17/02/2021
ایک پیغام تمام والدین کے نام۔۔۔۔
سنگاپور میں امتحانات سے قبل ایک اسکول کے پرنسپل نے بچوں کے والدین کو خط بھیجا جس کا مضمون کچھ یوں تھا۔۔
" محترم والدین!
آپ کے بچوں کے امتحانات جلد ہی شروع ہونے والے ہیں میں جانتا ہوں آپ سب لوگ اس چیز کو لے کر بہت بے چین ہیں کہ آپ کا بچہ امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھائے۔
لیکن یاد رکھیں یہ بچے جو امتحانات دینے لگے ہیں ان میں (مستقبل کے) آرٹسٹ بھی بیٹھے ہیں جنھیں ریاضی سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس میں بڑی بڑی کمپنیوں کے ترجمان بھی ہوں گے جنھیں انگلش ادب اور ہسٹری سمجھنے کی ضرورت نہیں ۔
ان بچوں میں (مستقبل کے) ادیب بھی بیٹھے ہوں گے جن کے لیے کیمسٹری کے کم مارکس کوئی معنی نہیں رکھتے ان سے ان کے مستقبل پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔
ان بچوں میں ایتھلیٹس بھی ہو سکتے ہیں جن کے فزکس کے مارکس سے زیادہ ان کی فٹنس اہم ہے۔
لہذا اگر آپ کا بچہ زیادہ مارکس لاتا ہے تو بہت خوب لیکن اگر وہ زیادہ مارکس نہیں لا سکا تو خدارا اسکی خوداعتمادی اور اس کی عظمت اس بچے سے نہ چھین لیجئے گا۔
اگر وہ محنت کے باوجود بہت اچھے مارکس نہ لا سکیں تو انھیں حوصلہ دیجئے گا کہ کوئی بات نہیں یہ ایک چھوٹا سا امتحان ہی تھا وہ زندگی میں اس سے بھی کچھ بڑا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں!!!
Copied
18/02/2020
اکثر دوست CSS کی تیاری کے بارے میں سوال کرتے رہتے ہیں ان کی رہنمائی کے لیے
27/12/2019
A mind needs books ...
A mind needs books as a sword needs a whetstone, if it is to keep its edge
22/09/2019
سنگاپور میں امتحانات سے قبل ایک اسکول کے پرنسپل نے بچوں کے والدین کو خط بھیجا جس کا مضمون کچھ یوں تھا۔۔
" محترم والدین!
آپ کے بچوں کے امتحانات جلد ہی شروع ہونے والے ہیں میں جانتا ہوں آپ سب لوگ اس چیز کو لے کر بہت بے چین ہیں کہ آپ کا بچہ امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھائے۔
لیکن یاد رکھیں یہ بچے جو امتحانات دینے لگے ہیں ان میں (مستقبل کے) آرٹسٹ بھی بیٹھے ہیں جنھیں ریاضی سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس میں بڑی بڑی کمپنیوں کے ترجمان بھی ہوں گے جنھیں انگلش ادب اور ہسٹری سمجھنے کی ضرورت نہیں ۔
ان بچوں میں (مستقبل کے) موسیقار بھی بیٹھے ہوں گے جن کے لیے کیمسٹری کے کم مارکس کوئی معنی نہیں رکھتے ان سے ان کے مستقبل پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔
ان بچوں میں ایتھلیٹس بھی ہو سکتے ہیں جن کے فزکس کے مارکس سے زیادہ ان کی فٹنس اہم ہے۔
لہذا اگر آپ کا بچہ زیادہ مارکس لاتا ہے تو بہت خوب لیکن اگر وہ زیادہ مارکس نہیں لا سکا تو خدارا اسکی خوداعتمادی اور اس کی عظمت اس بچے سے نہ چھین لیجئے گا۔
اگر وہ اچھے مارکس نہ لا سکیں تو انھیں حوصلہ دیجئے گا کہ کوئی بات نہیں یہ ایک چھوٹا سا امتحان ہی تھا وہ زندگی میں اس سے بھی کچھ بڑا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
اگر وہ کم مارکس لاتے ہیں تو انھیں بتا دیں کہ آپ پھر بھی ان سے پیار کرتے ہیں اور آپ انھیں ان کم مارکس کی وجہ سے جج نہیں کریں گے۔
خدارا! ایسا ہی کیجیے گا اور جب آپ ایسا کریں گے پھر دیکھیے گا آپ کا بچہ دنیا بھی فتح کر لے گا۔۔۔ ایک امتحان اور کم مارکس آپ کے بچے سے اس کے خواب اور اس کا ٹیلنٹ نہیں چھین سکتا۔
برائے مہربانی ایسا مت سوچئے گا کہ اس دنیا میں صرف ڈاکٹر اور انجینئرز ہی خوش رہتے ہیں۔۔
آپ کا مخلص
پرنسپل۔۔۔۔۔۔۔"
منقول: سارہ حسین کی وال سے
19/07/2019
لارڈ کرزن جو کہ انگریزوں کے دور حکومت میں وائسرائے بن کر برصغیر آئے تھے، نے 1901 میں ایک تعلیمی کانفرنس میں برصغیر کے تعلیمی مسائل پر ایک تقریر کی تھی جو ہمارے "آج" کے حالات پر بھی صحیح دکھائی دیتی ہے۔ جو ہم سے علیحدہ ہو گئے انہوں نے شاید کسی حد تک ان مسائل پر قابو پا لیا ہے لیکن تقریر پڑھ کر آپ یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ ہم دہائیوں بعد بھی انہی مسائل سے دو چار ہیں۔
"جب میں ہندوستانی کالجوں کے ہزاروں نوجوانوں پر غور کرتا ہوں جو ناختم ہونے والے سلسلہ امتحانات میں زیادہ سے زیادہ فیصد نمبروں کے حصول کے لیے مسلسل پسے جا رہے ہیں تو یہ اس منظر سے کم افسوس ناک نہیں جو تبت میں ان بھکشوؤں کو دیکھ کر ہوتا ہے جو عبادت کے پہیے کو میکانکی طور پر مسلسل گھمائے جا رہے ہیں۔ ان آوازوں کی تکرار کے ساتھ جن کے مطالب کا مفہوم خود انہیں بھی نہیں ہوتا لیکن وہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ ایسا کرنے سے انکی ابدی نجات گھیرے میں آ رہی ہوتی ہے۔ میں صرف نظام امتحان کے نتائج کا ہی نہیں بلکہ اس کا شکار طلباء پر پڑنے والے اثرات کا بھی ذکر کر رہا ہوں۔
کیا قوم کی دانش کی قیمت ادا کر کے صرف قابل عزت کلرک اور وکیل ہی بنانے ہیں۔ رٹے کی عادت پیدا کر کے لوگ کسی طور بھی ذہانت کے پیمانے کو عبور نہیں کر سکتے۔
یادداشت بذات خود دماغ نہیں بلکہ دماغ کی صرف ایک صلاحیت ہے لیکن پھر بھی ہم طلباء کی یادداشت کو تیز کیے جاتے ہیں ان کے ذہنوں کی یادداشت کے امتحان لیتے ہیں۔
اساتذہ بھی طلباء کی طرح وہی بنیادی غلطی کیے چلے جا رہے ہیں۔ طلباء کی ذہنی اور اخلاقی ترقی کی طرف سوچنے کی بجائے وہ جدولی نتائج، فیصد نمبروں اور صرف پاس ہونے کے چکروں میں پڑے ہیں۔ یہ پانی پر پڑی وہ لکیر ہے جس سے ہمیں ہندوستانی تعلیم کو اٹھانا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ وہ دلدل کے اندر دھنس کر دم توڑ دے۔"
علی عباس