پراسرار واقعات
اسلامی ، دلچسپ ،معلوماتی
انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت۔۔۔ اناڑی لوگ قربانی کےنام پر جانور سے مذاق کر رہے ہیں۔۔۔ حیدر آباد، سندھ👆😢
حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ جنگل میں پیش آنے والا واقعہ
مزید معلوماتی اور دینی واقعات سننے کے لئے ہمارا یو ٹیوب چینل وزٹ کریں۔ شکریہ
https://www.youtube.com/channel/UCT6SjaQm6u0i4-oA9NkEK2Q
لاہور سے ملتان جانے والی بس میں شادی کا انوکھا واقعہ۔ مزید معلوماتی اور دینی واقعات سننے کے لئے ہمارا یو ٹیوب چینل وزٹ کریں۔ شکریہ
https://www.youtube.com/channel/UCT6SjaQm6u0i4-oA9NkEK2Q
یادداشت چیک کرو بندے کی۔
عمران نیازی کی کیا کی ھے.
02/12/2019
دنیا کے 9 ممالک تک پھیلا ہوا ہے، جس میں سرفہرست برازیل ہے۔
اس کا کل رقبہ 55 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے، جبکہ پاکستان کا رقبہ 7 لاکھ 95 ہزار مربع کلومیٹر ہے.
یہ جنگل ساڑھے پانچ کروڑ سال پرانا ہے
ایمزون ایک یونانی لفظ ہے جسکا مطلب لڑاکو عورت ہے
زمین کی 20 فیصد آکسیجن صرف ایمزون کے درخت اور پودے پیدا کرتے ہیں
دنیا کے 40 فیصد جانور ، چرند، پرند، حشرات الارض ایمزون میں پائے جاتے ہیں
یہاں 400 سے زائد جنگلی قبائل آباد ہیں، انکی آبادی کا تخمینہ 45 لاکھ کے قریب بتایا گیا ہے۔ یہ لوگ اکیسیوں صدی میں بھی جنگلی سٹائل میں زندگی گذاررہے ہیں
اسکے کچھ علاقے اتنے گھنے ہیں کہ وہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچ سکتی اور دن میں بھی رات کا سماں ہوتا ہے
یہاں ایسے زیریلے حشرات الارض بھی پائے جاتے ہیں کہ اگر کسی انسان کو کاٹ لیں تو وہ چند سیکنڈ میں مرجائے
ایمزون کا دریا پانی کے حساب سے دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے, اسکی لمبائ 7ہزار کلومیٹر ہے،
دریائے ایمزون میں مچھلیوں کی 30 ہزار اقسام پائ جاتی ہیں
ایمزون کے جنگلات میں 60 فیصد جاندار ایسے ہیں جو ابھی تک بے نام ہیں
یہاں کی مکڑیاں اتنی بڑی اور طاقتور ہوتی ہیں کہ پرندوں تک کو دبوچ لیتی ہیں
یہاں پھلوں کی 30 ہزار اقسام پائ جاتی ہیں
مہم جو اور ماہر حیاتیات ابھی تک اس جنگل کے محض 10 فیصد حصے تک ہی جاسکے ہیں
اگر آپ ایمزون کے گھنے جنگلات مین ہوں اور موسلا دھار بارش شرع ہوجائے تو تقریبا 12 منٹ تک آپ تک بارش کا پانی نہیں پہنچے گا.
02/12/2019
چلغوزوں کا دیدار کرلیں ۔۔ میں نے چلغوزوں کی کاشت پہلی بار دیکھی ہے آپ بھی دیکھیں اور دوستوں کے ساتھ شئیر کریں ۔۔اس وقت کی مہنگی ترین فصل
ہاہاہاہاہا۔۔ کمال کر دیا بکرے نے تو😆😆😆😂😂
ویڈیو کو لائیک اور شئیر ضرور کریں۔شکریہ
کھودا پہاڑ نکلا چوہا
کل سے ایک ویڈیو فیسبک پر گردش کر رہی ہے جس میں کسی مدرسے کے بچے کو لٹکایا جاتا ہے
اس ویڈیو پر نہ جانے کتنوں نے اپنی بھڑاس نکالنے کی کوشش کیا
اور مدارس والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تحقیق کسی نے نہیں کیا
حتی کہ وفاق المدارس نے فوراً اس مدرسے کی رجسٹریشن بھی منسوخ کر دیا
وفاق کے ترجمان نے پریس کانفرنس بھی کر لیا
مگر کسی نے یہ گوارا نہیں کیا کہ پہلے خود جاکر تحقیق کرتے، وفاق المدارس کے اس رویے پر کف افسوس ملنے کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے
ایک طرف مدارس کے بچے پس رہے ہیں
مدارس پر ظلم و تشدد ہو رہا ہے بچے، بچیوں کو کہانا تک نہیں مل رہا ہے، بجلی کاٹا گیا ہے، گیس کی سپلائی معطل کر دی گی ہے، اتنا ظلم، اتنی زیادتی ہو رہی ہے، بے گناہوں کو ملکی دارالحکومت میں بلا کر موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے ، جعلی پولیس مقابلے میں بے گناہوں کے چیتھڑے اڑا دیے جاتے ہیں، کالج و یونیورسٹیوں میں ڈگریوں کے بدلے بچیوں کی عزت لوٹی جاتی ہے، عزت کے ساتھ کھیلا جاتا ہے، ریپ کے واقعات رونما ہوتے ہیں مگر کسی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی ہے، کوئی قیامت برپا نہیں کرتا، کوئی پریس کانفرنس نہیں کرتا، کوئی گرفتاری نہیں ہوتی، پولیس کسی کو ہتھکڑیاں ڈال کر میڈیا کے سامنے پیش نہیں کرتی، سوشل میڈیا پر کوئی دو لفظ نہیں بولتا ہے جبکہ دوسری طرف ایک بچے کی ویڈیو سامنے آتے کے بعد، وفاق المدارس رجسٹریشن معطل کر دیتا ہے، ترجمان
جلدی جلدی پریس کانفرنس کر لیتا ہے، گرفتاری بھی ہوجاتی ہے، واری صاحب کو ہتھکڑیاں بھی ڈالی جاتی ہیں، میڈیا کے سامنے پیش بھی کیا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر قیامت برپا ہو جاتی ہے، مگر تحقیق کسی نے نہیں کیا، اب جب بچے نے خود میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قاری صاحب نہیں تھے چھٹی ہو گی تھی، بچوں نے شرارتیں کرتے ہوئے مجھے ڈرانے کیلئے مجھے لٹاکایا تھا، ساتھ میں دوسرے بچوں نے تصدیق بھی کر دیا بچے کے والد نے بھی اس بات کا اقرار کیاکہ بچوں کی شرارت تھی قاری صاحب کا کوئی قصور نہیں
اب کیا ہوگا سب کا منہ کالا ہو گیا، میڈیا کی مدارس دشمنی،اور اسلام دشمنی کھل کر سامنے آگئی ،اہل مدارس کا دوغلا پن سامنے آگیا، وفاق المدارس والوں کی بے حسی بھی سامنے آگئی، اب چاہیے کہ وفاق المدارس والے ہوں یا ان کے ترجمان، اہل مدارس ہوں یا میڈیا والے سب کو اپنے الفاظ واپس لینا چاہیے اور اس قاری صاحب اور اس مدسہ کے انتظامیہ سے معذرت کرنی چاہے، قاری صاحب کی جو تذلیل کیا ہے اس پر اس سے کھلے عام معافی مانگنی چاہیے اور اسی طرح اپنی غلطی کا اعتراف کرنا چاہیے جس طرح کل سب کے منہ بند نہیں ہو رہے تھے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Islamabad