15/05/2026
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے طلبہ کا مرکزِ مصطفٰے ﷺ میں تین روزہ قیام
تربیتی نشستوں اور شب بیداری میں شرکت
مختلف مواقع پر عکس بند کئے گئے خوبصورت مناظر
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from KALMA E HAQ, Educational Research Center, 109A digbeth birmingham B5 6DT, Islamabad.
✅نوجوانوں میں علمی بیداری
✅جزبہ وفاداری رسول کا عملی ثبوت
✅ دفاع ناموس صحابہ و اہل بیت اطہار
✅ عقائد اہلسنت کا دفاع اور صحیح ترجمانی
✅محبت اہل بیت کو گلی گلی عام کرنے کے لیے ہمارا ساتھ دیجیے
اور اس پیج کو لاٸیک و فالو کریں ۔۔۔
جزاک اللّٰہ خیرا💖
15/05/2026
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے طلبہ کا مرکزِ مصطفٰے ﷺ میں تین روزہ قیام
تربیتی نشستوں اور شب بیداری میں شرکت
مختلف مواقع پر عکس بند کئے گئے خوبصورت مناظر
15/05/2026
اشرف علی تھانوی کے ابا اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ تھے تو تھانوی جی کیسے ٹپکے کہانی شریف ملاحظہ کیجیۓ
15/05/2026
دیوبندی اکابرین رشید احمد گنگوہی اور قاسم نانوتوی کی سہاگ راتیں ۔۔۔📚دیوبند انوار الحسن لکھتا ہے
"بیداری میں جن خیالات اور افکار کا ہجوم ہوتا ہے خواب میں ان ہی کا تصور سامنے آجاتا ہے" رشید احمد کو خواب آتا ہے کہ ملاں قاسم دلہن کی صورت ہے،ان سےنکاح ہوا ہے اور وہ اس سےمیاں بیوی والےفوائد اٹھاتا ہے
🛑 سیدنا عثمان غنی رضی اللہ کا اصل قاتل "مروان بن حکم لعین" ہی تھا۔اسکا کردار کافی مشکوک ہے،محدثین و ائمہ دین نے شہادت عثمان غنی رضی اللہ کے سانحہ پر اسکے کردار پر کافی شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ نے رافضیوں کے رد میں لکھی گئی اپنی مشہور تصنیف "رد تحفہ اثناء عشریہ" میں شہادت عثمان رضی اللہ کے تعلق سے مروان بن حکم کے کردار پر کافی سخت الفاظ کہے ہیں۔
🔴 سیدنا علی رضی اللہ و دوسرے سینئر جلیل القدر صحابہ کرام نے بلوائیوں کو سمجھا بجھا کر واپس جانے کے لیے تیار کرلیا تھا،اور بہت سے بلوائی واپس بھی ہوگئے تھے،مگر اس دوران مروان بن حکم لعین نے خلیفہ کی مہر شدہ خطوط روانہ کیے جن میں یہ فرمان لکھا تھا کہ بلوائیوں کو مصر پہنچتے ہی سر قلم کردیا جائے، جیسے ہی یہ خط بلوائیوں کے ہاتھ لگا وہ سب آگ بگولہ ہوگئے اور آدھے راستے سے واپس آکر دوبارہ سے محاصرہ کرلیا۔
(المصنف لابن ابي شيبة : ٣٨٨٤٥- فضائل الصحابة لاحمد بن حنبل : ٧٦٥ ، وسنده صحيح۔
تشریح : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ اس خط سے بری الذمہ ہیں،بلکہ مروان بن حکم کی ہی سازش نظر آتی ہے کیونکہ خلیفہ کے مہر و سرکاری ڈاکومینٹس تک مروان کو دسترس حاصل تھی۔۔ان شکوک کا اظہار اہل سنت کے بڑے بڑے ائمہ دین نے کیا ہے)۔
🔴 مروان لعین کی اس سازشی حرکت پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ نے مروان سے کبھی بھی باز پرس نہیں فرمایا اور نا ہی اسے سزا دی،بلکہ بطور انعام مروان کو مدینہ منورہ کا گورنر بنا دیا۔ اور حسنین کریمین،و سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ و انکے بھائی کے خلاف مروان کے ہر ایکشن / ظلم پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ کی خاموش حمایت حاصل ہوتی تھی۔ اوپر سے مروان لعین نے اپنے ہی اتحادی عشرہ مبشرہ صحابی سیدنا طلحہ رضی اللہ کو تیر مار کر شہید کردیا تھا،اس تعلق سے بھی قصاص طلحہ کا مطالبہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ نے اپنی پوری زندگی میں ایک دفعہ بھی نہیں فرمایا نا اس قبیح حرکت پر مروان پر ایکشن لیا الٹا مروان کو انعامات سے نوازا۔
🔴 شہادت عثمان غنی رضی اللہ کے عظیم سانحہ پر سازشی تھیوری کے تحت بھی تحقیق کی ضرورت ہے۔
14/05/2026
فتاوی رضویہ کی عبارت پہ دیابنہ کے اعتراض کا مدلل و مسکت جواب
سوشل میڈیا پہ دیابنہ اپنے کبراء کے کفریات قطعیہ کو چھپانے کی غرض سے طرح طرح کے حیلے بہانے تلاش کر رہے ہیں اور اسلام کو کفر ثابت کرنے کے لئے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔
خیر ان کی عیاریاں مکاریاں عیاں ہو چکی ہیں ان کے حیلے بہانے ان کو کلامی کفار کے کفر کو اٹھانے سے عاجز ہیں۔
مولوی قاسم نانوتوی جس نے نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پہ ڈاکہ زنی کرتے ہوئے "خاتم النبیین" کے اجماعی و قطعی معنوں سے انحراف کرتے ہوئے قادیانیوں کے لئے راہ ہموار کی لکھتا ہے:
"سو عوام کے خیا ل میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا ختم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں۔ مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخیر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں وَلكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَم النَّبيين فرمانااس صورت میں کیو نکر صحیح ہو سکتا "
تحذیر الناس ص 5 دارالاشاعت
ادارہ تحقیقات اہلسنت ص41
کتب خانہ رحیمیہ سہارنپور ص 5
مزید کہتا ہے:
"بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے"
تحذیر الناس ص 18
آگے کہتا ہے:
"اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا"
تحذیر الناس ص 34
اب ان عبارات پہ کلام تو علمائے اسلام فرما چکے یہاں صرف خلاصہ ملاحظہ فرمائیں
اول عبارت میں موصوف نے آیت "خاتم النبیین" کے اجماعی معنی کا انکار کیا اسے فہم عوام ٹھہرایا جبکہ دیگر عبارات میں کہا کہ نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانہ یا بعد میں کہیں کوئی نبی "پیدا" ہو تو آپ کی خاتمیت میں کچھ فرق نہ آئے گا۔
اب یہ عبارات صراحتاً ختم نبوت کے عقیدہ پہ ڈاکہ زنی ہیں۔ نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی نبی کا پیدا ہونا محال ہے۔ اگر کوئی نبی پیدا ہو تو اس سے آپ کا خاتم النبیین ہونا برقرار نہیں رہتا۔
اسی پہ امت کا اجماع ہے۔ اب دیابنہ نے قادیانیوں سے کچھ اعتراضات مستعار لئے اور امت کے اکابرین کی عبارات کو مشکوک بنانے کی کوشش کی یہ ساری کاروائی صرف اور صرف نانوتوی کے کفر کو چھپانے کی غرض سے ہے۔
اب نانوتوی کی عبارت میں نئے نبی پیدا ہونے کا ذکر ہے جو کہ صراحتاً اسلام کے اصولوں کے خلاف اور ختم نبوت کا انکار ہے۔
اب ایک پہلو یہ ہے کہ گزشتہ انبیاء کرام علیہم السلام جو نبوت کا دور گزار چکے اب وہ ظاہر ہوں تو کیا ختم نبوت پہ فرق آئے گا نہیں؟
یہی اعتراض قادیانی دوہراتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام آئیں گے تو پھر ختم نبوت کہاں رہی العیاذ باللہ تعالی۔
اس کے کئی جوابات علمائے اہلسنت دے چکے ہیں۔
اب اسی طرح کی ایک عبارت دیابنہ نے فتاوی رضویہ سے پیش کر کے اودھم مچا رکھا ہے اول وہ عبارت ملاحظہ فرمائیں پھر اسکا جواب ہم آپ کو خود دیابنہ کے گھر سے پیش کرتے ہیں ۔
امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:
"ایک حضرت مسیح نہیں جو کوئی رسول بھی اب ظاہر ہو شریعت محمدیہ پر ہی حکم کرے گا، منسوخ پر حکم باطل، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اگر موسی میرا زمانہ پاتے تو میری اتباع کے سوا انہیں کچھ گنجائش نہ ہوتی ۔"
فتاوی رضویہ ج 29 ص 112
اب یہاں امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز مرزائیوں کے اس مشہور اعتراض کا جواب دے رہے ہیں کہ اب عیسی علیہ السلام تو کیا جملہ انبیاء کرام علیہم السلام جو گزر چکے وہ بھی آ جائیں تو اتباع محمدی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سواء کوئی چارہ نہیں کیونکہ اب جملہ انبیاء کرام علیہم السلام کی شریعتیں منسوخ ہو چکی ہیں۔ اب قیامت تک شریعت محمدیہ کا نفاذ ہے بس۔
اس پہ امام اہلسنت نے حدیث مبارکہ سے استدلال فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام بھی آ جائیں تو ان کو میری اتباع کرنی ہو گی۔
اب زرا دیکھتے ہیں کہ نانوتوی کی عبارت اور امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز کی عبارت میں کتنا عظیم فرق ہے جو کفر و اسلام کا فرق ہے۔
سرفراز احمد گکھڑوی جس سے دیوبندیت کا تشخص قائم ہے وہ لکھتا ہے:
"جن صحیح اور صریح احادیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تو ان کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعدکسی کو رسالت و نبوت نہیں مل سکتی ۔ کیونکہ نصوص قطعیہ اور احادیث متواترہ صحیحہ اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ آپ خاتم النبین اور آخری نبی ہیں۔ اگر بالفرض کسی اور کو رسالت و نبوت مل جائے تو اس سے ختم نبوت پر زد پڑتی ہے ۔ کیونکہ اس سے پیغمبروں کی تعداد اور گنتی میں اضافہ ہو جائے گا اور نمبر شماری بڑھ جائے گی اس کے برعکس حضرت عیسی علیہ الصلواۃ والسلام کی آمد سے بلکہ تمام حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام کی تشریف آوری سے بھی گنتی اور عدد جوں کا توں رہتا ہے۔ اور اس سے ختم نبوت پر قطعاً کوئی زو نہیں پڑتی کیونکہ عدد اور گنتی کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہی قصر نبوت کی آخری اینٹ آخری نبی اور خاتم النبین ہیں اور اس صفت میں کوئی بھی آپ کا مثیل ، نظیر اور ثانی نہیں ہے "
مقالہ ختم نبوت کتاب و سنت کی روشنی میں ص 27-28
مکتبہ صفدریہ گوجرانولہ
لیجیئے جناب!
اس عبارت کو بار بار ہوش بگوش پڑھیں ۔ واضح لکھا ہے کہ نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے"اگر بالفرض کسی اور کو نبوت و رسالت مل جائے تو اس سے ختم نبوت پر زد پڑتی ہے کیونکہ اس سے پیغمبروں کی تعداد و گنتی بڑھ جائے گی"
اب نانوتوی کہتا ہے:
"بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے"
تحذیر الناس ص 18
آگے کہتا ہے:
"اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا"
تحذیر الناس ص 34
اب نانوتوی کہتا ہے کہ خاتمیت میں کچھ فرق نہ آئے گا جبکہ گکھڑوی کہہ رہا ہے فرق آئے گا کیونکہ اس سے انبیاء کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔
جبکہ گکھڑوی ہی کہتا ہے کہ:
"عیسی علیہ السلام تو کیا جملہ انبیاء کی تشریف آوری سے گنتی میں کوئی فرق نہ آئے گا اس سے ختم نبوت پہ زد نہ آئے گی "
اب بتائیں جو بات امام اہلسنت نے کی اسے بڑھ کے گکھڑوی نے لکھی ہے بتاؤ اب تمہارا یہ مذہبی پیشوا تمہارے استدلال و فتاوی کی روشنی میں کافر ہوا کہ نہیں؟
ادریس کاندھلوی کہتا ہے:
"حضرت عیسی علیہ السلام آپ سے پہلے پیدا ہوئے اور آپ سے پہلے پیغمبر ہوئے ۔ البتہ مرزا صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ السلام کے بعد پیدا ہوئے لہذا مرزا صاحب کے وجود تو ختم نبوت کے منافی ہوگا لیکن حضرت عیسی کا نزول ختم نبوت کے معارض نہ ہو گا"
مسک الختام ص 36 ادارہ اسلامیات لاہور
مزید کہتا ہے:
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے صد ہا سال پہلے حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور ابھی زندہ ہیں۔ اخیر زمانہ میں امت محمدیہ کا ایک مجدد ہونے کی حیثیت سے نازل ہوں گے نبی ہونے کی حیثیت سے نزول نہ ہوگا۔ نزول کے بعد اپنی نبوت و رسالت اور اپنی کتاب یعنی انجیل اور اپنی شریعت کی طرف سے کسی کو دعوت نہیں دیں گے بلکہ خاتم النبیین کا نائب بن کر لوگوں کو خالص قرآن و حدیث کے احکام پر چلائیں گے اور خود بھی شریعت محمدیہ کے اتباع اور پیروی کو اپنے لئے باعث صد فخر و ناز سمجھیں گے"
مسک الختام ص 36ـ37
لیجئے جناب!
جو بات اعلی حضرت عظیم البرکت نے فرمائی وہ تمہارے بڑے بھی کہہ گئے اب جسے تم کفر کہہ رہے ہو تیرے بڑے بھی اسی کفر کے فتووں سے گھائل نظر آ رہے ہیں۔
منظور احمد چنیوٹی لکھتا ہے:
"مرزائیوں کی اس موشگافی کا جواب متعدد طریقوں سے دیا جا سکتا ہے ۔ الف : ابھی حوال گزر چکا ہے مرزا صاحب نے اپنے آپ کو خاتم الاولاد قرار دیا ہے۔
اور اس کی تشریح یہ کی ہے کہ "میرے بعد کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا نہیں ہوا۔" ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہ ہو گا آپ سے پہلے جو پیدا ہوئے تھے وہ ہو چکے، آپ کے بعد یہ سلسلہ بند ہو چکا ہے اور چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام آپ سے پہلے پیدا شدہ ہیں اور آسمان پر زندہ موجود ہیں اس لیے ان کی موجودگی اور قیامت کے قریب دنیا میں تشریف آوری سے رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا"
رد مرزائیت کے زریں اصول ص 181-182
نفیس پبلشرز لاہور
لیجئے جناب!
چنیوٹی بھی کہہ رہا ہے ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ پہلے جو انبیاء پیدا ہو چکے وہ ہو چکے اب کوئی نبی پیدا نہیں ہونا عیسی علیہ السلام کا آنا ختم نبوت کے منافی نہیں۔
آخر میں ہم ان کے امام المحرفین دجال اعظم کذاب زماں خالد محمود مانچسٹروی سے ان کو آئینہ دیکھاتے ہیں وہ مرزائیوں کو جواب دیتے ہوئے کہتا ہے:
"ان واضح تصریحات کی موجودگی میں کسی بد بخت کا یہ افتراء کہ ملا علی قاری غیر تشریعی نبوت کو جاری سمجھتے ہیں کس قدر دیانت اور انصاف کا خون ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت زمانی کو دو امور لازم ہیں :-
1۔کوئی نیا بنی پیدا نہ ہو، یعنی آپ کے بعد کسی کو نبوت نہ ملے۔
2۔پہلے نبیوں سے اگر کوئی آجائے تو وہ آپ کی شریعت کا تابع اور امتی ہو کہ رہے۔"
عقیدہ الامت فی معنی ختم النبوت ص 242
دارالمعارف لاہور
اب یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ ختم نبوت کے معنی یہی ہیں کہ کوئی نیا نہیں پیدا نہ ہو اگر پیدا ہوا تو ختم نبوت نہ رہی یہی نانوتوی کا جرم تھا جبکہ کوئی پہلے انبیاء کرام علیہم السلام سے آ جائے تو وہ متبع شریعت محمدی ہو گا یہی بات امام اہلسنت نے فرمائی۔
اب اگر ان کی تکفیر کی پٹاری کے فتوے اتنے سستے ہیں تو زرا جسارت کر کے اپنے بڑوں پہ فتوی دیں۔
یہی ملاء مانچسٹر کہتا ہے:
"ملا علی قاری یہاں یہ سمجھا رہے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ حضرت عمر یا حضرت علی یا حضور کے بیٹے حضرت ابراہیم جیسے کسی اور بزرگ کو نبی بناتا تو اسے بھی حضرت عیسی اور حضرت خضر کی طرح تاجدار ختم نبوت سے پہلے نبی بناتا کیونکہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔
اور اس فرض صورت میں یہ ضروری نہیں کہ ان بزرگوں کے تشخصات بھی وہی ہوں جواب تھے۔
یعنی حضرت ابراہیم حضور کے بیٹے بھی ہوں اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی ہوں بنا بر فرض نبوت حضرت ابراہیم کا یہ تشخص لازم نہیں یعنی ان کے فرزند رسول ہونے سے صرف نظرکر کے ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر رب العزت انہیں یا حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کو نبی بناتے تو یہ بزرگ یقینی طور پر حضرت عیسی حضرت خضر اور حضرت الیاس کی طرح حضور سے پہلے کے نبی ہوتے۔ اور حضور کے بعد تک موجود رہنے کی صورت میں حضور کے تابع شریعت ہو کر رہتے اور اس طرح کا اگر کوئی پچھلا اپنی آجائے تو اس کا آنا خاتم النبیین کے خلاف نہیں ہوگا، البتہ اس کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ آپ کی شریعت کے ماتحت رہے اور اس کی اپنی شریعت نافذ نہ ہو جیسے ایک صوبے کا گورنر دوسرے گورنرکے صوبے میں چلاجائے تو وہ گورنر وہاں بھی ہوگالیکن اسکی حکومت وہاں نا فذ نہ ہوگی۔ حضرت ملا علی قاری نے اس خیال سے کہ "لا یأتی نبی بعدہ کے معنی"پچھلے نبیوں کی آمد کی کے لئے جائیں پہلے حضرت عیسی ، حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہ السلام کے نام ذکر فرما دیے ہیں اور آخر میں احتیاطاً حضرت موسیٰ کا ذکر کر دیا ہے اور وہ بھی فرضی اور تقدیری طور پر کیونکہ یہ سب حضرات حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی ہیں"
عقیدہ الامت ص 243
مزید کہتا ہے:
"ملا علی قاری تو یہ سمجھا رہے تھے کہ کسی پچھلے نبی کا امتی بن کر آنا عقیدہ ختم نبوت کے خلاف نہیں ہے لیکن مرزائی اسے تحریف کے ساتھ پیش کر رہے ہیں کہ حضرت ملا علی قاری حضور کے بعد کسی غیر تشریعی نبی کے پیدا ہونے کو عقیدہ ختم نبوت کے خلاف نہیں سمجھتے معاذ اللہ ثم معاذ اللہ"
عقیدہ الامت ص 245
اب ان عبارات کو آنکھیں کھول کے پڑھیں اور امام اہلسنت کے اقتباس کو ملاحظہ فرمائیں کہ گزشتہ انبیاء کرام علیہم السلام کا آنا ختم نبوت کے منافی نہیں کیونکہ وہ آئیں گے تو متبع شریعت محمدیہ ہوں گے امتی کی حیثیت سے آئیں گے لیکن کسی بھی نئے نبی کا آنا ختم نبوت کے خلاف ہے یہ جرم نانوتوی نے کیا
اب گزشتہ انبیاء کی آمد پہ اعتراض کرنا قادیانیوں کا وطیرہ ٹھہرا دیوبندیوں کو چاہئے ان عبارات کی روشنی میں اپنا تعیین کر لیں وہ کن کی صفوں میں کھڑے ہیں
اس پہ درجنوں نہیں سینکڑوں حوالے موجود ہیں یہ بطور نمونہ چند پیش کئے ہیں متلاشیان حق کے لئے ایک دلیل ہی کافی ہوتی ہے اور بغض و عناد میں مبتلا کے لئے دفتر کے دفتر بے کار۔
اللّٰہ جل شانہ قبول حق کی توفیق عطا فرمائے ۔
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم
از قلم عبید الرضا ارسلان قادری رضوی
آج مورخہ 13 مئی 2026 بروز بدھ
13/05/2026
ایسی پوسٹیں وہ لگاتے ہیں جو محفل کے لئے لاکھوں روپے اکٹھے کرکے فری والا مولوی نعت خواں تلاش کرتے ہیں پیسے بچا کر مذہبی کرپشن کرتے ہیں 😎
13/05/2026
مولانا مختار احمد صاحب 😅 خطائیوں کی خوشیاں چکنا چور😂 مفتی محمد رمضان سیالوی صاحب معطل نہیں ہوئے یہ عارضی دفتری کاروائی ہے ۔ امید ہے جمعہ سے پہلے ہی ان کا معاملہ حل ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ
13/05/2026
مرزا غلام قادیانی نے بانی دیوبند کی تحذیر النّاس کو دلیل بنا کر نبوت کا دعویٰ کیا جسے آج بھی قادیانی پیش کرتے ہیں
مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر الدین اپنی کتاب ختمِ نبوت کی حقیقت میں بانی دیوبند مولوی قاسم نانوتوی کی تحذیر الناس کے صفحہ 3 اور صفحہ 28 کی عبارات کو مرزے کی جھوٹی نبوت کی دلیل کی طور پر پیش کر رہے ہیں پڑھیئے
حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کی شہادت
اب ہم اُس زمانہ میں داخل ہوتے ہیں جو گویا ہمارا اپنا زمانہ ہے ۔ حتی کہ اس زمانہ کے بزرگوں کو دیکھنے والے کئی لوگ ابھی تک زندہ ہونگے اور چونکہ جو شہادت میں اس وقت پیش کرنے لگا ہوں وہ باوجود موجودہ زمانہ سے تعلق رکھنے کے حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کے دعوی سے چند سال پہلے کی ہے اس لئے اہل بصیرت کے نزدیک اس شہادت کو خاص وزن حاصل ہونا چاہئیے۔ یہ شہادت مدرسۃ العلوم دیوبند کے نامور بانی حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی ( وفات ۱۸۸۹ عیسوی) کی ہے۔ مولوی صاحب موصوف فرماتے ہیں :۔
عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد ہے۔ اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کوئی فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ولکن رسول الله و خاتم النبین فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟ ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہیئے اور اس مقام کو مقام مدح قرار نہ دیجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تأخر زمانی صحیح ہو سکتی ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہوگی ۔
(تحذير الناس مطبوعہ سہارنپور صفحہ نمبر 3)
پھر اسی کتاب میں دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ :۔
اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمد ی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔
( تحذیر الناس صفحہ 28 )
کیا علماء دیوبند اپنے محترم بانی کے اس حوالہ پر غور فرمائیں گے؟ کیا وہ ختم نبوت کی تشریح میں اُسی وسعت قلب اور وسعت نظر سے کام لیں گے جس سے ان کے قابل احترام بزرگ نے کام لیا ہے؟ اور اگر اس جگہ کسی کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو کہ اس حوالہ میں تو حضرت مولانا نانوتوی نے "اگر" اور "بالفرض" کے الفاظ استعمال کئے ہیں جو شک پر دلالت کرتے ہیں یا یہ کہ کسی دوسری جگہ مولانا موصوف نے اس قسم کا خیال بھی ظاہر فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اور نبی نہیں تو اس شبہ کے جواب میں یہ خاکسار و ہی بات عرض کریگا جو اس رسالہ میں کئی جگہ عرض کر چکا ہے کہ اے ہمارے بھولے بھالے بھائیو! خدا تمہیں سمجھ عطا کرے ہم نے یہ حوالہ اس غرض سے ہرگز پیش نہیں کیا کہ مولانا موصوف کے نزدیک ’’کوئی نبی آنے والا ہے‘‘ بلکہ صرف اس غرض سے پیش کیا ہے کہ ان کے نزدیک آیت خاتم النبین اور حدیث لا نبی بعدی کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد ’’نبی آسکتا ہے‘‘پس یہاں کسی کے ’’آنے‘‘ کا سوال نہیں بلکہ آ سکنے‘‘ کا سوال ہے۔ اور اس سوال کے متعلق یہ حوالہ بالکل واضح اور صاف ہے۔ کاش ہمارے مہربان مخالف جلد بازی کی بجائے صبر و سکون کے ساتھ غور کرنے کی عادت پیدا کریں۔
(ختم نبوت کی حقیقت از مرزا بشیر احمد، صفحہ158،159،160)
قارئین کرام
مرزا قادیانی کے بیٹے کی یہ تحریر چیخ چیخ کر بتا رہی کہ
مولوی قاسم نانوتوی دیوبندی کی کتاب تحذیر الناس کی یہی وہ عبارت ہیں جن کی بنیاد پر قادیانی مرزا نے اپنی نبوت کی عمارت قائم کرلی ۔
نبوت کے چور دروازے کھول کر آج ختم نبوت کے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہیں دیوبندی جب کہ یہ اور اس جیسے درجنوں ثبوت اس بات کی گواہی ہے کہ قادیانی آج بھی نانوتوی کی کتاب کی عبارت پیش کرتے ہیں جو مرزا قادیانی کی دلیل تھی اور خود کو اسی کتاب کی آڑ میں سچا کہتے ہیں دیوبندیوں تم لاکھ جواب دو یہ حقیقت ہے کہ بانی دیوبند مولوی قاسم نانوتوی نے نبوت کا چور دروازہ کھولا تھا ۔
#سیفیات
05/05/2026
لے ساجد خائن تُو ہی بَجا لے 😬
#تھانویات