08/08/2026
پچھلے دروازے پر
ہم عقل کے ساتھ ایک طویل سفر طے کر چکے تھے۔
ہم نے دیکھا
کہ عقل
اللہ کی عطا کردہ عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک ہے۔
اسی عقل نے
حضرت ابراہیمؑ کو ستاروں سے آگے دیکھنا سکھایا۔
اسی عقل نے
انسان کو کائنات پر غور کرنا سکھایا۔
اسی عقل نے
اسے سوال کرنا سکھایا۔
لیکن
اسی سفر کے آخر میں
ہم ایک ایسی دیوار کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے
جسے عقل
اپنی پوری طاقت کے باوجود پار نہ کر سکی۔
عقل نے کہا:
"ایک خالق ضرور ہے۔"
لیکن
وہ یہ نہ بتا سکی
وہ خالق کون ہے؟
وہ کیا پسند کرتا ہے؟
انسان کو کیوں پیدا کیا گیا؟
موت کے بعد کیا ہوگا؟
اور
اس خالق تک پہنچنے کا صحیح راستہ کون سا ہے؟
...
یہاں
انسان کی تاریخ کا سب سے اہم لمحہ شروع ہوتا ہے۔
کیونکہ
جب انسان کے سوال ختم نہیں ہوئے
مگر عقل کے جواب ختم ہو گئے
تو
اللہ نے انسان کو تنہا نہیں چھوڑا۔
یہی
رحمت کا آغاز ہے۔
یہی
وحی کا آغاز ہے۔
---
اکثر لوگ
وحی کو صرف قرآن سمجھتے ہیں۔
لیکن
قرآن ہمیں بتاتا ہے
کہ "وحی" کا لفظ
اللہ کے ایک خاص طریقۂ ابلاغ کا نام ہے۔
اللہ تعالیٰ نے
شہد کی مکھی کے بارے میں فرمایا
«"اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی"
(سورۃ النحل 16:68)»
یہاں
وحی
شریعت نہیں۔
بلکہ
اللہ کی طرف سے عطا کی گئی فطری رہنمائی ہے۔
اسی طرح
حضرت موسیٰؑ کی والدہ کے بارے میں فرمایا:
«"اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی کی"
(سورۃ القصص 28:7)»
یہ بھی
نبوت کی وحی نہیں تھی۔
بلکہ
اللہ کی طرف سے دل میں ڈالی گئی رہنمائی تھی۔
لیکن
جب بات انبیاء علیہم السلام کی آتی ہے
تو وحی
اپنے کامل ترین معنی اختیار کر لیتی ہے۔
یہ
اللہ تعالیٰ کا اپنے منتخب رسولوں سے ایسا کلام ہے
جس کے ذریعے
انسانیت کو ہدایت دی جاتی ہے۔
---
یہاں
ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر
اللہ نے انسان کو عقل دی تھی
تو پھر
انبیاء کیوں بھیجے؟
کیا
عقل ناکام ہو گئی تھی؟
نہیں۔
عقل ناکام نہیں ہوئی۔
بلکہ
عقل اپنی مقررہ حد تک پہنچ گئی تھی۔
فرق
یہ سمجھنے میں ہے۔
آنکھ
روشنی دیکھ سکتی ہے۔
لیکن
آواز نہیں سن سکتی۔
کان
آواز سن سکتے ہیں۔
لیکن
رنگ نہیں دیکھ سکتے۔
کیا اس کا مطلب
آنکھ ناقص ہے؟
یا
کان ناقص ہیں؟
ہرگز نہیں۔
ہر نعمت
اپنی حد کے اندر کامل ہوتی ہے۔
بالکل اسی طرح
عقل
اپنی حد کے اندر مکمل ہے۔
مگر
جو حقیقت
اس کی حد سے آگے ہے
اسے جاننے کے لیے
اللہ نے
وحی عطا فرمائی۔
---
یہی وجہ ہے
کہ اسلام
عقل اور وحی کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بناتا۔
بلکہ
وحی
عقل کو بجھاتی نہیں
اسے روشنی دیتی ہے۔
عقل
سوال پیدا کرتی ہے۔
وحی
صحیح جواب عطا کرتی ہے۔
عقل
دروازے تک پہنچاتی ہے۔
وحی
دروازہ کھول دیتی ہے۔
...
اور شاید
یہی انسان کی سب سے بڑی خوش نصیبی ہے۔
وہ
ایسی مخلوق نہیں
جسے صرف سوچنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہو۔
وہ
ایسی مخلوق ہے
جس سے
اس کا رب
خود مخاطب ہوا۔
...
سوچیے
اگر
اللہ انسان سے کبھی مخاطب ہی نہ ہوتے
تو کیا ہوتا؟
ہر قوم
اپنی عقل کے مطابق
اپنا ایک خدا بنا لیتی۔
ہر زمانہ
اپنا ایک اخلاقی معیار طے کر لیتا۔
جو چیز
ایک قوم کے نزدیک نیکی ہوتی
دوسری قوم
اسے برائی قرار دیتی۔
حق
رائے بن جاتا۔
اور
رائے
سچ بن جاتی۔
کیا آج
دنیا میں یہی نہیں ہو رہا؟
ایک معاشرہ
کسی چیز کو آزادی کہتا ہے۔
دوسرا
اسی چیز کو تباہی کہتا ہے۔
ایک قوم
کسی عمل کو انسانیت سمجھتی ہے۔
دوسری
اسی کو ظلم کہتی ہے۔
کیوں؟
کیونکہ
جب انسان
صرف اپنی عقل کو آخری معیار بنا لیتا ہے
تو ہر عقل
اپنا الگ راستہ بنا لیتی ہے۔
اسی لیے
اللہ نے
حق کو انسانوں کی رائے کے سپرد نہیں کیا۔
بلکہ
اپنا کلام نازل فرمایا۔
---
یہاں
قرآن ایک بہت بڑا اصول بیان کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«"بے شک ہم نے یہ ذکر نازل کیا ہے، اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔"
(سورۃ الحجر 15:9)»
غور کیجیے
انسان
اپنی کتابوں کی حفاظت کرتا ہے۔
لیکن
قرآن
وہ کتاب ہے
جس کی حفاظت
خود اللہ نے اپنے ذمہ لی۔
کیوں؟
کیونکہ
اگر ہدایت کا سرچشمہ ہی بدل جاتا
تو
انسان
پھر کبھی منزل تک نہ پہنچ سکتا۔
---
پھر
ایک اور حیرت انگیز حقیقت سامنے آتی ہے۔
وحی
صرف احکام کی فہرست نہیں۔
وحی
اللہ کا تعارف بھی ہے۔
ہم عقل سے جان لیتے ہیں
کہ خالق موجود ہے۔
لیکن
وحی ہمیں بتاتی ہے
وہ الرحمٰن ہے۔
وہ الرحیم ہے۔
وہ الغفور ہے۔
وہ الحکیم ہے۔
وہ
ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔
یہ سب
عقل خود دریافت نہیں کر سکتی تھی۔
---
اب
پہلی وحی کی طرف آئیے۔
غارِ حرا
خاموش تھا۔
محمد ﷺ
تنہائی میں غور و فکر کر رہے تھے۔
پھر
آسمان سے
پہلا پیغام آیا۔
«"اقْرَأْ"
"پڑھو"»
یہاں رک کر سوچیے۔
پہلا حکم
نماز نہیں تھا۔
روزہ نہیں تھا۔
زکوٰۃ نہیں تھی۔
پہلا حکم
پڑھو تھا۔
لیکن
کیا پڑھو؟
صرف کتاب؟
نہیں۔
اپنے رب کی نشانیوں کو پڑھو۔
کائنات کو پڑھو۔
اپنے وجود کو پڑھو۔
اپنی فطرت کو پڑھو۔
اور
پھر
اللہ کے کلام کو پڑھو۔
---
یہی
عقل اور وحی کا حسین ترین ملاپ ہے۔
عقل
انسان کو دیکھنا سکھاتی ہے۔
وحی
اسے صحیح دیکھنا سکھاتی ہے۔
عقل
سوال پیدا کرتی ہے۔
وحی
سوالوں کو منزل تک پہنچاتی ہے۔
---
لیکن
ایک راز ابھی باقی ہے۔
اللہ نے
اپنا کلام نازل کر دیا۔
مگر
کیا صرف کتاب کافی تھی؟
کیا
ہر انسان
اس کتاب کو
اپنی عقل سے
صحیح سمجھ سکتا تھا؟
یا
اللہ تعالیٰ نے صرف کتاب ہی نازل نہیں فرمائی، بلکہ اس کتاب کو عمل میں ڈھالنے کے لیے ایک عظیم اسوہ بھی عطا فرمایا۔
جو چلتا تھا
بولتا تھا
جیتا تھا
اور
قرآن کو
اپنی زندگی میں مجسم کر کے دکھاتا تھا؟
شاید
ہدایت کی سب سے بڑی نعمت
صرف کتاب نہیں تھی
بلکہ
وہ ہستی تھی
جس نے کتاب کو
زندگی بنا کر دکھایا۔
---
🚪 دروازہ 15
ہدایتِ رسول ﷺ
کیا قرآن کو سمجھے بغیر رسول ﷺ تک پہنچا جا سکتا ہے؟
یا... رسول ﷺ کو سمجھے بغیر... قرآن کبھی مکمل سمجھ ہی نہیں آ سکتا؟
📖 رازِ تخلیق جاری ہے
عاقب احمد