Khaleel ur Rehman Chishti

Khaleel ur Rehman Chishti An educational page run on the directions of Ustaadh Khaleel-ur-Rehman Chishti.

17/08/2026

شیخ احمد سرہندی اور ابو الحسن علی ندوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا ابو الحسن علی ندوی یرحمہ اللہ نے "تاریخ دعوت و عزیمت" کی ایک پوری جلد ، حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی یرحمہ اللہ (م 1034ھ مطابق 1624 ء ) کے لیے مخصوص کی ہے۔
شیخ احمد سرہندی کا نام ، وحدة الوجود کے مقابلے میں ، "وحدة الشہود" کی اصطلاح کے لیے مشہور ہے۔

مولانا ابو الحسن علی ندوی کی اس ضخیم کتاب کا حاصل یہ ہے کہ شیخ احمد سرہندی سلوک کے تین مختلف مراحل سے گزرے۔

سالک کا پہلا اور ابتدائی مرحلہ "وحدة الوجود" کا تھا ، جو ان کے والد سے انہیں ورثے میں ملا تھا۔ شیخ قران و سنت میں طویل عرصے تک صفات الہی پر پر غور و فکر کرتے رہے۔ اصلاح کرلی۔ رو رو کر توبہ اور استغفار کیا۔

سالک کا دوسرا مرحلہ "وحدة الوجود" کے بجائے ، " وحدة الشہود" کا تھا ، جس کا مطلب یہ ہے کہ سالک کے دل و دماغ پر اللہ تعالی کی قدرت ، عظمت اور سطوت کا ایسا غلبہ طاری ہوجاتا ہے کہ تمام مخلوقات ، موجود ہوتے ہوئے، اللہ کے سامنے "کالعدم" ہوجاتی ہیں۔
جیسے سورج کے نکلنے پر تارے موجود ہوتے ہوئے بھی نظر نہیں آتے۔ اس مرحلے میں داخل ہوکر شیخ کئی سال مراقبہ اور غور و فکر کرتے رہے۔ پھر دوبارہ اپنی فکری اصلاح کرلی ۔ رو رو کر توبہ اور استغفار کرتے رہے۔

سالک کا تیسرا اور آخری مرحلہ ، "عبودیت" کا تھا۔
یہی صحیح عقیدہ ہے جہاں تک وہ بالآخر پہنچے۔
اللہ خالق ہے۔ ہم مخلوق۔
اللہ معبود ہے اور ہم سب عِباداللہ ہیں۔
وہ مکمل قدرت اور مکمل علم رکھتا ہے۔
بہرہ نہیں، سب کی سنتا ہے۔
اندھا نہیں سب کو دیکھتا ہے۔
السمیع ہے ، البصیر ہے۔
ہر شخص کے دلوں کے راز جان لیتا ہے۔
لیس کمثلہ شیئ۔ کوئی چیز بھی اس کی طرح نہیں۔
سمندر اور قطرے کی مثال نہیں دی جاسکتیں۔
صحرا اور ذرے کی تمثیل نہیں دی جاسکتی۔
احد ہے۔ سب سے نرالا، سب سے مختلف۔
اسی کی عبادت و اطاعت مطلوب ہے۔
اسی کی نماز ، اسی کے لیے قربانی و زکوٰۃ،
اسی کے لیے رکوع و سجود ،
اسی کی محبت ، اسی کا خوف ،
اسی کی خشیة، اسی کا تقوی،
اسی کے احکامات کی اطاعت۔
اسی سے امیدیں، اسی سے دعا ،
ظاہری و جسمانی اور قلبی و ذہنی عبادت صرف ایک اللہ کے لیے ہیں۔
اسی کے لیے زندگی ، اسی کے لیے موت۔

مجدد الف ثاني کا سب سے بڑا کارنامہ اکبر کے " دین الہی" کے خلاف جنگ ہے۔ یہ دراصل سیکیولرازم کے خلاف ایک محاذ تھا۔ اگر وہ یہ جہاد نہ کرتے تو آج ہندوستان میں شاید ایک دو فی صد بھی مسلمان نہ ہوتے۔ بلا شبہ وہ مجدد ہیں۔

حضرت مجدد صاحب جس اعتماد اور وضاحت سے کہتے ہیں کہ ہمیں ( شیخ اکبر ابن عربی کی ) " فتوحاتِ مکیہ" کی نہیں، بلکہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی) " فتوحاتِ مدنیہ" کی ضرورت ہے اور ( شیخ اکبر ابن عربی م 638ھ کی ) " فُصُوصُ الحِکَم " کی نہیں، بلکہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی) " نُصُوص" شریعت کی ضرورت ہے ، اس طرح بعد کے بزرگوں اور صوفیوں میں اس طرح کے واضح اور غیر مبہم الفاظ سے یہ اعتماد اور یہ عزم نظر نہیں آتا ، ہر چند سب نے اتباع و التزام شریعت کی بات کی ہے۔

"مکتوبات امام ربانی" کے طالبِ علم کو ان خطوط کی ترتیبِ زمانی کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے، ورنہ سالک کی موت العِياذُ بِاللہ کفر و ضلالت پر بھی ہو سکتی ہے۔
اللہ تعالٰی ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ان کے صحابہ اور محسن تابعین و تبع تابعین کے راستے پر موت تک قائم و دائم رکھے اور ہر قسم کی فکری ،عملی، ذہنی اور قلبی گمراہی سے بچائے۔ آمین۔

خلیل الرحمن چشتی
3 ربیع الاول 1448ھ
17 اگست 2026ء
اسلام آباد

20/07/2026
قرآن مجید کو اُس کی اپنی زبان میں سمجھنے کا نادر موقع !قواعدِ زبانِ قرآن (اول و دوم) کی مدد سے، قرآنی عربی سیکھیں۔
20/07/2026

قرآن مجید کو اُس کی اپنی زبان میں سمجھنے کا نادر موقع !
قواعدِ زبانِ قرآن (اول و دوم) کی مدد سے، قرآنی عربی سیکھیں۔

📖 Six months that could transform the way you understand Islam.Whether you're just beginning your journey back to Allah ...
17/07/2026

📖 Six months that could transform the way you understand Islam.

Whether you're just beginning your journey back to Allah ﷻ or looking to take your Islamic knowledge to the next level, ILM ESSENTIALS is designed to help you build a strong foundation and deepen your understanding of the Deen.

Youth Club proudly presents ILM ESSENTIALS LVL 1 & LVL 2 , our comprehensive six-month certificate courses taught by experienced scholars and instructors.

✨ ILM ESSENTIALS LVL 1
Perfect for non-practicing or newly practicing youth who want to learn the fundamentals of Islam in a structured and engaging way.

Topics include:
* Tafseer-ul-Quran
* Hadith
* Al Mustafa ﷺ - The Chosen One (Seerah)
* Spiritual Purification
* Decoding Isms & Schisms
* The Legacy of Islam
* Muslim DNA
* Islamic Jurisprudence (Fiqh)
* Public Speaking

✨ ILM ESSENTIALS LVL 2
Designed for graduates of LVL 1 and practicing youth who wish to study Islam in greater depth.

Topics include:
* Arabic
* Tafseer-ul-Quran
* Fiqh ul Seerah
* Fiqh ul Hadith wal Aqeedah
* Philosophy
* Dawah Techniques

🎓 Instructors:
* Sheikh Khalil ur Rahman Chishti
* Sheikh Abdur Rahman Hafeez
* Dr Tahir Mahmood
* Raja Zia ul Haq
* Sheikh Ahmed Hammad
* Sheikh Abdul Manan Zahidi

📅 Starting: 27th July 2026

⏰ Timings:
LVL 1: Monday, Tuesday & Wednesday | 6:00 PM – 9:00 PM
LVL 2: Thursday, Friday & Saturday | 6:00 PM – 9:00 PM

📍 Mode:
* Onsite (Males Only)
* Online (Males & Females)

💰 Fee:
Rs. 9,999 per LVL
✅ Instalments option available

🗓️ Registration Deadline:
24th July 2026

📞 For more information:
+92 312 5129619

🔗 FOR MORE INFORMATION & REGISTRATION:
https://bit.ly/ILM_ESSENTIALS_YCI

The pursuit of knowledge is not a destination, it's a lifelong journey. Begin yours with ILM ESSENTIALS.

05/07/2026

ڈاکٹر محمود غزنوی کے مجموعہ ء کلام "دیارِ خواب" پر ایک نظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبصرہ : خلیل الرحمن چشتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ العَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى سَيِّدِ المُرْسَلِينَ
ڈاکٹر محمودؔ غزنوی کا تیسرا مجموعہ کلام منصئہ شہود پر آگیا ہے۔ اس سے پہلے اِن کے دو مجموعے ’’خوابوں کی دہلیز‘‘ اور
’’حریمِ خواب“ کے نام سے شائع ہو چکے ہیں ۔
ڈاکٹر محمود ؔغزنوی زمانۂ طالبِ علمی ہی سے زبان وادب کے شیدائی رہے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی میں ان کی خطابت کا چرچا تھا ۔ پھر یہ صحافت کے استاد بن گئے ۔ ان کا پہلا مجموعہ ۱۹۸۴ ء میں چھپا۔ دوسرا ۲۰۰۴ء میں بیس سال بعد شائع ہوا ، اب یہ تیسرا مجمو عہ ’’دیارِ خواب ‘‘اکیس سال بعد چھپنےکو ہے۔ یہ اپنے کلام کے خو دا چھے نقاد ہیں ۔ جلد بازی میں کچی چیزوں کی اِشاعت کا انھیں سودا نہیں ہے۔
ان کی غزل نہ صرف ملکی اور بین الاقوامی حالات کی عکاس ہے، بلکہ ذاتی تجربات و مشاہدات کے علاوہ اعلیٰ اِسلامی اَقدار و اَخلاقیات اور احسان کی آئینہ دار بھی ہے ۔ اسلام کا اعلیٰ درجہ احسان ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر شعبے میں لازم ٹھہرایا ہے ۔
(( اِنَّ اللہَ کَتَبَ الاحسانَ عَلٰی کُلِ شیءٍ)) عبادات میں بھی ، معاشرت میں بھی ، معاملات میں بھی ۔
• گرتی ہوئی قدروں کا المیہ انھوں نے کس عمدگی سے بیان کیا ہے ۔ لوگ اب آدمی کو نہیں ساز وسامان کو اہمیت دیتے ہیں ۔ مکین کو نہیں ، مکان کو دیکھتے ہیں ۔
اِک دن سب نے ، آکر میرا گھر دیکھا
اُس کے بعد سے آنا جانا چھوڑ دیا
• معاشرے کی بدحالی کا یہ عالم ہے کہ لوگ پہلے حق کی بھر پور مخالفت کرتےتھے۔ اب بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں ۔
آئینہ بنا پھرتا ہوں اِس شہر میں لیکن
پتھر بھی کوئی مارنے والا نہیں ملتا
معروف کی تبلیغ تو کرتے ہیں مگر لوگ
منکر کے نظاموں سے بغاوت نہیں کرتے
• شہرِ نا پرساں کراچی کا نوحہ سنیے ۔
شہر آشوب کی خبر لیجے
شہر کا شہر آبدیدہ ہے
تیرگی کاشت کر رہے ہیں لوگ
خواب لیکن سحر کے دیکھتے ہیں
اس طرح اجنبی سی دستک پر
کھول دیتا نہیں کواڑ کوئی
• ’’دیارِ خواب ‘‘ کا شاعر صیادوں کو بے نقاب کرتا ہے۔
ظلم یہ کیسا ،اب کی رُت میں ، تو نے اَے صیاد کیا
تعبیروں کو قیدی رکھا، خوابوں کو آزاد کیا
• شہری زندگی میں عمارتیں ہی عمارتیں ہیں ۔ جنگل ، درخت، پھول ، سبز ہ سب خواب ہوئے۔
ان تازہ بستیوں میں ہے کچھ ایسا التزام
دیوار و در ہی آتے ہیں، دیوار و در کے بعد
• متعصب لوگوں کو شاعر یہ سبق سکھاتا ہے کہ حق کو صرف ایک ہی میں محصور نہ جانو ۔
ہمارے عہد کی سچائی ہے یہ
مکمل کوئی بھی سچا نہیں ہے
• ایک اور تصویر دیکھیے ۔ سنگ دلی کی ۔
دل کی دنیا اُجاڑ کر محمود ؔ
اُس کا انداز فاتحانہ تھا
• ڈاکٹر محمودؔ غزنوی ایک شائستہ ،خود داراور مہذب انسان ہیں۔ بے مروتی انھیں بالکل پسند نہیں ۔ یہ نقصان اُٹھانا برداشت کر سکتےہیں، لیکن مروت نہیں چھوڑ سکتے ۔ اس موضوع پر ان کے کئی اشعار ہیں ۔
جب اُس نے مسکرا کے مری بات ٹال دی
میں نے بھی آرزو کا اِعادہ نہیں کیا
بدل کے لہجہ جو پوچھو گے بر سرِ محفل
تو ہم سے ایسے میں پھر عرضِ حال کیا ہوگا
ہمیں تو اپنی وضع داری لے کے ڈوب گئی
تمھیں یہ کس نے ڈبویا ، سہارے ہوتے ہوئے؟
شاعر ِوضع دار ، مروت کی قیمت ادا کرنے کے لیے خوش دلی سے تیار ہے۔
• ملک میں آج کل دستوری ترامیم کا چرچا ہے۔ ربع صدی تک تو دستور ہی بننے نہیں دیا گیا ۔ جوں توں کر کے بنا تو آئے روز اُس کی مرمت کی جاتی ہے ۔نظریہ ء ضرورت کا موجد اہل ِنظر کے ہاں ملعون ہی ہے۔
ہمارے عہدِ پُر فتن میں کو بہ کو یہی ہوا
فروخت کی گئی خودی، ضرورتوں کے نام پر
• آپ اب شاعر کے محبوب کا حال بھی سنتے جائیے ۔
غم دے گیا ہے، دل کی شکیبائی لے گیا
کیا دے گیا ہے؟ کیا مرا ہرجائی لے گیا
کہیں سنا بھی ہے ایسے خسارے ہوتے ہوئے
کہ ہجر کاٹے ہیں میں نے تمہارے ہوتے ہوئے
• منافقت اور دو رنگی اس دور کی شناخت ہے۔ رسول اللہ ﷺنے ذُوالوَ جْہَینِ کے لیے وعید سنائی ہے ۔ اب ہمارے شاعر کا اسلوب دیکھیے ۔
دل داری تو کرنے کا ہنر آتا تھا اُس کو
لیکن وہ ستمگر ، ستم ایجاد بہت تھا
ایک طرف دل داری ہے تو دوسری طرف ستم ، بلکہ ستم بالائے ستم۔ ہر روز ایک نت نیاستم ۔
دل دا رستم گر ہی نہیں، ستم ایجاد بھی ہے ۔
• شاعر آنکھوں میں جھانکتا ہے اور کہتا ہے۔
تکلم خیز آنکھیں تو بہت ہیں
مگر اُن میں وفا گویا نہیں ہے
’’گویا “ کے استعمال پر غور کیجیے۔ ذومعنین ہے۔
شاعر چاہتا ہے کہ وفا گفتگو کرے، پھر اپنے باطل کو ٹٹول کر کہتا ہے۔
لڑکھڑاتے ہیں حوصلے دل کے
جب اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
• تنہائی کا دکھڑا نئے لب ولہجے میں ملاحظہ فرمائیے۔
ہے زندگی بھی تو شطرنج کی مانند میاں
یہ کھیل بھی تنہا نہیں کھیلا جاتا
رات کرتی ہے سوگور مجھے
یاد آؤ نہ بار بار مجھے
منہ پھیر کے گزرو ہو ، جو مل جاؤ سرِ راہ
پھر آپ ہی پچھتاؤ ہو ، فریاد کرو ہو
• ہمارے شاعر کی عظمت یہ ہے کہ اسے محبوب کی رسوائی بھی منظور نہیں ہے۔
میں اپنے غم کی کہانی سنانا چاہتا ہوں
مرے لبوں پہ ترا نام کیوں نہیں آتا
• وہ مظلوم ہو کر بھی بد دعا نہیں دیتا ۔ درگزر اور عفو سے کام لیتا ہے۔
ٹھیک ہے اس نے مجھے برباد کر ڈالا مگر
رنجشیں اپنی جگہ ، اور درگزر اپنی جگہ
• دیارِ خواب کا شاعر پُر امید اور حوصلہ مند ہے۔
اس کے لوٹ آنے کی امید نہیں ہے پھر بھی
ہم سے دروازے پر تالا نہیں ڈالا جاتا
• با وفا انسان کہتا ہے:
کیا تم کو بتائیں کہ ہمیں کیا نہیں ملتا
تم مل نہ سکے، اب کوئی تم سا نہیں ملتا
جو زخمِ تازہ میسر ہوئے ہیں اَب اِن سے
دل تباہ کی تسکین کر کے دیکھتا ہوں
وعدۂ وصل اسے یاد دلا کر محمود ؔ
تھوڑا تھوڑا سا پریشان تو کرنا ہو گا
• بلند کردار اتنا ہے کہ خود کہنا پڑا:
محمودؔ خود کو کو کثرتِ حزن و ملال میں
مِنَّت پذیرِ ساغر و بادہ نہیں کیا
شکستگی اور نا آسودگی کے باوجود ، صاحبِ ظرف ہے اور بدگمانی سے ہرگز کام نہیں لیتا۔
• پہلے دو شعر شکستگی کے دیکھیے :
شکستہ ہونے لگے اب تو حوصلے محمودؔ
یہی تو فکر ہے جو کھائے جا رہی ہے مجھے
کل مل گیا تھا راہ میں محمودِؔ کم نصیب
اتنا شکستہ دل تھا کہ دیکھا نہیں گیا
لیکن اس کے باوجود ،وہ ظالموں کو رنجیدہ نہیں ،خوش دیکھنا چاہتا ہے۔
زخم لگا کر ، لوگ اکثر خوش ہوتے ہیں
اِن لوگوں کو خوشیوں کے نذرانے دو
• شاعر بدگمانی کی بجائے ،خوش گمانی سے کام لیتا ہے، یہ رویّہ معاشرے کی اکثر لڑائیوں کا سدّ باب کرتا ہے، جو غلط فہمیوں سے پیدا ہوتی ہیں۔
وہ نہیں آیا مگر اچھا گماں تو رکھیے
بھول بھی سکتا ہے اِنسان پریشانی میں
• نہایت سلیقے اور ہنر کے ساتھ محبوب کے سامنے اُس کی خامیاں گنواتا ہےاور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتا ہے۔
کیا تم بھی اسیرِ غمِ جذبات نہیں تھے؟
کیا میں بھی تمہاری طرح انسان نہیں تھا؟
ترکِ تعلقات کی سرگرمیوں کے بعد
محسوس ہو رہا ہے کہ راحت سی ہو گئی
غالباً یہ نئی ترکیب ہے ،جو ہمیں ملی ہے ’’ ترکِ تعلقات کی سرگرمیاں ‘‘۔
محمودؔ غزنوی نے مختلف بحروں کو استعمال کیا ہے۔ چھوٹی بحرکایہ شعر دیکھیے ۔
آؤ مل کر بانٹتے ہیں
اپنے اپنے رنج و غم
• شاعر اسیرِ وضع داری ہے ۔رواداری میں ہر ایک کو برداشت کر لیتا ہے۔
معاملاتِ دل بھی اَب ، روا روی کے ہو گئے
کبھی کسی کے ہو گئے ، کبھی کسی کے ہو گئے
لوگوں سے چھپ چھپ کر آہیں بھرتے ہو! کیا کرتے ہو
اُس کے غم میں جیتے ہو نہ مرتے ہو! کیا کرتے ہو
میں کہوں گا تڑپ تڑپ کے غزل
تم ترنم سے گنگنا دو گے
آخر ی شعر کے طنز کو نظر انداز نہ کیجیے۔
• شعرا عام طورپر ہر وادی میں بھٹکتے ہیں، لیکن ہمارا ممدوح اِس عیب سے پاک ہے ، اس مجموعے میں بہت سی نعتیں شامل ہیں۔
’بعداز خدا بزرگ تو ہی قصہ مختصر‘ پر شاعر نے کئی مصرعے ٹانک دیے ہیں۔ یہ اُن کی قادر الکلامی اور حبِ رسولؐ کی دلیل ہے۔
وہ صرف محبتِ رسول ﷺ کی بات نہیں کرتے، بلکہ اطاعتِ رسول ﷺ کی بھی بات کرتے ہیں ۔
جو اُن کی سیرت سے ہٹ کے ہو گا ، عمل وہ مشکوک ہی رہے گا
ہزار تم معتبر سمجھ لو ، فضول ہو گا ، فضول ہو گا
• اَسماء و صفات سے مشاہدہء حق کی گفتگو کے بغیر ، جو احسان کی اعلیٰ منزل ہے، میری یہ تعارفی تحریر بے مزہ ہی رہے گی۔
صرف آنکھوں سے وہ رہا اوجھل
ورنہ دل میں تو آنا جانا تھا
شاعر کا دل زندہ بھی ہے اور بیدار بھی۔ یاد کے بغیر آدمی مردہ ہے۔
(خلیل الرحمن چشتی ، اسلام آباد)

Send a message to learn more

10/05/2026

منصور عباسی ، بیوی حرہ اور امام ابو حنیفہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : مولانا شمس نوید عثمانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عباسی سلطنت کے حرم میں خلیفہ منصور اور اس کی بیوی حرّہ خاتون میں گرما گرم بحث چل رہی تھی ــــ خاتون کہتی تھی کہ خلیفہ شوہر کی حیثیت سے عدل و انصاف نہیں کر رہا ہے۔ منصور کو یہ بات تسلیم نہیں تھی ــــ
آخر منصور نے ثالث کی تجویز سامنے رکھی اور خاتون نے چھوٹتے ہی اس کے لیے امام صاحبؒ کا انتخاب کیا ۔
اس کو قوی توقع تھی کہ حق کے مقابلے میں سونے چاندی اور قوت و اقتدار کی دھاک اس عظیم انسان پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتی ۔
امام صاحبؒ تشریف لائے اور خاتون ورائے حجاب گفتگو سننے کے لیے سرا پا گوش ہوگئی ۔
"ازروئے شریعت" خلیفہ نے نہایت چالاکی سے گفتگو کو اس زاویے سے اُٹھایا
"ایک مرد کو کتنے نِکاح کرنے کی اجازت ہے ؟"
"چار" امام صاحبؒ کا مختصر اور سیدھا سادہ جواب تھا۔
یہ سُنتے ہی منصور کا چہرہ مرد کے فاتحانہ احساس سے چمک اُٹھا اور اس نے پردے کی طرف رُخ کر کے خاتون سے کہا:
"سُنتی ہو .....؟"
"جی ہاں سُنا!"
خاتون نے کہا اور اس کی آواز میں نسوانی موقف کے سلسلے میں دبی دبی پکار تھی ۔
امام صاحبؒ نے یہ آواز سُنی اور حسّاس ترین اِنسان نے فوراً سمجھ لیا کہ صورتِ حال کیا ہے۔
گفتگو اصولاً ختم ہو چکی تھی مگر عورت کی کمز ور سسکی نے چونکا دیا تھا کہ اگر عورت کے حقوق کا اعلان نہ کیا گیا تو حقیقت پر ظلم ہوگا ــــ امام صاحبؒ فوراً بے تاب ہو گئے
اور جرأت کے ساتھ خلیفہ کی طرف رُخ کر کے کہا:
"لیکن یہ اجازت اس کے لیے خاص ہے جو عدل و انصاف پر قادر ہو ــــ
ورنہ ایک سے زیادہ ِنکاح کرنا ٹھیک نہیں ہے
" خلیفہ کے موقف کے علی الرغم یہ اعلائے کلمتہ الحق پُوری جرأت و قوت کے ساتھ کیا گیا تھا ۔
خلیفہ نے احساسِ شکست سے سر جھکا لیا ــــ
پس پردہ خدا کی کمزور مخلوق عورت اپنا مقدمہ جیت چکی تھی ۔
امام صاحبؒ واپس گھر چلے آئے ۔
امام صاحبؒ جیسے ہی گھر پہنچے ایک شاہی غلام خاتون کی طرف سے پچاس ہزار کی مالیت کا خراجِ عقیدت اور یہ پیغام لیے ہوئے پہنچا کہ
"آپ کی کنیز سلام عرض کرتی ہے اور آپ کی صاف گوئی کی دل سے سپاس گزار ہے۔
" امام صاحبؒ نے اس بیش قیمت عطیہ کو قبول کرنے سے اِنکار کرتے ہوئے کہلا دیا:
"میں نے محض اپنا فرض ادا کیا ہے جس کے پیچھے میری کوئی ذاتی خواہش اور غرض نہیں تھی ۔"

09/05/2026

صحافی اور طوائف (بدن فروش پری)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاعر : سرفراز بزمی ، راجستھان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کل اک صحافی سے کوٹھے کی نازنیں بولی
تری خبر سے تو اچھی ہے میری بے خبری

قلم فروش ہے تو اور بدن فروش ہوں میں
یہ تیری قحبہ گری ہے وہ میری قحبہ گری

مرا خیال ہےمیں پھربھی تجھ سےبہتر ہوں
کہ مجھ کو اس پہ نہیں ادعائےخوب تری

بدن فروش تو ہوں پر نہیں ضمیر فروش
کہ مجھ کو خون رلاتی ہے میری دربدری

اور ایک تو ہے کہ مافی الضمیر کا سودا
پھر اس پہ طرفہ تماشہ غرور دیدہ وری

کہاں یہ گرمئ افلاس سے جھکا ہوا جسم
کہاں قلم کی تجارت بنام راہ بری

یہ زر کا زور یہ سچ کو غلط غلط کوصحیح
کسی کی پردہ دری اور کسی کی جامہ دری

یہ گفتگو جو سنی عرش کے مکینوں نے
زمیں کے پست نشینوں پہ آہ سرد بھری

نہ جانے کون ہے چھوٹا نہ جانے کون بڑا
قلم فروش صحافی ، بدن فروش پری

سرفراز بزمی
راجستھان انڈیا

Big shout out to my newest top fans! 💎 Nadeem RiazDrop a comment to welcome them to our community,
22/04/2026

Big shout out to my newest top fans! 💎 Nadeem Riaz

Drop a comment to welcome them to our community,

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khaleel ur Rehman Chishti posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Khaleel ur Rehman Chishti:

Shortcuts

Share

Category