24/06/2024
Candid Edification تادیب Youth is the future of any Nation. Character building of youth is important for healthy and prosperous nation. I create this channel to contribute my part through story telling.
© 2010 GMCLife is so sweetbut why we creatproblems to destroy every good thingwhy don't we beone hand and agreeto love each other till the end ♥
"You are a nation whose history is replete with people of wonderful character and heroism. Live up to your traditions and add to another chapter of glory."Mohammad Ali Jinnah.
24/06/2024
Candid Edification تادیب Youth is the future of any Nation. Character building of youth is important for healthy and prosperous nation. I create this channel to contribute my part through story telling.
21/03/2022
ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں ان کی تربیت پر توجہ دیں۔ کہ ہمیں بے ہنگم ہجوم نہیں تربیت یافتہ اور سلجھی ہوئی نسل اس ملک کو دینی ہیں۔ پاکستان کی ترقی میں اور اپنے گھر کی بہتری میں اپنا کردار ادا کریں ❤️❤️
Message for Parents by Ghulam Mustafa Chughtai Edification is the most important part in Character Building of Kid / Youth. So make your child a productive part of nation. we need humans not unguided crowd.
28/05/2020
یہ مت سوچیں کہ آپ کے ملک نے آپ کو کیا دیا ہے ؟
یہ سوچیں کہ آپ اپنے ملک کو کیا دے سکتے ہیں ؟
صرف اس ایک چھوٹے سے درست انداز میں پوچھے گٸے سوال سے ہم اپنے اور آنی والی نسلوں کے مستقبل کو روشن بنا سکتے ہیں۔
16/02/2017
یہ محبتوں کی باتیں کسی اور دن کریں گے
ابھی رب سے خیر مانگو میرا دیس جل رہا ہے
There was blood everywhere, :'( and "the defense, is in the safe hand" the typical bu****it statement came from the mouths of our so-called democratic government. For God sake no more political statements, it's time to take action by opting zero tolerance policy against facilitators and financiers of terrorism and hate speech.It's time to suspend human rights and take hard decisions for greater national interests. Our institutions are very much capable of responding this hybrid warfare threat. The government should take bold steps.
یہ کاروبارِ چمن اس نے جب سنبھالا ہے
فضا میں لالہ و گُل کا لہو اچھالا ہے
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے
ہجومِ گُل میں چہکتے ہوئے سمن پوشو!
زمینِ صحنِ چمن آج بھی جوالا ہے
ہمارے عشق سے دردِ جہاں عبارت ہے
ہمارا عشق، ہوس سے بلند و بالا ہے
سنا ہے آج کے دن زندگی شہید ہوئی
اسی خوشی میں تو ہر سمت دیپ مالا ہے
ظہیر ہم کو یہ عہدِ بہار، راس نہیں
ہر ایک پھول کے سینے پہ ایک چھالا ہے
14/02/2017
Last Poem by Cap,(R) Ahmad Mubeen.
’کافر ھُوں، سر پھرا ھُوں، مجھے مار دیجیے
میں سوچنے لگا ھُوں ، مجھے مار دیجیے
ھے احترام ِحضرت ِانسان میرا دین
بے دین ھو گیا ھُوں، مجھے مار دیجیے
میں پوچھنے لگا ھُوں سبب اپنے قتل کا
میں حد سے بڑھ گیا ہوں، مجھے مار دیجیے
کرتا ھُوں اہل جبہ ودستار سے سوال
گستاخ ھو گیا ھُوں، مجھے مار دیجیے
خوشبو سے میرا ربط ھے جگنو سے میرا کام
کتنا بھٹک گیا ھُوں، مجھے مار دیجیے
معلوم ھے مجھے کہ بڑا جرم ھے یہ کام
میں خواب دیکھتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
زاہد یہ زہد و تقویٰ و پرہیز کی روش
میں خوب جانتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
بے دین ھُوں مگر ھیں زمانے میں جتنے دین
میں سب کو مانتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
پھر اس کے بعد شہر میں ناچے گا ھُو کا شور
میں آخری صدا ھُوں، مجھے مار دیجیے
میں ٹھیک سوچتا ھُوں، کوئی حد میرے لیے ؟
میں صاف دیکھتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
یہ ظلم ھے کہ ظلم کو کہتا ھُوں صاف ظلم
کیا ظلم کر رھا ھُوں، مجھے مار دیجیے
میں عشق و امن ھون، میں علم ھُوں، میں خواب
اک دردِ لادوا ھُوں ، مجھے مار دیجیے
زندہ رھا تو کرتا رھُوں گا ھمیشہ پیار
میں صاف کہہ رھا ھُوں، مجھے مار دیجیے
جو زخم بانٹتے ھیں انہیں زیست پہ ھے حق
میں پھول بانٹتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
ہے امن شریعت تو محبت مرا جہاد
باغی بہت بڑا ھُوں، مجھے مار دیجیے
بارود کا نہیں مرا مسلک درود ھے
میں خیر مانگتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
Absolutely amazing MashaAllah! Trust me "Surprised" or "Being speechless" would be an understatement!
22/01/2017
Can't stress enough on importance of appreciating! In the world full of critics be that one person who appreciates little things... trust me, you will make someone's day
17/01/2017
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
ہم دیکھیں گے
Contribute to the future of pakistan with the help of education and wisdom. Try to teach those who are not able to pay there fees. You the Pakistan's can do this becauses you are the best people on earth.
15/08/2016
میرا پاکستان
جہاں جوتے خریدنے کے بھی پیسے نہ ہوں اور کوئی ہاشم خان سکواش کے میدان میں جھنڈا گاڑ دے اور پھر اگلے باون برس تک اس کا خاندان یہ جھنڈا گرنے نہ دے .
جہاں کروڑوں خواتین ابھی صرف خواب میں ہی محوِ پرواز ہونے کی مہم جوئی کرسکیں اور کوئی شکریہ خانم جہاز اڑانے لگے اور وہ بھی آج سے تریپن برس پہلے۔
جہاں اسی فیصد خواتین محرم کی اجازت کے بغیرگھر سے قدم نہ نکال سکیں اور کوئی نمرہ سلیم انٹار کٹیکا پر قدم رکھ دے۔
جہاں جمنازیم جانے کے لیے بس کا پورا کرایہ بھی نہ ہو اور کوئی نسیم حمید جنوبی ایشیا کی تیز رفتار ترین لڑکی قرار پاجائے۔
جہاں ملک کے اڑتیس فیصد بچے پہلی جماعت بھی مکمل کیے بغیر سکول سے ڈراپ آؤٹ ہوجائیں اور کوئی علی معین نوازش ایک ہی برس میں اکیس مضامین میں اے لیول لینے کا عالمی ریکارڈ قائم کردے .
جہاں ولید امجد ملک اقوامِ متحدہ کے تحت انسانی حقوق پر مضمون نگاری کے عالمی مقابلے میں اول آجائے۔
جہاں نو سالہ ارفع کریم دنیا کی کم عمر ترین مائیکرو سوفٹ کمپیوٹر انجینیر کے طور پر ابھر آئے۔
جہاں نابیناؤں کے لیے نہ تعلیم کی ضمانت ہو اور نہ ہی روزگار کی وہاں کے نابیناؤں کی کرکٹ ٹیم ایک نہیں دو ورلڈ کپ جیت جائے۔
جہاں کے پہاڑی لوگ غیرملکی کوہ پیماؤں کے قلی بن کر گھر کا چولہا جلنے پر خوش ہوجائیں اور ان میں سے کوئی نذیر صابر اور پھر کوئی حسن صدپارہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کر لے۔
جہاں ایم ایم عالم نامی ایک پائیلٹ ایک پرانے فائیٹر جہاز سے صرف ایک منٹ میں دشمنوں کے پانچ طیارے گرا کر دنیا کی ہوائی جنگ میں نہ ٹوٹنے والا ریکارڈ بنا دے .
جہاں اوپر سے نیچے تک کچھ لے دیئے بغیر سرمایہ کاری کا تصور ہی محال ہو وہاں کا کوئی اسد جمال فوربس میگزین کی ٹاپ ہنڈرڈ گلوبل وینچر کیپٹلسٹ لسٹ میں آٹھویں نمبر پر آجائے۔
جہاں ایسے حالات میں بھی لوگ ایسے کارنامے سر انجام دے رہے ہوں کہ سر فخر سے بلند ہو جائے . اور اگر حالات سازگار ہو جائیں تو یہ ملک بلاشبہ دنیا کا بہترین ملک بن جائے .
یہ ہے میرا وطن ، میرا فخر، میری پہچان، میرا پیارا پاکستان . مجھے فخر ہے اپنے پاکستانی ہونے پر.
Copied
26/06/2016
اقتصادی راہداری اور عالمی سازش
پہلی جنگ عظیم سے پہلے جرمنی نے ایک خواب دیکھا۔ اس خواب کی تعبیر جان جوکھوں کا کام تھا، لیکن جرمن نے اسے حقیقت کا رنگ دینے کے لیے قدم اٹھا دیا۔ جرمنی نے برلن سے بغداد تک ایک طویل ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ تشکیل دیا۔ برلن سے بغداد کا فاصلہ 4 ہزار 423 کلومیٹر ہے، لیکن اس کے باوجود جرمنی نے بغداد تک رسائی کے لیے اس روٹ پرکام شروع کردیا۔ اس منصوبے کے 5 بڑے مقاصد تھے۔ ایک، جرمنی سے عراق تک صنعت و تجارت سے خطے میں خوشحالی کا دور دورہ۔ دو، جنگی حالات میں ریل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا۔ تین، عراق، شام، ترکی، بلغاریہ، سربیا، ہنگری، آسٹریلیا اور جرمنی کو ایک ٹریک کے ذریعے آپس میں ملا دینا۔ چار، بحیرہ فارس میں ایک جدید بندرگاہ کا قیام اور پانچ، عراق و شام کے تیل تک بآسانی رسائی۔ یہ وہ مقاصد تھے جس کی بنیاد پراس طویل ترین ریلوے لائن کا منصوبہ تشکیل پایا۔
یہ 1900ء سے قبل کا دور تھا۔ اس زمانے میں جرمنی ایک بڑی طاقت کا روپ دھار رہاتھا۔ دوسری طرف امریکا، روس، برطانیہ اور جاپان کا طوطی بول رہا تھا۔ جرمن کے اس منصوبے کی بُو پا کر امریکا، روس، برطانیہ اور جاپان کو لالے پڑ گئے۔ انہوں نے اس روٹ کو ناکام بنانے کے لیے سازشوں کا جال بُننا شروع کر دیا۔
انہیں علم تھا اگر جرمن اس منصوبے میں کامیاب ہو گئے تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں سپرپاور بننے سے نہیں روک سکتی۔ دنیا کے تیل کے بڑے ذخائر ان کے ہاتھ آ جائیں گے اور اس سے جرمنی کی تجارتی اور دفاعی پوزیشن بھی ناقابل تسخیر ہو جائے گی۔ اس ریلوے لائن کو ناکام بنانے کے لیے آسٹریا اورسربیا میں شہزادی کے قتل پر کشیدگی پھیلی۔ دیکھتے ہی دیکھتے فرانس اور جرمنی آمنے سامنے آ گئے اور پھر فرانس کے ساتھ امریکا، برطانیہ، روس، اٹلی، یونان پرتگال، رومانیہ اور سربیا کاندھے سے کاندھا ملائے میدان جنگ میں اترگئے۔ دوسری طرف جرمنی کی مدد کے لیے آسٹریا، ترکی اوربلغاریہ نے نعرہ لگا دیا۔ یوں یہ جنگ شروع ہوئی اور اس جنگ نے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کے ساتھ ساتھ اس ریل منصوبے کو بھی دفن کر دیا۔
یہ تاریخ کا ایک ہوشربا واقعہ تھا۔ اگر ہم اس واقعے کو سامنے رکھ کر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی بات کریں تو کئی ہولناک سازشوں کی بُو سونگھ پائیں گے۔ آپ پہلے اس اقتصادی راہداری کے چند بڑے فوائد ملاحظہ کرلیجیے۔ مثلاً: اس روٹ کی تعمیر کے بعد چین بحیرہ عرب میں اتر جائے گا۔ بحیرہ عرب میں اترنے کا مطلب ہے چین کو مشرق وسطیٰ تک رسائی مل جائے گی۔ مثلاً: اس روٹ سے چین کو متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب، کویت، عراق، یمن اور ایران تک بحری راستہ مل جائے گا اور یہ راستہ جہاں مشرق وسطیٰ کی منڈیوں میں جاکھلے گا، وہیں اس خطے پر چین کو دفاعی دسترس بھی مل جائے گی۔ مثلاً: اس منصوبے کی تکمیل سے بھارت کی بحیرہ عرب میں چودھراہٹ ختم ہو جائے گی اور چین دو اطراف سے بھارت کو گھیرلینے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں پاک چین گوادر پورٹ کا قیام ایک بڑادفاعی کھیل ہے۔ گوادر پورٹ کی تکمیل سے چین اور پاکستان بحیرئہ عرب پر گہری نظر رکھ سکیں گے اور بھارتی ہتھکنڈوں کا سدباب بھی کر سکیں گے۔
اس راہداری سے جہاں چین کو مالی و دفاعی فوائد ملیں گے وہیں پاکستان کی اہمیت بھی دو چند ہو جائے گی۔ مثلاً: اگر خدانخواستہ کبھی چین اور پاکستان کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو پاکستان اس اقتصادی راہداری پر قدم رکھ کر چین کا ناطقہ بند کرسکتا ہے۔ مثلاً: پاکستان اس منصوبے سے اربوں روپے کما سکتا ہے۔ اس راہداری سے پاکستان میں خوشحالی کا دروازہ کھل جائے گا۔ روزگار کے مواقع در آئیں گے، دفاع مستحکم ہو گااور اس سے جہاں چین تک نقل و حمل آسان ہو جائے گی وہیں پاکستانی مصنوعات شمال سے جنوب اور جنوب سے شمال تک بآسانی پہنچائی جاسکیں گے۔ یہ مصنوعات شمال سے جنوب میں بحیرئہ عرب کے ذریعے دوسرے ممالک تک بھی بھیجی جا سکیں گی۔ اس راہداری کے قیام کے بعد بھارت کا خطے میں پھیلنا پھولنا کم ہو جائے گا۔ گوادر پورٹ کے قیام سے بھارتی معیشت پر منفی اثرات پڑیں گے اور اس سے بھارت کا دفاع بھی کمزور پڑ جائے گا۔ یہ پورٹ ایک ایسی جگہ قائم کی جارہی ہے جہاں یہ دنیا کی تیسری گہری ترین بندرگاہ ہو گی۔ یہ ایسی جگہ پر واقع ہے جہاں سے دنیا کے تیل کی سپلائی کی بڑی لائن آبنائے ہرمز گزرتی ہے۔ یوں اس بندرگاہ سے پورے سنٹرل ایشیا، مغربی چائنا، ایران، روس اور بھارت بھی استفادہ کریں گے۔ روس کی بندرگاہیں چھ ماہ برف باری کی وجہ سے بند رہتی ہیں، لہٰذا روس کے لیے قریب ترین بندرگاہ گوادر ہی ہو گی۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے بھی یہ انتہائی قریب ہو گی اور اس جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر یہ بندرگاہ خطے کی تقدیر بدل دے گی۔ اب آپ اس اقتصادی راہداری اور بندرگاہ کے فوائد کو سامنے رکھیے اور دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے۔ کیا عالمی استعمار اس بندرگاہ اور راہداری کو پروان چڑھنے دے گا؟ یقینا نہیں، لہٰذا اس معاشی اور اقتصادی خواب کو تعبیر دیے جانے سے قبل ہی اسے متنازعہ بنا نے کی کوشش کی جائے گی اور اسے ناکام بنانے کی جستجو بھی۔ یہی وجہ ہے عالم استعمار متحرک ہوچکا ہے۔ اس سلسلے میں امریکااور بھارت پیش پیش ہیں۔ یہ دونوں ممالک اور ان کے چہیتے مل کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ آپ دیکھ لیں کراچی سے کشمیر تک پورا ملک بدامنی اور خوف کا شکار ہے۔ بلوچستان میں نفرت کی آگ جلائی جا رہی ہے۔ بعض سرداروں اور قبائل کو خرید کر انہیں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں الجھایا جا رہا ہے۔ بلوچستا ن میں اس آگ کو بھانبڑ بنانے کے لیے فرقہ واریت کا تیل ڈالا جا رہا ہے۔ پاکستان مخالف سوچ کو تقویت دی جا رہی ہے اور بلوچوں کو احساس محرومی کی آڑ میں استعمال کرنے کے پورے جتن کیے جا رہے ہیں۔
اسی طرح کراچی میں کشت وخون بہا کر پاکستان کے معاشی حب کو کمزور کیا جارہا ہے۔ ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے ناسورکو پھیلانے کے لیے بھارتی ہاتھ متحرک ہیں اور اسی طرح ایران پاکستان اور پاکستان اور چین کے درمیان رخنہ ڈالنے کے لیے بھی اکا دکا سازشیں سامنے آ رہی ہیں۔ یہ سب کیوں ہو رہا ہے ؟ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے تا کہ پاکستان اپنے پائوں پر کھڑا نہ ہوسکے۔ پاکستان کے اندر آگ لگا کر اسے کمزور کیا جائے اور بدامنی کی ایسی فضا طاری کر دی جائے جس میں یہ منصوبے پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکیں۔ اس سلسلے میں بلوچوں میں کبھی گوادر پورٹ پر بلوچستان کا سب سے زیادہ حق ہے کے نام پر حقارت کے بیچ بوئے جارہے ہیں اور کبھی راہداری روٹ کا بلوچستان کے غریب اور پسماندہ علاقوں کو کوئی فائدہ نہیں کا جواز گڑھ کر ناکام کرنے کی کوششیں کی جاری ہیں۔ اگر آپ اس سے اوپر اٹھ کر بالائی طبقے پر نظر دوڑائیں تو پاکستان کی بعض سیاسی جماعتیں بھی رخنہ اندازی کی کوشش میں ہیں۔ وہ اس راہداری کو متنازعہ بنانے کے لیے ہمہ تن سرگرم ہیں۔ ہو سکتا ہے ان کا مقصد موجودہ حکومت کو اس گیم چینجر منصوبے سے مقبولیت ہتھیانے سے روکنا ہی ہو، لیکن اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ پاکستان کی راہوں کا کانٹا ہے۔
آپ اس سلسلے میں کالاباغ ڈیم کی مثال لے لیجیے۔ کالاباغ ڈیم 1984ء سے تاحال فزیبلٹی رپورٹوں تک ہی محدود ہے۔ خیبرپختونخواہ، بلوچستان اور سندھ تینوں صوبے اس ڈیم کے خلاف ہیں۔ کیوں خلاف ہیں؟ یہ بھی ایک دردناک داستان ہے۔ عموماً اس ڈیم کی تعمیر پر ایک اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ شہری آبادی نیچے ہونے کی وجہ سے یہ ڈیم قابل عمل نہیں۔ دوسرا اعتراض یہ ہے اگر یہ ڈیم بن گیا تو سندھ کو پانی نہیں ملے گا جس سے سندھ بنجر ہو جائے گا۔ تیسرا اعتراض یہ ہے اس ڈیم کے قیام سے صوبہ پنجاب فوائد اٹھائے گا اور خیبرپختونخواہ سے یہ زیادتی ہو گی۔ (باقی صفحہ5پر) پانی خیبرپختونخواہ کا ہے تو اس پر حق بھی خیبرپختونخواہ کا ہے، لہٰذا بعض بلوچ سردار اسے زیادتی قرا ر دے کر اس ڈیم کی راہ میں حائل ہیں حالانکہ اس ڈیم کا براہ راست بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔ اب یہ اعتراض اٹھا کر کالاباغ ڈیم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے متنازعہ بنا دیا گیا اور اس کی تکمیل کے فی الحال کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
اب آپ ان اعتراض پر غور کریں اور اس کے بعد بیرونی پشت پناہوں کا کھوج لگائے تو اس کے ڈانڈے آپ کو بھارت سے ملتے دکھائی دیں گے۔ بھارت شروع دن سے پاکستان کے پانی پر قابض ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے باوجود بھارت پاکستان کا پانی چوری کررہا ہے اور دھڑا دھڑ ڈیم بنائے جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے آج ستلج، راوی اور چناب ریت اور پتھر کے ٹیلے نظر آتے ہیں اور پاکستان کی سرسبز زمین تیزی سے بنجر ہو رہی ہے۔ اگر کالاباغ ڈیم بن جاتا ہے تو اس سے جہاں پاکستانی سرزمین شاداب ہو گی۔ فصلیں لہلہائیں گے وہیں بجلی کا دیرینہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور جب لوڈشیڈنگ ختم ہو گی تو کارخانے چلیں گے۔ چمنیوں دے دھواں نکلے گا اور یہ بھارت کو کسی صورت قبول نہیں، لہٰذا یہ افواہیں بھی سرگرم رہی ہیں بھارت کالاباغ ڈیم کی تعمیر رکوانے کے لیے پاکستانی شہریوں کو خفیہ فنڈ دیتا ہے جو اس’’خیرات‘‘ کے عوض اس ڈیم کی تعمیر کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ اقتصادی راہداری بھی بھارت کے لیے زہر قاتل ہے، لہٰذابھارت کسی صورت اس منصوبے کو تکمیل تک نہیں پہنچنے دے گا۔ اسی طرح چین کی ابھرتی معیشت کو مشرق وسطیٰ کی منڈیوں سے تقویت امریکا اور بھارت کے لیے ہضم نہیں ہو پائے گی۔ یہ اس منصوبے کو متنازعہ بنانے، ناکام بنانے کی اپنی تئیں پوری کوشش کریں گے۔ ساتھ ہی ساتھ چین اور ایران بھی اس راہداری کے خلاف ہیں۔ گوادر پورٹ کی بندرگاہ سے ایرانی بندرگاہ بندر عباس اور چابہارکی اہمیت کم ہو جائے گی اور اس سے ایران کی معیشت پر منفی اثرات پڑیں گے۔
اسی طرح روس سٹیل مل کے قیام سے گرم پانیوں تک پہنچنے کا متمنی رہا ہے۔ چین کی بحیرہ عرب تک رسائی روس کو ہضم نہیں ہو گی۔ اس کے مفادات کو بھی زک پہنچے گی، لہٰذا یہ ممالک بھی اس اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ کے راستے میں حائل ہونے کی کوشش کریں گے۔ عالمی استعمار اگر جرمنی کے ریلوے منصوبے کے لیے جنگ عظیم مسلط کر سکتا ہے تو وہ اس منصوبے کو ناکامی سے دوچار کرنے کے لیے تیسری عالمی جنگ کا نقارہ بھی بجا سکتا ہے، لیکن ان تمام تر حقائق کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ کہ ہماری بقاء اور سلامتی کے لیے یہ دونوں منصوبے ضروری ہیں اور یہ اسی صورت پایہ تکمیل کو پہنچ سکتے ہیں جب موجودہ حکومت اور عسکری قیادت شانہ سے شانہ ملائے کھڑے ہوں اور قوم ان کی آواز پر لبیک کہنے کو تیار ہو۔ میں سمجھتا ہوں اس وقت جب وطن عزیز کو غیر مستحکم اور کمزور کرنے کے لیے کفار کی ریشہ دوانیاں عروج پر ہیں ہمیں، ہماری سیاسی جماعتوں اور عسکری حکام کو ایک ہی نکتے پر اکٹھا ہونا ہوگا، ہمیں امن لانا ہوگا، ہمیں ان منصوبوں کو جان پر کھیل کر منزل تک پہنچنا ہوگا۔
20/12/2014
Killing innocent unarmed school children?
This is not War, this is not Jihad, this is not Islam !
This is purely Inhuman
میں کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں
میرے شہر جل رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں