اگر پاکستان پر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو پاک فوج ہر لحاظ سے تیار ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جو عوام اور نوجوان نسل فیملی ولاگ دیکھتے ہیں اور سوشل میڈیا پر فضول اور بہودہ کاموں میں ملوث رہتے ہیں، کیا وہ ذہنی طور پر اس قدر تیار ہیں کہ فلسطین جیسے حالات کا مقابلہ کر سکیں؟ کیا یہ فیملی ولاگرز اس وقت ملک کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوں گے؟ ذرا سوچیے، ہمیں ایک قوم کے طور پر اپنے عزم اور حوصلے کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ ہم کسی بھی چیلنج کا سامنا کر سکیں۔
Pakistan School of Ethics
Pakistan School Of Ethics
[email protected] Education with Ethics
02/03/2025
پاکستانی معاشرہ بےشک ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں بدترین لوگ رہتے ہیں، بظاہر دیکھنے میں یہ لوگ انسان دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ قیامت کا آنا اس دنیا میں اب بہت ضروری ہے۔
https://www.facebook.com/share/1KZ1rj9yGa/
پاکستان میں جب بھی حکومت غیر قانونی کاموں کے خلاف ایکشن لیتی ہے، تو اکثر لوگ احتجاج کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ ان غیر قانونی کاموں سے فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ حکومت ان کے کام میں رکاوٹ ڈالے۔ بہت سے لوگ عوامی جگہوں پر ناجائز قبضہ کر کے پیسے کماتے ہیں، جیسے فٹ پاتھوں کو موٹر سائیکل پارکنگ یا چھوٹے اسٹالز کے لیے بیچ دینا۔
یہ صورتحال بار بار دیکھی گئی ہے۔ جب حکومت قانون نافذ کرتی ہے، تو غیر قانونی کام کرنے والے لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قانون کو ماننے کے بجائے احتجاج کرنے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر، پنجاب فوڈ اتھارٹی کی افسر عائشہ ممتاز نے کئی ہوٹلوں اور ریستورانوں کے خلاف کارروائی کی کیونکہ وہ کھانوں میں گدھے کا گوشت استعمال کر رہے تھے۔ لیکن ان ہوٹل مالکان نے اپنی غلطی ماننے کے بجائے حکومت کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ اسی طرح، جب حکومت نے نجی اسکولوں میں زیادہ فیسیں لینے پر پابندی لگائی، تو اسکول مالکان نے مسئلہ حل کرنے کے بجائے احتجاج کرنا شروع کر دیا۔
یہ سب ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب بھی حکومت غیر قانونی کاموں کو روکنے کی کوشش کرتی ہے، تو ان میں ملوث لوگ اپنی غلطی ٹھیک کرنے کے بجائے حکومت کی مخالفت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کا احتجاج انصاف کے لیے نہیں، بلکہ اپنے غیر قانونی فائدے بچانے کے لیے ہوتا ہے۔
This is not the first time; it keeps happening repeatedly at Quaid-e-Azam University. These students are not the future of Pakistan; instead, they are contributing to destruction, extremism, racism, and violence in the country. The government must abolish the quota system for admissions; students must be admitted to universities only on the basis of merit. This change would help deserving and needy students secure admission. Can you expect such things at NUST? No, because NUST is a university, not a charitable institution running a quota system to bring undeserving individuals into prestigious institutions. It is time to separate the garbage from the gems and expel the students responsible for violence in the university.
16/09/2024
19/08/2024
ان کا اسلام عورت اور عورت کے کپڑوں تک ختم ہو جاتا ہے !!
ماضی میں لوگ چھپ کر گناہ کرتے تھے۔ وہ غیر اخلاقی باتوں پر کھلے عام بحث کرتے ہوئے شرم محسوس کرتے تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی چیزوں کے بارے میں پوسٹ کرنا شروع کر دیا اور آہستہ آہستہ کسی بھی غیر اخلاقی کام کو آن لائن شیئر کرنا معمول بن گیا۔ اب، لوگ آرام سے کسی کی لیک ہونے والی ویڈیو کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے شیئر کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ہمارے معاشرے کی اخلاقی قدریں زوال پذیر ہیں۔ ہر طرف فتنہ ہے اور فتنوں کا یہ دور امت مسلمہ کے لیے مشکل ترین وقت ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Islamabad