Celebrating my 2nd year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
Al qaim 1
ONLINE QURAN ACADMEY FOR GIRLS
07/04/2026
Please like share
24/03/2026
24/03/2026
please follow
25/02/2026
Beautiful mosques
25/02/2026
Grand mosque
25/02/2026
Beni waldi mosque
25/02/2026
Ortakoy Mosque
23/02/2026
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا مکمل واقعہ
---
(شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان اور رحم کرنے والا ہے)
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا یہ واقعہ قرآن پاک میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہ حق اور باطل کی لڑائی کی سب سے بڑی داستان ہے۔ آئیے اسے تفصیل سے پڑھتے ہیں۔
---
فرعون کا غرور اور ظلم
فرعون مصر کا بادشاہ تھا۔ وہ اتنا مغرور تھا کہ اس نے اپنی قوم سے کہہ دیا تھا:
"میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں۔" (سورہ النازعات: 24)
اس نے مصر کی عوام کو مختلف گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔ بنی اسرائیل (حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد) اس وقت مصر میں مقیم تھے، لیکن فرعون نے انہیں اپنا غلام بنا رکھا تھا۔ وہ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا تاکہ وہ ذلیل و رسوا ہوتے رہیں۔
ایک دن فرعون کے نجومیوں (ستاروں دیکھنے والوں) نے اسے خبر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تمہاری بادشاہت کی جڑیں ہلا دے گا۔
یہ سنتے ہی فرعون کا دل دہل گیا۔ اس نے فوراً حکم جاری کر دیا:
"بنی اسرائیل کے جو بھی بیٹا پیدا ہو، اسے فوراً قتل کر دو، صرف بیٹیوں کو زندہ رہنے دو۔"
---
موسیٰ علیہ السلام کی ولادت اور اللہ کا خاص حکم
اس خوفناک ماحول میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ (حضرت یوکابد) کا دل کانپ رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ڈال دیا کہ وہ بچے کو دودھ پلاتی رہیں، لیکن جب خطرہ بڑھے تو اللہ نے ان پر یہ وحی نازل فرمائی:
"اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو وحی بھیجی کہ اسے دودھ پلاتی رہو، پھر جب تجھے اس سے ڈر لگے تو اسے دریا (نیل) میں ڈال دے اور نہ تو ڈر اور نہ غمگین ہو، ہم یقیناً اسے تیری طرف لوٹا دیں گے اور اسے پیغمبروں میں سے بنائیں گے۔" (سورہ القصص: 7)
یہ بہت عجیب حکم تھا! کوئی ماں اپنے بچے کو بچانے کے لیے دریا میں نہیں ڈالتی، لیکن اللہ کا حکم تھا۔
حضرت موسیٰ کی والدہ نے بچے کو ایک صندوق میں رکھا، اسے اچھی طرح بند کیا اور دریا نیل میں بہا دیا۔ ان کا دل تھامے نہ تھامتا تھا، لیکن انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ ان کی بیٹی (حضرت موسیٰ کی بہن) سے کہا کہ پیچھے پیچھے جا کر دیکھتی رہے کہ صندوق کہاں جاتا ہے۔
---
صندوق فرعون کے محل میں پہنچتا ہے
اللہ کے حکم سے صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے قریب پہنچا۔ اتفاق سے فرعون کی بیوی (آسیہ) دریا کے کنارے بیٹھی تھیں۔ انہوں نے صندوق کو آتا دیکھا تو اپنے خادموں سے اسے نکلوایا۔
جب صندوق کھولا گیا تو اندر ایک خوبصورت بچہ مسکرا رہا تھا۔ آسیہ کا دل اس بچے سے بہت متاثر ہوا۔ فرعون جب یہ دیکھنے آیا تو اسے خطرہ محسوس ہوا۔ وہ کہنے لگا: "یہ بنی اسرائیل کا بچہ ہے، اسے قتل کر دو!"
لیکن آسیہ نے فرعون کو سمجھایا: "یہ بچہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اسے قتل نہ کرو، ہو سکتا ہے یہ ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔" (سورہ القصص: 9)
اللہ نے فرعون کے دل کو سخت کر دیا تھا، لیکن آسیہ کی بات مان کر اس نے بچے کو زندہ رہنے دیا۔
---
موسیٰ علیہ السلام کی اپنی ماں کی طرف واپسی
بچے کو دودھ پلانے کے لیے کئی دائیوں کو بلایا گیا، لیکن موسیٰ علیہ السلام کسی کا دودھ نہیں پیتے تھے۔ وہ مسلسل روتے رہتے۔
ادھر حضرت موسیٰ کی بہن یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ موقع دیکھ کر اس نے محل والوں سے کہا: "کیا میں تمہیں ایک خاندان بتاؤں جو اس بچے کی پرورش کر سکے؟ وہ اس سے محبت کریں گے اور اس کی خیرخواہی کریں گے۔" (سورہ القصص: 12)
محل والوں نے اس کی بات مان لی۔ اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی حقیقی ماں کے پاس واپس آ گئے۔ اللہ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔
---
موسیٰ علیہ السلام کی جوانی اور مصر سے فرار
حضرت موسیٰ علیہ السلام محل میں پلے بڑھے، لیکن ان کا رجحان اپنی قوم بنی اسرائیل کی طرف تھا۔ ایک دن وہ شہر میں گئے تو دیکھا کہ ایک فرعونی ایک بنی اسرائیلی سے لڑ رہا ہے۔ بنی اسرائیلی نے حضرت موسیٰ سے مدد مانگی۔ حضرت موسیٰ نے فرعونی کو ایک مکا مارا، جس سے وہ مر گیا۔
یہ حادثہ تھا، لیکن اگلے دن جب وہ شہر میں نکلے تو ایک اور فرعونی سے ایک بنی اسرائیلی لڑ رہا تھا۔ بنی اسرائیلی نے پھر مدد مانگی۔ حضرت موسیٰ نے اسے روکا تو وہ کہنے لگا: "کیا تم مجھے بھی اسی طرح مارنا چاہتے ہو جیسے کل ایک شخص کو مارا تھا؟"
اتنے میں ایک شخص نے دوڑتے ہوئے آ کر حضرت موسیٰ کو خبر دی: "فرعون کے درباری تمہیں قتل کرنے کی سازش کر رہے ہیں، تم فوراً شہر سے نکل جاؤ۔" (سورہ القصص: 20)
حضرت موسیٰ علیہ السلام فوراً مصر سے نکل کر مدین کی طرف چلے گئے۔
---
مدین میں حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت
مدین پہنچ کر حضرت موسیٰ نے دیکھا کہ کچھ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور دو عورتیں الگ کھڑی اپنی بکریوں کو روکے ہوئے ہیں۔ آپ نے پوچھا: "تمہارا کیا معاملہ ہے؟"
ان عورتوں نے بتایا: "ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتی جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نہیں ہٹا لیتے۔ ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں۔"
حضرت موسیٰ نے ان کی مدد کی اور جانوروں کو پانی پلا دیا۔ پھر ایک درخت کے سائے میں جا کر بیٹھ گئے اور دعا کی: "اے میرے رب! میں اس بات کا محتاج ہوں کہ تو مجھے کوئی بھلائی (روزی) دے دے۔" (سورہ القصص: 24)
تھوڑی دیر بعد وہ دونوں عورتیں میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ ان کے پاس آئی اور کہنے لگی: "میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلانے کی اجرت دے سکیں۔"
حضرت موسیٰ ان کے والد (حضرت شعیب علیہ السلام) کے پاس گئے اور سارا قصہ سنایا۔ حضرت شعیب نے کہا: "ڈرو نہیں، تم ظالم قوم سے بچ کر آ گئے ہو۔"
پھر ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے اپنے والد سے کہا: "ابا جان! انہیں اجرت پر رکھ لیجیے، بہترین شخص وہ ہے جو طاقت ور بھی ہو اور امانت دار بھی۔" (سورہ القصص: 26)
حضرت شعیب علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: "میں اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو آپ کے نکاح میں دینا چاہتا ہوں، اس شرط پر کہ آپ آٹھ سال میری خدمت کریں۔ اگر دس سال پورے کر دیں تو یہ آپ کی طرف سے احسان ہے۔"
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ شرط قبول کر لی۔
---
نبوت ملنا اور فرعون کے پاس جانے کا حکم
دس سال بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے اہل و عیال کے ساتھ مصر کی طرف واپس جا رہے تھے۔ سردی کی رات تھی، راستہ بھول گئے۔ طور پہاڑ کے پاس انہیں دور سے آگ نظر آئی۔
وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک درخت میں آگ لگی ہے، لیکن درخت جل نہیں رہا۔ یہ اللہ کا نور تھا۔ اچانک آواز آئی:
"اے موسیٰ! بے شک میں ہی تمہارا رب ہوں، تم اپنی جوتیاں اتار دو، کیونکہ تم مقدس وادی طویٰ میں ہو۔ اور میں نے تمہیں برگزیدہ کیا، اب جو وحی کی جائے اسے سنو۔ بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو تم میری عبادت کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔" (سورہ طٰہٰ: 11-14)
پھر اللہ نے حضرت موسیٰ کو دو معجزے عطا کیے:
1. عصا (لاٹھی) - جب یہ ڈالی جاتی تو ایک بہت بڑا سانپ بن جاتا۔
2. ید بیضا (چمکتا ہاتھ) - جب آپ اپنا ہاتھ بغل میں دباتے اور نکالتے تو وہ چمکنے لگتا، لیکن یہ کوئی بیماری نہیں تھی۔
اللہ نے حکم دیا: "تم فرعون کے پاس جاؤ، وہ بہت سرکش ہو گیا ہے۔"
حضرت موسیٰ نے عرض کیا: "اے رب! میرے سینے میں تنگی ہے، میری زبان نہیں چلتی، مجھے ہارون (میرے بھائی) کو ساتھی دے دے۔" اللہ نے ان کی دعا قبول کی اور حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی نبوت عطا فرما کر ان کا ساتھی بنا دیا۔
---
فرعون کے سامنے پہلا چیلنج
حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام فرعون کے پاس پہنچے اور اسے اللہ کا پیغام سنایا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر دے اور اللہ کی عبادت کرے۔
فرعون نے مغرورانہ انداز میں پوچھا: "تمہارا رب کون ہے؟"
حضرت موسیٰ نے جواب دیا: "ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی صورت عطا کی اور پھر راہ دکھائی۔" (سورہ طٰہٰ: 50)
فرعون نے کہا: "اگر تم سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ۔"
حضرت موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ایک بہت بڑا سانپ بن گیا۔ پھر اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے لیے چمکنے لگا۔
فرعون کے درباری بولے: "یہ تو بڑا ماہر جادوگر ہے!"
فرعون نے کہا: "تم نے میری اجازت کے بغیر ایسا کیا؟" پھر اس نے اپنے وزیروں سے مشورہ کیا اور طے پایا کہ پورے مصر کے ماہر جادوگروں کو جمع کیا جائے اور ان کا مقابلہ کیا جائے۔
---
جادوگروں کا مقابلہ
مقررہ دن آیا۔ فرعون کے حکم سے پورے مصر کے بڑے بڑے جادوگر جمع ہوئے۔ عوام بھی تماشا دیکھنے آئی۔
جادوگروں نے کہا: "اے موسیٰ! یا تو تم پہلے ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں۔"
حضرت موسیٰ نے فرمایا: "تم ہی ڈالو۔"
جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں۔ ان کے جادو سے لوگوں کو لگا جیسے سانپ دوڑ رہے ہوں۔ پورا میدان سانپوں سے بھر گیا۔ لوگ ڈر گئے۔
اس وقت اللہ نے حضرت موسیٰ پر وحی نازل فرمائی: "ڈرو نہیں، تم ہی غالب رہو گے۔" (سورہ طٰہٰ: 68)
پھر حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا۔ وہ ایک بہت بڑا سانپ بنا اور جادوگروں کے بنائے ہوئے تمام سانپوں کو نگلنے لگا۔
جادوگر پکار اٹھے: "یہ جادو نہیں، یہ تو اللہ کی قدرت ہے! ہم موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لے آئے!"
فرعون غصے سے لال پیلا ہو گیا۔ وہ چلایا: "تم نے میرے بغیر ایمان قبول کر لیا؟ میں تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ دوں گا اور تمہیں سولی پر چڑھا دوں گا!"
لیکن جادوگر پہلے ہی سچائی کو پا چکے تھے۔ انہوں نے کہا: "تو جو کر سکتا ہے کر، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔"
---
فرعون کا تعاقب اور بحیرہ قلزم کا معجزہ
جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد فرعون اور بھی زیادہ ظالم ہو گیا۔ اس نے بنی اسرائیل پر مزید مظالم ڈھائے۔ اللہ نے فرعون پر مختلف عذاب بھیجے:
· طوفان
· ٹڈی دل
· جوؤں
· مینڈک
· خون (پانی خون بن گیا)
لیکن فرعون ہر بار عذاب دیکھ کر توبہ کر لیتا اور عذاب ہٹتے ہی پھر سرکش بن جاتا۔
آخرکار اللہ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جائیں۔ راتوں رات وہ نکل کھڑے ہوئے۔
صبح ہوتے ہی فرعون کو خبر ملی۔ اس نے اپنا لشکر جمع کیا اور ان کے پیچھے دوڑا۔ بنی اسرائیل بحیرہ قلزم (بحیرہ احمر) کے کنارے پہنچے تو سامنے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کا لشکر۔ لوگ گھبرا گئے اور کہنے لگے: "ہم تو پکڑے گئے!"
حضرت موسیٰ نے فرمایا: "ہرگز نہیں! میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔" (سورہ الشعراء: 62)
اللہ نے حضرت موسیٰ پر وحی نازل فرمائی: "اپنا عصا دریا پر مارو۔"
جیسے ہی عصا مارا، دریا پھٹ گیا اور بارہ راستے بن گئے۔ پانی دیواروں کی طرح کھڑا رہا۔ بنی اسرائیل نے خشک زمین پر چل کر دریا پار کر لیا۔
فرعون اپنے لشکر سمیت دریا میں اتر آیا۔ جب وہ درمیان میں پہنچا تو اللہ نے پانی کو حکم دیا اور وہ ان پر گر پڑا۔ فرعون نے آخری وقت میں کہا: "میں ایمان لایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔"
لیکن اب ایمان قبول نہیں تھا۔ جبرائیل علیہ السلام نے اس کے منہ میں کیچڑ ڈال دی تاکہ وہ رحمت کا دعویٰ نہ کر سکے۔ اس کا جسم محفوظ رہا تاکہ آنے والی نسلیں عبرت حاصل کریں۔
اللہ فرماتا ہے:
"آج ہم تیرے جسم کو بچا لیں گے تاکہ تو بعد والوں کے لیے نشانی بن جائے۔" (سورہ یونس: 92)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
I/11/1Islamabad
Islamabad
44000