Office

Office This is an educational office where you will find Education Notes and Video Lectures for All Classes and All Subjects. For details u can visit our website.

This is an educational office where you will find Education Notes and Video Lectures for all Classes and All Subjects. Furthermore, we will also add different tips and tricks and will create a computer section in the near future. In short this is a complete office, specially prepared for educational purpose.

29/08/2026

*جو لوگ شروع سے شہروں میں رہتے ہیں اور انہیں علم نہیں تو ان کی معلومات کے لیے :🙂
*گائیں اپنا گھونسلہ زمین پر ہی بناتی ہیں۔ وہ اپنے کھُروں سے زمین قدرے کھود کر وہاں گھاس پھونس اور پتے ڈال دیتی ہیں تاکہ نرم گھونسلے میں انڈے دے سکیں۔*
*گائے کا انڈا مرغی کے انڈے کی نسبت تین گنا بڑا ہوتا ہے اور اس سے 6 ماہ بعد وچھا نکلتا ہے۔*
طالب دعا
#ساجدالرحمن

04/08/2026

تاریخ دانوں نے روایت کیا ہے کہ عمر بن خطابؓ، جنہیں ان کی سختی اور قوت کے لیے جانا جاتا ہے، ایک دن مدینہ میں لوگوں کے لیے کھانے کے دسترخوان لگا رہے تھے۔ انہوں نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھاتے ہوئے دیکھا، تو پیچھے سے آ کر کہا:

"اے عبداللہ! دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔"
اس شخص نے جواب دیا: "اے عبداللہ! میرا دایاں ہاتھ مصروف ہے۔"
عمرؓ نے دوبارہ یہی بات کہی۔
شخص نے پھر وہی جواب دیا۔
عمرؓ نے پوچھا: "اسے کیا مصروفیت ہے؟"
تو اس نے جواب دیا: "یہ ہاتھ غزوۂ مؤتہ میں زخمی ہوا تھا، اب حرکت نہیں کرتا۔"

یہ سن کر عمرؓ اس کے پاس بیٹھ گئے اور رونے لگے، اور سوالات کرنے لگے:

"تجھے وضو کون کراتا ہے؟
تیرے کپڑے کون دھوتا ہے؟
تیرا سر کون دھوتا ہے؟
اور۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔؟"

اور ہر سوال کے ساتھ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
پھر انہوں نے اس کے لیے ایک خادم، ایک سواری اور کھانے کا بندوبست کیا، اور اس سے معذرت کرنے لگے کہ انہوں نے نادانستہ طور پر ایسی بات کہہ دی جو اسے تکلیف دے گئی۔

اسی طرح قوانین بنتے ہیں...

عمرؓ رات کو مدینے کی گلیوں میں گشت کرتے تھے، نہ کہ رعایا پر نظر رکھنے کے لیے، بلکہ ان کے حالات جاننے کے لیے۔

ایک رات انہوں نے ایک دیہاتی عورت کو اپنے شوہر کی یاد میں اشعار پڑھتے سنا:

"طویل ہو گیا ہے یہ رات، اور اس کا اندھیرا بڑھ گیا ہے
مجھے نیند نہیں آتی کہ میرا محبوب میرے ساتھ نہیں کھیلتا
اگر نہ ہوتا وہ ذات جس کا عرش آسمانوں پر ہے
تو یہ بستر میرے ہجر کی شدت سے ہل گیا ہوتا"

امیر المؤمنین قریب آئے، سنا، اور پھر دروازے کے پیچھے سے پوچھا:
"اے بہن! کیا ہوا؟"

عورت نے جواب دیا:
"میرے شوہر کئی مہینوں سے جہاد کے لیے گئے ہوئے ہیں، میں انہیں یاد کرتی ہوں۔"

عمرؓ فوراً اپنی بیٹی حفصہؓ کے پاس گئے اور پوچھا:
"عورت اپنے شوہر کی جدائی کتنے عرصے برداشت کر سکتی ہے؟"

بیٹی شرما گئی اور سر جھکا لیا، تو عمرؓ نے عاجزی سے کہا:
"اللہ حق کہنے سے نہیں شرماتا، اگر یہ سوال رعایا کے معاملے کے لیے نہ ہوتا تو میں نہ پوچھتا۔"

حفصہؓ نے جواب دیا:
"چار، پانچ یا چھ مہینے۔"

عمرؓ واپس گئے اور تمام فوجی کمانڈروں کو لکھا:
"فوجوں کو چار ماہ سے زیادہ نہ روکا جائے۔"

یوں عورت کے ایک فطری حق کی بنیاد پر ایک قانون بنا۔
یہ قانون ریاست نے نہیں، بلکہ معاشرے (ایک دیہاتی عورت اور حفصہؓ) نے تشکیل دیا۔ ریاست نے صرف اسے نافذ کیا۔

اسی طرح عورت کا قانون تشکیل پایا۔

ایک رات عمرؓ گشت پر تھے تو ایک بچے کی رونے کی آواز سنی۔ قریب گئے اور پوچھا:
"کیا ہوا بچے کو؟"

ماں نے کہا:
"میں اسے دودھ چھڑوا رہی ہوں، اس لیے رو رہا ہے۔"

ظاہر ہے، یہ عام بات تھی۔ لیکن عمرؓ نے اس سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ وہ عورت صرف اس لیے بچے کو وقت سے پہلے دودھ چھڑا رہی ہے تاکہ بیت المال سے ملنے والے سو درہم حاصل کر سکے، جو صرف دودھ چھڑانے کے بعد دیے جاتے تھے۔

عمرؓ گھر واپس گئے، مگر نیند نہ آئی۔ اس بچے کی سسکیوں نے دل کو جھنجھوڑ دیا تھا۔
انہوں نے فوراً حکم جاری کیا:
"بچے کو پیدائش کے وقت ہی سے سو درہم دیے جائیں، نہ کہ دودھ چھڑانے کے بعد۔"

یوں بچوں کے لیے قانون بنا جو ان کی مناسب غذا اور صحت کا ضامن بن گیا۔
اگر عمرؓ اس عورت سے گفتگو نہ کرتے تو یہ قانون نہ بنتا۔

یوں بچے کا قانون بھی تشکیل پایا۔

عمرؓ کو اپنے بھائی زید سے محبت تھی، جو حروبِ ارتداد میں شہید ہو گئے تھے۔
ایک دن بازار میں عمرؓ کی ملاقات زید کے قاتل سے ہوئی، جو اب مسلمان ہو چکا تھا۔

عمرؓ نے غصے سے کہا:
"اللہ کی قسم! میں تجھ سے اتنی نفرت کرتا ہوں جتنا زمین بہتے ہوئے خون سے کرتی ہے!"

اعرابی نے پوچھا:
"کیا اس نفرت سے میرے حقوق متاثر ہوں گے، اے امیر المؤمنین؟"

عمرؓ نے کہا:
"نہیں۔"

تو اعرابی نے بے پروائی سے کہا:
"محبت کا غم تو عورتیں کرتی ہیں۔"
(یعنی مجھے تمہاری محبت کی پروا نہیں، میرے اور تمہارے درمیان صرف حقوق اور فرائض کا رشتہ ہے)

عمرؓ نے غصے کے باوجود نہ اسے جیل بھیجا، نہ سزا دی۔
اس کی آزادی رائے کا احترام کیا۔

یوں معاشرے میں آزادیِ اظہار کا قانون بنا۔

ایک عورت نے ایک جمعے کے خطبے کے دوران کہا:
"اے عمر! تم غلطی پر ہو۔"

یہ اس وقت ہوا جب عمرؓ نے مہر کی حد مقرر کرنے کا قانون تجویز کیا۔
وہ عورت عام تھی، مگر اس کی دلیل درست تھی۔

عمرؓ نے نہ اسے گرفتار کیا، نہ سزا دی، نہ شرمندہ کیا، بلکہ علی الاعلان کہا:
"عمر غلطی پر تھا، اور عورت نے درست کہا۔"

اور اس قانون کو واپس لے لیا۔
یوں مہر کی مقدار کا فیصلہ معاشرے پر چھوڑ دیا گیا۔

یوں قوانین بنتے ہیں۔۔۔ معاشرے کی ضرورت، خواہش، روایت، اور فطری تقاضوں سے۔

قانون نہ ایوان اقتدار میں بنتے ہیں، نہ محلات میں، بلکہ لوگوں کی نبض پر ہاتھ رکھ کر، ان کی حالت سن کر، ان سے سیکھ کر۔
اصل قانون ساز معاشرہ ہے، اقتدار
نہیں۔

طالب دعا
#ساجد الرحمن

27/07/2026

📢 اہم اطلاع برائے طلبہ و والدین

فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (FBISE) کے تحت منعقدہ ایس ایس سی (پارٹ I اور پارٹ II) سالانہ امتحانات 2026 کا نتیجہ

🗓 بدھ، 29 جولائی 2026
🕚 صبح 11:15 بجے

باقاعدہ طور پر جاری کیا جائے گا۔

تمام طلبہ و طالبات کو پیشگی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک تمنائیں۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کو بہترین کامیابی سے نوازے۔ آمین۔
طالب دعا
#ساجدالرحمن

05/11/2025

یہ ایک عبرت ناک اور دل دہلا دینے والی حقیقی روایت ہے جو امام ابنِ کثیر نے اپنی مشہور کتاب البدایہ والنہایہ میں لکھی ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ایک جماعت کے پاس سے گزرے تو فرمایا
"تم میں ایک ایسا شخص ہے جس کا ایک دانت جہنم میں احد پہاڑ سے بڑا ہوگا"
یہ سن کر سب کے دل کانپ گئے
وقت گزرتا گیا اس جماعت کے سب لوگ ایمان و سلامتی پر دنیا سے رخصت ہو گئے
صرف دو باقی رہے — حضرت ابوہریرہؓ اور بنو حنیفہ کا ایک شخص الرّجّال بن عنفوہ
یہ رجّال ان لوگوں میں سے تھا جو نبی ﷺ کے پاس آئے، اسلام سیکھا، قرآن یاد کیا، عبادت گزار اور زاہد بنا رہا
حتیٰ کہ لوگ اس کی عبادت اور خشوع کی مثالیں دیتے
مگر نبی ﷺ کی وہ بات ابوہریرہؓ کے ذہن میں رہ گئی
وہ ہر بار رجّال کو دیکھ کر ڈرتے کہ کہیں وہی نہ ہو جس کا ذکر نبی ﷺ نے فرمایا تھا
پھر وقت آیا جب مسَیلمہ کذّاب نے یمامہ میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا
خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ نے رجّال بن عنفوہ کو یمامہ بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو اسلام پر قائم رکھے
مگر جب رجّال وہاں پہنچا تو مسیلمہ نے اسے عزت، مال اور سونا پیش کیا
اسے کہا کہ "اگر تو میرے ساتھ ہو جائے تو آدھی حکومت تجھے دے دوں گا"
مال و دولت نے اس کے دل کا ایمان چھین لیا
اور وہ شخص جو نبی ﷺ کا ساتھی رہا، قرآن پڑھتا تھا، نماز و روزے کا پابند تھا
وہی جھوٹے نبی کا مددگار بن گیا
رجّال نے اعلان کیا کہ "میں نے محمد ﷺ سے سنا کہ مسیلمہ ان کے ساتھ نبی بنایا گیا ہے"
اس ایک جھوٹ نے ہزاروں کو گمراہ کر دیا
یہ فتنہ مسیلمہ کے فتنہ سے بھی بڑا بن گیا
پھر حضرت ابوبکرؓ نے خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں لشکر روانہ کیا
اسی لشکر میں وحشی بن حربؓ بھی تھے — وہی جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں حضرت حمزہؓ کو شہید کیا تھا
وحشیؓ نے توبہ کی تھی اور کہا تھا "میں اس جرم کا کفارہ جہاد سے ادا کروں گا"
جب جنگ یمامہ شروع ہوئی، تو سخت ترین لڑائی ہوئی
ابتدا میں مسلمان پسپا ہوئے مگر پھر صحابہ نے نعرہ لگایا، قرآن والے جمع ہوئے، اور اللہ نے مدد فرمائی
وحشیؓ نے موقع پا کر مسیلمہ کذاب کو قتل کر دیا
اور رجّال بن عنفوہ بھی اپنے جھوٹے نبی کے ساتھ مارا گیا — کفر پر، ذلت کے ساتھ
جب ابوہریرہؓ کو اس کی خبر ملی تو وہ سجدے میں گر گئے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ نجات ان کے حصے میں آئی
یہ قصہ ہمیں سکھاتا ہے —
*رجّال بن عنفوہ قرآن پڑھتا تھا، عبادت گزار تھا، مگر انجام بد پر ہوا*
*اور وحشی بن حربؓ نے سب سے بڑا گناہ کیا مگر توبہ کی اور انجام ایمان پر پایا*
تو اے انسان
اپنی عبادت پر فخر نہ کر
اپنی نیکیوں پر گھمنڈ نہ کر
دعا کر کہ اللہ تیرا انجام ایمان پر کرے۔
اللہم ثبتنا علی دینک و اختم لنا بخیر
اللهم صل وسلم علی سیدنا محمد ﷺ
طالب دعا
#ساجدالرحمن

18/10/2025

سٹھیا گیا ہے بڈھا..😊😊😊
۔
ایک صاحب گھر آئے تو بیگم نے کہا، ’ارے سنتے ہیں جی، پڑوسن ہمارے گھر آئی تھی اور ڈرائنگ روم میں لگی پینٹنگ اتار کر لے گئی اور اپنے ڈرائنگ روم میں لگا لی، واپس مانگ رہی ہوں تو دے نہیں رہی‘
صاحب نے لا پروائی سے فرمایا، ’ تو کیا ہوا؟ پینٹنگ دیوار پہ لگانے کی چیز ہے، اگر تھوڑی سے جگہ بدل گئی تو کیا مسئلہ ہے؟‘
’دماغ درست ہے آپکا؟‘ بیگم چلائیں ’چوری کی ہے اس نے‘
’توبہ توبہ بیگم، اتنی سی بات پہ تم کو پڑوسن کی ’نیت پہ شک‘ نہیں کرنا چاہیے، اس نے فقط دیوار ہی تو تبدیل کی ہے، کوئی پابندی تو نہیں نا کہ اسی دیوار پہ یہ پینٹنگ لگانی ہے‘ صاحب نے سمجھاتے ہوئے کہا.

’ارے آپ کواپنے ڈرائنگ روم اور پڑوس کے ڈرائنگ میں فرق نظر نہیں آرہا؟‘ بیگم نے جھنجھلا کرپوچھا
’یہ بیکار کی بات ہے، ڈرائنگ روم تو ڈرائنگ روم ہوتا ہے، مجھے یہ سمجھائو کہ پینٹنگ کو اِدھر سے اُدھر کرنے میں کیا فرق پڑ گیا؟ پہلے بھی وہ ڈرائنگ روم میں تھی، اب بھی ہے، پہلے بھی وہ دیوار پہ لگی تھی، اب بھی لگی ہے، تو فرق تو کچھ نا ہوا نا؟‘ صاحب نے بڑے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا
’ہائے میری قسمت!‘ بیگم نے سر پہ ہاتھ مار کر کہا ’آپ کو فرق نظر نہیں آرہا، پہلے وہ ’ہمارا‘ تھا، اب ’پڑوسن‘ بھی اس میں شریک ہو گئی، بلکہ پڑوسن ہی مالک بن گئی ہے‘
’دیکھو بیگم! تم مجھے یہ باریک نکتہ سمجھائو کہ پڑوسن کے مالک بننے سے فرق کیا پڑا؟ کیا پینٹنگ ختم ہوگئی؟ یا تم اسے دیکھ نہیں سکتیں؟ پہلے پڑوسن یہاں آکے کے دیکھتی تھی، اب تم وہاں جا کے دیکھ لینا، مسئلہ تو کچھ بھی نہیں ہے‘ صاحب نے رواداری و وسعت قلبی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔

’آپ کو مسئلہ نہیں ہوگا، مجھے ہے، میری چیز کوئی ایرا غیرا نتھو خیرا اٹھا کر لے جائے اور آپ کہیں کہ فرق نہیں پڑا تو آپ اپنے دماغ کا علاج کرائیں، پینٹنگ میرے گھر میں تھی تو پڑوسن چور نہیں تھی اب وہ ’چور‘ ہے‘ بیگم پھٹ ہی پڑیں
’بیگم! یہ جو تم نے ’قیمتی قانونی نکتہ‘ اٹھایا ہے کہ ’پڑوسن چور بن گئی ہے‘ اسے تم ثابت کر سکتی ہو؟‘ صاحب نے پوچھا
’ارے ثابت کیا کرنا ہے؟‘ بیگم ہاتھ نچا کر بولیں ’کوئی میرے گھر سے کچھ اٹھا کر لے جائے اور اپنے گھر میں رکھ لے تو اسے چوری نا کہیں تو کیا کہیں؟‘
’میرے خیال میں تو یہ چوری نہیں ہے، صرف ’دیوار کی تبدیلی‘ ہے، تم اگر سمجھا دو کہ دیوار کی تبدیلی سے کیا فرق پڑا تو میں اپنی رائے بدل سکتا ہوں‘ صاحب نے فراخدلانہ پیشکش کی
بیگم جواب دینے کے بجائے، ہاتھ جھٹکتی، بلبلاتی، تلملاتی اور بڑبڑاتی ہوئیں چلی گئیں، ’سٹھیا گیا ہے بڈھا‘
ــــــــــــــــــــ

’بیگم! مجھے غسل کرنا ہے، میرے کپڑے نکال دو‘ صاحب نے بیگم سے کہا
’جائیے کھونٹی پہ کپڑے لٹکا دیے ہیں، نہا لیجیے‘ تھوڑی دیر بعد بیگم نے صاحب کو اطلاع دی
صاحب غسل خانے تشریف لے گئے
بیگم نے غسل خانے کے بند دروازے پہ کھڑے ہوکر آواز لگائی، ’سنیے! دھوبی آگیا ہے، میلے کپڑے دے دیجیے‘
صاحب نے زرا سا دروازہ کھول کر کپڑے بیگم کو پکڑا دیے۔
تھوڑی دیر بعد انہوں نے آواز لگائی، ’بیگم! بیگم! کہاں ہو تم؟ میرے پہننے کے کپڑے کہاں ہیں؟ میں نے خیال ہی نہیں کیا، یہاں کھونٹی پہ تو کوئی کپڑا نہیں لٹک رہا‘
بیگم نے غسل خانے کے قریب آ کر کہا، ’ہاں! آپ کے کپڑے میں نے بیڈ روم کی کھونٹی پہ لٹکائے تھے‘

’دماغ درست ہے تمہارا؟ غسل خانے میں نہا رہا ہوں تو کپڑے بیڈ روم کی کھونٹی پہ کیا کر رہے ہیں؟‘ صاحب چیخ پڑے
’ارے! اس میں غصہ کرنے کی کیا بات ہے؟‘ بیگم نے ہنس کر کہا ’صرف غسل خانے سے کمرا ہی تو تبدیل کیا ہے، کپڑے ُادھر بھی کھونٹی پہ لٹکائے جاتے ہیں اور اِدھر بھی‘
’بیگم!‘ صاحب دھاڑے ’تم بدلہ لے رہی ہو مجھ سے؟‘
’ارے ارے سرتاج! آپ اپنی شریکِ حیات کی نیت پہ شک کر رہے ہیں؟ بیگم نے آواز میں مصنوعی ناراضی بھر کر کہا
’بیگم! کپڑے لادو، مجھے کپڑے پہننے ہیں، ورنہ اچھا نہیں ہوگا‘ صاحب نے دھمکی دی
’کیا فرق پڑتا ہے، آپ پہلے غسل خانے کی کھونٹی سے اٹھا کر کپڑے پہنتے تھے اب بیڈ روم کی کھونٹی سے اٹھا کر پہن لیں‘ بیگم نے دھمکی ہوا میں اڑا دی.

’کیا! میں غسل خانے سے کمرے تک ’ایسی‘ حالت میں جائوں گا؟ گھر میں امی ابو چھوٹی بہن موجود ہے‘ صاحب نے غصے میں کھولتے ہوئے کہا
’تو کیا فرق پڑتا ہے؟ غسل خانے کی کھونٹی سے بھی تو آپ ’ایسی‘ ہی حالت میں کپڑے اٹھاتے نا؟‘ بیگم نے کمال کا نکتہ نکالا
صاحب نے اپنا سر غسل خانے کی دیوار سے ٹکرانے سے خود کو بڑی مشکل سے روکا
’ابے میری عزت اچھالے گی تو!‘ صاحب اپنے مزاج سے ہٹ کر چلا اٹھے
’ارے ایسے کیسے عزت اچھل جائے گی، آپ مجھے یہ ‘قیمتی نکتہ‘ تو سمجھائیں کہ صرف کھونٹی سے کپڑے اٹھانے میں عزت کیسے اچھل جائے گی؟‘ بیگم نے معصومانہ سوال کیا
’بیگم! تم کو تمہارے ’ابا‘ کا واسطہ میرے کپڑے لادو‘ صاحب آخر کار منتوں پہ اتر آئے
اور بیگم نے صاحب کے مزید ‘شور شرابے‘ سے بچنے کے لئے کپڑے دے دیے۔
ــــــــــ
صاحب تیار ہوکر پڑوس میں گئے اور پڑوسی سے لڑ جھگڑ کر اپنی پینٹنگ لے آئے، کیونکہ ہر چیز اپنی جگہ پر ہی اچھی لگتی ہے، اسے بلا وجہ ’ہلانا‘ ’شور‘ ڈال سکتا ہے اور ’شور‘ سے ’آلودگی‘ پھیلتی ہے۔ کبھی ماحول کی، کبھی دل کی، کبھی دماغ کی اور کبھی ایمان کی۔۔۔۔😊😊😊
طالب دعا
#ساجدالرحمن

26/08/2025

*♦️"لوگ کیا کہیں گے"♦️*

*ایک رات مولانا جلال الدین رومیؒ نے اپنے استاد حضرت شمس الدین تبریزیؒ کو اپنے گھر دعوت دی۔*

مرشد شمسؒ تشریف لے آئے۔ کھانے کے سب برتن تیار ہو گئے تو شمسؒ نے رومیؒ سے فرمایا: “کیا تم مجھے پینے کے لیے شراب لا سکتے ہو؟”

رومیؒ یہ سن کر حیران رہ گئے: “کیا استاد بھی شراب پیتے ہیں؟”

شمسؒ نے کہا: “ہاں، بالکل۔” رومیؒ نے عرض کیا: “مجھے معاف کیجیے، مجھے اس کا علم نہیں تھا۔”

شمسؒ نے فرمایا: “اب جان گئے ہو، لہٰذا شراب لا دو۔”

رومیؒ بولے: “اس وقت رات گئے کہاں سے لاؤں؟”

شمسؒ نے کہا: “اپنے کسی خادم کو بھیج دو۔”

رومیؒ نے کہا: “میرے نوکروں کے سامنے میری عزت ختم ہو جائے گی۔”

شمسؒ نے کہا: “پھر خود ہی جا کر لے آؤ۔”

رومیؒ پریشان ہوئے: “پورا شہر مجھے جانتا ہے، میں کیسے جا کر شراب خریدوں؟”

شمسؒ نے فرمایا:
“اگر تم واقعی میرے شاگرد ہو تو وہی کرو جو میں کہتا ہوں۔ ورنہ آج نہ میں کھاؤں گا، نہ بات کروں گا، نہ سو سکوں گا۔”

استاد کی محبت اور اطاعت میں رومیؒ نے چادر اوڑھی، بوتل چھپائی اور عیسائیوں کے محلے کی طرف چل دیے۔ جب تک وہ راستے میں تھے، کسی کو شک نہ ہوا۔ لیکن جیسے ہی وہ عیسائی محلے میں داخل ہوئے، لوگ حیران ہوئے اور ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔

سب نے دیکھا کہ رومیؒ شراب خانے میں گئے اور بوتل خرید کر چادر کے نیچے چھپا لی۔ پھر وہ نکلے تو لوگ اور بھی زیادہ ہو گئے اور ان کے پیچھے پیچھے مسجد تک پہنچ گئے۔

مسجد کے دروازے پر ایک شخص نے شور مچا دیا: “اے لوگو! تمہارا امام، شیخ جلال الدین رومیؒ، ابھی عیسائی محلے سے شراب خرید کر آ رہا ہے!” یہ کہہ کر اس نے رومیؒ کی چادر ہٹا دی اور بوتل سب کے سامنے آ گئی۔

ہجوم نے غصے میں آکر رومیؒ کے منہ پر تھوکا، انہیں مارا، یہاں تک کہ ان کی پگڑی بھی گر گئی۔

رومیؒ خاموش رہے، انہوں نے اپنی صفائی پیش نہیں کی۔

لوگ اور بھی یقین کر بیٹھے کہ وہ دھوکہ کھا گئے ہیں۔ انہوں نے رومیؒ کو بری طرح مارا اور کچھ نے تو قتل کرنے کا بھی ارادہ کیا۔

اسی وقت شمس تبریزیؒ کی آواز بلند ہوئی:
“اے بے شرم لوگو! تم نے ایک عالم اور فقیہ پر شراب نوشی کا الزام لگا دیا۔ جان لو کہ اس بوتل میں شراب نہیں بلکہ سرکہ ہے!”

ایک شخص بولا: “میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ شراب خانے سے بوتل لائے ہیں۔”

شمسؒ نے بوتل کھولی اور کچھ قطرے لوگوں کے ہاتھ پر ڈالے تاکہ وہ سونگھ سکیں۔ سب حیران رہ گئے کہ واقعی یہ تو سرکہ ہے!

اصل بات یہ تھی کہ شمسؒ پہلے ہی شراب خانے گئے تھے اور دکاندار کو کہہ دیا تھا کہ اگر رومیؒ بوتل لینے آئیں تو انہیں شراب کے بجائے سرکہ دیا جائے۔

اب لوگ اپنے سر پیٹنے لگے اور شرمندگی کے مارے رومیؒ کے قدموں میں گر گئے۔ سب نے معافی مانگی اور ان کے ہاتھ چومے، پھر آہستہ آہستہ منتشر ہو گئے۔

رومیؒ نے شمسؒ سے عرض کیا:
“آج آپ نے مجھے کتنی بڑی آزمائش میں ڈال دیا، یہاں تک کہ میری عزت اور وقار میرے مریدوں کے سامنے خاک میں مل گئی۔ اس سب کا کیا مطلب تھا؟”

شمسؒ نے فرمایا:

*“تاکہ تم سمجھ لو کہ لوگوں کی عزت اور شہرت محض ایک فریب ہے۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ ان لوگوں کا احترام ہمیشہ قائم رہتا ہے؟ تم نے خود دیکھا، محض ایک بوتل کے شک پر وہ تمہارے دشمن بن گئے، تم پر تھوکا، مارا، اور قریب تھا کہ جان لے لیتے۔ یہی وہ عزت ہے جس پر تم نازاں تھے، جو ایک پل میں ختم ہو گئی.*

آج کے بعد لوگوں کی عزت پر نہ بھروسہ کرنا۔ اصل عزت صرف اللہ کے پاس ہے جو وقت کے ساتھ نہ بدلتی اور نہ مٹتی ہے۔
وہی بہتر جانتا ہے کہ کون واقعی باعزت ہے اور کون جھوٹی عزت کا طلبگار۔ لہٰذا آئندہ اپنی نظر صرف اللہ پر رکھو۔”

*سبق:*

*دنیا کی عزت اور لوگوں کی رائے لمحوں میں" بدل جاتی ہے۔ اصل عزت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہو...!!!*
طالب دعا
#ساجدالرحمن

28/07/2025

عام آدمی

کوئی مانے نہ مانے، اس ملک میں سب سے بڑا جھوٹا، سب سے بڑا چور اور منافق یہاں کا عام آدمی ہے. یہ جو عام آدمی ہے، جس کی جمع عوام ہے، یہ انتہائی ھڈ حرام اور بد دیانت ہے.

یہ عام آدمی خود تو نہ سیاست میں ہے نہ اسٹیبلشمنٹ میں... یہ نہ بیورو کریٹ ہے نہ جرنیل کرنیل... مگر اس کی خصلت فرعون سے کم نہیں.. یہ اپنے جیسے دوسرے عام آدمی کا سب سے بڑا دشمن ہے.

یہ عام آدمی دکاندار ہے تو لکھ دیتا ہے "خریدا ہوا مال واپس نہیں ہو گا".. عام گاہک سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا. اونچی آسامی والا گاہک ہے تو اسے لوٹنے کی کوشش کرتا ہے.

یہ عام آدمی پھل بیچتا ہے تو جان بوجھ کر گندے پھل تھیلے میں ڈال دیتا ہے مگر قیمت اچھے پھل کی لیتا ہے.

یہ موٹر سائیکل چلاتا ہے تو راکٹ لانچر بن جاتا ہے. یہ چنچی رکشہ چلاتا ہے تو پیدل چلنے والوں اور ٹریفک پر اللہ کا قہر بن کر نازل ہوتا ہے.

یہ ٹریکٹر ٹرالی یا ڈمپر چلاتا ہے تو موت کا فرشتہ بن جاتا ہے.

یہ سرکاری دفتر میں کلرک بن کر بیٹھتا ہے تو سانپ کی طرح پھنکارتا ہے اور بِچّھو کی طرح ڈستا ہے.
یہ دفتر سے نماز کے لیے جاتا ہے تو یا تو واپس نہیں آتا یا بہت دیر سے آتا ہے، عام سائل انتظار کر کر کے نامراد ہو کر واپس چلے جاتے ہیں۔

یہ عام آدمی اپنا کوڑا گلی میں پھینکتا ہے.

یہ عام آدمی گھر سے باہر ہو تو اس سے عام لوگوں کی بہو بیٹیاں محفوظ نہیں.

یہ عام آدمی بجلی اور گیس کے محکمے میں ملازم لگتا ہے تو رشوت کے بغیر عام گھروں میں کنکشن نہیں دیتا.

یہ عام آدمی کسی کے گھر میں ملازم ہو تو مالک کے ساتھ مخلص نہیں ہوتا.

یہ عام آدمی نام نہاد پیروں، فقیروں اور مُلاؤں کے پیچھے خوار ہوتا ہے مگر گھر میں بیٹھے والدین کی قدر نہیں کرتا.

یہ عام آدمی ہی ہے جس نے اس ملک کے سو کالڈ سیاست دانوں کی عادتیں بگاڑی ہیں۔ یہ سیاسی لیڈران اور ان کے بچوں کی تصویریں لگا کر خوش ہوتا ہے اور بے وجہ ان کی خوشامد اور غلامی کرتا ہے. ان کے جلسوں میں دریاں بچھاتا، نعرے لگاتا اور ان کی گاڑیوں کے ساتھ ڈوگی بن کر دوڑتا ہے۔ ان کی بے جا حمایت میں اپنے دوستوں سے جھگڑتا ہے اور تعلقات توڑ دیتا ہے مگر اپنے لیڈر سے سوال نہیں کرتا.

یہ عام آدمی، عقل کی بات کہنے والے سے بد تمیزی کرتا اور اسے غدار قرار دیتا ہے جبکہ جھوٹ اور فریب کا منجن بیچنے والے کو اپنا نجات دہندہ قرار دیتا ہے.
جس دن یہ عام آدمی سدھر گیا، اس دن اقتدار کے ایوانوں تک سب ٹھیک ہو جائے گا.
کیونکہ اس ملک کا 95 فیصد عام آدمی نماز نہیں پڑھتا ۔ اپنے رب سے نہیں ڈرتا یعنی یہ اپنے اصل مالک سے ہی مخلص نہیں ۔اسی لیئے یہ عام آدمی خوار ہے کیونکہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ جیسی عوام ویسے ہی انکے حکمران
جب تک یہ قوم اللہ سے تعلق نہیں جوڑے گی اس وقت تک اس ملک و قوم کا ہر عام آدمی ذلیل و رسواء ہوتا رہے گا اور یقین جانیں پوری دنیا میں سب سے زیادہ منافق ،بد تمیز،اجڈ اور گنوار یہ عام آدمی صرف پاکستان میں پایا جاتا ہے
دعا ہے اللہ پاک تمام اجڈ عام آدمیوں کو انسان بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یارب العالمین
طالب دعا
#ساجدالرحمن
ے.

19/03/2025

روایت میں آیا ہے کہ "ذوالقرنین" (جن کا ذکر قرآن مین بھی آیا ہے)اپنی ماں کے اکلوتے بیٹے تھے، اور جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، انہوں نے زمین کے مشرق و مغرب کا سفر کیا، فتوحات حاصل کیں اور لوگوں کو دعوت دی۔

جب وہ بابل پہنچے تو انہیں سخت بیماری نے آ لیا، اور انہیں اپنی زندگی کے خاتمے کا احساس ہوا۔ اُس لمحے ان کے ذہن میں صرف یہ خیال آیا کہ ان کی موت پر ان کی ماں کو کتنا دکھ ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ماں کو ایک بڑا مینڈھا اور ایک خط بھیجا، جس میں لکھا:

"ماں، یہ دنیا فانی ہے، اور ہر ایک کے لیے ایک مدت مقرر ہے، اور ایک خاص عمر کا وقت معین ہے۔ اگر آپ کو میرے انتقال کی خبر ملے تو اس بھیڑ کو ذبح کر کے اس کا گوشت پکائیں، اور اس سے کھانا بنائیں۔ پھر لوگوں کو دعوت دیں کہ وہ آئیں، مگر وہ شخص نہ آئے جس نے کسی عزیز کو کھویا ہو۔"

جب ان کی ماں کو ان کی موت کی خبر ملی تو انہوں نے ان کی وصیت کے مطابق مینڈھے کو ذبح کیا، اس کا کھانا تیار کیا اور لوگوں کو دعوت دی، جیسا کہ ان کے بیٹے نے کہا تھا۔ لیکن انہیں حیرت ہوئی کہ کوئی بھی کھانے کے لیے نہ آیا۔

تب انہیں سمجھ آیا کہ دنیا میں کوئی بھی ایسا نہیں جس نے کسی عزیز کو نہ کھویا ہو۔

انہوں نے اپنے بیٹے کا مطلب سمجھا اور کہا:

"اللہ تم پر رحمت کرے، میرے بیٹے! تم نے اپنی موت میں بھی مجھے اتنا ہی سبق دیا جتنا تم نے اپنی زندگی میں دیا تھا۔"

مصیبتیں ہمیشہ آتی ہیں، کیونکہ یہ دنیا ملاقات کی جگہ نہیں، بلکہ جدائی کی جگہ ہے۔ یہ دنیا مستقل رہنے کی جگہ نہیں، بلکہ ایک عبوری مقام ہے۔ اور موت زندگی کی ضد نہیں، بلکہ اس کا حصہ ہے۔

ہم غمگین ہوتے ہیں کیونکہ ہم انسان ہیں، ہم جلتے ہیں کیونکہ ہم محبت کرتے ہیں، ہم ٹوٹ جاتے ہیں کیونکہ ہم انسان ہیں، اور ہم کمزور ہو جاتے ہیں کیونکہ ہم اپنے پیاروں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں اللہ کے فیصلے پر ادب کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔ غصہ اور ناراضگی تقدیر کو نہیں بدلتے، مگر صبر اور رضا ثواب میں اضافہ کرتے ہیں۔
طالب دعا
#ساجدالرحمن

13/02/2025

*🔴 « 15 شعبان » 🔴*

📌 جن روایات کی روشنی میں *15 شعبان کو دن میں لوگ روزہ رکهتے اور رات کو مخصوص عبادتیں کرتے ہیں* ان سے درج ذيل باتیں معلوم ہوتی ہیں:
*⚫ دن کو روزه رکهنا*
*⚫ اللہ تعالیٰ کا آسمان دنیا پر نزول فرمانا*
*⚫ سب کی بخشش سوائے مشرک اور بغض رکهنے والے کے*
📝 کسی حدیث سے کوئی مسئلہ ثابت کرنے سے پہلے یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ وه *حدیث صحیح ہے یا نہيں*، کیونکہ *عمارت کهڑی کرنے سے پہلے بنیاد ڈالنا ضروری ہے*
🚨 ان روايات كے *باطل ہونے كا حكم اكثر اہل علم نے لگايا ہے*، مثلًا: *ابنِ جوزى* رحمہ اللہ نے *الموضوعات* میں، *ابنِ قيم* رحمہ اللہ نے *المنار المنيف* میں، اور *ابنِ تیمیہ* رحمہ اللہ نے *مجموع الفتاوىٰ* ميں ان کا باطل ہونا نقل كيا ہے
*🔴 سمجھ نہيں آتا* کہ لوگ اس رات کی عبادت کو ثابت کرنے کیلئے *ضعیف و موضوع روایات کا سہارا* لیتے ہیں جبکہ سال کے دوسرے ایام میں یہی فضائل *صحیح احاديث سے ثابت ہیں* مگر ان کا اہتمام نہيں کرتے، جیسا کہ:
*🔵 روزہ رکهنا: سوموار اور جمعرات کا روزہ، ایامِ بیض کے صیام، اور شعبان میں کثرت سے روزہ ركھنا مستحب ہے*۔ عموما لوگ ان کا اہتمام کرنے کے بجائے *15 شعبان کا ایک روزہ رکهنے کیلئے ضعیف و موضوع روایات کا سہارا* لیتے ہیں
*🔵 اللہ تعالیٰ کا آسمانِ دنيا پر نزول فرمانا*
*💎 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، اس وقت جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں قبول کروں، جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے دوں، جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اس کی بخشش کروں*
*📚 صحيح بخارى: 6321*
📌 پهر ہم روزانہ اس وقت بیدار ہو کر *اللہ کے بلاوے پر لبیک* کیوں نہیں کہتے اور *دعاؤں کا اہتمام* کیوں نہيں کرتے!
*🔵 مشرک اور کینہ رکهنے والے کے سوا اللہ سب کو معاف کر دیتا ہے*، اللہ کا یہ انعام و اکرام بهی *ہر ہفتے* ہوتا ہے
*💎 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اس آدمی کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہو اور کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کی طرف دیکھتے رہو یہاں تک کہ وہ صلح کر لیں* (آخری جملہ تین بار فرمایا)
*📚 صحيح مسلم: 6544*
💠 ان صحیح احاديث کی روشنی میں ہمیں *روزانہ اللہ کی مغفرت پانے کیلئے کوشاں* رہنا چاہیے، نہ کہ شعبان کی پندرھوی رات کا انتظار کریں
🚨 معلوم ہوا کہ *خصوصًا 15 شعبان کے دن روزہ رکھنا اور اس کی رات کو قیام و عبادت کیلئے خاص کرنا سنت سے ثابت نہیں ہے*
*💡 والله تعالیٰ أعلم 💡*
طالب دعا
#ساجدالرحمن

11/02/2025

ویلنٹائن ڈے کی آمد آمد ہے ، باطل کا دن منانے کیلیے شہر بھر کو لال🛑 رنگ میں رنگ دیا جائے گا ، (گستاخی معاف) بےغیرتیاں اور بے حیائیاں عروج پر ہوں گی اور یہ سب کرنے میں ہماری بے حس عوام اور کروانے میں بکاؤ میڈیا پیش پیش ہو گا📽📺📻 !
مگر جن کی غیرت زندہ ہے وہ تو حسب توفیق اس کے خلاف آواز ضرور اٹھائیں گے !
صد افسوس مغرب کی اندھا دھند تقلید میں اچھے برے کی پہچان ہی کھو بیٹھے ہیں ، تباہی کا رستہ ہے یہ ، جس پر آنکھیں بند کر کے چلتے جا رہے ہیں ہم !

آج آپ بڑے جوش و خروش سے اپنی محبوبہ کے ساتھ ویلنٹائن ڈے پر رنگ رلیاں مناؤ گے مگر کیا آپ پسند کریں گے کہ آپ کی طرح آپ کی بہن بھی اپنے محبوب کے ساتھ یہ دن منائے ؟ یا کل آپ کی بیٹی اپنے محبوب کے ساتھ یہ سب کرے؟
📌ارے جب اس دن کا منانا آپ کیلئے جائز ہے تو بہن ، بیٹی کیلئے کیوں نہیں ؟؟ تب آپ کو کیوں تکلیف ہوتی ہے ؟؟ بہن، بیٹی کے نام پر آپکی سوئی ہوئی غیرت کیسے تڑپ کر جاگتی ہے نا ؟
مغرب میں تو نہ جائز تعلقات اور حرام اولاد کو برا نہیں سمجھا جاتا مگر ہم تو مسلمان ہیں نا ؟؟ کیا آپ پسند کریں گے کہ ایسا کچھ ہو ہمارے پیاروں کے ساتھ؟

اسلئے ہوش کے ناخن لیں اور مغرب کی تقلید میں اتنا آگے نہ نکل جاہیں کہ تباہیوں کے گڑھے میں جا گرہیں!!

اس ہوس پرستی کو محبت کا نام دینا ہی غلط ہے !
یہ محبت کا نہیں🚫 دراصل بے حیائی کا دن ہے.
متاثرین مسلمان اس دن بے تہاشہ پیسہ دولت💰 خرچ کریں گے۔اور خاص کر شادی شدہ جوڑے ہی کہتے ہیں کہ ہم تو منا سکتے ھیں نہ؟ ذرا سوچیں !
(کہ ناطہ تو اسی بد کردار سے جوڑا نا جس نے یہ بے ہودا حرکت کی؟)
؛( آپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ آپ تو وہ قوم ہیں جس پر اللہ🕋 کی خاص رحمت ناذل ہوی؟؟)
(اللہ کی رضا کے لیے اس دن کی روک تھام کیلے کچھ کر نہیں سکتے⁉؟)
سرمایہ دار لوگ اللہ کا پیغام سائن بوڈ پر لکھوا کر بوڈ لگواہیں کہ اللہ کے عذاب 💥کو دعوت نہ دیں یہ ذانیؤں کا دن منا کر ؟)
اگر چند لوگ اس بے حیائ کو پروموٹ کر سکتے ہیں تو ہم مل کا اس بے حیائ کو اللہ کی مدد سے روکنے کے اقدام کو کیوں نہیں پروموٹ کر سکتے؟؟۔
کر سکتے ہیں (الحمداللہ)
سچے دل سے عہد کریں جیسے بھی ممکن ہو ایسے روکیں۔خاص کر سرمیہ دار لوگ سئن بوڈ پر اللہ کا پیغام ان کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ بنوا کر لگاہیں۔اور خاص کر دکاندار وہ اشیا فروخت ہی نہ❌ کریں جو اس دن 🎀🎈🎁💌❣کے لیے لوگ خریدتے ہیں۔لوگ جب حق جانیں گے تو ضرور سمجھیں گے بھی۔خاص کر ہمارا نوجوان طبقہ ۔ان شاء اللہ
طالب دعا
#ساجدالرحمن

Address

I-10
Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Office posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Office:

Shortcuts

Share

Category