25/06/2026
کل رات ایک قریبی دوست بتا رہا تھا کہ اسے لیپ ٹاپ میں ونڈوز انسٹال کروانی تھی، اس لیے وہ حافظ سنٹر چلا گیا۔ کام معمولی سا تھا، چند منٹوں کا۔ جب اس نے وقت پوچھا تو جواب ملا، "سر صرف 5 منٹ لگیں گے۔" لیکن جب قیمت پوچھی تو بتایا گیا: 1500 روپے۔
کافی بحث کے بعد بھی دکاندار 1200 روپے سے کم لینے پر تیار نہ ہوا۔
دوست نے آخرکار اپنے چھوٹے بھائی کو فون کر لیا جو کمپیوٹر سائنس کا طالب علم ہے۔ وہ آیا، ونڈوز بھی انسٹال کر دی اور طریقہ بھی سمجھا دیا۔
یہ سن کر میں سوچنے لگا کہ عجیب قوم ہیں ہم۔
پانچ منٹ کے کمپیوٹر کام کے لیے 1500 روپے دینا قابلِ قبول ہے، گاڑی کے معمولی کام پر ہزاروں روپے دینا قابلِ قبول ہے، وکیل، انجینئر، ٹیکنیشن، الیکٹریشن سب اپنی مہارت کا معاوضہ لیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔
لیکن جب ایک ڈاکٹر، جو اپنی جوانی کے بہترین سال کتابوں، امتحانات، وارڈز، ایمرجنسیوں، نائٹ ڈیوٹیوں اور مسلسل ذہنی دباؤ میں گزارتا ہے، صرف 500 روپے فیس مانگ لے تو لوگوں کو اس کی محنت نظر آنا بند ہو جاتی ہے۔
مریض کو چند منٹ میں مشورہ ضرور ملتا ہے، مگر اس مشورے کے پیچھے 10 سے 15 سال کی تعلیم، تربیت، تجربہ اور مسلسل سیکھنے کا سفر ہوتا ہے۔
ڈاکٹر کی فیس چند منٹوں کی نہیں ہوتی، اس علم کی ہوتی ہے جو برسوں کی محنت سے حاصل کیا گیا ہو، اور اس ذمہ داری کی ہوتی ہے جس میں ایک غلطی جان لے سکتی ہے اور ایک درست فیصلہ جان بچا سکتا ہے۔
ہر ہنر کی قیمت ہے، تو پھر صرف ڈاکٹر کی محنت مفت کیوں ہونی چاہیے؟ Copied Azam Naeem