الکتاب

الکتاب

Share

پیج کا مقصد قرآن کے فہم کو عام کرنا ہے

25/11/2022

آیت 18 از بیان القرآن
أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت ۱۸ {مَثَلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ اَعۡمَالُہُمۡ کَرَمَادِۣ اشۡتَدَّتۡ بِہِ الرِّیۡحُ فِیۡ یَوۡمٍ عَاصِفٍ ؕ} ’’مثال ان لوگوں کی جنہوں نے کفرکیا اپنے ربّ کے ساتھ (ایسی ہے) کہ ان کے اعمال ہوں راکھ کی مانند‘ جس پر زور دار ہواچلے آندھی کے دن۔‘‘
اللہ کے ہاں کسی بھی نیک عمل کی قبولیت کے لیے ایمان لازمی اور بنیادی شرط ہے۔ چنانچہ جو لوگ اپنے رب کا کفر کرتے ہیں ان کے نیک اعمال کو یہاں راکھ کے ایسے ڈھیر سے تشبیہہ دی گئی ہے جس پر تیز آندھی چلی اور اس کا ایک ایک ذرہ منتشر ہو گیا۔ یعنی بظاہر تو وہ ڈھیر نظر آتا تھا مگر اللہ کے ہاں اس کی کچھ بھی حیثیت باقی نہ رہی۔ یہ بہت اہم مضمون ہے اور قرآن کریم میں مختلف مثالوں کے ساتھ اسے تین بار دہرایا گیا ہے۔ سورۃ النور کی آیت ۳۹ میں کفار کے اعمال کو سراب سے تشبیہہ دی گئی ہے اور سورۃ الفرقان کی آیت ۲۳ میں منکرین آخرت کے اعمال کو {ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴿۲۳﴾} یعنی ’’ہوا میں اڑتے ہوئے ذرات‘‘کی مانند قراردیا گیا ہے ۔
دراصل ہر انسان اپنی ذہنی سطح کے مطابق نیکی کا ایک تصور رکھتا ہے‘ کیونکہ نیکی ہر انسان کی روح کی ضرورت ہے ‘مگر نیکی کا تعلق چونکہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کی قبولیت کے ساتھ ہے ‘چنانچہ اس کے لیے معیار بھی وہی قابل قبول ہو گا جو اللہ نے خود قائم کیا ہے‘ اور وہ معیار سورۃ البقرۃ کی آیت البر کی روشنی میں یہ ہے:
{لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾}
’’نیکی یہی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر دو‘ بلکہ اصل نیکی تو اُس کی ہے جو ایمان لایا اللہ پر‘یومِ آخر ت پر‘ فرشتوں پر‘ کتاب پر اور نبیوں پر۔ اور اس نے خرچ کیا مال اس کی محبت کے باوجود قرابت داروں‘ یتیموں‘ محتاجوں‘ مسافروں اور مانگنے والوں پر اور گردنوں کے چھڑانے میں۔ اور قائم کی نماز اور ادا کی زکوٰۃ۔ اور جو پورا کرنے والے ہیں اپنے عہد کے جب کوئی عہد کر لیں۔ اور صبرکرنے والے فقر و فاقہ میں‘ تکالیف میں اور حالت ِجنگ میں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو سچے ہیں اور یہی حقیقت میں متقی ہیں۔‘‘
اگر نیکی اس معیار کے مطابق ہے تو پھر یہ واقعی نیکی ہے ‘لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو نیکی کی شکل میں دھوکہ‘ سراب‘ اور فریب ہے ‘نیکی نہیں ہے۔ دراصل جب انسان کی فطرت مسنح ہو جاتی ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کا نیکی کا تصور بھی مسنح ہو جاتا ہے۔ نیکی چونکہ ایک برے سے برے انسان کے بھی ضمیر کی ضرورت ہے اس لیے بجائے اس کے کہ ایک برا انسان اپنی اصلاح کر کے اپنے اعمال و کردار کو نیکی کے مطلوبہ معیار پر لے آئے‘وہ الٹا نیکی کے معیار کو گھسیٹ کر اپنے خیالات و نظریات کی گندگی کے ڈھیر کے اندر اس کی جگہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں چور‘ ڈاکو اور لٹیرے صدقہ وخیرات کرتے اور خدمت خلق کے بڑے بڑے کام کرتے نظر آتے ہیں اور جسم فروش عورتیںمزاروں پر دھمال ڈالتی اور نیاز بانٹتی دکھائی دیتی ہیں ۔ اس طرح یہ لوگ اپنے ضمیر کی تسکین کا سامان کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے پیشے میں قدرے قباحت کا عنصر پایا جاتا ہے تو کیا ہوا‘اس کے ساتھ ساتھ ہم نیکی کے فلاں فلاں کام بھی تو کرتے ہیں!
اسی طرح جب مذہبی مزاج رکھنے والے لوگوں کی فطرت مسنح ہوتی ہے تو وہ کبیرہ گناہوں کی طرف سے بے حس اور صغائر کے بارے میں بہت حساس ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ صغائر کے بارے میں تو بڑے زور دار مباحثے اور مناظرے کررہے ہوتے ہیں‘ مگر کبائر کو وہ لائق اعتناء ہی نہیں سمجھتے۔ اس پس منظر میں صحیح طرز عمل یہ ہے کہ پہلے کبائر سے کلی طو رپر اجتناب کیا جائے اور پھر اس کے بعد صغائر کی طرف توجہ کی جائے۔ بہر حال قیامت کے دن بے شمار ایسے لوگ ہوں گے جو اپنے زعم میں بہت زیادہ نیکیاں لے کر آئے ہوں گے‘مگر اللہ کے نزدیک ان کی نیکیوں کی کوئی حیثیت اور وقعت نہیں ہو گی۔
{ لَا یَقۡدِرُوۡنَ مِمَّا کَسَبُوۡا عَلٰی شَیۡءٍ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِیۡدُ ﴿۱۸﴾} ’’انہیں کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا اُس میں سے جو کمائی انہوں نے کی ہو گی۔یہی تو ہے دُور کی گمراہی۔‘‘
ان کو زعم ہوگا کہ انہوں نے دنیا میں بہت نیک کام کیے تھے‘ خدمت خلق کے بڑے بڑے پراجیکٹ شروع کر رکھے تھے‘ مگر اُس دن وہاں ان میں سے کوئی نیکی بھی ان کے کام آنے والی نہیں ہو گی۔

03/11/2022

آیت 17 از بیان القرآن
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

يَتَجَرَّعُهُۥ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُۥ وَيَأۡتِيهِ ٱلۡمَوۡتُ مِن كُلِّ مَكَانٖ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٖۖ وَمِن وَرَآئِهِۦ عَذَابٌ غَلِيظٌ ١٧
وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پینے کی کوشش کرے گا لیکن اسے حلق سے اتار نہیں پائے گا اور اسے ہر طرف سے موت (آتی ہوئی نظر) آئے گی لیکن مر نہیں سکے گا۔ اور اس کے بعد اس کے لیے ایک اور سخت عذاب ہوگا۔

(یَّتَجَرَّعُہٗ وَلاَ یَکَادُ یُسِیْغُہٗ) ’’وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پینے کی کوشش کرے گا لیکن اسے حلق سے اتار نہیں پائے گا‘‘
(وَیَاْ تِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّمَا ہُوَ بِمَیِّتٍ) ’’اور اُسے ہر طرف سے موت (آتی ہوئی نظر) آئے گی لیکن مر نہیں سکے گا۔‘‘
شدید تکلیف میں موت انسان کو راحت پہنچادیتی ہے۔ بعض بیمار ایسے ہوتے ہیں کہ تکلیف کی شدت میں ایڑیاں رگڑ رہے ہوتے ہیں اور موت ان کے لیے راحت کا سامان بن جاتی ہے۔ لیکن جہنم ایسی جگہ ہے کہ جہاں انسان کو موت نہیں آئے گی۔ سورۂ طٰہٰ میں اس کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: (لَا یَمُوْتُ فِیْہَا وَلَا یَحْیٰی (۷۴)) ’’نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ جی پائے گا‘‘۔ اہلِ جہنم شدید خواہش کریں گے کہ موت آ جائے اور ان کا قصہ تمام ہو جائے مگر ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو گی۔
(وَمِنْ وَّرَآئِہٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ) ’’اور اس کے بعد اُس کے لیے ایک اور سخت عذاب ہو گا۔‘‘
یعنی اس سختی میں مسلسل اضافہ ہوتا جائے گا‘ عذاب کی شدت درجہ بدرجہ بڑھتی ہی چلی جائے گی۔

01/11/2022

آیات 15،16 از بیان القرآن
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَٱسۡتَفۡتَحُواْ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٖ ١٥
اور انہوں نے فیصلہ طلب کیا اور نا مراد ہو کر رہا ہر سرکش ضدی۔

جو لوگ کفر و شرک پر ڈٹے رہتے وہ اس بات پر بھی اپنے رسول ؑ سے اصرار کرتے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان آخری فیصلہ ہو جانا چاہیے۔ پھر جب اللہ کی طرف سے وہ آخری فیصلہ عذابِ استیصال کی صورت میں آتا تو اس کے نتیجے میں سرکش اور ہٹ دھرم قوم کو نیست و نابود کر دیا جاتا۔ ایسے منکرین حق کی تباہی و بربادی کا نقشہ قرآن حکیم میں اس طرح کھینچا گیا ہے :(کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْہَا) (الاعراف: ۹۲)’’وہ ایسے ہو گئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں‘‘ اور (فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ) (لاحقاف: ۲۵ ) یعنی وہ ایسے ہو گئے کہ ان کے دیار و امصار میں صرف اُن کے محلات و مساکن ہی نظر آتے تھے جبکہ اُ ن کے مکینوں کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ اور یہ سب کچھ تو ان لوگوں کے ساتھ اس دنیا میں ہوا‘ جبکہ آخرت کی بڑی سزا اُس کے علاوہ ہے جس کو جھیلتے ہوئے ان میں سے ہر ایک سرکش ضدی اس طرح نشانِ عبرت بنے گا:
مِّن وَرَآئِهِۦ جَهَنَّمُ وَيُسۡقَىٰ مِن مَّآءٖ صَدِيدٖ ١٦
اس کے پیچھے جہنم ہے اور اس کو پلایا جائے گا پیپ والا پانی۔

31/10/2022

آیات 13،14 از بیان القرآن
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِرُسُلِهِمۡ لَنُخۡرِجَنَّكُم مِّنۡ أَرۡضِنَآ أَوۡ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَاۖ فَأَوۡحَىٰٓ إِلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ لَنُهۡلِكَنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٣
اور کہا ان لوگوں نے جو کافر ہوئے تھے اپنے رسولوں سے ہم لازماً نکال باہر کریں گے تمہیں اپنی زمین سے یا تمہیں لوٹنا ہوگا ہمارے دین میں۔ تو وحی کی ان کی طرف ان کے رب نے کہ ہم ان ظالموں کو اب لازماً ہلاک کردیں گے۔

(وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِہِمْ) ’’اور کہا ان لوگوں نے جو کافر ہوئے تھے اپنے رسولوں سے‘‘
رسولوں کی جماعت اور ان کی قوموں کے درمیان ہونے والے سوالات و جوابات کا تذکرہ جاری ہے ۔ یعنی اپنے اپنے زمانے میں اپنے اپنے رسولوں سے متعلقہ اقو ام کے لوگوں نے کہا:
(لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا) ’’ہم لازماً نکال باہر کریں گے تمہیں اپنی زمین سے یا تمہیں لوٹنا ہو گا ہمارے دین میں۔‘‘
(فَاَوْحٰٓی اِلَیْہِمْ رَبُّہُمْ لَنُہْلِکَنَّ الظّٰلِمِیْنَ ) ’’تو وحی کی ان کی طرف ان کے رب نے کہ ہم ان ظالموں کو اب لازماً ہلاک کر دیں گے۔‘‘

وَلَنُسۡكِنَنَّكُمُ ٱلۡأَرۡضَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ ١٤
اور ہم آباد کریں گے زمین میں تم لوگوں کو ان کے بعد ۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑے ہونے اور میری وعید سے ڈرتے ہیں۔

(وَلَنُسْکِنَنَّکُمُ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِہِمْ) ’’اور ہم آباد کریں گے زمین میں تم لوگوں کو ان کے بعد۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی طرف وحی بھیجی کہ اب تمام کافر وں کو ہلاک کر دیا جائے گا اور اس کے بعد رسول ؑ اور ان کے ساتھ بچ جانے والے تمام اہل ایمان کو پھر سے زمین میں آباد کرنے کا سامان کیا جائے گا۔
(ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَخَافَ وَعِیْدِ) ’’یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑے ہونے اور میری وعید سے ڈرتے ہیں۔‘‘
جو لوگ عذاب کی وعیدوں سے ڈرتے ہیں اور روزِ محشر اللہ کی عدالت میں کھڑے ہونے کے تصورسے لرز جاتے ہیں۔

29/10/2022

آیات 11،12 از بیان القرآن
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ إِن نَّحۡنُ إِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۖ وَمَا كَانَ لَنَآ أَن نَّأۡتِيَكُم بِسُلۡطَٰنٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ١١
ان کے رسولوں نے ان سے کہا کہ واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تمہاری ہی طرح کے انسان لیکن اللہ احسان فرماتا ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے۔ اور ہمارے لیے ممکن نہیں ہے کہ ہم لے آئیں تمہارے پاس کوئی معجزہ اللہ کے حکم کے بغیر۔ اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے اہل ایمان کو۔

(قَالَتْ لَہُمْ رُسُلُہُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ) ’’اُن کے رسولوں نے ان سے کہا کہ واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تمہاری ہی طرح کے انسان‘ لیکن اللہ احسان فرماتا ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے۔‘‘
یہ اللہ کی مرضی کا معاملہ ہے‘وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے۔ اس نے ہمیں اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے‘ ہماری طرف وحی بھیجی ہے اور ہمیں مامور کیا ہے کہ ہم آپ لوگوں کو خبردار کریں ا ور اس کے احکام آپ تک پہنچائیں۔
(وَمَا کَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْ تِیَکُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ وَعلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ) ’’اور ہمارے لیے ممکن نہیں ہے کہ ہم لے آئیں تمہارے پاس کوئی معجزہ اللہ کے حکم کے بغیر۔ اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے اہل ایمان کو۔‘‘

وَمَا لَنَآ أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى ٱللَّهِ وَقَدۡ هَدَىٰنَا سُبُلَنَاۚ وَلَنَصۡبِرَنَّ عَلَىٰ مَآ ءَاذَيۡتُمُونَاۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُتَوَكِّلُونَ ١٢
اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر توکل نہ کریں حالانکہ اس نے ہمیں ہمارے راستوں کی ہدایت بخشی ہے۔ اور ہم صبر ہی کریں گے اس ایذا پر جو تم ہمیں پہنچا رہے ہو ‘ اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے تمام توکل کرنے والوں کو۔

(وَمَا لَنَآ اَلاَّ نَتَوَکَّلَ عَلَی اللّٰہِ وَقَدْ ہَدٰنَا سُبُلَنَا) ’’اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر توکل نہ کریں حالانکہ اُس نے ہمیں ہمارے راستوں کی ہدایت بخشی ہے۔‘‘
اللہ نے ہمیں اپنے تقرب کے طریقے اور اپنی طرف آنے کے راستے بتائے ہیں‘یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اس پر توکلّ نہ کریں؟
(وَلَنَصْبِرَنَّ عَلٰی مَآ اٰذَیْتُمُوْنَا وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ) ’’اور ہم صبر ہی کریں گے اس ایذا پر جو تم ہمیں پہنچا رہے ہو‘ اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے تمام توکل کرنے والوں کو۔‘‘

26/10/2022

آیت 10 از بیان القرآن
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

قَالَتۡ رُسُلُهُمۡ أَفِي ٱللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يَدۡعُوكُمۡ لِيَغۡفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمۡ وَيُؤَخِّرَكُمۡ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمًّىۚ قَالُوٓاْ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَا فَأۡتُونَا بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ ١٠
ان کے رسولوں نے کہا کہ کیا تم لوگوں کو اللہ کی ذات کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے؟ وہ (اللہ) تمہیں بلا رہا ہے تاکہ تمہارے گناہوں کو بخش دے اور ایک وقت معین تک تمہیں مہلت دے۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ہیں آپ لوگ مگر ہماری ہی طرح کے انسان۔ آپ چاہتے ہیں کہ روک دیں ہمیں ان (کی پرستش) سے جن کو پوجتے تھے ہمارے آباء تو لائیے آپ ہمارے سامنے کوئی کھلا معجزہ۔

(قَالَتْ رُسُلُہُمْ اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) ’’ان کے رسولوں نے کہا کہ کیا تم لوگوں کو اللہ کی ذات کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے؟‘‘
یہ searching questionکا سا انداز ہے جس میں بات وہاں سے شروع کی جا رہی ہے جہا ں تک خود فریق ثانی کو بھی اتفاق ہے۔ مذکورہ تمام اقوام کے کفار و مشرکین میں ایک عقیدہ ہمیشہ مشترک رہا ہے کہ وہ تمام لوگ نہ صرف اللہ کو مانتے تھے بلکہ اسے زمین وآسمان کا خالق بھی تسلیم کرتے تھے۔ چنانچہ جس قوم کے لوگوں نے بھی اپنے رسول ؑ کی دعوت کو شکوک و شبہات کی بنا پر رد کرنا چاہا ان کو ہمیشہ یہی جواب دیا گیا ۔ یعنی سب سے پہلے اللہ کی ذات کا معاملہ ہمارے تمہارے درمیان واضح ہونا چاہیے کہ تمہیں اللہ کی ذات کے بارے میں شک ہے یا اس کے خالق ارض و سماوات ہونے میں؟
(یَدْعُوْکُمْ لِیَغْفِرَ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُؤَخِّرَکُمْ اِلی اَجَلٍ مُّسَمًّی) ’’وہ (اللہ) تمہیں بلا رہا ہے تا کہ تمہارے گناہوں کو بخش دے اور ایک وقت معین تک تمہیں مہلت دے۔‘‘
(قَالُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا) ’’انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ہیں آپ لوگ مگر ہماری ہی طرح کے انسان۔‘‘
(تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْن) ’’آپ چاہتے ہیں کہ روک دیں ہمیں ان (کی پرستش) سے جن کو پوجتے تھے ہمارے آباء‘تولائیے آپ ہمارے سامنے کوئی کھلا معجزہ!‘‘
سب قوموں کے لوگوں کا یہ جواب بھی ایک جیسا تھا‘ سب نے رسولوں کے انسان ہونے پر اعتراض کیا اور سب نے حسی معجزہ طلب کیا۔

25/10/2022

آیات 8،9 از بیان القرآن
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِن تَكۡفُرُوٓاْ أَنتُمۡ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعًا فَإِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ ٨
اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم کفر کرو اور جو بھی لوگ زمین میں ہیں وہ (سب کے سب کافر ہوجائیں ) تو یقیناً اللہ غنی اور اپنی ذات میں خود محمود ہے۔

وہ بے نیاز ہے‘اس کو کسی کی احتیاج یا پروا نہیں۔ وہ اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔
أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ نَبَؤُاْ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ قَوۡمِ نُوحٖ وَعَادٖ وَثَمُودَ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ لَا يَعۡلَمُهُمۡ إِلَّا ٱللَّهُۚ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَرَدُّوٓاْ أَيۡدِيَهُمۡ فِيٓ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَقَالُوٓاْ إِنَّا كَفَرۡنَا بِمَآ أُرۡسِلۡتُم بِهِۦ وَإِنَّا لَفِي شَكّٖ مِّمَّا تَدۡعُونَنَآ إِلَيۡهِ مُرِيبٖ ٩
کیا تمہارے پاس آ نہیں چکی ہیں خبریں ان لوگوں کی جو تم سے پہلے تھے یعنی قوم نوح اور عاد اور ثمود کی اور ان کی جو ان کے بعد ہوئے انہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ ان کے پاس آئے ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے مونہوں میں ٹھونس لیں اور کہا کہ ہم تو انکار کرتے ہیں اس کا جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو اور تم ہمیں جس چیز کی دعوت دے رہے ہو اس کے بارے میں ہم سخت الجھن میں ڈال دینے والے شک میں مبتلا ہیں۔

(اَلَمْ یَاْ تِکُمْ نَبَؤُاالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ) ’’کیا تمہارے پاس آ نہیں چکی ہیں خبریں ان لوگوں کی جو تم سے پہلے تھے‘ یعنی قومِ نوح اور عاد اور ثمود کی‘‘
(وَالَّذِیْنَ مِنْ بَعْدِہِمْ لاَ یَعْلَمُہُمْ اِلاَّ اللّٰہُ) ’’اوران کی جو ان کے بعد ہوئے‘ انہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔‘‘
(جَآءَ تْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْٓا اَیْدِیَہُمْ فِیْٓ اَفْوَاہِہِمْ) ’’ان کے پاس آئے ان کے رسولؑ واضح نشانیاں لے کر‘ تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے مونہوں میں ٹھونس لیں ‘‘
(وَقَالُوْٓا اِنَّا کَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَکٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَآ اِلَیْہِ مُرِیْبٍ) ’’اور کہا کہ ہم تو انکار کرتے ہیں اس کا جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ‘اور تم ہمیں جس چیز کی دعوت دے رہے ہو اُس کے بارے میں ہم سخت الجھن میں ڈال دینے والے شک میں مبتلا ہیں۔‘‘
یہاں تمام رسولوں کو ایک جماعت فرض کر کے اُن کا ذکر اکٹھے کیا جا رہا ہے ‘کیونکہ سب نے اپنی اپنی قوم کو ایک جیسی دعوت دی اور اُس دعوت کے جواب میں سب رسولوں کی قوموں کا ردِ عمل بھی تقریباً ایک جیسا تھا۔ ان سب اقوام نے اپنے رسولوں کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تو ان باتوں کے متعلق بہت سے شکوک و شبہات لاحق ہیں‘ جن کی وجہ سے ہم سخت الجھن میں پڑ گئے ہیں ۔

24/10/2022

آیت 7 از بیان القرآن
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَإِذۡ تَأَذَّنَ رَبُّكُمۡ لَئِن شَكَرۡتُمۡ لَأَزِيدَنَّكُمۡۖ وَلَئِن كَفَرۡتُمۡ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ ٧
اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان کردیا تھا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا اور اگر تم کفر کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بھی بہت سخت ہے۔

(وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ ) ’’اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان کردیا تھا کہ اگر تم شکر کرو گے تومیں تمہیں اور زیادہ دوں گا‘‘
اگر تم لوگ میرے احکام مانو گے اور میری نعمتوں کا حق ادا کرو گے تو میرے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے‘ میں تم لوگوں کو اپنی مزید نعمتیں بھی عطا کروں گا۔
(وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ) ’’اور اگر تم کفر کرو گے تو یقیناًمیرا عذاب بھی بہت سخت ہے۔‘‘
لیکن اگر تم کفرانِ نعمت کرو گے ‘میری نعمتوں کی ناقدری اور نا شکری کرو گے اور میرے احکام سے روگردانی کرو گے تو یاد رکھو‘میری سزابھی بہت سخت ہو گی۔

18/10/2022

آیت 6 از بیان القرآن
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ أَنجَىٰكُم مِّنۡ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ يَسُومُونَكُمۡ سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُونَ نِسَآءَكُمۡۚ وَفِي ذَٰلِكُم بَلَآءٌ مِّن رَّبِّكُمۡ عَظِيمٌ ٦
اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو جب اس نے تمہیں نجات دی آل فرعون سے وہ تمہیں مبتلا کیے ہوئے تھے بدترین عذاب میں اور وہ لوگ تمہارے بیٹوں کو ذبح کردیتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اور اس میں یقیناً تمہارے لیے تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔

(وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ اَنْجٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ) ’’اور یاد کرو جب موسیؑ ٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اپنے اوپر اللہ کی اُس نعمت کو یاد رکھو جب اُس نے تمہیں نجات دی آلِ فرعون سے‘‘
(یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓ ءَ الْعَذَابِ وَیُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَ کُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَ کُمْ) ’’وہ تمہیں مبتلاکیے ہوئے تھے بدترین عذاب میں‘ اور وہ لوگ تمہارے بیٹوں کو ذبح کر دیتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔‘‘
(وَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ) ’’اور اس میں یقیناًتمہارے لیے تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘

17/10/2022

آیت 5 از بیان القرآن
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ بِ‍َٔايَٰتِنَآ أَنۡ أَخۡرِجۡ قَوۡمَكَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَذَكِّرۡهُم بِأَيَّىٰمِ ٱللَّهِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٖ ٥
اور (اسی طرح) ہم نے بھیجا تھا موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ کہ نکالو اپنی قوم کو اندھیروں سے اجالے کی طرف اور انہیں خبردار کرو اللہ کے دنوں کے حوالے سے۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اس انسان کے لیے جو بہت صبر کرنے والا اور بہت شکر کرنے والا ہے۔

(وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَآ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ وَذَکِّرْہُمْ بِاَیّٰٹمِ اللّٰہِ) ’’اور (اسی طرح) ہم نے بھیجا تھا موسیؑ ٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ کہ نکالواپنی قوم کو اندھیروں سے اُجالے کی طرف اور انہیں خبردار کرواللہ کے دنوں کے حوالے سے۔‘‘
یہ ’’التّذکیر بایّام اللّٰہ ‘‘کی وہی اصطلاح ہے جس کا ذکر شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے قبل ازیں بار بار آ چکا ہے۔ شاہ ولی اللہؒ نے اپنی مشہور کتاب ’’الفوز الکبیر‘‘ میں مضامین قرآن کی تقسیم کے سلسلے میں ’’التذکیر بایام اللّٰہ‘‘ کی یہ اصطلاح استعمال کی ہے ‘یعنی اللہ کے ان دنوں کے حوالے سے لوگوں کو خبردار کرنا جن دنوں میں اللہ نے بڑے بڑ ے فیصلے کیے اور ان فیصلوں کے مطابق کئی قوموں کو نیست و نابود کر دیا۔ اس کے ساتھ شاہ ولی اللہ ؒ نے دوسری اصطلاح ’’التذکیر بِآلاء اللّٰہ ‘‘کی استعمال کی ہے‘ یعنی اللہ کی نعمتوں اور اس کی نشانیوں کے حوالے سے تذکیر اور یاد دہانی۔
(اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ) ’’یقیناًاس میں نشانیاں ہیں ہر اُس انسان کے لیے جو بہت صبر کرنے والا اور بہت شکر کرنے والا ہے۔‘‘
صَبَّار اور شَکُور دونوں مبالغے کے صیغے ہیں۔ صبر اور شکر یہ دونو ں صفات آپس میں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی(complementary)نوعیت کی ہیں۔ چنانچہ ایک بندۂ مؤمن کو ہر وقت ان میں سے کسی ایک حالت میں ضرورہو نا چاہیے اور اگر وہ ان میں سے ایک حالت سے نکلے تو دوسری حالت میں داخل ہو جائے۔اگر اللہ نے اس کو نعمتوں اور آسائشوں سے نوازا ہے تو وہ شکر کرنے والا ہو اور اگر کوئی مصیبت یاتنگی اسے پہنچی ہے تو صبر کرنے والا ہو ۔
حضرت صہیب بن سنان رومی (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
((عَجَبًا لِاَمْرِ الْمُؤْمِنِ اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِاَحَدٍ اِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ‘ اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ وَاِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ))(صحیح مسلم‘ کتاب الزھد ولرقائق‘ باب المؤمن امرہ کلہ خیر)
’’مؤمن کا معاملہ تو بہت ہی خوب ہے‘ اس کے لیے ہر حال میں بھلائی ہے‘ اور یہ بات مؤمن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں ہے۔ اگر اسے کوئی آسائش پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے‘ پس یہ اُس کے لیے بہتر ہے ‘اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے‘ پس یہ اُس کے لیے بہتر ہے۔‘‘

15/10/2022

آیت 4 از بیان القرآن
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوۡمِهِۦ لِيُبَيِّنَ لَهُمۡۖ فَيُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٤
اور ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول کو مگر اس کی قوم کی زبان ہی میں تاکہ وہ ان کے لیے (اللہ کے احکام ) اچھی طرح واضح کر دے پھر اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے کمال حکمت والا۔

(وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ) ’’اور ہم نے نہیں بھیجا کسی رسولؑ کو مگر اُس کی قوم کی زبان ہی میں تا کہ وہ ان کے لیے (اللہ کے احکام ) اچھی طرح واضح کر دے۔‘‘
یعنی ہر قوم کی طرف مبعوث رسول پر وحی اُس قوم کی اپنی ہی زبان میں آتی تھی تا کہ بات کے سمجھنے اور سمجھانے میں کسی قسم کا ابہام نہ رہ جائے‘ اور ابلاغ کا حق ادا ہو جائے۔ جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات دی گئی تو عبرانی زبان میں د ی گئی جو آپؑ کی قوم کی زبان تھی۔
(فَیُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ یَّشَآءُ وَیَہْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ) ’’پھر اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘
اس کا ترجمہ یوں بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ گمراہ کرتا ہے اسے جو چاہتا ہے گمراہ ہونااور ہدایت دیتا ہے اس کو جو چاہتا ہے ہدایت حاصل کرنا ۔
(وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ) ’’اوروہ زبردست ہے‘کما ل حکمت والا۔‘‘

13/10/2022

آیات 2،3 از بیان القرآن
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

ٱللَّهِ ٱلَّذِي لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَوَيۡلٌ لِّلۡكَٰفِرِينَ مِنۡ عَذَابٖ شَدِيدٍ ٢
وہ اللہ جس کی ملکیت ہے ہر وہ شے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور بربادی ہے کافروں کے لیے ایک سخت عذاب سے۔

ٱلَّذِينَ يَسۡتَحِبُّونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا عَلَى ٱلۡأٓخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبۡغُونَهَا عِوَجًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ فِي ضَلَٰلِۢ بَعِيدٖ ٣
وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں اور وہ روکتے ہیں اللہ کے رستے سے اور اس کے اندر کجی تلاش کرتے ہیں۔ یقیناً یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

(الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ ) ’’وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں‘‘
یہ آیت ہم سب کو دعوت دیتی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے گریبان میں جھانکے اور اپنی ترجیحات کا تجزیہ کرے کہ اس کی مہلتِ زندگی کے اوقات کار کی تقسیم کیا ہے؟ اس کی بہترین صلاحیتیں کہاں کھپ رہی ہیں؟ اور اس نے اپنی زندگی کا بنیادی نصب العین کس رخ پر متعین کر رکھا ہے؟ پھر اپنی مشغولیات میں سے دنیا اور آخرت کے حصے الگ الگ کر کے دیکھے کہ دُنیوی زندگی (مَتاعُ الغُرُوْر) کو سمیٹنے کی اس بھاگ دوڑ میں سے اصل اور حقیقی زندگی (خَیْرٌ وَّاَبْقٰی)کے لیے اس کے دامن میں کیا کچھ بچتا ہے؟
(وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَیَبْغُوْنَہَا عِوَجًا اُولٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ بَعِیْدٍ) ’’اور وہ روکتے ہیں اللہ کے رستے سے اور اس کے اندر کجی تلاش کرتے ہیں۔ یقیناًیہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہوچکے ہیں۔‘‘
اللہ کے راستے سے روکنے کی مثالیں آج بھی آپ کو قدم قدم پر ملیں گی۔ مثلاً ایک نوجوان کو اگر اللہ کی طرف سے دین کا شعور اور متاعِ ہدایت نصیب ہوئی ہے اور وہ اپنی زندگی کو اسی رخ پر ڈالنا چاہتا ہے تو اس کے والدین اور دوست احباب اس کو سمجھانے لگتے ہیں‘ کہ تم اپنے کیرئیر کو دیکھو‘ اپنے مستقبل کی فکر کرو‘ یہ تمہارے دماغ میں کیا فتور آ گیا ہے؟ غرض وہ کسی نہ کسی طرح سے اسے قائل کر کے اپنے اسی رستے پر لے جانے کی کوشش کرتے ہیں جس پر وہ خود اپنی زندگیاں برباد کر رہے ہیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Islamabad