21/06/2026
خون، خلافت اور حقیقت: تاریخِ امت کا شعوری اور ارتقائی سفر! (قسط 7: خلافتِ علیؓ کا آغاز، بیعت کا کٹھن مرحلہ اور قصاصِ عثمان کا پیچیدہ مسئلہ) - بلال شوکت آزاد
مدینہ منورہ کی گلیوں اور چوراہوں پر طاری وہ مہیب اور دم گھٹاتا ہوا سکوت جو اٹھارہ ذی الحجہ سن پینتیس ہجری کو خلیفہِ مظلوم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خونِ ناحق کے بعد پوری بستی پر مسلط ہو چکا تھا، محض ایک بستی کا عارضی سوگ نہیں تھا بلکہ وہ اس اسلامی ریاست کے پورے ادارہ جاتی نظام اور آئینی مرکزیت کے لیے ایک گہرا وجودی بحران تھا۔
جب کسی نظریاتی ریاست کا سپریم کمانڈر اور روحانی سربراہ دارالخلافہ کے مرکز میں، اپنے ہی شہریوں اور بیرونی صوبوں سے آئے ہوئے مسلح بلوائیوں کے ہاتھوں اپنے ہی حجرے میں بے دردی سے شہید کر دیا جائے، تو اس کے بعد پیدا ہونے والا پولیٹیکل ویکیوم کسی بھی معاشرے کی کلیکٹو انٹیلی جنس اور سیاسی عمرانیات کا سب سے کڑا امتحان بن جاتا ہے۔
مدینہ اس وقت کسی باقاعدہ یا منظم ریاستی فورس کے کنٹرول میں نہیں تھا، بلکہ مصر، کوفہ اور بصرہ سے آئے ہوئے ہزاروں سرکش شورش پسند اور سبائی کارندے شہر کے چوک چوراہوں پر ننگی تلواریں لیے گشت کر رہے تھے، اور خوف و ہراس کی اس فضا میں ہر ذی روح یہ سوچنے پر مجبور تھا کہ اب اس بکھرتے ہوئے شیرازے کو دوبارہ ایک مرکز پر کون جمع کرے گا؟
تاریخ کے اس انتہائی حساس، نازک اور خونچکاں چوراہے پر، جہاں سے امتِ مسلمہ کا ایک بالکل نیا، انوکھا اور کٹھن ترین ارتقائی سفر شروع ہونا تھا، ہمیں کسی بھی واقعے کا تجزیہ کرنے اور اس کی جڑوں تک پہنچنے سے پہلے اپنے علمی، تحقیقی اور تاریخی طریقہ کار کی تصحیح کرنا ہوگی، کیونکہ یہیں سے وہ فکری لغزشیں اور مصلحت پسندانہ نظریات جنم لیتے ہیں جنہوں نے امت کو صدیوں سے مسلکی عصبیتوں اور جھوٹے بیانیوں کے اندھیروں میں دھکیل رکھا ہے۔
معاصر دور میں، اور تاریخ کے بعض پرانے زمانوں میں بھی، کچھ مخصوص فکری حلقے، نامور مفکرین اور مصلحت پسند دانشور یہ عجیب و غریب اور نہایت گمراہ کن بیانیہ پیش کرتے ہیں کہ جو سخت اصول، قواعد، قوانین اور ضوابط محدثینِ عظام نے حدیثِ مبارکہ کی تصدیق اور اس کی اسناد کو پرکھنے کے لیے وضع کیے ہیں، وہ تاریخِ اسلامی کے واقعات اور روایات کے لیے لازم نہیں ہیں۔
ان کا دعویٰ ہوتا ہے کہ تاریخ کی کتابوں میں جو بات ایک بار درج ہو گئی، یا کسی قدیم مورخ نے اپنی کتاب کے صفحے پر لکھ دی، اسے من و عن اسی شکل میں قبول کر لینا چاہیے، اور اس کی سند، راویوں کے احوال، ان کے فکری رجحانات یا واقعاتی مطابقت کی جانچ پھٹک کرنے کی کوئی شرعی یا عقلی ضرورت نہیں ہے۔
واللہ!
یہ ایک ایسا باطل، سطحی اور فکری طور پر تباہ کن نظریہ ہے جس کی شریعتِ اسلامیہ کے کسی بھی حکم، اصول یا سائنسی میتھڈالوجی سے کوئی تائید و توثیق نہیں ملتی۔
اگر ہم کمالِ انصاف کے ساتھ غور کریں تو علمِ حدیث کی تحقیق، اس کی اسناد کی چھان بین اور جرح و تعدیل کی پوری اساس خود قرآنِ مجید کی اسی ابدی آیت پر کھڑی ہے جو دراصل اپنے سببِ نزول کے اعتبار سے ایک تاریخی خبر، ایک سیاسی واقعے اور ایک زمینی رپورٹ کے متعلق ہی امت کو کڑا حکم دیتی ہے۔
اللہ رب العزت نے سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 6 میں واشگاف اور غیر مبہم الفاظ میں ایمان والوں کو یہ ضابطہ عطا فرمایا:
"ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق اور تبیّن کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں کوئی نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے۔"
ذرا اس الہامی قانون کی گہرائی اور اس کے دائرہِ اثر پر غور کیجیے!
جب کائنات کا پروردگار ایک تاریخی خبر کی تصدیق اور اس کے پیچھے چھپے ہوئے حقائق کی تبیّن کا حکم اتنے سخت الفاظ میں دے رہا ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم خلافتِ راشدہ، مشاجراتِ صحابہ اور تاریخِ امت کے نازک ترین اور فیصلہ کن معاملات کو بغیر کسی فلٹر، بغیر کسی کڑی تحقیق اور بغیر اسناد کے، محض ابنِ اسحاق، الواقدی، ابو مخنف یا دیگر ضعیف، مجروح اور متعصب مورخین کے اقوال کی بنیاد پر سچ مان کر بیٹھ جائیں؟
حقیقت تو یہ ہے کہ علمِ حدیث کو محفوظ اور پاکیزہ رکھنے کے لیے جو علومِ عالیہ تیار کیے گئے، جن میں علمِ اسماء الرجال، جرح و تعدیل، تواریخِ موالید، تواریخِ وفیات، اور معاصرتِ رواۃ و سماع شامل ہیں، یہ سب کے سب بنیادی طور پر تاریخ ہی کا تو حصہ ہیں۔
جب محدثینِ عظام نے تاریخ کے اصولوں کو استعمال کر کے حدیث کے راویوں کا سچا یا جھوٹا ہونا ثابت کیا، اور جرح و تعدیل کے ثبوت و تحقیق کے لیے وہی کڑے معیار رکھے، تو پھر تاریخِ اسلامی کی اپنی روایات کو ان اصولوں سے آزاد کیسے کیا جا سکتا ہے؟
بالخصوص خلافتِ راشدہ کی تاریخ میں، جہاں امت کے پورے سیاسی اور مذہبی تشخص کا دارومدار ہے، ان قواعد کی پابندی کرنا پچاس گنا زیادہ ضروری ہے، تاکہ ہم اس دھول اور پروپیگنڈے کو صاف کر سکیں جو منافقین اور سبائیوں نے دانستہ طور پر تاریخ کے مصلے پر اڑائی تھی، اور یہی وہ منہجِ انصاف ہے جو ناصبیت اور رافضیت دونوں کے وار سے ایمان کو محفوظ رکھتا ہے۔
جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی وفادار زوجہ محترمہ سیدہ نائلہؓ اور ان کے مخلص غلاموں نے رات کے اندھیرے میں خلیفہِ وقت کا جنازہ پڑھا کر انہیں سپردِ خاک کر دیا، تو مدینہ منورہ کا نظامِ حکومت عملی طور پر مفلوج ہو چکا تھا اور منبرِ رسول پر باغیوں کی مرضی کا پہرہ تھا۔
یہ بلوائی اور شورش پسند چاہتے تھے کہ مدینہ کی قیادت میں سے کوئی ایسا کمزور یا ان کے زیرِ اثر شخص مسندِ خلافت پر براجمان ہو جائے جو ان کے اس بھیانک جرم پر پردہ ڈال سکے، انہیں سرکاری وظائف سے نوازے اور قتلِ عثمان کو وقت کی گرد میں دفن کر دے۔
انہوں نے یکے بعد دیگرے سیدنا علی المرتضیٰ، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم اجمعین کے پاس جا کر انہیں خلافت سنبھالنے کی پیشکشیں کیں، مگر ان نفوسِ قدسیہ نے، جن کی تربیت براہِ راست آفتابِ نبوت کے زیرِ سایہ ہوئی تھی، ان قاتلوں اور منافقوں کو سخت ذلیل کر کے اپنے سامنے سے بھگا دیا۔ (یہ ان ناصبیوں کے منہ پر زوردار تماچہ ہے جو آج کے دور میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی نیت پر شک کرتے ہیں اور ہر جگہ یہ بات کرتے پھرتے ہیں کہ حضرت عثمان کے قتل کے بعد بینیفشری کون تھا، یعنی اشارے کنائے میں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے قلم کی ذد پر لاتے ہیں جو کہ ناصبیت کا سب سے انتہائی درجہ ہے۔)
مدینہ کے انصار اور مہاجرین، جو اس وقت ایک شدید نفسیاتی دباؤ اور بے چینی کا شکار تھے، وہ بخوبی سمجھ رہے تھے کہ اگر اس سیاسی خلا کو فوری طور پر پُر نہ کیا گیا، تو یہ مسلح باغی اور سبائی تحریک پوری اسلامی ریاست کے فیڈرل اسٹرکچر کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر دے گی اور دنیا کی دیگر پرانی سلطنتوں کی طرح یہاں بھی انارکی کا دور دورہ ہو جائے گا۔
امام ابن کثیر اپنی مایہ ناز تصنیف 'البدایہ والنہایہ' (جلد 7، صفحہ 226) میں اس کٹھن مرحلے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مدینہ کے تمام اکابر صحابہ کرام، انصار کے سردار اور مہاجرین کے بزرگ یکجا ہو کر شیرِ خدا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے حجرے پر پہنچے اور انہوں نے انتہائی اصرار کے ساتھ عرض کیا کہ
"اے علی! اس وقت پوری امتِ مسلمہ کے پاس آپ سے بہتر، سینئر، عالم اور موزوں ترین کوئی شخصیت موجود نہیں ہے، اور ریاستِ مدینہ کو اس ہولناک طوفان سے نکالنا آپ کے بغیر ممکن نہیں، لہٰذا آپ خلافت کی یہ بھاری ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھائیے۔"
سیدنا علی رضی اللہ عنہ، جو حالات کی سنگینی، مدینہ میں باغیوں کی مسلح موجودگی اور امت کے اندر پھیلے ہوئے اس گہرے فکری و نفسیاتی اضطراب کو اپنی مجتہدانہ بصیرت سے دیکھ رہے تھے، انہوں نے کمالِ زہد، خوفِ خدا اور احساسِ ذمہ داری کے تحت اس پیشکش کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور فرمایا کہ
"مجھے خلیفہ بنانے کے بجائے تم کسی اور کو اپنا امیر چن لو، میں امیر بننے کے بجائے تمہارا مشیر، تمہارا وزیر اور تمہارا اسٹریٹجک ایڈوائزر رہنا زیادہ پسند کروں گا۔"
یہ ان کی اقتدار سے بے نیازی اور اس ریاستی بوجھ کی سنگینی کا اعتراف تھا جو اس وقت خلافت کے منصب کے ساتھ جڑا ہوا تھا، لیکن جب اہل مدینہ نے دیکھا کہ کوئی دوسرا اس نازک وقت میں یہ لوہے کا چنا چبانے کو تیار نہیں، تو انہوں نے اپنا اصرار مزید بڑھا دیا۔
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر ایک ایسا شاندار، تاریخی اور آئینی اصول وضع کیا جو اسلام کے 'انسٹیٹیوشنل طریقہ کار' کی عظمت کو رہتی دنیا تک کے لیے ثابت کر دیتا ہے۔
انہوں نے مدینہ کے اکابرین سے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ
" میری بیعت کسی بند کمرے میں، کسی خفیہ ملاقات کے ذریعے یا رات کے اندھیرے میں نہیں ہو سکتی، اور نہ ہی یہ محض چند افراد کا کوئی ذاتی یا گروہی فیصلہ ہو سکتا ہے۔ خلافت کا انتخاب مسلمانوں کا اجتماعی، عوامی اور شورائی حق ہے، اس لیے اگر بیعت ہوگی تو وہ مسجدِ نبوی کے صحن میں، منبرِ رسول کے سامنے، تمام مسلمانوں کی موجودگی میں مکمل طور پر علانیہ اور شفاف طریقے سے ہوگی۔"
امام محمد بن جریر طبری اپنی تاریخ 'تاریخ الامم والملوک' (جلد 4، صفحہ 427) میں لکھتے ہیں کہ ذی الحجہ سن پینتیس ہجری کے آخری ایام کی ایک صبح سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مسجدِ نبوی کے منبر پر تشریف لائے اور مدینہ میں موجود تمام مہاجرین، انصار، عام مسلمانوں اور یہاں تک کہ مختلف صوبوں سے آئے ہوئے عام شہریوں نے نہایت خوش دلی، عقیدت اور اطمینان کے ساتھ ان کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت ادا کی۔
سب سے پہلے آگے بڑھ کر بیعت کرنے والوں میں سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے، اگرچہ ان کے گھروں اور بازاروں میں اس وقت باغیوں کی تلواریں بھی تنی ہوئی تھیں اور وہ گردن پر تلوار رکھ کر زبردستی لائے جانے کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن ان اکابرین کا یہ عمل اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کی اہلیت اور ان کے بلند مقام و مرتبے کے دل سے معترف تھے اور ریاست کے شیرازے کو بکھرنے سے بچانا ان کا واحد مقصد تھا۔
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3700 کے مطابق، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ انتخاب اس وقت کا سب سے معقول اور متوازن فیصلہ تھا جس نے امت کو ایک بہت بڑے فوری انتشار سے بچا لیا۔
جوں ہی اسلام کے اس چوتھے خلیفۂ راشد نے ریاستِ مدینہ کی باگ ڈور سنبھالی، ان کے سامنے سب سے پہلا، سب سے بڑا، سب سے حساس اور سب سے زیادہ پیچیدہ مسئلہ 'قصاصِ عثمان' کا تھا۔
یہ وہ چیلنج تھا جس نے پورے عالمِ اسلام کے شہریوں کے جذبات کو غیر معمولی حد تک گرم کر رکھا تھا اور ہر دل اس خونِ ناحق پر تڑپ رہا تھا۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، اور شام کے طاقتور گورنر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا مطالبہ بالکل واضح، شرعی، آئینی اور برحق تھا کہ خلیفہِ مظلوم کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، ان کی گردنیں اڑائی جائیں اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
شریعتِ اسلامیہ کا قانونِ قصاص اس مطالبے کی مکمل تائید کرتا تھا، اور مکہ سے لے کر شام تک ہر مسلمان اس سفاکانہ شہادت پر غم و غصے کی آگ میں جل رہا تھا۔
لیکن یہاں ہمیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے موجود اسٹریٹجک، عسکری اور انتظامی مجبوریوں کا تجزیہ خالصتاً اسٹیٹ کرافٹ اور امن و امان کی داخلی حرکیات کے تناظر میں کرنا ہوگا، تاکہ ہم اس باعمل، مخلص اور فرقہ پرستی سے پاک خلیفہ کے طرزِ فکر اور ان کے کاگنیٹو فریم ورک کو سمجھ سکیں، نہ کہ کسی جذباتی بیانیے کا شکار ہو کر ان کی نیت پر شک کریں۔
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا موقف یہ ہرگز نہیں تھا کہ وہ معاذ اللہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خون کا قصاص نہیں لینا چاہتے تھے، یا ان کے دل میں اپنے اس عظیم بھائی اور پیشرو کے لیے کوئی محبت یا ہمدردی نہیں تھی۔ وہ تو خود اس قتل پر سب سے زیادہ رنجیدہ تھے، انہوں نے خود اللہ کے حضور اپنی براءت پیش کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ
"اے اللہ! میں تیرے سامنے عثمان کے خون سے براءت کا اظہار کرتا ہوں، میں نے نہ تو انہیں قتل کیا اور نہ ان کے قتل پر کسی کو ابھارا۔" (الطبقات لابن سعد: جلد 3، صفحہ 50)۔
لیکن خلیفہِ وقت کے طور پر ان کا سامنا کسی ایک یا دو انفرادی مجرموں سے نہیں تھا جنہیں مدینہ کی پولیس بھیج کر گرفتار کر لیا جاتا۔
قتلِ عثمان کا یہ سانحہ ایک وسیع، گہری اور منظم مسلح شورش کا نتیجہ تھا، اور وہ قاتل اور بلوائی اس وقت کسی صوبے کے کونے میں چھپے ہوئے نہیں تھے، بلکہ وہ پانچ ہزار سے زائد مسلح جنگجوؤں کی شکل میں مدینہ کے اندر ریاستی اداروں، فوج اور خلافت کی نئی کابینہ کے اندر سرائیت کر چکے تھے۔
جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے قصاص کا بارہا مطالبہ کیا گیا، تو انہوں نے کمالِ تدبر، زمینی حقیقت اور انتظامی دور اندیشی کا نقشہ سامنے رکھتے ہوئے صحابہ سے فرمایا کہ
"اے میرے بھائیو! جو کچھ تم جانتے ہو، میں اس سے بے خبر نہیں ہوں، لیکن میں ان لوگوں کو کیسے قابو کروں جو اس وقت پورے مدینہ پر مسلط ہیں؟ تمہارے پاس اس وقت کیا طاقت ہے کہ ہم ان ہزاروں مسلح بدویوں اور باغیوں سے لڑ سکیں، جن کے پیچھے ان کے بڑے بڑے قبائل کا اثر و رسوخ کھڑا ہے؟ اگر آج ہم نے ان پر ہاتھ ڈالا، تو یہ قبائل مدینہ کو خون ریزی کا اکھاڑا بنا دیں گے اور یہ نوخیز اسلامی ریاست اپنے ہی مرکز میں دفن ہو جائے گی۔ پہلے ریاست کی عملداری (Writ of the State) کو بحال ہونے دو، امن و امان قائم ہونے دو، صوبوں کے گورنر میری خلافت کی اطاعت قبول کر لیں اور حکومت کا اسٹرکچر مستحکم ہو جائے، تو میں خود ایک باقاعدہ عدالت قائم کر کے ان تمام مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لاؤں گا۔"
یہ ایک ایسے دور اندیش اور سوجھ بوجھ رکھنے والے حکمران کا زاویہ تھا جو ایک چھوٹے فتنے کو مٹانے کے لیے پوری ریاست کو خانہ جنگی کی آگ میں نہیں جھونکنا چاہتا تھا، اور ان کا یہ فیصلہ خالصتاً سیاستِ شرعیہ اور بقائے امت کے اصولوں کے عین مطابق تھا۔
اسی پیچیدہ، اعصاب شکن اور مبہم صورتحال کے بطن سے امتِ مسلمہ کے اندر دو انتہائی خطرناک، انتہا پسندانہ اور تفرقہ آمیز فکری رویوں نے جنم لیا، جنہوں نے بعد کے ادوار میں مستقل مسلکوں اور فرقوں کی شکل اختیار کر لی اور امت کا چہرہ بگاڑ کر رکھ دیا۔
ایک طرف وہ انتہا پسند عناصر تھے جو یہ فتنہ برپا ہونے پر دل ہی دل میں بہت خوش تھے، جو عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کو معاذ اللہ جائز قرار دینے کی ناپاک کوششیں کر رہے تھے اور اس بات پر مسرور تھے کہ خلافتِ راشدہ کا وہ پرانا، سخت اور عادلانہ نظم و ضبط جو عمر فاروق رضی اللہ عنہ قائم کر کے گئے تھے، وہ اب ٹوٹ چکا ہے اور اب ان کا احتساب کرنے والا کوئی نہیں رہا۔ یہ وہ تخریبی اور منافقانہ ذہنیت تھی جس کی کوکھ سے بعد میں رافضیت کے فتنے نے جنم لیا، جس کا کام ہی خلفائے راشدین اور اکابر صحابہ کرام کی تکذیب، تنقیص اور ریاست کے استحکام کو برباد کرنا تھا۔
اس کے برعکس، دوسری طرف وہ طبقہ ابھرا جو حالات کی اس لچک، وقت کی نزاکت اور خلیفہِ وقت کی انتظامی مجبوریوں کو ٹھنڈے دل سے سمجھنے سے یکسر قاصر رہا۔ وہ اس بات پر شدید ناخوش، غصے میں اور جذباتی ماحول میں گرم تھے کہ قتلِ عثمان کا قصاص فوری طور پر کیوں نہیں لیا جا رہا، اور انہوں نے اس عارضی تاخیر کو خلیفہ کی معاذ اللہ مصلحت پسندی یا قاتلوں کی سرپرستی پر محمول کیا۔ اس شدید ردِعمل اور قبائلی عصبیت کے نتیجے میں اس طبقے نے جنم لیا جسے تاریخ میں ناصبیت کا گھٹیا اور سطحی عمل کہا جاتا ہے، جن کا کام اہل بیتِ اطہار اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نیتوں پر شک کرنا، ان پر تبرہ بازی کرنا اور ان کے خلاف محاذ گرم کرنا تھا۔
یہیں پر ہمیں ایک اور انتہائی گہرے اور تاریخی مغالطے کی گرہ کھولنا ہوگی جسے بعد کے ادوار میں سیاسی مفادات اور جذباتی داستان گوئی کی بھینٹ چڑھا کر ایک خوفناک شکل دے دی گئی۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا امیر معاویہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس مؤقف اور طرزِ عمل کو، جو انہوں نے قصاصِ عثمان کے برحق مطالبے کے لیے اختیار کیا، کسی ذاتی دشمنی، عناد یا بغض کے خانے میں فٹ کرنا تاریخ کے ساتھ سب سے بڑی علمی اور اخلاقی ناانصافی ہے۔
یہ نفوسِ قدسیہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی اور ان کے مقامِ فضل کے معاذ اللہ منکر یا دشمن نہیں تھے، اور نہ ہی ان کا مقصد کوئی ذاتی اقتدار حاصل کرنا یا خلافت کی چھین جھپٹ تھا، جیسا کہ بعد کے رافضی اور ناصبی بیانیے اپنے اپنے مسلکی مفادات کے لیے ثابت کرنے کی ناپاک کوششیں کرتے ہیں۔
ان کا اختلاف خالصتاً ایک قانونی، اجتہادی اور انتظامی نوعیت (Administrative and Ijtihaadi Difference) کا تھا۔
ان کا زاویہِ نظر یہ تھا کہ خلیفہِ مظلوم کی دارالخلافہ کے اندر شہادت کے بعد اگر قاتل اور بلوائی آزاد گھومتے رہے اور ریاست نے ان پر فوری ہاتھ نہ ڈالا، تو اس سے خلافت کا رعب و دبدبہ، قانون کی بالادستی اور مسلم خون کا تقدس ہمیشہ کے لیے پامال ہو جائے گا۔
وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی مشروعیت کو تسلیم کرتے تھے، مگر ان کا اصرار صرف اس بات پر تھا کہ قصاص کا نفاذ اولین ترجیح ہونا چاہیے، جبکہ دوسری طرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مخلصانہ اجتہاد یہ تھا کہ پہلے نظمِ ریاست بحال ہو اور فتنے کا سر کچلا جائے، پھر قصاص لیا جائے۔
یہ دو مخلص، دیانت دار اور دین پر جان نچھاور کرنے والے گروہوں کے درمیان طریقِ کار کا وہ ہنگامی اختلاف تھا جس میں دونوں فریق اسلام کی بقا اور عدل کے قیام کے ہی خواہاں تھے، اس لیے ان پاکباز ہستیوں کو ایک دوسرے کا حاسد یا حریف بنا کر پیش کرنا امت کی فکری تاریخ کو مسخ کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
خیر ذرا تاریخ کے اس نازک اور کٹھن کینوس پر ایک نیوٹرل انسان کے طور پر گہری نظر ڈالیں!
ان دونوں انتہاؤں، یعنی رافضیت اور ناصبیت کے مہیب اور زہریلے طوفان کے درمیان، اسلام کا اصل، متوازن اور حقیقی نظریہ کہاں محفوظ رہا؟
تاریخ کے شواہد گواہ ہیں کہ فتنہِ رافضیت و ناصبیت کے اس اندھے بھنور سے صرف اور صرف وہ مخلص، باعمل اور دانا مسلمان محفوظ رہے جن کو 'حقِ سکوت' (Right of Silence) اور کامل صبر کے ساتھ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے پیچھے خاموشی سے کھڑے رہنے میں ہی عافیت اور ایمان کی سلامتی نظر آئی۔
انہوں نے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ خلافتِ راشدہ کا یہ چوتھا ستون اس وقت امت کی بقا کی آخری جنگ لڑ رہا ہے، اور ان کے فیصلوں پر تنقید کرنا یا ان کے گرد شکوک کے بادل کھڑے کرنا دشمن کے ایجنڈے کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس وقت جو بھی عسکری، سیاسی اور انتظامی اقدامات کیے، چاہے وہ صوبوں کے عاملین کی تبدیلی ہو یا باغی گروہوں کے ساتھ وقتی طور پر نرمی کا برتاؤ، وہ سب کے سب بقائے اسلام، بقائے نظریہِ امت اور نظریہِ خلافت کے لیے ازحد ضروری اور ناگزیر تھے۔
ان کے فیصلوں میں نہ تو کوئی ذاتی انا شامل تھی اور نہ ہی اقتدار کو طول دینے کی کوئی خواہش، بلکہ وہ تو اس الہامی مشینری کے آخری محافظ تھے جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنے خون اور پسینے سے تیار کیا تھا۔
ریاستی نظام اور پولیٹیکل سائنس کا یہ ایک آفاقی اور ابدی اصول ہے کہ جب بھی معاشرے میں کوئی بڑا داخلی بحران پیدا ہوتا ہے، تو لیڈرشپ کے لیے سب سے اہم اور نازک ترین کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود حمایتی اور مخالف انتہا پسند گروہوں کو اپنی سرکاری اور ریاستی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے سے ہر ممکن طریقے سے روکے۔
اگر کوئی قائد اپنے ہی جذباتی حمایتیوں کے دباؤ میں آ کر فیصلے کرنے لگے، یا اپنے سخت ترین مخالفین کے خوف سے اپنے بنیادی اصولوں پر سودے بازی کر لے، تو اس ریاست کا شیرازہ بکھرنے میں دیر نہیں لگتی۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے بھی یہی سب سے بڑا چیلنج تھا کہ وہ کس طرح ان سبائیوں اور بلوائیوں کو، جو بظاہر ان کی صفوں میں شامل ہو کر خود کو 'ش*ی*ع*ا*نِ علی' کہہ رہے تھے، ریاست کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے سے روکیں، اور دوسری طرف ان مخالفین کو کیسے مطمئن کریں جو قصاص کے نام پر مصلحتوں کو سمجھنے سے انکاری تھے۔
قیادت کا اصل کمال یہی ہوتا ہے کہ وہ ایسے فتنہ پرور گروہوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر یا انہیں بتدریج کمزور کر کے، ریاست کے امن و امان کو یقینی بنائے اور امت کے وسیع تر مفاد میں بقائے نظریہ اور بحالیِ عروج کی تحاریک کو جاری رکھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے ایک ایک لمحے میں اسی اصول پر عمل کرنے کی کوشش کی، اور یہی وجہ ہے کہ ان کا دورِ خلافت مشکلات کے باوجود امت کے ایمان اور عزم کی سب سے بڑی درسگاہ بن کر ابھرا۔
ہمیں تاریخ کے اس نازک موڑ پر کھڑے ہو کر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ان واقعات کو کسی ایک فریق کے رنگ میں رنگ کر نہیں دیکھیں گے۔ ہمیں ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم اجمعین کے درمیان موجود اس گہرے، الہامی اور ادارہ جاتی رشتے کو سمجھنا ہوگا جو تاقیامت اس امت کی اساس ہے۔
جب ہم ان چاروں خلفاء کے دورِ خلافت کا ایک تسلسل کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے وقت کے تقاضوں اور چیلنجز کے مطابق بہترین اجتہاد کیا، اور ان کا مقصد صرف اور صرف کلمۃ اللہ کی سربلندی تھا۔ ع
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا اپنے خون کا نذرانہ دے کر مدینہ کو بچانا، اور علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا خلافت کے وقار کے لیے ان کٹھن حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا، یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو مختلف رخ ہیں۔
اب جبکہ مدینہ سے صلح اور جنگ کی لکیریں کھینچنے لگی تھیں، اور مکہ کی طرف سے اکابر صحابہ کا ایک وفد قصاصِ عثمان کے لیے بصرہ کی طرف روانہ ہو رہا تھا، تو تاریخ ایک اور خونریز اور اعصاب شکن معرکے کی طرف بڑھ رہی تھی جسے زمانہ 'جنگِ جمل' کے نام سے یاد کرتا ہے۔
وہ کیا حالات تھے جنہوں نے ان پاکباز ہستیوں کو میدانِ جنگ میں ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا؟
اور کس طرح رات کے اندھیرے میں سبائی سازشوں نے صلح کے معاہدے کو بارود کی چنگاری دکھا کر مسلمانوں کو آپس میں لڑا دیا؟
ان تمام سنسنی خیز، عبرتناک اور مستند تاریخی حقائق کا مکمل پوسٹ مارٹم ہم اس سلسلے کی اگلی قسط میں پیش کریں گے، جہاں سے امت کی تاریخ کا وہ گہرا ترین زخم نمایاں ہوتا ہے جس کی کسک آج بھی ہر مومن کے دل میں باقی ہے۔
جاری ہے!
نوٹ: یہ سلسلہ وار تحریر ہے جو 20 اقساط پہ مشتمل ہوگی انشاءاللہ تعالی، ہم اس میں انشاءاللہ تاریخ کو سلسلہ وار جانچنے کی کوشش کریں گے کہ ہم سے کہاں پر چوک ہو رہی ہے، اور ہم کیوں ان تاریخی واقعات کی آڑ میں فرقہ ورانہ جھگڑوں میں پھنسے ہوئے ہیں?
20/06/2026
خون، خلافت اور حقیقت: تاریخِ امت کا شعوری اور ارتقائی سفر! (قسط 6: فتنہِ سبائیت، مظلومِ مدینہ اور ایک الہامی ریاست کا خونچکاں محاصرہ) - بلال شوکت آزاد
انسانی تاریخ کا یہ ایک انتہائی تلخ، بے رحم اور سبق آموز المیہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی عظیم الشان تہذیب یا نظریاتی عمارت اپنے عروج کے آسمانوں کو چھونے لگتی ہے، تو اس کے زوال کا آغاز کبھی بھی دشمن کی سیدھی تلواروں یا بیرونی گولہ باری سے نہیں ہوتا۔
جب باطل طاقتوں کو یہ مکمل یقین ہو جاتا ہے کہ اس ابھرتی ہوئی الہامی طاقت کو کھلے میدانِ جنگ میں شکست دینا ناممکنات میں سے ہے، تو جنگ کا طریقۂ کار اور اس کی نفسیات مکمل طور پر بدل دی جاتی ہے۔
کھلی عسکری یلغار کی جگہ ایک انتہائی خاموش، زہریلی، نفسیاتی اور نظریاتی دراندازی لے لیتی ہے، جس کا واحد مقصد ریاست کی مضبوط عمارت کو باہر سے گرانے کے بجائے اس کی بنیادوں میں دیمک چھوڑنا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے ہی بوجھ تلے دب کر زمین بوس ہو جائے۔
خلافتِ راشدہ کا وہ ناقابلِ شکست قافلہ جو سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضوان اللہ علیہم اجمعین کی فولادی، بے لچک اور عبقری قیادت میں ہر بیرونی اور داخلی خطرے کو روندتا ہوا آگے بڑھا تھا، اب وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ایک ایسے مقام پر پہنچ چکا تھا جہاں بظاہر ہر طرف امن، خوشحالی، وسعت اور فتوحات کے شادیانے بج رہے تھے۔
لیکن پولیٹیکل سوشیالوجی (Political Sociology) اور ریاستی عمرانیات کا ایک اٹل اصول ہے کہ جب فتوحات کا طوفانی سیلاب تھمنے لگتا ہے، مال و دولت کے انبار لگ جاتے ہیں اور معاشرے میں طبعی آسودگی حد سے بڑھ جاتی ہے، تو انسانی نفسیات کا ایک بالکل مختلف اور خطرناک پہلو بیدار ہوتا ہے۔
وہ بے پناہ توانائیاں جو کل تک دشمن کی صفوں کو الٹنے میں صرف ہو رہی تھیں، وہ اب اندرونی بحثوں، ذاتی مفادات، قبائلی عصبیتوں اور بے بنیاد تنقید کی شکل اختیار کرنے لگتی ہیں۔
سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورِ خلافت کا اگر ہم ایک غیر جانبدارانہ اور دیانتداری پر مبنی خاکہ کھینچیں، تو وہ اسلام کی تاریخ کا ایک ایسا سنہری اور محیر العقول دور تھا جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔
مشہور تابعی امام حسن بصری رحمہ اللہ، جو اس دور میں سنِ شعور کو پہنچ رہے تھے، انہوں نے اس زمانے کی معاشی اور سماجی خوشحالی کا نقشہ کچھ یوں کھینچا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہر دوسرے روز صبح سویرے منادی کی جاتی کہ
"اے لوگو! آؤ اور اپنے عطیے لے جاؤ، آؤ اور اپنے کپڑے لے جاؤ۔"
مخلوقِ خدا امڈ آتی اور بیت المال سے مال تقسیم کر دیا جاتا۔
یہاں تک کہ لوگوں نے یہ اعلانات بھی سنے کہ
"آؤ شہد اور گھی لے جاؤ۔"
دشمن کو ریاست کی سرحدوں سے بہت دور دھکیل دیا گیا تھا، مال و زر کی اتنی کثرت تھی کہ کوئی غریب ڈھونڈنے سے نہ ملتا تھا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمان کو مسلمان سے کوئی خوف نہیں تھا، وہ سب بھائی بھائی تھے اور ایک دوسرے کے سچے مددگار تھے۔
یہ وہ دور تھا جب اسلامی ریاست کی سرحدیں طرابلس اور افریقہ کے ریگستانوں سے لے کر خراسان اور آرمینیا کے برف پوش پہاڑوں تک پھیل چکی تھیں۔
لیکن اس بے پناہ وسعت نے اپنے دامن میں کچھ ایسے نئے، انوکھے اور پیچیدہ عمرانی چیلنجز سمیٹ لیے تھے جنہیں سمجھے بغیر ہم اس دور کی بغاوت اور اس عظیم سانحے کا درست تجزیہ نہیں کر سکتے۔
ان نئے مفتوحہ خطوں، خاص طور پر عراق، شام اور مصر میں مختلف تہذیبوں، نسلوں اور مذاہب کے لاکھوں لوگ اسلام کے سائے میں آ چکے تھے۔ ان میں سے بہت سے وہ تھے جنہوں نے بظاہر تو کلمہ پڑھ کر مدینہ کی اطاعت قبول کر لی تھی، لیکن ان کے دلوں کی گہرائیوں میں اپنی کھوئی ہوئی تہذیبی برتری کا دکھ، ساسانی اور بازنطینی سلطنتوں کے ٹوٹنے کا رنج اور پرانے آقاؤں کی یادیں ایک چھپے ہوئے آتش فشاں کی طرح سلگ رہی تھیں۔
دوسری طرف، عرب کے وہ جنگجو قبائل جو صدیوں سے صحرا کی آزاد اور خود مختار زندگی گزارنے کے عادی تھے، جب وہ دولت کی فراوانی کے باعث ان زرخیز زمینوں پر آباد ہوئے، تو ان میں وہ قدیم قبائلی انفرادیت پسندی، مرکز سے بغاوت کا مادہ اور انا پرستی دوبارہ سر اٹھانے لگی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بے مثال روحانی تربیت اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سخت گیر ریاستی ڈسپلن نے دبا رکھا تھا۔ انہیں اب مدینہ کی مرکزیت، ریاست کا نظم و نسق اور خلیفہ کی غیر مشروط اطاعت ایک بھاری بوجھ محسوس ہونے لگی تھی۔
یہ وہ مخصوص نفسیاتی، سماجی اور سیاسی پس منظر تھا، اور وہ انتہائی زرخیز زمین تھی جس کی تلاش تاریخ کے ہر سازشی اور تخریبی دماغ کو ہوتی ہے، اور عین اسی ماحول میں عبداللہ بن سبا نامی اس پراسرار، شاطر اور زہریلے کردار کا ظہور ہوا، جس نے اسلام کے اس الہامی ریاستی انسٹیٹیوشن کو وہ کاری اور خونی ضرب لگائی جس کا درد آج چودہ سو سال بعد بھی امتِ مسلمہ کے وجود میں ٹیسیں اٹھاتا ہے۔
عبداللہ بن سبا کوئی عام، سیدھا سادہ یا جذباتی انسان نہیں تھا، بلکہ وہ یمن کے شہر صنعاء کا رہنے والا ایک انتہائی مکار یہودی تھا جس نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کی صفوں میں دراندازی کی۔
قدیم اور مستند تاریخی حوالوں سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ابن سبا کا مقصد اسلام کی خدمت کرنا یا کسی سچائی کی تلاش نہیں تھا، بلکہ اس کا اکلوتا ایجنڈا اس نظریاتی وحدت اور امت کے اس شیرازے کو پارہ پارہ کرنا تھا جس نے پوری دنیا کے باطل استحصالی نظاموں کو خاک میں ملا دیا تھا۔
اس کا کام کرنے کا طریقہ (Modus Operandi) آج کے جدید دور کی خفیہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نفسیاتی جنگ (Psychological Warfare) اور ففتھ جنریشن وار (Fifth Generation War) سے ہو بہو مشابہت رکھتا تھا۔
اس نے مدینہ منورہ، جو کہ راسخ العقیدہ صحابہ کا مرکز تھا، اسے براہِ راست اپنا ہدف بنانے کے بجائے ریاست کی ان سرحدی اور صوبائی چھاؤنیوں اور نئے شہروں کا انتخاب کیا جہاں نو مسلم اور قبائلی عصبیت کے شکار لوگ آباد تھے اور جہاں مرکز سے دوری کے باعث پروپیگنڈا کرنا قدرے آسان تھا۔
اس نے بصرہ، کوفہ، شام اور پھر مصر کے طویل اور مسلسل سفر کیے اور وہاں کے لوگوں کے ذہنوں میں زہر گھولنا شروع کیا۔
ابن سبا کی سب سے بڑی اور سب سے خطرناک چال یہ تھی کہ اس نے اپنی اس منظم سیاسی بغاوت کو کھلم کھلا خلیفہ وقت کی مخالفت یا کفر کے طور پر پیش نہیں کیا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایسا کرنے سے وہ فوراً پکڑا جائے گا۔
اس کے بجائے اس نے انتہائی منافقت کے ساتھ دین کا لبادہ اوڑھا، اور بظاہر 'امر بالمعروف اور نہی عن المنکر' (نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے) کا وہ دلفریب نعرہ بلند کیا جو ہر سچے مسلمان کی کمزوری ہے۔
اس کے ساتھ ہی اس نے 'حبِ اہلِ بیت' کا ایک ایسا پرفریب، مسحور کن اور جذباتی جال بُنا جس میں پھنس کر بہت سے سیدھے سادھے مسلمان یہ سمجھے کہ وہ شاید کسی بہت بڑے دینی اور انقلابی فریضے کی انجام دہی کر رہے ہیں۔
اس نے ایک نیا، من گھڑت اور اسلام کی روح سے یکسر متصادم نظریہ تراشا کہ جس طرح ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصی سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہیں، اور چونکہ وہ وصی ہیں، لہٰذا سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نعوذ باللہ ان کا شرعی حق غصب کر رکھا ہے۔
ذرا اس پروپیگنڈے کی مکاری، سفاکی اور گہرائی پر غور کیجیے!
اس شخص نے امت کے دو عظیم ترین ستونوں کو، جو ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے تھے، جو ایک دوسرے پر جان نچھاور کرتے تھے اور جن کا رشتہ انتہائی گہری محبت اور احترام پر استوار تھا، انہیں ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کرنے کی مذموم ترین کوشش کی، اور اس شیطانی مقصد کے لیے اس نے دین کے مقدس ترین رشتوں اور اہل بیت کی محبت کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔
اس سبائی نیٹ ورک نے اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے لیے ایک انتہائی منظم اور مربوط ڈس انفارمیشن مہم (Disinformation Campaign) کا آغاز کیا۔
انہوں نے مختلف شہروں میں اپنے خفیہ کارندے بٹھائے جن کا واحد کام مقامی گورنروں اور خلیفہِ وقت کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر جھوٹی خبریں، بے بنیاد الزامات اور من گھڑت کہانیاں تراش کر ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں پھیلانا تھا۔
مدینہ منورہ سے سیدنا علی المرتضیٰ، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم کے ناموں سے جعلی خطوط تیار کیے گئے اور انہیں بصرہ، کوفہ اور مصر میں پھیلا کر یہ صریح جھوٹا تاثر دیا گیا کہ مدینہ کے اکابر صحابہ بھی خلیفہ سے شدید تنگ آ چکے ہیں اور وہ خود صوبوں کے لوگوں کو بغاوت پر اکسا رہے ہیں۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی پاکیزہ ذات پر اقربا پروری کا جھوٹا الزام لگایا گیا، یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ بیت المال کے امین نہیں رہے اور اپنے رشتہ داروں کو نواز رہے ہیں، اور یہاں تک کہ ان کے اس عظیم الشان اور تاریخ ساز کارنامے کو بھی جرم بنا کر پیش کیا گیا جس میں انہوں نے پورے عالمِ اسلام کو قرآنِ مجید کے ایک متفقہ نسخے (مصحفِ عثمانی) پر جمع کر کے باقی تمام ذاتی اور نامکمل نسخوں کو تلف کروا دیا تھا۔
باغیوں نے پروپیگنڈا کیا کہ عثمان نے اللہ کی کتاب کو جلا دیا ہے۔ یہ سبائی پروپیگنڈا اتنی باریک بینی، تواتر اور شدت سے کیا گیا کہ دور دراز صوبوں میں رہنے والے ایک عام مسلمان کے لیے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنا محال ہو گیا۔
یہاں ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر اس عظیم ہستی، مظلومِ مدینہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی شخصیت، ان کے کردار اور اسلام کے لیے ان کی لازوال خدمات کا دیانتداری سے جائزہ لینا ہوگا، جنہیں ان باغیوں نے اپنے جھوٹے پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا۔
یہ وہ ہستی تھی جس کی دو خوبیاں پوری امت میں ضرب المثل تھیں: وہ بے پناہ باحیا تھے اور بے مثال باوفا تھے۔
اسلام کو جب بھی کوئی مشکل پیش آئی، جب بھی ریاستِ مدینہ کا خزانہ خالی ہوا، اس شخص نے اپنا سارا مال اور اپنی تمام تر دولت خدا کی راہ میں پانی کی طرح بہا دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں ان کا کردار کیا رہا، یہ تاریخ کا کوئی بھی طالب علم بخوبی جانتا ہے۔
ہجرت کے فوراً بعد جب مدینہ کے مسلمان میٹھے پانی کے لیے ترس رہے تھے، تو عثمان ہی وہ شخص تھے جنہوں نے ایک یہودی سے بئرِ رومہ (رومہ کا کنواں) منہ مانگی قیمت پر خرید کر قیامت تک کے لیے امت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ جب مسجدِ نبوی میں نمازیوں کے لیے جگہ تنگ پڑ گئی، تو یہ عثمان ہی تھے جنہوں نے اس کی توسیع کے لیے ملحقہ زمین خرید کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدموں میں ڈال دی۔ غزوہ تبوک (جیشِ عسرہ) کا کٹھن ترین موقع ہو، جب ریاست کو شدید مالی بحران اور جنگی خطرے کا سامنا تھا، تو عثمان ہی نے سینکڑوں اونٹ، گھوڑے اور دیناروں کی بوریاں لا کر رکھ دیں، یہاں تک کہ کملی والے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لبوں سے بے ساختہ یہ الہامی الفاظ نکلے کہ
"آج کے بعد عثمان کا کوئی عمل اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا آپ کے ساتھ جو سلوک تھا وہ بھی سب کو معلوم ہے۔ بدر کے میدان میں اگر وہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمارداری کی وجہ سے حاضر نہ ہو سکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کا حصہ بھی مقرر کیا اور انہیں اجر کی بشارت بھی دی۔ ایک بیٹی فوت ہوئی تو دوسری نکاح میں دے دی، اور انہیں 'ذوالنورین' کے دائمی شرف سے نوازا۔
ان کی ذاتِ اقدس کا یہ عالم تھا کہ ثقہ تابعی عامر بن عبدہ رحمہ اللہ نے جب انہیں دیکھا تو وہ سفید لباس زیب تن کیے ہوئے تھے، خوشبو کے ہلّے آ رہے تھے، وہ لوگوں کو قرآن سنا رہے تھے، اور اگر کہیں بھول جاتے تو عام لوگ انہیں لقمہ دیتے۔ وہ اس قدر باکردار تھے کہ خود فرماتے ہیں:
"میں نے اسلام لانے کے بعد، اور نہ ہی جاہلیت کے دور میں کبھی زنا کیا۔"
اور قرانِ پاک سے ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ وہ صبح کی نماز میں اکثر سورہ یوسف کی تلاوت کیا کرتے تھے، اور تاریخ نے انہیں جھوم کر 'جامع القرآن' کے شاندار لقب سے نوازا۔
ان کی حیا کا جو نمونہ کملی والے کے زمانے میں دیکھا گیا تھا، وہ تا دمِ آخر قائم رہا۔ وہ اسلام کی اس بے پایاں اور وسیع و عریض سلطنت کے بلا شرکتِ غیرے حکمران تھے، مگر مسجدِ نبوی میں ان کی عاجزی کا یہ عالم تھا کہ مالک ابو عامر کہتے ہیں
"میں نے دیکھا، خلیفہِ وقت اپنے جوتوں سے مسجد کے سنگریزے سیدھے کر رہا تھا۔ وہ ایک عام انسان کی طرح بازاروں کا چکر لگاتے، لوگوں سے اشیاء کے بھاؤ پوچھتے، اور غلاموں کی دعوتیں قبول کرتے۔ انہوں نے اپنے آپ کو ہمیشہ محاسبے کے لیے پیش رکھا۔"
ایک موقع پر اپنے قدم آگے کر کے فرمایا:
"یہ میرے دو قدم ہیں، اگر تمہیں کتاب اللہ سے انہیں پابندِ سلاسل کرنے کا جواز ملے تو کر دینا۔"
ان کی پوری زندگی اس تڑپ کی عکاس تھی کہ انہوں نے کبھی فرمایا:
"میں نے اگر کسی پر ظلم کیا تو اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور اگر مجھ پر کسی نے ظلم کیا تو میں اسے معاف کر رہا ہوں۔"
لیکن ان تمام بے مثال خدمات، اس حیا، اس تقویٰ اور اس نرم دلی کا بدلہ انہیں اس صورت میں ملا کہ سن پینتیس ہجری کے اواخر میں وہ مصری، کوفی اور بصری لونڈے، جو سبائی اور خارجی ذہنیت کا شکار ہو چکے تھے، انہوں نے مدینہ میں کہرام مچا دیا اور قصرِ خلافت کا محاصرہ کر لیا۔
یہ وہی منافق جماعت اور فتنہ پرور لوگ تھے جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں ہی ایک غیبی پیشینگوئی فرما دی تھی کہ:
"اے عثمان! اللہ آپ کو خلافت کی ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافق تجھے کہیں کہ وہ قمیص اتار دے، تو تو نے وہ قمیص اتارنی نہیں ہے۔"
یہ وہ عہد تھا، وہ الہامی وعدہ تھا جس کی پاسداری سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی جان دے کر کی مگر خلافت کے اس تقدس کو باغیوں کے پاؤں تلے روندنے کی اجازت نہیں دی۔
باغیوں کے اعتراضات بھی کس قدر عجیب، مضحکہ خیز اور خارجی ذہنیت کے عکاس تھے۔
ان کا ایک اعتراض یہ تھا کہ
"عثمان نے چراگاہ کو وسعت کیوں دی ہے، وہ تو نعوذ باللہ قرآن کے خلاف ہے۔"
حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ سرکاری چراگاہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ریاستی گھوڑوں اور اونٹوں کے لیے بنوائی تھی، اور عثمان رضی اللہ عنہ نے ریاستی ضروریات کے پیشِ نظر صرف اس میں اضافہ کیا تھا۔
جب انسان تقوے کے زعم میں اور خارجی مائنڈ سیٹ میں مبتلا ہو جاتا ہے، تو پھر وہ عجیب و غریب اور سطحی تاویلوں سے اگلوں کو کافر کرنے کے درپے رہتا ہے۔
خیر تاریخ کے اوراق جب الٹتے ہیں تو بعض اوقات وہ ایسے دردناک اور کربناک موڑوں پر آ کر ٹھہر جاتے ہیں جہاں انسانی عقل، جذبات اور عقیدت کے درمیان ایک عجیب سی کشمکش پیدا ہو جاتی ہے۔
آج کے دور میں، جب ہم اپنی آرام دہ نشستوں پر بیٹھ کر چودہ سو سال پرانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمارے ذہنوں میں اکثر ایک ایسا سوال ابھرتا ہے جسے بعض حلقوں کی جانب سے دانستہ یا نادانستہ طور پر ایک کڑے اعتراض کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔
سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ
"آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ مدینہ منورہ میں مہاجرین و انصار کی ایک بڑی اور جلیل القدر تعداد موجود ہو، اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہاں قیام پذیر ہوں، اور خلیفۂ وقت کا گھر کئی دنوں تک بلوائیوں کے محاصرے میں رہے، ان کا پانی تک بند کر دیا جائے، اور پھر انہیں نہایت بے دردی کے ساتھ ان کے اپنے گھر میں شہید بھی کر دیا جائے، لیکن کوئی ان کی مدد اور دفاع کے لیے کھڑا نہ ہو؟"
یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ
"کیا خدانخواستہ سب لوگ سو رہے تھے؟"
"کیا پورا مدینہ کسی پراسرار بے حسی کا شکار ہو چکا تھا، یا کسی کو خلیفہِ وقت کی جان کی پرواہ ہی نہیں تھی؟ "
بظاہر یہ اعتراض بڑا منطقی، جذباتی اور سنسنی خیز لگتا ہے، اور بدقسمتی سے یہی وہ مقام ہے جہاں سے تاریخ کی تصویر کو مسخ کر کے دلوں میں شکوک و شبہات اور دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
لیکن درحقیقت، جب ہم ان تاریخی حقائق، شرعی اصولوں اور اس وقت کی زمینی نزاکتوں کا گہرائی سے اور غیر جانبدارانہ تجزیہ کرتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل حقیقت اس فرضی، سطحی اور بھیانک تصویر کے بالکل برعکس تھی۔
یہاں سب سے پہلے تو اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ یہ اعتراض ان تمام قدیم، مستند اور متواتر تاریخی روایات کو یکسر نظر انداز کر کے گھڑا جاتا ہے جو امام خلیفہ بن خیاط، حافظ ابن کثیر، علامہ بلاذری اور دیگر قدیم و ثقہ مؤرخین نے انتہائی تفصیل کے ساتھ بیان کی ہیں۔
ان مستند روایات کے مطابق، یہ تصور ہی سرے سے غلط ہے کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو تنہا چھوڑ دیا گیا تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ ان کے دفاع کے لیے مدینہ کے متعدد جلیل القدر، بہادر اور جان نثار صحابہ کرام ہر وقت ان کے دروازے پر موجود تھے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں آتا ہے کہ وہ دو مرتبہ مکمل زرہ پہن کر اور جنگی لباس میں ملبوس ہو کر خلیفہ کے دفاع کے لیے تیار ہوئے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ننگی تلوار ہاتھ میں لیے موجود تھے اور شدتِ جذبات سے قتال کی اجازت مانگ رہے تھے، حضرات حسنین کریمین، یعنی سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور دیگر نوجوان صحابہ بشمول سیدنا مروان بن الحکم مکمل طور پر مسلح ہو کر دارِ عثمان پہنچے اور بلوائیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔
اسی طرح انصارِ مدینہ نے، جن کی شجاعت سے عرب کی زمین واقف تھی، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ذریعے باقاعدہ خلیفہِ وقت کو دفاع کی پیشکش کی اور کہا کہ اگر آپ صرف ایک بار حکم دیں تو ہم ان باغیوں کا مدینہ سے نام و نشان مٹا دیں۔
حتیٰ کہ مدینہ سے باہر، شام، بصرہ اور کوفہ کے گورنروں کی جانب سے بھی خلیفہ کی مدد کے لیے ریاستی امدادی فوجی دستے روانہ کیے جا چکے تھے۔
یہ تمام شواہد اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ مدینہ نہ تو سو رہا تھا اور نہ ہی بے حس ہوا تھا، بلکہ وہ اپنے محبوب قائد پر جان نچھاور کرنے کے لیے بے تاب تھا۔
لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
جب اتنی قوت اور جان نثاری موجود تھی تو پھر یہ سانحہ پیش کیسے آ گیا؟
ان تمام مستند روایات اور تاریخی شواہد کا جو سب سے بڑا، فیصلہ کن اور مشترک نکتہ ہے، وہ یہ ہے کہ خود خلیفہِ وقت، پیکرِ حیا و وفا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے، اس مقدس شہر کو خونریزی سے بچانے کے لیے، اپنے دفاع میں قتال کی اجازت دینے سے سختی کے ساتھ انکار کر دیا تھا، اور وہ صحابہ کرام کو بار بار اللہ کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا واسطہ دے کر لڑائی سے روکتے رہے۔
ان کا واضح، دو ٹوک اور تاریخی فرمان تھا کہ
"میرا سب سے زیادہ خیر خواہ وہ ہوگا، جس نے آج اپنے ہتھیار اور اپنے ہاتھ کو روکے رکھا۔"
یہاں ایک اور سوال جو اکثر ذہنوں میں الجھن پیدا کرتا ہے وہ یہ ہے کہ
خلیفہ نے آخر اپنا دفاع کیوں نہیں کیا، اور اگر بلوائیوں کا مطالبہ ان کے استعفے کا تھا، تو انہوں نے محض ایک عہدے کی خاطر جان کیوں دے دی، استعفیٰ کیوں نہیں دے دیا؟
اس سوال کا جواب کسی سیاسی مصلحت میں نہیں، بلکہ اس الہامی بصیرت میں چھپا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انہیں عطا کی تھی۔
جامع ترمذی اور ابن ماجہ کی مستند احادیث میں موجود ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے ایک پیشین گوئی فرمائی تھی کہ
" اے عثمان، شاید اللہ تجھے ایک قمیص (خلافت) پہنائے، سو اگر منافق تجھ سے وہ قمیص اتارنے کا مطالبہ کریں، تو تو اسے ہرگز نہ اتارنا۔"
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسی نبوی فرمان اور ریاستی اصول کی پاسداری کی۔ اگر وہ باغیوں کے دباؤ میں آ کر استعفیٰ دے دیتے، تو تاریخِ اسلام میں یہ ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن روایت بن جاتی کہ چند سو یا چند ہزار بلوائی جب چاہیں، دارالخلافہ کا محاصرہ کر کے ریاست کے منتخب سربراہ کو ہٹا سکتے ہیں۔ انہوں نے استعفیٰ نہ دے کر خلافت کے ادارے کے وقار اور اس کی عملداری کو بچایا، اور جنگ کی اجازت نہ دے کر امت کے خون کی حفاظت کی۔ یہ ایک قائد کی وہ بے مثال اور دوہری قربانی تھی جس کی نظیر انسانی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔
یہاں اس پہلو کو بھی خاص طور پر یاد رکھنے اور تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اہلِ مدینہ کو تلوار اٹھانے کی اس قطعی ممانعت اور آخری وقت میں اہلِ شام و بصرہ سے ریاستی امدادی دستوں کی طلبی کے پیچھے ایک بہت بڑی جغرافیائی اور زمینی حقیقت بھی کارفرما تھی۔
یہ محاصرہ عین موسمِ حج کے دوران ہوا تھا، جس کی وجہ سے مدینہ منورہ کی حاضر آبادی اور دفاعی افرادی قوت میں قابلِ ذکر اور غیر معمولی کمی واقع ہو چکی تھی کیونکہ اکابرین اور عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ کی طرف سفر کر چکی تھی۔
ایسے انتہائی نازک وقت میں، اپنے دفاع کے نام پر محض اکیلے اور تعداد میں کم اہلِ مدینہ کو ان ہزاروں مسلح، بپھرے ہوئے اور جنگجو بلوائیوں سے بھڑا دینا، دراصل مدینہ کی گلیوں اور حرمِ نبوی کو بے دریغ خون سے رنگین کرنے کے مترادف تھا۔
جس شہر کی حرمت اور تقدس کا یہ عالم تھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس کے درختوں اور پرندوں تک کو نقصان پہنچانا پسند نہیں کرتے تھے، وہ یہ کیسے گوارا کر لیتے کہ محض ان کی ذات، ان کی کرسی یا ان کی جان کی حفاظت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مسجد اور صحابہ کرام کے پرسکون گھر ایک خونی اکھاڑے میں تبدیل ہو جائیں؟
اسی خیال، دردمندی اور دور اندیشی کے سبب، جب انہوں نے حالات کو پرامن طریقے سے درست نہ ہوتے دیکھا، تو باغیوں کی سرکوبی کے لیے اہلِ مدینہ کے شہریوں کو آپس میں لڑانے کے بجائے بیرونی صوبوں کی منظم اور ریگولر فوج کو بلوانے پر اکتفا کیا، تاکہ دیارِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور اہلِ مدینہ کو ان باغیوں کے شر سے حتی الامکان محفوظ رکھا جا سکے۔
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی وہ کلیدی اور اسٹریٹجک وجہ رہی کہ توقعات کے بالکل برعکس، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حالات کو ہاتھوں سے نکلتے دیکھ کر دیگر شہروں سے فوجی دستے طلب کیے، اور ان ریاستی دستوں کی تیز رفتار آمد کی خبر ان منافق بلوائیوں کو ملی، تو ان کے کیمپ میں ایک شدید گھبراہٹ اور خوف کی لہر دوڑ گئی۔
باغیوں کو یہ بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ اگر شامی افواج مدینہ پہنچ گئیں تو ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے طے شدہ پروگرام اور محاصرے کی طوالت کو فوری طور پر ترک کرتے ہوئے، نہایت عجلت، افراتفری اور گھبراہٹ میں خلیفہ کے گھر کی پچھلی دیواریں پھاند کر اچانک حملہ کر دیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو نہایت بے دردی سے شہید کر دیا۔
جس عجلت اور پراسرار تیزی میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا یہ اندوہناک واقعہ روبہ عمل لایا گیا، نہ تو وہ ان بلوائیوں کا اپنا اصل اور ابتدائی پلان تھا، اور نہ ہی اہلِ مدینہ بشمول خود سیدنا عثمان کو اس سفاکانہ اور اچانک حملے کی توقع تھی۔
اب ہم آتے ہیں اس مخصوص اور بار بار دہرائے جانے والے اعتراض کی طرف کہ، کیا پورا مدینہ واقعی اتنا بے حس ہو چکا تھا جو از خود، خلیفہ کے منع کرنے کے باوجود، ان بلوائیوں کے مقابلے پر نہ آیا اور انہیں بچانے کے لیے تلوار نہ اٹھائی؟
اس سوال کا سب سے سادہ، منطقی، آئینی اور شرعی جواب یہی ہے کہ اسلام کے ریاستی اور قانونی ڈھانچے میں امیرِ وقت کی اطاعت ہر حال میں واجب ہوتی ہے، اور اس کے واضح، صریح اور دو ٹوک حکم سے روگردانی کرنا، چاہے اس کی نیت کتنی ہی نیک کیوں نہ ہو، شریعت کی نظر میں ایک گناہ اور ریاست کے خلاف بغاوت شمار ہوتا ہے۔
جب خود سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بطور امیر المومنین تلوار اٹھانے سے قطعی انکار کر دیا اور سختی سے قسمیں دے کر منع فرما دیا، تو پھر کسی بھی نفس، چاہے وہ کتنا ہی بڑا صحابی کیوں نہ ہو، اس کے پاس یہ شرعی، قانونی اور اخلاقی اختیار ہی نہیں رہا تھا کہ وہ لاکھ خواہش، جذبہ اور دلی تڑپ رکھنے کے باوجود ان کے دفاع میں تلوار اٹھاتا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا مکی دور اس عظیم اصول کی ایک تاریخ ساز مثال کے طور پر ہمارے سامنے موجود ہے، جہاں سیدنا حمزہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما جیسے جری، شجاع اور غیرت مند مسلمان، مشرکینِ مکہ کی جانب سے اپنے ساتھیوں پر ہونے والے ہوش ربا اور دل دہلا دینے والے مظالم کو اپنی آنکھوں سے روا دیکھ کر بار بار شدید جذبات میں آ کر تلوار اٹھانے اور قتال کی بات کرتے تھے، مگر نبی مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مسلسل انکار اور صبر کے واضح حکم پر وہ اپنی تمام تر قوت، شجاعت اور تڑپ کے باوجود ایک تیر بھی نہ چلا سکتے تھے۔
یہ تھا خیر القرون کی اس باکمال مسلم امت میں اطاعتِ امیر کا وہ والہانہ اور ڈسپلن سے بھرا جذبہ، جہاں لوگ سخت سے سخت بات اور اپنے گہرے جذبات کی قربانی کو محض اطاعتِ امیر کے ضمن میں بخوشی قبول کر لیتے تھے، تاکہ معاشرہ کسی بڑے نظریاتی انتشار، انارکی اور بگاڑ سے محفوظ رہ سکے۔
خلافتِ صدیقی اور فاروقی کا پورا دور اسی اطاعتِ امیر کی عملی، شاندار اور ریاست کو مضبوط کرنے والی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔
تاریخ یاد دلاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد جب عرب میں ارتداد کے بادل چھا گئے تھے، تو بعض اکابر صحابہ کرام نے حالات کی سنگینی کے پیشِ نظر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ عسکری مشورہ دیا کہ لشکرِ اسامہ کی روانگی کو کچھ عرصے کے لیے مؤخر کر دیا جائے، یا کم از کم سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی جگہ کسی زیادہ عمر رسیدہ، تجربہ کار اور بزرگ صحابی کو امیرِ لشکر بنا دیا جائے۔ لیکن جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کمالِ جلالت کے ساتھ اپنا فیصلہ برقرار رکھا اور فرمایا کہ رسول اللہ کا بنایا ہوا امیر ابوبکر نہیں بدل سکتا، تو تمام صحابہ نے، جن میں خود سیدنا عمر بھی شامل تھے، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے تسلیم کیا۔
اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عین فتوحات کے عروج کے دوران سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسے عظیم اور فاتحِ اعظم کو سپہ سالاری سے معزول کر کے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو نیا سپہ سالار مقرر کیا، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بغیر کسی احتجاج، ناراضگی یا دھڑے بندی کے، ایک عام سپاہی کی حیثیت سے اپنے نئے امیر کے ماتحت اسی جانفشانی سے خدمت انجام دی جس طرح وہ بطور کمانڈر کرتے تھے۔
یہ تمام واقعات اس بات کا انتہائی واضح ثبوت ہیں کہ صحابۂ کرام آپس کے طبعی اختلافِ رائے کے باوجود، ریاست کے ڈسپلن، نظمِ جماعت اور اطاعتِ امیر کو اپنی ذات اور اپنے جذبات سے کہیں زیادہ اہمیت دیتے تھے۔
اس پورے تاریخی منظرنامے کو ذرا آج کے جدید ریاستی تصورات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کیجیے۔
فرض کیجیے کہ آج کے دور میں کسی بھی مستحکم ملک کے صدر یا حکمران کی سرکاری رہائش گاہ کا بلوائیوں کی جانب سے محاصرہ ہو جاتا ہے اور اس حکمران کے پاس اس کی ایلیٹ فوج، پولیس، اسپیشل فورسز اور اس کے بے شمار حامی سب کے سب اس کے دفاع کے لیے مکمل طور پر مسلح ہو کر تیار کھڑے ہیں، لیکن عین اس نازک لمحے میں خود وہ سربراہِ مملکت بطور سپریم کمانڈر یہ حتمی اور دو ٹوک حکم دے دیتا ہے کہ، کوئی فائرنگ نہیں ہوگی، کوئی جوابی عسکری کارروائی نہیں کی جائے گی، میں اپنی جان یا کرسی کی خاطر اپنے ہی شہریوں کا خون سڑکوں پر نہیں بہنے دوں گا۔
اب اگر فوج، فورسز یا اس کے حامی اس واضح حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے کارروائی کریں اور خونریزی شروع کر دیں، تو کیا اسے ریاستی قانون اور جدید سیاسیات میں وفاداری اور 'اطاعت' کہا جائے گا یا اسے صریح 'بغاوت' اور نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی مانا جائے گا؟
دنیا کے تمام ریاستی اور آئینی نظام اسی متفقہ اصول پر چلتے ہیں کہ حتمی اور آخری فیصلہ کن حکم سربراہِ مملکت کا ہی ہوتا ہے۔
جب سربراہ خود اپنے اختیار سے خونریزی روک دے، تو محض حامیوں کی تعداد زیادہ ہونے یا جذباتی لگاؤ کی وجہ سے لوگ اپنی مرضی سے کوئی جنگ یا قتال شروع کرنے کے مجاز نہیں ہوتے۔
پھر یہ سوال بھی نہایت سنجیدگی کے ساتھ قابلِ غور ہے کہ کیا کسی شخصیت کا اچانک قتل ہو جانا اس بات کی حتمی دلیل ہے کہ اس معاشرے میں اس کے حامی سرے سے موجود ہی نہیں تھے؟
آج کی نام نہاد ترقی یافتہ اور انتہائی جدید سیکیورٹی والی دنیا میں بھی، جہاں خفیہ انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کا جال بچھا ہوتا ہے، کئی مقبول ترین صدور، وزرائے اعظم اور کروڑوں کے ہجوم رکھنے والے قومی رہنما سخت ترین حفاظتی انتظامات کے باوجود قاتلانہ حملوں میں قتل ہو چکے ہیں۔
کیا ان کے اس طرح اچانک قتل ہو جانے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پورا ملک سو رہا تھا، ان کی فوج بے حس ہو چکی تھی، یا ان کے حامی دنیا میں موجود نہیں تھے؟
ہرگز نہیں۔
لہٰذا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کو یہ طعنہ دے کر مشکوک اور متنازعہ بنانا کہ
"اگر لوگ ان کے ساتھ تھے تو پھر وہ شہید کیسے ہو گئے؟"
دراصل تاریخ کی گہری پیچیدگیوں اور انسانی معاشروں کی نفسیاتی حقیقت دونوں کو انتہائی سادگی اور کم فہمی کے ساتھ نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
حقیقت، جو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھی ہے، وہ یہ ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی جان نچھاور کرنے والے، تلواریں سونت کر کھڑے صحابہ اور وفاداروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، لیکن اس امامِ مظلوم نے امت کے خون کو اپنی جان پر ترجیح دی اور آخری سانس تک اپنے دفاع میں وسیع پیمانے پر قتال کی اجازت نہیں دی۔
یہاں پر ایک بہت ہی حساس، فکری اور امت کے مستقبل سے جڑی ہوئی بات پر غور کرنا ہم سب کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
جب ہم تاریخ کے ان خونچکاں اور دردناک اوراق کو پلٹتے ہیں، تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان واقعات کا مطالعہ ہم اس لیے نہیں کر رہے کہ آج کے دور میں نئے فتنے کھڑے کریں یا کسی کے دل میں صحابہ کرام یا اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف کوئی رائی برابر بھی بغض پیدا کریں۔
تاریخ کی ان تلخیوں کو مسلکی اختلافات کی بھینٹ چڑھا کر ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کرنا، دراصل ان عظیم ہستیوں کے مشن کے ساتھ سب سے بڑی غداری ہے۔
اگر ہم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کو لے کر امت میں تفریق پیدا کرتے ہیں، تو یہ ان کی اس عظیم قربانی کی نفی ہے جو انہوں نے امت کے اتحاد کے لیے اپنی جان دے کر دی تھی۔
اسی طرح، اگر ہم سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی کربلا میں دی گئی لازوال اور جرات مندانہ قربانی کو محض ایک مخصوص گروہ کے خلاف نفرت پھیلانے یا دیگر جلیل القدر صحابہ کی توہین کا ذریعہ بناتے ہیں، تو یہ اس عظیم امام کے ساتھ صریح ناانصافی ہے، جو دین کی بقا، حق کی سربلندی اور ظالم کے سامنے کلمہِ حق کہنے کے لیے میدان میں نکلے تھے۔
سیدنا عثمان کا مدینہ میں بہنے والا خون، اور سیدنا حسین کا کربلا میں بہنے والا خون، یہ دونوں امتِ مسلمہ کے وہ مشترکہ اور مقدس دکھ ہیں جو ہمیں بانٹنے کے لیے نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کے لیے کافی ہونے چاہئیں۔
یہ دونوں عظیم ہستیاں اس بات کی علامت ہیں کہ جب حق پر کھڑے ہونے کا وقت آئے، تو جان کی پرواہ نہیں کی جاتی، اور جب امت کے خون کو بچانے کا وقت آئے، تو اپنا دفاع بھی ترک کر دیا جاتا ہے۔
ہمیں اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ اصل مجرم، اصل سازشی اور امت کا اصل دشمن وہ مائنڈ سیٹ ہے جس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کیا، جس نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی صفوں میں منافقت کے بیج بوئے، اور جس نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ بلا کر تنہا چھوڑ دیا۔
یہ سبائیت، یہ خارجیت، رافضیت، ناصبیت اور یہ منافقت ہی وہ اصل بیماریاں ہیں جنہیں پہچاننا اور ان سے بچنا آج کے ہر باشعور مسلمان کا اولین فرض ہے۔
ہم اس امت کا حصہ ہیں جسے درمیانی اور متوازن امت (امتِ وسط) کہا گیا ہے۔
ہمارا کام ان تمام جلیل القدر ہستیوں سے یکساں محبت کرنا ہے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی صحبت سے نوازا۔
ہمارے دلوں میں سیدنا ابوبکر کی صداقت، سیدنا عمر کا عدل، سیدنا عثمان کی حیا اور سیدنا علی المرتضیٰ کی شجاعت کا وہی مقام ہونا چاہیے جو ایک سچے مسلمان کے شایانِ شان ہے۔
اگر ہم تاریخ کے ان اوراق سے سبق سیکھ کر اپنے آپ کو جوڑنے کی کوشش کریں گے، تو یہ ان شہداء کی روحوں کے لیے سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہوگا۔
ہمیں تاریخ کو ایک ایسے آئینے کے طور پر دیکھنا ہے جس میں ہم اپنی موجودہ خامیوں کی اصلاح کر سکیں، نہ کہ ایک ایسے ہتھیار کے طور پر جسے ہم ایک دوسرے کو زخمی کرنے کے لیے استعمال کریں۔
آنے والے وقت میں جب ہم تاریخ کے مزید پیچیدہ مراحل، جیسے جمل، صفین اور کربلا کا مطالعہ کریں گے، تو ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ہم وہاں بھی اسی دردمندی، اسی غیر جانبداری اور اسی اخلاص کے ساتھ حقائق کو تلاش کریں جو امت کو جوڑنے کا سبب بنے۔
سن پینتیس ہجری، اٹھارہ ذی الحجہ کا وہ دردناک، کربناک اور تاریخِ انسانی کا وہ سیاہ ترین دن آ پہنچا، جب روزے سے نڈھال خلیفہِ وقت کو قرآن پڑھتے ہوئے ہلکی سی اونگھ آ گئی اور خواب میں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت ہوئی، جنہوں نے فرمایا کہ
"عثمان، آج افطاری ہمارے یہاں کیجئے گا۔"
یہ سن کر وہ بیدار ہوئے، اور قضا کے اس حتمی فیصلے پر راضی ہو گئے۔
باغی، جو قصرِ خلافت کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، جب سامنے کے دروازے سے صحابہ کرام کی موجودگی کے باعث اندر نہ آ سکے، تو انہوں نے پیچھے سے پڑوسی (عمرو بن حزم) کے گھر کی دیوار پھاند کر اندر گھسنے کی سفاکانہ جسارت کی۔
تاریخ کے اس انتہائی حساس مقام پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے، محمد بن ابی بکر کا ذکر بھی آتا ہے جسے بعض متعصب حلقے دانستہ طور پر متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حافظ ابن کثیر اپنی مایہ ناز تصنیف 'البدایہ والنہایہ' (جلد 7) اور امام محمد بن جریر طبری 'تاریخ الامم والملوک' میں بالکل واضح اور غیر مبہم الفاظ میں لکھتے ہیں کہ
'جب محمد بن ابی بکر جذبات میں آ کر سب سے پہلے اندر داخل ہوئے اور آگے بڑھ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑ لی، تو اس پیکرِ حیا نے انتہائی متانت سے صرف اتنا کہا کہ
"اے میرے بھتیجے! اگر آج تمہارے باپ ابوبکر زندہ ہوتے تو وہ میری داڑھی کو اس طرح پکڑا جانا ہرگز پسند نہ کرتے۔"
باپ کے نام اور ان کے وقار کا سننا تھا کہ محمد بن ابی بکر کے ہاتھ کانپ گئے، ان پر شدید ندامت طاری ہو گئی، وہ فوراً پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے خلیفہِ وقت کے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہایا۔'
اصل قاتل وہ شقی القلب بلوائی تھے جو ان کے پیچھے سے اندر داخل ہوئے۔
مستند تاریخی روایات کے مطابق، سب سے پہلے الغافقی بن حرب نامی بدبخت آگے بڑھا اور اس نے لوہے کی ایک سلاخ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سر پر ماری اور اپنے ناپاک قدموں سے اس قرآنِ مجید کو ٹھوکر ماری جس کی وہ تلاوت کر رہے تھے۔
اس کے بعد کنانہ بن بشر نے ان کی پیشانی اور سر کے پچھلے حصے پر تلوار کا وار کیا۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ آگے کیا تو وہ کٹ گیا، جس پر ان کے لبوں سے بے ساختہ نکلا کہ
"بخدا! یہ وہ ہاتھ تھا جس نے سب سے پہلے قرآن کی مفصل سورتوں کی کتابت کی تھی۔"
پھر سودان بن حمران آگے بڑھا اور اس نے تلوار کا وہ آخری اور مہلک وار کیا جس سے خلیفہِ مظلوم کی روح پرواز کر گئی۔
اس درندگی پر بھی ان کا دل نہ بھرا تو عمرو بن الحمق نامی باغی نے آگے بڑھ کر ان کے سینے پر بیٹھ کر ان کے بے جان جسم پر پے در پے نو خنجر گھونپے۔
اس سفاکیت کو روکنے کے لیے جب ان کی وفادار اہلیہ، سیدہ نائلہ بنت الفرافصہ رضی اللہ عنہا آگے بڑھیں تو ظالموں نے تلوار کے وار سے ان کی انگلیاں بھی کاٹ دیں۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاکیزہ خون کے قطرے قرآنِ مجید کی اسی کھلی ہوئی سورت پر گرے جہاں اللہ کا یہ ابدی وعدہ درج تھا:
﴿فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ (سورۃ البقرۃ: 137)
یعنی
'اللہ تجھے ان سے کافی ہو جائے گا، یقیناً وہ سننے والا جاننے والا ہے۔'
اللہ واقعی ان کے دشمنوں سے کافی ہو گیا، اور ان قاتلوں میں سے کوئی ایک بھی طبعی موت نہ مرا بلکہ سب کے سب ذلت آمیز انجام سے دوچار ہوئے۔
عثمان کل بھی زندہ تھے، عثمان آج بھی زندہ ہیں، ہاں مگر ان پر ہونے والا یہ ظلم صرف ان کی ذات پر ہونے والا ظلم نہیں تھا، اس ظلم نے امت کا چہرہ بگاڑ کر رکھ دیا، کتنی جنگیں ہو گئیں، کتنے فتنے برپا ہو گئے۔
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو جب اس المناک شہادت کی خبر ملی تو وہ تڑپ اٹھے اور فرمایا:
"ظالمو! تم نے عثمان کے ساتھ جو سلوک کیا ہے، اگر احد پہاڑ بھی اپنی جگہ سے سرک جائے تو کچھ برا نہیں ہوگا۔"
اسلام کے چوتھے خلیفہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، جنہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت سب سے پہلے کی تھی، جب انہیں اس شہادت کی خبر پہنچی، تو انہوں نے اللہ کے حضور اپنی براءت پیش کرتے ہوئے فرمایا:
"اے اللہ! میں تیرے سامنے عثمان کے خون سے براءت کا اظہار کرتا ہوں، میں نے نہ تو انہیں قتل کیا اور نہ ان کے قتل پر کسی کو ابھارا۔"
زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ نے رات کے اندھیرے میں آپ کا جنازہ پڑھایا، اور یوں وہ ہستی جس نے اسلام کو اپنی دولت، اپنی حیا اور اپنے خون سے سینچا تھا، ابدی نیند سو گئی۔
لیکن ان کی شہادت کے بعد جب سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے کاندھوں پر خلافت کا یہ زخمی اور بوجھل پہاڑ ڈالا گیا، تو ان کے سامنے جو چیلنجز تھے، وہ تاریخِ انسانی کے پیچیدہ ترین سیاسی مسائل تھے۔
قصاصِ عثمان کا وہ مطالبہ، جس نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما جیسے اکابرین کو بھی ایک مختلف سیاسی مؤقف اپنانے پر مجبور کیا، وہ کس طرح ایک خوفناک اور غلط فہمیوں پر مبنی جنگِ جمل کی صورت اختیار کر گیا؟
وہ کون سے پسِ پردہ عناصر اور وہی سبائی کارندے تھے جنہوں نے صلح کی تمام مخلصانہ کوششوں کو رات کے اندھیرے میں ناکام بنا دیا تاکہ امت کا خون بہتا رہے؟
ان تمام الجھے ہوئے، کربناک اور حساس ترین تاریخی عقدوں کو ہم اس سلسلے کی ساتویں قسط میں نہایت باریک بینی اور منطقی استدلال کے ساتھ کھولیں گے، تاکہ اس نظریاتی سفر میں ہم حقائق کی روشنی کو کھونے نہ پائیں اور اپنے اسلاف کی اصل نیتوں سے روشناس ہو سکیں۔
جاری ہے!
نوٹ: یہ سلسلہ وار تحریر ہے جو 20 اقساط پہ مشتمل ہوگی انشاءاللہ تعالی، ہم اس میں انشاءاللہ تاریخ کو سلسلہ وار جانچنے کی کوشش کریں گے کہ ہم سے کہاں پر چوک ہو رہی ہے اور ہم کیوں ان تاریخی واقعات کی آڑ میں فرقہ ورانہ جھگڑوں میں پھنسے ہوئے ہیں؟
پی ایس: اس تحریر کے کچھ پیراگرافس فہد حارث بھائی کی تحریر سے ماخوذ ہیں۔