Jamia Aayesha Lilbinat

Jamia Aayesha Lilbinat

Share

An islamic Institute where you could be able to learn and understand the Holy Quran and stories of Islamic history

25/03/2026

🔥 آگ کے پجاری سے اللہ کے ولی تک سچ کی تلاش کا مسافر !
“روزبہ” نامی ایک نوجوان کا تعلق ایران کے ایک علاقے سےتھا ۔ ایک آتش پرست خاندان میں پیدا ہوئےہوا ، جہاں آگ کی عبادت کی جاتی تھی۔ لیکن اسکا کا دل سچ کی تلاش میں بے چین تھا…ایک دن عیسائی عبادت دیکھی تو دل کو سکون سا ملا… اور وہیں سے سفر شروع ہوا۔
“روزبہ”نے کئی علماء اور راہبوں کی خدمت کی، ایک سے دوسرے کے پاس جاتا رہا
ہر ایک نے اپنی موت کے وقت اس کو اگلے سچے شخص کی طرف بھیجا… یہاں تک کہ آخر میں ایک راہب نے کہا:
“اب آخری نبی کا زمانہ قریب ہے… وہ عرب کی سرزمین میں ظاہر ہوں گے…”
یہ سن کر “روزبہ”نے عرب کا رخ کیا… مگر راستے میں ہی دھوکے سے اسے غلام بنا لیا گیا۔
جب کس طرح یہ مدینہ منورہ پہنچے، تو وہاں حضرت محمد ﷺ تشریف لا چکے تھے۔
“روزبہ” بے چین روح کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور ان کو پہچاننے کے لیے تین نشانیاں پرکھیں :

انہوں نے نبی اکرم کو کھانا پیش کیا اور کہا: “یہ صدقہ ہے”
نبی ﷺ نے خود نہ کھایا، صرف صحابہ کو دیا

پھر وہی کھانا ہدیہ کہہ کر پیش کیا
اس بار نبی ﷺ نے خود بھی تناول فرمایا

سلمانؓ پیچھے گئے…اور آقا کے کندھے سے کپڑا ہٹایا…
اور دیکھا…
کندھوں کے درمیان “مہرِ نبوت” موجود تھی
صدقہ قبول نہ کرنا
ہدیہ قبول کرنا
مہرِ نبوت
جب تینوں نشانیاں پوری ہوئیں… تو وہ لمحہ آ گیا…
یہ دیکھ کر اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے
دل ایمان سے بھر گیا وہ نبی ﷺ سے لپٹ گئے اور کہا: “میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں!”

نبی ﷺ نے صحابہؓ کو فرمایا کہ اس کی آزادی کے لیے مدد کریں… اور یوں وہ غلامی سے آزاد ہو گئے…
آپ جانتے ہیں یہ کون تھا ؟ یہ اسلام کے عظیم صحابی سلمان فارسیؓ تھے .
جب غزوۂ خندق پیش آیا، تو سلمان فارسیؓ نے ایک ایسا مشورہ دیا جو عربوں کے لیے نیا تھا:

“شہر کے گرد خندق کھود دی جائے”

یہ حکمت عملی کامیاب ہوئی… اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔
یہ وہ صحابی تھے، انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا، ایمان لائے، اور اسلام پر وفات پائی۔

06/01/2026

عورت،گھر اور تبلیغ۔۔۔۔
از: مریم یوسف

آج ایک انتہائی حساس موضوع لیکر حاضر ہوئی ہوں آج ہم قرآن و سنت کی روشنی میں جانیں گے کہ عورت کا اصل مقام کیا ہے اور اس کی تخلیق کا مقصد کیا ہے جس کے تحت رب تعالیٰ نے اسے تخلیق کیا۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے جنت بنائی اور اس میں حضرت آدم علیہ السلام کو رہنے کی جگہ دی کچھ دن تو حضرت آدم علیہ السلام تنہا جنت میں رہے مگر اتنی نعمتیں پاکر بھی ایک کمی ۔۔۔ایک خلش ان کے دل میں رہی جس کی وجہ سے وہ اداس ہوگئے تھے اللہ نے ان کے لئے حوا علیہ السلام کو تخلیق کیا کہ ان کی تنہائی بھی دور ہو جائے اور ان کی دلجوئی بھی ہو جائے اور ان کو ایک ہمہ وقت ساتھی بھی میسر آجائے۔۔۔
آدم اور ابلیس کی کہانی میں نہیں جاؤں گی کہ وہ تقریباً سب ہی کو معلوم ہے دوسرا آج کا موضوع بھی اس سے ہٹ کر ہے۔۔۔بہرحال جنت کی تخلیق کا مقصد آدم اور حوا کو تفریح فراہم کرنا تھا اور آدم اور حوا کی تخلیق کا مقصد ایک دوسرے کی دلجوئی تھا۔۔۔جنت میں ان دونوں کے علاؤہ ہمیں کوئی اور رشتہ نظر نہیں آتا نہ باپ نہ ماں نہ بھائی نہ بہن نہ کوئی اور ہمجولی بس میاں اور بیوی اور یہی جنت کے ساتھی ہیں۔۔۔۔یعنی اگر دنیا میں بھی یہی ایک رشتہ قیم رہے تو دنیا بھی جنت بن سکتی ہے۔۔۔
کیسے وہ میں آپ کو بتاتی ہوں۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا۪-وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
اور ہم نے فرمایا: اے آدم!تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور بغیر روک ٹوک کے جہاں تمہارا جی چاہے کھاؤ البتہ اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ حد سے بڑھنے والوں میں شامل ہوجاؤ گے۔

یعنی جنت میں بھیجنے کے بعد ہر طرح کی آزادی دے دی کے جہاں سے چاہو کھاؤ اور جہاں چاہے جاؤ کوئی مسئلہ نہیں بس ایک درخت کا پھل نہ کھانا اور یہ پابندی کیوں لگائی؟ صرف ٹیسٹنگ کے ہے کہ آیا میری بے مانتے ہیں یا نہیں اتنا کچھ دینے کے بعد میری نافرمانی تو نہیں کرتے؟
اور ہم دیکھتے ہیں کہ آدم اور حوا اس ٹیسٹنگ میں ناکام ہوگئے اور کیوں؟
وجہ وہی ایک لالچ کہ جو کچھ ہے وہ ہمیشہ رہے اور کبھی ختم نہ ہو اور اسی لالچ کا فایدہ اٹھایا ابلیس نے حالانکہ وہ جنت تو بنی ہی آدم و حوا کے لئے تھی اس کے ختم ہونے یا وہاں سے ان کے نکالے جانے کا سوال ہی نہیں تھا پھر بھی دھوکے میں آگئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیشگی کی زندگی تو کیا ملتی جنت اور اس کی نعمتوں سے بھی گئے۔۔۔اور جب نکالے گئے تو انتہائی ذلت و رسوائی کے ساتھ اگر صاف لفظوں میں کہا جائے تو ننگا کر کے نکالنا۔۔۔یعنی جنت کا لباس بھی اتروا لیا گیا۔۔۔
اب میں اگر اصل بات بتاؤں تو یوں سمجھ لیں کے انسان اللہ کی فرمانبرداری کی حدود میں ہے یعنی اس کا سروائول اگر ہے تو اللہ کی فرمانبرداری میں،اس کی زندگی ،اسکی آسائشیں ،اس کا سکون،اسکا لائف اسٹائل ،اس کا اسٹیٹس صرف اللہ کی حدود کا پابند ہے اللہ کی حدود سے باہر نکلا اور یہ سب ایک ایک کر کے اس کے ہاتھ سے نکلتا گیا۔۔۔
اس کو یوں سمجھیں کہ جب آپ کسی کو غلام بناتے ہوں تو اسے آپ اس غلامی کے بدلے ہر طرح کا آرام مہیا کرتے ہیں یہ کہہ کر کہ جو بھی میں کہوں تم نے ماننی ہے میری حکم عدولی نہیں کرنی اس کے بدلے تمہاری ضروریات کا خیال میں رکھوں گا مگر وہ غلام آپ کی فرمانبرداری کے بجائے من مانی کرتا ہے تو آپ ایک ایک کر کے سب کچھ اس سے چھین لیتے ہو اسی طرح ہمارے رب نے ہمیں اپنی بندگی کے لئے پیدا کیا اور اس کے بدلے پہلے پوری کی پوری جنت ہمارے حوالے کی اور اب پوری کائنات مگر ہم ہیں کے اپنی من مانیاں کر کے اس کی حدود سے تجاوز کرتے جا رہے ہیں جسکی وجہ سے نعمتیں چھنتی جا رہی ہیں اور ہم واپس اپنے پروردگار کی طرف پلٹنے کے بجائے شیطان کے پھیلائے جال میں پھنستے چلے جارہے ہیں کبھی،ہمیشگی کا لالچ کبھی دنیا کا،کبھی خواہشات کا حالانکہ یہ سب ہمیں ویسے ہی مل رہا تھا صرف رب کی بات ماننے کے بدلے۔۔۔
اب یوں سمجھ لیں کہ جنت سے نکلنے کے بعد جب یہ کائنات بنی تو یہ بھی آدم اور حوا کے لئے ہی تھی کہ اس میں آنے والے پہلے انسان وہی دونوں تھے ان سے نسلِ آدم پروان چڑھی اور اب بھی یہی واحد رشتہ ہے جو کائنات کی بقا کا ضامن ہے میاں بیوی ماں باپ کا روپ دھارتے ہیں تو ایک انتہائی خوبصورت خاندان تشکیل پاتا ہے جہاں محبت،خلوص،عزت احترام پایا جاتا ہے پھر یہ مزید خاندانوں میں بٹتا ہے تو ایک حسین معاشرے کو تشکیل دینے کا سبب بنتا ہے مگر جب یہ اکائی قائم نہ رہے یا یہ بندھن کمزور پڑ جائے یا ٹوٹ جائے تو پھر نہ خاندان تشکیل پاتے ہیں نہ معاشرے حسین رہ پاتے ہیں اس لئے اس اکائی کو توڑنے کی کوشش انسان کا ازلی دشمن شیطان ہر وقت کرتا رہتا ہے۔۔۔
کیوں؟
فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ۪-وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۚ-وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ(36)
تو شیطان نے ان دونوں کو جنت سے لغزش دی پس انہیں وہاں سے نکلوا دیا جہاں وہ رہتے تھے اور ہم نے فرمایا :تم نیچے اترجاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن بنو گے اور تمہارے لئے ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھکانہ اور (زندگی گزارنے کا)سامان ہے۔
کیونکہ شیطان نہیں چاہتا کہ نسلِ آدم پروان چڑھے اس لئے وہ اسے ختم کرنے کے درپے ہے اور اسی لئے پہلے آدم اور حوا کو جنت سے نکلوایا اور اب دنیا میں بھی بسنے نہیں دے رہا۔۔۔۔
اگر انسان شیطان کو اپنا دشمن سمجھ کر اللہ کی فرمانبرداری میں رہے تو اللہ اسے شیطان کے شر سے پناہ میں رکھتا ہے اور اگر وہ اللہ کی حدود سے نکل جائے تو اسے شیطان کے حوالے کر دیتا ہے۔۔۔
شیطان نے انسان کو گمراہ کرنے کے لئے جو جال بچھا رکھے ہیں ان میں سب سے بڑا جال دین کا جال ہے جہاں انسان بظاہر سمجھتا ہے کہ میں اللہ کے راستے پر ہوں مگر وہاں ایسے ایسے ابلیسی ہتھکنڈے ہیں کہ کیا بتاؤں اسی میں سے ایک آج کل کا سب سے بڑا جال ہے قرآن ٹیچنگ۔۔۔جس میں پڑ کر ہر مرد و عورت اپنی جنت سے غافل ہو رہا ہے۔۔۔انسان کا مقصد تھا نسلِ آدم کو پروان چڑھانا یعنی اس کی پیدائش پرورش تربیت سب کا اہتمام ماں اور باپ نے ہی کرنا ہے،اگر باپ تبلیغ کو فرض سمجھ کر گھر سے نکل جائے تو اکیلی ماں بچہ نہیں پال سکتی اسی طرح اگر ماں گھر سے نکل جائے تو باپ بچے نہیں سنبھال سکتا۔۔ہم یورپ کو اس کا قصور وار ٹھہراتے ہیں وہاں سنگل مدر اور کرئیر باونڈنگ مدرز کو تو مورودِ الزام ٹھہراتے ہیں مگر یہ جب کوئی دین کے نام پر کرے تو ہمیں سب صحیح لگتا ہے جیسے آج کل تبلیغ دین کے نام پر اکثر اداروں نے خواتین کو باونڈ کر رکھا ہے خاص طور پر جس ادارے سے وہ تعلیم حاصل کریں وہ چاہتے ہیں کہ وہ وہاں ان کے لئے خدمات انجام دیں اور آگے تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہو جائیں جبکہ میں سمجھتی ہوں کہ بچے کی پہلی درس گاہ اگر ماں ہے تو اس کے لئے دینی تعلیم حاصل کر لینا اور اس کے مطابق خود کو ڈھال لینا کافی ہے وہ ایک نسل پروان چڑھا سکتی ہے،اگر وہ بچے کو گھر میں ہی دین اور دنیا کی تعلیم دے تو اسے کہیں باہر جاکر پڑھانے کی ضرورت نہیں رہتی اس کی اپنی نسل ہی باقیوں کے لئے صدقۂ جاریہ بن جائے گی وہ صرف خود پر اور بچوں پر توجہ دے تو گھر جنت بن سکتا ہے۔
میں خود ایک عالمی ہوں،میں نے دین اور دنیا دونوں کی تعلیم حاصل کی ،میرے والد اور والدہ نے ہمیں دین کے بیسک اصولوں کے ساتھ ساتھ عائلی زندگی کی بھی تمام باریکیاں اپنے عمل کے ذریعے سکھائیں میں نے قرآن کا مکمل تفسیر کورس بیٹی کی پیدائش کے بعد کیا مگر میری بیٹی ہمیشہ ساتھ ساتھ رہی اور اس کی اسکولنگ کی شروعات کے ساتھ میں نے گھر میں ہی پوری توجہ مبذول کی جو سیکھا تھا وہ اس کی گھٹی میں ڈالا تو آج وہ نہ صرف حافظ ِ قرآن ہے بلکہ میٹرک میں ٹاپ کرکے اسکالرشپ پر انٹر کرنے کے بعد ماشاء اللہ تعلیم القرآن کی ڈگری بھی حاصل کر چکی ہے اور اب ہو یونیورسٹی کے ایڈمیشن کی تیاری کر رہی ہے ایک ماں اگر اکیلے گھر بھی سنبھال رہی ہو تو وہ بہترین بچے پرورش کر سکتی ہے اور اگر وہی ماں گھر سے نکل جائے تو پورا خاندان بھی بچے کی تربیت میں ناکام ہو جاتا ہے۔۔۔
میری تمام ماؤں سے گزارش ہے خدارا اپنے بچوں کو مکمل وقت دیں انہیں دین اور دنیا کی تعلیم سے آراستہ کریں یہی آپ کی جنت ہیں گھر چھوڑ چھوڑ کے جانا یا دوسروں کے بچوں کو تربیت دینے کے لئے نکلنا آپ کی زمہ داری نہیں ہے
ہمارا دین بھی ہمیں اسی کی تاکید کرتا ہے

وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ؕ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞- سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت
اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور قدیم جاہلیت کی طرح اپنے بنائو سنگھار کی نمائش نہ کرنا ‘ اور نماز پڑھتی رہو اور زکوۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتی رہو ‘ اے رسول کے گھر والو ! اللہ صرف یہ ارادہ فرماتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی نجاست کو دور رکھے اور تم کو خوب ستھرا پاکیزہ رکھے

یعنی صاف لفظوں میں عورت کو اس کا مقام بتا دیا کہ گھروں میں ٹک کر بیٹھو اور جاہل عورتوں کی طرح بناؤ سنگھار دکھانے کے بجائے نماز اور روزے کی پابند رہو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو یہی تمھارے نفسوں اور گھروں کی پاکیزگی کے لئے کافی ہے
اس سے زیادہ کی ڈیمانڈ ہی نہیں کی گئی بنانے والے کی طرف سے۔۔۔
حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا اسوہ بھی ہمارے سامنے ہے انہوں نے امت کے بیٹوں اور بیٹیوں کی تربیت کی مگر اپنے گھر سے باہر نہیں نکلیں۔۔۔ گھر کے اندر ہی رہتے ہوئے بہترین تابعی پروان چڑھائے تو ہمارے لئے پھر کہاں گنجائش نکلتی ہے کسی بھی طرح گھر سے نکل کر دین پھیلانے کی جب کہ انٹر نیٹ بھی اب تو گھر گھر تعلیم پہنچانے کے لئے موجود ہے،لہذا اپنا مقام پہچانیں، گھروں میں قرار پکڑیں اور شوہروں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں بجائے محفلوں یا مدرسوں کی زینت بننے کے۔۔۔

مریم یوسف
۶ جنوری ۲۰۲۶

31/12/2025

جنگِ صفین (657ء) — اسلامی تاریخ کی فیصلہ کن داخلی جنگ

اسلامی تاریخ میں خلافتِ راشدہ کا دور عدل، تقویٰ اور اصولوں کی بنیاد پر قائم تھا، مگر حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد امتِ مسلمہ ایک شدید داخلی بحران سے دوچار ہو گئی۔ اسی بحران نے بالآخر جنگِ جمل اور پھر جنگِ صفین جیسے المیہ واقعات کو جنم دیا۔ جنگِ صفین 657ء میں حضرت علیؓ اور امیرِ شام حضرت معاویہؓ کے درمیان پیش آئی اور یہ اسلامی تاریخ کی سب سے اہم اور نازک داخلی جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔

جنگِ صفین کا بنیادی سبب حضرت عثمانؓ کے قتل کا قصاص تھا۔
حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد حضرت علیؓ خلیفہ منتخب ہوئے۔ آپؓ نے خلافت سنبھالتے ہی امت کو متحد کرنے اور بگڑی ہوئی صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی، مگر حضرت معاویہؓ، جو شام کے گورنر اور حضرت عثمانؓ کے قریبی رشتہ دار تھے، نے قاتلوں کو سزا دیے جانے تک حضرت علیؓ کی بیعت سے گریز کیا۔
حضرت علیؓ کا موقف یہ تھا کہ:
پہلے ریاستی نظم و نسق کو مستحکم کیا جائے
پھر تحقیق کے بعد قصاص لیا جائے
جبکہ حضرت معاویہؓ کا مطالبہ فوری قصاص تھا۔ یہی اختلاف بالآخر تصادم کی صورت اختیار کر گیا۔

صفین دریائے فرات کے کنارے موجود ایک مقام تھا، جو موجودہ شام اور عراق کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ دونوں لشکر کئی مہینوں تک یہاں آمنے سامنے رہے، ابتدا میں مذاکرات کی کوششیں بھی ہوئیں مگر کوئی حتمی نتیجہ نہ نکل سکا۔

آخرکار 657ء میں جنگ کا آغاز ہوا۔ دونوں جانب ہزاروں مسلمان شامل تھے، جو ایک دوسرے کے مقابل کھڑے تھے۔ یہ حقیقت اسلامی تاریخ کا سب سے افسوسناک پہلو ہے کہ دونوں لشکروں میں صحابۂ کرامؓ موجود تھے۔
جنگ کئی دنوں تک وقفے وقفے سے جاری رہی۔ سب سے شدید مرحلہ "لیلۃ الحریر" (خونریز رات) کہلاتا ہے، جس میں دونوں طرف بھاری جانی نقصان ہوا۔

جب حضرت معاویہؓ کی فوج پر شکست کے آثار نمایاں ہونے لگے تو ان کے لشکر نے قرآن کو نیزوں پر بلند کر دیا اور قرآن کے مطابق فیصلے کا مطالبہ کیا۔
یہ منظر دیکھ کر حضرت علیؓ کے لشکر میں شدید اختلاف پیدا ہو گیا:
کچھ لوگوں نے جنگ جاری رکھنے پر زور دیا
جبکہ اکثریت نے قرآن کی دعوت کو رد کرنا نامناسب سمجھا
بالآخر حضرت علیؓ کو تحکیم (ثالثی) پر آمادہ ہونا پڑا، حالانکہ آپؓ اس فیصلے کے حق میں نہ تھے۔

تحکیم کے لیے:
حضرت علیؓ کی جانب سے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ
حضرت معاویہؓ کی جانب سے عمرو بن عاصؓ
منتخب ہوئے۔
تحکیم کا مقصد یہ تھا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے، مگر بدقسمتی سے یہ عمل امت کو متحد کرنے کے بجائے مزید تقسیم کا سبب بن گیا۔

تحکیم کے فیصلے کے بعد حضرت علیؓ کے لشکر کا ایک گروہ الگ ہو گیا، جو یہ نعرہ لگانے لگا: "لا حکم الا للہ"
(فیصلہ صرف اللہ کا ہے)
یہی گروہ بعد میں خوارج کے نام سے مشہور ہوا، جس نے امت میں مزید انتشار پیدا کیا اور خود حضرت علیؓ کے لیے بھی شدید مسائل کھڑے کیے۔

جنگِ صفین کے اثرات نہایت گہرے اور دور رس ثابت ہوئے:
امتِ مسلمہ میں مستقل سیاسی تقسیم پیدا ہو گئی
خلافتِ راشدہ کا اتحاد کمزور ہو گیا
خوارج جیسے انتہا پسند گروہ وجود میں آئے
مسلمانوں کی توانائیاں داخلی لڑائیوں میں ضائع ہوئیں
بالآخر خلافتِ راشدہ کا دور اختتام کے قریب پہنچ گیا

جنگِ صفین ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:
نیت کے اختلاف بھی بڑے سانحات کو جنم دے سکتے ہیں
داخلی انتشار قوموں کو کمزور کر دیتا ہے
انصاف، صبر اور حکمت کے بغیر طاقت کا استعمال تباہ کن ثابت ہوتا ہے
یہ جنگ کسی ایک فریق کی فتح یا شکست نہیں بلکہ پوری امت کے لیے ایک عظیم آزمائش تھی۔

03/11/2025

تُرک کون ہیں؟ اور تُرکوں نے کیسے اسلام قبول کیا تھا؟
ناظرین کیا آپ جانتے ہیں کہ تاریخ میں کبھی بھی کوئی ملک "ترکی" کے نام سے موجود نہیں تھا؟
اور نہ ہی اناطولیہ کے اصل باشندے ترک تھے۔ یہ سرزمین صدیوں تک یونانی، رومی، اور بازنطینی تہذیب کا مرکز رہی۔
ترک قوم کا اصل وطن کہاں تھا؟
ترک دراصل وسطیٰ ایشیا کے خطے ترکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ علاقہ آج کئی ملکوں میں تقسیم ہے، مثلاً
ترکستانِ شرقی (چین کے زیرِ قبضہ)

ازبکستان، قازقستان، قرغیزستان، ترکمانستان، آذربائیجان، ایران، افغانستان اور روس کے کچھ علاقے ان سب علاقوں میں آج بھی مختلف لہجوں میں ترکی زبان بولی جاتی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے عرب دنیا میں مصری، شامی، یا خلیجی بولیاں مختلف ہیں۔

ترکی زبان اور اناطولیہ:۔
جب ترک اناطولیہ (موجودہ ترکی) میں آئے تو یہاں یونانی اور رومی زبانیں رائج تھیں۔ ترکوں نے آ کر اپنی زبان کو عام کیا، اور وقت کے ساتھ انہوں نے عربی رسم الخط اپنایا۔ لیکن 1928ء میں مصطفیٰ کمال اتاترک کے دور میں ترکی زبان کو لاطینی حروف میں لکھنا لازمی قرار دے دیا گیا۔
ترکوں کا نسب:۔
تاریخ کے مطابق ترکوں کا سلسلہ نسب یافث بن نوحؑ سے جا ملتا ہے۔
حضرت نوحؑ کے تین بیٹے تھے، سام،حام،یافث۔
سام، عرب، بنی اسرائیل، آشوری اور بابلی اقوام کے جد۔
حام،قبطی، حبشی اور سودانی نسل کے جد۔
یافث،ترک، مغل، تاتار، یاجوج و ماجوج اور چینی اقوام کے جد۔

اسی نسبت سے ترک اور مغل ایک ہی نسلی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

ترکوں کا اسلام سے تعارف:۔
اسلام ترکوں تک پہنچا جب مسلمانوں نے ایران کے بعد وسطی ایشیا کی طرف پیش قدمی کی۔
حضرت عمرؓ کے زمانے میں آذربائیجان فتح ہوا۔
قتیبہ بن مسلم باہلیؒ نے ترکستان کے علاقے تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔
عباسی دور میں ترک مسلمانوں کے قریبی اتحادی بن گئے۔

جنگِ نہرِ طلاس (751ء)
یہ وہ تاریخی جنگ تھی جس میں مسلمانوں اور ترکوں نے مل کر چین کی فوج کو شکست دی،اور یہیں سے ترکوں کی بڑی تعداد نے اسلام قبول کرنا شروع کیا
ستوق بُغرا خان، پہلا ترک بادشاہ جو مسلمان ہوا:۔
اسلام کی اصل روشنی اس وقت پھیلی جب ایک نوجوان شہزادہ ستوق بُغرا خان مسلمان ہوا۔ بعد میں وہ بادشاہ بنا، اور اس نے کھلے عام اسلام قبول کر کے
اپنی قوم میں اسلام کا جھنڈا بلند کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دو لاکھ سے زائد ترک خاندان مسلمان ہو گئے،
اور قائم ہوئی پہلی مسلم ترک سلطنت، قراخانیہ۔ اسی کے بعد ترک قوم ہمیشہ کے لیے اسلام کی محافظ بن گئی۔

مسلم ترک سلطنتوں کا عروج:۔
غزنوی سلطنت، محمود غزنوی کے قیادت میں اسلام کو ہندوستان تک پھیلایا۔
سلجوقی سلطنت جس نے خلافتِ عباسیہ کو دوبارہ طاقت دی اور فاطمی اثر ختم کیا۔
عثمانی سلطنت، جو دنیا کی سب سے طویل اور مضبوط مسلم سلطنت بنی۔

ترکوں کی اناطولیہ (ترکی) میں آمد:۔
اسلام قبول کرنے کے بعد ترک فوجی قوت کے طور پر مشہور ہو گئے۔
عباسی خلیفہ المعتصم باللہ نے انہیں اپنے سپاہی اور محافظ بنایا، اور سامرّا میں ان کے لیے ایک الگ بستی بسائی۔ بعد میں 1071ء کی جنگِ ملاذکرد میں سلجوقیوں نے بازنطینی سلطنت کو شکست دی، اور اسی کے بعد ترک اناطولیہ میں بس گئے،
یہی وہ لمحہ تھا جب موجودہ ترکی کی بنیاد پڑی۔
خلافتِ عثمانیہ، ترک شناخت سے آگے
یہ پس منظر ہمیں بتاتا ہے کہ "ترک" صرف ایک قوم نہیں تھے،
بلکہ ایک ایسی ملت بن گئے تھے جنہوں نے اسلامی دنیا کی قیادت کی۔ خلافتِ عثمانیہ نے خود کو صرف “ترک سلطنت” نہیں کہا، بلکہ امتِ مسلمہ کی خلافت سمجھا ایک ایسا گھر جو عرب، ترک، کرد، بوسنی، مصری اور برصغیر کے مسلمانوں کو جوڑتا تھا۔
قومیں زبان یا نسل سے نہیں بنتیں
بلکہ عقیدہ، علم اور عدل انہیں زندہ رکھتا ہے۔

تحریر: محمد سہیل
(ایک ایسا سفر جو وسطیٰ ایشیاء کی گھاٹیوں سے شروع ہوا اور خلافتِ عثمانیہ پر ختم ہوا)

01/11/2025

وہ نیم سوتی جاگتی کیفیت میں تھی جب اسے لگا کوئی اس کے دماغ سے اس کے گھر کا پتہ پوچھ رہا ہے اور اس کا ذہن نہ صرف پتہ بتا رہا ہے بلکہ پورا نقشہ ہی اس کے ذہن میں گھوم گیا اور ابھی وہ پوری طرح جاگی ہی تھی کہ اسے لگا جیسے کوئی تیزی سے اس کے دماغ سے نکلا ہو
وہ اپنے سسرال آئی ہوئی تھی میاں کا آفس کا کام تھا اپنے شہر میں تو سوچا اسے بھی ساتھ لے چلے
اسے آئے ابھی ایک دن ہی ہوا تھا اور آج اس پر پھر سے یہ کیفیت طاری ہوئی۔۔۔ آج سے کچھ سال پہلے جب وہ اس گھر میں بیاہ کر آئی تھی تب بھی اس پر اکثر اس طرح کی کیفیت طاری ہوتی خاص طور پر جب وہ سو کر اٹھنے کی کیفیت میں ہوتی نیم غنودگی اور نیم بیداری کی کیفیت۔۔۔
اسے لگتا اس کا سانس رک رہا ہے۔۔۔ جیسے کوئی اسے جکڑے ہوئے ہے اور اٹھنے نہیں دے رہا۔۔۔پانچ دس منٹ اسی کیفیت میں گزر جاتے پھر کہیں وہ اٹھ پاتی۔۔۔
ایسا کبھی بھی ماں کے گھر نہیں ہوا تھا۔۔۔وہاں اسے ہمیشہ لگتا کہ اللہ اس کے ساتھ ہے اسے فرشتوں کی موجودگی کا احساس رہتا۔۔۔
مگر شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی یہ سب شروع ہوا۔۔۔
پھر وہ میاں کا ٹرانسفر ہونے پر یہاں سے چلی گئی اور اب چار سال بعد پھر وہی کیفیت۔۔۔
اس نے ابھی چند مہینے پہلے ہی اپنے شہر میں گھر تبدیل کیا تھا جس کا پتہ کسی کو بھی معلوم نہیں تھا مگر اب کوئی اس کے ذہن سے وہ پتہ حاصل کر چکا تھا۔۔۔
وہ اس شیطان سے لڑتے لڑتے تھک گئی تھی۔۔۔
وہ اس کی زندگی کا سکون کھا رہا تھا۔۔۔ اسے اندازہ تھا کہ کوئی ہے جو اس کے پیچھے ہے۔۔۔ جو اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان ہے۔۔۔
اللہ نے چھ سال بعد اسے اولاد دی تھی
اس کی بیٹی جو اس گھر اور اس شہر میں رہتے شاید نہ ہو پاتی۔۔۔
اللہ نے سفر وسیلۂ ظفر کے تحت اس پر بہت مہربانیاں کی تھیں۔۔۔
اس کے میاں کی سرکاری نوکری۔۔۔
اچھا گھر۔۔۔
اچھا محلہ۔۔۔
اچھی صحبت۔۔ پیاری بیٹی۔۔۔
اب جب وہ اپنی زندگی میں پر سکون تھی تو پھر سے یہ شیطانی چکر شروع ہونے لگا تھا۔۔
اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی غیر موجودگی میں کوئی اس کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش نہ کر رہا ہو۔۔۔
اس کا شوہر اور وہ نماز اور ازکار کے پابند تھے۔۔۔
وہ خود قران کی عالمہ تھی اور اس کے میکہ میں بھی سب نماز قرآن کے پابند تھے
وہ ابھی چند دن میکہ رہ کر کل ہی سسرال آئی تھی
میکہ میں حسبِ سابق اس کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا یہ سسرال میں ہی اس کے ساتھ آج سے آٹھ نو سال پہلے شروع ہوا تھا اور اب پھر سسرال میں ہی دوبارہ ایسا ہوا تھا۔۔۔
وہ ڈر گئی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی یہ وہم نہیں ہے یہ جنات کا شیطانی چکر ہے جو اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان تعلقات کی خرابی لیکر آتا ہے۔۔۔
پھر وہی جھگڑے اختلافات اور گھر کا ماحول خراب ۔۔۔
اب وہ ایسا نہیں چاہتی تھی اب اس کی ایک بیٹی بھی تھی جس کی تربیت اس کی اولین ترجیح تھی
وہ اسے ایک اچھا اور بہترین ماحول دینا چاہتی تھی
اس کے سسرال میں اختلافات جھگڑے روز کا معمول تھے وہ اس ماحول سے بڑی دعاؤں کے بعد نکلی تھی اب وہ پھر سے اسی زندگی میں واپس نہیں جانا چاہتی تھی
اس نے اپنے شوہر کو فون ملایا وہ سائٹ پر تھا
اس نے فون اٹھاتے ہی چلانا شروع کر دیا
میں اس وقت ایک انتہائی حساس کام کی نگرانی کر رہا ہوں ۔۔۔تم ہمیشہ بے وقت ہی کیوں فون کرتی ہو۔۔۔
میرا کام ایسا نہیں ہے کہ میں تم سے راز و نیاز کر سکوں،
میرے ارد گرد ورکرز کا ھجوم ہے پلیز مجھے کام کرنے دو اور فون بند۔۔۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا
میاں کا غصہ اور ایک بار پھر سے مسائل شروع
اسے سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ کیسی آزمائش ہے جو ختم نہیں ہوتی
اس نے جلدی سے وہیں لیٹے لیٹے آیات کا ورد شروع کیا اور اپنا اپنے شوہر اور گھر کا حصار باندھنا شروع کیا بیٹی اس کے پاس ہی تھی اس نے اس پر بھی پڑھ کر پھونکا اور اٹھ کر بیٹھ گئی اب اسے اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا تھا ابھی اس کی شہر واپسی میں وقت تھا اس سے پہلے ہی اسے کچھ کرنا تھا۔۔۔ مگر کیا یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔
انہی دنوں اس کے خاندان میں ایک تقریب طے پائی جس میں جانا ضروری تھا اس نے شوہر سے بات کی اس نے کہا کہ میں تھوڑا وقت نکال سکتا ہوں الحمدللہ تقریب بخیریت گزر گئی مگر اس کے بعد سے اس کی طبیعت میں بے چینی سی شروع ہو گئی ۔۔۔
بے نام سی گھبراہٹ جیسے وہ کوئی نام نہ دے پائی
دو دن شہر میں رک کر اس کی واپسی تھی اس نے ان دیکھے اندیشوں اور وسوسوں کے ساتھ سفر شروع کیا واپسی میں اس کی ساس بھی اس کے ساتھ جا رہی تھی اسے ایک بزرگ کے ساتھ کی ڈھارس بھی تھی اور گھر کی ان دیکھی انجانی فکر بھی
وہ گھر پہنچی تو دروازہ کھولتے ہی اسے غیر معمولی احساس ہوا جیسے کوئی پہلے ہی سے گھر میں موجود ہو
ہر چیز ویسی ہی تھی جیسی اس نے چھوڑی تھی
مگر کچھ تھا جو نیا تھا
اس نے صوفوں پر پڑے غلاف ہٹائے اور ششدر رہ گئی چوہوں کی بیٹیں وہ بھی غلاف کے نیچے۔۔اس نے آیت الکرسی کا ورد شروع کر دیا
اپنے کمرے میں آئی تو بیٹی کی رضائی ویسے ہی بستر پر پڑی تھی جیسی اس نے رکھی تھی مگر کچھ تھا غیر معمولی اس نے رضائی ہٹائی تو اس کے نیچے بھی چوہے کی بیٹیں وہ گھبرائی ضرور مگر حواس قابو رکھے
پورے گھر میں عجیب سی ویرانی تھی
وہ پہلے بھی گھر سے باہر جاتی رہی تھی
اپنے شہر بھی مگر ایسی کیفیت پہلے محسوس نہیں کی تھی
پورے گھر میں مکڑیوں نے جالے بن رکھے تھے یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی پہاڑی علاقوں میں یہ روز کی بات ہے
مگر ایسی وحشت زدہ سی خاموشی کبھی بھی محسوس نہ ہوئی تھی
کچھ تھا جو نیا تھا
اسے اس چوہے کی تلاش ہوئی جس کی بیٹیں اس نے دیکھی تھیں
جو بھی کیبنٹ یا الماری کھولتی وہاں بیٹیں نظر آتیں مگر چوہا ندارد
اس نے تمام کپڑے بستروں کی چادریں اتاریں اور دھوبی کو دینے کے لئے اکھٹی کرنی شروع کیں
گھر کی صفائی کی اور جالے اتارے
اس کی عادت تھی رقیہ پڑھنے کی اس نے رقیہ لگایا
اور ساتھ ساتھ کام شروع کیا
آہستہ آہستہ خوف کم ہونا شروع ہوا اور گھبراہٹ کم ہوگئ
اس نے اپنی ساس اور شوہر سے اپنی کیفیت کا ذکر کیا اور غیر معمولی حالات کا انہوں نے بھی چوہے کی تلاش شروع کی اور آخر کار ایک دن وہ کچن کی کیبنیٹ میں پکڑا گیا اس نے پڑوس سے مزدور بلا کر اسے مروا کر باہر پھنکوا دیا
مگر ابھی اس کے اور شوہر کے درمیان معاملات درست نہیں ہوئے تھے
شوہر اس سے بلا وجہ اکھڑا اکھڑا ہی تھا
بیٹی بھی سست سست سی تھی اور اس کی اپنی طبیعت تو پہلے ہی بوجھل تھی اس نے ڈاکٹر کو بھی دکھایا مگر سارے ٹیسٹ کروانے پر بھی سب کچھ ٹھیک ہی تھا کی رپورٹ ملی
اس کے شوہر نے کسی روحانی معالج کا پتہ کر کے اسے دکھانے کا کہا
وہ ان چیزوں پر یقین نہیں رکھتی تھی مگر شوہر اور ساس کے کہنے پر چلی آئی
راقی نے دم کیا غسل کا پانی دیا اور پینے کے لئے بھی
طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس ہوا
اس نے علاج کی بابت کسی کو بھی بتانے سے منع کیا
جادو کا اثر بتایا۔۔۔ میاں بیوی میں جدائی کا جادو
جو اس کے ان کپڑوں پر کیا گیا تھا جو اس نے تقریب میں پہنے تھے
ایسی جدائی جو اس کی موت پر منتج ہو
اس نے آیاتِ شفاء اور صبح شام کے اذکار کا ورد شروع کیا
رات کو سونے سے پہلے آیت الکرسی اور سورۂ ملک پڑھ کر اپنے والد کے بتائے ہوئے اذکار کا حصار کرنا شروع کیا تو معاملات میں بہتری آنے لگی
اس کی اور بیٹی کی طبیعت بھی بحال ہونے لگی
راقی کا علاج بھی جاری تھا
اس نے بھی قرآنی و مسنون دعاؤں پر عمل کرنے کو کہا تھا
اس نے دعا کی اللہ مجھے ان شیاطین کے شر سے نجات دے دے اور اپنے فرشتوں کو نازل فرما ،میرے گھر میں اپنی رحمت کے فرشتے بھیج تاکہ یہ شیاطین یہاں سے بھاگ جائیں
اسی دوران ایک دن اس کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ اس کے ڈرائینگ روم میں ایک رشنی کا ھالہ گردش کر رہا ہے
وہ حیران رہ گئی اس نے اسے دیکھنے کی کوشش کی تو اندھیرے میں کچھ نظر نہیں آیا کہ وہ روشنی کہاں سے پھوٹ رہی ہے ایسا اس کے ساتھ تین دن تک ہوا اور آخر کار تیسرے دن اسے اس روشنی کا مرکز معلوم ہو ہی گیا
وہ روشنی اسماء الحسنیٰ کے اس فریم سے پھوٹ رہی تھی جو اس کے ڈرائینگ روم کی دیوار پر آویزاں تھا
ہر نام پر ایک روشنی کا دائرہ چکرا رہا تھا اور تمام دائرے ملکر ایک بہت بڑا ھالہ بنا رہے تھے جو پورے کمرے کو روشن کر رہا تھا وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئی اسے لگا کہ جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے اس نے جلدی سے آنکھیں مل کر دیکھا گھڑی رات کے تین بجا رہی تھی
اس نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ آخر کار اس نے اس کے گھر سے شیاطین کو نکال کر فرشتے بھیج دئیے ہیں ۔۔ رحمت کے فرشتے جن کا اسے کب سے انتظار تھا
جو اس کے گھر میں اللہ کے ناموں کا طواف کر رہے تھے اور وہ ان سے غافل تھی
وہ اٹھی اس نے وضو کیا اور تہجد کی نماز کے لئے کھڑی ہو گئ وہ جو اشرف المخلوقات تھی وہ اپنے رب سے غافل تھی جبکہ اس کے رب کی نوری مخلوق۔۔فرشتے اس کے گھر میں ہی اس کے رب کا طواف کر رہے تھے
اس نے اپنی کوتاہی پر رب سے معافی مانگی
وہ دن ہے اور آج کا دن اس نے کبھی بھی تہجد جان بوجھ کر قضا نہیں کی
ہر روز سورۂ بقرہ پڑھنا اور اس کی تلاوت لگانا اس کا معمول ہے
کہ جس گھر میں سورۂ بقرہ پڑھی جائے وہاں شیاطین داخل نہیں ہو سکتے
سورۂ بقرہ اپنے پڑھنے والے کے لئے قیامت کے دن جھگڑا کرے گی جب تک اسے جہنم سے نجات نہ دلوالے
اس کے گھر میں اب بھی کبھی کبھی شیاطین داخل ہو جاتے ہیں مگر اب وہ ان سے ڈرتی نہیں
اب وہ اپنے رب کی موجودگی کے احساس سے سرشار ہے
اسے معلوم ہے کہ شیطان اور انسان کے درمیان ازل سے موجود جنگ ابد تک جاری رہے گی مگر اس جنگ میں اس کا محافظ اس کی ڈھال اس کا رب ہمیشہ اس کی پشت پر اس کو ہر وقت سہارا دینے اور تھامنے کے لئے موجود ہے۔۔۔
جو اسے گرنے نہیں دے گا
نہ ہی ہارنے دے گا
شیطان کی قسمت میں ہی ہارنا لکھا ہے اور وہ ہارا ہوا ہوکر ہی انسان سے دشمنی نکال رہا ہے اپنی ہار تسلیم کر کے جھکنا نہیں چاہتا
مگر انسان تو اپنے رب کے آگے جھکا ہوا ہے اسے شیطان کی سرکشی سے کیا سروکار۔۔۔
حسبی اللہ
حسبنا اللہ و نعم الوکیل
ونعم المولیٰ و نعم النصیر

مریم یوسف

رقیہ الشریعہ النبویہ

05/09/2025
23/05/2025

کیوں پاکستان بنا تھا؟
قسط: ۲
از: مریم یوسف
۱۶ مئ ۲۰۲۵

پاکستان کیا ہے؟
اسلامی جمہوریہ پاکستان ، جنوبی ایشیائی ممالک میں سے ایک ہے جو آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک مانا جاتا ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے تیسواں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب ، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔
پاکستان کوہِ ہندوکش اور کوہِ ہمالیہ کے تقریباً 7000 میٹر سے زیادہ پہاڑی سلسلوں میں گھری ہوئی ایک خوبصورت وادی ہے،دنیا کے چودہ پہاڑی سلسلے جو 8000 میٹر سے زیادہ ہیں ان میں سے پانچ پاکستان میں پائے جاتے ہیں پاکستان کی اونچی ترین پہاڑی چوٹیاں قراقرم کے پہاڑی سلسلوں میں پائی جاتی ہیں۔ان میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کےـ2 ہے جو پاکستان کی شان ہے،کوہ حمالیہ کی سب سے بلند ترین چوٹی نانگا پربت پاکستان کی بلند ترین چوٹی شمار ہوتی ہے اس کے علاؤہ کوہِ ہندوکش کی چوٹی ٹرچ میر،کوہ سفید،کھیوڑہ کے نمک کے پہاڑ اور مارگلہ کی حسین پہاڑیاں بھی پاکستان کا حصہ ہیں،مکران کا پہاڑی سلسلہ جو بلوچستان کے جنوبی نیم صحرائی ساحل سے ہوتا ہوا ایران اور بحیرۂ عرب سے جا ملتا ہے،اور بلوچستان سے ہی کیرتھر کا پہاڑی سلسلہ جو سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ہے بلوچستان کےمشرقی وسط سے ہوتا ہوا کیپ ماؤنٹ کراچی سے بحیرۂ عرب تک جاتا ہے۔
کوہ ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ سرحدی اعتبار سے نیپال،بھوٹان، چین ،بھارت اور پاکستان تک پھیلا ہوا ہے۔
کوہ قراقرم پاکستان بھارت اور چین کی سرحدوں پر پھیلا ہوا ہے اس کی شمال مشرقی سمت میں تبت کا خوبصورت دیومالائی علاقہ واقع ہے۔
کوہِ ہندوکش پاکستان کے شمال مغرب میں افغانستان تک پھیلا ہوا ہے۔
کوہ سلیمان جس کی بلند ترین چوٹی تختِ سلیمان ہے بلوچستان اور افغانستان کی سرحد پر کم بلند پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے۔
کوہِ نمک یہ سلسلہ دریائے جہلم اور دریائے سندھ کے درمیان کلر کہار کے علاقے میں واقع ہے اسے سالٹ رینج بھی کہا جاتا ہے یہاں سے نکلنے والا نمک تمام دنیا میں پاکستان کی پہچان ہے۔
پاکستان اپنے پہاڑی سلسلوں اور خوبصورت وادیوں کی وجہ سے نہ صرف سیاحوں کے لئے بے انتہا کشش کا باعث ہے بلکہ دنیا کے لئے سونے کی چڑیا سے کم نہیں،دنیا کے نقشے پر نظر آنے والا یہ ننھا سا وجود اپنی بے انتہا قدرتی نعمتوں کے باعث ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ
خطے کی بڑی طاقتوں کے لئے بھی تر نوالے سے کم نہیں یہی وجہ ہے کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ روس اور چین تک اس پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں اگر ایران افغانستان اور چین کے ساتھ پاکستان کے بہترین سفارتی اور دوستانہ تعلقات نہ ہوتے تو کب کے دشمن ممالک اسے ہڑپ کرچکے ہوتے۔ امریکہ جیسی بڑی طاقت کے ساتھ بھی سفارتی اور دوستانہ تعلقات نے ہی پاکستان کے زریعے افغانستان میں روس کو ناکوں چنے چبوائے اور نہ صرف روس کے ٹکڑے ہوئے بلکہ خود امریکہ بھی افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہوا۔
پاکستان صرف قدرتی نعمتوں سے ہی مالا مال نہیں ہے بلکہ خوبصورت دل رکھنے والے لوگوں کی سر زمین ہے،جس کی تعمیر میں شہیدوں کا خون بھی شامل ہے۔
اس وطن کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
ارضِ پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا
نظم و ضبط کو اپنا میر کارواں جانو
وقت کے اندھیروں میں اپنا آپ پہچانو
اگر پاکستان پر اللہ کا ہاتھ اور خاص کرم نہ ہوتا تو کب کا صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہوتا،یہ اللہ کا کرم ہی ہے کہ اس نے اس ننھے وجود کو ایٹمی طاقت بخشی جس بنا پر کوئی بھی اس کی طرف بری نظر ڈالنے سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور ہوتا ہے،یہ اللہ کا کرم ہی ہے کہ بظاہر انتہائی چالاک اور شاطر نظر آنے والا ہمارا دشمن ہوقوفوں کی طرح میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈوں کا شکار ہوکر ہمیں کمزور سمجھ کر ہم پر شب خون مارتا ہے اور منہ کی کھا کر واپس جاتا ہے،یہ اللہ کا کرم ہی ہے کہ ہماری دفاعی طاقت کو مضبوط کرنے کے لئے نہ صرف ہمیں بہترین و با صلاحیت انجینئرز اور سائنسدان عطا ہوئے بلکہ بہترین ایمانی طاقت رکھنے والی افواج بھی عطا کی گئیں۔ل
انہی با صلاحیت لوگوں کی وجہ سے پاکستان ترقی کی دوڑ میں تیزی سے آگے بڑھتا جا رہا ہے،الحمدللہ۔

جاری ہے۔۔۔۔

23/05/2025

کیوں پاکستان بنا تھا؟
از: مریم یوسف
قسط:۳
۲۳ مئی ۲۰۲۵
پاکستان اللہ کے رازوں میں سے ایک راز!!!

پاکستان کے قیام کی تاریخ اور اس کی جغرافیائی حدود پر گفتگو کرنے کے بعد آج ہم کچھ رازوں سے پردہ اٹھائیں گے جن کی وجہ سے پاکستان کو مملکت خداد کہا جاتا ہے۔جو خالصتاً اللہ کے اذن و ایما پر وجود میں آئی۔۔۔
جیسا کہ ہم نے دیکھا زمینی حقائق پاکستان کے قیام کے مخالف چل رہے تھے مگر اچانک۔۔۔۔؟
رمضان المبارک کی ستائیسویں شب ہے۔۔۔ مسلمانان ہندوستان شب قدر کی تیاری کر رہے ہیں۔۔۔ہر شخص گومگو کی کیفیت میں ہے۔۔۔کیا پاکستان بن جائے گا؟؟؟ کسی کے پاس اس سوال کا حتمی جواب نہیں ہے۔۔۔کسی کو بھی حق الیقین حاصل نہیں ہے۔۔۔ہر شخص اس شوق میں عبادت کی تیاری کر رہا ہے کہ پاکستان کے حصول کی دعا کرنی ہے۔۔۔کوئی انہونی۔۔۔کوئی معجزہ۔۔۔ کوئی کرامت ہو جائے شاید پاکستان بننے کا اعلان ہو جائے۔۔۔عورتیں،
بچے،بوڑھے،جوان۔۔مسجدوں میں،منبروں پر،گھروں میں اپنی اپنی جائے نمازیں سنبھالے سجدے میں گرے ہیں۔۔۔الہه و زاریاں جاری ہیں کسی کو نہیں پتہ کیا ہونے والا ہے۔۔۔اچانک ریڈیو سے ایک آواز ابھرتی ہے
۱۳ اگست ۱۹۴۷
یہ آل انڈیا ریڈیو لاہور ہے
آپ ہمارے گلے اعلان کا انتظار کیجئے!!!

گیارہ بج کر اننسٹھ منٹ ہو چکے ہیں گھڑی کی ٹوں ٹوں ریڈیو سے ابھرتی سنائی دے رہی ہے۔۔
سب سجدوں میں جھکے سر مزید جھکتے چلے گئے دعاؤں۔۔۔التجاؤں۔۔۔ گڑگڑاہٹوں میں اضافہ ہونے لگا۔۔۔یا خدایا کوئی معجزہ!!!
اتنے میں آواز پھر گونجتی ہے

السلام علیکم
پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس
ہم لاہور سے بول رہے ہیں
۱۳ اور ۱۴ اگست کی درمیانی رات بارہ بجے
طلوعِ صبح آزادی!
اور پھر۔۔۔

پاکستان کا قومی ترانہ نشر ہونے لگا
پاک سر زمین شاد باد
کشور حسین شاد باد
تو نشانِ عزم عالی شان
ارض پاکستان
مرکز یقین شاد باد

ستائیس رمضان المبارک شب قدر۔۔۔جو کہ یقینی شب قدر تھی جس میں اللہ کے ملائیکہ اور روح الامین نازل ہوتے ہیں اللہ کے نیک بندوں پر سکینت طاری کرتے ہیں۔۔۔اللہ کی طرف سے ملنے والے انعامات کا اعلان کرتے ہیں۔

اللہ کے حکم سے طلوعِ فجر تک سلامتی کا پیغام دیا جارہا ہے،دلوں پر سکینت طاری ہے۔۔۔قلب شکر گزاری کے جذبات سے لبریز ہیں۔۔۔سجدے طویل ہوکر شکرانے کے آنسوؤں اور آہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں پاک سر زمین سجدہ ریز محمد کے غلاموں کو عطا کر دی گئی ہے شب قدر کے انعام کے طور پر۔۔۔
طلوعِ فجر
طلوع صبح آزادی میں تبدیل ہوچکی ہے
جی ہاں!!!
مل کر اک اک جھونکا آخر
طوفان بنا تھا
یوں پاکستان بنا تھا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


St 1 I, I1/2 Islamabad
Islamabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00