Schoolofquran
We Teach The Holy Quran with Tajweed and translation. contact us for more information
If you want to learn Holy Quranwith Tajweed at your home.If you want to memorize theHoly Quran at your home.If you want to learn Translationof The Holy Quran and Tasfseer.If you can't Drive Kids to The Masjid or Islamic Centre.If you can't find a qualified Quran Tutor at your home.If you want to learn Arabic and Urdu at your home.If you want to learn Mathematics at your home.IntroductionInstitute
16/01/2024
03456132182
12/01/2024
میں آج محبت کی ایک سچی پاکیزہ داستان قلمبند کرنے جارہا ہوں
ابوالعاص نبوت سے پہلے ایک دِن رسولﷺ کے پاس آیا اور کہا "میں اپنے لِیے آپکی بڑی بیٹی زینب کا ھاتھ مانگنے آیا ھوں.
رسولﷺ نے فرمایا : "میں اِن کی اِجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا
گھر جا کر رسولﷺ نے زینب سے کہا : "تیری خالہ کے بیٹے نے تیرا نام لِیا ھے کیا تم اِس پر راضی ھو؟
زینب کا چہرہ سُرخ ھوا اور مُسکرا دیں
رسولﷺ اُٹھ کر باھر تشریف لے گئے اور ابوالعاص بن الربيع کا رِشتہ زینب کیلئے قبول کِیا
یہاں سے مُحبت کی ایک آزمائش سے بھر پور داستان شروع ھوتی ھے
ابوالعاص سے زینب رض کا بیٹا "علی" اور بیٹی "اِمامہ" پیدا ھوئے ، پھر آزمائش شروع ھو جاتی ھے کیونکہ ان کی شادی کے بعد نبیﷺ پر وحی نازل ھوئی آپ نے اعلان فرمایا کہ وہ اللہ کے رسولﷺ ہیں.
ابوالعاص کہیں سفر میں تھا جب واپس آیا تو بیوی اِسلام قبول کر چُکی تھی
جب گھر میں داخل ھوا تو بیوی نے کہا : "میرے پاس تمہارے لِیے ایک عظیم خبر ھے"
یہ سُن کر وہ اُٹھ کر باھر نِکل گیے اور کہا کہ تم دوسرے عقیدے کی ہو چکی ہو. دور رہو اب مجھ سے
زینب خوف زدہ ھو کر اِن کے پیچھے پیچھے باھر نِکلتی ھے اور کہتی ھے : "میرے ابو نبیؐ بنائے گئے ھیں اور میں اِسلام قبول کر چُکی ھوں"
ابوالعاص : تم نے مُجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟
اب دونوں کے درمیان ایک بڑا مسئلہ پیدا ھوتا ھے جو کہ عقیدے کا مسئلہ تھا
زینب : میں اپنے ابوؐ کو جُھٹلا نہیں سکتی اور نہ ھی میرے ابوؐ کبھی جھوٹے تھے ، وہ تو صادق اور امین ھیں ،
میں اکیلی نہیں میری ماں اور بہنیں بھی اِسلام قبول کر چُکی ھیں ،
میرا چچازاد بھائی علی بن ابی طالب بھی اِسلام قبول کر چُکے ھیں ، تیرا چچازاد عثمان بن عفان بھی مُسلمان ھو چُکے ھیں ،
تمہارے دوست ابوبکر بھی اِسلام قبول کر چُکے ھیں.
ابوالعاص : مگر میں نہیں چاھتا کہ لوگ یہ کہیں کہ اپنی قوم کو چھوڑ دِیا ، اپنے آباؤ اجداد کو جُھٹلایا ، تیرے ابوؐ کو ملامت نہیں کرتا ھوں بس میں اپنی قوم سے دغا نہیں کرونگا.
بہرحال ابوالعاص نے اِسلام قبول نہیں کِیا یہاں تک کہ ہِجرت کا زمانہ آ گیا اور زینب رسولﷺ کے پاس آئی اور فرمایا :
اے اللہ کے رسولﷺ کیا آپ مُجھے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رھنے کی اِجازت دینگے؟
رسولﷺ نے فرمایا : اپنے شوھر اور بچوں کے پاس ھی رھو.
وقت گُزرتا گیا اور دونوں اپنے بچوں کے ساتھ مکہ میں ھی رھے یہاں تک کہ غزوہِ بدر کا واقعہ پیش آیا
اور ابوالعاص قریش کی فوج کے ساتھ اپنے سُسر کے خلاف لڑنے کے لیے روانہ ھوا
، زینب خوف زدہ تھی کہ اِسکا شوھر اِسکے اباؐ کے خلاف جنگ لڑے گا اِسلیے روتی ھوئی کہتی تھی :
اے اللہ میں ایسے دِن سے ڈرتی ھوں کہ میرے بچے یتیم ھوں یا اپنے ابوؐ کو کھو دوں
ابوالعاص بن الربيع رسولﷺ کے خلاف بدر میں لڑے ، جنگ ختم ھوئی تو داماد سُسر کی قید میں تھا ، خبر مکہ پہنچ گئی کہ ابوالعاص جنگی قیدی بنائے گئے.
زینب پوچھتی رھی کہ میرے والدؐ کا کیا بنا؟
لوگوں نے بتایا کہ مسلمان تو جنگ جیت گئے جِس پر زینب نے سجدہِ شُکر ادا کِیا
پھر پوچھا : میرے شوھر کو کیا ھوا؟
لوگوں نےکہا : اِسکو اِسکے سُسر نے جنگی قیدی بنایا
زینب نے کہا : میں اپنے شوھر کا فدیہ (دیت) بھیج دونگی
شوھر کا فدیہ دینے کیلئے زینب کے پاس کوئی قیمتی چیز نہیں تھی اِسلیے اپنی والدہ ام المومنین خدیجہ کا ھار اپنے گلے سے اُتار دِیا
اور ابوالعاص بن الربيع کے بھائی کو دے کر اپنے والدﷺ کی خدمت میں روانہ کِیا ، رسولﷺ ایک ایک قیدی کا فدیہ وصول کر کے اِنکو آزاد کر رھے تھے ،
اچانک اپنی زوجہ خدیجہ کے ھار پر نظر پڑی تو پوچھا : یہ کِس کا فدیہ ھے؟
لوگوں نے کہا : یہ ابوالعاص بن الربيع کا فدیہ ھے
یہ سُن کر رسولﷺ رو پڑے اور فرمایا : یہ تو خدیجہ کا ھار ھے ، پھر کھڑے ھوگئے اور فرمایا : اے لوگو یہ شخص بُرا داماد نہیں ، کیا میں اِسکو رِہا کر دوں؟ ، اگر تم اِجازت دیتے ھو تو میں اِس کا ھار بھی اِسکو واپس کر دوں؟
لوگوں نے کہا کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسولﷺ آپ پر ہماری نسلیں قربان. آپ جو حکم دیں گے وہ ہی ہوگا.
رسولﷺ نے ھار ابوالعاص کو تھما دِیا اور فرمایا : زینب سے کہو کہ خدیجہ کے ھار کا خیال رکھے ، پھر فرمایا : اے ابوالعاص کیا میں تم سے تنہائی میں کوئی بات کر سکتا ھوں؟ اِن کو ایک طرف لے جا کر فرمایا : اے ابوالعاص اللہ نے مُجھے کافر شوھر اور مسلمان بیوی کے درمیان جدائی کرنے کا حُکم دے دِیا ھے اِسلیے میری بیٹی کو میرے حوالے کر دو.
ابوالعاص نے کہا : جی ھاں میں واپس جاتے ہی بھجوا دونگا اسے.
دوسری طرف زینب شوھر کے اِستقبال کے لئے گھر سے نِکل کر مکہ کے داخلی راستے پر اِنکی راہ دیکھ رھی تھی ، جب ابوالعاص کی نظر اپنی بیوی پر پڑی فوراً کہا میں جا رھا ھوں.
زینب نے کہا : کہاں؟
ابوالعاص : میں نہیں تم اپنے باپؐ کے پاس جانے والی ھو
زینب : کیوں؟
ابوالعاص : میری اور تمہاری جدائی کیلئے جاؤ اپنے باپؐ کے پاس جاؤ کیونکہ انہوں نے فیصلہ بتایا ہے کہ کافر شوہر کے پاس مسلمان بیوی نہیں رہ سکتی.
زینب : کیا تم میرے ساتھ جاؤ گے اور اِسلام قبول کرو گے؟.
ابوالعاص : نہیں ،
زینب اپنے بیٹے اور بیٹی کو لے کر مدینہ منورہ چلی گئی. جہاں چھ سال کے دوران کئی رشتے آئے مگر زینب نے قبول نہ کِیے اور اِسی اُمید سے اِنتظار کرنے لگی کہ شاید شوھر اِسلام قبول کر کے آئے گا.
چھ سال بعد ابوالعاص ایک قافلے کے ساتھ مکہ سے شام کے سفر پر روانہ ھوا ، سفر کے دوران راستے میں صحابہ کی ایک جماعت نے اِنکو گرفتار کِیا اور ساتھ مدینہ لے گئے. مدینہ جاتے ھوئے زینب اور اِنکے گھر کے بارے میں پوچھا فجر کی اذان کے وقت زینب کے دروازے پر پُہنچا ، زینب نے اِن پر نظر پڑتے ھی پوچھا : کیا اِسلام قبول کر چُکے ھو؟
ابوالعاص : نہیں
زینب : ڈرنے کی ضرورت نہیں ، تم مدینے کے والی صلعم کی پناہ میں ہو. خالہ زاد کو خوش آمدید علی اور امامہ کے باپ کو خوش آمدید
رسولﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی تو مسجد کے آخری حصے سے آواز آئی کہ
"میں ابوالعاص بن الربيع کو پناہ دیتی ھوں"
نبیﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے سُن لِیا جو میں نے سُنا ھے؟..
سب نے کہا : جی ھاں اے اللہ کے رسولﷺ
زینب نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ ابوالعاص میرا خالہ زاد ھے اور میرے بچوں کا باپ ھے میں اِنکو پناہ دیتی ھوں.
رسولﷺ نے قبول کر لِیا اور فرمایا : اے لوگو یہ بُرا داماد نہیں اِس شخص نے مُجھ سے جو بات کی سچ بولا اور جو وعدہ کِیا وہ نبھایا اگر تم چاھتے ھو کہ اِسکو اِس کا مال واپس کر کے اِسکو چھوڑ دِیا جائے
اور یہ اپنے شہر چلا جائے یہ مُجھے پسند ھے ، اگر نہیں چاھتے ھو تو یہ تمہارا حق ھے اور تمہاری مرضی ھے میں تمہیں ملامت نہیں کرونگا
لوگوں نے کہا : ھم اِس کا مال واپس کر کے اِس کو جانے دینا چاھتے ھیں
رسولﷺ نے فرمایا : اے زینب تم نے جِس کو پناہ دِی ھم بھی اِسکو پناہ دیتے ھیں ، اِس پر ابوالعاص زینب کے ساتھ اِن کے گھر چلے گئے اور رسولﷺ نے زینب سے فرمایا : اے زینب اِن کا اکرام کرو کہ یہ تیرا خالہ زاد اور بچوں کا باپ ھے مگر یہ تمہارے قریب نہ آئے
کیونکہ یہ تمہارے لیے حلال نہیں ہے اب.
گھر جا کر حضرت زینب نے ابوالعاص بن الربيع سے کہا : اے ابوالعاص جدائی نے تُجھے تھکا دِیا ھے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے کیا اِسلام قبول کر کے ھمارے ساتھ رھو گے؟
ابوالعاص : نہیں
اپنا مال لے کر مکہ روانہ ھو گیا جب مکہ پہنچا تو کہا : اے لوگو ، یہ لو اپنے اپنے مال ، کیا کسی کا کوئی مال میرے ذِمے ھے؟..
لوگوں نے کہا : اللہ تمہیں بدلہ دے تم نے بہتر وعدہ نبھایا
ابوالعاص نے کہا : میں گواھی دیتا ھوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اللہ کے رسول ھیں
اسکے بعد مدینہ روانہ ھوا اور جب مدینہ پہنچے تو پھر فجر کا وقت تھا ، سیدھا نبیﷺ کے پاس گئے اور کہا :
کل آپﷺ نے مجھے پناہ دِی تھی اور آج میں کہنے آیا ھوں کہ "میں گواھی دیتا ھوں کہ اللہ کے سِوا کوئی معبود نہیں اور آپﷺ اللہ کے رسولؐ ھیں"
ابوالعاص نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ کیا زینب کے ساتھ رجوع کی اِجازت دیتے ھیں؟ میں تھک چکا ہوں اب جدائی سہتے سہتے.
نبیﷺ نے ابوالعاص کا ھاتھ پکڑ کر فرمایا : آؤ میرے ساتھ..
زینب کے دروازے پر لے جا کر دروازہ کھٹکھٹایا اور زینب سے فرمایا : یہ تمہارا خالہ زاد واپس آیا ھے اسلام قبول کر چکا ہے تم سے رجوع کی اِجازت مانگ رھا ھے کیا تمہیں قبول ھے؟
زینب کا چہرہ سُرخ ھوا اور مُسکرائی
عجیب بات یہ ھے کہ اِس واقعے کے صرف ایک سال بعد زینب کا اِنتقال ھوا جِس پر ابوالعاص زاروقطار بچوں کی طرح رونے لگے حتی کہ بعد میں بھی لوگوں کے سامنے رو پڑتے اور رسولﷺ اِن کے سر پر ھاتھ پھیر کر تسلی دیتے تھے.
جواب میں ابوالعاص کہتے : اے اللہ کے رسولﷺ ، اللہ کی قسم زینب کے بغیر دُنیا میں زندہ نہیں رہ سکتا
اور ایک سال کے بعد ھی ابوالعاص بھی اِنتقال کر گئے.
12/01/2024
ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﻨﮏ ﻣﯿﮟ ﺧﻠﯿﻔﮧِ ﺳﻮﻡ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﭧ ﺍﮐﺎﻭﻧﭧ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮﮔﯽ ﮐﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮّﺭﮦ ﮐﯽ ﻣﯿﻮﻧﺴﭙﻠﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﺟﺎﺋﯿﺪﺍﺩ ﺭﺟﺴﭩﺮﮈ ﮨﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﺠﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺑﻞ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﻧﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﺗﯿﺮویں ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﺮﮐﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮّﺭﮦ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﻗﻠﺖ ﺗﮭﯽ۔
ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮّﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﺩﺍﻣﻮﮞ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﺗﺎ۔
ﺍﺱ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ "ﺑﺌﺮِ ﺭﻭﻣﮧ" ﯾﻌﻨﯽ ﺭﻭﻣﮧ ﮐﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻥ ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﯿﺎ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
"ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﻮ ﯾﮧ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺧﺮﯾﺪﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ لئے ﻭﻗﻒ ﮐﺮ ﺩﮮ۔۔۔؟
ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﺍﺳﮯ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﺸﻤﮧ ﻋﻄﺎﺀ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ"۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﺱ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ۔
ﮐﻨﻮﺍﮞ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﺑﺨﺶ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ لئے ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺗﺪﺑﯿﺮ ﮐﯽ ﮐﮧ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﭘﻮﺭﺍ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﻧﮧ ﺳﮩﯽ،
ﺁﺩﮬﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮ ﺩﻭ۔۔۔!!!
ﺁﺩﮬﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ۔
ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﺱ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﭘﺮ ﻻﻟﭻ ﻣﯿﮟ ﺁ گیا۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﺩﺍﻣﻮﮞ ﻓﺮﺧﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﺩﮬﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻭﮦ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﻗﻒ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﺳﮯ ﻣﻔﺖ ﭘﺎﻧﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﮮ ﺩﯼ۔
ﻟﻮﮒ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ ﻣﻔﺖ ﭘﺎﻧﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺫﺧﯿﺮﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ۔
ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﺨﺺ ﭘﺎﻧﯽ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﺗﺎ۔
ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﻣﺎﻧﺪ ﭘﮍ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﻗﯽ ﺁﺩﮬﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺑﮭﯽ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﮐﺮ ﺩﯼ۔
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻢ ﻭ ﺑﯿﺶ ﭘﯿﻨﺘﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ لئے ﻭﻗﻒ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﻟﺪﺍﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺩﻭﮔﻨﺎ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﺮ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮐﯽ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ "ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮨﮯ"۔
ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﮔﻨﺎ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺌﯽ ﮔﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﮔﻨﺎ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺭﻗﻢ ﺑﮍﮬﺎﺗﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﯾﮩﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ﺭﮨﮯ۔
ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ " ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺧﺮ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﺱ ﮔﻨﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔۔۔؟
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ " ﻣﯿﺮﺍ ﺭﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﮑﯽ ﭘﺮ ﺩﺱ ﮔﻨﺎ ﺍﺟﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ"۔
ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺩﻭﺭِ ﺧﻼﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﮐﮭﺠﻮﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﻍ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﺑﻌﺪ ﺍﺯﺍﮞ ﺁﻝِ ﺳﻌﻮﺩ ﮐﮯ ﻋﮩﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺳﻮ ﭘﭽﺎﺱ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔
ﺣﮑﻮﻣﺖِ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﭼﺎﺭ ﺩﯾﻮﺍﺭﯼ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﮕﮧ ﻣﯿﻮﻧﺴﭙﻠﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﺟﺴﭩﺮﮈ ﮐﺮ ﺩﯼ۔
ﻭﺯﺍﺭﺕِ ﺯﺭﺍﻋﺖ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﮐﮭﺠﻮﺭﯾﮟ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﯿﻨﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻭﺍﺗﯽ ﺭﮨﯽ۔
ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﺍﺱ ﺍﮐﺎﻭﻧﭧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮّﺭﮦ ﮐﮯ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﻋﻼﻗﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﮐﯽ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺸﺎﺩﮦ ﭘﻼﭦ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻓﻨﺪﻕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ ﮨﻮﭨﻞ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔
ﺍﺱ ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ ﮨﻮﭨﻞ ﺳﮯ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﭘﭽﺎﺱ ﻣﻠﯿﻦ ﺭﯾﺎﻝ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﻣﺘﻮﻗﻊ ﮨﮯ۔
ﺟﺲ ﮐﺎ ﺁﺩﮬﺎ ﺣﺼّﮧ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮑﯿﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻔﺎﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﺁﺩﮬﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺑﯿﻨﮏ ﺍﮐﺎﻭﻧﭧ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮگا۔
ﺫﻭﺍﻟﻨّﻮﺭﯾﻦ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﺍﻭﺭ ﺧﻠﻮﺹِ ﻧﯿﺖ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺍﻥ ﮐﮯ لئے ﺻﺪﻗﮧ ﺟﺎﺭﯾﮧ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ۔
ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﺌﮯ۔
ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﯽ💖
12/01/2024
💕جمعـــــــه کی ان مبارک ساعتــــوں میں
🥀بــارگاہ رســالت🥀 میں درود پـاک کا ہدیہ پیـــش کرتے جائیـــں۔💕
🥀آپ ڪے نام ڪو ہم نے دوائے دردِ دل جانا
آپ ڪے ذڪر ڪو ہم باعثِ تسڪینِ جاں سمجھے🥀
❣️صـــلی اللــــه علیــه وســــلم❣️
💗صبــــــــــاح الخيــــــــــر 💗
10/01/2024
﷽
🌹 " دعــــــــا "🌹
اللــــــــــــــــه پاک آپکی جــــان ،مــــال ،ایمــــان ، آبــــرو، روزی،رزق،علــــم ،عمــــل ،اور زندگــــی میں برکتیــــں،رحمتیــــں.عــــطاء فرمــــاۓ
آپکــــو تاحیاتــــ
تنــــدرست، ســــلامت
اور شــــادوآبــــاد رکهــــے
🌹آمـــــيـن🌷
10/01/2024
استغفار نہ چھوڑیں ورنہ نجات سے محروم ہو جائیں گے:
وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون
الله انہیں عذاب دینے والا نہیں ہے جب کہ وہ استغفار کرتے ہوں ( الانفال آیت 33)
نیکی کی دعوت
آٸیں درود پاک کی محفل سجاتے ھیں سب اپنا حصہ ڈالیں۔
*•●◉✧ صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 📿✧◉●•*
*●✧صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد ﷺ ✧●*
*●✧صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰیہ وسلَّم ﷺ ✧●*
صلّت عليك منابرٌ و مآذنٌ
وخلائقُ الدُّنيا و هاماتُ القِمَم
ﷺ
*آپ ﷺ جناب پر تو بڑے بڑے منبروں اور اذانوں کے ذریعے درود پیش کیا جاتا ہے۔*
*اور دنیا کی مخلوقات سے لیکر دنیا کی چوٹیوں کی بلندیوں تک سے درود و رحمت آپ کیلئے ہے۔*۔۔
08/01/2024
our Academy has 12 years of waste experience in teaching Quran Arabic language Hadish and all islamic issues We gave a 3 day free trial class to students for more information you can contact on WhatsApp...
0092-345-613-2182
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Address
Islamabad
00092