19/05/2026
جنگ کے نعرے اور خالی خزانہ
تحریر۔۔۔ ایس۔ اے
پاکستان میں جب بھی داخلی بحران شدت اختیار کرتا ہے، سرحدوں کی ہوا اچانک گرم محسوس ہونے لگتی ہے۔ ٹی وی اسکرینوں پر جنگی موسیقی بجنے لگتی ہے، اینکرز کے لہجے بلند ہو جاتے ہیں، اور سوشل میڈیا پر جذباتی نعرے گردش کرنے لگتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے قوم کو یہ باور کرایا جا رہا ہو کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ روٹی، روزگار اور معیشت نہیں، بلکہ جنگی جوش ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ایک ایسا ملک جس کا خزانہ قرضوں کے سہارے چل رہا ہو، کیا وہ واقعی مسلسل جنگی ماحول کا متحمل ہو سکتا ہے؟
پاکستان اس وقت معاشی لحاظ سے اپنی تاریخ کے نازک ترین ادوار میں سے گزر رہا ہے۔ صنعت سکڑ رہی ہے، سرمایہ کار غیر یقینی کا شکار ہیں، متوسط طبقہ پس رہا ہے، اور نوجوان ملک چھوڑنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ بجلی کے بلوں سے لے کر آٹے اور پیٹرول تک، ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں اگر قومی گفتگو کا مرکز معیشت کے بجائے صرف جنگی بیانیہ بن جائے تو یہ خطرناک علامت ہے۔
جنگ صرف سرحد پر نہیں لڑی جاتی، معیشت پر بھی لڑی جاتی ہے۔ جدید دنیا میں وہی ریاستیں مضبوط سمجھی جاتی ہیں جن کی معیشت مستحکم ہو، ادارے فعال ہوں، اور عوام پُرامید ہوں۔ خالی نعروں سے نہ معیشت چلتی ہے، نہ ریاستیں طاقتور بنتی ہیں۔
بدقسمتی سے جنوبی ایشیا میں جنگی ماحول اکثر داخلی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ بھارت میں بھی یہی ہوتا ہے، پاکستان میں بھی۔ جب عوام مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی ناکامیوں پر سوال اٹھاتے ہیں تو قومی سلامتی کی بحث اچانک سب سے اوپر آ جاتی ہے۔ یوں جذبات وقتی طور پر معیشت پر غالب آ جاتے ہیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ پاکستان کو اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ ایک مضبوط دفاع ہر ریاست کی ضرورت ہے۔ مگر دفاع اور مسلسل جنگی نفسیات میں فرق ہوتا ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست اپنے عوام کو خوف اور جذبات کے بجائے اعتماد اور استحکام دیتی ہے۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں قومی طاقت کا تصور اب بھی زیادہ تر عسکری زاویے سے دیکھا جاتا ہے، جبکہ دنیا بہت آگے نکل چکی ہے۔ چین نے معیشت سے طاقت حاصل کی، جرمنی نے صنعت سے، جاپان نے ٹیکنالوجی سے۔ مگر ہم اب بھی نعروں کو طاقت سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں۔
ایک غریب آدمی کے لیے جنگی تقریر سے زیادہ اہم اس کے بچے کی فیس ہے۔ ایک مزدور کے لیے میزائل سے زیادہ اہم اس کے گھر کا راشن ہے۔ قوم پرستی بھوکے پیٹ زیادہ دیر زندہ نہیں رہتی۔
اس صورتحال کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ مسلسل جنگی ماحول معاشروں کو اندر سے سخت، بے چین اور غیر منطقی بنا دیتا ہے۔ لوگ اختلافِ رائے کو غداری سمجھنے لگتے ہیں، سوال پوچھنے والے مشکوک قرار دیے جاتے ہیں، اور سنجیدہ مکالمہ جذباتی شور میں دب جاتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جہاں ریاستیں طاقتور دکھائی تو دیتی ہیں، مگر اندر سے کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ جنگی نعرے نہیں، معاشی استحکام ہے۔ ہمیں ایسے لیڈر، ایسے پالیسی ساز اور ایسا قومی بیانیہ چاہیے جو عوام کو یہ بتائے کہ اصل جنگ غربت، جہالت، بے روزگاری اور ادارہ جاتی کمزوری کے خلاف ہے۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ خالی خزانے زیادہ دیر تک بلند نعروں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔
قومیں صرف جذبے سے نہیں، توازن سے چلتی ہیں۔ اور اگر ایک ملک مسلسل جذبات میں جیتا رہے مگر معیشت، تعلیم اور انصاف میں پیچھے رہ جائے، تو پھر خطرہ سرحدوں سے کم اور اندر سے زیادہ ہوتا ہے۔
پاکستان کے پاس ایٹمی طاقت ضرور ہے، مگر ایک تھکا ہوا معاشرہ، قرضوں میں دبی ہوئی معیشت اور مایوس نوجوان بھی ہیں۔ اصل سوال یہی ہے کہ آنے والے وقت میں ہم دنیا کو کیا دکھانا چاہتے ہیں: طاقت کا شور، یا استحکام کا شعور؟
ایس۔ اے
18/05/2026
سائفر سے بڑا بحران
تحریر۔۔ ایس۔ اے
پاکستان میں بعض اوقات ایک خط پورے نظام کو ہلا دیتا ہے، مگر وہ خط خود نہیں، اس کے گرد بننے والی کہانی ریاستوں کو زیادہ کمزور کرتی ہے۔ “سائفر” کا معاملہ بھی اسی نوعیت کی ایک مثال ہے، جہاں اصل بحث ایک دستاویز سے زیادہ اس اعتماد کے بحران پر آ گئی ہے جو ریاست، سیاست اور عوام کے درمیان مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ وہ سفارتی مراسلہ کیا تھا، یا اس میں کون سے الفاظ استعمال ہوئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک آئینی ریاست میں ایک حساس سفارتی رابطہ کس طرح داخلی سیاسی کشمکش کا مرکزی حوالہ بن گیا؟ اور کیوں ہر فریق نے اسے اپنے اپنے بیانیے کے لیے استعمال کیا؟
اس سارے معاملے نے پاکستان کی سیاسی فضا کو دو واضح حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک طبقہ اسے بیرونی مداخلت کا ثبوت سمجھتا رہا، اور دوسرا اسے داخلی سیاست کا ایک ایسا بیانیہ قرار دیتا رہا جسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حقیقت پس منظر میں چلی گئی اور تاثر مرکزی حقیقت بن گیا۔
یہاں ایک اہم پہلو سمجھنے کی ضرورت ہے: ریاستیں صرف معاہدوں اور اداروں سے نہیں چلتی، بلکہ اعتماد سے چلتی ہیں۔ جب شہری یہ سمجھنے لگیں کہ ریاستی بیانیہ مکمل نہیں یا اس میں کہیں نہ کہیں سیاسی رنگ شامل ہے، تو پھر صرف ایک دستاویز نہیں، پورا نظام سوالات کی زد میں آ جاتا ہے۔
پاکستان میں بدقسمتی سے یہ مسئلہ نیا نہیں۔ ماضی میں بھی مختلف ادوار میں ایسے مواقع آئے جب سرکاری موقف اور عوامی تاثر کے درمیان فاصلہ بڑھا۔ لیکن سائفر کے معاملے نے اس فاصلے کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا، کیونکہ یہ براہِ راست خارجہ پالیسی، قومی سلامتی اور اعلیٰ سیاسی قیادت سے جڑا ہوا معاملہ تھا۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں سیاسی تقسیم اب صرف رائے کا اختلاف نہیں رہی، بلکہ شناخت کا حصہ بن چکی ہے۔ لوگ صرف یہ نہیں دیکھتے کہ کوئی بات درست ہے یا غلط، بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ وہ کس نے کہی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سچ اپنی معروضی حیثیت کھونے لگتا ہے۔
سائفر کے گرد پیدا ہونے والی بحث نے ایک اور بڑے مسئلے کو بھی بے نقاب کیا ہے: اداروں پر اعتماد کا بحران۔ جب مختلف ریاستی ادارے ایک ہی معاملے پر مختلف اوقات میں مختلف تشریحات دیں، تو عام شہری کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کس بات کو حتمی سمجھے۔ یہی ابہام آہستہ آہستہ بداعتمادی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اصل خطرہ سائفر نہیں تھا، اصل خطرہ وہ ماحول ہے جس میں ہر بڑا واقعہ فوری طور پر سیاسی ہتھیار بن جاتا ہے۔ جہاں معلومات تحقیق سے پہلے استعمال ہوتی ہیں، اور حقائق بعد میں تلاش کیے جاتے ہیں۔ اس طرزِ عمل نے پاکستان میں سنجیدہ قومی مکالمے کو مسلسل کمزور کیا ہے۔
یہ بھی غور طلب بات ہے کہ ایک ملک جس کی معیشت پہلے ہی دباؤ میں ہو، جہاں عوام مہنگائی اور بے روزگاری سے گزر رہے ہوں، وہاں سیاسی اشرافیہ اگر اپنی توانائی مسلسل بیانیوں کی جنگ میں صرف کرے تو اصل قومی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
سائفر کے بعد جو بحث پیدا ہوئی، وہ دراصل اس بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کیا پاکستان ایک ایسی ریاست بن چکا ہے جہاں ہر واقعہ پہلے سیاسی لڑائی میں تبدیل ہوتا ہے اور بعد میں حقیقت تلاش کی جاتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ادارہ جاتی اور فکری بحران ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سائفر ایک علامت بن چکا ہے۔ اس علامت کے پیچھے ایک گہرا سوال چھپا ہے: کیا اس ملک میں ریاستی سچ اور سیاسی سچ ایک ہی سمت میں چل رہے ہیں یا الگ الگ راستوں پر؟
جب تک اس سوال کا جواب واضح نہیں ہوتا، تب تک سائفر جیسے معاملات صرف خبریں نہیں رہیں گے، بلکہ اعتماد کے بحران کی یاددہانی بنتے رہیں گے۔ اور شاید یہی وہ اصل بحران ہے جو کسی ایک خط سے نہیں، بلکہ پورے نظام کے اندر پیدا ہو چکا ہے۔
ایس۔ اے
17/05/2026
اشرافیہ کا پاکستان
تحریر!۔۔۔ ایس۔ اے
پاکستان شاید دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں غربت صرف غریب کا مسئلہ نہیں، بلکہ امیر کی بے حسی کا نتیجہ بھی ہے۔ یہاں دو پاکستان ساتھ ساتھ چلتے ہیں؛ ایک وہ جو فائلوں، پروٹوکول، پوش علاقوں اور طاقت کے ایوانوں میں آباد ہے، اور دوسرا وہ جو بجلی کے بل، آٹے کی قیمت، سرکاری اسپتالوں کی لائنوں اور تھانوں کے باہر ذلیل ہوتا ہے۔ مسئلہ صرف طبقاتی فرق کا نہیں، بلکہ اس احساس کا ہے کہ اس ملک میں کچھ لوگ قانون، معیشت اور ریاست—تینوں سے بالاتر زندگی گزارتے ہیں۔
پاکستان کی اشرافیہ محض ایک معاشی طبقہ نہیں، ایک ذہنیت ہے۔ ایسی ذہنیت جو ریاست کو عوامی امانت نہیں، ذاتی سہولت سمجھتی ہے۔ یہاں اقتدار بدلتا رہتا ہے مگر اشرافیہ نہیں بدلتی۔ چہرے نئے آ جاتے ہیں، مفادات پرانے رہتے ہیں۔ کبھی سیاست دان اس دائرے کے مرکز میں ہوتے ہیں، کبھی بیوروکریسی، کبھی کاروباری خاندان، اور کبھی وہ طاقتور حلقے جن کا نام عوام صرف سرگوشیوں میں لیتے ہیں۔ مگر ہر دور میں ایک چیز مشترک رہتی ہے: قربانی ہمیشہ عام آدمی دیتا ہے۔
پاکستان کا متوسط اور غریب طبقہ آج جس مہنگائی، بے روزگاری اور ذہنی دباؤ سے گزر رہا ہے، اس کا سب سے تکلیف دہ پہلو شاید یہ نہیں کہ حالات خراب ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اشرافیہ کے حالات خراب نہیں ہوتے۔ بجلی کے نرخ بڑھتے ہیں، مگر طاقتور علاقوں میں جنریٹر چلتے رہتے ہیں۔ پیٹرول مہنگا ہوتا ہے، مگر سرکاری گاڑیوں کے قافلے کم نہیں ہوتے۔ بجٹ میں ٹیکس بڑھتے ہیں، مگر اصل دولت رکھنے والے راستے نکال لیتے ہیں۔ گویا ریاستی بوجھ بھی طبقاتی بنیادوں پر تقسیم ہوتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی اصل تعریف بھی شاید یہی ہے کہ آپ کون ہیں۔ اگر ایک غریب آدمی بجلی کا بل نہ دے سکے تو میٹر کاٹ دیا جاتا ہے، مگر بڑے بڑے اداروں اور بااثر شخصیات کے کروڑوں کے واجبات برسوں فائلوں میں دفن رہتے ہیں۔ ایک عام شہری معمولی مقدمے میں تھانے کے چکر لگاتا ہے، جبکہ طاقتور لوگ عدالتوں میں بھی پروٹوکول کے ساتھ داخل ہوتے ہیں۔ یہی وہ منظر ہے جو عوام کے اندر سب سے خطرناک احساس پیدا کرتا ہے: ریاست سب کی نہیں رہی۔
اشرافیہ کا سب سے بڑا ہنر شاید یہی ہے کہ وہ ہر بحران میں بھی اپنا فائدہ محفوظ رکھتی ہے۔ معیشت گرے تو بوجھ عوام اٹھائیں، ڈالر مہنگا ہو تو کاروباری مفادات محفوظ رہیں، سیاسی انتشار ہو تو اقتدار کے دروازے انہی کے لیے کھلے رہیں۔ پاکستان میں بحران ہمیشہ نیچے والے طبقے کے لیے بحران بنتا ہے، اوپر والوں کے لیے صرف ایک نئی adjustment۔
تعلیم کے شعبے کو ہی دیکھ لیجیے۔ ایک پاکستان وہ ہے جہاں بچے لاکھوں روپے فیس دے کر بین الاقوامی معیار کے اداروں میں پڑھتے ہیں، اور دوسرا وہ جہاں سرکاری اسکولوں میں پنکھے تک نہیں چلتے۔ صحت کا حال بھی مختلف نہیں۔ اشرافیہ کے لیے بیرونِ ملک علاج موجود ہے، جبکہ عام آدمی سرکاری اسپتال کے فرش پر اپنی باری کا انتظار کرتا ہے۔ یہی طبقاتی تقسیم آہستہ آہستہ ریاست اور شہری کے درمیان نفسیاتی دیوار کھڑی کرتی ہے۔
المیہ یہ بھی ہے کہ اشرافیہ صرف وسائل پر قابض نہیں، بیانیے پر بھی قابض ہے۔ ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھ کر وہی لوگ قوم کو قربانی، صبر اور حب الوطنی کا درس دیتے ہیں جن کی اپنی زندگیوں پر ان بحرانوں کا معمولی اثر بھی نہیں پڑتا۔ ایک مزدور کے لیے آٹے کی قیمت بڑھنا زندگی کا مسئلہ ہے، مگر ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے لوگوں کے لیے یہ صرف معاشی اعداد و شمار ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں ہر بڑا بحران دراصل حکمران طبقے کی غلط ترجیحات کا نتیجہ رہا ہے۔ اس ملک میں وسائل کی کمی سے زیادہ انصاف کی کمی ہے۔ یہاں مسئلہ غربت سے زیادہ غیر مساوی تقسیم کا ہے۔ اگر ایک طرف چند خاندان نسلوں تک اقتدار، دولت اور اثرورسوخ پر قابض رہیں، اور دوسری طرف کروڑوں لوگ بنیادی سہولتوں کے لیے ترستے رہیں، تو پھر صرف معیشت نہیں، معاشرہ بھی بیمار ہو جاتا ہے۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اب عام آدمی کے اندر یہ احساس گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ یہ ملک اس کا نہیں۔ جب نوجوان دیکھتا ہے کہ قابلیت سے زیادہ تعلقات اہم ہیں، جب ایک محنتی شخص برسوں جدوجہد کے باوجود وہ مقام حاصل نہیں کر پاتا جو ایک بااثر خاندان کا فرد آسانی سے پا لیتا ہے، تو پھر اس کے اندر ریاست کے ساتھ جذباتی تعلق کمزور پڑنے لگتا ہے۔
اشرافیہ کا پاکستان شاید وقتی طور پر چلتا رہے، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ وہ معاشرے زیادہ دیر قائم نہیں رہتے جہاں طاقت اور سہولت صرف چند ہاتھوں تک محدود ہو جائے۔ ریاستیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب خزانے خالی ہوں، بلکہ اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب انصاف صرف تقریروں میں رہ جائے۔
پاکستان کو آج سب سے زیادہ معاشی پیکج نہیں، طبقاتی دیانت کی ضرورت ہے۔ ایسا نظام جہاں قانون، تعلیم، صحت اور مواقع صرف مخصوص طبقات کی میراث نہ ہوں۔ کیونکہ اگر ایک ملک میں دو الگ زندگیاں چلتی رہیں—ایک مراعات یافتہ اور دوسری محروم—تو پھر نقشے پر تو ایک ہی پاکستان ہوگا، مگر حقیقت میں وہ کئی حصوں میں بٹ چکا ہوگا۔
ایس۔ اے
16/05/2026
پنکی نے کھیل بگاڑ دیا
تحریر۔۔ ایس۔ اے
پاکستان کی سیاست میں بعض اوقات ایک جملہ پورے منظرنامے کو ہلا دیتا ہے۔ برسوں سے قائم بیانیے، میڈیا کی سمت، طاقتور حلقوں کی منصوبہ بندی اور سیاسی فضا—سب کچھ ایک لمحے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں “انمول پنکی” کا معاملہ شاید اسی نوعیت کی ایک کہانی بنتا جا رہا ہے۔
کراچی کی عدالت میں پیشی کے دوران انمول پنکی نے میڈیا کے سامنے یہ دعویٰ کیا کہ اس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ “بنی گالہ میں ایک شخص کو کوکین سپلائی” کرنے کا بیان دے۔ یہ جملہ چند سیکنڈ کا تھا، مگر اس کے اثرات گھنٹوں نہیں، دنوں تک پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گونجتے رہے۔ اچانک پورا مقدمہ منشیات سے ہٹ کر سیاست، طاقت اور بیانیے کی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔
پاکستان میں یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی فوجداری مقدمے کے گرد سیاسی سائے محسوس کیے گئے ہوں۔ اس ملک کی تاریخ الزامات، میڈیا ٹرائلز اور کردار کشی کے کئی ابواب سے بھری پڑی ہے۔ اسی لیے جیسے ہی پنکی نے “بنی گالہ” کا لفظ استعمال کیا، ایک مخصوص طبقے نے فوراً اسے Imran Khan کے خلاف ممکنہ بیانیہ سازی سے جوڑ دیا۔ سوشل میڈیا پر یہ تاثر تیزی سے پھیلا کہ شاید ایک نیا سیاسی مقدمہ تیار کیا جا رہا تھا، مگر عدالت کے باہر دیے گئے بیان نے پوری اسکرپٹ کو بگاڑ دیا۔
اور شاید اسی لیے یہ جملہ اتنا طاقتور ثابت ہوا۔
کیونکہ پاکستان کی موجودہ سیاسی نفسیات میں عمران خان صرف ایک سیاسی رہنما نہیں، ایک جذباتی علامت بن چکے ہیں۔ ان کے حامی پہلے ہی ریاستی اداروں اور بعض میڈیا حلقوں پر عدم اعتماد رکھتے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی ملزم خود کو “سیاسی دباؤ” کا شکار ظاہر کرے تو فوری طور پر ایک بڑی عوامی sympathy اس کی طرف منتقل ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
لیکن کہانی کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ پنکی نے یہ بیان پوری ہوشیاری کے ساتھ دیا ہو۔ وہ جانتی ہو کہ اس وقت ملک کی ایک بڑی آبادی عمران خان کے بیانیے سے جذباتی وابستگی رکھتی ہے، اور اگر وہ خود کو اسی سیاسی فضا کے ساتھ جوڑ دے تو اس کے خلاف مقدمے کا رخ بدل سکتا ہے۔ ایک لمحے میں ایک ملزمہ “سیاسی سازش” کی ممکنہ متاثرہ فریق بن گئی۔ یہی جدید میڈیا دور کی سب سے بڑی طاقت ہے: perception حقیقت سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔
گویا جس کھیل میں شاید اس سے ایک مخصوص بیان لینے کی توقع تھی، اس نے وہی کھیل الٹا کھیل دیا۔
پاکستانی میڈیا نے بھی حسبِ روایت اس معاملے کو سنجیدگی سے زیادہ سنسنی کے انداز میں پیش کیا۔ کچھ چینلز نے اسے “بڑا انکشاف” بنا دیا، کچھ نے اسے “ڈرامہ” قرار دیا، جبکہ سوشل میڈیا نے چند گھنٹوں میں اس کیس کو مکمل سیاسی جنگ میں تبدیل کر دیا۔ اصل مقدمہ، شواہد، تفتیش—سب پس منظر میں چلے گئے، اور narrative سامنے آ گیا۔
یہی پاکستان کا اصل بحران ہے۔
یہاں اب مقدمات عدالتوں سے پہلے عوامی ذہن میں لڑے جاتے ہیں۔ ہر گرفتاری کے پیچھے سیاسی مقصد تلاش کیا جاتا ہے، ہر بیان کے پیچھے اسکرپٹ۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ماضی میں واقعی ایسے کئی واقعات ہوئے جہاں قانون اور سیاست کی حدیں دھندلا گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب عوام کسی بھی بڑے کیس کو مکمل غیر جانبداری سے دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
اگر پنکی سچ کہہ رہی ہے تو یہ نظامِ انصاف کے لیے ایک خوفناک سوال ہے۔ اور اگر وہ صرف عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے یہ narrative استعمال کر رہی ہے، تو یہ بھی اتنا ہی خطرناک رجحان ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان میں سیاسی جذبات اس قدر طاقتور ہو چکے ہیں کہ ایک ملزم بھی جانتا ہے کہ کس جملے سے پورا ماحول بدلا جا سکتا ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک خاتون، ایک مقدمے یا ایک سیاسی جماعت کی کہانی نہیں۔ یہ اس پورے عہد کی علامت ہے جہاں حقیقت، سیاست اور میڈیا اس طرح آپس میں الجھ چکے ہیں کہ سچ تک پہنچنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
“پنکی نے کھیل بگاڑ دیا” شاید اسی لیے صرف ایک سرخی نہیں، ایک مکمل سیاسی منظرنامے کا خلاصہ بن چکی ہے۔ کیونکہ پاکستان میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ طاقتور لوگ کھیل بناتے ہیں، مگر کبھی کبھی ایک غیر متوقع جملہ پوری بساط ہی الٹ دیتا ہے۔
ایس۔ اے
16/05/2026
انمول پنکی اور اٹھائیسویں ترمیم
تحریر۔۔ ایس۔ اے
پاکستان میں اکثر بڑے سیاسی فیصلے خاموش کمروں میں نہیں، شور کے ماحول میں کیے جاتے ہیں۔ پہلے فضا بنائی جاتی ہے، پھر خوف پیدا کیا جاتا ہے، پھر عوامی توجہ کو کسی ایک کردار، ایک واقعے یا ایک بحران کے گرد مرکوز کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اصل مقصد آہستہ آہستہ سامنے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں سنجیدہ لوگ ہمیشہ خبروں کے پیچھے چھپی ہوئی سیاست کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، صرف سرخیوں کو نہیں۔
حالیہ دنوں میں “انمول پنکی” کا کیس اچانک پاکستانی میڈیا، سوشل میڈیا اور سیاسی گفتگو کا مرکزی موضوع بن گیا۔ ایک مبینہ ہائی پروفائل ڈرگ نیٹ ورک، بڑے ناموں کے اشارے، پولیس کے دعوے، عدالتوں کے مناظر، اور پھر غیر معمولی میڈیا کوریج۔ ایسا محسوس ہونے لگا جیسے پورا ملک اچانک صرف اسی ایک کردار کے گرد گھوم رہا ہو۔
لیکن پاکستان کی سیاست کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ یہاں بعض اوقات “کہانی” صرف کہانی نہیں ہوتی، پس منظر بھی ہوتا ہے۔
اسی دوران “اٹھائیسویں ترمیم” کی بحث بھی مختلف سیاسی و صحافتی حلقوں میں گردش کرنے لگی۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ اس ترمیم کی حتمی شکل کیا ہوگی، مگر جس انداز سے طاقت، قانون، داخلی سکیورٹی اور ریاستی اختیار کے موضوعات کو میڈیا بیانیے میں آگے لایا جا رہا ہے، اس نے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ بعض تجزیہ نگار یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ملک میں ایک ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جہاں عوام سخت ریاستی اقدامات کو “ضرورت” سمجھنے لگیں۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ خوف زدہ معاشرے اکثر آزادیوں پر قدغن کو بھی خاموشی سے قبول کر لیتے ہیں۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ انمول پنکی واقعی مجرم ہے یا نہیں؛ اگر اس پر الزامات ہیں تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کیس کو جس انداز سے پیش کیا جا رہا ہے، کیا وہ صرف ایک کرمنل کیس کی رپورٹنگ ہے یا اس سے بڑھ کر کوئی سیاسی و نفسیاتی فضا بھی تشکیل دی جا رہی ہے؟
پاکستانی میڈیا کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اکثر خبر اور بیانیے کے درمیان حد کھو بیٹھتا ہے۔ ایک ملزمہ کو “کوکین کوئین” بنا کر پیش کیا جاتا ہے، اس کے گرد پراسرار کہانیاں بنائی جاتی ہیں، عدالت کے مناظر کو ڈرامائی انداز دیا جاتا ہے، اور پھر پورا ملک اسی بحث میں الجھ جاتا ہے۔
اس دوران اصل سوالات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
اگر واقعی پاکستان میں اتنا بڑا منشیات نیٹ ورک موجود تھا تو وہ برسوں تک کیسے چلتا رہا؟ اس کے پشت پناہ کون تھے؟ کون سے بااثر حلقے اس کاروبار سے فائدہ اٹھاتے رہے؟ صرف ایک خاتون کو میڈیا کا مرکزی چہرہ بنا دینے سے پورا سسٹم بے گناہ کیسے ہو جاتا ہے؟
یہاں معاملہ مزید دلچسپ اس وقت ہوتا ہے جب بعض سیاسی حلقے اور اینکرز اس کیس کو “ریاستی اختیارات” اور “قومی سلامتی” کے بڑے مباحث کے ساتھ جوڑنے لگتے ہیں۔ گویا ایک کرمنل کیس کے ذریعے عوامی ذہن کو اس طرف لے جایا جا رہا ہو کہ ملک اس قدر خطرناک حالات میں ہے کہ اب غیر معمولی آئینی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ ایسے تجربات سے بھری پڑی ہے۔ کبھی دہشت گردی کے نام پر اختیارات بڑھے، کبھی سیاسی انتشار کے نام پر، کبھی احتساب کے نام پر۔ ہر دور میں عوام کو یہی بتایا گیا کہ یہ سب “ریاست بچانے” کے لیے ضروری ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ طاقت وقتی طور پر تو مضبوط ہوتی گئی، مگر اداروں پر عوامی اعتماد کمزور ہوتا چلا گیا۔
اٹھائیسویں ترمیم کی بحث بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے جہاں ریاستی طاقت کو مزید وسعت دینے کے لیے عوامی رائے ہموار کی جائے۔ انمول پنکی جیسے کیسز پھر صرف جرائم کی کہانیاں نہیں رہتے، بلکہ ایک بڑے بیانیے کا حصہ محسوس ہونے لگتے ہیں۔
یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستانی میڈیا میں sensationalism ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔ تحقیق کم، تماشا زیادہ۔ تجزیہ کم، جذباتی فضا زیادہ۔ خود کئی تحقیقی مطالعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا اکثر سنجیدہ جمہوری مباحث کے بجائے ڈرامائی اور جذباتی فریم اختیار کرتا ہے۔
اصل خطرہ یہی ہے۔
جب قومیں مسلسل خوف، سنسنی اور غیر یقینی کے ماحول میں رہنے لگیں تو پھر وہ آہستہ آہستہ سوال پوچھنا چھوڑ دیتی ہیں۔ اور جس معاشرے میں سوال مر جائیں، وہاں طاقت کبھی محدود نہیں رہتی۔
پاکستان کو اس وقت قانون کی حکمرانی چاہیے، نہ کہ قانون کے نام پر خوف کی سیاست۔ اگر کوئی مجرم ہے تو اسے شفاف عدالتوں کے ذریعے سزا ملنی چاہیے، نہ کہ میڈیا ٹرائل کے ذریعے۔ اور اگر واقعی کوئی آئینی تبدیلی زیرِ غور ہے تو اس پر کھلا قومی مکالمہ ہونا چاہیے، نہ کہ اسے خوف، شور اور سنسنی کے ماحول میں عوام پر مسلط کیا جائے۔
“انمول پنکی” شاید چند ہفتوں بعد خبروں سے غائب ہو جائے، مگر اصل سوال باقی رہے گا: کیا پاکستان ایک آئینی ریاست کے طور پر آگے بڑھے گا، یا ہر بحران کو مزید اختیار کے جواز میں بدل دیا جائے گا؟
ایس۔ اے
15/05/2026
مہنگائی اب خبر نہیں، عادت بن گئی
تحریر۔۔ ایس۔ اے
کبھی پاکستان میں مہنگائی ایک خبر ہوا کرتی تھی۔ اخبار کی سرخی بنتی تھی، اسمبلی میں شور مچتا تھا، اپوزیشن پریس کانفرنس کرتی تھی اور حکومت وضاحتیں دیتی پھرتی تھی۔ مگر اب مہنگائی نہ خبر رہی ہے، نہ حادثہ۔ یہ ہماری روزمرہ زندگی کا مستقل موسم بن چکی ہے۔ ایسا موسم جس میں سانس لینا بھی ٹیکس کے دائرے میں محسوس ہوتا ہے۔
آج ایک عام پاکستانی صبح آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے موبائل پر موسم نہیں، قیمتیں چیک کرتا ہے۔ آٹا کتنے کا ہو گیا؟ چینی پھر بڑھ گئی؟ بجلی کا بل کتنا آیا؟ پٹرول مزید مہنگا تو نہیں ہو گیا؟ گویا زندگی اب خوابوں سے نہیں، نرخ ناموں سے جڑی ہوئی ہے۔
یہ شاید دنیا کا واحد ملک بنتا جا رہا ہے جہاں تنخواہ سال میں ایک بار بڑھتی ہے مگر قیمتیں دن میں تین بار۔ حکومت معاشی استحکام کے دعوے کرتی ہے، مگر بازار میں داخل ہوتے ہی یہ استحکام ایسے غائب ہو جاتا ہے جیسے غریب کے گھر سے خوشی۔ حکمرانوں کے مطابق مہنگائی “کنٹرول” میں ہے، مگر عوام پوچھتے ہیں کہ اگر یہ کنٹرول ہے تو بے قابو کیا ہوتا ہوگا؟
اصل المیہ صرف مہنگائی نہیں، بلکہ مہنگائی سے پیدا ہونے والی بے حسی ہے۔ پہلے دال مہنگی ہوتی تھی تو گھر میں بحث ہوتی تھی۔ اب پوری سبزی کی ٹوکری مہنگی ہو جائے تو لوگ خاموشی سے آدھی چیزیں واپس رکھ دیتے ہیں۔ پہلے بجلی کا بل دیکھ کر غصہ آتا تھا، اب دل صرف بیٹھ جاتا ہے۔ قوم احتجاج سے تھکن تک کا سفر طے کر چکی ہے۔
پاکستان کا متوسط طبقہ، جو کسی بھی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، سب سے زیادہ کچلا گیا ہے۔ غریب آدمی تو پہلے ہی سرکاری اعداد و شمار میں زندہ تھا، عملی زندگی میں نہیں۔ مگر اب وہ شخص بھی پس گیا ہے جو کبھی خود کو “سیٹل” سمجھتا تھا۔ جس کے بچے اچھے اسکولوں میں پڑھتے تھے، جو مہینے میں ایک بار خاندان کو باہر کھانا کھلا دیتا تھا، جو عید پر بغیر قرض لیے کپڑے خرید لیتا تھا۔ آج وہی شخص کیلکولیٹر ہاتھ میں لے کر سپر اسٹور میں گھومتا ہے۔
المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں رہی، یہ اخلاقی بحران بنتی جا رہی ہے۔ جب گھر کا خرچ پورا نہ ہو تو انسان کے لہجے بدل جاتے ہیں۔ رشتوں میں تلخی آتی ہے۔ باپ بچوں سے نظریں چرانے لگتا ہے، ماں اپنی خواہشیں چھپانے لگتی ہے، نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے مایوسی کی دیوار سے ٹیک لگا لیتے ہیں۔ غربت صرف جیب خالی نہیں کرتی، انسان کے اندر امید بھی کھوکھلی کر دیتی ہے۔
حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر عوام کی پلیٹ میں سالن کم ہوتا جاتا ہے۔ ہر آنے والی حکومت پچھلی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے، گویا اقتدار نہیں، الزاموں کی ریلے ریس چل رہی ہو۔ کوئی آئی ایم ایف کو کوستا ہے، کوئی عالمی منڈی کو، کوئی پچھلی پالیسیوں کو۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر اس ملک میں قربانی ہمیشہ عوام نے ہی کیوں دینی ہے؟ اشرافیہ کی عیاشیاں کیوں کبھی “معاشی ایمرجنسی” کا حصہ نہیں بنتیں؟
یہ کیسا انصاف ہے کہ ایک طرف مزدور اپنے بچوں کے دودھ کے لیے پریشان ہے اور دوسری طرف سرکاری پروٹوکول، لگژری گاڑیاں اور شاہانہ اخراجات ویسے ہی چل رہے ہیں؟ قوم کو بجلی بچانے کے لیکچر دیے جاتے ہیں مگر اقتدار کے ایوان روشنیوں سے جگمگاتے رہتے ہیں۔
مہنگائی کی سب سے خطرناک شکل وہ ہوتی ہے جب قوم اس کی عادی ہو جائے۔ کیونکہ پھر حکمرانوں کو جواب دہی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ جب عوام چیخنا چھوڑ دیں تو اقتدار بہرا ہو جاتا ہے۔ اور پاکستان میں اب یہی ہو رہا ہے۔ لوگ مہنگائی پر حیران ہونا چھوڑ چکے ہیں۔ وہ صرف زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک وقت تھا جب پاکستانی بہتر مستقبل کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ اب لوگ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ مہینے کے آخر تک عزت سے گزارا ہو جائے۔ خواب سکڑتے سکڑتے ضرورتوں میں بدل گئے ہیں، اور ضرورتیں بھی اب پوری نہیں ہوتیں۔
یہ ملک وسائل کی کمی کا شکار نہیں، ترجیحات کی خرابی کا شکار ہے۔ یہاں مسئلہ روٹی کی پیداوار نہیں، انصاف کی تقسیم ہے۔ جب تک حکمران اور عوام ایک ہی معاشی حقیقت میں زندگی نہیں گزاریں گے، تب تک مہنگائی صرف اعداد و شمار میں کم ہوگی، لوگوں کی زندگیوں میں نہیں۔
اور شاید سب سے خوفناک بات یہی ہے کہ اب مہنگائی ہمیں چونکاتی نہیں۔
ہم اس کے ساتھ جینا سیکھ چکے ہیں۔
کیونکہ مہنگائی اب خبر نہیں رہی… عادت بن گئی ہے۔
ایس۔ اے
14/05/2026
عید قریب، عوام پریشان
*تحریر: ایس۔ اے*
پاکستان ایک عجیب ملک ہے۔ یہاں خوشیوں کے تہوار بھی اب خوف کے سائے میں آتے ہیں۔ کبھی عید کا مطلب نئے کپڑے، بچوں کی ضدیں، بازاروں کی رونق، گلیوں میں قہقہے اور گھروں میں خوشبو ہوا کرتی تھی۔ اب عید کا نام سنتے ہی متوسط طبقے کے چہروں پر ایک خاموش پریشانی اتر آتی ہے۔ باپ کیلکولیٹر اٹھا لیتا ہے، ماں پرانی الماری کھول کر گزشتہ برس کے کپڑے دیکھنے لگتی ہے، اور بچے اب ضد بھی احتیاط سے کرتے ہیں۔
یہ کیسا ملک بن گیا ہے جہاں خوشی سے پہلے حساب کتاب آتا ہے؟
عجیب تماشا ہے کہ حکمران ہر تقریر میں “معیشت بہتر ہو رہی ہے” کا راگ الاپتے ہیں، مگر بازار میں دکان دار سے لے کر رکشہ ڈرائیور تک ہر شخص معاشی دم گھٹنے کی شکایت کرتا ہے۔ اگر واقعی حالات بہتر ہیں تو پھر عوام اتنے بے سکون کیوں ہیں؟ اگر ترقی ہو رہی ہے تو گھروں میں خاموشی کیوں بڑھ رہی ہے؟ اگر معیشت سنبھل رہی ہے تو لوگوں کے چہروں سے اطمینان کیوں غائب ہے؟
اصل مسئلہ صرف مہنگائی نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک میں انسان کی ذہنی طاقت ختم کی جا رہی ہے۔ آدمی صبح سے رات تک صرف زندہ رہنے کی جنگ لڑتا ہے۔ بجلی کا بل، گیس کا بل، بچوں کی فیس، پٹرول، آٹا، گوشت، کرایہ، دوائی — زندگی اب نعمت نہیں، ماہانہ سزا بن چکی ہے۔
اور انہی حالات میں حکومت نے ایک نیا معاشی فلسفہ دریافت کیا ہے:
“رات آٹھ بجے کاروبار بند کر دو!”
گویا پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ دکانیں کھلی رہنا تھا۔ حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے پالیسی ساز کس دنیا میں رہتے ہیں۔ شاید وہ کبھی رات گئے بازاروں میں نہیں گئے، شاید انہوں نے کبھی اس دکان دار کی آنکھ نہیں دیکھی جو دن بھر گاہک کا انتظار کرتا ہے اور اصل کمائی مغرب کے بعد شروع ہوتی ہے۔
پاکستان یورپ نہیں ہے۔ یہاں دن کا بڑا حصہ گرمی، ٹریفک، لوڈشیڈنگ اور دفتری مصروفیات کھا جاتی ہیں۔ لاکھوں لوگ شام کے بعد خریداری کرتے ہیں۔ خاص طور پر عید سے پہلے تو بازار رات گئے جاگتے ہیں۔ یہی وہ دن ہوتے ہیں جب چھوٹا دکاندار پورے سال کا کچھ نقصان پورا کرتا ہے۔ کپڑے والا، جوتے والا، چوڑی فروش، ٹھیلے والا، کھانے پینے والا — سب کی امیدیں انہی راتوں سے وابستہ ہوتی ہیں۔
مگر ہمارے معاشی جادوگروں نے فیصلہ کیا کہ آٹھ بجے شٹر گرا دو۔
اس فیصلے کا نقصان صرف کاروبار بند ہونے تک محدود نہیں۔ اس نے پورا معاشی دائرہ زخمی کیا ہے۔
جب دکان جلد بند ہوگی تو سیل کم ہوگی۔
سیل کم ہوگی تو منافع کم ہوگا۔
منافع کم ہوگا تو ملازمین نکالے جائیں گے۔
بیروزگاری بڑھے گی۔
اور پھر یہی حکومت نوجوانوں کو “روزگار اسکیموں” کے خواب دکھائے گی۔
سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ فیصلے وہ نائل لوگ کرتے ہیں جن کی زندگی پر ان فیصلوں کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جن کے بچے بیرونِ ملک پڑھتے ہیں، جن کے گھروں کے بجلی بل عوام کے ٹیکس سے ادا ہوتے ہیں، جن کے دسترخوان پر مہنگائی کا کوئی اثر نہیں ہوتا، وہ غریب آدمی کو کفایت شعاری کا درس دیتے ہیں۔
پاکستان میں اب پالیسی سازی زمینی حقیقتوں سے نہیں، ائیرکنڈیشنڈ کمروں سے ہوتی ہے۔
کسی نے یہ نہیں سوچا کہ آٹھ بجے بازار بند کرنے سے جرائم بھی بڑھ سکتے ہیں۔ جب ہزاروں لوگ ایک ہی وقت میں بازار سے نکلیں گے تو سڑکوں پر دباؤ بڑھے گا، ٹریفک جام ہوگا، اسٹریٹ کرائم بڑھے گا۔ خواتین اور خاندانوں کے لیے خریداری مزید مشکل ہو جائے گی۔ پھر وہی عوام موردِ الزام ٹھہرے گی کہ “قوم میں نظم و ضبط نہیں”۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی بجلی بچا رہے ہیں یا معیشت بجھا رہے ہیں؟
یہ ملک پہلے ہی بے یقینی کا شکار ہے۔ سرمایہ کار خوفزدہ ہے، نوجوان مایوس ہے، تاجر پریشان ہے، اور مزدور خاموش۔ ایسے میں کاروباری اوقات محدود کرنا ایسے ہی ہے جیسے زخمی آدمی کے پاؤں باندھ کر کہا جائے: “دوڑو!”
عید قریب ہے، مگر خوشی دور ہوتی جا رہی ہے۔
بازار روشن ہیں، مگر چہروں پر اندھیرے ہیں۔
لوگ خریداری کر رہے ہیں، مگر دلوں میں خوف ہے کہ اگلا مہینہ کیسے گزرے گا۔
اور شاید اس ملک کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ یہاں نائل حکمران اعداد و شمار دیکھتے ہیں، انسان نہیں۔
ایس۔ اے
13/05/2026
انمول پنکی یا قانون کا جنازہ
ریاست کی ساکھ صرف عدالتوں کی عمارتوں، پولیس کی وردیوں یا قانون کی کتابوں سے قائم نہیں ہوتی۔ اس کا اصل دارومدار اس احساس پر ہوتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ جب ایک عام شہری کو معمولی الزام پر ذلت، خوف اور سختی کا سامنا کرنا پڑے، مگر دوسری طرف سنگین الزامات رکھنے والے افراد غیر معمولی پروٹوکول اور رعایتوں کے ساتھ دکھائی دیں، تو پھر سوال صرف ایک فرد کا نہیں رہتا، پورے نظامِ انصاف کا بن جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں “انمول پنکی” کا معاملہ اسی بحث کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا، عوامی حلقوں اور مختلف تبصروں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کسی شخص پر منشیات فروشی جیسے سنگین الزامات موجود ہیں، تو پھر اسے وہ پروٹوکول اور سہولتیں کیوں دی جا رہی ہیں جو اکثر ایک عام ملزم تو کیا، بعض اوقات باقاعدہ سرکاری شخصیات کو بھی میسر نہیں ہوتیں؟
اصل مسئلہ صرف ایک فرد نہیں، بلکہ وہ تاثر ہے جو ایسے واقعات پیدا کرتے ہیں۔
پاکستان میں ایک عام نوجوان اگر معمولی مقدمے میں بھی گرفتار ہو جائے تو اس کے گھر والوں کی دنیا بدل جاتی ہے۔ تھانے کے باہر ذلت، عدالتوں کے چکر، پولیس کے رویے، اور معاشرتی بدنامی—یہ سب اس کے حصے میں آتا ہے۔ مگر دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی دکھائی دیتے ہیں جن کے گرد قانون کا دائرہ عجیب حد تک نرم پڑ جاتا ہے۔ یہی تضاد عوام کے اندر سب سے خطرناک احساس پیدا کرتا ہے: یہ یقین کہ انصاف برابر نہیں رہا۔
اگر واقعی کسی شخص پر ڈرگز نیٹ ورک یا منشیات فروشی جیسے الزامات ہوں تو پھر ریاست کا رویہ انتہائی سخت اور غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ کیونکہ منشیات صرف ایک جرم نہیں، پوری نسل کے مستقبل پر حملہ ہوتی ہیں۔ پاکستان پہلے ہی نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے نشے کے رجحان سے پریشان ہے۔ تعلیمی ادارے متاثر ہو رہے ہیں، خاندان ٹوٹ رہے ہیں، ذہنی صحت تباہ ہو رہی ہے۔ ایسے میں اگر منشیات سے جڑے کردار طاقت اور پروٹوکول کے ساتھ دکھائی دیں تو یہ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں، اخلاقی بحران بھی بن جاتا ہے۔
یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر اس ملک میں قانون کی اصل بنیاد کیا ہے؟ جرم یا تعلقات؟ شواہد یا رسائی؟ اگر انصاف کا معیار ہر شخص کے لیے الگ ہوگا تو پھر عام آدمی قانون پر اعتماد کیسے کرے گا؟
پاکستان کا المیہ یہی ہے کہ یہاں قانون کی سختی اکثر کمزور لوگوں کے لیے مخصوص محسوس ہوتی ہے۔ طاقتور طبقے کے لیے دروازے نرم پڑ جاتے ہیں، زبان بدل جاتی ہے، اور رویے مہذب ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اب ہر بڑے کیس کو صرف قانونی نہیں، سیاسی اور طبقاتی نظر سے بھی دیکھنے لگے ہیں۔
یہ پہلی بار نہیں ہو رہا۔ اس ملک میں ماضی میں بھی ایسے کئی کردار سامنے آئے جن پر سنگین نوعیت کے الزامات لگے، مگر ان کے ساتھ ریاستی برتاؤ حیران کن حد تک نرم رہا۔ دوسری طرف عام شہری برسوں عدالتوں کے چکر لگاتے رہے، بعض لوگ معمولی الزامات پر زندگی بھر stigma اٹھاتے رہے۔ یہی دوہرا معیار دراصل اداروں کی ساکھ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔
قانون کی طاقت اس کی غیر جانبداری میں ہوتی ہے، اس کے تماشائی انداز میں نہیں۔ اگر کوئی ملزم ہے تو اسے قانون کے مطابق ٹریٹ کیا جائے، نہ کم، نہ زیادہ۔ مگر جب ریاستی رویے میں غیر معمولی نرمی یا غیر ضروری پروٹوکول نظر آنے لگے تو سوال پیدا ہونا فطری ہے۔
اس پورے معاملے کا ایک اور خطرناک پہلو بھی ہے۔ جب نوجوان یہ دیکھتے ہیں کہ طاقت، تعلقات یا اثر و رسوخ قانون سے بڑا ہو سکتا ہے، تو ان کے ذہن میں نظام کے بارے میں شدید بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ پھر قانون احترام کے بجائے مذاق محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں معاشرے اندر سے کھوکھلے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ نمائشی انصاف نہیں بلکہ حقیقی انصاف ہے۔ ایسا انصاف جو ٹی وی کیمروں، سیاسی دباؤ یا سوشل میڈیا ٹرینڈز سے آزاد ہو۔ اگر ایک غریب نوجوان اور ایک بااثر ملزم کے ساتھ ریاست کا رویہ مختلف ہوگا تو پھر “قانون کی حکمرانی” صرف تقریروں کا جملہ بن کر رہ جائے گی۔
ریاستیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب ان کے پاس وسائل کم ہوں؛ وہ اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب عوام ان کے انصاف پر یقین کھونے لگیں۔ اور بدقسمتی سے پاکستان میں یہ یقین تیزی سے کمزور پڑ رہا ہے۔
“انمول پنکی” کا معاملہ شاید کل خبروں سے غائب ہو جائے، مگر اس نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا اس ملک میں واقعی قانون سب کے لیے برابر ہے؟ یا پھر ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں انصاف بھی حیثیت دیکھ کر راستہ بدل لیتا ہے۔
ایس۔ اے
13/05/2026
ایک ملک، دو قانون
ریاستیں صرف سرحدوں سے قائم نہیں رہتیں، انصاف سے بھی قائم رہتی ہیں۔ جب قانون کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہو جائے تو پھر ریاست کا اخلاقی جواز آہستہ آہستہ کھوکھلا ہونے لگتا ہے۔ پاکستان میں آج سب سے بڑا سوال شاید یہی ہے کہ کیا واقعی اس ملک میں قانون سب کے لیے برابر ہے؟ یا پھر یہاں انصاف بھی حیثیت، تعلق اور سیاسی وابستگی دیکھ کر راستہ بدل لیتا ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ عوام اب صرف واقعات نہیں دیکھ رہے، رویوں کا موازنہ بھی کر رہے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں ایسے متعدد واقعات سامنے آئے جنہوں نے عام آدمی کے ذہن میں یہ تاثر مزید مضبوط کیا کہ پاکستان میں قانون کی دو الگ شکلیں موجود ہیں۔ ایک وہ جو کمزور، مخالف یا بے اثر لوگوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور دوسری وہ جو طاقتور، بااثر یا “ضروری” سمجھے جانے والے افراد کے لیے نرم پڑ جاتی ہے۔
پی ٹی آئی کے خلاف کارروائیوں کے دوران خواتین کے ساتھ جو رویے دیکھنے میں آئے، وہ ایک جمہوری معاشرے کے لیے کئی سوالات چھوڑ گئے۔ گھروں پر چھاپے، رات گئے گرفتاریوں کی خبریں، خواتین کارکنوں کو ہراساں کیے جانے کے الزامات، اور بعض مقامات پر بنیادی قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیے جانے کی شکایات—یہ سب محض سیاسی واقعات نہیں تھے، بلکہ ریاستی رویے کی علامت بن گئے۔ اختلافِ رائے سے نمٹنے کا انداز جب طاقت کے اظہار میں بدل جائے تو پھر قانون انصاف سے زیادہ دباؤ کا آلہ محسوس ہونے لگتا ہے۔
اس کے برعکس، کچھ ایسے کردار بھی سامنے آئے جن پر سنگین نوعیت کے الزامات لگے، مگر ان کے ساتھ ریاستی رویہ حیران کن حد تک نرم دکھائی دیا۔ حالیہ دنوں میں “انمول پنکی” کا معاملہ اسی بحث کا حصہ بنا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کسی فرد پر منشیات جیسے سنگین جرائم کے الزامات موجود ہیں، تو پھر اسے غیر معمولی پروٹوکول اور سہولتیں کیوں دی جا رہی ہیں؟ عام شہری اگر معمولی مقدمے میں گرفتار ہو تو اس کی عزت، آزادی اور بنیادی حقوق تک محدود ہو جاتے ہیں، مگر کچھ لوگ قانون کے شکنجے میں آ کر بھی وی آئی پی ماحول سے محروم نہیں ہوتے۔
یہ تضاد صرف ایک کیس تک محدود نہیں۔
پاکستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں طاقتور شخصیات برسوں مقدمات کے باوجود باعزت انداز میں زندگی گزارتی رہیں، جبکہ کمزور افراد معمولی الزامات پر بھی نظام کی سختیوں کا شکار بنے۔ کبھی کسی صحافی کو رائے کی قیمت چکانی پڑتی ہے، کبھی کسی سیاسی کارکن کو، اور کبھی ایک عام شہری کو صرف اس لیے ذلیل ہونا پڑتا ہے کہ اس کے پاس “رسائی” نہیں ہوتی۔
اسی ملک میں ایک غریب نوجوان تھانے میں تشدد سے مر جاتا ہے اور خبر چند دن بعد دفن ہو جاتی ہے، جبکہ کسی بااثر شخصیت کے پالتو جانور تک کے لیے ریاستی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے۔ یہی وہ مناظر ہیں جو عوام کے اندر سب سے خطرناک احساس پیدا کرتے ہیں: ناانصافی کا احساس۔
قانون کی اصل طاقت سزا میں نہیں، غیر جانبداری میں ہوتی ہے۔ اگر عوام کو یہ یقین نہ رہے کہ عدالت، پولیس اور ریاستی ادارے سب کے ساتھ ایک جیسا برتاؤ کریں گے، تو پھر قانون خوف تو پیدا کر سکتا ہے، احترام نہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں انصاف اکثر قانونی نکات سے زیادہ سیاسی ماحول کے تابع دکھائی دیتا ہے۔ اقتدار بدلتا ہے تو مقدمات کی نوعیت بدل جاتی ہے، ترجیحات بدل جاتی ہیں، اور بعض اوقات کردار بھی بدل جاتے ہیں۔ کل کا مجرم آج کا اتحادی بن جاتا ہے اور کل کا محبِ وطن آج کا خطرہ قرار پاتا ہے۔ اس کیفیت نے اداروں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان میں عام آدمی کا سب سے بڑا بحران معاشی نہیں، بلکہ انصاف پر کمزور ہوتا اعتماد ہے۔ ایک مزدور، ایک طالب علم، ایک دکاندار یا ایک متوسط طبقے کا شہری جب یہ محسوس کرنے لگے کہ قانون اس کے لیے اور ہے اور اشرافیہ کے لیے اور، تو پھر ریاست اور عوام کے درمیان ایک خاموش فاصلہ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس فرق کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ اب لوگ ہر واقعے کا تقابل کرتے ہیں، پرانی ویڈیوز نکالتے ہیں، عدالتی رویوں اور پولیس کے انداز کا موازنہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج صرف فیصلے نہیں، فیصلوں کا تاثر بھی اہم ہو چکا ہے۔ اگر انصاف ہوتا ہوا نظر نہ آئے تو عوام اسے انصاف ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ طاقتور قانون نہیں بلکہ برابر قانون ہے۔ ایسا قانون جو سیاسی وابستگی، سماجی حیثیت، میڈیا اثر یا تعلقات سے آزاد ہو۔ کیونکہ جب ریاست ایک شہری کو رعایت اور دوسرے کو ذلت دیتی ہے تو دراصل وہ اپنے ہی آئینی دعوے کو کمزور کر رہی ہوتی ہے۔
ایک ملک دو قانون کے اصول پر زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ آخرکار یا تو انصاف مضبوط ہوتا ہے یا پھر بداعتمادی۔ اور بداعتمادی جب جڑ پکڑ لے تو پھر ریاستیں صرف جغرافیہ رہ جاتی ہیں، قوم نہیں۔
ایس۔ اے