یہ ایک عبرت ناک اور دل دہلا دینے والی حقیقی روایت ہے جو امام ابنِ کثیر نے اپنی مشہور کتاب البدایہ والنہایہ میں لکھی ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ایک جماعت کے پاس سے گزرے تو فرمایا
"تم میں ایک ایسا شخص ہے جس کا ایک دانت جہنم میں احد پہاڑ سے بڑا ہوگا"
یہ سن کر سب کے دل کانپ گئے
وقت گزرتا گیا اس جماعت کے سب لوگ ایمان و سلامتی پر دنیا سے رخصت ہو گئے
صرف دو باقی رہے — حضرت ابوہریرہؓ اور بنو حنیفہ کا ایک شخص الرّجّال بن عنفوہ
یہ رجّال ان لوگوں میں سے تھا جو نبی ﷺ کے پاس آئے، اسلام سیکھا، قرآن یاد کیا، عبادت گزار اور زاہد بنا رہا
حتیٰ کہ لوگ اس کی عبادت اور خشوع کی مثالیں دیتے
مگر نبی ﷺ کی وہ بات ابوہریرہؓ کے ذہن میں رہ گئی
وہ ہر بار رجّال کو دیکھ کر ڈرتے کہ کہیں وہی نہ ہو جس کا ذکر نبی ﷺ نے فرمایا تھا
پھر وقت آیا جب مسَیلمہ کذّاب نے یمامہ میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا
خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ نے رجّال بن عنفوہ کو یمامہ بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو اسلام پر قائم رکھے
مگر جب رجّال وہاں پہنچا تو مسیلمہ نے اسے عزت، مال اور سونا پیش کیا
اسے کہا کہ "اگر تو میرے ساتھ ہو جائے تو آدھی حکومت تجھے دے دوں گا"
مال و دولت نے اس کے دل کا ایمان چھین لیا
اور وہ شخص جو نبی ﷺ کا ساتھی رہا، قرآن پڑھتا تھا، نماز و روزے کا پابند تھا
وہی جھوٹے نبی کا مددگار بن گیا
رجّال نے اعلان کیا کہ "میں نے محمد ﷺ سے سنا کہ مسیلمہ ان کے ساتھ نبی بنایا گیا ہے"
اس ایک جھوٹ نے ہزاروں کو گمراہ کر دیا
یہ فتنہ مسیلمہ کے فتنہ سے بھی بڑا بن گیا
پھر حضرت ابوبکرؓ نے خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں لشکر روانہ کیا
اسی لشکر میں وحشی بن حربؓ بھی تھے — وہی جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں حضرت حمزہؓ کو شہید کیا تھا
وحشیؓ نے توبہ کی تھی اور کہا تھا "میں اس جرم کا کفارہ جہاد سے ادا کروں گا"
جب جنگ یمامہ شروع ہوئی، تو سخت ترین لڑائی ہوئی
ابتدا میں مسلمان پسپا ہوئے مگر پھر صحابہ نے نعرہ لگایا، قرآن والے جمع ہوئے، اور اللہ نے مدد فرمائی
وحشیؓ نے موقع پا کر مسیلمہ کذاب کو قتل کر دیا
اور رجّال بن عنفوہ بھی اپنے جھوٹے نبی کے ساتھ مارا گیا — کفر پر، ذلت کے ساتھ
جب ابوہریرہؓ کو اس کی خبر ملی تو وہ سجدے میں گر گئے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ نجات ان کے حصے میں آئی
یہ قصہ ہمیں سکھاتا ہے —
*رجّال بن عنفوہ قرآن پڑھتا تھا، عبادت گزار تھا، مگر انجام بد پر ہوا*
*اور وحشی بن حربؓ نے سب سے بڑا گناہ کیا مگر توبہ کی اور انجام ایمان پر پایا*
تو اے انسان
اپنی عبادت پر فخر نہ کر
اپنی نیکیوں پر گھمنڈ نہ کر
دعا کر کہ اللہ تیرا انجام ایمان پر کرے۔
اللہم ثبتنا علی دینک و اختم لنا بخیر
اللهم صل وسلم علی سیدنا محمد ﷺ
طالب دعا
#ساجدالرحمن
Office
This is an educational office where you will find Education Notes and Video Lectures for All Classes and All Subjects. For details u can visit our website.
This is an educational office where you will find Education Notes and Video Lectures for all Classes and All Subjects. Furthermore, we will also add different tips and tricks and will create a computer section in the near future. In short this is a complete office, specially prepared for educational purpose.
سٹھیا گیا ہے بڈھا..😊😊😊
۔
ایک صاحب گھر آئے تو بیگم نے کہا، ’ارے سنتے ہیں جی، پڑوسن ہمارے گھر آئی تھی اور ڈرائنگ روم میں لگی پینٹنگ اتار کر لے گئی اور اپنے ڈرائنگ روم میں لگا لی، واپس مانگ رہی ہوں تو دے نہیں رہی‘
صاحب نے لا پروائی سے فرمایا، ’ تو کیا ہوا؟ پینٹنگ دیوار پہ لگانے کی چیز ہے، اگر تھوڑی سے جگہ بدل گئی تو کیا مسئلہ ہے؟‘
’دماغ درست ہے آپکا؟‘ بیگم چلائیں ’چوری کی ہے اس نے‘
’توبہ توبہ بیگم، اتنی سی بات پہ تم کو پڑوسن کی ’نیت پہ شک‘ نہیں کرنا چاہیے، اس نے فقط دیوار ہی تو تبدیل کی ہے، کوئی پابندی تو نہیں نا کہ اسی دیوار پہ یہ پینٹنگ لگانی ہے‘ صاحب نے سمجھاتے ہوئے کہا.
’ارے آپ کواپنے ڈرائنگ روم اور پڑوس کے ڈرائنگ میں فرق نظر نہیں آرہا؟‘ بیگم نے جھنجھلا کرپوچھا
’یہ بیکار کی بات ہے، ڈرائنگ روم تو ڈرائنگ روم ہوتا ہے، مجھے یہ سمجھائو کہ پینٹنگ کو اِدھر سے اُدھر کرنے میں کیا فرق پڑ گیا؟ پہلے بھی وہ ڈرائنگ روم میں تھی، اب بھی ہے، پہلے بھی وہ دیوار پہ لگی تھی، اب بھی لگی ہے، تو فرق تو کچھ نا ہوا نا؟‘ صاحب نے بڑے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا
’ہائے میری قسمت!‘ بیگم نے سر پہ ہاتھ مار کر کہا ’آپ کو فرق نظر نہیں آرہا، پہلے وہ ’ہمارا‘ تھا، اب ’پڑوسن‘ بھی اس میں شریک ہو گئی، بلکہ پڑوسن ہی مالک بن گئی ہے‘
’دیکھو بیگم! تم مجھے یہ باریک نکتہ سمجھائو کہ پڑوسن کے مالک بننے سے فرق کیا پڑا؟ کیا پینٹنگ ختم ہوگئی؟ یا تم اسے دیکھ نہیں سکتیں؟ پہلے پڑوسن یہاں آکے کے دیکھتی تھی، اب تم وہاں جا کے دیکھ لینا، مسئلہ تو کچھ بھی نہیں ہے‘ صاحب نے رواداری و وسعت قلبی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔
’آپ کو مسئلہ نہیں ہوگا، مجھے ہے، میری چیز کوئی ایرا غیرا نتھو خیرا اٹھا کر لے جائے اور آپ کہیں کہ فرق نہیں پڑا تو آپ اپنے دماغ کا علاج کرائیں، پینٹنگ میرے گھر میں تھی تو پڑوسن چور نہیں تھی اب وہ ’چور‘ ہے‘ بیگم پھٹ ہی پڑیں
’بیگم! یہ جو تم نے ’قیمتی قانونی نکتہ‘ اٹھایا ہے کہ ’پڑوسن چور بن گئی ہے‘ اسے تم ثابت کر سکتی ہو؟‘ صاحب نے پوچھا
’ارے ثابت کیا کرنا ہے؟‘ بیگم ہاتھ نچا کر بولیں ’کوئی میرے گھر سے کچھ اٹھا کر لے جائے اور اپنے گھر میں رکھ لے تو اسے چوری نا کہیں تو کیا کہیں؟‘
’میرے خیال میں تو یہ چوری نہیں ہے، صرف ’دیوار کی تبدیلی‘ ہے، تم اگر سمجھا دو کہ دیوار کی تبدیلی سے کیا فرق پڑا تو میں اپنی رائے بدل سکتا ہوں‘ صاحب نے فراخدلانہ پیشکش کی
بیگم جواب دینے کے بجائے، ہاتھ جھٹکتی، بلبلاتی، تلملاتی اور بڑبڑاتی ہوئیں چلی گئیں، ’سٹھیا گیا ہے بڈھا‘
ــــــــــــــــــــ
’بیگم! مجھے غسل کرنا ہے، میرے کپڑے نکال دو‘ صاحب نے بیگم سے کہا
’جائیے کھونٹی پہ کپڑے لٹکا دیے ہیں، نہا لیجیے‘ تھوڑی دیر بعد بیگم نے صاحب کو اطلاع دی
صاحب غسل خانے تشریف لے گئے
بیگم نے غسل خانے کے بند دروازے پہ کھڑے ہوکر آواز لگائی، ’سنیے! دھوبی آگیا ہے، میلے کپڑے دے دیجیے‘
صاحب نے زرا سا دروازہ کھول کر کپڑے بیگم کو پکڑا دیے۔
تھوڑی دیر بعد انہوں نے آواز لگائی، ’بیگم! بیگم! کہاں ہو تم؟ میرے پہننے کے کپڑے کہاں ہیں؟ میں نے خیال ہی نہیں کیا، یہاں کھونٹی پہ تو کوئی کپڑا نہیں لٹک رہا‘
بیگم نے غسل خانے کے قریب آ کر کہا، ’ہاں! آپ کے کپڑے میں نے بیڈ روم کی کھونٹی پہ لٹکائے تھے‘
’دماغ درست ہے تمہارا؟ غسل خانے میں نہا رہا ہوں تو کپڑے بیڈ روم کی کھونٹی پہ کیا کر رہے ہیں؟‘ صاحب چیخ پڑے
’ارے! اس میں غصہ کرنے کی کیا بات ہے؟‘ بیگم نے ہنس کر کہا ’صرف غسل خانے سے کمرا ہی تو تبدیل کیا ہے، کپڑے ُادھر بھی کھونٹی پہ لٹکائے جاتے ہیں اور اِدھر بھی‘
’بیگم!‘ صاحب دھاڑے ’تم بدلہ لے رہی ہو مجھ سے؟‘
’ارے ارے سرتاج! آپ اپنی شریکِ حیات کی نیت پہ شک کر رہے ہیں؟ بیگم نے آواز میں مصنوعی ناراضی بھر کر کہا
’بیگم! کپڑے لادو، مجھے کپڑے پہننے ہیں، ورنہ اچھا نہیں ہوگا‘ صاحب نے دھمکی دی
’کیا فرق پڑتا ہے، آپ پہلے غسل خانے کی کھونٹی سے اٹھا کر کپڑے پہنتے تھے اب بیڈ روم کی کھونٹی سے اٹھا کر پہن لیں‘ بیگم نے دھمکی ہوا میں اڑا دی.
’کیا! میں غسل خانے سے کمرے تک ’ایسی‘ حالت میں جائوں گا؟ گھر میں امی ابو چھوٹی بہن موجود ہے‘ صاحب نے غصے میں کھولتے ہوئے کہا
’تو کیا فرق پڑتا ہے؟ غسل خانے کی کھونٹی سے بھی تو آپ ’ایسی‘ ہی حالت میں کپڑے اٹھاتے نا؟‘ بیگم نے کمال کا نکتہ نکالا
صاحب نے اپنا سر غسل خانے کی دیوار سے ٹکرانے سے خود کو بڑی مشکل سے روکا
’ابے میری عزت اچھالے گی تو!‘ صاحب اپنے مزاج سے ہٹ کر چلا اٹھے
’ارے ایسے کیسے عزت اچھل جائے گی، آپ مجھے یہ ‘قیمتی نکتہ‘ تو سمجھائیں کہ صرف کھونٹی سے کپڑے اٹھانے میں عزت کیسے اچھل جائے گی؟‘ بیگم نے معصومانہ سوال کیا
’بیگم! تم کو تمہارے ’ابا‘ کا واسطہ میرے کپڑے لادو‘ صاحب آخر کار منتوں پہ اتر آئے
اور بیگم نے صاحب کے مزید ‘شور شرابے‘ سے بچنے کے لئے کپڑے دے دیے۔
ــــــــــ
صاحب تیار ہوکر پڑوس میں گئے اور پڑوسی سے لڑ جھگڑ کر اپنی پینٹنگ لے آئے، کیونکہ ہر چیز اپنی جگہ پر ہی اچھی لگتی ہے، اسے بلا وجہ ’ہلانا‘ ’شور‘ ڈال سکتا ہے اور ’شور‘ سے ’آلودگی‘ پھیلتی ہے۔ کبھی ماحول کی، کبھی دل کی، کبھی دماغ کی اور کبھی ایمان کی۔۔۔۔😊😊😊
طالب دعا
#ساجدالرحمن
*♦️"لوگ کیا کہیں گے"♦️*
*ایک رات مولانا جلال الدین رومیؒ نے اپنے استاد حضرت شمس الدین تبریزیؒ کو اپنے گھر دعوت دی۔*
مرشد شمسؒ تشریف لے آئے۔ کھانے کے سب برتن تیار ہو گئے تو شمسؒ نے رومیؒ سے فرمایا: “کیا تم مجھے پینے کے لیے شراب لا سکتے ہو؟”
رومیؒ یہ سن کر حیران رہ گئے: “کیا استاد بھی شراب پیتے ہیں؟”
شمسؒ نے کہا: “ہاں، بالکل۔” رومیؒ نے عرض کیا: “مجھے معاف کیجیے، مجھے اس کا علم نہیں تھا۔”
شمسؒ نے فرمایا: “اب جان گئے ہو، لہٰذا شراب لا دو۔”
رومیؒ بولے: “اس وقت رات گئے کہاں سے لاؤں؟”
شمسؒ نے کہا: “اپنے کسی خادم کو بھیج دو۔”
رومیؒ نے کہا: “میرے نوکروں کے سامنے میری عزت ختم ہو جائے گی۔”
شمسؒ نے کہا: “پھر خود ہی جا کر لے آؤ۔”
رومیؒ پریشان ہوئے: “پورا شہر مجھے جانتا ہے، میں کیسے جا کر شراب خریدوں؟”
شمسؒ نے فرمایا:
“اگر تم واقعی میرے شاگرد ہو تو وہی کرو جو میں کہتا ہوں۔ ورنہ آج نہ میں کھاؤں گا، نہ بات کروں گا، نہ سو سکوں گا۔”
استاد کی محبت اور اطاعت میں رومیؒ نے چادر اوڑھی، بوتل چھپائی اور عیسائیوں کے محلے کی طرف چل دیے۔ جب تک وہ راستے میں تھے، کسی کو شک نہ ہوا۔ لیکن جیسے ہی وہ عیسائی محلے میں داخل ہوئے، لوگ حیران ہوئے اور ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔
سب نے دیکھا کہ رومیؒ شراب خانے میں گئے اور بوتل خرید کر چادر کے نیچے چھپا لی۔ پھر وہ نکلے تو لوگ اور بھی زیادہ ہو گئے اور ان کے پیچھے پیچھے مسجد تک پہنچ گئے۔
مسجد کے دروازے پر ایک شخص نے شور مچا دیا: “اے لوگو! تمہارا امام، شیخ جلال الدین رومیؒ، ابھی عیسائی محلے سے شراب خرید کر آ رہا ہے!” یہ کہہ کر اس نے رومیؒ کی چادر ہٹا دی اور بوتل سب کے سامنے آ گئی۔
ہجوم نے غصے میں آکر رومیؒ کے منہ پر تھوکا، انہیں مارا، یہاں تک کہ ان کی پگڑی بھی گر گئی۔
رومیؒ خاموش رہے، انہوں نے اپنی صفائی پیش نہیں کی۔
لوگ اور بھی یقین کر بیٹھے کہ وہ دھوکہ کھا گئے ہیں۔ انہوں نے رومیؒ کو بری طرح مارا اور کچھ نے تو قتل کرنے کا بھی ارادہ کیا۔
اسی وقت شمس تبریزیؒ کی آواز بلند ہوئی:
“اے بے شرم لوگو! تم نے ایک عالم اور فقیہ پر شراب نوشی کا الزام لگا دیا۔ جان لو کہ اس بوتل میں شراب نہیں بلکہ سرکہ ہے!”
ایک شخص بولا: “میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ شراب خانے سے بوتل لائے ہیں۔”
شمسؒ نے بوتل کھولی اور کچھ قطرے لوگوں کے ہاتھ پر ڈالے تاکہ وہ سونگھ سکیں۔ سب حیران رہ گئے کہ واقعی یہ تو سرکہ ہے!
اصل بات یہ تھی کہ شمسؒ پہلے ہی شراب خانے گئے تھے اور دکاندار کو کہہ دیا تھا کہ اگر رومیؒ بوتل لینے آئیں تو انہیں شراب کے بجائے سرکہ دیا جائے۔
اب لوگ اپنے سر پیٹنے لگے اور شرمندگی کے مارے رومیؒ کے قدموں میں گر گئے۔ سب نے معافی مانگی اور ان کے ہاتھ چومے، پھر آہستہ آہستہ منتشر ہو گئے۔
رومیؒ نے شمسؒ سے عرض کیا:
“آج آپ نے مجھے کتنی بڑی آزمائش میں ڈال دیا، یہاں تک کہ میری عزت اور وقار میرے مریدوں کے سامنے خاک میں مل گئی۔ اس سب کا کیا مطلب تھا؟”
شمسؒ نے فرمایا:
*“تاکہ تم سمجھ لو کہ لوگوں کی عزت اور شہرت محض ایک فریب ہے۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ ان لوگوں کا احترام ہمیشہ قائم رہتا ہے؟ تم نے خود دیکھا، محض ایک بوتل کے شک پر وہ تمہارے دشمن بن گئے، تم پر تھوکا، مارا، اور قریب تھا کہ جان لے لیتے۔ یہی وہ عزت ہے جس پر تم نازاں تھے، جو ایک پل میں ختم ہو گئی.*
آج کے بعد لوگوں کی عزت پر نہ بھروسہ کرنا۔ اصل عزت صرف اللہ کے پاس ہے جو وقت کے ساتھ نہ بدلتی اور نہ مٹتی ہے۔
وہی بہتر جانتا ہے کہ کون واقعی باعزت ہے اور کون جھوٹی عزت کا طلبگار۔ لہٰذا آئندہ اپنی نظر صرف اللہ پر رکھو۔”
*سبق:*
*دنیا کی عزت اور لوگوں کی رائے لمحوں میں" بدل جاتی ہے۔ اصل عزت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہو...!!!*
طالب دعا
#ساجدالرحمن
عام آدمی
کوئی مانے نہ مانے، اس ملک میں سب سے بڑا جھوٹا، سب سے بڑا چور اور منافق یہاں کا عام آدمی ہے. یہ جو عام آدمی ہے، جس کی جمع عوام ہے، یہ انتہائی ھڈ حرام اور بد دیانت ہے.
یہ عام آدمی خود تو نہ سیاست میں ہے نہ اسٹیبلشمنٹ میں... یہ نہ بیورو کریٹ ہے نہ جرنیل کرنیل... مگر اس کی خصلت فرعون سے کم نہیں.. یہ اپنے جیسے دوسرے عام آدمی کا سب سے بڑا دشمن ہے.
یہ عام آدمی دکاندار ہے تو لکھ دیتا ہے "خریدا ہوا مال واپس نہیں ہو گا".. عام گاہک سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا. اونچی آسامی والا گاہک ہے تو اسے لوٹنے کی کوشش کرتا ہے.
یہ عام آدمی پھل بیچتا ہے تو جان بوجھ کر گندے پھل تھیلے میں ڈال دیتا ہے مگر قیمت اچھے پھل کی لیتا ہے.
یہ موٹر سائیکل چلاتا ہے تو راکٹ لانچر بن جاتا ہے. یہ چنچی رکشہ چلاتا ہے تو پیدل چلنے والوں اور ٹریفک پر اللہ کا قہر بن کر نازل ہوتا ہے.
یہ ٹریکٹر ٹرالی یا ڈمپر چلاتا ہے تو موت کا فرشتہ بن جاتا ہے.
یہ سرکاری دفتر میں کلرک بن کر بیٹھتا ہے تو سانپ کی طرح پھنکارتا ہے اور بِچّھو کی طرح ڈستا ہے.
یہ دفتر سے نماز کے لیے جاتا ہے تو یا تو واپس نہیں آتا یا بہت دیر سے آتا ہے، عام سائل انتظار کر کر کے نامراد ہو کر واپس چلے جاتے ہیں۔
یہ عام آدمی اپنا کوڑا گلی میں پھینکتا ہے.
یہ عام آدمی گھر سے باہر ہو تو اس سے عام لوگوں کی بہو بیٹیاں محفوظ نہیں.
یہ عام آدمی بجلی اور گیس کے محکمے میں ملازم لگتا ہے تو رشوت کے بغیر عام گھروں میں کنکشن نہیں دیتا.
یہ عام آدمی کسی کے گھر میں ملازم ہو تو مالک کے ساتھ مخلص نہیں ہوتا.
یہ عام آدمی نام نہاد پیروں، فقیروں اور مُلاؤں کے پیچھے خوار ہوتا ہے مگر گھر میں بیٹھے والدین کی قدر نہیں کرتا.
یہ عام آدمی ہی ہے جس نے اس ملک کے سو کالڈ سیاست دانوں کی عادتیں بگاڑی ہیں۔ یہ سیاسی لیڈران اور ان کے بچوں کی تصویریں لگا کر خوش ہوتا ہے اور بے وجہ ان کی خوشامد اور غلامی کرتا ہے. ان کے جلسوں میں دریاں بچھاتا، نعرے لگاتا اور ان کی گاڑیوں کے ساتھ ڈوگی بن کر دوڑتا ہے۔ ان کی بے جا حمایت میں اپنے دوستوں سے جھگڑتا ہے اور تعلقات توڑ دیتا ہے مگر اپنے لیڈر سے سوال نہیں کرتا.
یہ عام آدمی، عقل کی بات کہنے والے سے بد تمیزی کرتا اور اسے غدار قرار دیتا ہے جبکہ جھوٹ اور فریب کا منجن بیچنے والے کو اپنا نجات دہندہ قرار دیتا ہے.
جس دن یہ عام آدمی سدھر گیا، اس دن اقتدار کے ایوانوں تک سب ٹھیک ہو جائے گا.
کیونکہ اس ملک کا 95 فیصد عام آدمی نماز نہیں پڑھتا ۔ اپنے رب سے نہیں ڈرتا یعنی یہ اپنے اصل مالک سے ہی مخلص نہیں ۔اسی لیئے یہ عام آدمی خوار ہے کیونکہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ جیسی عوام ویسے ہی انکے حکمران
جب تک یہ قوم اللہ سے تعلق نہیں جوڑے گی اس وقت تک اس ملک و قوم کا ہر عام آدمی ذلیل و رسواء ہوتا رہے گا اور یقین جانیں پوری دنیا میں سب سے زیادہ منافق ،بد تمیز،اجڈ اور گنوار یہ عام آدمی صرف پاکستان میں پایا جاتا ہے
دعا ہے اللہ پاک تمام اجڈ عام آدمیوں کو انسان بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یارب العالمین
طالب دعا
#ساجدالرحمن
ے.
روایت میں آیا ہے کہ "ذوالقرنین" (جن کا ذکر قرآن مین بھی آیا ہے)اپنی ماں کے اکلوتے بیٹے تھے، اور جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، انہوں نے زمین کے مشرق و مغرب کا سفر کیا، فتوحات حاصل کیں اور لوگوں کو دعوت دی۔
جب وہ بابل پہنچے تو انہیں سخت بیماری نے آ لیا، اور انہیں اپنی زندگی کے خاتمے کا احساس ہوا۔ اُس لمحے ان کے ذہن میں صرف یہ خیال آیا کہ ان کی موت پر ان کی ماں کو کتنا دکھ ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ماں کو ایک بڑا مینڈھا اور ایک خط بھیجا، جس میں لکھا:
"ماں، یہ دنیا فانی ہے، اور ہر ایک کے لیے ایک مدت مقرر ہے، اور ایک خاص عمر کا وقت معین ہے۔ اگر آپ کو میرے انتقال کی خبر ملے تو اس بھیڑ کو ذبح کر کے اس کا گوشت پکائیں، اور اس سے کھانا بنائیں۔ پھر لوگوں کو دعوت دیں کہ وہ آئیں، مگر وہ شخص نہ آئے جس نے کسی عزیز کو کھویا ہو۔"
جب ان کی ماں کو ان کی موت کی خبر ملی تو انہوں نے ان کی وصیت کے مطابق مینڈھے کو ذبح کیا، اس کا کھانا تیار کیا اور لوگوں کو دعوت دی، جیسا کہ ان کے بیٹے نے کہا تھا۔ لیکن انہیں حیرت ہوئی کہ کوئی بھی کھانے کے لیے نہ آیا۔
تب انہیں سمجھ آیا کہ دنیا میں کوئی بھی ایسا نہیں جس نے کسی عزیز کو نہ کھویا ہو۔
انہوں نے اپنے بیٹے کا مطلب سمجھا اور کہا:
"اللہ تم پر رحمت کرے، میرے بیٹے! تم نے اپنی موت میں بھی مجھے اتنا ہی سبق دیا جتنا تم نے اپنی زندگی میں دیا تھا۔"
مصیبتیں ہمیشہ آتی ہیں، کیونکہ یہ دنیا ملاقات کی جگہ نہیں، بلکہ جدائی کی جگہ ہے۔ یہ دنیا مستقل رہنے کی جگہ نہیں، بلکہ ایک عبوری مقام ہے۔ اور موت زندگی کی ضد نہیں، بلکہ اس کا حصہ ہے۔
ہم غمگین ہوتے ہیں کیونکہ ہم انسان ہیں، ہم جلتے ہیں کیونکہ ہم محبت کرتے ہیں، ہم ٹوٹ جاتے ہیں کیونکہ ہم انسان ہیں، اور ہم کمزور ہو جاتے ہیں کیونکہ ہم اپنے پیاروں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں اللہ کے فیصلے پر ادب کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔ غصہ اور ناراضگی تقدیر کو نہیں بدلتے، مگر صبر اور رضا ثواب میں اضافہ کرتے ہیں۔
طالب دعا
#ساجدالرحمن
*🔴 « 15 شعبان » 🔴*
📌 جن روایات کی روشنی میں *15 شعبان کو دن میں لوگ روزہ رکهتے اور رات کو مخصوص عبادتیں کرتے ہیں* ان سے درج ذيل باتیں معلوم ہوتی ہیں:
*⚫ دن کو روزه رکهنا*
*⚫ اللہ تعالیٰ کا آسمان دنیا پر نزول فرمانا*
*⚫ سب کی بخشش سوائے مشرک اور بغض رکهنے والے کے*
📝 کسی حدیث سے کوئی مسئلہ ثابت کرنے سے پہلے یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ وه *حدیث صحیح ہے یا نہيں*، کیونکہ *عمارت کهڑی کرنے سے پہلے بنیاد ڈالنا ضروری ہے*
🚨 ان روايات كے *باطل ہونے كا حكم اكثر اہل علم نے لگايا ہے*، مثلًا: *ابنِ جوزى* رحمہ اللہ نے *الموضوعات* میں، *ابنِ قيم* رحمہ اللہ نے *المنار المنيف* میں، اور *ابنِ تیمیہ* رحمہ اللہ نے *مجموع الفتاوىٰ* ميں ان کا باطل ہونا نقل كيا ہے
*🔴 سمجھ نہيں آتا* کہ لوگ اس رات کی عبادت کو ثابت کرنے کیلئے *ضعیف و موضوع روایات کا سہارا* لیتے ہیں جبکہ سال کے دوسرے ایام میں یہی فضائل *صحیح احاديث سے ثابت ہیں* مگر ان کا اہتمام نہيں کرتے، جیسا کہ:
*🔵 روزہ رکهنا: سوموار اور جمعرات کا روزہ، ایامِ بیض کے صیام، اور شعبان میں کثرت سے روزہ ركھنا مستحب ہے*۔ عموما لوگ ان کا اہتمام کرنے کے بجائے *15 شعبان کا ایک روزہ رکهنے کیلئے ضعیف و موضوع روایات کا سہارا* لیتے ہیں
*🔵 اللہ تعالیٰ کا آسمانِ دنيا پر نزول فرمانا*
*💎 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، اس وقت جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں قبول کروں، جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے دوں، جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اس کی بخشش کروں*
*📚 صحيح بخارى: 6321*
📌 پهر ہم روزانہ اس وقت بیدار ہو کر *اللہ کے بلاوے پر لبیک* کیوں نہیں کہتے اور *دعاؤں کا اہتمام* کیوں نہيں کرتے!
*🔵 مشرک اور کینہ رکهنے والے کے سوا اللہ سب کو معاف کر دیتا ہے*، اللہ کا یہ انعام و اکرام بهی *ہر ہفتے* ہوتا ہے
*💎 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اس آدمی کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہو اور کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کی طرف دیکھتے رہو یہاں تک کہ وہ صلح کر لیں* (آخری جملہ تین بار فرمایا)
*📚 صحيح مسلم: 6544*
💠 ان صحیح احاديث کی روشنی میں ہمیں *روزانہ اللہ کی مغفرت پانے کیلئے کوشاں* رہنا چاہیے، نہ کہ شعبان کی پندرھوی رات کا انتظار کریں
🚨 معلوم ہوا کہ *خصوصًا 15 شعبان کے دن روزہ رکھنا اور اس کی رات کو قیام و عبادت کیلئے خاص کرنا سنت سے ثابت نہیں ہے*
*💡 والله تعالیٰ أعلم 💡*
طالب دعا
#ساجدالرحمن
ویلنٹائن ڈے کی آمد آمد ہے ، باطل کا دن منانے کیلیے شہر بھر کو لال🛑 رنگ میں رنگ دیا جائے گا ، (گستاخی معاف) بےغیرتیاں اور بے حیائیاں عروج پر ہوں گی اور یہ سب کرنے میں ہماری بے حس عوام اور کروانے میں بکاؤ میڈیا پیش پیش ہو گا📽📺📻 !
مگر جن کی غیرت زندہ ہے وہ تو حسب توفیق اس کے خلاف آواز ضرور اٹھائیں گے !
صد افسوس مغرب کی اندھا دھند تقلید میں اچھے برے کی پہچان ہی کھو بیٹھے ہیں ، تباہی کا رستہ ہے یہ ، جس پر آنکھیں بند کر کے چلتے جا رہے ہیں ہم !
آج آپ بڑے جوش و خروش سے اپنی محبوبہ کے ساتھ ویلنٹائن ڈے پر رنگ رلیاں مناؤ گے مگر کیا آپ پسند کریں گے کہ آپ کی طرح آپ کی بہن بھی اپنے محبوب کے ساتھ یہ دن منائے ؟ یا کل آپ کی بیٹی اپنے محبوب کے ساتھ یہ سب کرے؟
📌ارے جب اس دن کا منانا آپ کیلئے جائز ہے تو بہن ، بیٹی کیلئے کیوں نہیں ؟؟ تب آپ کو کیوں تکلیف ہوتی ہے ؟؟ بہن، بیٹی کے نام پر آپکی سوئی ہوئی غیرت کیسے تڑپ کر جاگتی ہے نا ؟
مغرب میں تو نہ جائز تعلقات اور حرام اولاد کو برا نہیں سمجھا جاتا مگر ہم تو مسلمان ہیں نا ؟؟ کیا آپ پسند کریں گے کہ ایسا کچھ ہو ہمارے پیاروں کے ساتھ؟
اسلئے ہوش کے ناخن لیں اور مغرب کی تقلید میں اتنا آگے نہ نکل جاہیں کہ تباہیوں کے گڑھے میں جا گرہیں!!
اس ہوس پرستی کو محبت کا نام دینا ہی غلط ہے !
یہ محبت کا نہیں🚫 دراصل بے حیائی کا دن ہے.
متاثرین مسلمان اس دن بے تہاشہ پیسہ دولت💰 خرچ کریں گے۔اور خاص کر شادی شدہ جوڑے ہی کہتے ہیں کہ ہم تو منا سکتے ھیں نہ؟ ذرا سوچیں !
(کہ ناطہ تو اسی بد کردار سے جوڑا نا جس نے یہ بے ہودا حرکت کی؟)
؛( آپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ آپ تو وہ قوم ہیں جس پر اللہ🕋 کی خاص رحمت ناذل ہوی؟؟)
(اللہ کی رضا کے لیے اس دن کی روک تھام کیلے کچھ کر نہیں سکتے⁉؟)
سرمایہ دار لوگ اللہ کا پیغام سائن بوڈ پر لکھوا کر بوڈ لگواہیں کہ اللہ کے عذاب 💥کو دعوت نہ دیں یہ ذانیؤں کا دن منا کر ؟)
اگر چند لوگ اس بے حیائ کو پروموٹ کر سکتے ہیں تو ہم مل کا اس بے حیائ کو اللہ کی مدد سے روکنے کے اقدام کو کیوں نہیں پروموٹ کر سکتے؟؟۔
کر سکتے ہیں (الحمداللہ)
سچے دل سے عہد کریں جیسے بھی ممکن ہو ایسے روکیں۔خاص کر سرمیہ دار لوگ سئن بوڈ پر اللہ کا پیغام ان کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ بنوا کر لگاہیں۔اور خاص کر دکاندار وہ اشیا فروخت ہی نہ❌ کریں جو اس دن 🎀🎈🎁💌❣کے لیے لوگ خریدتے ہیں۔لوگ جب حق جانیں گے تو ضرور سمجھیں گے بھی۔خاص کر ہمارا نوجوان طبقہ ۔ان شاء اللہ
طالب دعا
#ساجدالرحمن
*مسکرانے کے بہانے!*
ایک بات تو طے ہے کہ “تندور“ سے روٹی لاتے وقت تھوڑا سا توڑ توڑ کہ کھانے میں جو مزا ہے وہ کسی”پیزا“ اور “زنگر“ میں نہیں 😄
“شوہر” چاہے کتنا ہی “اعلی تعلیم یافتہ” ڈگری ہولڈر یا کس اعلی عہدے پر فائز کیوں نہ ہو جب “بیوی” نے کہہ دیا آپ نہیں سمجھ سکتے تو آپ نہیں سمجھ سکتے بس بات ختم....😁
دوسروں کی پلیٹ میں رکھا “سموسہ“ اور “سیلفی“ میں اپنا “چہرہ“ ہمیشہ بڑا نظر آتا ہے😉
سرديوں کا سب سے بڑا مسلہ “چھاٶں“ ميں بيٹھو تو “ٹھنڈ“ لگتی ہے ۔
اور “دھوپ“ ميں بيٹھو تو “موبائل“ کی “اسکرين“ ہی نظر نہيں آتی😀
ہم “پاکستانی” جتنی مرضی ترقی کر لیں لیکن اُڑتے ہوئے “جہاز” کو دیکھنے کی “عادت” نہیں جائے گی :-😃
بندہ کتھے جائے۔:-
انگریز لوگ کہتے ہیں :- “ Think Before U Speak “
لاہوری کہتے ہیں :- “سوچی پیا تے بندہ گیا”۔😁
“پاکستانی” دُنیا کی انوکھی مخلوق ہے جو “امریکہ” میں “اسلامی اسکول” اور “پاکستان” میں “امریکی اسکول” ڈھونڈھتے ہیں :-😁
سردیوں میں اُس وقت بڑی “خوشی“ ہوتی ہے جب آدھی رات کو “آنکھ“ کُھلے اور پتہ چلے کہ ابھی تو اور بھی “سونا“ ہے :-
😁
“اُردو” اور “انگلش” کا قتلِ عام کرنے کے ذمہ دار دراصل وہ “والدین” ہیں جو اپنے بچوں کو کہتے ہیں چلو بیٹا یہ جلدی سے “Eat“ کر کے “Finish“ کرو۔
😄
ہمارے ہاں دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں:-
1- واک پر جانے والے
2- کل سے واک پر جانے والے
😄
اتنے فخر سے " آر مسٹرانگ " بھی “ چاند “ پر نہیں چلا ہوگا جتنے فخر اور احتیاط سے پاکستانی مرد “ کاٹن“ کا “ سوٹ“ پہن کر “زمین“ پر چلتے ہیں:-😃
لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے
یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے۔۔
تشریح :- شاعر نے دراصل کسی لاہوری سے راستہ پوچھنے کی غلطی کر لی تھی۔😁
پہلے میرا “کام” کرنے کو دل نہیں کرتا تھا پھر میں نے “محنتی” لوگوں کے ساتھ بیٹھنا شروع کر دیا :-
اب اُن کا بھی کام کرنے کو دل نہیں کرتا:-😁
“پاکستانی“ لوگوں کی “اکثریت“ کے “بیمار“ ہونے کی “قومی“ وجہ :-
“ موسم تبدیل ہو رہا ہے “ 😁
دودھ اُبل کر گرنے کی آخری سٹیج پر ہو اور اپ بروقت دیکھ کر “چولہا“ بند کر دیں تو خود میں فلموں کے اُس ہیرو والی “ فیلنگ “ آتی محسوس ہوتی ہے جو کسی
“ٹائم بم“ کو پھٹنے سے دو سیکنڈ قبل ناکارہ بنا دیتا ہے۔۔😀( منقول)
طالب دعا
#ساجدالرحمن
😾ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺭ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﮯ ﺍﺋﯿﺮ ﭘﻮﺭﭦ ﭘﮧ ﺍﯾﺴﮯ ﺗﻼﺷﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﭼﻮﺭ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺍﻣﺮﯾﮑﻦ ﻣﻌﺰﺯ ﮨﻮﮞ۔ﺑﮩﺖ ﻋﺮﺻﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﺎﺟﺮ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺁﺗﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﭨﻮﭘﯽ,ﭨﺎﺋﯽ ,ﺟﻮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺮﺍﺑﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺗﻼﺷﯽ ﻟﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﻟﻤﺒﯽ ﻗﻄﺎﺭ ﻟﮕﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻼﺷﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻨﻈﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺟﺐﺍﺳﮑﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﯿﮕﺮﯾﺸﻦ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺗﮯ ﺍﺗﺎﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺁﺭﮈﺭ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ﺍﻣﯿﮕﺮﯾﺸﻦ ﺍﻓﺴﺮ ﻧﮯﺍﺳﮑﺎ ﭘﺎﺳﭙﻮﺭﭦ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﮧ ﮈﯼ ﭘﻮﺭﭦ ﮐﯽ ﻣﮩﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ ۔ﻭﮦ ﺍﮔﻠﯽ ﻓﻼﺋﯿﭧ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﺮﺍﺯﯾﻞ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﺮﯾﺲ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﺑﻼﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺳﻨﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﭘﺮﯾﺲ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﻧﮯ ﻃﻮﻓﺎﻥ ﺑﺮﭘﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﮯ ﺳﻔﯿﺮ ﮐﻮ ﺑﻼ ﮐﮯ ﺳﺐ کچھ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ۔ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮐﯽ ﮐﺎﺭﻭﺍﺋﯽ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ۔ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺑﺮﺍﺯﯾﻞ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻠﯽ ﺗﻼﺷﯽ ﻟﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﭘﺮ ﻋﻤﻠﺪﺭﺍﻣﺪ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﺪﯾﺪ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﮐﯿﺎ,ﺑﺮﺍﺯﯾﻞ ﻧﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺟﻮﺍﺏﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮐﯽ ﮐﺎﺭﻭﺍﺋﯽ ﮨﮯ۔ 2002 ﺳﮯ 2006 ﺗﮏ ﺑﺮﺍﺯﯾﻞ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻭﺍﺣﺪ ﻣﻠﮏ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﺋﯿﺮ ﭘﻮﺭﭨﺲ ﭘﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺷﮩﺮﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻼﺷﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﻠﮏ ﺗﮭﺎ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ۔ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﻧﮯ ﺑﻼﺁﺧﺮ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺍ۔
ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻏﯿﺮﺕ .....
اس کو کہتے ہیں عظمت ۔۔۔۔۔
اس کو کہتے ہیں زندہ قوم ۔۔۔۔
اور ایسی باتیں ، ایسے واقعات قوموں کے ضمیر کو جھنجوڑنے کے کام آتے ہیں ۔۔۔
طالب دعا
#ساجدالرحمن
تین ڈاکٹر اور قدرت کا انتقام’’انسان دنیا کے گناہوں‘ دنیا کے جرائم اور دنیا کی غلطیوں کی سزا دنیا ہی میں بھگت کر جاتا ہے اور میں اس کی زندہ مثال ہوں‘‘ پروفیسر صاحب کی آنکھوں میں آنسو تھے‘ انہوں نے اپنے سفیدسرپر مفلرلپیٹااور ٹشو سے گالوں کی جھریوں میں سرکتے آنسو پونچھنے لگے۔ آپ کو دنیا میں ایسے بے شمار بزرگ نظر آتے ہیں جن کے چہروں پر انتظار لکھا ہوتا ہے‘ یہ لوگ اپنے کمروں‘ گھروں کی بالکونیوں‘ دہلیزوں‘ گلیوں اور فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر دائیں بائیں اور اوپر نیچے دیکھتے رہتے ہیں۔میں اکثر سوچا کرتا تھا یہ بزرگ دائیں بائیں‘ اوپر نیچے کیا تلاش کرتے ہیں‘ یہ خلا میں کیا کھوجتے رہتے ہیں‘مجھے اس سوال کا جواب اسیریٹائر پروفیسر نے دیا‘ ان کا کہنا تھا ’’ہم جیسے لوگ موت کے فرشتے کا انتظار کرتے رہتے ہیں لیکن یوں محسوس ہوتا ہے ہمارے حصے کی موت بھی ہم سے روٹھ گئی ہے اور ابھی ہماری سزا ختم نہیں ہوئی‘‘ ان کا کہنا تھا ’’جب آپ کے سارے کام ختم ہو جاتے ہیں‘ جب زندگی کو آپ کی ضرورت نہیں رہتی اور جب آپ دنیا میں فالتو سے بن کر رہ جاتے ہیں تو پھر آپ گلی میں بیٹھ کر موت کا انتظار کرتے ہیں لیکن فرشتے آپ کے قریب سے گزر جاتے ہیں‘ اس وقت آپ کو معلوم ہوتا ہے آپ کی سزا ابھی باقی ہے‘ ابھی کچھ گناہ‘ کچھ جرم اور کچھ ایسی غلطیاں باقی ہیں جن کی سزا آپ نے ابھی تک نہیں بھگتی‘‘ انہوں نے اپنے یخ ٹھنڈےہاتھوں سے کان رگڑے اور دکھی لہجے میں بولے ’’میں نے بھی زندگی میں ایک ایسی ہی غلطی کی تھی‘ میں اس غلطی کی 75فیصد سزا بھگت چکا ہوں اور25فیصد باقی ہے ۔ مجھے یقین ہے جب تک میں 25فیصد سزا نہیں بھگتوں گا دنیا سے رخصت نہیں ہوں گا چنانچہ میں روزانہ صبح گھر سے نکلتا ہوں‘ صدر جاتا ہوں ‘وہاں ایک پرانی کوٹھی کے سامنے بیٹھ جاتا ہوں اور شام کو اٹھ کر گھر واپس آ جاتا ہوں‘‘ وہ دم لینے کیلئے رکے‘ میں نے وقفے کو غنیمت سمجھتے ہوئے پوچھ لیا ’’کیوں؟‘‘ انہوںنے غور سے میری طرف دیکھا اور بولے ’’میں روز وہاں چیخیں سننے کیلئے جاتاہوں‘ مجھے یقین ہے جب تک اس گھر سے چیخیں نہیں اٹھیں گی میں فوت نہیں ہوں گا‘ میری سزا ختم نہیں ہوگی‘‘میں نے ان سے عرض کیا ’’جناب مجھے آپ کی بات ابھی تک سمجھ نہیں آئی‘‘ ۔ وہ مسکرائے اور مسکرا کربولے ’’میں پنجاب کے ایک تعلیمی بورڈ کا چیئرمین تھا‘ ایک بار ایف ایس سی کے پرچے ہوئے‘ امتحانات سے چند دن بعد مجھے پنجاب کی ایک اعلیٰ شخصیت نے بلایا‘ میں ان کے دفترگیا تو وہاں ملک کے ایک نامور قانون دان بھی بیٹھے تھے‘ میں جونہی صوفے پر بیٹھاتو اعلیٰ سیاسی شخصیت نے دفتر کو اندر سے کنڈی لگائی‘ ٹیلی فون آف کر دئیے اور میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئے‘ میں اس سلوک پر حیران رہ گیا‘ انہوں نے قانون دان کو بھی قریب بلا لیااور اس کے بعد گویا ہوئے ’’ہم دونوں کے بچوں نے ایف ایس سی کے پرچے دئیے ہیں‘‘ ساتھ ہی انہوں نے جیب سے ایک پرچی نکالی‘ یہ پرچی میز پر رکھی اور دوبارہ بولے ’’یہ ان دونوں کے رول نمبر ہیں‘ ہم چاہتے ہیں ان بچوں کے نمبر اتنے آ جائیں کہ یہ دونوں میڈیکل کالج میں داخل ہو سکیں اور ہمارا یہ کام آپ نے کرانا ہے‘‘ اعلیٰ سیاسی شخصیت خاموش ہو گئی‘ میں نے ڈرتے ڈرتے عرضکیا ’’جناب میڈیکل کالجوں میں وزیراعلیٰ کا کوٹہ ہوتا ہے‘ اگر نمبر کم بھی ہوں تو بھی آپ اس کوٹے کے ذریعے بچوں کو میڈیکل کالج میں داخل کرا سکتے ہیں‘‘ وہ مسکرا کر بولے ’’ ہم کر سکتے ہیں لیکن اس سے سیاسی بدنامی کا خدشہ ہے چنانچہ میں چاہتا ہوں ہمارے بچے میرٹ پر کالج میں داخل ہوں‘‘۔ میں نے اس وقت سوچا ‘میں انہیں صاف صاف انکار کر دوں لیکن سرکاری ملازم بہت کمزور مخلوق ہوتی ہے چنانچہ میں کمزوری کے باعث انکار نہکر سکا‘ میں نے چٹ اٹھائی اور واپس آ گیا۔ میں دو تین دن تک سوچتا رہا لیکن نوکری کے ہاتھوں مجبور ہو گیا‘ میں نے دونوں بچوں کے پرچے اپنی مرضی کے ایگزامینر کو بھجوا دئیے اورایگزامینر نے انہیں دل کھول کر نمبر دے دئیے۔ جب یہ کام ہو گیا تو میں نے سوچا میرے اپنے بیٹے نے بھی ایف ایس سی کے پرچے دے رکھے ہیں چنانچہ وہ کیوں پیچھے رہے‘ میں نے اپنے بیٹے کو بھی اچھے نمبر دلا دئیے‘ نتیجہ آیااور ہم تینوں کے بیٹے میڈیکل کالج پہنچ گئے‘ میری اس خدمت کے بدلے اعلیٰ سرکاری شخصیت نے مجھے لاہور میں ایک پلاٹ الاٹ کر دیا‘ دو سال بعد میرا تبادلہ ہو گیا‘ سیاسی حالات تبدیل ہو ئے اور ہم تینوں کے رابطے ختم ہو گئے‘ میرا بیٹا نالائق تھا‘ اس نے گرپڑ کر ایم بی بی ایس کر لیا‘ میں نے سفارش کے ذریعے اسے سرکارینوکری لے کر دے دی‘ وہ لاہور کے ایک ہسپتال میں ایمرجنسی وارڈ میں کام کرتا تھا‘ ایک دن اس کے پاس ایکسیڈنٹ کا کیس آیا‘ ایکسیڈنٹ میں ایک درمیانی عمر کا شخص بری طرح مضروب تھا‘ میرے بیٹے کو اس قسم کے کیس ہینڈل کرنے کا تجربہ نہیں تھالہٰذا زخمی دم توڑ گیا‘دوسرے دن جب اخبارات میں خبریں شائع ہوئیں تو میں حیران رہ گیا‘ یہ وہی ماہر قانون تھا جس نے دس برس قبل مجھ سے اپنے بیٹے کے نمبروں میں اضافہ کرایا تھا‘ میں قدرت کے انتقام پر حیران رہ گیا‘ وہ شخص جس نے اپنے نالائقبیٹے کو ڈاکٹر بنوایا تھا وہ میرے نالائق ڈاکٹر بیٹے کے ہاتھوں مارا گیا۔ بزرگ خاموش ہو گئے‘ میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں‘ وہ رکے‘ انہوں نے لمبا سانس کھینچا اور دوبارہ بولے ’’میری کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی‘ میرے دوبیٹے اور ایک بیٹی تھی‘ میرا بڑا بیٹا ڈاکٹر بن گیا‘ چھوٹے بیٹے نے ایم بی اے کیااورایک ملٹی نیشنل کمپنی میں منیجر بن گیا‘ میں نے بیٹی کی شادی کر دی‘ داماد نالائق نکلا‘ اس نے میری بیٹی کو تنگ کرنا شروع کردیا‘ وہ کاروبار کرنا چاہتا تھا‘ میں نے بیٹی کی تکلیف دیکھتے ہوئے وہ پلاٹ بیچ دیا اور یہ رقم میں نے اپنے داماد کو دے دی‘ دامداد نے رقم کاروبار میں لگائی‘ نقصان ہوا اور سارا سرمایہ ڈوب گیا۔ میرے دوسرے بیٹے کو ایک دن سینے میں درد ہوا‘ ڈاکٹروں کے پاس لے کر گئے تو پتہ چلا اس کے دل کی ایک رگ بند ہو چکی ہے‘ میرا بیٹااسے لاہور کے ایک مشہور کارڈیالوجسٹ کے پاس لے گیا‘ یہ کارڈیالوجسٹ امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے آیا تھا‘ اس نے میرے بیٹے کا معائنہ کیا اور بائی پاس کا مشورہ دیا‘ میرے ڈاکٹر بیٹے کا مشورہ بھی یہی تھا‘ ہم نے آپریشن کی اجازت دے دی‘ امریکہ سے آنے والے ڈاکٹر نے آپریشن کیا لیکن میرا بیٹا آپریشن ٹیبل پر ہی فوت گیا‘ میں جب اپنے بیٹے کی نعش لے کر باہر آ رہا تھا تو میں نے ڈاکٹر سے اس کے والد کا نام پوچھا‘ ڈاکٹر نے جب والد کا نام بتایا تو میں حیران رہ گیا‘ وہ ڈاکٹر اس ماہر قانون کا بیٹا تھا جس کے کہنے پر میں نے اس کے نمبر بڑھائے تھے‘ میں نے اپنے بیٹے کو دفن کر دیا اور وہ دن ہے اور آج کا دن ہے میں روزانہ اس سیاستدان کے گھر جاتا ہوں‘ اس کے گھر کے سامنے چائے خانہ ہے‘ میں وہاں بیٹھ جاتا ہوں اور اندر سے چیخوں کی آوازوں کا انتظار کرتا ہوں‘ مجھے یقین ہے کسی نہ کسی دن اندر سے چیخنے کی آوازیں آئیں گی‘ لوگ وہاں اکٹھے ہوں گے‘ میت کو غسل دیں گے اور جب اس سیاستدان کی نعش باہر نکالی جائے گی تو میں آگے بڑھوں گا‘ میں اس کے جنازے کو کندھا دوں گا اور اس کے بعد میری سزا مکمل ہو جائےگی‘‘ ۔ وہ خاموش ہو گئے‘میری ریڑھ کی ہڈی میں سردی کی ایک لہر سی دوڑ گئی‘ میں اکیسویں صدی کے سائنسی دور میں اس بوڑھے کی بات پر یقین کرنے کیلئے تیار نہیں تھا لیکن اسکے چہرے کی جھریاں جھوٹ نہیں بول رہی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں صرف ایک ہی چمک تھی اور یہ سچ کی چمک تھی۔ میں نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا لیکن میرے بولنے سے پہلے وہ بول پڑا’’ اور مجھے یقین ہے اس سیاستدان کی موت بھی کسی ڈاکٹر کے ہاتھوں ہو گی‘ قدرت ہمارے گناہ‘ ہمارے جرم کی سزا ہمیں اس دنیا میں دے گی‘ ایک مجرم مر گیا‘ دوسرا مر جائے گا اور میں ان دونوں کے مقابلے میں زیادہ عبرت ناک موت مروں گا لیکن ان تین ڈاکٹروں کا کیا بنے گا‘‘ وہ رکا‘ اس نے لمبا سانس لیا اور بولا’’میرا بیٹا بھی ٹھیک ٹھاک صحت مند ہے‘ اسے حکومت میں چند اچھے دوست مل گئے ہیں اور وہ لاہور کے ایک بڑے ہسپتال کا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بن گیا ہے‘ قانون دان کا بیٹا ملک کا مشہور کارڈیالوجسٹ بن چکا ہے جبکہ سیاستدان کا بیٹا چوٹی کا سرجن بن چکا ہے‘یہ صرف میں جانتا ہوں کہ یہ تینوں نالائق ہیں اور ان کی مشہوری کی وجہ میڈیا اور سیاسی روابط ہیں چنانچہ میں اکثر سوچتا ہوں ہم تینوں مجرم عبرت ناک انجام کا شکارہو کر مر جائیں گے لیکن قدرت نے ان تین ڈاکٹرز کو کس سے انتقام لینے کیلئے بچا رکھا ہے‘ ہم لوگ کس کس سے اپنی نالائقی کا بدلہ لیں گے‘‘ بزرگ خاموش ہو گئے۔
طالب دعا
#ساجدالرحمن
*👈 ".. بےوقوف کی صُحبت __!!"*
حضرت عیسیٰ علیہ السلام تیز تیز قدم اُٹھاتے ہوئے ایک پہاڑ کی طرف جا رہے تھے۔ ایک آدمی نے بُلند آواز سے پُکار کر کہا "اے خُدا کے رسول علیہ السلام.! آپ اِس وقت کہاں تشریف لے جا رہے ہیں, آپ کے پیچھے کوئی دشمن بھی نظر نہیں آ رہا پھر آخر آپ کی وجہِ خوف کیا ہے۔؟ ۔"
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا "میں ایک احمق آدمی سے بھاگ رہا ہوں, تُو میرے بھاگنے میں خلل مت ڈال۔"
اُس آدمی نے کہا "یاحضرت آپ کیا وہ مسیح علیہ السلام نہیں ہیں جن کی برکت سے اندھا اور بہرا شفایاب ہو جاتا ہے۔؟" آپ نے فرمایا "ہاں"
اُس آدمی نے کہا "کیا آپ وہ بادشاہ نہیں ہیں جو مُردے پر کلامِ الہٰی پڑھتے ہیں اور وہ اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔؟" آپ نے فرمایا "ہاں"
اُس آدمی نے کہا "کیا آپ وہ ہی نہیں ہیں کہ مٹی کے پرندے بنا کر اُن پے دَم کر دیں تو وہ اُسی وقت ہَوا میں اُڑنے لگتے ہیں۔؟" آپ علیہ السلام نے فرمایا "بیشک میں وہی ہوں۔" تو اُس شخص نے حیرانگی سے پوچھا کہ "اللّٰہ نے آپ کو اِس قدر قوت عطا کر رکھی ہے تو پھر آپ کو کس کا خوف ہے۔؟"
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا "اُس رب العزت کی قسم کہ جس کے اسمِ اعظم کو میں نے اندھوں اور بہروں پر پڑھا تو وہ شفایاب ہو گئے, پہاڑوں پر پڑھا تو وہ ہٹ گئے, مُردوں پر پڑھا تو وہ جی اُٹھے لیکن وہی اسمِ اعظم میں نے احمق پر لاکھوں بار پڑھا لیکن اُس پر کچھ اثر نہ ہُوا۔"
اُس شخص نے پوچھا "یاحضرت, یہ کیا ہے کہ اسمِ اعظم اندھوں, بہروں اور مُردوں پر تو اثر کرے لیکن احمق پر کوئی اثر نہیں کرتا حالانکہ حماقت بھی ایک مرض ہے۔؟" تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا "حماقت کی بیماری خُدائی قہر ہے۔"
درسِ حیات: "بیوقوف کی صحبت سے تنہائی بہتر ہے۔"
. حکایت نمبر 6, کتاب: "حکایاتِ رومی" از حضرت مولانا جلال الدین رومی رح ..
طالب دعا
#ساجدالرحمن
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
I-9/1
Islamabad
44000