Al Huda School & Academy Alipur

Al Huda School & Academy Alipur

Share

School and Academy

25/09/2025

*ایک دن، ایک کسان نے محسوس کیا کہ اس کی گھڑی گھاس کے گودام میں کھو گئی ہے*۔
اس کی کوئی خاص مالی قیمت نہیں تھی، لیکن وہ اس کے لیے انمول تھی کیونکہ وہ اسے اس کے کسی پیارے نے تحفے میں دی تھی۔
​اس نے ہر جگہ تلاش کیا—گھاس کے ڈھیروں کو پلٹا، گودام کے فرش پر رینگا—لیکن گھنٹوں کی مایوسی کے بعد، اس نے ہمت ہار دی۔ تھک کر، اس نے قریب کھیلتے ہوئے کچھ لڑکوں کو دیکھا اور ان سے مدد مانگی، وعدہ کیا کہ جو بھی گھڑی ڈھونڈے گا اسے انعام ملے گا۔
​بچے گودام میں گھس گئے اور ہر طرف گھاس پھینکتے ہوئے، جگہ کو تہس نہس کر دیا۔ لیکن اتنی کوشش کے بعد بھی کسی کو گھڑی نہیں ملی۔ جب کسان بالکل مایوس ہونے ہی والا تھا، ایک چھوٹا لڑکا خاموشی سے اس کے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا اسے ایک اور موقع مل سکتا ہے۔ کسان، تھوڑا حیران ہو کر، راضی ہو گیا۔
​کچھ ہی منٹ بعد، وہ لڑکا اپنے ہاتھ میں گھڑی لیے گودام سے باہر آیا۔ حیران اور خوش ہو کر، کسان نے پوچھا کہ اس نے وہ کام کیسے کیا جو باقی سب نہیں کر پائے۔
​لڑکے نے بس اتنا کہا:
”میں نے کچھ خاص نہیں کیا۔ میں بس بیٹھ گیا اور سنا۔ خاموشی میں، میں اس کے ٹک ٹک کی آواز سن سکا، تو میں نے آواز کی پیروی کی اور اسے ڈھونڈ لیا۔“
​نتیجہ: ایک پرسکون اور خاموش ذہن اکثر ایک مصروف اور پریشان ذہن سے زیادہ تیز ہوتا ہے۔ کبھی کبھی، آپ کو مزید کوشش کی ضرورت نہیں ہوتی—آپ کو بس رکنے، خاموش رہنے اور صحیح معنوں میں سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔

15/12/2024

پاکستانی نوٹوں پر املاء اور گرامر کی غلطیاں
۔1 )
لفظ بینک انگلش کا لفظ ہے جبکہ اس کو اردو میں " بنک " کہتے ہیں.. لفظ کی ادائیگی تو درست ہوتی ہے مگر لکھا غلط گیا ہے.. اور یہ غلطی آج ہماری جیب میں موجود ہر نوٹ کی پیشانی پر جگمگا رہی ہے..
۔2)

غلطی یہ ہے کہ روپیہ واحد کا صیغہ ہے جبکہ پانچ ہزار روپیہ اور ایک سو روپیہ لکھا گیا ہے جبکہ یہاں جمع کا صیغہ استعمال ہونا تھا ( روپے )..

۔3)
غلطی یہ ہے کہ " حاملِ ہذا " نہیں بلکہ " حامل نوٹ ہذا " ہے..
حاملِ ہذا کا مطلب اسکو ادا کرنے والا ، رکھنے والا ، دینے والا وغیرہ کے ہیں.. سوال یہ ہے کہ کیا دینے والا ؟
لہٰذا حاملِ ہذا کے درمیان کسی تیسرے اسم کا ہونا لازم و ملزوم ہے... ملکی ملکیت کو ظاہر کرنے کے لیے حامل نوٹِ ہذا لکھا جانا ضروری ہے...

۔4)

غلطی یہ ہے اردو زبان کا حسن ہے کہ اسکا ہر لفظ اک محسوس ردھم سے ادا ہوتا ہے.
لفظ " مطالبہ " واحد کا صیغہ ہے جبکہ یہاں جمع کا صیغہ استعمال ہوگا " مطالبے "

۔5)

غلطی یہ ہے کہ اردو زبان میں گرامر کے اصول کے مطابق جو لفظ علیحدگی سے لکھے جا سکتے ہوں انکو ایک ساتھ نہیں لکھ سکتے کیوں کہ اردو زبان میں ہر لفظ کی اپنی اہمیت ہے..
لفظ " کریگا " نہیں ہے بلکہ " کرے گا۔ " یوں الگ الگ کر کے لکھیں گے..

۔6) غلطی یہ ہے کہ" ضمانت سے جاری ہوا " نہیں ہے بلکہ یہاں یوں لکھیں گے کہ " ضمانت پر جاری ہوا ...
حکومتِ پاکستان ہر نوٹ کی ضامن ہے اسی لیے حکومت پاکستان کی ضمانت " پر " درست جملہ ہے........

آپ سے رائے درکار ہے آپ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں ۔

15/12/2024

Office of the Deputy Commissioner, Islamabad
It is notified that the all public/private school and colleges shell remain closed on 16/12/2024 Monday

15/12/2024

مائیں دروازہ تکتی رہ گئیں،
بچے سکول سے سیدھا جنت چلے گئے،
16 دسمبر _______ Black Day Of Pakistan

05/12/2024

تربیت اسے کہتے ہیں.
ایک عالم نےاک شاگرد کا واقعہ سنایا جو اپنے استاد کی طرح کسی درسگاہ میں استاد بن گیا تھا ، استاد بننے کے بعد جب وہ اپنے اس استاد سے ملنے کے لیے گیا اور اس کو بتایا کہ آپکی وجہ سے آپکی طرح میں بھی استاد بنا ہوں ۔ استاد میں پوچھا وہ کیسے ؟تو انہوں نے بتایاکہ
اک دن میں نے اپنے ہم جماعت کی گھڑی چرا لی تھی، آپ نے دروازے بند کرا کے تلاشی کا کہا تھا مجھے لگا کہ آج میں پھنس گیا،
تب آپ نے فرمایاکہ سب آنکھیں بند کر لیں، آپ نے سب بچوں کی تلاشی لی انکی آنکھیں بند تھیں، آپ نے گھڑی میری جیب سے نکالی، اور مجھ سے بعد والوں کی بھی تلاشی لی
تب میں نے عزتِ نفس اور زندگی کا سبق سیکھا تھا۔
استاد کی آنکھوں میں اجنبیت دیکھ کر شاگرد نے پوچھا ، استاد محترم آپ مجھے کیسے بھول گئے؟
استاد نے جواب دیا
*کیونکہ میں نے اپنی آنکھیں بھی بند کر لی تھیں.
اپنے شاگردوں کی عزت نفس کا خیال کیجئے تاکہ وہ آپ کو بعد میں بھی یاد رکھیں۔

14/07/2024

میرے موبائل نمبر کی ڈائل ٹون میں جو آواز آپکو سنائ دے رہی ہے میں اس سے مکمل اظہار لاتعلقی کرتا ہوں خود بخود یا زبردستی لگ گئ ہے جو کے بلکل جھوٹ پر مبنی ہے

08/07/2024

یکم محرم الحرام
نیا اسلامی1446ہجری سال مبارک ہو
نئے سال کی دعا
"اللّٰهُمَّ أَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمٰنِ وَجِوَارٍ مِنَ الشَّيْطَانِ ."

31/03/2024

اصل جنگ کیا ہے؟
بیت المقدس تین مذاہب کی مقدس جگہ۔۔۔۔
مسلمانوں کا قبلہ اول
عیسائیوں کے لئے یسوع کی جائے ولادت
یہودیوں کے لئے ہیکل سلیمان

شروع کرتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے۔ جن کے دو بیٹے تھے اسماعیل اور اسحاق۔
اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے حضرت یعقوب۔
یہیں سے کہانی شروع ہوتی ہے اسرائیل کی۔ اسرائیل یعنی اللہ کا بندہ۔ اور یہ لقب حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیا گیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے جب کفیل مصر بنے تو آپ کو حکم ہوا کہ اپنے تمام خاندان یعنی آل یعقوب کو مصر بلایا جائے۔ اور مصر کی سرزمین کا ایک مخصوص حصہ ان کے لئے مختص کیا گیا۔ اور اللہ کی طرف سے کہا گیا کہ اے آل یعقوب اس سرزمین میں تمھارے لئے برکتیں ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام بارہ بھائی تھے اسی لئے اللہ تعالی نے ان کے لئے بارہ چشمے جاری کیے۔ اور یوں اس سرزمین کا نام حضرت یعقوب کے لقب سے اسرائیل پڑگیا۔ جسے آج یروشلم بھی کہا جاتا ہے۔
آپ کی نسل سے کم و بیش ستر ہزار انبیائے کرام آئے۔
حضرت یوسف کے بھائی یہودا کی نسل آگے بڑھی تو اس میں سے آنے والے تمام بنی اسرائیلی یہودی کہلائے۔
وقت گزرتا گیا اور حضرت موسی علیہ السلام کا دور آیا۔ جب فرعون نے مصر کی آپ پر تنگ کی تو بنو اسرائیل کے ساتھ آپکو مصر سے نکلنا پڑا۔
اس دوران بنی اسرائیل پر اللہ تعالی کی بہت سے کرم نوازیاں بھی ہوئیں، جس میں من و سلوی، چشموں کی بہتات، مچھلیوں کے شکار کا ذکر قرآن پاک سے بھی ملتا ہے۔ اور وہیں ہمیں ایک گائے کا ذکر بھی ملتا ہے، جس کے لوتھڑے سے مردے نے اللہ کے حکم سے زندہ ہوکر اپنے قاتل کا بتایا۔ اس گائے کی نشانیاں اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بیان فرمائیں۔ جوکہ ایک سرخ مائل رنگت کی گائے تھی اور ایسی گائے آج بھی یہودیوں کے نزدیک مقدس مانی جاتی ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام کے بعد دیگر نبی آئے۔ اس دوران میں حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے دور کی کچھ باقیات، تورات، من و سلوی کا کچھ حصہ بنی اسرائیل نے ایک صندوق میں محفوظ کرلیا۔ یہ اللہ کی طرف حضرت آدم کو دیا گیا ایک خاص صندوق تھا جو نسل در نسل نبیوں کے پاس رہا۔ جسے قرآن میں تابوت سکینہ کے نام پکارا گیا ہے۔ اور یہ یہودیوں کو اپنی جان سے ذیادہ عزیز ہے۔
حضرت داؤد نے جب جالوت کو ہرا کر اس سے تابوت سکینہ حاصل کیا تو یوں بنی اسرائیل نے انہیں نبی تسلیم کرلیا۔ اور حضرت داؤد علیہ السلام نے اس صندوق کی حفاظت کے لئے ایک ہیکل تعمیر کروانا شروع کیا جو کہ انکی زندگی میں مکمل نہ ہوسکا۔ ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کی مدد سے اس کو مکمل کروایا اور اسی دوران میں آپکی بھی وفات ہوگئی۔
اسی وجہ سے اسے ہیکل سلیمانی کہا جاتا ہے۔
بعد ازاں بابل کے باشاہ بخت نصر نے اسرائیل پر حملہ کیا اور ہیکل سلیمانی کو بھی گرا دیا۔ اور تابوت سکینہ بھی اپنے ساتھ لے گیا۔
سیپرس دی گریٹ نے دوبارہ یہ شہر حاصل کیا۔ یہودیوں کو دوبارہ یہاں آباد کیا اور تابوت سکینہ کو بھی واپس لایا گیا۔ ہیکل سلیمانی ایک دفعہ پھر تعمیر کیا گیا۔
پھر وقت گزرا اور حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ہوئی۔ جنہیں نعوذبااللہ یہودیوں نے دجال، ناجائز اور کیا کیا لقب دیئے۔ یہاں سے یہودیوں میں سے دو الگ قومیں ہوگئیں ایک یہودی اور دوسرے عیسائی۔
یہودیوں نے سازش کرکے حصرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانا چاہا اور اللہ تعالی نے انہیں اپنے پاس اٹھالیا۔
اس کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں میں کئی چھوٹی موٹی جنگیں ہوئیں۔ پھر عیسائی رومی بادشاہ ٹائیٹس نے اس شدت سے یروشلم پر حملہ کیا کہ اس پورے علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ہیکل سلیمانی کو گرادیا۔ جس کی صرف ایک دیوار اس وقت اپنی اصلی حالت میں موجود ہے جسے دیوار گریہ کہاجاتا ہے۔ جہاں یہودی جاکر تورات کی تلاوت کرتے ہیں اور گریہ و زارہ کرتے ہیں۔ تابوت سکینہ بھی نہ جانے کہاں غائب ہوگیا۔
ٹائٹس کے حملے کے بعد یہودی آخری نبی کے انتظار میں تھے۔ کیونکہ اللہ پاک کا ان سے وعدہ تھا کہ انہیں پھر عروج بخشا جائے گا۔
اس وعدہ کا ذکر سورہ البقرہ میں بھی موجود ہے کہ

"اے بنی اسرائیل، ان نعمتوں کو یاد کرو جو تم پر کی گئیں، اور اپنا وعدہ پورا کرو (ایمان لاو) تاکہ ہم بھی اپنا وعدہ پورا کریں۔"

قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہیکل سلیمانی کی تین دفعہ تعمیر ہوگی۔ جوکہ دو دفعہ ہوچکی ہے۔
یہودی اپنے مسیحا اور آخری نبی کے انتظار میں تھے کہ ٹائیٹس کے حملے کے پانچ سو سال بعد نبی آخرالزمان کی ولادت ہوئی۔ یہاں یہودیوں کو یہ جھٹکا لگا کہ سارے نبی حضرت اسحاق کی نسل سے ہیں تو آخری نبی حضرت اسماعیل کی نسل سے کیونکر آگئے۔۔۔ اور انہوں نے ایمان لانے سے انکار کردیا۔
مسلمانوں کے لئے بھی وہ انبیاء کی ہی نشانی تھی اسی لئے ہیکل سلیمانی کو بیت المقدس کا نام دیا گیا۔
اسلام کے آغاز میں یہودیوں کو قائل کروانے کی خاطر ہی بیت المقدس کی جانب منہ کرکے نماز ادا کرنے کا حکم ہوا۔ کیونکہ یہودی اسی طرف منہ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔
سترہ ماہ بعد ہماری عبادت کا رخ بیت المقدس سے بیت اللہ کی جانب موڑ دیا گیا۔ کیونکہ مسلمانوں کا شروع سے قبلہ اول وہی رہا۔ جسے پہلے حضرت آدم اور پھر حضرت ابراہیم نے تعمیر کیا۔
حضرت عمر رض کے دور حکومت میں اسرائیل یعنی یروشلم پر عیسائیوں کا قبضہ تھا۔ بیت المقدس کے ہی احاطے میں انہوں نے گرجا گھر تعمیر کیا ہوا تھا۔ اور عین تابوت سکینہ والی جگہ وہ گند پھینکا کرتے تھے یہودیوں کی نفرت میں۔ یروشلم کی فتح کے وقت جب حضرت عمر وہاں گئے تو عیسائیوں پر برہم ہوئے۔ وہاں صفائی کروا کر مسجد تعمیر کروائی، اور قرآن میں موجود معراج والے واقعے کی نسبت سے اس مسجد کو اقصی کا نام دیا۔
یہودیوں کی دیوار گریہ بھی اسی احاطے میں موجود تھی تو زائرین کی حثیت سے انہیں بھی وہاں آنے کی اجازت دے دی گئی۔
خلافت عباسیہ تک یروشلم ایک مسلم شہر رہا۔
اس کے بعد عسائیوں نے دوبارہ یروشلم پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا۔ صلاح الدین ایوبی نے عیسائیوں کے خلاف پچاس سے زائد جنگیں کرکے بیت المقدس دوبارہ حاصل کیا۔ اور پھر سات سو سالوں تک یہ خلافت عثمانیہ کے زیر سلطنت رہا۔ یہودیوں کو بھی دیوار گریہ تک اپنے مذہبی اقدامات کی آزادی رہی۔ اور یہودی آہستہ آہستہ پھر یروشلم میں آباد ہونا شروع ہوگئے۔ اس دوران میں کئی بار انہوں نے خلافت عثمانیہ کے سلطان کو پیسوں کے عوض یروشلم انہیں سونپنے کا لالچ دیا لیکن ناکام رہے۔
اور پھر دوسری جنگ عظیم میں عیسائی سپاہی ہٹلر نے چن چن کر یہودیوں مارا۔ قریبا ساٹھ لاکھ کے قریب یہودیوں کا قتل عام کیا گیا اور یہ دربدر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ انہیں اب خود اپنی پہچان بنانی ہے۔ اور بائبل میں موجود یہودیوں کے آخری عروج سے قبل والی کئی نشانیاں بھی ظاہر ہوچکی تھیں۔ اور وہ یہ تسلیم کرچکے تھے کہ انکا آخری مسیحا اب دجال ہوگا جس کی بدولت پوری دنیا میں انکا دوبارہ بول بالا ہوگا۔
انہوں نے برطانیہ سے ساز باز کرکے خود کو الگ ریاست تسلیم کروالیا۔ یوں اسرائیل باقاعدہ ایک ملک کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ پھر آہستہ آہستہ انہوں نے فلسطین اور دیگر مصری علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ عرب ممالک اسرائیل کے خلاف جنگ پر آئے لیکن اس وقت تک یہ خود کو اتنا مضبوط کرچکے تھے عرب ممالک کو اس ایک چھوٹے سے ملک سے منہ کی کھانی پڑی۔ عسائیوں نے بھی دیکھ لیا کہ اب ان سے لڑ کر کچھ وصول نہیں ہونا تو باقاعدہ گرجا گھروں میں پادریوں نے تقریبات منعقد کیں اور یہودیوں کے لئے معافی کا اعلان کیا گیا۔ یوں سیاسی اور اقتصادی مفاد پرستی نے دو ہزار سالوں سے ایک دوسرے کے ازلی و جانی دشمنوں کو ایک صف پر لا کھڑا کیا۔ اور قرآن کی بات بھی سچ ہوگئی کہ
یہود و نصری ایک دوسرے کے دوست ہیں۔
یہودیوں کے عقائد کے مطابق وہ ہیکل سلیمانی کی حفاظت نہیں کرپائے تو خود کو قصوروار کہتے ہیں۔ خود کو سزا دینے کے لئے زنجیروں اور چمڑے سے پیٹتے ہیں۔ اور دیوار گریہ کے پاس آہ و زاری کرتے ہیں۔
وہ ایمان رکھتے ہیں تیسری بار انہیں پوری دنیا پر حکمرانی حاصل ہوگی۔ اس کے لئے انہیں مسجد اقصی کو گرانا ہوگا۔ جس کی تیارہ وہ کرچکے ہیں۔ کب سے مسجد اقصی کے نیچے بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیں۔ اس کے بعد ہیکل سلیمانی تعمیر کرکے تابوت سکینہ وہاں رکھنا ہے۔ تابوت سکینہ بھی وہ دوبارہ حاصل کرچکے ہیں۔
لیکن مسئلہ تھا سرخ گائے۔۔۔ کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق وہ ناپاک ہیں اور جب تک پاک نہیں ہوجاتے ہیکل سلیمانی تعمیر نہیں کرسکتے۔ اور پاک ہونے کے لئے سرخ گائے کی قربانی دینا ہوگی۔
وہ گائے جس کی نشانیاں قرآن پاک میں بیان کی گئیں۔ جو اسوقت بھی انہیں ڈھونڈنے میں مشکل ہوئی تھی۔ اب بھی ایک سو سال تک وہ ویسی گائے کی تلاش کرتے رہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بچے پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا انہوں نے۔ پھر اس تجربے کی بدولت ویسی نشانیوں والی گائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکام رہے۔ دوہزار انیس میں ایک امریکی ریاست سے پانچ عدد ویسی گائیں انہیں مل گئیں۔ جن کے جسم پر سرخ رنگ کے علاوہ اور کوئی بال نہیں تھا۔ انہیں کبھی کام کے لئے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ اگلی نشانی کہ ان پر کسی بیماری کا اثر نہیں ہونا چاہیے، پوری دنیا میں کووڈ پھیلا کر مختلف جانوروں کے ساتھ انہیں بھی ٹیسٹ کیا گیا اور ان پر اس بیماری کا کوئی اثر نہ ہوا۔

Red heifer found
Mastery of Red heifer

یہ گوگل میں سرچ کرکے آپ اس متعلق تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں۔
الغرض قرب قیامت اور دجال کے ظہور والی تمام تر تیاریاں وہ مکمل کرچکے ہیں۔
اپنی مرضی کے ڈاکٹر، انجینئر بچے پیدا کرنا، نائن ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک جگہ ہوتے ہوئے کئی جگہ موجود رہنا، اپنی مرضی کے موسم بنانا، جب چاہو بارش برسا دینا، چند دنوں میں پوری دنیا گھوم لینا یہ سب دجالی نشانیاں ہیں جو آج کے دور میں کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ہمارے اسلام میں بتائی گئی قیامت کی نشانیوں کی انہوں نے اتنے اچھے سے تیاری کرلی ہے کہ غرقد کے درخت لگا دیے۔ جو انہیں پناہ دیں گے۔ باب لد جس جگہ احادیث کے مطابق دجال کا حضرت عیسی ع کے ہاتھوں قتل ہونے کا ذکر موجود ہے اس جگہ وہ دجال کے فرار کے لئے ایئر پورٹ بنا چکے ہیں۔
یہ سب تو قربت قیامت کی نشانیاں ہیں اور ہیکل سلیمانی نے بھی بن کر رہنا ہے۔ پھر اصل جنگ کیا ہے؟
اصل جنگ عقائد کی ہے۔ ہم اپنے عقائد میں اس قدر کمزور ہوچکے ہیں کہ نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں ہمیں فرق نہیں پڑتا۔ اپنے بہن بھائیوں کا حق کھا کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور فرقوں کے خرافات میں الجھے ہوئے ہیں۔
فلسطینوں کے لئے سوائے دعا اور احتجاج کے ہم کیا کرسکتے ہیں؟
کیا ہم اپنے عقائد کے اتنے مضبوط ہیں کہ ڈالر کہ بہکاوے میں نہ آئیں؟
کیا ہم یہودیوں کے مقابلے میں نکلنے والے خراسان مجاہدین کی لسٹ میں آتے ہیں یا بس سوشل میڈیا کے تماشائی ہیں؟
اگر آج دجال ظاہر ہوجائے اور توبہ کا دروازہ بند ہوجائے تو ہماری آخرت کے لئے کیا تیاری ہے؟
سوچ کر جواب ضرور دیجئے گا۔

18/05/2023

گرمی بڑھ رہی ہے !!
اپنی چھتوں اور بالکنی میں ان کے لیے روزانہ پانی ضرور رکھیے، کیا پتا کس کی دعا ہماری بخشش کا باعث بن جائے۔

01/05/2023

آج سب مل کر ایک کام کریں
صرف یوم مزدور ماننے سے کُچھ نہیں ھو گا ، کچھ عملی کام کریں اگر آپکے گھر میں یا آپکی کسی کمرشل پراپرٹی پر مزدور آج کام کر رہا ہے تو اسے آج اُسکی طے شدہ رقم سے کُچھ اضافی رقم دیں اگر دو ہزار بناتا ہے تو آج 3 ہزار دے دیں یقین کریں اللہ آپ کو اور نوازے گا۔
دوسرا کام ہر چوک چوراہوں پر آپکو مزدور کھڑا نظر آئے گا ، 200 روپے کے چاول مل جائیں گے اپنی استطاعت کے مطابق زیادہ سے زیادہ مزدورں کو آج کھانا کھلائیں ، استطاعت ہے تو آج مزدورں کو نئے کپڑے لے کر دیں ، مزدور کے اس دن کو مزدور کیلئے آج کسی بھی طریقے سے یاد گار بنا دیں ، مزدور کی رضا کیلئے اللہ کی رضا کیلئے۔
طالب دعا

24/01/2023

*اللہ تعالیٰ نے رزق کے 16 دروازے مقرر کئے ہیں اور اس کی چابیاں بھی بنائی ہیں۔ جس نے یہ چابیاں حاصل کر لیں وہ کبھی تنگدست نہیں رہے گا۔*
۔
* پہلا دروازہ نماز ہے۔ جو لوگ نماز نہیں پڑھتے ان کے رزق سے برکت اٹھا دی جاتی ہے۔ وہ پیسہ ہونے کے باوجود بھی پریشان رہتے ہیں۔
* دوسرا دروازہ استغفار ہے۔ جو انسان زیادہ سے زیادہ استغفار کرتا ہے توبہ کرتا ہے اس کے رزق میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اللہ ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے کبھی اس نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔
* تیسرا دروازہ صدقہ ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ تم اللہ کی راہ میں جو خرچ کرو گے اللہ اس کا بدلہ دے کر رہے گا، انسان جتنا دوسروں پر خرچ کرے گا اللہ اسے دس گنا بڑھا کر دے گا
* چوتھا دروازہ تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ گناہوں سے دور رہتے ہیں اللہ اس کیلئے آسمان سے رزق کے دروازے کھول دیتے ہیں۔
* پانچواں دروازہ کثرتِ نفلی عبادت ہے۔ جو لوگ زیادہ سے زیادہ نفلی عبادت کرتے ہیں اللہ ان پر تنگدستی کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ اللہ کہتا ہے اگر تو عبادت میں کثرت نہیں کرے گا تو میں تجھے دنیا کے کاموں میں الجھا دوں گا، لوگ سنتوں اور فرض پر ہی توجہ دیتے ہیں نفل چھوڑ دیتے ہیں جس سے رزق میں تنگی ہوتی ہے
٭ چھٹا دروازہ حج اور عمرہ کی کثرت کرنا ، حدیث میں آتا ہے حج اور عمرہ گناہوں اور تنگدستی کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی سونا چاندی کی میل دور کر دیتی ہے
٭ ساتواں دروازہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنا۔ ایسے رشتہ داروں سے بھی ملتے رہنا جو آپ سے قطع تعلق ہوں۔
٭ آٹھواں دروازہ کمزوروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا ہے۔ غریبوں کے غم بانٹنا، مشکل میں کام آنا اللہ کو بہت پسند ہے
٭ نوواں دروازہ اللہ پر توکل ہے۔ جو شخص یہ یقین رکھے کہ اللہ دے گا تو اسے اللہ ضرور دے گا اور جو شک کرے گا وہ پریشان ہی رہے گا
٭دسواں دروازہ شکر ادا کرنا ہے۔ انسان جتنا شکر ادا کرے گا اللہ رزق کے دروازے کھولتا چلا جائے گا
٭ گیارہواں دروازہ ہے گھر میں مسکرا کر داخل ہونا ،، مسکرا کر داخل ہونا سنت بھی ہے حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ رزق بڑھا دوں گا جو شخص گھر میں داخل ہو اور مسکرا کر سلام کرے
٭بارہواں دروازہ ماں باپ کی فرمانبرداری کرنا ہے۔ ایسے شخص پر کبھی رزق تنگ نہیں ہوتا
٭ تیرہواں دروازہ ہر وقت باوضو رہنا ہے۔ جو شخص ہر وقت نیک نیتی کیساتھ باوضو رہے تو اس کے رزق میں کمی نہیں ہوتی
٭چودہواں دروازہ چاشت کی نماز پڑھنا ہے جس سے رزق میں برکت پڑھتی ہے۔ حدیث میں ہے چاشت کی نماز رزق کو کھینچتی ہے اور تندگستی کو دور بھگاتی ہے
٭ پندرہواں دروازہ ہے روزانہ سورہ واقعہ پڑھنا ۔۔ اس سے رزق بہت بڑھتا ہے۔۔،
٭ سولواں دروازہ ہے اللہ سے دعا مانگنا۔ جو شخص جتنا صدق دل سے اللہ سے مانگتا ہے اللہ اس کو بہت دیتا ہے
*●✧صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدﷺ✧●*
*سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّه الْعَظِيم*
*لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوُل اللّهِ*
*اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ نِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَ آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ وَ بَارِکْ وَ سَلِّمْ*
اللہ پاک ہم سبکو عمل کی توفیق عطاء فرماہے
(منقول)

20/01/2023

ایک نہایت ہی اہم اور فکر انگیز واقعہ
#منقول

🍒ہر جمعے کو نماز سے فارغ ہونے کے بعد مسجد کے امام صاحب اور انکا ایک گیارہ سالہ بیٹا امسٹرڈم Amsterdam capital of Netherlands
کی گلیوں میں نکل پڑتے اور لوگوں کے درمیان
"الطريق إلى الجنة" نامی کتابچہ تقسیم کرتے پھرتے

💫یہ معمول چلتا رہا یہاں تک کہ ایک جمعہ کو مطلع ابر آلود ہوگیا موسلا دھار مینہ بہنے لگی اور کڑاکے کی ٹھنڈ پڑگئی ۔۔۔
💫بچے نے بہت سارے کپڑے زیب تن کرلۓ تاکہ اسے سردی کا احساس نہ ہوسکے اور اپنے والد سے گویا ہوا ابا چلیں میں تیار ہوں!!۔۔
💫باپ نے کہا :بیٹا کہاں کی تیاری ہے!!!؟؟
💫بیٹے نے جواب دیا: اباجان کتابچوں کی تقسیم کاری کا وقت ہوچلا ہے!!!
💫باپ نے کہا:بیٹا آج موسم‌کافی ٹھنڈا ہے بارش بھی ہورہی ہے آج موقوف کرتے ہیں۔۔

✨یہ سن کر بیٹے نے حیران کردینے والا جواب دیا اور کہا:اباجان بہت سارے لوگ تو دوزخ کی اور بڑھ رہے ہیں!!!!

باپ نے کہا بیٹا اس موسم‌میں نکلنا ٹھیک نہیں۔۔۔
💫بچے نے کہا اچھا اباجان مجھے اجازت دیں میں اکیلا ہی جاتا ہوں۔۔۔۔
💫باپ نے کچھ تردد کے بعد کہا اچھا ٹھیک ہے احتیاط سے جاؤ۔۔۔
گیارہ سال کا یہ بچہ جذبات سے لبریز، باپ کو شکریہ کہتے ہوۓ نکل پڑا۔۔۔
[][] اس عمر کے بچے عموما لڑکپن کی خرمستیاں لوٹتے ہیں لیکن‌یہ ننھی سی نوخیز کلی آفاقی ذہنیت کا شاہکار تھا۔۔۔
راستے بھر بھیگتے بھاگتے لوگوں سے ملتا رہا کتابچے تقسیم کرتا رہا۔۔۔

⏰قریب دوگھنٹے بارش میں بھیگنے کے بعد اسکے پاس صرف آخری کتابچہ باقی رہا ادھر ادھر نظر دوڑائی لیکن‌کوئ نظر نہ آیا لیکن بارش اور ٹھنڈ کے سبب شہر خاموشاں میں ہنوز کوئی راہی نہ دکھا.......
[][] قریب کے ایک چھوٹے سے گھر کی طرف بڑھا سوچا کوئی ہوگا تو آخری کتابچہ اسے دوں ۔۔۔

🚪پاس پہونچا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن‌کوئ آواز نہ آئی۔۔۔
💫وہ برابر دروازہ کھٹکھٹاتا رہا جانے اسکے دل میں کیا آیا کہ وہ وہاں سے جانے کا نام‌نہیں لے رہا تھا اور ابکی بار دروازہ قوت کے ساتھ کھٹکھٹایا۔۔۔
کچھ لمحے بیت جانے کے بعد ایک عمر رسیدہ خاتون دروازے پہ آئ جسکے چہرے پر حزن و افسردگی کے آثار نمایاں تھے بولی بیٹے کیا کام‌ہے۔۔۔؟؟!!

🔻ننھا سا بچہ مسکراتے لبوں اور روشن‌نگاہوں کے ڈورے جھکا کر بولا محترمہ زحمت دینے لۓ معذرت خواہ ہوں ۔۔دراصل آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ اللہ آپ سے بے حد پیار کرتا ہے اور اس نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے یہ آخری کتابچہ آپکو ہدیہ کرنے آیا ہوں۔۔یہ کتابچہ آپکو اللہ کے بارے کچھ پیغامات دیگا اور خلق مخلوق کی حقانیت واضح کردیگا ۔۔۔
📘خاتون‌نے کتابچہ لیا اور شکریہ کہتے ہوۓ واپس اندر گئ بچہ بھی گھر لوٹا۔۔۔

📘💫اگلے ہفتے جمعہ کا خطبہ ختم‌ہونے کے بعد وہ بزرگ خاتون کھڑی ہوئی اور پورے مجمع سے مخاطب ہوکر کہا :میرا یہاں کوئی جاننے والا نہیں ہے۔۔اور نہ اس سے پہلے یہاں آنے کا کبھی اتفاق ہوا ہے۔۔

🌵گزشتہ جمعہ، میں مسلمان نہیں تھی اور نہ ہی میں نے کبھی مسلمان ہونے کا خیال دل میں لایا تھا
🌵کچھ ماہ پہلے میرے شوہر کا انتقال ہوگیا اور وہ مجھے تن‌تنہا چھوڑ کر چلاگیا اسکے جانے کے بعد زندگی بوجھل ہوگئی تھی ،لطف زندگی ناپید ہوگیا تھا

🌵گزشتہ جمعہ جب زوروں کی بارش ہورہی تھی تو میں نے ارادہ کرلیا تھا کہ خودکشی کرکے غم زندگی سے چھٹکارہ حاصل کرلوں کیونکہ مجھے جینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی تھی۔۔لہذا میں نے اوپر کے کمرے جاکر رسی اور کرسی کے سہارے جان دینے کی ٹھان لی تھی بس شاید کچھ لمحات کی دیری تھی کہ یہ جسد خاکی قفس عنصری سے پرواز کر جاتی کہ یکایک میں نے دروازے کی کھڑکھڑاہٹ سنی میں نے کچھ دیر توقف کیا سوچا کہ جو ہوگا کچھ دیر میں خود ہی چلا جائے گا لیکن مسلسل دروازے کی کھڑکھڑاہٹ نے مجھے گلے سے پھندا نکالنے پر مجبور کردیا میں محو سوچ غلطاں و پیچاں رہی کہ آخر کون‌ہے جو ایسے پرخطر موسم میں میرے دروازے پہ دستک دے رہا ہے وہ بھی مسلسل ۔۔۔بالآخر میں نیچے آگئی
🚪دروازہ جو کھولا تو ایک ننھی سی جان کا بھیگتا ہوا وجود میری نگاہوں کے سامنے زیر لب مسکرا رہا تھا اسکی وہ مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک میں نے کبھی کسی انسان میں نہ دیکھی تھی ۔۔اس مقدس سراپے کی وصف کشی کے لۓ میرے پاس الفاظ بھی نہیں۔۔۔

🌵💫اسکی زبان سے ادا ہونے والا ایک ایک لفظ گوہر نایاب تھا بس میرے قلب وجگر کی تختیوں پر اسکے الفاظ نقش ہوگۓ۔۔یوں لگا کہ اب میرے مردہ دل کو کسی نے زندگی کی سوغات عطا کردیں ۔۔اسکا یہ کہنا کہ محترمہ میں آپ کو یہ پیغام‌دینے آیا ہوں کہ اللہ آپ سے بہت پیار کرتا ہے اور آپ کا خیال رکھتا ہے۔۔۔
💫پھر اس نے مجھے یہ کتابچہ "الـطريق إلى الجنة" جو میرے ہاتھ میں ہے دیا۔۔
🚪میں نے دروازہ بند کیا اور نہ چاہتے ہوۓ اس کتاب کو کھولا ۔۔پھر جو کتاب کو پڑھنا شروع کیا آنسوؤں سے میری آنکھیں ڈبڈبا گئیں،میرے اندر ایک انقلاب برپا ہوچکا تھا۔۔۔میں جان‌گئ تھی کہ اللہ مجھ سے واقعتا بہت پیار کرتا ہے ۔۔۔میں‌نے کرسی اور پھندا پھینک دیا کیونکہ اب مجھے سہارا مل گیا تھا۔۔۔اب مجھے زندگی کی قیمت سمجھ میں آچکی تھی۔۔۔
🌹🍃آج میں خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میں نے اپنے مالک حقیقی کو پہچان‌لیا ۔۔۔
اس کتاب پر دیۓ گۓ پتے کی وجہ سے میں یہاں پہنچ سکی ہوں میں آپ کا شکریہ کرنے کے لۓ یہاں آئی ہوں ۔۔۔
💫 میں اس چھوٹے فرشتے کا شکریہ کرنا چاہتی ہوں جو مسیحا بن کر مجھے دوزخ کہ دھانے سے بچا لایا ہے۔۔۔

💫مسجد میں چہار جانب سے آنکھیں اشک بار تھیں ۔۔تکبیرات کی صداؤں سے پوری مسجد گونج اٹھی ۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔الله أكبر......
💫امام‌صاحب جو اس ننھے فرشتے کے والد تھے منبر سے اتر کر لپک کر پہلی صف میں موجود اپنے لخت جگر سے چمٹ گۓ اور زور زور سے رونے لگے۔۔انھیں احساس ہو چلا تھا کہ اس مجمع میں اس جیسا کوئی خوش قسمت باپ نہیں جسکا بیٹا اصلی ہیرے موتی چن رہا ہے۔۔۔۔انھیں یہ بھی محسوس ہورہا تھا کہ میں نے مجبوری اور عذر بیان‌کیا لیکن‌میرے بیٹے کے اندر لوگوں کی ہدایت کے تئیں ایسے جذبات ہیں کہ اب وہ شرم محسوس کررہے تھے۔۔۔۔
💫واقعہ تو ختم ہوا البتہ ہمارے لۓ اسمیں اہم اسباق ہیں ۔۔ہر کوئی اپنے آپ سے یہ سوال کرلے کہ کیا ہم‌نے کبھی اسطرح لوگوں کو آگ سے بچانے کی کوشش کی ہے؟؟کیا ہمارے سینے میں وہ درد وکسک ہے جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی ہدایت کے لۓ تھی یا جو اس ننھے سے بچے کے دل میں تھی؟؟؟کیوں نہ ہم‌عہد کرلیں کہ جہاں جسے جب بھی موقع ملے اپنے محدود وسائل کوبروۓ کارلاکر "دعوت الی اللہ "کے فریضے کے ساتھ جڑ جائیں ۔۔۔اللہ ہم‌سب کو توفیق عطا کرے آمین ثمہ آمین ۔۔
✨✨🤍🤍🌸

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Islamabad