04/04/2026
🌙 الرضا قرآن اکیڈمی 🌙
📖 داخلہ جاری ہے
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے"
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ دین اور دنیا دونوں میں کامیاب ہو تو آج ہی اسے قرآن کی تعلیم دلوائیں۔
✨ ناظرہ قرآن پاک
✨ حفظ القرآن
✨ تجوید و قراءت
✨ دینی و اخلاقی تربیت
🏠 رہائش، کھانا اور میڈیکل سہولیات بالکل مفت
🎓 پرائمری پاس بچوں کے لیے داخلہ جاری
👦 صرف لڑکوں کے لیے
📍 پتہ: الہادی اسٹریٹ، بنی گالا، اسلام آباد
📞 رابطہ: 03177203072/03135037035
🌟 محدود نشستیں — ابھی رابطہ کریں اور اپنے بچے کا مستقبل سنواریں!
05/02/2026
اس پوسٹ کو ایک خود زمہ دارانہ نسلی فرد سمجھ کر شئیر کریں
27/01/2026
فرض کر لیں۔
طلاق کی دھمکی پر کوئی خاتون مقدمہ کر دیتی ہیں۔ مقدمے کی فیس چلو گھر والوں سے لے لیں گی، شوہر کو تین سال سزا، ان تین سالوں میں یہ انڈے بیچ کر گزارا کریں گی؟ بچوں کا خرچہ کون دے گا؟
تین سال جو آدمی طلاق کی دھمکی دینے کی وجہ سے بیوی کے مقدمہ کرنے پر جیل میں رہے وہ واپس آکر انہیں ممتاز بیگم بنا کر رکھے گا؟ یا جیل سے ہی لعنت کے ساتھ طلاق بھیجوا دے گا؟
پھر یہ سنگِل مدر بن کر سارا بوجھ خود اٹھا کر پچاس سال کی بڈھی ہو کر تین تمغے سینے ہر سجا کر یعنی طلاق یافتہ + سنگل مدر + ورکنگ ویمن بن کر آٹھ مارچ میں لڈیاں ڈالیں گی؟
شادی ان کی دوبارہ اس لیے نہیں ہوگی کیوں کہ پہلے والے خاوند کو طلاق کی دھمکی پر تین سال کی قید کروا چکی ہیں، جس کو بھی یہ خبر پہنچے گی وہ الٹے قدموں واپس پلٹے گا۔۔۔۔
یوں کیپٹلسٹ نظام کو ایک خبط الحواس، زہنی امراض کا شکار غصیلی انڈیپینڈنٹ ورکنگ سنگل مدر مل جایے گی۔
بچوں کے پاس چونکے نہ باپ ہوگا نہ مکمل ماں تو ظاہر ہے وہ اپنی تربیت خود کریں گے۔ اب تک ڈراموں کے زریعے عورتوں کے بھیجے میں فتور بھرا جا رہا تھا اب اس فتور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قانون بنا دیا گیا۔
جو قانون غصے کے ایک لمحے کو مکمل جدائی میں تبدیل کر دے وہ معاشرے میں امن و چین نہیں دائمی نفرت پیدا کرے گا۔
جن کو یہ لگ رہا ہے کہ یہ قانون بس اسلام آباد تک محدود رہے گا وہ سوتے رہیں جب ان کے گھر پر دستک دے گا تو اندازہ ہوگا۔
بظاہر یہ سزا مرد کو دی جائے گی مگر درحقیقت اس کی لپیٹ میں خواتین اور پھر بچے خود آئیں گے۔
نوٹ : مرد و خواتین خود پر کام کریں، اپنی تربیت و تزکیہ پر توجہ دیں، اپنے رویوں پر غور کریں، اپنے سدھار کی جدوجہد میں لگ جائیں، خاندانی نظام کی اہمیت کو سمجھیں، ایک دوسرے کی عزت کریں، تمام راستوں کے بعد بھی اگر رشتہ نہ چلے تو قرآن کے بتائے گئے طریقے کے مطابق فیصلہ کریں، تاکہ اس قسم کے نتائج بھگتنے نہ پڑیں۔
یاد رکھیں یہ حربہ کسی شر کے لیے استعمال ہو تو ہو کسی خیر کے لیے استعمال نہیں ہوگا۔ جسے گھر بسانا ہے وہ بسانے کی طرف توجہ دے گی جو شدید ظلم سہہ رہی ہے وہ طلاق یا خلع کی طرف جائے گی، شوہر کو سدھارنے کے لیے کوئی عقل مند عورت اسے تین سال جیل میں نہیں ڈلوائے گی کیوں کہ وہ جانتی ہوگی کہ اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا مزید بڑھ جائے گا۔
فیض عالم