17/08/2026
شیخ احمد سرہندی اور ابو الحسن علی ندوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا ابو الحسن علی ندوی یرحمہ اللہ نے "تاریخ دعوت و عزیمت" کی ایک پوری جلد ، حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی یرحمہ اللہ (م 1034ھ مطابق 1624 ء ) کے لیے مخصوص کی ہے۔
شیخ احمد سرہندی کا نام ، وحدة الوجود کے مقابلے میں ، "وحدة الشہود" کی اصطلاح کے لیے مشہور ہے۔
مولانا ابو الحسن علی ندوی کی اس ضخیم کتاب کا حاصل یہ ہے کہ شیخ احمد سرہندی سلوک کے تین مختلف مراحل سے گزرے۔
سالک کا پہلا اور ابتدائی مرحلہ "وحدة الوجود" کا تھا ، جو ان کے والد سے انہیں ورثے میں ملا تھا۔ شیخ قران و سنت میں طویل عرصے تک صفات الہی پر پر غور و فکر کرتے رہے۔ اصلاح کرلی۔ رو رو کر توبہ اور استغفار کیا۔
سالک کا دوسرا مرحلہ "وحدة الوجود" کے بجائے ، " وحدة الشہود" کا تھا ، جس کا مطلب یہ ہے کہ سالک کے دل و دماغ پر اللہ تعالی کی قدرت ، عظمت اور سطوت کا ایسا غلبہ طاری ہوجاتا ہے کہ تمام مخلوقات ، موجود ہوتے ہوئے، اللہ کے سامنے "کالعدم" ہوجاتی ہیں۔
جیسے سورج کے نکلنے پر تارے موجود ہوتے ہوئے بھی نظر نہیں آتے۔ اس مرحلے میں داخل ہوکر شیخ کئی سال مراقبہ اور غور و فکر کرتے رہے۔ پھر دوبارہ اپنی فکری اصلاح کرلی ۔ رو رو کر توبہ اور استغفار کرتے رہے۔
سالک کا تیسرا اور آخری مرحلہ ، "عبودیت" کا تھا۔
یہی صحیح عقیدہ ہے جہاں تک وہ بالآخر پہنچے۔
اللہ خالق ہے۔ ہم مخلوق۔
اللہ معبود ہے اور ہم سب عِباداللہ ہیں۔
وہ مکمل قدرت اور مکمل علم رکھتا ہے۔
بہرہ نہیں، سب کی سنتا ہے۔
اندھا نہیں سب کو دیکھتا ہے۔
السمیع ہے ، البصیر ہے۔
ہر شخص کے دلوں کے راز جان لیتا ہے۔
لیس کمثلہ شیئ۔ کوئی چیز بھی اس کی طرح نہیں۔
سمندر اور قطرے کی مثال نہیں دی جاسکتیں۔
صحرا اور ذرے کی تمثیل نہیں دی جاسکتی۔
احد ہے۔ سب سے نرالا، سب سے مختلف۔
اسی کی عبادت و اطاعت مطلوب ہے۔
اسی کی نماز ، اسی کے لیے قربانی و زکوٰۃ،
اسی کے لیے رکوع و سجود ،
اسی کی محبت ، اسی کا خوف ،
اسی کی خشیة، اسی کا تقوی،
اسی کے احکامات کی اطاعت۔
اسی سے امیدیں، اسی سے دعا ،
ظاہری و جسمانی اور قلبی و ذہنی عبادت صرف ایک اللہ کے لیے ہیں۔
اسی کے لیے زندگی ، اسی کے لیے موت۔
مجدد الف ثاني کا سب سے بڑا کارنامہ اکبر کے " دین الہی" کے خلاف جنگ ہے۔ یہ دراصل سیکیولرازم کے خلاف ایک محاذ تھا۔ اگر وہ یہ جہاد نہ کرتے تو آج ہندوستان میں شاید ایک دو فی صد بھی مسلمان نہ ہوتے۔ بلا شبہ وہ مجدد ہیں۔
حضرت مجدد صاحب جس اعتماد اور وضاحت سے کہتے ہیں کہ ہمیں ( شیخ اکبر ابن عربی کی ) " فتوحاتِ مکیہ" کی نہیں، بلکہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی) " فتوحاتِ مدنیہ" کی ضرورت ہے اور ( شیخ اکبر ابن عربی م 638ھ کی ) " فُصُوصُ الحِکَم " کی نہیں، بلکہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی) " نُصُوص" شریعت کی ضرورت ہے ، اس طرح بعد کے بزرگوں اور صوفیوں میں اس طرح کے واضح اور غیر مبہم الفاظ سے یہ اعتماد اور یہ عزم نظر نہیں آتا ، ہر چند سب نے اتباع و التزام شریعت کی بات کی ہے۔
"مکتوبات امام ربانی" کے طالبِ علم کو ان خطوط کی ترتیبِ زمانی کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے، ورنہ سالک کی موت العِياذُ بِاللہ کفر و ضلالت پر بھی ہو سکتی ہے۔
اللہ تعالٰی ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ان کے صحابہ اور محسن تابعین و تبع تابعین کے راستے پر موت تک قائم و دائم رکھے اور ہر قسم کی فکری ،عملی، ذہنی اور قلبی گمراہی سے بچائے۔ آمین۔
خلیل الرحمن چشتی
3 ربیع الاول 1448ھ
17 اگست 2026ء
اسلام آباد