Khaleel ur Rehman Chishti

Khaleel ur Rehman Chishti

Share

An educational page run on the directions of Ustaadh Khaleel-ur-Rehman Chishti.

10/05/2026

منصور عباسی ، بیوی حرہ اور امام ابو حنیفہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : مولانا شمس نوید عثمانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عباسی سلطنت کے حرم میں خلیفہ منصور اور اس کی بیوی حرّہ خاتون میں گرما گرم بحث چل رہی تھی ــــ خاتون کہتی تھی کہ خلیفہ شوہر کی حیثیت سے عدل و انصاف نہیں کر رہا ہے۔ منصور کو یہ بات تسلیم نہیں تھی ــــ
آخر منصور نے ثالث کی تجویز سامنے رکھی اور خاتون نے چھوٹتے ہی اس کے لیے امام صاحبؒ کا انتخاب کیا ۔
اس کو قوی توقع تھی کہ حق کے مقابلے میں سونے چاندی اور قوت و اقتدار کی دھاک اس عظیم انسان پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتی ۔
امام صاحبؒ تشریف لائے اور خاتون ورائے حجاب گفتگو سننے کے لیے سرا پا گوش ہوگئی ۔
"ازروئے شریعت" خلیفہ نے نہایت چالاکی سے گفتگو کو اس زاویے سے اُٹھایا
"ایک مرد کو کتنے نِکاح کرنے کی اجازت ہے ؟"
"چار" امام صاحبؒ کا مختصر اور سیدھا سادہ جواب تھا۔
یہ سُنتے ہی منصور کا چہرہ مرد کے فاتحانہ احساس سے چمک اُٹھا اور اس نے پردے کی طرف رُخ کر کے خاتون سے کہا:
"سُنتی ہو .....؟"
"جی ہاں سُنا!"
خاتون نے کہا اور اس کی آواز میں نسوانی موقف کے سلسلے میں دبی دبی پکار تھی ۔
امام صاحبؒ نے یہ آواز سُنی اور حسّاس ترین اِنسان نے فوراً سمجھ لیا کہ صورتِ حال کیا ہے۔
گفتگو اصولاً ختم ہو چکی تھی مگر عورت کی کمز ور سسکی نے چونکا دیا تھا کہ اگر عورت کے حقوق کا اعلان نہ کیا گیا تو حقیقت پر ظلم ہوگا ــــ امام صاحبؒ فوراً بے تاب ہو گئے
اور جرأت کے ساتھ خلیفہ کی طرف رُخ کر کے کہا:
"لیکن یہ اجازت اس کے لیے خاص ہے جو عدل و انصاف پر قادر ہو ــــ
ورنہ ایک سے زیادہ ِنکاح کرنا ٹھیک نہیں ہے
" خلیفہ کے موقف کے علی الرغم یہ اعلائے کلمتہ الحق پُوری جرأت و قوت کے ساتھ کیا گیا تھا ۔
خلیفہ نے احساسِ شکست سے سر جھکا لیا ــــ
پس پردہ خدا کی کمزور مخلوق عورت اپنا مقدمہ جیت چکی تھی ۔
امام صاحبؒ واپس گھر چلے آئے ۔
امام صاحبؒ جیسے ہی گھر پہنچے ایک شاہی غلام خاتون کی طرف سے پچاس ہزار کی مالیت کا خراجِ عقیدت اور یہ پیغام لیے ہوئے پہنچا کہ
"آپ کی کنیز سلام عرض کرتی ہے اور آپ کی صاف گوئی کی دل سے سپاس گزار ہے۔
" امام صاحبؒ نے اس بیش قیمت عطیہ کو قبول کرنے سے اِنکار کرتے ہوئے کہلا دیا:
"میں نے محض اپنا فرض ادا کیا ہے جس کے پیچھے میری کوئی ذاتی خواہش اور غرض نہیں تھی ۔"

09/05/2026

صحافی اور طوائف (بدن فروش پری)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاعر : سرفراز بزمی ، راجستھان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کل اک صحافی سے کوٹھے کی نازنیں بولی
تری خبر سے تو اچھی ہے میری بے خبری

قلم فروش ہے تو اور بدن فروش ہوں میں
یہ تیری قحبہ گری ہے وہ میری قحبہ گری

مرا خیال ہےمیں پھربھی تجھ سےبہتر ہوں
کہ مجھ کو اس پہ نہیں ادعائےخوب تری

بدن فروش تو ہوں پر نہیں ضمیر فروش
کہ مجھ کو خون رلاتی ہے میری دربدری

اور ایک تو ہے کہ مافی الضمیر کا سودا
پھر اس پہ طرفہ تماشہ غرور دیدہ وری

کہاں یہ گرمئ افلاس سے جھکا ہوا جسم
کہاں قلم کی تجارت بنام راہ بری

یہ زر کا زور یہ سچ کو غلط غلط کوصحیح
کسی کی پردہ دری اور کسی کی جامہ دری

یہ گفتگو جو سنی عرش کے مکینوں نے
زمیں کے پست نشینوں پہ آہ سرد بھری

نہ جانے کون ہے چھوٹا نہ جانے کون بڑا
قلم فروش صحافی ، بدن فروش پری

سرفراز بزمی
راجستھان انڈیا

22/04/2026

Big shout out to my newest top fans! 💎 Nadeem Riaz

Drop a comment to welcome them to our community,

12/04/2026

ایران امریکہ مذاکرات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایران نے آج 12 اپریل کو بہت اچھا کیا کہ امریکہ کے بے جا ظلم و ستم ، تین ہزار انسانی جانوں اور کئی بلین ڈالر کے مادی نقصان کے بعد ، امریکہ کے تحکمانہ و متکبرانہ مطالبات کو من و عن قبول کرنے سے انکار کردیا۔
انہیں معلق لٹکا کے رکھ دیا ہے۔
امریکہ کے پاس مزید حاصل کرنے کے لیے کیا ہے ؟
ایران کے پاس مزید کھونے کے لیے کیا ہے ؟
ابھی مذاکرات ختم نہیں ہوئے۔ دو تین بعد امریکہ میں لبنان کے سلسلے میں گفتگو ہوگی۔

امریکہ ، اپنے امریکی عوام اور اسرائیل کے درمیان مڈٹرم الکشن تک تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ معلق اور لا تعلق نہیں رہ سکتا۔ وانس کے امریکہ پہنچنے کے فورا بعد کابینہ ، کانگریس ، فوج اور دونوں پارٹیوں میں داخلی بحث و تکرار اپنے عروج پر ہوگی۔
میرا خیال ہے کہ دو سے چار ہفتوں میں مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوگا۔
پاکستان بھی حتمی نتائج تک مصالحت کے لیے اپنا فعَّال کردار ادا کرتا رہے گا۔
دنیا بہت دیر تک تیل اور گیس کے بحران کو برداشت نہیں کر سکے گی۔
سعودی عرب کے مشرقی ساحل پر پاکستانی فوج کا پہنچ جانا ایران اور سعودیہ کے درمیان عدم جارحیت کی ضمانت ہے۔
اللہ تعالٰی مزید جنگ اور نقصان سے محفوظ رکھے۔

خلیل الرحمٰن چشتی
23 شوال 1447ھ
12اپریل 2026ء
اسلام آباد

08/04/2026

امریکہ ایران جنگ 2026 کا نتیجہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ کاشکر ہے کہ آج 14 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا۔ پاکستان کی یہ بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ اللہ کرے حتمی معاہدہ طے پا جائے۔
نتیجہ کیا نکلا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1- امریکہ اور ٹرمپ ساری دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے۔ قران مجید میں طاغوتی متکبر اقوام و اشخاص کے انجام کی سچی داستانیں مرقوم ہیں۔
2- ایرانی قیادت اور مظلوم عوام نے عزیمت کی عظیم تاریخ رقم کی۔ 3000 سے زیادہ شہادتوں کو خوش دلی سے قبول کیا۔
روس اور چین نے بھی بحر قزوین کے ذریعے ایران کو تقویت دے کر امریکی اسرائیلی طاغوت کا مقابلہ کیا۔
3- امریکہ اور درندہ صفت اسرائیل نے مسلمانوں کو تقسیم کرکے فائدہ اٹھانے کی کامیاب کوشش کی۔
4- امریکہ اور اسرائیل نے مسلمانوں کے وسائل کا بے دردی سے استعمال کیا۔ دونوں طرف تباہی کی اور اب دونوں ہی سے ہرجانہ وصول کریں گے۔
5- ایران نے شامی و عراقی سنی مسلمانوں اور اخوانیوں کا قتل عام کیا تھا ، انہیں ان کی سزا ملی۔ امید ہے وہ آئندہ انتہا پسند شیعہ موقف سے کنارہ کشی اختیار کریں گے۔
اسرائیل کے بارے میں ایرانی پالیسی پہلے گو مگو کا شکار تھی ، لیکن بعد میں انہوں نے صحیح موقف اختیار کیا۔ جو قابل تحسین ہے۔
6- سنی عرب ممالک بالخصوص سعودیہ اور قطر اس جنگ کے مخالف تھے۔ انہیں اب یہ گہرا احساس ہوگیا ہے کہ امریکہ کو اپنے اڈے دے کر انہوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ انہیں اس کی سزا ملی۔
7- امارات اور بحرین نے نہ صرف اسرائیل کو تسلیم کیا۔ ابراہیمی معاہدے میں شریک ہوئے ، بلکہ موساد سے مل کر فساد میں حصہ لیا۔
یہ ریاستیں اہل سنت کے لیے بد نما داغ ہیں۔
امارات اب اسرائیل سے مل کر سوڈان اور صومالیہ میں اہل سنت پر ظلم ڈھا رہا ہے۔ دبئی وغیرہ سود ، شراب ، جسم فروشی کے بد ترین مقامات ہیں۔ یہ اسفل سافلین ہیں ۔ انہوں نے مندر اور یہودی کنیسہ قائم کیے ۔ کچھ ملعون عربوں نے علانیہ بت پرستی اختیار کرلی ہے ۔
ان دو ممالک سے کسی خیر کی توقع نہیں۔
8- پاکستان کے لیے خطرات اب پہلے سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ انہیں أفغانستان سے فورا دوستی کرنی ہوگی۔
اگر بگرام ایرپورٹ پر امریکہ کا دوبارہ قبضہ ہوجاتا ہے تو پاکستان کی خیر نہیں۔ پاکستان کو
اس غلطی سے بچنا چاہیے ، جو مشرف اور عربوں نے کی۔
9- پاکستان ، سعودی عرب، قطر اور ترکی کو چین کے ساتھ مل کر نیا عسکری محاذ قائم کرنا ہوگا۔
سیسی کا مصر دوغلہ ہے۔ اس پر ہرگز اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔
نئی صف بندی کی ضرورت ہے۔
10- ایران اور سعودی عرب کو مل بیٹھ کر سنی شیعہ معاملات میں معتدل سیاسی موقف اپنانا ہوگا۔ باہمی تکفیر کے بجائے بقائے باہمی پر عمل کرنا ہوگا۔ شیعت اور مدخلیت کی دوسرے ممالک میں توسیع کی پالیسی پر نظر ثانی ضروری ہے۔ معتدل سلفیت اور مدخلیت میں خط فاصل کھینچنا ضروری ہوگیا ہے۔
مدخلیت اور شیعت سے امریکہ اور اسرائیل نے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔
اہل سنت اپنے عقائد پر سختی سے قائم رہیں،
لیکن بے جا تکفیر سے بچیں۔
پاکستان اس سلسلے میں بھی سفارتی کوششیں کرسکتا ہے۔
11- اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط اور توانا ہے۔
وہ مسلسل لبنان ، شام، عراق ، اردن اور فلسطین میں توسیعی منصوبوں پر کام کر رہا ہے ۔ فلسطینیوں پر ظلم و ستم میں کوئی کمی نہیں آئی۔
12- اگر عاصم منیر، شہباز شریف اور اسحق ڈار اپنی کامیاب سفارت کاری سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں کامیاب ہوجائیں تو یہ ان کی اور امت کی دنیاوی اور اخروی بھلائی کا بہت بڑا سامان ہوگا۔
وما تشاون الا ان یشاء اللہ رب العالمين

خلیل الرحمن چشتی
19 شوال 1447ھ
8 اپریل 2026 ء
اسلام آباد

21/03/2026

عید کیا منائیں ہم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عید اب کے آئی ہے ، ظلمتوں کے موسم میں
ڈرونز ، بم ،میزائل ، گونجتے ہیں رم جھم میں
چند روزہ دنیا کی رونقوں کے شیدائی
امتِ محمد سے بغض میں ہیں سودائی
اتحادِ امت پھر اج پارہ پارہ ہے
ناگوار ناممکن ، ممکنہ خسارہ ہے
عید کیا منائیں ہم ؟

خلیل الرحمن چشتی ، اسلام آباد

یکم شوال 1447ھ
21 مارچ 2026ء

13/02/2026

میرے بھی جذبات ہیں ، لیکن میں جذباتی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے فرار کے بعد منعقد ہونے والے انتخابات میں ہر پاکستانی کی دلچسپی غیر منطقی نہیں۔ یہ ہمارے پرانے ہم وطن ہیں ۔ انہوں نے بھی کانگریسی نظریے کو مسترد کرکے دو قومی نظریے کی حمایت کی تھی۔ اسلامی تحریک سے وابستہ افراد کی جذباتی وابستگی ایک فطری چیز ہے۔

کل 12 فروری کو ساڑھے تین بجے ہی سے میری نگاہیں اور دل و دماغ نتائج کے منتظر تھے۔ ہر تحریکی کی طرح میرے بھی جذبات ہیں ، لیکن میں جذباتی نہیں ہوں۔ جذبات میں انسان بعض اوقات عقل کھو بیٹھتا ہے۔ شیطان اس سے تحلیل اور تجزیے کی دولت چھین لیتا ہے۔

میری کل کی پوسٹ پر بعض تحریکی بھائیوں نے برہمی ، جھنجھلاہٹ اور چڑچڑے پن کا مظاہرہ کیا۔ میں نے لکھا تھا کہ جماعت اسلامی جیتے یا بی این پی BNP، ہماری کوشش یہ ہوکہ بنگلہ دیش دوبارہ ، ( عوامی لیگ اور حسینہ واجد کی طرح ) بھارت کی گود میں نہ جائے۔ اس کا اسلامی تشخص برقرار رہے۔ بنگلہ دیش کی کچھ جغرافیائی مجبوریاں ہیں۔ اس کے اطراف بھارت کی سات ریاستیں ہیں۔
بھارت وہاں پہلے اپنی فوجیں داخل کرچکا ہے۔ مکتی باہنی کی تربیت کرچکا ہے۔ وہ وہاں کے چپے چپے سے واقف ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی قیادت بہت بالغ نظر ہے۔ ہماری طرح جذباتی نہیں۔ وہ بی این پی کی پہلے بھی اتحادی رہی ہے۔ آئیندہ بھی ان سے بہترین تعلقات رکھے گی۔ پارلیمنٹ میں ان کی نشستیں %25 سے زیادہ رہیں گی۔ ان کا کام یہ ہوگا کہ وہ ہر بل پر مثبت مشورے دیں۔ ملک کو سیکولر بننے نہ دیں۔ کوئی ایسا بل پاس نہ ہونے دیں جو قرآن و سنت سے متصادم ہو۔ خارجہ پالیسی میں چین اور پاکستان کے ساتھ اچھے اقتصادی اور عسکری روابط ہوں۔ باہمی تعاون فروغ پائے۔
اس وقت بنگلہ دیش کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عوامی لیگ کے دور میں بہت سے بھارتی ہندوؤں کو وہاں کی شہریت دے کر ، عدلیہ ، سی آئی ڈی ، الکشن کمیشن ، بیوروکریسی ، پولیس ، فوج ، دیگر جاسوسی اداروں کے کلیدی عہدوں پر فائز کیا گیا ہے۔ تجارت بھی انہی کے ہاتھ میں ہے۔
مجھے امید ہے کہ وہ اس سے بحسن و خوبی عہدہ برا ہوں گے۔
اللہ نے انہیں موقع دیا ہے کہ ذہانت اور امانت و دیانت سے حکمرانی کریں۔ قرآن کے الفاظ میں
" فینظر کیف تعملون " انہیں یہ موقع صرف اس لیے دیا گیا ہے کہ اللہ جانچے اور پرکھے کہ اب ان کا رویہ اور طرز عمل کیا ہوتا ہے ؟

تلک الایام نداولھا بین الناس۔ کبھی مجیب ، کبھی ارشاد، کبھی حسینہ ، کبھی خالدہ اور کبھی طارق رحمان ۔ اللہ دیکھتا ہے کہ کون اس مہلت سے کیا فائدہ اٹھاتا ہے ؟
ہمیں اپنے جذبات کو جذباتیت سے محفوظ رکھنا ہے۔ جذباتیت بعض اوقات انسان کو نفسیاتی مریض بنادیتی ہے۔

اللہ تعالٰی ہمیں تاریخ کا صحیح فہم عطا فرمائے، جس طرح فرعون کے دربار کے بندہ ء مومن کو عطا ہوا تھا ، جس کا ذکر سورت المؤمن میں ہوا ہے۔

خلیل الرحمٰن چشتی
13 فروری 2026ء
24 شعبان 1447ء
اسلام آباد

12/01/2026

خدا کے وجود‘ پر ایک مکالمہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: ذوالفقار احمد چیمہ صاحب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پچاس سالہ پروفیسر اینڈریو بینٹ، جنوبی کوریا کی انتہائی معتبر یونی ورسٹی میں فلاسفی کے پروفیسر تھے، جو اپنی ذہانت اور حاضر جوابی میں بہت مشہور تھے اور اپنی زبان دانی، اور دلائل سے مخالف کو بے بس اور قائل بلکہ گھائل کردینے کے ماہر تھے۔ پروفیسر صاحب خدا کے وجود کے منکر تھے، اور اس ضمن میں وقتاً فوقتاً اپنے نظریات کا کلاس میں بھی کھل کر اظہار کیا کرتے تھے، جنھیں سن کر اکثر طلبہ وطالبات خاموش رہتے۔ کوئی بھی ان کے ساتھ بحث میں اُلجھنے کی جرأت نہ کرتا کیونکہ کوئی سٹوڈنٹ یہ نہیں چاہتا تھا کہ بھری کلاس میں اس کی پَت اتر جائے اور کلاس فیلوز کے سامنے اس کی سبکی ہو۔

لیکن آخرکار اس بلاشرکت ِ غیرے گرفت رکھنے کا اقتدار چیلنج ہوگیا۔ پروفیسر اینڈریو کی کلاس میں ایک اٹھارہ سالہ طالبہ عائشہ بھی تھی، جس نے دو سال پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ عائشہ ایک خاموش طبع لڑکی تھی اور کلاس میں ہونے والے بحث مباحثوں میں کبھی حصّہ نہیں لیتی تھی۔ پروفیسر اینڈریو سے پنجہ آزمائی کرنے سے تو بڑے بڑے باتونی اور تیزطرار سٹوڈنٹ بھی گھبراتے تھے مگر اُس روز کلاس نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک ایسا منظر جو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔

پروفیسراینڈریو نے کلاس میں آتے ہی اپنے من پسند موضوع خدا اور مذہب کی مخالفت پر بولنا شروع کردیا کہ ’’خدا کا تصوّر اور تمام مذاہب _ یہ سب انسانوں کی اپنی ایجاد ہیں۔ اپنے خوف پر قابو پانے کے لیے انسانوں نے خدا کا تصوّر تخلیق کرلیا ہے‘‘۔ اپنے نظریے کے حق میں بات کرتے ہوئے پروفیسر اینڈریو نے طلبہ و طالبات سے سوالیہ انداز میں پوچھا: ’’اگر خدا موجود ہوتا تو دنیا میں اس قدر برائیاں کیوں ہوتیں اور انسان اس قدر تکلیفوں اور مصائب کا شکار کیوں ہوتے؟‘‘ پروفیسر نے اپنی بات کو دہرایا اور پھر کلاس کی جانب فاتحانہ انداز میں دیکھا۔ کلاس کی خاموشی کو پروفیسر اینڈریو نے اپنی دلیل کی فتح سمجھا مگر اچانک حیرت انگیز طور پر کلاس سے ایک ہاتھ کھڑا ہوا۔ اسٹوڈنٹس کو مزید حیرت اس بات پر ہوئی کہ وہ ہاتھ انتہائی خاموش رہنے والی لڑکی عائشہ کا تھا۔

جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ عائشہ ایک خاموش طبع لڑکی تھی، جو اسلام قبول کرنے کے بعد اب اپنے کورس کے مطالعے کے بعد صرف قرآن اور اسلامک فلاسفی کو سمجھنے اور ذہن نشین کرنے میں مشغول رہتی تھی۔ پروفیسر نے اپنا سوال دُہرایا کہ ’’اگر کوئی خداموجود ہوتا تو دنیا میں اتنے دُکھ اور مصائب کیوں ہوتے؟ اور اگر خدا اتنا ہی انصاف پسند اور طاقت ور ہوتا تو انسانوں کو مصائب کا شکار نہ ہونے دیتا اور دنیا سے جہالت، جرائم اور برائیوں کا خاتمہ کردیتا‘‘۔ سب کی توقع کے برعکس عائشہ نے ہاتھ کھڑا کیا تو پوری کلاس حیران ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگی۔ کلاس کے تمام طلبہ و طالبات حیران تھے کہ یہ بے زبان سی لڑکی آخر کس اعتماد کی بنیاد پر ڈاکٹر اینڈریو جیسے کایاں شخص سے اُلجھنے کی جرأت کررہی ہے؟ ابھی ایک منٹ میں پروفیسر اسے لاجواب ہی نہیں بے عزّت کرکے رکھ دے گا۔ کیونکہ کوئی بڑے سے بڑا تیز طرار سٹوڈنٹ بھی پروفیسر کو شکست تو کیا اس کے ساتھ اختلاف یا بحث کرنے کی کبھی جرأت نہیں کر سکا تھا۔ اس پس منظر میں عائشہ کا ہاتھ کھڑا کرنا واقعی حیران کن تھا۔ پروفیسر نے بھی حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور کہا:’’ہاں، عائشہ بتائو کیا جواب ہے تمھارا؟‘‘

عائشہ نے کہا:’’سر! آپ کی بات کا جواب دینے سے پہلے کیا میں آپ سے ایک بات پوچھ سکتی ہوں؟‘‘ پروفیسر نے تکبّر اور خوداعتمادی سے گندھی ہوئی آواز میں کچھ زیادہ ہی بلند آواز میں کہا:’’ہاں ہاں، ضرور پوچھو‘‘۔ اس پر عائشہ بولی:’’سر! کیا یہ درست ہے کہ ہم انسانوں کو کوئی بھی فعل اور عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے؟‘‘پروفیسر نے کہا:’’ہاں، بالکل ہمارے پاس reason and freedom (شعور اور آزادی) ہے اور ہم اسی شعور اور آزادی کے ساتھ کوئی بھی عمل کرنے میں بااختیار ہیں‘‘۔

اس پر عائشہ نے اعتماد کے ساتھ کہا: ’’سر! آپ نے بالکل درست فرمایا۔ اب یہ بھی بتادیں کہ اگر معاشرے میں پوری سمجھ، شعور اور آزادی کے ساتھ کوئی شخص جرم کرتا ہے، کسی کو قتل کردیتا ہے یا بہت بڑا فراڈ کرکے کسی کو نقصان پہنچاتا ہے تو کیا ہم اس جرم یا برائی کا ذمّہ دار اُس شخص کو قراردیں گے یا وہاں کے لیگل سسٹم پر اس کی ذمّہ داری ڈال دیں گے؟‘‘

پروفیسر نے فوراً جواب دیا:’’سسٹم ذمہ دار نہیں ہوگا، جرم کرنے والا فرد ہی ذمہ دار ہوگا۔ لیگل سسٹم تو ہمیں راہ نمائی فراہم کرتا ہے۔ جرم کا ارتکاب تو ہم اپنی مرضی سے کرتے ہیں‘‘۔ اب عائشہ نے اور زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا:’’سر! اگر معاشرے میں ہونے والے جرائم کی ذمہ داری ہم جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص پر ڈالتے ہیں اور سسٹم کو اس کا ذمّہ دار قرار نہیں دیتے تو دنیا میں ہونے والی برائیوں کی ذمّہ داری برائیوں کا ارتکاب کرنے والے افراد کے بجائے خدا پر کیوں ڈال دیتے ہیں؟ کیا اس کے ذمہ دار برائیوں کا ارتکاب کرنے والے افراد نہیں ہیں؟ ‘‘

اسٹوڈنٹس اس مکالمے کو پوری توجہ سے سننے کے لیے دم بخود ہوگئے اور پروفیسر اینڈریو کی خوداعتمادی پہلی بار تھوڑی سی ڈگمگاگئی، مگر اس نے اپنا اعتماد قائم رکھتے ہوئے ایک اور سوال داغ دیا:’’مگر یہ کیسا خدا ہے جس نے دنیا کو اچھائیوں کے بجائے برائیوں (evils) سے بھر دیا ہے؟‘‘

عائشہ نے کہا:’’پروفیسر صاحب! ہم برائیوں کو نہ دیکھتے تو اچھائیوں سے لاعلم رہتے، ہمیں اچھائیوں کی اہمیّت کا اندازہ ہی برائیاں دیکھ کر ہوا ہے‘‘۔

یہ سن کر پروفیسر بولا :’’ٹھیک ہے مگر یہ وبائیں، طوفان، زلزلے اور آسمانی آفتیں جن سے ہزاروں انسان ہلاک ہوجاتے ہیں، یہ ہلاکتیں اور تباہ کاریاں تو انسانوں کی لائی ہوئی نہیں ہیں۔ اگر کوئی خدا ہوتا تو انسانوں کو ان ہلاکتوں اور مصائب میں کیوں مبتلا کرتا؟‘‘ اس پر طالبہ نے جواب دیا: ’’سر، آپ جانتے ہوں گے کہ بہت سے ڈاکٹر مریضوں کے لیے ایسی دوائیاں تجویز کرتے ہیں، جو بہت کڑوی ہوتی ہیں اور بعض اوقات ایسے انجکشن دیتے ہیں جو بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں‘‘۔

پروفیسر نے کہا:’’ہاں، میں خود بہت کڑوی دوائیاں کھاتا رہا ہوں اور بہت ہی تکلیف دہ ٹیکے لگواتا رہا ہوں‘‘۔ عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا:’’پروفیسر صاحب، آپ تسلیم کریں گے کہ ڈاکٹر کڑوی دوائیاں اور تکلیف دہ ٹیکے اپنے مریضوں کو تکلیف پہنچانے کے لیے نہیں دیتے بلکہ ان کے علاج اور صحت یابی کے لیے تجویز کرتے ہیں۔ یہ ابتلائیں، مصائب، اور صدمے ڈاکٹر کے تکلیف دہ ٹیکوں کی طرح انسانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں ہوتے۔ تکلیف انسان کو صبر اور حوصلہ سکھاتی ہے، دکھ انسانی شخصیّت کی نشوونما کرتے ہیں اور مصائب سے انسانوں کی تکمیل ہوتی ہے‘‘۔ کلاس کے طلبہ سے ایک آواز بلند ہوئی: ’’واہ، بہت خوب دلیل ہے‘‘۔ مگر پروفیسر اینڈریو جیسا شخص اپنی ایک طالبہ سے شکست کیوں مان لیتا۔ لہٰذا اس نے کہا:’’اگر خدا ہوتا تو وہ ایک perfect world تخلیق کرتا جو جرائم، مصائب اور تکلیفوں سے پاک ہوتی‘‘۔ عائشہ نے استاد سے پوچھا: ’’پروفیسر صاحب، آپ ادبی کتابیں پڑھتے ہیں؟‘‘ پروفیسر نے کہا :’’ہاں، میں انسانی زندگی کے بارے میں کہانیاں اور ناول دلچسپی کے ساتھ پڑھتا ہوں‘‘۔ عائشہ نے یہ سن کر سوال کیا: ’’پروفیسر صاحب! کیا آپ کو انسانی زندگی کی ایسی کہانیاں پسند ہیں جن میں کوئی موڑ، کوئی مشکل اور کوئی چیلنج نہ ہو۔ ہیرو صاف اور سپاٹ سڑک پر سفر کرتا ہوا اپنے طے شدہ وقت پر منزل پر پہنچ جائے، یا آپ کو ایسے ناول پسند ہیں جس میں راستہ کٹھن ہو، جرم بھی ہو، تصادم بھی ہو، غیر متوقع چیلنجز بھی ہوں اور کرداروں کو مصائب اور مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے، اور دکھ بھی سہنے پڑیں؟‘‘ پروفیسر نے کہا: ’’کتاب تووہی دلچسپ ہوگی جس میں جرائم بھی ہوں، مشکلات بھی ہوںاور چیلنج بھی ہوں‘‘۔

عائشہ نے جواب میں کہا:’’بس زندگی کے خالق نے بھی اسے سیدھا اور سپاٹ رکھنے کے بجائے اس میں اُونچ نیچ، مشکلات اور چیلنج ڈال کر اسے سبق آموز اور دلچسپ بنادیا ہے۔ مصائب ہمارے اندر صبر اور انسانی ہمدردی کے جذبات پیدا کرتے ہیں۔ صدمات اور چیلنج انسانوں میں مشکل حالات پر قابو پانے کی ہمت (resilience) پیدا کرتے ہیں۔ مشکلات اور آلام نہ ہوں تو انسان میں ان سے نبرد آزما ہونے کی طاقت اور صلاحیت پیدا ہی نہیں ہوسکتی۔ ان چیلنجوں کے بغیر تو انسان کو زندگی کے صحیح معانی ہی معلوم نہیں ہوسکتے‘‘۔ پروفیسر کھسیانی مسکراہٹ کے ساتھ بولا: ’’اچھا تو خدا نے زندگی کی کہانی دلچسپ بنانے کے لیے انسانوں کو ان دکھوں اور مصائب میں مبتلا کیا ہے؟‘‘ نہیں، خدا کے نزدیک زندگی ایک کہانی نہیں ایک ٹیسٹ ہے، ایک امتحان ہے‘‘، عائشہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔’’خالق نے اپنی واضح نشانیاں دکھا دی ہیں جو شعور رکھنے والے انسانوں کو سچائی تک یعنی خدا کے وجود تک پہنچنے میں راہ نمائی کرتی ہیں‘‘۔ اس نے پورے اعتماد سے جواب دیا۔

پروفیسر نے جھنجلا کر ایک اور سخت وار کیا:’’ٹھیک ہے، اگر خدا واقعی ہے تو لوگ اس کے وجود سے انکار کیوں کرتے ہیں؟ ‘‘۔ طالبہ نے سوال سنا اور معمولی توقف کے بعد کہا:’’پروفیسر صاحب! آپ یہ بتائیے کہ لوگ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے انتہائی مضر اور نقصان دہ ہے، اس کے باوجود کروڑوں کی تعداد میں لوگ اس غلط اور نقصان دہ عادت کو اپنائے ہوئے ہیں اور دن رات سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ وہ یہ نقصان دہ عمل کیوں کرتے ہیں؟‘‘فلسفے کے ماہر پروفیسر نے جواب دیا: ’’اس لیے کہ انھیں کوئی بھی عمل کرنے کا اختیار ہے، اور وہ اس اختیار کو وقتی خوشی یا لذّت کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں‘‘۔’’آپ نے بالکل درست کہا پروفیسر صاحب‘‘۔ عائشہ نے آواز قدرے بلند کرتے ہوئے کہا: ’’آپ نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ انسان اپنا اختیار (choice) ہمیشہ درست طور پر استعمال نہیں کرتے، وقتی لذّت، لطف، خوشی یا مفاد کے لیے وہ اس اختیار اور آزادی کا غلط استعمال بھی کرتے ہیں اور ایک غلط اور نقصان دہ راستے پر بھی چل پڑتے ہیں۔ سچائی کو ماننا یا نہ ماننا بھی ہمارے اختیار یا انتخاب کا معاملہ ہے اور ہمارا انتخاب غلط بھی ہوسکتا ہے‘‘۔

اب کلاس کے طالب علموں کی اکثریت عائشہ کو ستائش کی نظروں سے دیکھنے لگی تھی۔ مگر منطق اور دلیل کا ماہر پروفیسر اپنی ہی ایک سٹوڈنٹ سے شکست کھانے کو تیار نہ تھا، لہٰذا اس نے ایک اور تیرچلایا: ’’اگر خدا ہے تو نظر کیوں نہیں آتا، اس نے اپنے آپ کو مخفی کیوں رکھا ہوا ہے؟‘‘

طالبہ نے نپے تلے الفاظ میں جواب دیا:’’پروفیسر صاحب، جب خدا نے پردہ اٹھادیا اور اپنے آپ کو ظاہر کردیا، تو اُس دن امتحان ختم ہوجائے گا۔ اور امتحان کے ساتھ ہی دنیا کا بھی خاتمہ ہوجائے گا‘‘۔ پھر ایک وقفے کے بعد عائشہ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’مگر کیا شعور رکھنے والوں کو اپنے آس پاس خدا کی واضح نشانیاں نظر نہیں آتیں؟ خدا اپنی نازل کی گئی کتاب قرآنِ مجید میں خود بار بار کہتا ہے کہ میری تخلیقات پر غور کرو، عقل اور شعور استعمال کرکے میری نشانیوں کے ذریعے مجھے تلاش کرو۔ تمھیں سچائی نظر آجائے گی۔ پروفیسر صاحب، خدا کے منکروں کا نظریہ کس قدر کھوکھلا ہے۔ وہ یہ تو کہتے ہیں کہ ہر چیز مادّے سے پیدا ہوئی ہے مگر مادّے میں جان کس نے پیدا کی، ذرّے کو زندگی کس نے بخشی ہے؟ اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ پھر یہ کہ جب مادّے میں جان پڑگئی اور نباتات اور حیوانات وجود میں آگئے تو ان میں سے ایک جانور کو شعور دے کر انسان کس نے بنایا ہے؟ اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ محض یہ کہہ دینا کہ فطرت (Nature) خود بخود تخلیق کرتی ہے۔ ایک غیر عقلی اور غیر منطقی بات ہے۔ صدیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ آج تک کوئی فنکشنل چیز اپنے آپ پیدا نہیں ہوئی۔ وہ پوری دنیا میں کوئی ایک عمارت، ایک پُل ایک پرندہ یا کوئی ایک مشین بتادیں جو خود بخود بن گئی ہو۔ Evolution (ارتقا)کے نظرئیے کے حق میں آج تک کوئی ایک معمولی سی شہادت بھی پیش نہیں کی جاسکی‘‘۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’دوسری جانب جب خدا کہتا ہے کہ یہ کائنات اور انسان میں نے تخلیق کیے ہیں اور سورج اور چاند اور ہر چیز کو تمھارے لیے مسخر کردیا ہے تو ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ دنیا میں ہر وہ سامان بہم پہنچادیا گیا ہے، جو انسانی زندگی کی بقا اور نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ کیا کوئی معمولی سی عقل رکھنے والا شخص بھی یہ مان سکتا ہے کہ سورج اور چاند خودبخود پیدا ہوگئے اور خودبخود صدیوں سے اعلیٰ ترین درجے کی precision [درستی]کے ساتھ اپنے مدار میں چل رہے ہیں اور اپنا دیا گیا ٹاسک پورا کررہے ہیں؟ انسانی جسم کے اندر چلنے والے حیرت انگیز سسٹمز بھی پکار پکار کر کسی عظیم خالق کے ہونے کی شہادت دے رہے ہیں۔ انسان کے اعضاء مثلاً آنکھیں، ناک، کان، دل، جگر، آنتیں، ہر عضو کا مخصوص فریضہ اور ڈیوٹی ہے اور جس عضو کو جہاں ہونا چاہیے تھا اسے وہیں رکھا گیا ہے۔ اسی لیے خدا نے انسان کو اپنی Best of Creations (تخلیق کا شاہکار) قرار دیا ہے۔ استاد محترم، میرا آپ سے سوال ہے کہ انسانی جسم کا حیرت انگیز سسٹم اور اس کے اندر چلنے والے کارخانے، کیا یہ سب اپنے آپ بن گئے ہیں؟ کیا آپ کا شعور اور عقل یہ بات تسلیم کرتی ہے؟ نہیں، عقل یہ کہتی ہے کہ یہ اپنے آپ نہیں بن سکتا، یہ کسی بہت طاقت ور ہستی کی قوّتِ تخلیق کا شاہکار ہے‘‘۔

کلاس میں مکمل خاموشی طاری تھی۔ مگر یہ واضح تھا کہ طلبہ و طالبات عائشہ کی باتوں کا اثر قبول کررہے ہیں، اور پروفیسر شکست ماننے کے لیے تیّار نہیں تھا، اس کے ترکش میں ابھی چند تیر باقی تھے۔ اس نے ایک اور تیر پھینکا :’’جیسا تم کہہ رہی ہو کہ خدا بڑا عظیم بھی ہے اور وہ انسانوں کا خیرخواہ بھی ہے تو پھر ہمیں دنیا میں unreasonable sufferings (نامناسب خرابیاں اور زیادتیاں)کیوں نظر آتی ہیں؟ اتنی بڑی تعداد میں معذور بچے کیوں پیدا کیے گئے ہیں؟‘‘ عائشہ نے پورے سکون سے جواب میں کہا: ’’پروفیسر صاحب، آپ ایک لیجنڈری ہستی ہیلن کیلر کو تو جانتے ہوں گے‘‘۔ ’’ہاں ہاں، وہی نابینا اور بہری خاتون۔ جو بہت بڑی رائٹر بن گئی تھی‘‘، پروفیسر نے جواب دیا۔ عائشہ نے کہا: ’’جی وہی ہیلن کیلر جس نے اپنی معذوری کو نہ اپنی کمزوری بننے دیا اور نہ کبھی گلہ کیا بلکہ اس نے اپنی معذوری کو اپنی طاقت بنالیا اور کروڑوں معذور انسانوں کو ہمت اور حوصلہ دیا۔ہیلن کیلر کہا کرتی تھیں کہ سُکھ بھرا خوشگوار سفر نہیں بلکہ دکھوں سے لبریز کٹھن راستہ ہی انسانی کردار کو مضبوط کرتا اور کندن بناتا ہے‘‘۔ کلاس کے تمام سٹوڈنٹس ہمہ تن گوش تھے اور لیکچر روم اب مکمل طور پر عائشہ کی گرفت میں تھا۔ پروفیسر کا تکبّر ریزہ ریزہ ہوچکا تھا اور ہر طالب علم محسوس کررہا تھا کہ پروفیسر بھی عائشہ کی پُراثر باتوں سے کافی متاثر ہوچکا ہے۔

پروفیسر نے آخری سوال پوچھا:’’اچھا یہ بتائو تمھیں خدا کے وجود پر کیسے اس قدر یقین ہے؟‘‘ عائشہ نے اسی پُرسکون لہجے میں جواب دیا: ’’اس لیے کہ میں اپنے خالق کو محسوس کرتی ہوں۔ دماغ سے ہی نہیں، دل سے بھی خدا کو دیکھتی اور محسوس کرتی ہوں۔ میں جب نماز میں اپنے خالق سے ہم کلام ہوتی ہوں، جب اُس سے کوئی دعا مانگتی ہوں، جب پریشانیوں میں گھِرکر اسے پکارتی ہوں تو مجھے جواب مل جاتا ہے۔ مجھے سکون اور دلی اطمینان نصیب ہوجاتا ہے‘‘۔

پروفیسر نے بظاہر مسکراتے مگر شکست خوردہ لہجے میں کہا: ’’مگر مجھے روشنی کیوں نہیں مل سکی؟ مجھے خدا کیوں نہیں ملا؟‘‘ عائشہ بولی: ’’اس لیے کہ آپ نے اس کی تلاش میں صرف فلسفیانہ اور منطقی راستے اختیار کیے ہیں،جب کہ ایک اور راستہ بھی ہے۔ اور وہ ہے دل کا راستہ۔ اسے اختیار کریں وہ آپ کو سچائی اور حقیقت کی منزل تک ضرور پہنچائے گا‘‘۔

پروفیسر نے اپنے دل کے اردگرد نفرت اور تعصب کی جو مضبوط دیواریں کھڑی کی تھیں، ان میں دراڑ پڑچکی تھی۔ اس کا فلسفہ اور منطق ایک نوعمر لڑکی کی پُراخلاص باتوں کے آگے ڈھیر ہوچکا تھا۔ وہ دل شکستہ ہو کر کرسی پر بیٹھ گیا اور اس کی تھکی سی آواز اُبھری: ’’آپ جاسکتے ہیں‘‘۔ ( منقول از روزنامہ جسارت)

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Islamabad