خواب کی تعبیر و وظائف

خواب کی تعبیر و وظائف

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from خواب کی تعبیر و وظائف, Tutor/Teacher, Islamabad.

خوش آمدید!
اس پیج پر آپ کو اسلامی رہنمائی کے مطابق خوابوں کی تعبیر، قرآنی وظائف، دعائیں، روحانی معلومات اور روزمرہ زندگی کے مسائل کے حل فراہم کیے جاتے ہیں۔
✨ خوابوں کی تعبیر
📖 قرآنی وظائف
🤲 مسنون دعائیں
💫 روحانی رہنمائی
🌹 اسلامی معلومات

22/03/2026
20/03/2026

السلام علیکم !

تقبل الله منا ومنكم

❤️عید مبارک ❤️
❤️🌹درود شریف پڑھ لیجیے 🌹❤️

20/03/2026

18/03/2026

سالگرہ کوانگریزی میں برتھ ڈے(Birthday) منانا کہتےہیں،جس کا مطلب ہے پیدائش کا دن یہ ایک رسم ہےجو تقریب کی شکل میں منائی جاتی ہے،

اس رسم کا آغاز عیسائیوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش کا دن مناکر کیا، انسائیکلوپیڈیا برناٹیکاکے مطابق میلادِ مسیح کی پہلی تقریب روم میں جنوری ۳۳۶ء کو منعقد کی گئی مگر بعد میں مغربی یورپ نے اس میلاد کو ۲۵ دسمبر میں مقید کردیا مشرقی یورپ کے چرچ اس تاریخ کو نہیں مانتے بلکہ ۶ جنوری کو کرسمس یعنی عیسٰی علیہ السلام کابرتھ ڈے مناتے ہیں ۔

سالگرہ منانے کا پس منظر ۔

بت پرست قوموں میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ جس روز بچہ پیدا ہوتا ہے ہر سال سات سال کی عمر تک اس روز یہ خطرہ ہوتا ہے کہ کچھ نادیدہ طاقتیں یعنی روحیں بچے کی جان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں چنانچہ اس روز بچے کو مصروف رکھنے نیز اپنے حصار میں رکھنے کیلئے سالگرہ (Birthday) کا آغاز کیا ۔

دوسری بات یہ کہ مشرک قوموں میں دیوی دیوتاؤں کو خوش کرنے کیلئے کئی قسم کے تہوار مناۓ جاتے ہیں نیز ان قوموں کے خیال میں کوئی غیر معمولی شخصیت جس تاریخ کو پیدا ہوتی ہے وہ تاریخ بھی غیر معمولی ہوتی ہے ان قوموں کے عقائد کے مطابق ہر غیر معمولی شخصیت دیوتاہی کا اوتار ہوتی ہے اس لیے اس شخص کا برتھ ڈے یعنی پیدائش کا دن اور برسی یعنی موت کا دن بھی مناتے ہیں۔

سالگرہ منانے کا آغاز مذہبی شخصیات سے ارادت و عقیدت کی وجہ سے شروع ہوا لیکن آہستہ آہستہ یہ رسم مذہبی شخصیات کے دائرے سے نکل کر ہر شخص کا برتھ ڈے منانے تک آپہنچی جب یورپی لوگ دنیا کے دیگر خطوں میں پہنچے تو یہ رسم ان خطوں میں بھی متعارف ہوگئی اور اس وقت جب کہ میڈیا بہت زیادہ متحرک ہے پوری دنیا میں پھیلاتی جارہی ہےاورایک دوسرے کے قریب کرتی جارہی ہے اور ہر قوم کی روایت بنتی جارہی ہے،

المیہ یہ ہے کہ مسلمان گھرانے بھی یہ رسم بڑے اہتمام سے مناتے ہیں کارڈ چھپوانا ہوٹل بک کروانا ناچ گانے کا اہتمام تحفہ تحائف دینا مبارک بادی دینا اور جو خود شامل نہ ہوسکے اس کو کارڈ یا موبائل کے ذریعہ مبارک اور دعائیں دینا بھی شامل ہے ۔

بےتحاشا تقریبات اور تہوار منانا مشرک اقوام کا مزاج ہے کیونکہ انہوں نے ہر کام کیلۓ الگ الگ دیوی دیوتاؤں کو گڑھ رکھے ہیں ۔ لیکن جس امت نے صرف ایک اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا زبان اور دل سے اظہار اور اقرار کیا ہو وہ اللّٰہ جس نے تنہا زمین آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز پیدا کرنے والا ہے جو موت اور زندگی کا خالق ہے جس کیلۓ تمام بدنی اور مالی عبادتیں ہیں جو اولاد دینے بارش برسانے موسم بدلنے نباتات اگانے پر قادر ہے جس کے حکم کے بغیر ایک پتہ بھی حرکت نہیں کرتا جس نے اپنے ماننے والوں کو حکم دیا ہے کہ صرف اسی کی رضا کیلۓ اسی کے حکم کے مطابق ہر کام کیاجاۓ جس نے اپنے علاوہ کسی اور کو خوش کرنا اس کیلۓ نزر و نیاز یا قربانی دینا اس کی پوجا کے طریقہ اپنانا یا کسی کو خوش کرنے کیلئے جشن منانا ممنوع قرار دیا ہو وہ کسی غیر مسلم قوم کی رسومات اپنانا کیسے گوارا کرسکتا ہے زرا سوچو تو صحیح میرے بھائیو ۔

رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔ من تشبه بقوم فھو منھم۔ جس کسی نے جس قوم کی مشابہت کی وہ انہی میں سے ہے (الحدیث ابوداؤد ۴۰۳۱)

سالگرہ منانا یورپی عیسائیوں کا طریقہ ہے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم تابعین تبع تابعین اور ان کے بعد کے علماء اور فقہا نے نہ کسی مذہبی شخصیت کا اور نہ ہی کسی عام شخصیت کا یوم پیدائش منایا نہ سالگرہ کی ۔

سالگرہ یا برتھ ڈے منانے کا انداز بھی خالصتاً یورپی ہے کیک کاٹنا موم بتیاں جلانا ہپی برتھ ڈے جیسے گیت گانا کارڈ بھیجنا ان میں سے کوئی بھی چیز اسلامی نہیں ہے ان میں سے کسی کا اسلام سے دور دور تک کوئی رشتہ نہیں ہے ۔

اسلام میں خوشی منانے کے صرف دو دن اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بحیثیت تقریب و تفریح کے دۓ ہیں ان دونوں کا تعلق نہ تو کسی کی پیدائش سے ہے نہ موت سے نہ موسم سے نہ تاریخی واقعات سے بلکہ ان کا تعلق دو اہم عبادات سے ہے اور یہ عبادات ہر سال نۓ سرے سے ادا کی جاتی ہے اس لحاظ سے یہ دو دن تہوار نہیں بلکہ عبادات کا ہی ایک اہم حصہ ہے رمضان کے اختتام سے ملحق عید الفطر اور ذوالحجہ میں قربانی کرنے کا دن ۔

گو ان ایام میں اچھا کھانا اچھا پہننا اور جواز کی حد تک سیر و تفریح کرنا یا اپنے کام کاج سے چھٹی کرنا بظاہر غیر مسلم اقوام کے تہواروں کی طرح لگتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی ان دو عیدوں اور مشرک اقوام کے تہواروں میں بہت زیادہ فرق ہے جس میں سے چند باتیں یہ ہے ۔

مشرک اقوام کسی گزشتہ واقعے کی یاد میں یہ تہوار مناتی ہیں جب کہ مسلمانوں میں کسی گزشتہ واقعے کی یاد میں تہوار یا دن منانا قطعی ممنوع ہے ۔

مشرک اقوام عام دنوں میں جن بظاہر اچھے کاموں کا یا کچھ تہذیب و ادب کا خیال رکھتی ہیں تو تہوار یا تقریب پر اسے نظر نداز کرکے ہر قسم کی خرافات بد تہذیبی حیا باختگی پر اتر آتی ہیں مثلاً غلیظ اور. چھوٹے مذاق کرنا رنگ پھینکنا جھنڈیاں غبارے کیک کرسمس ٹری چرنیاں وغیرہ لایعنی چیزیں بنانا جواء کھیلنا شراب پینا ناچ رقص اور ڈھول ڈھمکا کرنا ۔

اس کے برعکس اسلام نے جو دن عطا کئے ہیں ان میں خوشی منانے کے باوجود شریعت کی حدود کا خیال رکھنا لازمی ہے جو بلّے گلّے گناہ کے دیگر کام رقص و سرور شراب و جواء وغیرہ ہمیشہ کیلئے حرام ہیں وہ عید کے دنوں میں بھی حرام ہی رہتے ہیں بلکہ عام دنوں کی بنسبت گناہوں کا وبال و عذاب ستر گنا سے بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔

سالگرہ منانے والے لوگ شاید باور کرانا چاہتے ہیں کہ موت کو ایک سال مزید مؤخر کرنے میں ان کا اپنا ہاتھ ہے نعوذ بااللہ اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کا اس میں کوئی دخل نہیں تبھی وہ شیطان کو خوش کرنے کیلئے رقص و سرور کی محفل جماتے ہیں اور سالگرہ کا کیک کاٹ کر دعوت اڑاتے ہیں اگر انہیں یہ یقین ہوتا کہ موت اور زندگی ربّ قدیر کی دست قدرت میں ہے تو وہ اس وقت غم میں ہلکان ہورہے ہوتے کہ اب تک انہوں نے آخرت کیلئے کیا کیا ؟ اور اگر ابھی موت کا فرشتہ پیغامِ اجل لے کر آگیا تو کیا ہوگا ؟ ۔ اللہ ربّ العزت تمام مسلمانوں کو ہدایت دے اور بے جا رسومات و خرافات سے ہم سب کی حفاظت فرماۓ آمین ثم آمین یارب العالمین۔

06/03/2026

ایک خاتون بس میں سوار ہوئیں اور ایک مرد کے برابر نشست پر بیٹھیں۔ انکے پرس نے ساتھ بیٹھے مرد کو چوٹ پہنچائی
مرد خاموش رہا، اس مرد کو خاموش دیکھ کر خاتون نے سوال کیا کہ تم میرے پرس سے چوٹ پہنچنے کے باوجود خاموش کیوں رہے؟
مرد مسکرایا اور گویا ہوا :
"ایک معمولی سے چیز کے لیے مجھے برہم ہونے کے لیے کوئی ضرورت نہیں تھی جبکہ ہمارا ایکدوسرے کے ساتھ سفر نہایت مختصر ہے ، کیونکہ میں اگلے اسٹاپ پر اترنے والا ہوں"
اس جواب نے عورت کو بےچین کردیا اس نے اس مرد سے معافی طلب کی اور جو الفاظ سوچے وہ سنہری حروف سے لکھنے کے لائق ہیں
ہم میں سے ہر شخص کو یہ سوچنا چاہیے کہ دنیا میں ہمارا وقت بہت مختصر ہے، اس مختصر وقت کو بےجا بحت و تکرار ، حسد، کدورت اور دیگر رنجشوں سے تاریک نہیں کرنا چاہیے اور یہ خراب رویے وقت اور توانائی کی بربادی کا سبب ہوتے ہیں۔

کیا کسی نے اپکی دل شکنی کی ہے؟ پرسکون رہیے سفر بہت مختصر ہے💛

کیا کسی نے آپکو دھوکا دیا، ذلیل کیا ہے؟
ریلیکس رہیں ، دباؤ کا شکار نہ ہوں
سفر بہت مختصر ہے💛

کیا کسی نے بلاسبب آپکی بےعزتی کی ہے؟
پرسکون رہیے اور نظرانداز کیجیے
سفر بہت مختصر ہے💛

کیا کسی نے آپ پر ناپسندیدہ تبصرہ کیا ہے؟
ہرسکون رہیے، نظرانداز اور معاف کیجیے ، انکو اپنی دعا میں یاد رکھیں، اور بغیر صلہ کے ان سے محبت کیجیے
سفر بہت مختصر ہے💛

ہر وہ تکلیف جو کسی دوسرے سے آپکو ملی، درحقیقت وہ اس وقت ہی تکلیف بنتی ہے جب آپ اسکے بارے میں سوچتے ہیں
یاد رکھیے ہمارا ایکدوسرے کے ساتھ سفر بہت مختصر ہے💛

کوئی اس سفر کی طوالت سے واقف نہیں، کل کسی نے نہیں دیکھا، کوئی نہیں جانتا کہ وہ اپنے اسٹاپ پر کب پہنچ جائیگا

ہمارا سفر بہت مختصر ہے💛

آئیں اپنے خاندان اور دوستوں کی تعریف کریں۔ ان سے ہنسی مذاق کیجیے، انکا احترام کیجیے، محبت کرنے والے اور درگزر کرنے والے بنیں

کیونکہ سفر بہت مختصر ہے💛

مسکراہٹ بانٹیں ، اپنا سفر اتنی ہی خوبصورتی سے اختیار کریں جیسا آپ اسکو خوبصورت دیکھنا چاہتے ہیں
*"ھمارا سفر بہت مختصر ہے"*💛

25/02/2026

Bacho ka khayal karain #جمعہ

23/02/2026

جن اور شیطان کھجور سے نفرت کیوں کرتے ہیں

رسولِ اکرم ﷺ نے وصیت فرمائی ہے کہ روزانہ کھجور کھایا کرو، خاص طور پر صبح کے وقت ۳، ۵ یا ۷ دانے۔
آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کھجور کو طاق عدد (یعنی ۱، ۳، ۵، ۷...) میں کھاؤ، جفت عدد میں نہیں۔

یہ کیوں؟
تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ جب انسان کھجور کھاتا ہے تو اس کے جسم میں ایک نیلی غیر مرئی توانائی پیدا ہوتی ہے جو پورے جسم کو گھیر لیتی ہے، اور اس توانائی کی وجہ سے جن، شیطان، جادو اور نظرِ بد سے حفاظت ہوتی ہے۔
لیکن یہ اثر صرف تب ہوتا ہے جب کھجور کو طاق عدد میں کھایا جائے (۳ یا ۵ یا ۷ عدد)۔

اگر کوئی شخص کھجور کو جفت عدد میں کھائے (مثلاً ۲، ۴ یا ۶)،
تو وہ جسم میں شکر کی شکل میں ذخیرہ ہو جاتی ہے،
اور اس سے ذیابطیس یعنی شوگر کا مرض پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

دنیا کے سائنس دان حیران ہیں کہ
نبی کریم ﷺ نے صدیوں پہلے جن و شیطان کے اثر سے بچنے کا یہ قدرتی علاج بتایا۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
"کھجور واقعی ایک عجیب دوا ہے۔"

اگر کسی کو خون کی کمی (انیمیا) ہو تو کیمیائی دواؤں کی ضرورت نہیں،
صرف روزانہ چند کھجوریں کھاؤ، خون کی کمی دور ہو جائے گی۔

اگر جگر چربی والا یا بڑا ہو گیا ہے تو روزانہ صبح کے وقت سات کھجوریں کھاؤ،
ان شاءاللہ چربی ختم ہو جائے گی۔

اگر تم سرد مزاج ہو تو روزانہ تین کھجوریں کھاؤ۔

کینسر ہر مسلمان کے لیے ایک خطرہ ہے —
لیکن کیا تم جانتے ہو کہ کینسر سے بچاؤ کا بہترین علاج بھی کھجور ہے؟

حدیثِ مبارک میں ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس گھر میں کھجور نہیں، وہ گھر یقیناً بھوکا ہے۔"

🌿 *نصیحتیں (قیمتی مشورے)*
*پہلی نصیحت:*
صبح بیدار ہوتے ہی جو بھی کام کرو، چھوٹا ہو یا بڑا،
ہمیشہ "بسم اللہ الرحمن الرحیم" سے شروع کرو،
اللہ تمہیں کامیابی عطا کرے گا۔

*دوسری نصیحت:*
ہمیشہ پانی اتنا ہی پیو جتنی جسم کو ضرورت ہو۔
زیادہ پانی پینے سے جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
جدید سائنس یہ کہتی ہے کہ روزانہ آٹھ گلاس پانی پینا چاہیے،
لیکن حقیقت میں پانی صرف ضرورت کے مطابق پینا چاہیے۔
جب پیاس لگے تب پانی پیو۔

*تیسری نصیحت:*
ہمیشہ ورزش کرو،
چاہے کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہو۔
جسم کو ہمیشہ حرکت میں رہنا چاہیے۔
چاہے چہل قدمی ہو، تیراکی ہو یا کوئی اور ورزش۔

*چوتھی نصیحت:*
کھانے کو کم کرو۔
حدیث میں ہے:
"آدمی کے لیے اتنا کھانا کافی ہے جتنا اس کی کمر کو سیدھا رکھے۔"
زیادہ کھانا چھوڑ دو،
کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہی نقصان ہے۔
سادی زندگی اپناؤ اور کھانے میں اعتدال رکھو۔

*پانچویں نصیحت:*
جہاں تک ممکن ہو،
گاڑی صرف ضروری موقعوں پر استعمال کرو۔
مسجد، دکان یا کسی عزیز کے گھر جانے کے لیے
ممکن ہو تو پیدل چلو۔

*چھٹی نصیحت:*
غصہ نہ کرو۔
غصہ نہ کرو۔
غصہ نہ کرو۔
پریشان مت ہو، درگزر کرو۔
غم اور غصہ تمہاری صحت کے لیے نقصان دہ ہیں اور خوشی کو ختم کر دیتے ہیں۔
ان لوگوں کے ساتھ رہو جن کے پاس تمہیں سکون ملتا ہے۔

*ساتویں نصیحت:*
جیسے کہا جاتا ہے:
"اپنا مال دھوپ میں رکھو، خود سایہ میں بیٹھو۔"
زندگی کو اپنے اوپر اور دوسروں پر تنگ نہ کرو۔
مال اس لیے ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے استعمال ہو،
نہ کہ زندگی کو برباد کرنے کے لیے۔

*آٹھویں نصیحت:*
اس چیز پر حسرت نہ کرو جو تم حاصل نہیں کر سکتے۔
بھول جاؤ، اگر وہ تمہارے نصیب میں ہے تو
تمہارے پاس ضرور آئے گی،
چاہے تم اپنے بستر پر ہی کیوں نہ ہو۔
اور جو چیز تمہارے نصیب میں نہیں،
اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے روک دیتا ہے،
کیونکہ وہ تمہارے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔

*نویں نصیحت:*
عاجزی اختیار کرو،
عاجزی اختیار کرو۔
غرور اور تکبر مال و طاقت دونوں کو ختم کر دیتا ہے۔
تواضع تمہیں لوگوں میں محبوب بناتی ہے
اور اللہ کے نزدیک تمہارا درجہ بلند کرتی ہے۔

*دسویں نصیحت:*
سفید بالوں کا آنا زندگی کے خاتمے کی علامت نہیں،
بلکہ ایک نئی اور بہتر زندگی کی شروعات ہے۔
مثبت سوچ رکھو،
سفر کرو،
اور حلال روزی سے لطف اٹھاؤ۔

*ایک اور نصیحت:*
جلدی سو جاؤ ✔️
رات گئے جاگنا چھوڑ دو ✔️
یہ عادت صحت کے لیے بہتر ہے۔

🌙 *آخری اور سب سے اہم نصیحت:*
نماز کبھی مت چھوڑو۔
نماز کو اول وقت میں ادا کرو۔ کیونکہ نمازِ اول وقت دنیا اور آخرت دونوں میں تمہارے لیے نفع کا سود نامہ ہے۔
اس دن جب نہ مال فائدہ دے گا، نہ اولاد۔

*اگر یہ باتیں تمہیں اچھی لگیں تو اسے دوسروں تک پہنچاؤ تاکہ نیکی پھیل جائے۔ اگر تمہیں پسند نہ آئیں تو بھی کسی کو محروم نہ کرو — شاید کسی دوسرے کے لیے یہ باعثِ خیر بن جائے۔*

پیج فالو کریں لائک کریں جس میں احادیث مبارکہ اقوال زریں مجرب وظائف اور مفید مشورے دیے جاتے ہیں

🌹درود شریف پڑھ لیجیے 🌹

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Islamabad