24/01/2023
سبق کیسے یاد کریں | How to memorize lesson | Easy Studies 2023 #2023 سبق کیسے یاد کریں | How to memorize lesson | Easy Studies 2023 ...
“Parhai Kamai” stands for “Learning and Earning” in Urdu language.
Freelancing
Outsource Services
Content writer
Blogger
Management Consultancy
Training and Coaching
Partnering Ventures
Translation
Creative / Content writing
Research analysis
Customer Service
Data entry and MS office
Web and Graphic design
Book keeping Parhai Kamai was established with a dream and vision based on high ethical values to respect the real worth of learning. It means to generate new
24/01/2023
سبق کیسے یاد کریں | How to memorize lesson | Easy Studies 2023 #2023 سبق کیسے یاد کریں | How to memorize lesson | Easy Studies 2023 ...
15/01/2023
جمہوری کریلے | مزے مزے کی باتیں | 2023 جمہوری کریلے | مزے مزے کی باتیں | 2023
Child growth and psycholohy
11/01/2023
مزاحیہ شاعری
احمد فراز کی غزل 2023 کے سٹائل میں
سنا ہے لوگ اسے انکھ بھر کے دیکھتے ہیں
2023 احمد فراز کی مزاحیہ شاعری | سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
20/12/2022
In this video, we will discuss how much time your child spends watching , , or other screens and how and is affected. One of the major today is when a child is not able to communicate or speak properly.
The recent pandemic of has played major role in it, whereas other factors could be , , , , where proper playgrounds are not available to play, scarcity of , , problems, etc.
Spending too much time watching screens can result number of problems, like , lack of control, , , etc.
In this video series, we will also discuss what different activities to be introduced to engage children, how to introduce different games so they can learn and keep playing rather than watching screens and much much more.
Please comment and share your experience, tips, problems and advice.
, child growth and development, child growth, watching screens all day, watching screen in dark, child psychology, behavioral psychology, behavioral issues, social distortion, social distancing lil baby, child weakness, child sleep, child eating habits, working moms, covid 19, parenting tips, parenting hacks, parenting styles, parenting challenges 2022, parenting challenges today
Child growth and psychology | speech delay | watching mobile tab laptop tv screen for longer time In this video, we will discuss how much time your child spends watching , , or other screens and how and ...
24/09/2022
اگر آپ کبھی دیکھیں کہ ایک صحت مند اور تندرست شخص کام نہیں کر رہا بلکہ بھیک مانگ رہا ہے تو آپ کو کیسا محسوس ہو گا؟ کیا آپ اس کی مدد کرنا چاہیں گے؟
نہیں ناں۔ ایسا ہی ہمارا ملک پاکستان بنا دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی نے بہت بہترین نعمتیں دی ہیں۔ قدرتی دریا ( عرب ملکوں میں سمندر کے پانی کو پینے کے قابل بنایا جاتا ہے اور اسی سے بجلی بناتے ہیں) ، زرخیز زمین (عرب ملکوں میں ریت اور گرمی ھے۔ وہاں ایک پودے کے لئے کتنی محنت کی جاتی ھے آپ کی سوچ ھے) ، آپ کے ملک میں سونے ، نمک ، کوئلے اور کتنی معدنیات کی کانیں ھیں۔ پہاڑ قیمتی پتھروں سے مالا مال ہیں۔ ایک ہی مہینے ایک ہی دن میں ملک کے مختلف حصوں میں بارہ مختلف ٹمپریچر ملیں گے۔ کیا کچھ نہیں ہے؟
بس اس خوبصورت خطے میں منافق قوم، بے ایمان حکمران ، چھپے دشمن ادارے اور سرکاری لوگ ، اور شرافت کے بھیس میں بدمعاش کرپٹ مالدار طبقہ اس خطے کو معذور بناتا رہا ہے اور بنا رہا ہے۔ آپ کا بیرونی دشمن کچھ نہیں بگاڑ سکتا جب تک آپ اندرونی طور پر مضبوط ہیں۔ لیکن ہمیں بچپن سے بیرونی دشمنوں کا خوف دلا کر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر ہماری سوچوں کو مفلوج کیا گیا ہے۔
افسوس ہم ایسی قوم سے ہیں جہاں قومی غیرت مر چکی ہے۔ اگر صحت مند شخص کو بھیک سے چھڑوا کر کام پر لگانا ھے تو اس کی غیرت کو جگانا ھو گا۔ وہ صحت مند اتنا مضبوط ھے کہ وہ اپنے خاندان کے علاوہ دوسروں کے خاندانوں کو بھی چلا سکتا ہے۔ پاکستان بھی اتنا ہی مضبوط ہے لیکن درندوں نے نے اس کو مفلوج کر دیا اور ہر وقت ہمارا ملک بھیک مانگتا رہتا ہے۔ اور جب سیلاب ، زلزلے آتے ہیں تو جن کے پاس اربوں کی دولت ہیں وہ باہر سے لوگوں کو بلا بلا کر کہتے ہیں ہماری مدد کرو۔ #غیرتمندقوم بنو۔
Learn about Islam in
Whatsapp: +971 52 669 78 23
*👈(درس حقوق العباد)*
عنوان - *:اولاد کے حقوق*
اولاد میں بیٹے اور بیٹیاں دونوں شامل ہیں۔اولاد کے بہت سے حقوق ہیں جن میں سب سے اہم ان کی اچھی اور صالح تربیت کرنا ہے تاکہ وہ معاشرے کے بہترین فرد بن سکیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًۭا وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلْحِجَارَةُ
ترجمہ: مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو آتش (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں (سورۃ التحریم،آیت 6)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
کلکم راع وکلکم مسوول عن رعیتہ،والرجل راع فی اھلہ ومسوول عن رعیتہ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)
"تم میں سے ہر کوئی نگران ہے اور ہر کوئی اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہے اور آدمی اپنے گھر کا ذمہ دار ہے اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہو گی۔
اولاد والدین کے لیے امانت ہے اور قیامت کے دن وہ اولاد کے متعلق جواب دہ ہوں گے۔اگر انہوں نے اولاد کی تربیت اسلامی انداز سے کی ہو گی تو وہ والدین کے لیے دنہا و آخرت میں باعث راحت ہو گی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَٰنٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ أَلَتْنَٰهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَىْءٍۢ ۚ كُلُّ ٱمْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌۭ.
ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو بھی (جنت) میں ملا دیں گے اور ان کے عمل میں سے کچھ بھی کم نہ کریں گے ہر شخص اپنے عمل کے ساتھ وابستہ ہے
(سورۃ الطور،آیت 21)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة إلا من صدقة جارية أو علم ينتفع به أو ولد صالح يدعو له (صحیح مسلم)
"جب بندہ مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے مگر تین عمل باقی رہتے ہیں۔صدقہ جاریہ،ایسا علم کہ لوگ اس کے بعد اس سے فائدہ اٹھائیں یا صالح اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔"
یہ اولاد کی تربیت کا ثمر ہے۔جب ان کی صالح تربیت کی جائے تو وہ والدین کے لیے ان کی زندگی میں بھی فائدہ مند ہوتی ہے اور ان کی وفات کے بعد بھی، بہت سے والدین اولاد کے حق کو معمولی سمجھتے ہیں ،وہ اپنی اولاد کو ضائع کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے بارے میں ان سے باز پرس ہو گی۔وہ اپنی اولاد کے مشاغل اور ان کی سرگرمیوں سے غافل ہوتے ہیں۔انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی اولاد کیا کر ہی ہے۔ وہ کہاں جاتے ہیں اور کب واپس گھر آتے ہیں۔(نہ) وہ انہیں نیکی کی طرف توجہ دلاتے ہیں نہ بری خصلتوں سے منع کرتے ہیں اور عجیب تر بات یہ ہے کہ وہ اپنے مال کی حفاظت اور اس کو بڑھانے میں سخت حریص ہوتے ہیں کہ ہر اس بات کے لیے مستعد رہتے ہیں جو اُن کے مال میں اضافے کا باعث بنے ،حالانکہ انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس مال کو وہ بڑھا رہےہیں وہ دوسروں کا ہے۔رہا اولاد کا مسئلہ تو یہ ان کی نظروں میں کچھ نہیں ہوتا ،حالانکہ ان کی محافظت دنیا و آخرت دونوں لحاظ سے ان کے لیے بہتر اورمفید تھی،نیز جیسے والدپر بچے کے خوردنوش اور پوشاک کی ذمہ داری ہے،ایسے ہی اپنے بچے کے دل کو علم و ایمان کی غذا مہیا کرنا اور تقوی کا لباس پہنانا بھی واجب ہے اور یہ بات پہلی بات سے کہیں بہتر ہے۔
(جاری ہے)
*👈(درس اربعین نووی)*
حدیث نمبر ( *36* )
جس نے کسی مسلمان کی کوئی پریشانی دور کردی
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جس نے کسی مومن کی دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کردی، اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کردے گا۔۔ جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ اس پر دنیا وآخرت میں آسانی کرے گا۔ جس نے کسی مسلمان کی عیب پوشی کی، اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اس کی عیب پوشی فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا ہے۔ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلا اللہ تعالیٰ اس كی وجہ سے اس کے لیے جنت کی راہ آسان کردیتا ہے۔ جب کوئی قوم اللہ کے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتی ہے اور اسے آپس میں پڑھتی پڑھاتی ہے، تو ان پر سکینت کا نزول ہوتا ہے، (اللہ تعالیٰ کی) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ اپنے پاس موجود فرشتوں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔ اور جس کا عمل اسے پیچھے کردے، اس کا نسب اسے آگے نہیں لے جاسکتا۔“اسے امام مسلم (حدیث نمبر: 2699) میں بھی روایت کیا ہے۔
*توضیح* :
یہ حدیث ہمیں بتا رہی ہے کہ جو شخص کسی مسلمان سے کسی مصیبت کو دور کرتا ہے یا پھر اس کی کسی مشکل کو آسان کرتا ہے یا پھر اس کی کسی لغزش یا غلطی کی ستر پوشی کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے اس کے ان اعمال ہی کی جنس سے بدلہ دے گا جن سے اس نے دوسروں کو نفع پہنچانا ہے اور یہ کہ جب بندہ اپنے کسی مسلمان بھائی کی اس کے مشکل کاموں میں مدد کرتا ہے تو اللہ بھی دنیا و آخرت میں اپنی توفیق کے ذریعہ اس کی مدد کرتا ہے اور یہ کہ جو نیکی کی کسی بھی راہ پر چلتا ہے جیسے مجالسِ ذکر یا باعمل علماء و محققین کی مجلس کی طرف علم سیکھنے کے لیے جاتا ہے یا پھر معنوی طور پر ایسے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے جو اسے اس علم تک لے جاتا ہے جیسے اس کا یاد کرنا، مطالعہ کرنا، غور و فکر کرنا اور اسے جو نفع بخش علوم سکھائے جائیں ان کا سیکھنا وغیرہ، جو بھی شخص خالص نیت کے ساتھ اس راہ پر گامزن ہوتا ہے اللہ تعالی اسے علم نافع کے حصول کی توفیق دے دیتا ہے جو اسے جنت تک لے جاتا ہے۔ اور یہ کہ جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں قرآن کریم کی تلاوت اور اسے پڑھنے پڑھانے کے لیے جمع ہوتے ہیں انہیں اللہ تعالی اطمئنان اور کلی رحمت سے نوازتا ہے، فرشتے ان کی مجلسوں میں حاضر ہوتے ہیں اور ملا اعلی میں اللہ کی طرف سے ان کی تعریف ہوتی ہے اور یہ کہ شرف کا دار و مدار صرف اور صرف نیک اعمال پر ہے نہ کہ حسب اور نسب پر۔
(جاری ہے)