13/02/2025
شبِ برات ۔۔۔۔۔
Quran ul Hakeem is an online teaching institution which teaches you and your children quran hakeem with tajweed. Institution also learn you about Islam.
Contact :
Skype : quran.hakeem100
WhatsApp/Viber : +92 342 005 2561
Email : [email protected]
13/02/2025
شبِ برات ۔۔۔۔۔
13/02/2025
شبِ برأت 2025 کو 13 فروری بروز جمعرات کو ہوگی، اور یہ رات مغرب سے لے کر صبح صادق تک جاری رہے گی۔
اس رات کے بعد 14 فروری 2025 کو جمعہ کا دن ہوگا۔
یعنی:
13 فروری 2025 (جمعرات): شبِ برأت
14 فروری 2025 (جمعہ): دن کا روزہ رکھنا مستحب ہے
اس رات کی عبادت اور دعا کی خصوصیت کو سمجھ کر ہمیں اپنی زندگیوں میں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے تاکہ ہم اس سے مغفرت حاصل کر سکیں۔
اللہ ہمیں اس بابرکت رات کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
شبِ برأت کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
شبِ برأت کا تعارف:
شبِ برأت (لیلۃ النصف من شعبان) اسلامی سال کے آٹھویں مہینے شعبان کی 15ویں رات کو کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بابرکت رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور مغفرت نازل ہوتی ہے۔
شبِ برأت کا ذکر قرآن میں:
شبِ برأت کا نام لے کر قرآن میں کوئی آیت موجود نہیں، لیکن بعض مفسرین نے سورۃ الدخان کی درج ذیل آیات کو اس رات کی طرف اشارہ سمجھا ہے:
اللَّهُ تَعَالَىٰ فَرْمَاتَا:
"إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ، فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ"
(سورۃ الدخان: 3-4)
ترجمہ:
"بے شک! ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا، بیشک ہم ڈرانے والے ہیں۔ اسی میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔"
بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ یہاں "مبارک رات" سے مراد شبِ برأت ہے، جبکہ جمہور مفسرین کے مطابق اس سے مراد لیلۃ القدر ہے۔ تاہم، اس رات میں فیصلوں کا کیا جانا اور برکت کا ذکر بعض اہلِ علم کے نزدیک شبِ برأت کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
حدیث میں شبِ برأت کی فضیلت:
نبی کریم ﷺ سے شبِ برأت کے بارے میں کئی احادیث مروی ہیں، جن میں اس رات کی فضیلت، مغفرت اور رحمت کا ذکر ملتا ہے:
1. اللہ کی مغفرت کی رات:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ لِأَهْلِ الْأَرْضِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ"
(ابن ماجہ: 1390، صحیح الجامع: 771)
ترجمہ:
"جب شعبان کی پندرہویں رات آتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف نظرِ رحمت فرماتا ہے اور سب کو بخش دیتا ہے، سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔"
یہ حدیث مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اس رات اللہ کی عام مغفرت ہوتی ہے، مگر دو قسم کے لوگوں کو معافی نہیں ملتی:
1. مشرک → وہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے۔
2. کینہ رکھنے والا → وہ شخص جو دوسروں سے بغض اور دشمنی رکھتا ہے۔
2. رزق اور موت کے فیصلے کی رات:
حضرت عطاء بن یسارؒ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"شعبان کی پندرہویں رات اللہ تعالیٰ پورے سال کے فیصلے فرماتا ہے، رزق اور موت کے امور لکھے جاتے ہیں۔"
(البیہقی فی شعب الإیمان: 3835)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ اس رات تقدیر کے کچھ فیصلے کیے جاتے ہیں، جیسے:
کس کو کتنا رزق ملے گا؟
کون مرے گا اور کون زندہ رہے گا؟
3. اس رات کی عبادت کی ترغیب:
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جب شعبان کی پندرہویں رات آئے تو اس میں قیام کرو (عبادت کرو) اور دن میں روزہ رکھو، کیونکہ اللہ اس رات آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: ‘کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ میں اسے رزق دوں؟ کیا کوئی مصیبت زدہ ہے کہ میں اسے عافیت عطا کروں؟' یہ سلسلہ صبح تک جاری رہتا ہے۔"
(ابن ماجہ: 1384)
شبِ برأت میں مستحب اعمال:
1. نماز پڑھنا:
نوافل ادا کرنا مستحب ہے، لیکن مخصوص 100 رکعت یا 14 رکعت والی روایات ضعیف ہیں۔
2. قرآن کی تلاوت کرنا:
اس رات قرآن پڑھنا باعثِ برکت ہے، کیونکہ اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔
3. دعا اور استغفار:
خاص طور پر درج ذیل دعا پڑھنی چاہیے:
اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
"اے اللہ! تو معاف کرنے والا، کرم فرمانے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔"
4. دن کا روزہ رکھنا:
نبی کریم ﷺ اکثر شعبان کے روزے رکھتے تھے، اور پندرہویں شعبان کے روزے کا بھی ذکر آیا ہے۔
5. کینہ اور دشمنی سے بچنا:
حدیث میں آیا ہے کہ کینہ رکھنے والے کی مغفرت نہیں ہوتی، اس لیے اس رات دوسروں کو معاف کرنا ضروری ہے۔
کچھ غلط تصورات اور بدعات:
1. شبِ برأت کو مخصوص عبادات اور طریقوں کے ساتھ منانا:
100 رکعت نماز، 6 رکعت مخصوص نماز، یا "برأت کی حلوہ" کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔
2. شبِ برأت کو لازم سمجھ کر منانا:
یہ عبادت کی رات ہے، مگر واجب نہیں، یعنی جو عبادت کرے اسے ثواب ملے گا، لیکن نہ کرنے پر گناہ نہیں۔
3. آتش بازی اور غیر شرعی رسومات:
یہ اسلامی طریقہ نہیں، بلکہ بدعت ہے۔
نتیجہ:
شبِ برأت اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کی رات ہے، جس میں اللہ تعالیٰ بے شمار لوگوں کو بخش دیتا ہے۔ ہمیں اس رات کو ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ عبادت، دعا، استغفار اور روزے کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اللہ ہمیں اس مبارک رات کی قدر کرنے اور اپنی مغفرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین!
11/02/2025
دنیا کا گندہ ترین دریا ۔ بنارس میں گنگا کنارے مانیکارنیکا شمشان گھاٹ۔
ہر ہندو کی خواہش ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد اس ک لاش کو اس گھاٹ پر چتا دی جائے۔ بہت سے جاں بلب مریض اپنی موت سے پہلے یہاں ڈیرہ ڈال لیتے ہیں تاکہ مرنے کے فورا" بعد ان کی چتا کو اس متبرک مقام پر آگ نصیب ہو سکے۔
اس مقصد کے لئے گھاٹ کنارے باقاعدہ کمرے بھی دستیاب ہیں جہاں مریض اور اس کے ساتھ آئے رشتے دار قیام کرتے ہیں۔ بنارس کے مختلف گھاٹوں پر روزانہ تقریبا" سو چتائوں کو آگ لگائ جاتی ہے جہاں ہر وقت جلے گوشت کی چراند پھیلی رہتی ہے۔ لکڑی مہنگی ہونے کی وجہ سے بعض اوقات چتا کو جلانے والے متوفی کے لواحقین کے جانے کے بعد لکڑی بچانے کے لئے ادھ جلی لاش کو ہی کھینچ تان کر گنگا برد کردیتے ہیں جہاں اکثر ادھ جلی لاشیں پانی میں تیرتی نظر آتی ہیں ۔
بعض اوقات کنارے سے لگ جانے والی لاشوں کو کتے بھنبھؤڑتے ہیں۔ ان لاشوں کی راکھ گنگا میں بہا دی جاتی ھے اور اسی پانی میں یاتری خود کو غوطے دے کر اشنان کرتے ہیں اور اپنے پاپ دھوتے ہیں۔ اس مقام پر گنگا دنیا کا غلیظ ترین دریا بن جاتا ھے ۔
بنارس کے یہ چتا گھاٹ زمین پر جہنم کا منظر پیش کرتے ہیں۔ جہاں کہیں ارتھیاں پڑی ہوتی ہیں تو کہیں چتا میں مردے کی لاش آگ سے اکڑ رہی ہوتی ھے ۔
لکڑی اور چتا کو آگ لگانے والوں سے مول تول کرتے لوگ۔ کہیں لاش جل کانے کے بعد بانسوں کی مدد سے کھوپڑی پر ضربیں لگا کر اس کے ٹکڑے کہے جا رہے ہوتے ہیں۔
رات میں یہ منظر مزید بھیانک ہو جاتا ھے جب جگہ جگہ جلتی چتائیں اور دھوتی میں ملبوس آسیب نما افراد چتائوں کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ ہر طرف راکھ کوئلے آگ کیچڑ اور بدبو کا راج ہوتا ھے ۔
الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اور پاکیزگی ہمارا ایمان ہے
اللہ نے انسان کے لئے قبر کا وہ راستہ منتخب کیا ہے جیسے اس کا بھرم بھی رہ جائے اور اس کی پاکیزگی بھی برقرار رہے...