Iqra Online Quran institute

Iqra Online Quran institute

Share

IQRA Online Quran institute

26/11/2025

نبی کریم ﷺ نے بتایا کہ حقیقی امیری مال و دولت کی زیادتی کا نام نہیں۔ بہت سا سامان، دولت یا ظاہری آسائشیں انسان کو سچا امیر نہیں بناتیں۔
اصل امیری یہ ہے کہ انسان کا دل مطمئن، بےنیاز اور قناعت کرنے والا ہو۔ جو شخص اللہ کے دیے پر راضی ہو، حرص و لالچ سے دور ہو اور دل میں شکر اور سکون رکھتا ہو، وہی حقیقت میں امیر ہے چاہے مال کم ہی کیوں نہ ہو۔
یہ حدیثِ مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ظاہری دولت عارضی ہے، جبکہ دل کا غنا ہی انسان کی اصل دولت ہے۔

24/11/2025

رسول اللہ ﷺ نے قرآنِ پاک نہ یاد رکھنے والے دل کو ویران گھر سے تشبیہ دی ہے، یعنی ایسا دل خالی، بےنور اور روحانی برکتوں سے محروم ہوتا ہے۔
جس دل میں قرآنِ پاک کا حصہ موجود ہو وہ آباد، زندہ اور اللہ کی رحمتوں کا مرکز بنتا ہے۔

اس حدیثِ مبارکہ کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسلمان کم از کم کچھ قرآنِ پاک ضرور یاد رکھے چاہے چند سورتیں، دعائیں یا منتخب آیات تاکہ اس کا دل اللہ تعالیٰ کے کلام سے آباد رہے اور روحانی زندگی تازہ رہے۔

24/11/2025

اس حدیثِ مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے اس بات سے روکا ہے کہ کسی شخص کی تعریف اس حد تک کی جائے کہ وہ غرور، تکبر یا خودپسندی میں مبتلا ہو جائے۔
بڑھا چڑھا کر تعریف کرنا بظاہر محبت محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ انسان کے ایمان، اخلاق اور اعمال کے لیے خطرناک ہے۔
زیادہ تعریف انسان کو غفلت میں مبتلا کر دیتی ہے، اس کی روحانی کمزوریوں پر پردہ ڈال دیتی ہے، اور اسے اپنی اصلاح سے روک دیتی ہے۔
اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایسی حد سے بڑھی ہوئی تعریف اور بے جا القابات دراصل اس کی “کمر توڑ دینا” ہیں، یعنی اسے اخلاقی اور روحانی نقصان پہنچانا ہے۔

پس اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اعتدال سے کام لے، سچی اور مناسب تعریف کرے، مگر مبالغہ اور غلو سے بچے، کیونکہ یہ نیکی نہیں بلکہ نقصان کا سبب بنتا ہے

23/11/2025

عنوان ۔۔۔ اعمال میں کثرت نہیں دوام افضل

یہ حدیثِ مبارکہ ہمیں ایک اہم اصول سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عمل کی قدر اس کی مقدار سے نہیں بلکہ اس کے دوام اور مستقل مزاجی سے ہوتی ہے۔
یعنی عبادت اگر کم بھی ہو لیکن روزانہ، باقاعدگی سے اور اخلاص کے ساتھ کی جائے تو وہ اللہ کو زیادہ محبوب ہے بنسبت اس کے کہ بہت زیادہ عبادت ایک دن کی جائے اور پھر چھوڑ دی جائے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو چاہیئے کہ اپنے لیے قابلِ عمل، مستقل اور پائیدار عبادات منتخب کرے جیسے روزانہ تھوڑا قرآن پڑھنا، نفل نمازیں، ذکر، صدقہ یا کوئی بھی نیکی—تاکہ اس کا تعلق اللہ سے مسلسل مضبوط رہے۔

22/11/2025

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ عالیہ کا نہایت اہم پہلو بیان ہوا ہے۔ آپ ﷺ کی اپنی ذات کے خلاف اگر کوئی بے ادبی، تکلیف یا زیادتی کرتا تو آپ کبھی بدلہ نہ لیتے تھے، بلکہ درگزر اور معاف کرنا آپ کی سیرت کا نمایاں حصہ تھا۔
البتہ جب بات اللہ تعالیٰ کے احکام، حدود یا دین کی حرمت کی آتی، اور کوئی شخص ان کو پامال کرتا، تو وہاں آپ ﷺ محض اللہ کے حکم کی پاسداری کے لیے اقدام فرماتے تھے، نہ کہ ذاتی رنجش کے لیے۔
حاصلِ سبق:
مسلمان کو بھی یہی طریقہ اپنانا چاہئے—اپنی ذات کے لیے درگزر، نرمی اور معافی، اور دین کے معاملے میں اصول و حدود کی حفاظت۔ یہی سیرتِ محمدی ﷺ اور اعلیٰ کردار کا راستہ ہے۔

20/11/2025

عنوان ۔۔۔۔ بخار کو برا مت کہو

اس حدیثِ مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے ہمیں بیماری، خاص طور پر بخار کے بارے میں ایک درست طرزِ فکر سکھایا ہے۔
انسان جب تکلیف میں ہوتا ہے تو وہ بےصبری سے گلہ شکوہ یا ناپسندیدہ جملے کہہ دیتا ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس رویّے کی اصلاح فرمائی۔

بخار یا بیماری کو برا کہنا منع ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کی بھلائی کے لیے آتی ہے، نہ کہ نقصان کے لیے۔

بخار گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔ جس طرح آگ لوہے کی میل صاف کر دیتی ہے، ویسے ہی بیماری مومن کے گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔

بیماری مؤمن کے درجات بلند کرتی ہے، اس لیے اس پر صبر کرنا اللہ کے نزدیک محبوب عمل ہے۔

20/11/2025

اس حدیثِ مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے مسلمان کے اعلیٰ اخلاق اور ذمہ دارانہ طرزِ زندگی کا بنیادی معیار بیان فرمایا ہے۔
"ہمسایہ" وہ شخص ہے جو ہمارے قریب رہتا ہے چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم۔ اس کے ساتھ حسنِ سلوک، امن، عزت اور تکلیف سے بچانا، دین کی اہم ذمہ داری ہے۔
حدیث کا مقصد یہ بتانا ہے کہ:
جو شخص دوسروں، خصوصاً اپنے ہمسائے کو ایذا پہنچاتا ہے چاہے زبان سے، کردار سے، رویے سے یا کسی دوسری صورت میں وہ حقیقی ایمان کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔
ہمسایہ اگر ہماری بدخلقی، شور شرابے، بدزبانی، جھگڑے یا کسی بھی طرح کے نقصان سے محفوظ نہ ہو تو یہ ایمان کی کمزوری اور اخلاقی پستی کی علامت ہے۔
جنت اُن ہی لوگوں کا ٹھکانہ ہے جو دوسروں کے لیے امن و سکون کا ذریعہ بنیں، نہ کہ تکلیف کا۔

18/11/2025

عنوان ۔۔ اپنے لئے صرف خیر مانگو

نبی کریم ﷺ نے اس حدیثِ مبارکہ میں ہمیں یہ بنیادی اصول سمجھایا ہے کہ انسان کی زبان سے نکلا ہر لفظ مؤثر ہوتا ہے، چاہے وہ خیر کا ہو یا شر کا۔
جب بندہ اپنے حق میں کوئی بات کہتا ہے—خصوصاً دعا کرتا ہے تو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ یعنی اس کی دعا کی تائید ہوتی ہے اور اس کے قبول ہونے کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
اس لئے رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ اپنے لئے ہمیشہ خیر بھلائی کی دعا کرو کیونکہ دعا بندے کی زندگی کو بدل سکتی ہے۔
انسان کبھی بھی اپنے حق میں سخت یا بری بات نہ کہے، کیونکہ وہ بھی قبولیت کا سبب بن سکتی ہے۔

اگر انسان غصے میں، یا مایوسی میں اپنے خلاف بددعا کرے تو یہ الفاظ انسان کے لئے نقصان دہ بن سکتے ہیں۔
جب فرشتے دعا کے ساتھ آمین کہتے ہیں تو گویا وہ اس دعا کی قبولیت کی گواہی دیتے ہیں، اس لیے ہمیشہ مثبت، پاکیزہ اور خیر والی بات زبان سے نکالنی چاہیے۔

اسلام انسان کو مایوسی، خود کو نقصان پہنچانے کی سوچ اور منفی دعا سے بچاتا ہے۔ مؤمن ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے بھلائی، آسانی، رحمت، مغفرت اور کامیابی مانگتا ہے

17/11/2025

اس حدیثِ مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی صفتِ غیرت بیان فرمائی ہے۔
اللہ کی غیرت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں میں پاکیزگی، حیا اور شرافت کو پسند کرتا ہے اور ہر طرح کی بےحیائی چاہے کھلی ہو یا چھپی کو سخت ناپسند فرماتا ہے۔
اسی الٰہی غیرت کے تقاضے سے زنا، فحش گفتگو، نظروں کی بےاحتیاطی، ناپاک خیالات اور ہر قسم کی بےشرمی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:
مؤمن کی زندگی کا بنیادی وصف حیا ہے۔
اللہ کی ناراضی سب سے بڑی چیز ہے، اس لیے ہر وہ کام چھوڑ دینا چاہیے جو بےحیائی اور گناہ کی طرف لے جائے۔
ظاہری اور باطنی پاکیزگی دونوں ضروری ہیں۔
یعنی ایمان، اخلاق اور معاشرہ کی حفاظت اللہ کی اسی صفتِ غیرت سے وابستہ ہے۔

17/11/2025

Online Quran Classes
Through Zoom and Teams

Class time on your choice
No Age limit

www.quranonlinetutors.com
0300 5286730

16/11/2025

عنوان ۔۔۔۔ تین دعائیں جو ضرور قبول ہوتی ہیں۔

اس حدیثِ مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے تین ایسی دعاؤں کا ذکر فرمایا ہے جن کی قبولیت یقینی ہے۔
1) مظلوم کی دعا: ظلم سہنے والا دل ٹوٹا ہوتا ہے، اس کی فریاد براہِ راست اللہ تک پہنچتی ہے اور اللہ اس کی مدد ضرور فرماتا ہے۔
2) مسافر کی دعا: سفر کی مشقت، بے آرامی اور دل کی عاجزی انسان کی دعا کو زیادہ خلوص بخش دیتی ہے، اسی لیے مسافر کی دعا قبول ہوتی ہے۔
3) والدین کی دعا اولاد کے لئے: والدین کی محبت بے لوث ہوتی ہے، اس لئے ان کی زبان سے نکلی خیر اور بددعا دونوں اثر رکھتی ہیں، خصوصاً اولاد کے حق میں۔

لہٰذا اولاد والدین کی خدمت، فرمانبرداری اور عزت کو اپنا شرف بنائے، تاکہ ان کے دل سے نکلنے والی دعائیں زندگی کو روشن کریں، اور نافرمانی سے ایسی بددعا نہ ملے جو انسان کی دنیا و آخرت تاریک کر دے۔

15/11/2025

*تشریح حدیثِ مبارکہ*

اس حدیثِ مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا کہ حقیقی شرافت، عزت اور بزرگی کا معیار نہ نسب ہے، نہ مال، نہ شہرت اور نہ ہی دنیاوی مقام؛ بلکہ اصل معیار تقویٰ ہے۔
یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرتا ہے، اس کے احکام کی زیادہ پابندی کرتا ہے، گناہوں سے بچتا ہے اور دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت رکھتا ہے وہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے معزز اور باوقار ہے۔
لہٰذا عزت پانا ہو تو تقویٰ اختیار کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت تقویٰ سے ہے، نہ کہ دنیاوی مقام سے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Pakistan Islamabad
Islamabad
46000