Rehnuma Foundation Pakistan

Rehnuma Foundation Pakistan

Share

This course is an introduction to argumentation and debate.

"رہنماء فاؤنڈیشن پاکستان" شعور و خودی کی بیداری، کردار سازی، امن، اور انسانی حقوق کے فروغ کے ذریعے ایک باوقار اور باہمی احترام پر مبنی نسل کی رہنمائی کا عزم رکھتی ہے۔ Students will be expected to
construct arguments and present arguments in both a public speaking and debate format. The goals of this course are to enhance student’s critical thinking skills and to develop
proficiency in generating and constructing effective arguments.

08/08/2026

‎پچھلے دروازے پر

‎ہم عقل کے ساتھ ایک طویل سفر طے کر چکے تھے۔

‎ہم نے دیکھا

‎کہ عقل

‎اللہ کی عطا کردہ عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک ہے۔

‎اسی عقل نے

‎حضرت ابراہیمؑ کو ستاروں سے آگے دیکھنا سکھایا۔

‎اسی عقل نے

‎انسان کو کائنات پر غور کرنا سکھایا۔

‎اسی عقل نے

‎اسے سوال کرنا سکھایا۔

‎لیکن

‎اسی سفر کے آخر میں

‎ہم ایک ایسی دیوار کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے

‎جسے عقل

‎اپنی پوری طاقت کے باوجود پار نہ کر سکی۔

‎عقل نے کہا:

‎"ایک خالق ضرور ہے۔"

‎لیکن

‎وہ یہ نہ بتا سکی

‎وہ خالق کون ہے؟

‎وہ کیا پسند کرتا ہے؟

‎انسان کو کیوں پیدا کیا گیا؟

‎موت کے بعد کیا ہوگا؟

‎اور

‎اس خالق تک پہنچنے کا صحیح راستہ کون سا ہے؟

‎...

‎یہاں

‎انسان کی تاریخ کا سب سے اہم لمحہ شروع ہوتا ہے۔

‎کیونکہ

‎جب انسان کے سوال ختم نہیں ہوئے

‎مگر عقل کے جواب ختم ہو گئے

‎تو

‎اللہ نے انسان کو تنہا نہیں چھوڑا۔

‎یہی

‎رحمت کا آغاز ہے۔

‎یہی

‎وحی کا آغاز ہے۔

‎---

‎اکثر لوگ

‎وحی کو صرف قرآن سمجھتے ہیں۔

‎لیکن

‎قرآن ہمیں بتاتا ہے

‎کہ "وحی" کا لفظ

‎اللہ کے ایک خاص طریقۂ ابلاغ کا نام ہے۔

‎اللہ تعالیٰ نے

‎شہد کی مکھی کے بارے میں فرمایا

‎«"اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی"

‎(سورۃ النحل 16:68)»

‎یہاں

‎وحی

‎شریعت نہیں۔

‎بلکہ

‎اللہ کی طرف سے عطا کی گئی فطری رہنمائی ہے۔

‎اسی طرح

‎حضرت موسیٰؑ کی والدہ کے بارے میں فرمایا:

‎«"اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی کی"

‎(سورۃ القصص 28:7)»

‎یہ بھی

‎نبوت کی وحی نہیں تھی۔

‎بلکہ

‎اللہ کی طرف سے دل میں ڈالی گئی رہنمائی تھی۔

‎لیکن

‎جب بات انبیاء علیہم السلام کی آتی ہے

‎تو وحی

‎اپنے کامل ترین معنی اختیار کر لیتی ہے۔

‎یہ

‎اللہ تعالیٰ کا اپنے منتخب رسولوں سے ایسا کلام ہے

‎جس کے ذریعے

‎انسانیت کو ہدایت دی جاتی ہے۔

‎---

‎یہاں

‎ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔

‎اگر

‎اللہ نے انسان کو عقل دی تھی

‎تو پھر

‎انبیاء کیوں بھیجے؟

‎کیا

‎عقل ناکام ہو گئی تھی؟

‎نہیں۔

‎عقل ناکام نہیں ہوئی۔

‎بلکہ

‎عقل اپنی مقررہ حد تک پہنچ گئی تھی۔

‎فرق

‎یہ سمجھنے میں ہے۔

‎آنکھ

‎روشنی دیکھ سکتی ہے۔

‎لیکن

‎آواز نہیں سن سکتی۔

‎کان

‎آواز سن سکتے ہیں۔

‎لیکن

‎رنگ نہیں دیکھ سکتے۔

‎کیا اس کا مطلب

‎آنکھ ناقص ہے؟

‎یا

‎کان ناقص ہیں؟

‎ہرگز نہیں۔

‎ہر نعمت

‎اپنی حد کے اندر کامل ہوتی ہے۔

‎بالکل اسی طرح

‎عقل

‎اپنی حد کے اندر مکمل ہے۔

‎مگر

‎جو حقیقت

‎اس کی حد سے آگے ہے

‎اسے جاننے کے لیے

‎اللہ نے

‎وحی عطا فرمائی۔

‎---

‎یہی وجہ ہے

‎کہ اسلام

‎عقل اور وحی کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بناتا۔

‎بلکہ

‎وحی

‎عقل کو بجھاتی نہیں

‎اسے روشنی دیتی ہے۔

‎عقل

‎سوال پیدا کرتی ہے۔

‎وحی

‎صحیح جواب عطا کرتی ہے۔

‎عقل

‎دروازے تک پہنچاتی ہے۔

‎وحی

‎دروازہ کھول دیتی ہے۔

‎...

‎اور شاید

‎یہی انسان کی سب سے بڑی خوش نصیبی ہے۔

‎وہ

‎ایسی مخلوق نہیں

‎جسے صرف سوچنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہو۔

‎وہ

‎ایسی مخلوق ہے

‎جس سے

‎اس کا رب

‎خود مخاطب ہوا۔

‎...

‎سوچیے

‎اگر

‎اللہ انسان سے کبھی مخاطب ہی نہ ہوتے

‎تو کیا ہوتا؟

‎ہر قوم

‎اپنی عقل کے مطابق

‎اپنا ایک خدا بنا لیتی۔

‎ہر زمانہ

‎اپنا ایک اخلاقی معیار طے کر لیتا۔

‎جو چیز

‎ایک قوم کے نزدیک نیکی ہوتی

‎دوسری قوم

‎اسے برائی قرار دیتی۔

‎حق

‎رائے بن جاتا۔

‎اور

‎رائے

‎سچ بن جاتی۔

‎کیا آج

‎دنیا میں یہی نہیں ہو رہا؟

‎ایک معاشرہ

‎کسی چیز کو آزادی کہتا ہے۔

‎دوسرا

‎اسی چیز کو تباہی کہتا ہے۔

‎ایک قوم

‎کسی عمل کو انسانیت سمجھتی ہے۔

‎دوسری

‎اسی کو ظلم کہتی ہے۔

‎کیوں؟

‎کیونکہ

‎جب انسان

‎صرف اپنی عقل کو آخری معیار بنا لیتا ہے

‎تو ہر عقل

‎اپنا الگ راستہ بنا لیتی ہے۔

‎اسی لیے

‎اللہ نے

‎حق کو انسانوں کی رائے کے سپرد نہیں کیا۔

‎بلکہ

‎اپنا کلام نازل فرمایا۔

‎---

‎یہاں

‎قرآن ایک بہت بڑا اصول بیان کرتا ہے۔

‎اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

‎«"بے شک ہم نے یہ ذکر نازل کیا ہے، اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔"

‎(سورۃ الحجر 15:9)»

‎غور کیجیے

‎انسان

‎اپنی کتابوں کی حفاظت کرتا ہے۔

‎لیکن

‎قرآن

‎وہ کتاب ہے

‎جس کی حفاظت

‎خود اللہ نے اپنے ذمہ لی۔

‎کیوں؟

‎کیونکہ

‎اگر ہدایت کا سرچشمہ ہی بدل جاتا

‎تو

‎انسان

‎پھر کبھی منزل تک نہ پہنچ سکتا۔

‎---

‎پھر

‎ایک اور حیرت انگیز حقیقت سامنے آتی ہے۔

‎وحی

‎صرف احکام کی فہرست نہیں۔

‎وحی

‎اللہ کا تعارف بھی ہے۔

‎ہم عقل سے جان لیتے ہیں

‎کہ خالق موجود ہے۔

‎لیکن

‎وحی ہمیں بتاتی ہے

‎وہ الرحمٰن ہے۔

‎وہ الرحیم ہے۔

‎وہ الغفور ہے۔

‎وہ الحکیم ہے۔

‎وہ

‎ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔

‎یہ سب

‎عقل خود دریافت نہیں کر سکتی تھی۔

‎---

‎اب

‎پہلی وحی کی طرف آئیے۔

‎غارِ حرا

‎خاموش تھا۔

‎محمد ﷺ

‎تنہائی میں غور و فکر کر رہے تھے۔

‎پھر

‎آسمان سے

‎پہلا پیغام آیا۔

‎«"اقْرَأْ"

‎"پڑھو"»

‎یہاں رک کر سوچیے۔

‎پہلا حکم

‎نماز نہیں تھا۔

‎روزہ نہیں تھا۔

‎زکوٰۃ نہیں تھی۔

‎پہلا حکم

‎پڑھو تھا۔

‎لیکن

‎کیا پڑھو؟

‎صرف کتاب؟

‎نہیں۔

‎اپنے رب کی نشانیوں کو پڑھو۔

‎کائنات کو پڑھو۔

‎اپنے وجود کو پڑھو۔

‎اپنی فطرت کو پڑھو۔

‎اور

‎پھر

‎اللہ کے کلام کو پڑھو۔

‎---

‎یہی

‎عقل اور وحی کا حسین ترین ملاپ ہے۔

‎عقل

‎انسان کو دیکھنا سکھاتی ہے۔

‎وحی

‎اسے صحیح دیکھنا سکھاتی ہے۔

‎عقل

‎سوال پیدا کرتی ہے۔

‎وحی

‎سوالوں کو منزل تک پہنچاتی ہے۔

‎---

‎لیکن

‎ایک راز ابھی باقی ہے۔

‎اللہ نے

‎اپنا کلام نازل کر دیا۔

‎مگر

‎کیا صرف کتاب کافی تھی؟

‎کیا

‎ہر انسان

‎اس کتاب کو

‎اپنی عقل سے

‎صحیح سمجھ سکتا تھا؟

‎یا

‎اللہ تعالیٰ نے صرف کتاب ہی نازل نہیں فرمائی، بلکہ اس کتاب کو عمل میں ڈھالنے کے لیے ایک عظیم اسوہ بھی عطا فرمایا۔

‎جو چلتا تھا

‎بولتا تھا

‎جیتا تھا

‎اور

‎قرآن کو

‎اپنی زندگی میں مجسم کر کے دکھاتا تھا؟

‎شاید

‎ہدایت کی سب سے بڑی نعمت

‎صرف کتاب نہیں تھی

‎بلکہ

‎وہ ہستی تھی

‎جس نے کتاب کو

‎زندگی بنا کر دکھایا۔

‎---

‎🚪 دروازہ 15

‎ہدایتِ رسول ﷺ

‎کیا قرآن کو سمجھے بغیر رسول ﷺ تک پہنچا جا سکتا ہے؟

‎یا... رسول ﷺ کو سمجھے بغیر... قرآن کبھی مکمل سمجھ ہی نہیں آ سکتا؟

‎📖 رازِ تخلیق جاری ہے

‎ عاقب احمد

05/08/2026

‎پچھلے دروازے پر

‎ہم ایک ایسے مقام پر آ کر رکے تھے

‎جہاں ایک بہت بڑا پردہ ہٹ چکا تھا۔

‎ہم نے جانا

‎کہ عقل

‎اللہ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔

‎لیکن

‎ہم نے یہ بھی دیکھا

‎کہ یہی عقل

‎اگر عاجزی سے خالی ہو جائے

‎تو انسان کو ہدایت کے بجائے

‎اپنے ہی غرور کا قیدی بنا دیتی ہے۔

‎ابلیس

‎اس کی سب سے بڑی مثال تھا۔

‎اس کے پاس علم بھی تھا۔

‎عبادت بھی تھی۔

‎دلیل بھی تھی۔

‎لیکن

‎اس کے پاس ایک چیز نہیں تھی۔

‎جھکنے والا دل۔

‎...

‎یہاں

‎اکثر لوگ ایک غلطی کرتے ہیں۔

‎وہ سمجھتے ہیں

‎کہ عقل کا مطلب

‎ہر سوال کا جواب جان لینا ہے۔

‎حالانکہ

‎قرآن

‎عقل کو ایک مختلف انداز میں پیش کرتا ہے۔

‎قرآن

‎عقل کو

‎تلاش کا آغاز بناتا ہے

‎تلاش کا اختتام نہیں۔

‎---

‎ذرا

‎حضرت ابراہیمؑ کے سفر کو دیکھیے۔

‎وہ ایک ایسی قوم میں پیدا ہوئے

‎جو ستاروں کو دیکھتی تھی

‎اور انہیں معبود سمجھتی تھی۔

‎اگر وہ چاہتے

‎تو اپنے باپ دادا کی طرح

‎اسی راستے پر چل سکتے تھے۔

‎لیکن

‎انہوں نے ایک سوال پوچھا۔

‎"کیا

‎جسے غروب ہونا ہے

‎وہ میرا رب ہو سکتا ہے؟"

‎پھر

‎انہوں نے چاند کو دیکھا۔

‎پھر

‎سورج کو دیکھا۔

‎ہر مرتبہ

‎وہ صرف دیکھ نہیں رہے تھے

‎وہ سوچ رہے تھے۔

‎وہ صرف روایت قبول نہیں کر رہے تھے

‎وہ حقیقت تلاش کر رہے تھے۔

‎آخرکار

‎انہوں نے اعلان کیا:

‎"میں اپنا رخ اُس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔"

‎یہ اعلان

‎اندھی تقلید کا نتیجہ نہیں تھا۔

‎یہ

‎صحیح استعمال ہونے والی عقل کا نتیجہ تھا۔

‎---

‎یہاں

‎ایک نہایت اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔

‎عقل

‎انسان کو

‎سوال پوچھنا سکھاتی ہے۔

‎وحی

‎ان سوالوں کا صحیح جواب عطا کرتی ہے۔

‎اگر سوال نہ ہوں

‎تو تلاش پیدا نہیں ہوتی۔

‎اور

‎اگر وحی نہ ہو

‎تو تلاش

‎کئی مرتبہ انسان کو بھٹکا بھی دیتی ہے۔

‎اسی لیے

‎اسلام

‎نہ عقل کا انکار کرتا ہے

‎اور نہ

‎عقل کو خدا بنا دیتا ہے۔

‎اسلام

‎عقل کو

‎اس کی اصل جگہ دیتا ہے۔

‎---

‎آج کا انسان

‎پہلے سے کہیں زیادہ جانتا ہے۔

‎اس کے پاس

‎کتابیں ہیں۔

‎یونیورسٹیاں ہیں۔

‎تحقیق ہے۔

‎مصنوعی ذہانت ہے۔

‎خلاء کی تصویریں ہیں۔

‎سمندر کی تہہ کا علم ہے۔

‎لیکن

‎ایک سوال اب بھی اس کے سامنے کھڑا ہے۔

‎اگر معلومات

‎ہی نجات کا راستہ ہوتیں

‎تو آج کا انسان

‎تاریخ کا سب سے زیادہ مطمئن انسان ہونا چاہیے تھا۔

‎پھر

‎بے چینی کیوں بڑھ رہی ہے؟

‎خوف کیوں بڑھ رہا ہے؟

‎تنہائی کیوں بڑھ رہی ہے؟

‎کیونکہ

‎علم

‎اور حکمت

‎ایک چیز نہیں۔

‎معلومات

‎اور ہدایت

‎بھی ایک چیز نہیں۔

‎---

‎یاد رکھو

‎«ہر جاننے والا ہدایت یافتہ نہیں ہوتا

‎لیکن ہر ہدایت یافتہ ضرور جاننے کی طلب رکھتا ہے۔»

‎...

‎اور شاید

‎یہی عقل کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔

‎وہ انسان کو

‎بلندی تک بھی لے جا سکتی ہے۔

‎اور

‎اسی بلندی سے

‎زمین پر بھی گرا سکتی ہے۔

‎فرق

‎عقل میں نہیں۔

‎فرق

‎اس دل میں ہے

‎جو عقل کو چلا رہا ہوتا ہے۔

‎...

‎آج

‎ہم اس مقام تک پہنچ چکے ہیں

‎جہاں ایک اور سوال

‎ہمارا انتظار کر رہا ہے۔

‎اگر

‎عقل

‎اپنی پوری طاقت استعمال کرنے کے بعد

‎یہ مان لے

‎کہ اب میرے پاس

‎مزید آگے جانے کا راستہ نہیں

‎تو پھر

‎انسان کا ہاتھ کون پکڑتا ہے؟

‎کیا

‎اللہ

‎اپنی مخلوق کو

‎صرف سوچنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں؟

‎یا

‎وہ

‎خود

‎اس سے مخاطب ہوتے ہیں؟

‎شاید

‎انسان کی تاریخ کا سب سے عظیم لمحہ

‎وہ نہیں تھا

‎جب اس نے سوچنا سیکھا۔

‎بلکہ

‎وہ تھا

‎جب آسمان

‎زمین سے پہلی بار مخاطب ہوا۔

‎---

‎🚪 دروازہ 14

‎ہدایتِ وحی

‎جب عقل خاموش ہو گئی... تو آسمان نے انسان سے کیا کہا؟

‎📖 رازِ تخلیق جاری ہے

‎ عاقب احمد

04/08/2026

‎پچھلے دروازے پر

‎ہم نے ایک ایسا راز جانا

‎جسے سمجھے بغیر

‎ہدایت کو سمجھنا ممکن نہیں۔

‎ہم نے جانا

‎کہ ہدایت

‎صرف راستہ دکھانے کا نام نہیں۔

‎ہدایت

‎اللہ کے اس نور کا نام ہے

‎جو دل کو زندہ کر دیتا ہے۔

‎لیکن

‎اسی مقام پر

‎ایک سوال خاموشی سے ہمارے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔

‎اگر

‎ہدایت اللہ کی طرف سے آتی ہے

‎تو کیا انسان

‎اس کے لیے بالکل خالی پیدا ہوتا ہے؟

‎یا

‎اللہ

‎اسے دنیا میں بھیجتے وقت

‎اس کے وجود میں

‎اپنی پہچان کی کوئی نشانی بھی رکھ دیتے ہیں؟

‎یہ سوال

‎صرف ایک علمی سوال نہیں۔

‎یہ

‎آپ کی پوری شناخت کا سوال ہے۔

‎کیونکہ

‎اگر اس کا جواب "ہاں" ہے

‎تو پھر

‎آپ پوری زندگی

‎اپنے رب کو پہلی بار تلاش نہیں کر رہے

‎بلکہ

‎اس حقیقت کو دوبارہ یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

‎جو کبھی

‎آپ کے وجود کا حصہ تھی۔

‎---

‎ذرا

‎ایک نومولود بچے کو دیکھیے۔

‎وہ

‎اپنا نام نہیں جانتا۔

‎اپنی زبان نہیں جانتا۔

‎اپنی قوم نہیں جانتا۔

‎اپنا مذہب نہیں جانتا۔

‎دنیا کے کسی فلسفے سے واقف نہیں۔

‎لیکن

‎کیا وہ واقعی

‎کچھ بھی نہیں جانتا؟

‎قرآن کہتا ہے

‎نہیں۔

‎اللہ تعالیٰ

‎انسان کو خالی دل کے ساتھ دنیا میں نہیں بھیجتے۔

‎وہ

‎اس کے وجود میں

‎ایک خاموش چراغ رکھ دیتے ہیں۔

‎اسی چراغ کو

‎قرآن

‎فطرت کہتا ہے۔

‎---

‎اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

‎«"پس اپنا رخ یکسو ہو کر دین کی طرف قائم رکھو، اللہ کی اس فطرت پر جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔"

‎(سورۃ الروم 30:30)»

‎یہ آیت

‎صرف ایک حکم نہیں۔

‎یہ

‎انسان کی پیدائش کا اعلان ہے۔

‎اللہ فرماتے ہیں:

‎میں نے تمہیں

‎اپنی پہچان کی صلاحیت دے کر پیدا کیا۔

‎میں نے تمہارے دل میں

‎حق کو پہچاننے کی استعداد رکھ دی۔

‎میں نے تمہاری روح میں

‎اپنی طرف لوٹنے کی ایک خاموش طلب رکھ دی۔

‎---

‎رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

‎«"ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔"

‎(صحیح بخاری، صحیح مسلم)»

‎غور کیجیے...

‎رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا:

‎"ہر بچہ عالم پیدا ہوتا ہے۔"

‎یہ بھی نہیں فرمایا:

‎"ہر بچہ دین سیکھ کر آتا ہے۔"

‎بلکہ فرمایا:

‎"ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔"

‎یعنی

‎اس کے اندر

‎اپنے رب کو قبول کرنے کی صلاحیت پہلے سے موجود ہوتی ہے۔

‎---

‎یہاں

‎ایک بہت بڑا راز کھلتا ہے۔

‎«ایمان انسان کے اندر داخل نہیں کیا جاتا

‎ایمان انسان کے اندر پہلے سے موجود صلاحیت کو بیدار کرتا ہے۔»

‎---

‎ذرا

‎بیج کو دیکھیے۔

‎ایک درخت

‎اس کے اندر پہلے سے موجود ہوتا ہے۔

‎مگر

‎زمین

‎پانی

‎روشنی

‎اور وقت

‎اسے ظاہر کرتے ہیں۔

‎اسی طرح

‎اللہ کی پہچان

‎انسان کے اندر رکھی جاتی ہے۔

‎لیکن

‎صحیح ماحول

‎صحیح سوچ

‎اور اللہ کی رحمت

‎اسے بیدار کرتی ہے۔

‎---

‎اب

‎ایک سوال۔

‎اگر ہر انسان

‎فطرت پر پیدا ہوتا ہے

‎تو پھر

‎دنیا میں اتنے مختلف عقائد کیوں ہیں؟

‎اتنے مختلف راستے کیوں ہیں؟

‎رسول اللہ ﷺ نے

‎اسی حدیث میں جواب دے دیا۔

‎«"...پھر اس کے والدین..."»

‎یعنی

‎پیدائش کے بعد

‎ماحول

‎تربیت

‎معاشرہ

‎ثقافت

‎اور انسان کے فیصلے

‎اس فطرت پر اثر ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔

‎غور کیجیے

‎حدیث یہ نہیں کہتی

‎کہ فطرت ختم ہو جاتی ہے۔

‎بلکہ

‎اس پر دوسری چیزیں غالب آ جاتی ہیں۔

‎---

‎اسی لیے

‎جب انسان

‎شدید مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے

‎تو

‎وہ بے اختیار آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔

‎کیوں؟

‎کس نے اسے سکھایا؟

‎کس نے اسے یاد دلایا؟

‎یہ...

‎فطرت کی آواز ہے۔

‎وہ آواز

‎جو دنیا کے شور میں دب گئی تھی

‎مگر

‎مصیبت نے

‎اسے دوبارہ جگا دیا۔

‎---

‎اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

‎«"جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اللہ ہی کو پکارتے ہیں، پھر جب وہ انہیں خشکی پر بچا لیتا ہے تو وہ دوبارہ شرک کرنے لگتے ہیں۔"

‎(سورۃ العنکبوت 29:65)»

‎یہ آیت

‎انسان کی فطرت کا آئینہ ہے۔

‎خطرہ آتا ہے

‎تو

‎دل

‎اپنی اصل کی طرف لوٹ جاتا ہے۔

‎کیونکہ

‎فطرت

‎ابھی بھی زندہ ہوتی ہے۔

‎---

‎یاد رکھیے

‎«فطرت انسان کو اللہ تک لے جانا چاہتی ہے

‎دنیا اسے اپنے اندر مصروف رکھنا چاہتی ہے۔»

‎اور

‎«انسان اللہ کو پہلی بار نہیں ڈھونڈتا

‎وہ پوری زندگی اس رب کو دوبارہ پہچاننے کی کوشش کرتا ہے

‎جسے اس کا دل کبھی بھولا ہی نہیں تھا۔»

‎---

‎آج

‎آپ نے شاید

‎اپنی زندگی کی ایک سب سے خوبصورت حقیقت جانی۔

‎آپ

‎اللہ سے دور پیدا نہیں ہوئے تھے۔

‎آپ

‎اللہ کی طرف مائل پیدا ہوئے تھے۔

‎دنیا نے

‎آپ کو بہت کچھ سکھایا۔

‎لیکن

‎شاید

‎سب سے پہلے

‎آپ کو آپ کی اپنی فطرت سے دور کر دیا۔

‎---

‎لیکن

‎ایک اور سوال

‎اب بھی باقی ہے۔

‎اگر

‎ہر انسان

‎اپنے رب کی پہچان کے ساتھ پیدا ہوتا ہے

‎تو پھر

‎ایک ہی گھر میں

‎دو بچے

‎دو مختلف راستوں پر کیوں چل پڑتے ہیں؟

‎کیا

‎صرف فطرت

‎انسان کو منزل تک پہنچانے کے لیے کافی تھی؟

‎یا

‎اللہ نے

‎فطرت کے بعد

‎انسان کو

‎ایک اور عظیم رہنما بھی عطا کیا؟

‎وہ رہنما

‎عقل ہے۔

---

‎🚪 دروازہ 13

‎ہدایتِ عقل (حصہ اوّل)

‎اگر فطرت دل کی آواز ہے... تو عقل اس آواز کو سمجھنے کا ذریعہ کیسے بنتی ہے؟


📖 رازِ تخلیق جاری ہے...

عاقب احمد

‎‎

03/08/2026

‎پچھلے دروازے پر

‎ہم ایک ایسی حقیقت کے سامنے کھڑے رہ گئے تھے

‎جس نے شاید

‎ہماری پوری زندگی کی بنیاد ہلا دی۔

‎ہم نے جان لیا

‎کہ صرف علم

‎انسان کو نہیں بدلتا۔

‎اگر

‎علم ہی کافی ہوتا

‎تو ابلیس

‎کبھی گمراہ نہ ہوتا۔

‎اگر

‎معلومات ہی کافی ہوتیں

‎تو دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے لوگ

‎سب سے زیادہ پرسکون ہوتے۔

‎لیکن

‎ایسا نہیں ہے۔

‎پھر

‎وہ کیا چیز ہے

‎جو ایک انسان کو اندھیرے سے نکال کر

‎نور میں لے آتی ہے؟

‎قرآن

‎اس کا ایک ہی لفظ استعمال کرتا ہے۔

‎ہدایت۔

‎لیکن

‎کیا ہم واقعی جانتے ہیں

‎ہدایت ہوتی کیا ہے؟

‎---

‎ہم میں سے اکثر

‎ہدایت کا مطلب صرف یہی سمجھتے ہیں

‎کہ کوئی شخص مسلمان ہو جائے

‎یا نماز پڑھنا شروع کر دے

‎یا گناہ چھوڑ دے۔

‎مگر...

‎قرآن میں ہدایت

‎صرف ایک عمل کا نام نہیں۔

‎ہدایت

‎اللہ کی طرف سے عطا ہونے والی وہ روشنی ہے

‎جس کے بغیر

‎انسان سچ کو دیکھتے ہوئے بھی

‎سچ کو پہچان نہیں سکتا۔

‎---

‎یہ بات عجیب لگ سکتی ہے۔

‎لیکن

‎ذرا ایک سوال کا جواب دیجیے۔

‎کیا سورج نکلنے کے باوجود

‎اندھا انسان روشنی دیکھ سکتا ہے؟

‎ہرگز نہیں۔

‎کیوں؟

‎کیا سورج کمزور تھا؟

‎نہیں۔

‎کمی

‎آنکھ میں تھی۔

‎بالکل اسی طرح

‎قرآن

‎اللہ کا نور ہے۔

‎لیکن

‎اگر دل کی آنکھ بند ہو جائے

‎تو انسان

‎قرآن پڑھتا بھی ہے

‎اور پھر بھی

‎ہدایت نہیں پاتا۔

‎---

‎اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

‎«"یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے متقین کے لیے۔"

‎(سورۃ البقرہ 2:2)»

‎غور کیجیے

‎اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:

‎"یہ کتاب ہر انسان کو ہدایت دے گی۔"

‎بلکہ فرمایا:

‎"ہدایت ہے... متقین کے لیے۔"

‎کیوں؟

‎کیا قرآن سب کے لیے نہیں؟

‎ہے۔

‎لیکن

‎ہر دل

‎قرآن کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

‎---

‎یہاں

‎پوری کتاب کا پہلا عظیم راز کھلتا ہے۔

‎«ہدایت قرآن میں نہیں ہوتی

‎ہدایت اُس دل میں پیدا ہوتی ہے

‎جو قرآن کے سامنے جھکنے پر تیار ہو۔»

‎---

‎اب ایک اور سوال۔

‎اگر کوئی شخص پہلے ہی ہدایت یافتہ ہے

‎تو پھر

‎ہم ہر نماز میں کیوں کہتے ہیں؟

‎«اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ

‎"اے اللہ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔"»

‎اگر ہم پہلے ہی مسلمان ہیں

‎تو پھر

‎ہدایت کیوں مانگتے ہیں؟

‎یہ وہ سوال ہے

‎جس پر بہت کم لوگ غور کرتے ہیں۔

‎---

‎اس کی وجہ یہ ہے

‎کہ ہدایت

‎ایک لمحے کا واقعہ نہیں۔

‎ہدایت

‎ایک مسلسل سفر ہے۔

‎آج

‎آپ ہدایت پر ہیں۔

‎کل

‎اگر اللہ آپ کو سنبھال نہ لیں

‎تو شاید

‎آپ نہ رہیں۔

‎اسی لیے

‎رسول اللہ ﷺ

‎جن پر وحی نازل ہوتی تھی

‎وہ بھی دعا کرتے تھے:

‎«"اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔"

‎(جامع ترمذی، حسن)»

‎سوچیے

‎جس ہستی کے دل کو

‎اللہ نے سب سے زیادہ پاک فرمایا

‎وہ بھی

‎ثبات مانگ رہی ہے۔

‎تو پھر

‎ہمیں

‎اپنی ہدایت پر کتنا غرور کرنا چاہیے؟

‎---

‎ہدایت

‎صرف راستہ دیکھ لینے کا نام نہیں۔

‎ہدایت

‎اس راستے پر

‎ہر دن

‎ہر فیصلہ

‎اور ہر آزمائش میں

‎قائم رہنے کا نام ہے۔

‎اسی لیے

‎قرآن میں ہدایت

‎نور بھی ہے۔

‎رحمت بھی ہے۔

‎شفا بھی ہے۔

‎اور

‎اللہ کی خاص عطا بھی۔

‎---

‎فطرت کو دیکھیے۔

‎ایک ننھا سا پودا

‎سورج کی طرف بڑھتا ہے۔

‎کسی نے اسے نہیں سکھایا

‎کہ روشنی کہاں ہے۔

‎اللہ نے

‎اس کی فطرت میں

‎روشنی کی طلب رکھ دی۔

‎انسان بھی

‎اسی طرح پیدا ہوتا ہے۔

‎اس کے دل میں

‎اپنے رب کو تلاش کرنے کی ایک خاموش پیاس رکھی جاتی ہے۔

‎لیکن

‎جب دنیا

‎غرور

‎خواہش

‎اور گناہ

‎اس دل پر تہہ در تہہ جم جاتے ہیں

‎تو وہ پیاس

‎دب جاتی ہے۔

‎ختم نہیں ہوتی۔

‎دب جاتی ہے۔

‎اور

‎ہدایت

‎اسی دبی ہوئی پیاس کو دوبارہ جگانے کا نام ہے۔

‎---

‎یہی وجہ ہے

‎کہ بعض لوگ

‎پہلی بار قرآن سنتے ہیں

‎اور رو پڑتے ہیں۔

‎اور بعض

‎ساری زندگی قرآن پڑھتے رہتے ہیں

‎مگر

‎ان کے دل میں کچھ نہیں بدلتا۔

‎فرق

‎آواز میں نہیں تھا۔

‎فرق

‎دل کی آمادگی میں تھا۔

‎---

‎یاد رکھیے

‎«ہدایت وہ لمحہ نہیں

‎جب انسان پہلی بار سچ سنتا ہے۔»

‎«ہدایت وہ لمحہ ہے

‎جب انسان پہلی بار

‎اپنی انا سے زیادہ

‎سچ کو اہمیت دیتا ہے۔»

‎---

‎آج...

‎آپ نے صرف ہدایت کا مطلب نہیں سمجھا۔

‎آپ نے

‎اپنی پوری زندگی کا رخ سمجھنا شروع کیا ہے۔

‎کیونکہ

‎آج کے بعد

‎جب بھی آپ کہیں گے:

‎"اے اللہ! مجھے ہدایت دے۔"

‎تو آپ جانیں گے...

‎آپ صرف راستہ نہیں مانگ رہے

‎آپ

‎اپنے دل کے زندہ ہونے کی دعا مانگ رہے ہیں۔

‎---

‎لیکن

‎ابھی

‎ہدایت کا صرف تعارف ہوا ہے۔

‎اصل سفر

‎اب شروع ہوگا۔

‎کیونکہ

‎قرآن

‎ہدایت کو ایک ہی درجے میں بیان نہیں کرتا۔

‎ہدایت

‎منزل نہیں

‎درجات کا سفر ہے۔

‎اور

‎اس سفر کا پہلا درجہ

‎وہ ہے

‎جو اللہ نے

‎ہر انسان کو

‎اس کی پیدائش کے ساتھ عطا کیا۔

‎---

‎🚪 دروازہ 12

‎ہدایتِ فطرت... کیا ہر انسان اپنے رب کو پہچان کر پیدا ہوتا ہے؟

‎📖 رازِ تخلیق جاری ہے

‎ عاقب احمد

02/08/2026

‎علم... کیا معلومات انسان کو بدل دیتی ہیں، یا سچ کے سامنے جھک جانے کی عاجزی؟

‎پچھلے دروازے پر

‎ہم ایک ایسی حقیقت کے سامنے کھڑے تھے

‎جسے انسان پوری زندگی محسوس تو کرتا ہے

‎مگر سمجھ نہیں پاتا۔

‎ہم نے دیکھا

‎کہ عقل

‎ہمیشہ حقیقت کی غلام نہیں ہوتی۔

‎اکثر

‎وہ خواہش کی وکیل بن جاتی ہے۔

‎اور آخر میں

‎ایک سوال چھوڑ آئے تھے۔

‎اگر انسان

‎جانتے ہوئے بھی غلط راستہ اختیار کرتا ہے

‎تو کیا اس کی اصل کمی

‎علم کی ہے؟

‎یا

‎کسی اور چیز کی؟

‎آج

‎ہم اسی پردے کو اٹھائیں گے۔

‎---

‎اگر صرف علم

‎انسان کو بدل دیتا

‎تو اس کائنات کا پہلا نافرمان

‎کبھی ابلیس نہ ہوتا۔

‎ذرا سوچیے

‎ابلیس

‎اللہ کو جانتا تھا۔

‎فرشتوں کو جانتا تھا۔

‎جنت کو جانتا تھا۔

‎آدمؑ کو جانتا تھا۔

‎اس نے اللہ کا حکم براہِ راست سنا۔

‎پھر بھی

‎وہ ہمیشہ کے لیے مردود ہو گیا۔

‎یہ وہ لمحہ ہے

‎جہاں انسان کی سب سے بڑی غلط فہمی ٹوٹ جاتی ہے۔

‎«علم... انسان کو اللہ تک نہیں پہنچاتا۔

‎علم پر جھک جانا... انسان کو اللہ تک پہنچاتا ہے۔»

‎---

‎ہم نے علم کو

‎ہدایت سمجھ لیا۔

‎حالانکہ...

‎قرآن دونوں کو الگ الگ بیان کرتا ہے۔

‎اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

‎«"کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو وہی قبول کرتے ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔"

‎(سورۃ الزمر 39:9)»

‎غور کیجیے

‎اللہ تعالیٰ نے صرف علم کی تعریف نہیں کی۔

‎بلکہ

‎فرمایا

‎نصیحت قبول کرنا

‎اصل فرق ہے۔

‎یعنی

‎کتابیں پڑھ لینا

‎ہدایت نہیں۔

‎حق کے سامنے جھک جانا

‎ہدایت ہے۔

‎---

‎آج

‎دنیا میں معلومات کا سمندر موجود ہے۔

‎ہر جیب میں موبائل ہے۔

‎ہر موبائل میں ہزاروں کتابیں ہیں۔

‎ہر سوال کا جواب چند لمحوں میں مل جاتا ہے۔

‎پھر

‎انسان پہلے سے زیادہ بےسکون کیوں ہے؟

‎کیوں

‎نفرت بڑھ رہی ہے؟

‎کیوں

‎رشتے ٹوٹ رہے ہیں؟

‎کیوں

‎دل خالی ہوتے جا رہے ہیں؟

‎کیونکہ

‎«معلومات بڑھ گئی ہیں

‎مگر ہدایت کم ہو گئی ہے۔»

‎---

‎یہ بات سمجھنے کے لیے

‎اپنی زندگی کا ایک لمحہ یاد کریں۔

‎آپ جانتے تھے

‎کہ غصہ نقصان دیتا ہے۔

‎پھر بھی

‎غصہ کیا۔

‎آپ جانتے تھے

‎کہ جھوٹ حرام ہے۔

‎پھر بھی

‎بول دیا۔

‎آپ جانتے تھے

‎کہ نماز فرض ہے۔

‎پھر بھی

‎ٹال دی۔

‎تو مسئلہ

‎علم کا تھا؟

‎ہرگز نہیں۔

‎مسئلہ

‎یہ تھا

‎کہ علم

‎دل تک نہیں پہنچا۔

‎---

‎یہی وجہ ہے

‎کہ رسول اللہ ﷺ صرف علم نہیں مانگتے تھے۔

‎آپ ﷺ دعا کرتے تھے:

‎«"اے اللہ! میں تجھ سے ایسا علم مانگتا ہوں جو نفع دے..."

‎(صحیح مسلم)»

‎ذرا ٹھہریے

‎اگر ہر علم فائدہ دیتا

‎تو رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیوں کرتے؟

‎کیونکہ

‎ہر علم

‎دل کو نہیں بدلتا۔

‎بعض علم

‎صرف غرور بڑھا دیتا ہے۔

‎---

‎قرآن ہمیں ایک اور آئینہ دکھاتا ہے۔

‎اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

‎«"اللہ سے اس کے بندوں میں وہی لوگ حقیقی ڈر رکھتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔"

‎(سورۃ فاطر 35:28)»

‎یہ آیت

‎صرف عالم کی تعریف نہیں کر رہی۔

‎یہ علم کی پہچان بتا رہی ہے۔

‎اگر علم

‎اللہ کی خشیت پیدا نہ کرے

‎تو وہ ابھی

‎اپنے مقصد تک نہیں پہنچا۔

‎«علم کی پہلی علامت حافظہ نہیں

‎عاجزی ہے۔»

‎---

‎یہی وجہ ہے

‎کہ بعض اَن پڑھ لوگ

‎اللہ کے بہت قریب ہوتے ہیں۔

‎اور

‎بعض بڑے عالم

‎اپنے ہی غرور میں ڈوب جاتے ہیں۔

‎کیونکہ

‎اللہ کے نزدیک

‎علم کی مقدار نہیں دیکھی جاتی۔

‎علم کا اثر دیکھا جاتا ہے۔

‎---

‎ایک لمحے کے لیے

‎اپنے دل سے پوچھیں۔

‎آپ نے کتنی کتابیں پڑھیں؟

‎کتنے لیکچر سنے؟

‎کتنی آیات یاد کیں؟

‎اب

‎ایک اور سوال۔

‎ان میں سے

‎کتنی چیزوں نے

‎آپ کی زندگی بدل دی؟

‎یہ سوال

‎علم کا نہیں۔

‎ایمان کا ہے۔

‎---

‎آج

‎انسان کو سب کچھ معلوم ہے۔

‎اسے معلوم ہے

‎وقت قیمتی ہے۔

‎پھر بھی

‎وہ اسے ضائع کرتا ہے۔

‎اسے معلوم ہے

‎موت یقینی ہے۔

‎پھر بھی

‎وہ ایسے جیتا ہے

‎جیسے ہمیشہ زندہ رہے گا۔

‎اسے معلوم ہے

‎اللہ اسے دیکھ رہے ہیں۔

‎پھر بھی...

‎وہ گناہ کرتے وقت

‎اپنے دل کو خاموش کر دیتا ہے۔

‎تو

‎انسان کو مزید معلومات کی ضرورت نہیں۔

‎«انسان کو بیداری کی ضرورت ہے۔»

‎---

‎یاد رکھیے

‎«علم راستہ دکھاتا ہے

‎لیکن قدم صرف وہی اٹھاتا ہے

‎جس کا دل جاگ چکا ہو۔»

‎اور

‎«جہالت صرف نہ جاننے کا نام نہیں

‎اپنے جانے ہوئے سچ سے بھاگنے کا نام بھی ہے۔»

‎---

‎شاید

‎آج آپ نے اپنی زندگی کا ایک سب سے تلخ راز جان لیا۔

‎انسان

‎گمراہ اس لیے نہیں ہوتا

‎کہ وہ سچ نہیں جانتا۔

‎اکثر

‎وہ اس لیے گمراہ ہوتا ہے...

‎کہ سچ

‎اس کی خواہش کے خلاف ہوتا ہے۔

‎اور یہی

‎شیطان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

‎وہ انسان سے علم نہیں چھینتا

‎«وہ علم کو عمل بننے نہیں دیتا۔»

‎---

‎اب

‎ایک آخری سوال

‎اگر

‎علم کافی نہیں

‎اگر

‎عقل بھی کافی نہیں

‎اگر

‎دل بھی کبھی دھوکہ کھا سکتا ہے

‎تو پھر

‎آخر وہ کون سی طاقت ہے

‎جو ایک شرابی کو ولی بنا دیتی ہے؟

‎جو ایک ظالم کو عادل بنا دیتی ہے؟

‎جو حضرت عمرؓ جیسے سخت دل انسان کو

‎اسلام کا عظیم ترین محافظ بنا دیتی ہے؟

‎کیا

‎یہ صرف علم تھا؟

‎یا

‎اس سے کہیں بڑھ کر

‎کوئی ایسی حقیقت

‎جو ابھی تک ہم نے نہیں سمجھی؟

‎---

‎🚪 دروازہ 11

‎ہدایت... آخر اللہ انسان کا دل بدلتے کیسے ہیں؟

‎📖 رازِ تخلیق جاری ہے

‎ عاقب احمد

30/07/2026

پچھلے دروازے پر...

ہم نے جان لیا تھا...

کہ انسان کی اصل جنگ...

اس کے دل میں لڑی جاتی ہے۔

وہیں ایمان اترتا ہے۔

وہیں تکبر جنم لیتا ہے۔

وہیں محبت پیدا ہوتی ہے۔

وہیں نفرت پلتی ہے۔

اور...

وہیں انسان اپنے رب کے قریب بھی ہوتا ہے...

اور سب سے زیادہ دور بھی۔

لیکن...

ایک سوال ابھی باقی تھا۔

اگر دل...

انسان کا بادشاہ ہے...

تو پھر...

فیصلے کون کرتا ہے؟

کیا عقل؟

یا دل؟

یا...

ہم دونوں کے بارے میں پوری زندگی ایک غلط فہمی میں رہے ہیں؟

---

انسان کو ہمیشہ اپنی عقل پر بڑا فخر رہا ہے۔

اسی عقل نے پہیہ بنایا۔

شہر بسائے۔

سمندروں کو عبور کیا۔

آسمانوں تک پہنچنے کی کوشش کی۔

مگر...

ایک سوال آج بھی اپنی جگہ قائم ہے۔

اگر انسان واقعی اتنا عقل مند ہے...

تو پھر...

وہی غلطیاں بار بار کیوں دہراتا ہے؟

وہی گناہ...

وہی غرور...

وہی ظلم...

وہی حسد...

نسل در نسل کیوں چلتے رہتے ہیں؟

اگر عقل کافی ہوتی...

تو دنیا میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے لوگ...

سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔

لیکن حقیقت...

اس کے برعکس ہے۔

---

قرآن ایک عجیب حقیقت بیان کرتا ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا:

«أَفَلَا تَعْقِلُونَ

"کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟"»

غور کیجیے...

اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:

"کیا تمہارے پاس عقل نہیں؟"

بلکہ فرمایا:

"کیا تم اسے استعمال نہیں کرتے؟"

یہ فرق...

بہت بڑا فرق ہے۔

یعنی...

عقل صرف ہونا کافی نہیں۔

عقل کا صحیح جگہ استعمال ہونا ضروری ہے۔

---

پھر سوال پیدا ہوتا ہے...

انسان اپنی عقل استعمال کیوں نہیں کرتا؟

اس کا جواب...

قرآن ایک اور جگہ دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«"کیا آپ نے اُس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟"

(سورۃ الجاثیہ 45:23)»

یہ آیت...

صرف ایک گناہ کی بات نہیں کر رہی۔

یہ...

انسان کے پورے سوچنے کے نظام کو بے نقاب کر رہی ہے۔

کیونکہ...

جب خواہش...

عقل سے پہلے فیصلہ کر لے...

تو پھر عقل...

سچ تلاش نہیں کرتی۔

وہ صرف خواہش کو صحیح ثابت کرنے لگتی ہے۔

---

یہی وہ راز ہے...

جسے انسان پوری زندگی نہیں سمجھ پاتا۔

ہم سمجھتے ہیں...

پہلے انسان سوچتا ہے...

پھر فیصلہ کرتا ہے۔

مگر حقیقت یہ ہے...

اکثر...

پہلے دل فیصلہ کرتا ہے۔

پھر عقل...

اس فیصلے کے حق میں دلیلیں جمع کرنا شروع کر دیتی ہے۔

اسی لیے...

دو لوگ...

ایک ہی حقیقت سنتے ہیں۔

ایک کہتا ہے:

"یہ سچ ہے۔"

دوسرا کہتا ہے:

"مجھے قبول نہیں۔"

فرق...

عقل میں نہیں تھا۔

فرق...

دل کی خواہش میں تھا۔

---

ذرا اپنی زندگی پر غور کریں۔

کبھی ایسا ہوا...

کہ آپ جانتے تھے...

آپ غلط ہیں۔

پھر بھی...

آپ نے اپنی غلطی ماننے کے بجائے...

اپنے دفاع میں دلائل دینے شروع کر دیے؟

کبھی ایسا ہوا...

کہ نصیحت صحیح تھی...

مگر آپ نے صرف اس لیے قبول نہ کی...

کیونکہ وہ آپ کی مرضی کے خلاف تھی؟

یہی وہ لمحہ ہے...

جہاں انسان...

اپنی عقل استعمال نہیں کرتا۔

وہ اپنی عقل کو استعمال کرتا ہے...

اپنی ضد کو بچانے کے لیے۔

---

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«"عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کے پیچھے چلتا رہے اور اللہ سے امیدیں باندھے رکھے۔"

(جامع ترمذی، حسن)»

غور کیجیے...

نبی ﷺ نے عقل کی تعریف بدل دی۔

دنیا کہتی ہے:

عقل...

زیادہ معلومات کا نام ہے۔

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

عقل...

اپنے آپ کا حساب لینے کا نام ہے۔

---

اسی لیے...

سب سے بڑا جاہل...

وہ نہیں...

جسے علم نہ ہو۔

بلکہ...

وہ ہے...

جسے اپنی غلطی کا علم ہو...

اور پھر بھی...

وہ اسے چھوڑنے پر تیار نہ ہو۔

---

فرعون بے علم نہیں تھا۔

ابوجہل بے عقل نہیں تھا۔

ابلیس حقیقت سے ناواقف نہیں تھا۔

مگر...

ان تینوں میں ایک چیز مشترک تھی۔

دل...

حق کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

اور جب دل انکار کر دے...

تو عقل...

انکار کی وکیل بن جاتی ہے۔

---

یاد رکھیے...

عقل...

روشنی نہیں۔

روشنی کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔

اور اگر...

دل پر خواہشوں کی گرد بیٹھ جائے...

تو عقل...

اندھیرے کو بھی روشنی سمجھنے لگتی ہے۔

اسی لیے...

اللہ تعالیٰ بار بار انسان کو سوچنے کی دعوت دیتے ہیں۔

لیکن...

سوچنے سے پہلے...

دل کو پاک کرنے کی بھی دعوت دیتے ہیں۔

کیونکہ...

گندا آئینہ...

سورج کو قصوروار نہیں بنا سکتا۔

---

آج...

آپ نے شاید اپنی زندگی کا ایک سب سے تلخ راز جان لیا۔

انسان ہمیشہ جھوٹ اس لیے نہیں مانتا کہ وہ بے عقل ہے...

بلکہ...

اکثر...

وہ اس لیے مانتا ہے...

کیونکہ سچ ماننے کی قیمت...

اس کا غرور ادا نہیں کرنا چاہتا۔

اور یہی...

انسان کی سب سے بڑی قید ہے۔

وہ قید...

جس میں انسان...

خود کو آزاد سمجھتا رہتا ہے۔

---

اب...

اگر دل بھی کافی نہیں...

اور عقل بھی کافی نہیں...

تو پھر...

وہ چیز کیا ہے...

جو انسان کو حقیقت تک پہنچاتی ہے؟

---

🚪 دروازہ 10

علم...
کیا معلومات انسان کو بدل دیتی ہیں،
یا سچ کے سامنے جھک جانے کی عاجزی؟

📖 رازِ تخلیق جاری ہے...

عاقب احمد

28/07/2026

پچھلے دروازے پر...

ہم نے جان لیا تھا...

کہ شیطان صرف وسوسہ ڈالتا ہے۔

نفس...

اس وسوسے کو خواہش بنا دیتا ہے۔

لیکن...

ایک سوال ابھی باقی رہ گیا تھا۔

آخر وہ جگہ کون سی ہے...

جہاں شیطان بھی دستک دیتا ہے...

نفس بھی اپنی آواز بلند کرتا ہے...

اور انسان کا مستقبل بھی طے ہوتا ہے؟

وہ جگہ...

دل ہے۔

یہی وجہ ہے...

کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے کسی اور عضو کا ذکر اتنی گہرائی سے نہیں کیا...

جتنی بار...

دل کا کیا۔

کیونکہ...

انسان کے ہاتھ گناہ نہیں کرتے...

جب تک دل اجازت نہ دے۔

زبان جھوٹ نہیں بولتی...

جب تک دل اسے قبول نہ کر لے۔

آنکھ حرام نہیں دیکھتی...

جب تک دل اس کی خواہش نہ کرے۔

اور...

پاؤں بھی اللہ کی طرف نہیں بڑھتے...

جب تک دل انہیں اٹھنے کا حکم نہ دے۔

اسی لیے...

دل صرف جسم کا ایک حصہ نہیں۔

یہ انسان کی پوری زندگی کا فرمانروا ہے۔


---

کبھی...

اپنے دل کی دھڑکن کو غور سے سنا ہے؟

وہ آپ سے اجازت نہیں مانگتی۔

آپ سو جائیں...

وہ جاگتی رہتی ہے۔

آپ ہنسیں...

وہ اپنی ذمہ داری نہیں بھولتی۔

آپ روئیں...

وہ پھر بھی چلتی رہتی ہے۔

ہر دھڑکن...

خاموشی سے ایک اعلان کرتی ہے۔

"یہ زندگی تمہاری نہیں... تمہیں دی گئی ہے۔"

لیکن...

انسان عجیب ہے۔

وہ اپنے دل کی دھڑکن تو سنتا ہے...

مگر...

اپنے دل کی حالت نہیں دیکھتا۔


---

آج...

اگر کوئی آپ سے پوچھے:

"آپ کیسے ہیں؟"

تو شاید آپ کہیں گے:

"الحمدللہ، بالکل ٹھیک ہوں۔"

لیکن...

اگر آپ کا دل بول سکتا...

تو شاید وہ کچھ اور کہتا۔

شاید وہ کہتا:

"میں تھک چکا ہوں..."

"میں دنیا کے بوجھ سے بھر گیا ہوں..."

"میں اپنے رب سے دور ہو گیا ہوں..."

اور شاید...

وہ صرف ایک چیز مانگتا۔

سکون۔

اسی لیے...

اللہ تعالیٰ نے سکون کو مال سے نہیں جوڑا۔

شہرت سے نہیں جوڑا۔

طاقت سے نہیں جوڑا۔

بلکہ فرمایا:

«"خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔"

(سورۃ الرعد 13:28)»

غور کیجیے...

اللہ نے یہ نہیں فرمایا...

کہ ذکر سے مسائل ختم ہو جائیں گے۔

فرمایا...

دل کو سکون ملے گا۔

یعنی...

ممکن ہے آزمائش باقی رہے...

لیکن دل بےچین نہ رہے۔

ممکن ہے آنکھوں میں آنسو ہوں...

لیکن دل ٹوٹا نہ ہو۔

ممکن ہے دنیا ساتھ نہ دے...

لیکن دل اپنے رب کے ساتھ ہو۔


---

اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ فرماتے ہیں:

«"کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں، تاکہ ان کے ایسے دل ہوتے جن سے وہ سمجھتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔"

(سورۃ الحج 22:46)»

یہ آیت...

صرف پڑھنے کے لیے نہیں۔

رک کر سوچنے کے لیے ہے۔

اندھا کون ہے؟

وہ...

جس کی آنکھیں بند ہوں؟

یا وہ...

جو ہر روز اللہ کی نشانیاں دیکھے...

اور پھر بھی اپنے رب کو نہ پہچانے؟

فرعون نے دیکھا...

لیکن دل اندھا تھا۔

ابوجہل نے دیکھا...

لیکن دل اندھا تھا۔

ابلیس نے اللہ کا حکم سنا...

لیکن دل میں تکبر تھا۔

اور جب دل اندھا ہو جائے...

تو معجزے بھی انسان کو نہیں بدلتے۔


---

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«"خبردار! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ سن لو! وہ دل ہے۔"

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)»

یہ حدیث...

اسلامی نفسیات کا خلاصہ ہے۔

لوگ کردار بدلنے کی کوشش کرتے ہیں...

اسلام...

دل بدلنے کی دعوت دیتا ہے۔

کیونکہ...

جب دل بدل جاتا ہے...

تو کردار خود بدل جاتا ہے۔


---

لیکن...

دل بیمار کیسے ہوتا ہے؟

دل پر بیماری اچانک نہیں آتی۔

وہ خاموشی سے بڑھتی ہے۔

ایک جھوٹ...

ایک دھبہ۔

ایک تکبر...

ایک دھبہ۔

ایک حرام نظر...

ایک دھبہ۔

ایک ظلم...

ایک دھبہ۔

پھر...

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«"ہرگز نہیں! بلکہ ان کے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔"

(سورۃ المطففین 83:14)»

یہ زنگ...

لوہا نہیں کھاتا۔

یہ روشنی کھا جاتا ہے۔

پھر...

انسان قرآن پڑھتا بھی ہے...

لیکن روتا نہیں۔

نماز پڑھتا بھی ہے...

لیکن بدلتا نہیں۔

دعا بھی کرتا ہے...

لیکن یقین نہیں رہتا۔

کیونکہ...

دل پر زنگ چڑھ چکا ہوتا ہے۔


---

اور پھر...

قیامت آئے گی۔

وہ دن...

جب ہر چیز پیچھے رہ جائے گی۔

مال...

عہدہ...

شہرت...

اولاد...

سب ختم۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«"جس دن نہ مال فائدہ دے گا اور نہ اولاد، مگر وہ شخص کامیاب ہوگا جو اللہ کے پاس سلامت دل لے کر آئے۔"

(سورۃ الشعراء 26:88-89)»

یہ پوری زندگی کا فیصلہ ہے۔

اللہ آپ کی آواز نہیں دیکھیں گے۔

آپ کی شہرت نہیں دیکھیں گے۔

وہ صرف ایک چیز دیکھیں گے...

آپ اپنے دل میں کس کو لے کر آئے تھے۔

دنیا؟

اپنی خواہش؟

اپنا غرور؟

یا...

اپنے رب کی محبت؟


---

یاد رکھیے...

دنیا کا سب سے بڑا حادثہ...

دل کا ٹوٹ جانا نہیں۔

دل کا سخت ہو جانا ہے۔

اور...

دنیا کی سب سے بڑی کامیابی...

امیر ہو جانا نہیں۔

قلبِ سلیم کے ساتھ اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔

کیونکہ...

انسان کا اصل چہرہ...

اس کا چہرہ نہیں۔

اس کا دل ہے۔


---

آج...

آپ نے پہلی بار اپنے دل کو پڑھا ہے۔

لیکن...

اب ایک اور راز باقی ہے۔

اگر دل انسان کا بادشاہ ہے...

تو پھر...

وہ کس کی بات مانتا ہے؟

عقل کی...

یا خواہش کی؟


---

🚪 دروازہ 9

عقل... کیا انسان حقیقت میں سوچتا ہے، یا صرف وہی مانتا ہے جسے اس کا دل پہلے ہی قبول کر چکا ہوتا ہے؟

📖 رازِ تخلیق جاری ہے...

عاقب احمد

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Tarnol
Islamabad
45230