & learning Academy,a service dedicated to promote t
21/07/2017
kalam mian sahib Policewala Selected poetry from Hazrat Mian Muhammad Baksh Saheb’s “Saif-ul-Malook”.
ALHUDA QURAN ACADEMY
( Online Quran classes in urdu language)
Only for Pakistani & Indians students
Assalam-o-Alaikum!
We are providing online Quran and Islamic studies classes of Nazra, Hifz, Translation, Tafseer, Hadith, Tajweed and Arabic Grammar.
Our mission is to literate the world with the knowledge of Quran, by providing the live QURANIC classes for those Muslims who are away from home lands and Islamic centers .without considering whether there are young or Old.
Online Quran teaching & learning was essentially started for those Muslims who do not find Quran tutors close to their homes. Such a situation is quite prevalent in western countries where Muslim population is increasing day by day and where finding a good Quran tutor or teacher has become a tough task
It is a great opportunity for every muslim to learn and be skilled in any of the field of Islamic education that we are offering. All you need is a computer with head phone and internet connection. If anyone wants to benefit from our services. Please Contact us.
New classes will start from 1 march 2014 and will be taken 3 days in a week
Register now and get special discount
FREE TRIAL CLASSES for 5 days
Skype ID: alhuda.quranacademy
Website: www.alhudaquranacademy .com .pk
Phone no. 0512102001
Mobile. 03009876233
ALHUDA QURAN ACADEMY
( Online Quran classes in urdu language)
Only for Pakistani & Indians students
Assalam-o-Alaikum!
We are providing online Quran and Islamic studies classes of Nazra, Hifz, Translation, Tafseer, Hadith, Tajweed and Arabic Grammar.
Our mission is to literate the world with the knowledge of Quran, by providing the live QURANIC classes for those Muslims who are away from home lands and Islamic centers .without considering whether there are young or Old.
Online Quran teaching & learning was essentially started for those Muslims who do not find Quran tutors close to their homes. Such a situation is quite prevalent in western countries where Muslim population is increasing day by day and where finding a good Quran tutor or teacher has become a tough task
It is a great opportunity for every muslim to learn and be skilled in any of the field of Islamic education that we are offering. All you need is a computer with head phone and internet connection. If anyone wants to benefit from our services. Please Contact us.
New classes will start from 1 march 2014 and will be taken 3 days in a week
Register now and get special discount
FREE TRIAL CLASSES for 5 days
Mobile : 03009876233
Skype ID: alhuda.quranacademy
Website: www.alhudaquranacademy .com .pk
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔
اللہ پاک سورۃ النازعات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کر کے فرماتا ہے ۔
اِذْہَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی ﴿۫۱۷﴾ فَقُلْ ہَلۡ لَّکَ اِلٰۤی اَنۡ تَزَکّٰی ۙ﴿۱۸﴾ کہ جاؤ فرعون کہ پاس کہ وہ سرکش ہو گیا ہے۔پس اس سے کہو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ تزکیہ حاصل کرے( پاکیزگی اختیار کرے)۔
نصِ قرآنی سے یہ بات بلکل واضح ہے کہ اللہ نے کلیم اللہ جنابِ موسیٰ علیہ السلام کو جس امر کا حکم فرمایا وہ تزکیہ نفس ہی ہے۔حتیٰ کہ فرعون جیسے مشرکِ اعظم کو بھی موسیٰ علیہ السلام تزکیہ و طہارت ہی کی دعوت دے رہے ہیں۔
اپنی گزشیہ تحریر اور درج بالا قرآنی آیات کی روشنی میں احقر یہ بات بلکل واضح کر چکا ہے کہ انبیاء علیہ اسلام کی بعثت اور الہامی کتب اور مصاحف کی اصل غرض و غایت نفس انسانی کا تزکیہ کرنا ہے۔لہٰذا اب ہر ذی شعور اور صاحب عقل کہ ذہن میں یہی سوال وارد ہو گا کہ اس کا حصول کیونکر ممکن ہے۔
اس ضمن میں اللہ کا کلام ہماری رہنمائی کچھ یوں کرتا ہے کہ کَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیۡکُمْ رَسُوۡلًا مِّنۡکُمْ یَتْلُوۡا عَلَیۡکُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیۡکُمْ یعنی جس طرح ہم نے تمھارے درمیان تم ہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا ہے۔جو تمھیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمھارا (بد عقیدگی،بد اخلاقی اور بدعملی کی نجاست و کثافت) سے تزکیہ کرتا ہے۔
کلام پاک قرآنِ مجید فرقانِ حمید کی درج بالا آیت سے جو مطالب واضح طور پہ منطر عام پہ آتے ہیں ان میں سرِفہرست یہی معنیٰ حاصل ہوتا ہے کہ تزکیہ نفس کا حصول تلاوتِ قرآن پاک کے ذریعہ ممکن ہے۔اور اس ہی کہ بدولت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی آدم کا تزکیہ و پاکیزگیِ نفس فرمایا کرتے تھے۔
یہاں ایک اہم پہلو بھی غور طلب رہے کہ اس تلاوت سے ہر گز ظاہری تلاوت ہی مراد نہیں بلکہ اس سے اصل مقصود کلامِ پاک کہ معنیٰ و مطالب پر غور و فکر کرنا اور ان پر عمل کرنا ہے ۔جیسا کہ آیت الٰہی میں ارشاد ہوتا ہے اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوۡبٍ اَقْفَالُہَا یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر(تدبر) نہیں کرتے۔یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔
چنانچہ کلامِ الٰہیہ میں موجود تمام احکام در اصل تزکیہ نفس کا بہترین و کامل ذریعہ ہے۔یعنی وہ تمام تر امور جن کو بجا لانے مثلاً صلٰوۃ،صوم،حج وغیرہ نیز وہ تمام عمل جن سے مانع رہنے کا حکم دیا گیا ہے مثلاً جھوٹ،غیبت وغیرہا فی الحقیقت تزکیہِ نفس ہی کے حصول کے لئے ہے۔اختصار مانع ہونے کے باعث ہر موضوع پر فل وفت کلام ممکن نہیں۔توفیق الٰہی اور رضامندی شامل حال رہی تو آئندہ ہر موضوع پہ مختصر کلام کروں گا۔
بس اپنے کلام کہ آخر میں اتنا ہی عرض کروں گا کہ کلام پاک قرآن المجید فرقان حمید بلاشک و شبہ رشد و ہدایت, علم و حکمت کا عظیم ذخیرہ ہے۔لیکن اس کی تجلیاتِ نور سے ہر شخص مستفیدِ ہدایت نہیں ہو سکتا۔یہ کتاب الٰہی محض ان لوگوں کے لئے ہی ہدایت و نصیحت کا ذریعہ ہے جو متقی ہیں۔ارشاد باری تعالٰی ہے۔
وَ اِنَّہٗ لَتَذْکِرَۃٌ لِّلْمُتَّقِیۡنَ ﴿۴۸﴾
اور بے شک یہ(قرآن) پرہیزگاروں کے لئے ایک نصیحت ہے
اللہ بحق محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم سب کو اپنے کلام کی تلاوت کرنے کی اس پاک کلام میں تدبر کرنے کی اور اس کے حقیقی معنوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
قارئین سے گزارش ہے کہ تمام بیماروں کی بلخصوص بندہ احقر کے قریبی دوست احمد کی صحت یابی کے لئے درود و سلام کے ساتھ بارگاہ الٰہی میں دعا کریں۔
التماس دعا
شوہر سے محبت :
سیانوں کا کہنا ہے کہ بیوی بننا کوئی آسان کام نہیں کہ جسے ہر کوئی نادان اور نااہل لڑکی آسانی سے نبھا سکے۔ بیوی بننے کے لیے بہت ہی سمجھدارای ، سلیقہ مندی اور ایک خاص قسم کی دانشمندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو لڑکی اپنے شوہر کے دل پر حکومت کرنا چاہتی ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کو خوشی اور مرضی کے مواقع فراہم کرنے کے علاوہ اس کی صحت وسلامتی اور اس کے کھانے پینے کا خیال رکھے اور اسے ہمیشہ ایک باعزت ، محبوب اور مہربان شوہر سمجھے۔
اسی لیے کہتے ہیں کہ ایک عورت کے ہی ہاتھ میں ہوتا ہے کہ وہ ایک اچھے خوشحال گھرانے کی مالکہ بنے یا ایک گھر کو برباد کر دے ۔ اللہ تعالی نے عورت کو ایک غیر معمولی قدر و صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ وہ اس سے کام لے کر یا تو دوسروں کے لیے بھی خوشیاں فراہم کرے یا پھر اپنے لیے پریشانی و پچھتاوے کا سامان پیدا کرے۔ یعنی عورت چاہے تو اپنے گھر کو جنت کا نمونہ بنا سکتی ہے اور چاہے تو اسے جہنم میں بھی بدل سکتی ہے۔ اپنے شوہر کو ترقی کی بلندیوں پر بھی پہنچا سکتی ہے اور تنزلی کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔ عورت اگر شوہر داری کے فن سے آگاہ ہے تو ایک عام مرد کو بلکہ ایک نہایت معمولی اور نااہل مرد کو ایک لائق اور با صلاحیت شوہر میں تبدیل کر سکتی ہے۔
ایک دانشور کا کہنا ہے کہ عورت ایک عجیب و غریب طاقت کی مالک ہوتی ہے وہ قضا و قدر کی مانند ہے ۔ وہ جو چاہے وہی بن سکتی ہے۔ معروف مفکر اسمایلز کا کہنا ہے کہ اگر کسی فقیر اور بے مایہ شخص کے گھر خوش اخلاق اور متقی و نیک عورت آ جائے تو وہ اس گھر کو آسائش و فضیلت اور خوش نصیبی کی جگہ بنا دیتی ہے۔
اسلام میں بیوی کے فرائض کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ اس کو خدا کی راہ میں جہاد سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے “عورت کا جہاد یہی ہے کہ وہ بحیثیت بیوی کے اپنے فرائض کو بخوبی انجام دے”۔
ایک بیوی کو چاہے کہ وہ اپنے شوہر سے اکثر و بیشتر پیار و محبت کی باتیں کرتی رہے کہ جس سے شوہر کو اندازہ ہو کہ اس کی بیوی اس سے بہت محبت کرتی ہے۔ جب آپکا شوہر کام کے سلسلے میں دفتر گیا ہو تو اس کے فون پر پیار بھرے میسج بھیجو تا کہ اسے دفتری بوریت سے چھٹکارا مل سکے۔ شوہر کی دفتری چھٹیوں کے دوران اسے ایسے ڈیل کرے جیسے ایک نوبیاہتا جوڑا زندگی کی شروعات کرتا ہے۔ لباس ہمیشہ وہی زیب تن کرےں جو اس کی پسند ہو۔ صرف ان لوگوں سے ملیں چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جنہیں آپ کا شوہر پسند کرے۔ ویسی ہی گفتگو کرو جو آپ کے شوہر کو زیادہ پسند ہو، اپنی بھی اسے بات سنائیں اگر وہ اس میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو جاری رکھیں اور اگر آپ کو محسوس ہو کہ آپ کے شوہر کو اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں تو بات کا موضوع بدل دیں۔
اگر آپ چاہتی کہ آپ کی ازداوجی زندگی اچھی گزرے تو شادی کے بعد صرف اور صرف شوہر کو ہی آپ کی محبت کا محور و مرکز ہونا چاہیے اور کسی دوسرے کا دل میں خیال تک نہ لائیں۔ اپنی گفتگو میں مٹھاس گھول دو، شوہرکو یا شوہر کے سامنے جلی کٹی نہ سنائیں۔ اپنے شوہر کی دفادار رہیں۔
اگر بیوی کا شمار ایسی خواتین میں ہوتا ہو کہ جو دوسروں کی خامیوں پر نظر رکھتی ہیں۔ تو پھر آپ اپنے بارے میں یہ خوش فہمی دل سے نکال دیں کہ آپ کا شوہر آپ کو پسند کرتا ہے۔اگر آپ کا رویہ ہر وقت ناقدانہ رہتا ہے تو آپ اپنے شوہر سے یہ توقع رکھنی چھوڑ دیں کہ وہ آپ کے اچھے کاموں کو سراہتے ہوں اور آپ کا وہ دل سے احترام کرتے ہوں ۔ اسی طرح اگر آپ یہ سوچتی ہیں کہ آپ اپنے شوہر کو ان کی خامیاں بتائیں گی تو وہ اپنی اصلاح کرلیں گے تو شاید آپ غلطی پر ہیں۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے شوہر کے روشن پہلو‘ ان کی ذاتی خوبیوں اور اچھائیوں کو تلاش کرنے کی عادت ڈالیں۔ پھر آپ دیکھیں کہ آپ کا شوہر خودبخود اپنی کمزوریوں اور عیوب کوترک کر دیں گے ۔
اگر آپ اپنے شوہر کے کسی عمل کو پسند کرتی ہیں تو ان سے کہیں کہ آپ کا یہ کام مجھے بہت پسند ہے اور آپ اس کی قدر کرتی ہیں۔ اس کا اظہار بار بار کرے۔ یہ ایک طرح کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو اچھائیوں پر نہ صرف دوسروں کو قائم رہنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے بلکہ انہیں مزید اچھے رویوں اور اچھی عادات اختیار کرنے کی تحریک دیتی ہے۔
اکثر میاں بیوی اسی غلطی کا شکار نظر آتے ہیں جس میں دونوں ایک دوسرے کو غیرضروری طور پر نیچا دکھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور ایک دوسرے پر تنقید کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور صرف ایک دوسرے کی خامیوں اور کمزوریوں پر نظر رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے پر تنقید کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتے۔ حالانکہ ہر انسان میں جہاں خامیاں ہوتی ہیں وہاں خوبیاں بھی ہوتی ہیں۔ لیکن اکثر جوڑے تنقیدی مزاج رکھنے کی وجہ سے ان خوبیوں پر نظر ہی نہیں ڈالتے یا پھر ان خوبیوں کو دل میں تو تسلیم کرتے ہیں لیکن زبان پر نہیں لانا چاہتے۔ شاید اس سے ان کی انا کو تسکین ملتی ہے۔ کالرا کا کہنا ہے کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے ایک دوسرے کو بلند کرو اور اسے سمجھاﺅ کہ وہ بھی یہی رویہ اختیار کرے۔ صرف چند ہفتے اس پر عمل کرکے دیکھیں کیسے ازدواجی زندگی میں بہار آتی ہے۔
ازدواجی زندگی کی خو شحا لی اور شیر ینی، میا ں بیو ی کی با ہمی شر اکت و تعا و ن ، عقلمند ی اور ایک دوسر ے کے حقوق با احسن ادا کر نے کی مرہونِ منت ہے۔ مشتر ک از دواجی زند گی جو ایک مقد س عہد و پیما ن سے شر و ع ہو تی ہے ہم انسانوں کے لیے خد ا و ند عا لم کی عظیم الشان نعمتو ں میں سے ایک نعمت ہے لیکن سا تھ ہی یہ بہت سی آفتوں میں بھی گھری ہوئی ہے۔ میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ دونوں ایک دو سر ے کے حسد او ر ناموس کے جذبے کو نہ جگا ئیں۔ خصوصاً بیویوں کو چاہیے کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کرےں کہ جس سے ان کے شوہر کے دل میں حسد یا نفرت کا جذبہ پیدا ہو۔ کیونکہ یہ حسد انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا اور محبت کی بنیادو ں کو کمزور کرتے کرتے اسے جڑ سے ختم کردیتا ہے۔
بیوی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے شوہر کی تحقیر کرے۔ اس کا شوہر کیسا بھی ہو بہرحال اپنی بیوی کی تکیہ گاہ ہے۔ بیوی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شوہر کی ایسی حفاظت کرے کہ اس پر تکیہ کرسکے۔ اگر آپ نے اس طرح اپنے گھر کو بسایا تو جان لیں کہ آپ نے اپنی خوش بختی کے ایک بنیادی رکن کی حفاظت کرلی ہے۔
شوہر کو خوش رکھنے کے کئی طریقے ہیں اگر کوئی بیوی چاہتی ہے کہ اس کی ازدواجی زندگی خوشگوار گزرے اور وہ ان طریقوں پرعمل کر لے تو یقینا اس کی زندگی بہتر گزرے گی۔ ان طریقوں میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
اپنے شوہر کے مشاغل میں شمولیت کرنا، اکٹھے کھیلنا، شوہر کے کام کی تعریف کرنا، گھر ایسا بناﺅ کہ جہاں کام سے تھکا ہوا شوہر آکر سکون محسوس کرے،شوہر کی مسکراہٹ کا مسکراہٹ سے جواب دینا، شوہر کی سلامتی کی فکر کرنا اور دعا کی صورت میں اظہار کرنا، گھر کی صفائی کے دوران شوہر کی رکھی ہوئی چیزوں کی حفاظت کرنا اور انھیں سلیقے سے رکھنا، شوہر کے ساتھ اکٹھے سفر کرنا، گھر پر شوہر کو تنہا نہ چھوڑنا، شوہر سے اپنی دلی بات کا اظہار کرنا، یہ انتظار نہیں کرتے رہنا کہ شوہر خود آپ کے دل کی بات کو سمجھے بلکہ خود اظہار کرنا، شوہر کی پسند کی اشیاءکی خریداری کرنا، شوہر کی پسند کی خوراک تیار کرنا، شوہر کو خود سے اپنی جانب راغب کرنا، شوہر سے مل کر مستقبل کے پلان تیار کرنا، کسی شک و شبہ کی صورت میں شک کا فائدہ شوہر کو دینا، شوہر کو گھر کا سربراہ سمجھنا، اپنی کی گئی کوتاہی پر شوہر سے معذرت کرنا، شوہر سے کیے گئے وعدے کو پورا کرنا، تھکاوٹ کی صورت میں شوہر کے پاﺅں دھونا، بیڈ روم کو شوہر کی پسند کے مطابق ترتیب دینا، دفتر جانے سے پہلے محبت کا اظہار کرنا،گھر میں موجودگی کی صورت میں شوہر کی پسند کے ریڈیو یا ٹی وی پروگرام چلانا، اگر شوہر سے کوئی کوتاہی یا زیادتی ہو جائے تو فراغ دلی سے اسے درگزر کرنا، شوہر سے کوئی بات پوشیدہ نہ رکھنا، گھر پر آئے عزیزوں اور رشتہ داروں کی موجودگی میں پہلے سے زیادہ شوہر پر توجہ دینا، شوہر کی چیزوں کی خود سے حفاظت کرنا، بیڈ روم میں شوہر کی تصویر نصب کرنا، اکٹھے عبادت کرنا، فارغ اوقات میں شوہر کے بالوں میں انگلیاں پھیرنا، خود کو شوہر سے منسوب کرنا، دوسروں کی موجودگی میں شوہر کی کسی بات کی مخالفت نہ کرنا، شوہر کی غیر موجودگی میں اس کی کسی بات کا دفاع کرنا، شوہر کی بیماری کی صورت میں ان کا خاص خیال رکھنا، شوہر سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں جھانکنا،شادی کی تصویر بیڈ روم میں لگانا، شوہر کی ہر بات پر اعتماد کرنا، اکثر وبیشتر اکٹھے تصاویر بنوانا، شوہر کا کسی اور سے موازنہ نہ کرنا، دفتر جاتے ہوئے دروازے پر شوہر کو رخصت کرنا اور دروازے پر مسکراہٹ سے استقبال کرنا، شوہر کے کپڑوں کا خیال رکھنا، کچھ باتوں کے لیے شوہر کے ساتھ” کوڈ ورڈز” بولنا، شیو کے دوران شوہر کی مدد کرنا، شوہر کی محبوب بننا نہ کہ اس کی ماں بننے کی کوشش کرنا، شوہر کا دوست بننا، شوہر کے لیے خود کو سنوارنا، ازدواجی امور میں شوہر کو مایوس نہ کرنا، شوہر کی نصیحت کو سننا اور عمل کرنا۔
ہو سکتا ہے کہ بعض قارئین یہ اعتراض کریں کہ آپ نے صرف بیوی کی ذمہ داریاں بیان کی ہیں ۔ کیا شوہر کا کوئی فرض نہیں تو اس کے جواب میں عرض ہے کہ اس مضمون میں ہم نے بیوی کے فرائض پر بات کی ہے اور یہی موضوعِ بحث ہے۔ آخر میں ایک بات کہنا بہت ضروری ہے کہ وہ بیویاں جو اپنے شوہروں کو “غلام “بنا کر رکھنا چاہتی ہیں وہ آخر کار “باندی” بن جاتی ہیں اور جو اپنے شوہر کو اپنا” بادشاہ” بناتی ہیں وہ” ملکہ “کے منصب پر فائز ہوتی ہیں۔
علم کی اہمیت
علم وہ عظیم دولت ہے کہ جس کوحاصل کرنے کے لیے حضرت موسی علی نبیّنا وعلیہ الصّلوة والسّلام جیسے عظیم پیغمبر بھی رخت ِ سفر باندھتے ہیں،علم وہ لازوال دولت ہے کہ جس کی بنیاد پر حضرت آدم علیہ السّلام کو مسجود ِملائکہ بنایا گیا،وہ علم ہی تھاکہ جس کی بنیاد پر حضرت یوسف علیہ السّلام کوکنویں سے نکال کر مصر کے تاج وتخت کا وارث بنادیا گیا،وہ علم کا ہی کمال تھا کہ حضرت سلیمان علیہ السّلام کو تخت پے بٹھا کے ہو ا،خلا ،فضا کی سیر کرا دی گئی،علم وہ سرمایہ ہے کہ جس کا حاصل کرنا فرض ہے:”طلب العلم فریضة علی کلّ مسلم “۔علم وہ باکمال دولت ہے کہ جس کی تحصیل کے لیے نکلنے والے کے قدم فرشتوں کے نورانی پروں پر ٹکتے ہیں:﴿مامن خارج خرج من بیتہ الّا وضعت لہ الملائکة أجنحتہا رضا بما یطلب﴾علم کی ہی بنیاد پر انسان نے چاند پرکمند ڈالی ہے،انسان نے تیز اور تند قسم کی ہواوٴں پر قبضہ جماکر اس پر جہازوں کو دوڑایا ہے ،تو اس کی بنیاد بھی علم ہے، علم کی بنیاد پر ہی انسان نے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندروں اور دریاوٴں کے سینے پر کشتیوں اور بحری جہازوں کو دوڑایا ہے۔
امام رازی اپنی شہرہ آفاق تفسیر" تفسیرِکبیر" میں فرماتے ہیں :کہ اللہ وحدہ لاشریک نے اپنی لاریب اور بے عیب کتاب میں سات چیزوں کا سات چیزوں سے تقابل کیاہے :
﴿ومایستوي الأعمی والبصیر﴾․ ﴿ولا الظّلمات ولا النّور ﴾․﴿ولا الظّلّ ولا الحرور﴾․﴿ومایستوي الأحیاء ولا الأموات﴾․ (سورةفاطر، آیت:19تا22)﴿قل لا یستوي الخبیث والطّیّب﴾․(سورة المائدة،آیت:100)﴿لا یستوي أصحاب النّار وأصحاب الجنّة ﴾․ (سورة الممتحنة،آیت:20) ﴿قل ھل یستوي الّذین یعلمون والّذین لایعلمون﴾․(سورة الزّمر،آیت:9)
ان سات مقامات میں ایک طرف علم مراد ہے اور دوسری طرف جہالت،چناں چہ علم بینائی ہے اور جہالت نابینگی،علم روشنی ہے اور جہالت تاریکی ،علم ایک سایہ ہے اور جہالت دھوپ،علم ایک حیاتِ جاوداں ہے اور جہالت موت:
علم پاکیزہ چیز ہے اور جہالت ناپاک،علم جنّت کی طرف رہنمائی کرتاہے ،لہذا اہل علم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے۔
قرآن ِپاک میں تدبّر کرنے سے ایک اور نکتہ بھی سمجھ میں آتاہے کہ اللہ بزرگ وبرتر نے چار طبقوں کا نام لے کر ان کے بلند مرتبہ ہونے کا ذکر فرمایاہے ،ایک طبقہ مجاہدین کاہے :﴿فضّل اللہ المجاہدین علی القاعدین أجرا عظیما درجات منہ ومغفرة ورحمة﴾․(سورة النّساء،آیت :95،96)
دوسرانیک لوگوں کا ہے: ﴿ومن یأتہ موٴمنا قد عمل الصّالحات فأولئک لہم الدّرجات العلی﴾․(سورة:طہ،آیت:75)
تیسرا اصحابِ بدر کا ہے:﴿انماالموٴمنون الّذین اذ اذکر اللہ وجلت قلوبہم… لہم درجات عند ربّہم ومغفرة ورزق کریم﴾․(أنفال ،آیت:4)
چوتھا طبقہ اہلِ علم کا ہے :﴿یرفع اللہ الّذین امنوامنکم والّذین أوتواالعلم درجات﴾(سورة المجادلة،آیت:11)
امام ِتفسیر فرماتے ہیں کہ مرتبہ تو ان چاروں طبقوں کابلند وبالاہے،لیکن قرآن کا انداز بتلاتا ہے کہ اہل علم کا مقام اور مرتبہ باقی طبقوں سے بھی بلند و بالاہے۔
جی ہاں! علم کا مقام حکومت اور سلطنت سے بھی بڑھ کر ہے ،حضرتِ طالوت کو جب بادشاہ بناکر بھیجا گیاتو برادری اور قوم کے لوگوں نے کہا کہ: ﴿ونحن أحقّ بالملک منہ ولم یوٴت سعة من المال﴾کہ بادشاہت کے حق دار تو ہم ہیں، اس لیے کہ مال دارتو ہم ہیں،بڑے گھرانوں والے تو ہم ہیں ،طالوت تو ایک غریب اور نادار آدمی ہے، پھر اس کو باد شاہت کیوں کر اور کیسے مل گئی ؟تو حضرت طالوت کا دفاع کرنے کے لیے اللہ ربّ العزّت نے ان کے علم کو پیش کیا اور فرمایا: ﴿ان اللہ اصطفٰہ علیکم وزادہ بسطة في العلم والجسم﴾․(سورة البقرة،آیت:247)
تو جب حضرت طالوت کو علم کی بنا پر باقی لوگوں پر فضیلت دی گئی تو اس سے پتہ چل گیا کہ علم کی ضرورت سلطنت چلانے کے لیے بھی پڑتی ہے ،نیز دنیا میں خلافت کے نظام کو قائم کرنے کے لیے بھی علم کی ضرورت ہے۔ادھر دیکھو آسمان میں ایک مکالمہ چل رہا ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا:﴿انّي جاعل في الأرض خلیفة﴾ کہ میں زمین میں اپنا ایک نائب و خلیفہ بناناچاہتاہوں ،تو اس پر فرشتوں نے کہا:﴿ أتجعل فیہا من یفسد فیہا ویسفک الدّماء﴾․
کہ یہ تو زمین میں جاکے قتل و غارت کا بازار گرم کرے گا ،اے رب! خلافت کے حق دار تو ہم ہیں ،اس لیے کہ ہمہ وقت آپ کی تسبیح و تہلیل میں تو ہم ہی لگے ہوئے ہیں :﴿ونحن نسبّح بحمدک ونقدّس لک﴾․(سورة البقرة،آیت :30)
ملت کے پاسبانو! غور کرو کہ خالق ِ کائنات نے اس مقام پر یہ نہیں فرمایا کہ یہ انسان دنیا میں جاکر خونریزی نہیں کرے گا ،نہ یہ فرمایا کہ انسان پر یہ اعتراض نہ کرو ،نہ یہ فرمایا کہ یہ زیادہ عبادت کرے گا ،بلکہ مالک الملک نے اس سوال کا جواب دینے کے لیے انسان کی علمی فضیلت کو پیش کیا ، جس کی تعبیر قرآن پاک نے یوں کی ہے :﴿وعلّم آدم الأسماء کلہا﴾ (سورة البقرة،آیت :31)
جو شعبہ علم سے جتنا منسلک ہوگاوہ اتناہی اعلی ہوگااور جو شعبہ علم سے جتنا دور ہوگا وہ اتنا ہی پستی کا شکار ہوگا ،اگر تصوّف سے علم کو نکال دیا جائے ،تو وہ محض کھانے پینے کا نام بن کر کے رہ جائے ،اگر تبلیغ سے علم نکل جائے ،تو وہ سیر سپاٹے کا نام بن کر رہ جائے،اگر جہاد سے علم کو نکال دیا جائے ،تووہ دہشت گردی ،غارت گری اور بربریّت کا نام بن کر رہ جائے،کوئی شریعت کا عمل ایسا نہیں کہ جس میں علم کی ضرورت نہ ہو۔
علم کی اہمیّت کا اندازہ ہم پہلی نازل ہونے والی وحی سے بھی لگاسکتے ہیں کہ اس وحی میں کل پانچ آیات ہیں، جن میں ایک طرف انسان کی پیدائش کے مادے کاذکر ہے تودوسری طرف انسان کے علم کا ذکر کرکے اشارہ کردیاگیاکہ انسان کامبدء خلق تو جماہوا خون ہے ،لیکن انسان کی انتہا علم ہے، اس کا کمال علم ہے ،اس کی ترقی علم ہے اور علم ہی وہ دولت ہے جو قابلِ فخر ہے۔
جب علم کی اہمیّت اس کامقام اور مرتبہ ہمارے سامنے واضح ہو گیا ،تو ہمیں چاہیے کہ اس مقدّس اور نورانی علم کو حاصل کرنے میں کو ئی کوتاہی غفلت نہ کریں،نیز ہر ایسی چیز کو خاطرمیں نہ لائیں جو اس راہ میں رکاوٹ بنے اور ہماری زبان پر جاری ہو
موت کی تیاری
موت دیگر مخلوقات کی طرح خالق کائنات کے حکم کن سے وجود میں آئی ہے اور ہمیشہ انسانی نظروں سے اوجھل رہتی ہے‘ انسان اسے ڈھونڈتے ہوئے بھی نہیں پاسکتا‘ بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بجا ہوگا کہ انسانی آنکھ اسے زندگی میں دیکھنے سے قاصر ہے‘ کوئی دیکھے بھی تو کیسے دیکھے‘ نہ ہی اس کا کوئی مکان ہے اور نہ ہی یہ مکین ہے اور نہ اس کا کوئی مخصوص راستہ ہے کہ انسان گھات لگاکر اسے پکڑلے‘ یہ جس گھر کا رخ کرتی ہے کہرام مچادیتی ہے‘ وہاں کے مکینوں کو رنج والم کی چادر اوڑھا دیتی ہے حتی کہ عرصہ دراز تک وہاں کی فضا سوگوار ہوجاتی ہے۔
موت حکم الٰہی کی ہمیشہ منتظر رہتی ہے ،حکم ملنے پر پلک جھپکنے کی سی دیر نہیں کرتی اور حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے ہدف کی تلاش میں نکل پڑتی ہے‘ چاہے وہ آنکھوں کو چندھیا دینے والی سورج کی شعاعوں میں (یعنی دن میں) ہو یا ظلمت شب کی تاریک راہوں میں ہو‘ شہر میں ہو یا بستی میں‘ بازاروں میں ہو یا ویرانوں میں۔ غرض یہ کہ جہاں بھی ،جس حالت میں اپنے ہدف کو پاتی ہے‘ لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوجاتی ہے۔
ذائقہ موت: اللہ تعالیٰ نے موت میں ذائقہ رکھا ہے، اب وہ کیسا ہے ،میٹھا یا کڑوا؟ اس کا دار ومدار انسانی اعمال پر منحصر ہے‘ البتہ ذائقہ چکھنے سے کوئی بھی کسی صورت میں بچ نہیں سکتا، جیساکہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :”ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے“
الدنیا کاس وکل الناس شاربہا
الموت جسر وکل الناس مارہا
ترجمہ:․․․”دنیا کی مثال ایک پیالے کی ہے اور تمام لوگ اسے پینے والے ہیں‘ موت ایک پل ہے اور تمام لوگ اس پر گزرنے والے ہیں“۔
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضور انے ایک مرتبہ موت کی سختی کا ذکر فرمایا اور یہ ارشاد فرمایا کہ: ”اتنی تکلیف ہوتی ہے جیسے کہ تین سو جگہ تلوار کے کاٹ سے ہوتی ہے“۔
کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جب وصال ہوا تو حق تعالیٰ شانہ نے دریافت کیا کہ موت کو کیسا پایا؟انہوں نے عرض کیا کہ: میں اپنی جان کو ایسا دیکھ رہا تھا جیسے زندہ چڑیا کو اس طرح آگ پر بھونا جارہا ہو کہ نہ اس کی جان نکلتی ہو، نہ اڑنے کی صورت ہو۔
اور ایک روایت میں ہے کہ ایسی حالت تھی جیساکہ زندہ بکری کی کھال اتاری جارہی ہو۔
حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں کہ:
” موت دنیا وآخرت کی سب تکلیفوں سے سخت ہے‘ وہ قینچیوں سے کتر دینے سے زیادہ سخت ہے‘ وہ دیگ میں پکانے سے زیادہ سخت ہے۔ اگر مردے قبر سے اٹھ کر مرنے کی تکلیف بتائیں تو کوئی شخص بھی دنیا میں لذت سے وقت نہیں گزار سکتا‘ میٹھی نیند اس کو نہیں آسکتی۔“ (موت کی یاد حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا)
امام مزنی کہتے ہیں جس دن حضرت امام شافعی نے انتقال کیا تو اس کی صبح کو میں عیادت کے لئے حاضر ہوا تھا:مزاج کیسا ہے؟ میں نے سوال کیا،انہوں نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا:
”دنیا سے جارہا ہوں‘ دوستوں سے جدا ہورہا ہوں‘ موت کا پیالہ منہ سے لگا ہے‘ نہیں معلوم میری روح جنت میں جائے گی اسے مبارکباد دوں یا دوزخ میں جائے گی اسے تعزیت پیش کروں‘ پھر یہ شعر پڑھے:
ولماقسیٰ قلبی وضاحت مذاہبی
جعلت الرجاء فی عفوک سلما
ترجمہ:․․․”اپنے دل کی سختی اور اپنی بے چارگی کے بعد میں نے تیری عفو پر اپنی امید کو سہارا بنالیا ہے“۔
تعظمی ذنبی فلما قرنتہ
بعفوک ربی کان عفوک اعظما
ترجمہ:․․․”میرا گناہ میری نظر میں بہت ہی بڑا ہے مگر جب تیری عفو کے مقابلے میں اسے رکھا تو اے رب! تیرا عفو زیادہ نکلا“۔ (انسانیت موت کے دروازے پر)
موت رحمت یا زحمت؟
اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کو زندگی بخشی ہے‘ اس زندگی کی ابتداء بھی ہے اور انتہاء بھی۔ دنیا میں اس زندگی کی انتہاء موت ہے‘ انسان پر موت طاری کرنے کا مقصد انسان کو جانچنا ہے کہ اس نے چند روزہ دنیاوی زندگانی میں اپنے اعمال واقوال کے ذریعے اپنے لئے جنت کو سنوارا ہے یا جہنم کی آگ کو بھڑکایا ہے تو اب پہلی صورت میں موت اس کے لئے رحمت ہے ‘جب کہ دوسری صورت میں اس پر موت کا آنا زحمت ہے۔
موت رحمت ہے ،اس طفلِ شیر خوار کے لئے کہ جس نے زمانہٴ طفولیت میں ہی زندگی کو الوداع کہہ کر موت کی آغوش میں چلا گیا اور اپنے والدین کے لئے امید شفاعت بن گیا۔
موت رحمت ہے ،اس نوجوان کے لئے جو داغ دار دنیا سے اپنا دامن بچاکر بے داغ جوانی لے کر جنت کی حوروں کا مہمان بن گیا ۔
موت رحمت ہے، اس بزرگ کے لئے جس کو دنیا کے حوادثات نے لاغر وکمزور کر کے اپنے ہاتھوں سے دبوچا اور خوب ستایا اور اب موت نے اپنی آغوش میں لے کر تمام تکالیف سے نجات بخش دی۔
انسان دنیا میں جتنی دیر تک رہے گا تو اس کی امیدوں اور تمناؤں کا پودا بڑھتا رہے گا‘پھر ان امیدوں کو پورا کرنے کے لئے اسے حلال و حرام کی کسوٹی کو پس پشت پھینکنا پڑے گا‘پھر گناہوں کا بار گراں بڑھتا رہے گا اور جس پر جتنا زیادہ بوجھ ہوگا وہ آخرت میں اتنا ہی پریشان ہوگا اور کم بوجھ والے کی پریشانی وملامت ذرا ہلکی ہوگی ،اس کی مثال کچھ اس طرح ہے کہ اگر کسی کا ایک روپیہ چوری ہوجائے اور دوسرے آدمی کے دس روپے چوری ہوجائیں تو اول کا حال بنسبت دوسرے کے ہلکا ہوگا۔
موت کو یاد رکھا جائے
حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ: ہم دس آدمی جن میں ایک میں بھی تھا‘ حضور ا کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ ایک انصاری نے حضور علیہ السلام سے عرض کیا کہ: سب سے زیادہ سمجھدار اور سب سے زیادہ محتاط آدمی کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
” جو لوگ موت کو سب سے زیادہ یاد کرنے والے ہوں اور موت کے لئے سب سے زیادہ تیاری کرنے والے ہوں‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا کی شرافت اور آخرت کا اعزاز لے اڑے“۔
حضرت ابوذر فرماتے ہیں کہ حضور ا نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ:
” قبرستان جایا کرو‘ اس سے تم کو آخرت یاد آئے گی اور مردوں کو غسل دیا کرو کہ یہ (نیکیوں سے)خالی بدن کا علاج ہے اور اس سے بڑی نعمت حاصل ہوتی ہے اور جنازہ کی نماز میں شرکت کیا کرو ،شاید اس سے کچھ رنج وغم تم میں پیدا ہوجائے کہ غمگین آدمی (جس کو آخرت کا غم ہو) اللہ کے سایہٴ میں رہتا ہے اور ہر خیر کا طالب رہتا ہے“۔
ایک حکیم کسی جنازے کے ساتھ جارہے تھے‘ راستہ میں لوگ اس میت پر افسوس اور رنج کررہے تھے وہ صاحب فرمانے لگے کہ: تم اپنے اوپر رنج اور افسوس کرو تو زیادہ مفید ہوگا‘ یہ تو چلا گیا اور تین آفتوں سے نجات پاگیا :
۱- آئندہ ملک الموت کو دیکھنے کا خوف اس کو نہیں رہا ۔
۲- موت کی سختی جھیلنے کی اب اس کو نوبت نہیں آئے گی۔
۳- برے خاتمہ کا خوف ختم ہوگیا۔ (اپنی فکر کرو کہ یہ تینوں مرحلے تمہارے لئے باقی ہیں)
موت کو کیسے یاد رکھا جائے؟
امام غزالی فرماتے ہیں کہ موت کا معاملہ زیادہ خطرناک ہے اور لوگ اس سے بہت غافل ہیں۔ اول تو اپنے مشاغل کی وجہ سے اس کا تذکرہ ہی نہیں کرتے اور اگر کرتے ہیں تب بھی چونکہ دل دوسری طرف مشغول ہوتا ہے اس لئے محض زبانی تذکرہ مفید نہیں‘ بلکہ ضرورت اس کی ہے کہ سب طرف سے بالکل فارغ ہوکر موت کو اس طرح سوچے کہ گویا وہ سامنے ہے جس کی صورت یہ ہے کہ: اپنے عزیز واقارب اور جانے والے احباب کا حال سوچے کہ کیونکر ان کو چار پائی پر لے جاکر مٹی کے نیچے دبا دیا ۔ان کی صورتوں کا‘ ان کے اعلیٰ منصبوں کا خیال کرے اور یہ غور کرے کہ اب مٹی نے کس طرح ان کی صورتوں کو پلٹ دیا ہوگا‘ ان کے بدن کے ٹکڑے الگ الگ ہوگئے ہوں گے‘ کس طرح بچوں کو یتیم‘ بیوی کو بیوہ اور عزیز واقارب کو روتا چھوڑ کر چل دئےا‘ ان کے سامان‘ ان کے کپڑے پڑے رہ گئے‘ یہی حشر ایک دن میرا بھی ہوگا۔ کس طرح وہ مجلسوں میں بیٹھ کر قہقہے لگاتے تھے آج خاموش پڑے ہیں‘ کس طرح دنیا کی لذتوں میں مشغول تھے آج مٹی میں ملے پڑے ہیں‘ کیسا موت کو بھلارکھا تھا آج اس کا شکار ہوگئے۔ کس طرح جوانی کے نشہ میں تھے آج کوئی پوچھنے والا نہیں‘ کیسے دنیا کے دھندوں میں ہر وقت مشغول رہتے تھے آج ہاتھ الگ پڑا ہے‘ پاؤں الگ ہے‘ زبان کو کیڑے چاٹ رہے ہیں‘ بدن میں کیڑے پڑ گئے ہوں گے۔ کیسا کھل کھلا کر ہنستے تھے آج دانت گرے پڑے ہوں گے۔ کیسی کیسی تدبیر یں سوچتے تھے برسوں کے انتظام سوچتے تھے حالانکہ موت سر پر تھی‘ مرنے کا دن قریب تھا‘ مگر انہیں معلوم نہیں تھا کہ آج رات کو میں نہیں رہوں گا اور آج یہی حال میرا ہے۔ آج میں اتنے انتظامات کررہا ہوں مگر کل کی خبر نہیں کہ کل کیا ہوگا۔
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں
’’اسلامی معاشرے میں مسجد کی اہمیت و مرکزیت‘‘
مسجد کا نام سَجَد سے نکلا ہے جس کے لفظی معنیٰ ہیں خشوع خضوع کے ساتھ سرجھکانا اصطلاح میں مسجد اس مقام کو کہتے ہیں جہاں مسلمان بغیر روک ٹوک کے اللہ کی عبادت کرسکیں۔
اسلام کے تصور عبادت میں مسجد کا بلاشبہ ایک اہم مقام حاصل ہے لیکن بالعموم تقابلی مطالعوں میں مسجد کو وہی مقام دے دیا جاتا ہے جو دیگر مذاہب کے مقام عبادات کو حاصل ہے چنانچہ مسجد‘ گرجا‘ کلیسااور مندر کی اصطلاحات ان مقدس مقامات کے لیے استعمال کی جاتی ہے ۔ جہاں داخل ہوتے وقت یہ تصور ذہن میں آتا ہے کہ وہاں کی زمین دیگر مقامات کے مقابلے مین زیادہ مقدس ہیں لیکن ا سلام نے اس فرق کو ختم کردیا جو دیگر مذاہب میں مقدس اور غیر مقدس زمین کے فرق کو دور کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور ربوبیت کو دنیا کے چپے چپے ہی نافذ و جاری کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اسلام کے مفہوم کو صحیح طور پر سمجھنے والے اصحاب رسولؐ اور ان کے بعد آنے والوں نے اسلام کو مسجد میں قید نہ ہونے دیا اور اپنے ہر عمل سے ثابت کیا کہ عبادت مسجد تک محدود اور مقید نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان کی صلوٰۃ اور اس کے مراسم عبودیت و قربانی اس کی حیات و ممات ہر ہر عمل عباردت ہی کی ایک شکل ہے وہ پور اکاپور ا اسلام میں داخل ہوکر ہی مسلمان بنتا ہے اس کی زندگی دین و دنیا کے خانوں میں بٹی ہوئی نہیں ہے۔
مسجد دین کی ہمہ گیریت او رجامعیت کو مستحکم کرنی والے ادارے کی حیثیت سے نہ صرف مدنی دور میں بلکہ مکی دو رمیں بھی اپنا کردار ادا کرتی رہی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے جہاں اسلام پہنچا وہاں مساجد بھی اپنے جامع تصور کے ساتھ وجود میں آتی چلی گئی۔
حیات طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آپ ؐ نے ایک لمحہ کے لیے بھی مسجد کو بدونہیں کیا اسے نہ تو اتوار کے اتوار سرگرم ہونے والا گرجا بننے دیا اور نہ محض یوم بست کو گریہ وزاری کرنے والا معبد بننے دیا بلکہ دن رات کے کسی بھی لمحہ میں نہ صرف فرض نمازوں‘ سنتوں‘ نوافل ‘ اعتکاف اور قیام و سجود کے لیے پسند فرمایا بلکہ مسجد ہی میں وہ تمام اہم امور باہمی مشورہ سے طے فرمائے جن کے لیے آج عظیم الشان پارلیمنٹ اور بلند ایوان ہائے قانون تعمیر کیے جاتے ہیں۔
مسجد دراصل مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا ایسا مرکز و محور ہے جہاں سے ان کے تمام مذہبی‘اخلاقی‘ اصلاحی‘ تعلیمی و تمدنی‘ ثقافتی و تہذیبی سیاسی اور اجتماعی امور کی رہنمائی ہوتی ہے۔ مسجد کا یہ کردار قرن اولیٰ میں جاری و ساری رہا۔ اس دور میں مسلمانوں کے تمام معاملات مسجد ہی میں سرانجام دیئے جاتے تھے۔ چنانچہ حضور اکرمؐ اور صحابہ کرامؓ کے زمانے میں مسجد کی حیثیت دارالخلافہ سے لے کر غربا و مساکین کی قیام گاہ تک کی تھی۔ تعلیم و تعلم سے لے کر جہاد کی تیاری‘ مجاہدین کی جہاد پر روانگی کا مرکز‘ رفاہی کاموں اور خدمت خلق کا بڑا ادارہ تھا آپ سے ملاقات کرنے اور اسلام اور اسلامی ریاست کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے اور معاہدات کرنے کی جگہ تھی۔ اجتماعی کاموں کے لیے منصوبہ بندی کرنے ان کے لیے مالی وسائل مہیا کرنے غرباء و مساکین کے لیے چندہ جمع کرنے‘ حاجت مندوں کی حاجتیں پوری کرنے‘ بیت المال میں مال جمع کرنے مال غنیمت اور صدقات جمع کرنے پھر انہیں مستحقین میں تقسیم کرنے کا مقام مسجد ہی تھی۔
مسجد کی یہ حیثیت حضور اکرمؐ کے زمانے سے لے کر صدیوں بعد تک قائم رہی۔ اسلام کے مثالی دور میں مسجد ہی عدل و انصاف کا مرکز تھی۔ خود حضور اکرمؐ اور خلفائے راشدین اور اس کے تمام حکام مسجد ہی میں بیٹھ کر عدل گستری کے فرائض انجام دیا کرتے تھے۔ تعلیم و تعلم کا سلسلہ مسجدنبویؐ مںہ صفہ سے شروع ہوا جو صدیوں تک ہر مسجد کے ساتھ قائم رہا چنانچہ مسلمانوں کے قدیم ترین تعلیمی ادارے جامعہ ازھر‘ جامعہ زیتونہ اور جامعہ قرویین مسجدوں میں قائم ہوئے اور مسجدوں ہی میں انہوں نے ترقی و ارتقا کےجملہ مراحل طے کئے۔ مسلمانوں نے اپنے مثالی ادوار میں جیسے شہر اور بستیاں اباد کیں تو ساتھ ساتھ مساجد کی بنیادیں بھی ڈالیں چنانچہ کوفہ‘ بصرہ اور زروان وغیرہ کے بنیادوں کے نقشے میں مساجد کی تعمیر کو مرکزی مقام دیا گیا۔
سب سے پہلے مسجد نبویؐ کو لیتے ہیں جو ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے مسجد نبویؐ مسلمانوں کے لیے کثیر المقاصد مرکز کی حیثیت رکھتی تھی اور عام معاشرتی زندگی کے کام سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ اسلام کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے باعث امت مسلمہ کا سیاسی و مذہبی مرکز بھی تھی۔ لہٰذا حضور نبی اکرمؐ نے اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات کا مرکز مسجد کو بنایا۔ حضورؐ کی نستھ مسجد میں ہوتی تھی۔ وفود مسجد میں ٹھہرتے‘ ذکر و اذکار ‘ تعلیم و علم کے حلقے مسجد میں قائم ہوتے ۔ وعظ و نصیحت مسجد میں ہوتی ۔ اصحابہ صفہ کا ٹھکانا مسجد کے ایک کونے میں تھا۔
اموال غنیمت او رصدقات واجبہ و نافلہ مسجد میں جمع کی جاتی اور یہیں سے تقسیم کی جاتی تھی۔ جنگ احد کے بعد آنے والی رات سرداروں نے مسجد میں گزاری جہاد کی تیاری کے لیے اجتماع مسجد میں ہوتا تھا۔ فقراء و مساکین کے لیے چندہ مسجد میں جمع کیا جاتا۔ غرض مسجد نبوؐی دارالندوہ‘ دارالامارہ اور دارالتعلیم سب ہی کچھ تھی۔
آپؐ کے بعد صحابہ کرام نے اللہ تعالیٰ کے فرمودات‘ نبی اکرمؐ کے ارشادات اور آپؐ کی عملی سیرت سے مسجد کی اہمیت کو سمجھ لیا تھا۔ مسجد کی ضروریات اور اس کے پیغام و مقام سے خوب واقف ہوچکے تھے۔ چنانچہ انہوں نے مسجد کے بارے میں وہی طریقہ اختیا رکیا جو آپؐ کا تھا۔ تمام صحابہ کی مسجد سے گہری وابستگی تھی‘ مسجد تعمیر کرنا‘ آباد کرنا‘ مسجد میں جاکر نماز اد اکرنا‘ ہر طرح سے مسجد کا حق ادا کرنا ان کا شیوہ تھا۔ اس طرح وہ صحابہ جو حکومتی ذمہ داریوں اور کلیدی عہدوں پرتھے انہوں نے خاص طور پر دارالحکومت کے ساتھ مساجد تعمیر کرائیں چنانچہ نبی اکرمؐ کے دور میں ہی درجنوں مساجد مدینہ منورہ میں تعمیر ہوچکی تھی۔ محدثین اورسیرت نگاروں نی ان کی تعداد 19 سے 32 تک لکھی ہے یہ تعداد آپؐ کی وفات کے بعد کئی گنا بڑھ گئی صحابہ کرام کی زندگیوں میں عام طور پر تعلیم و تعلم کا عمل مسجد میں سرانجام پاتا۔ اگر کوئی صاحب علم پڑھ رہا ہے تو مسجد میں اس کا بندوبست ہے اگر کسی کو تعلیم دے رہا ہے تو اس کابندوبست بھی مسجد میں ہے۔
صحابہ کرام کی اصلاحی‘ تبلیغی اور ذکر و فکر کی مجالس مسجد میں منعقد ہوتی تھی۔ آپؐ کے زمانے سے ہی علمی مجالس شروع ہوگئیں تھی جو صحابہ کرام تابعین اور تبع تابعین او رکسی حد تک مابعد کے ادوار میں جاری رہی۔ صحابہ کرام کی جہاد پر روانگی‘ اسلام لشکر کی تیاری اور سپہ سالار کا تعین مسجد میں ہی ہوتا تھا۔ عدل و انصاف پر مبنی عظیم الشان عدالتیں مسجد میں سجتی تھی سفر او رجہاد سے واپس آٹے تو نبیؐ کی سنت کے مطابق سب سے پہلے اپنے شہر یا محلے کی مسجد میں آتے اور دو رکعت نماز اد اکرتے گویا اپنے گھر سے بھی زیادہ مسجد کو اہمیت اور اولیت دیتے۔
صحابہ کرام کے دور میں جتنے اہم اعلان‘ فیصلے اور مشاورتیں ہوئی تھیں ان کا علان مسجد میں ہی ہوتا تھا۔ اس سے اندازہ کیجیے کہ صحابہ کرام کو مسجد سے کتنا انس تھا او ران کے دلوں میں اس کی کتنی اہمیت تھی ۔
جب تک مسجد کا یہ مقام باقی رہا امت مسلمہ امت واحدہ کی حیثیت سے اپنا فریضہ احسن طریقے سے انجام دیتی رہی لیکن جب یہ رشتہ کمزور ہو ااور اجتماعی زندگی کی مرکزیت مسجد سے منتقل ہوکر دوسری سمتوں اور مرکزوں میں چلی گئی تو امت دین سے دو رہوکراور ملی وحدت سے کٹ کر اختراق و انتشار کاشکار ہوگئی۔
آج امت مسلمہ کا ہر فرد دل میں یہ تڑپ اور جذبہ رکھتا ہے کہ انہی قرون اولٰی کا بابرکت اور خیر سے بھرپور امن و امان والا ماحول میسر آئے۔ یہ خواہش و تمنا تب پوری ہوگی جب ہم اس کے لیے عملی اقدمات شروع کریں گے۔ اس عمل کی ابتداء اس طرح ہوگی جس طرح حضور ؐ نے کی تھی یہ ابتداء مسجد کو وہ مقام و مرکزیت دینے سے ہوگی جونیش اکرمؐ نے رو زاول سے دی۔ وہ فتنے جس نے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا اور تہس نہس کردیا ہے مسجدکومرکز بنانے سے اپنے آپ ختم ہوجائیں گے۔ اس سے علاقائیت‘ لسانیت‘ گروہیت‘ نسلیت ‘ طبقہ واریت او رصوبائیت کا خاتمہ بھی ہوگا اور لوگوں کے دلوں سے حسد ‘ کینہ‘ بغض و نفرت کا خاتمہ بھی۔ اس سے رزائل اخلاق‘ لالچ‘ تنگ دلی‘ قطع تعلق‘ آپس کی ناچاقی کا قلع قمع بھی ہوگا اور امیر وغریب ‘ افسر و ماتحت ‘ مخدوم و خادم ‘ اعلیٰ و ادنی اور چھوٹے اور بڑے کے درمیان مصنوعی امتیازات کا خاتمہ بھی اور پھر وہی ابتدائی خیر و برکت والا دور لوٹ آئے گا جس مںع اخوت و محبت مساوات و ہمدردی غم خوار و یکجہتی کا دور دورہ تھا۔
اگر مساجد کے اس انقلابی تصو رکو اس کی صحیح روح کے ساتھ اختیار کیا جائے توکوئی وجہ نہیں کہ مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عظمت ‘ مقام اور قیادت کو دوبارہ حاصل نہ کرسکیں اس درسگاہ کو اگر صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو ایک غیر محسوس انقلاب کے ذریعے امت مسلمہ کے جسم میں نئی زندگی کی لہر دوڑ سکتی ہے