10/04/2026
Pakistan stood for peace. Diplomacy over conflict, dialogue over war.
We appreciate Prime Minister Shahbaz Sharif and Field Marshal Asim Munir for playing a positive role in promoting peace and helping to reduce tensions during the ongoing situation between the United States and Iran.
31/07/2022
“Collective Illusions”
دو فراڈئیے ایک بادشاہ کو باور کرواتے ہیں کہ وہ بادشاہ کے لیے ایک ایسا لباس تیار کریں گے جس کی خاصیت صرف ذہین لوگ دیکھ سکیں گے۔ بادشاہ متاثر ہوکر مہنگے داموں اس لباس کو خریدتا ہے اور پہن کر شان سے دربار میں چل رہا ہوتا ہے، لوگ واہ واہ کرتے تھک نہیں رہے ہوتے، ایسے میں ایک بچہ چلا کر کہتا ہے کہ ‘بادشاہ سلامت آپ برہنہ ہیں’ ، اور یوں ان دو فراڈیوں کا بھید کھل جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بادشاہ برہنہ تھا تو پھر لباس کی تعریفوں کے پُل کیوں باندھے جارہے تھے؟ کیا بادشاہ محض اس بچے کو برہنہ نظر آرہا تھا؟
چونکہ فراڈیوں نے کہا تھا کہ بادشاہ کے لباس کی خصوصیت صرف “ذہین” لوگوں کو نظر آئے گی تبھی بادشاہ کے دربار میں “سچ “ بول کر کوئی بھی “بیوقوف” نہیں دکھنا چاہتا تھا، اور یہی وجہ کہ سب انفرادی طور پر سچ جانتے ہوئے بھی اجتماعی طور پر ایک برم (illusion) کو فروغ دے رہے تھے، انفرادی طور پر سچ جانتے ہوئے اس دھوکے میں رہ کر اجتماعی طور پرجھوٹ کو فروغ دینا کہ ‘شاید سب سچ کے برعکس سوچتے ہیں’ کو ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ٹوڈ روز “اجتماعی برم” (collective illusions) کہتے ہیں۔
انسان ایسا کیوں کرتے ہیں؟
اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری بیالوجی، نیورولوجی اور سائیکالوجی ہے، فطرت نے ہمیں ڈیزائن ہی گروپ کی شکل میں رہنے کے لیے کیا ہے۔ اس ڈیزائن کے فوائد ہیں جن کی بدولت تعاون سے ہم اس سیارے کے حاکم بن گئے لیکن اس گروپ-ازم کے نقصانات بہت گمبھیر ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ کس طرح کوپی-کیٹ اور مطابقت (conformity) ہماری پر جاتی کے لیے تکلیف اور مشکلات کا باعث بنی ہے۔ ٹوڈ نے اپنی اس کتاب میں عام زندگی سے لے کر حکومتی سطح پر چل رہے مختلف اوہام اور ان کے فروغ سے ہونے والے نقصانات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
مختلف ریسرچ اور ڈیٹا کے ذریعے پروفیسر ٹوڈ اس بات کو زیرِ بحث لائے ہیں کہ کس طرح ‘ اجتماعی برم’ بہت بڑی سطح کر کام کر رہے کس طرح ان اوہام کو چیلنج کرنا ہمیں ناممکن لگتا ہے، لیکن ریسرچ بتاتی ہے کہ جھوٹے برم بیشک بڑی سطح پر پھل پھول رہے ہیں لیکن ان کی بنیاد بہت کمزور ہوتی ہے، جہاں صدیاں لگ جاتی ہیں نظریات کو لوگوں کے دماغوں میں بھرنے کے لیے، وہاں ان کو چکنا چور کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا، بس ہمت چاہیے ہوتی ہے کہ بوسیدہ اوہام کا پہلے سراغ لگانا اور پھر ان کو جھٹلا کر ان کے خلاف جاکر جھوٹے نظریات اور رسم و رواج کو زمین بوس کردینا ہے۔
یہ کوئی سیلف-ہیلپ (self-help) کتاب نہیں ہے بلکہ خالص ریسرچ پر مبنی کانٹینٹ ہے۔ مجھے اتنا تو معلوم تھا کہ انسان ایک “معاشرتی اور سماجی “مخلوق ہے لیکن کس خطرناک حد تک سماج کے ساتھ چلنے کے لیے قربانیاں دیتا ہے انسان، اس بات کا اندازہ اس کتاب کو پڑھ کر ہوا(اور نوع انسانی پر ترس بھی آیا)۔ ہم الٹرا سوشل پر جاتی ہیں اور ہمارے لیے گروپ کے ساتھ مل کر چلنا ہمیں اپنی کامیابی اور خوشی سے زیادہ عزیز ہے۔ اس میں ہمارا قصور نہیں فطرت نے ہمیں ڈیزائن ہی اس طرح سے کیا ہے۔ لیکن ہمت اور شعور کی تلوار سے ہم گروپ کے فریبی اور نقصان دینے والے نظریات اور رسم و رواج کا سر قلم کر کے انفرادی اور اجتماعی طور پر بہتر اور حقیقت پر مبنی فیصلے لے سکتے ہیں۔
Nida Ishaque
13/04/2022
https://ndu.edu.pk/temp/job/2022/april/Ad-for-NP-12Apr2022.pdf MAKE A CAREER IN NATIONAL DEFENCE UNIVERSITY
ndu.edu.pk
05/04/2022
کون ہوگا جو مجھے اس کی طرح یاد کرے ...