25/03/2026
🔥 آگ کے پجاری سے اللہ کے ولی تک سچ کی تلاش کا مسافر !
“روزبہ” نامی ایک نوجوان کا تعلق ایران کے ایک علاقے سےتھا ۔ ایک آتش پرست خاندان میں پیدا ہوئےہوا ، جہاں آگ کی عبادت کی جاتی تھی۔ لیکن اسکا کا دل سچ کی تلاش میں بے چین تھا…ایک دن عیسائی عبادت دیکھی تو دل کو سکون سا ملا… اور وہیں سے سفر شروع ہوا۔
“روزبہ”نے کئی علماء اور راہبوں کی خدمت کی، ایک سے دوسرے کے پاس جاتا رہا
ہر ایک نے اپنی موت کے وقت اس کو اگلے سچے شخص کی طرف بھیجا… یہاں تک کہ آخر میں ایک راہب نے کہا:
“اب آخری نبی کا زمانہ قریب ہے… وہ عرب کی سرزمین میں ظاہر ہوں گے…”
یہ سن کر “روزبہ”نے عرب کا رخ کیا… مگر راستے میں ہی دھوکے سے اسے غلام بنا لیا گیا۔
جب کس طرح یہ مدینہ منورہ پہنچے، تو وہاں حضرت محمد ﷺ تشریف لا چکے تھے۔
“روزبہ” بے چین روح کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور ان کو پہچاننے کے لیے تین نشانیاں پرکھیں :
انہوں نے نبی اکرم کو کھانا پیش کیا اور کہا: “یہ صدقہ ہے”
نبی ﷺ نے خود نہ کھایا، صرف صحابہ کو دیا
پھر وہی کھانا ہدیہ کہہ کر پیش کیا
اس بار نبی ﷺ نے خود بھی تناول فرمایا
سلمانؓ پیچھے گئے…اور آقا کے کندھے سے کپڑا ہٹایا…
اور دیکھا…
کندھوں کے درمیان “مہرِ نبوت” موجود تھی
صدقہ قبول نہ کرنا
ہدیہ قبول کرنا
مہرِ نبوت
جب تینوں نشانیاں پوری ہوئیں… تو وہ لمحہ آ گیا…
یہ دیکھ کر اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے
دل ایمان سے بھر گیا وہ نبی ﷺ سے لپٹ گئے اور کہا: “میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں!”
نبی ﷺ نے صحابہؓ کو فرمایا کہ اس کی آزادی کے لیے مدد کریں… اور یوں وہ غلامی سے آزاد ہو گئے…
آپ جانتے ہیں یہ کون تھا ؟ یہ اسلام کے عظیم صحابی سلمان فارسیؓ تھے .
جب غزوۂ خندق پیش آیا، تو سلمان فارسیؓ نے ایک ایسا مشورہ دیا جو عربوں کے لیے نیا تھا:
“شہر کے گرد خندق کھود دی جائے”
یہ حکمت عملی کامیاب ہوئی… اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔
یہ وہ صحابی تھے، انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا، ایمان لائے، اور اسلام پر وفات پائی۔