10/02/2023
جو دل چاہے کرو بس اتنا دھیان رکھنا کوئی تمہاری اللہ تعالٰی سے شکایت نہ کردے...!
Proud to be a Quran teacher online
10/02/2023
جو دل چاہے کرو بس اتنا دھیان رکھنا کوئی تمہاری اللہ تعالٰی سے شکایت نہ کردے...!
07/02/2023
إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا
جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی
وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا
اور زمین اپنے (اندر) کے بوجھ نکال ڈالے گی
وَقَالَ الْإِنسَانُ مَا لَهَا
اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا ہے؟
يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا
اس روز وہ اپنے حالات بیان کردے گی
بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَىٰ لَهَا
کیونکہ تمہارے پروردگار نے اس کو حکم بھیجا (ہوگا)
يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ
اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ
تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا
وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ
اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا
سورة الزلزال
03/02/2023
ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﮐﮯ ﻓﻀﺎﺋﻞ، ﺟﻮ ﺁﭖ ﻧﮯﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔ ﺁﭖ ﯾﮧ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻗﻠﺐ ﭘﮍﮬﻨﮯﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﺮﺳﮑﻮﻥ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﻃﺒﻌﯿﺖ ﺭﻭﺣﺎﻧﯿﺖ ﺳﮯ ﻣﻌﻤﻮﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮕﯽ۔ ﺍﻥ ﺷﺎﺀَ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ۔ ❤️
1 ) ﺣﺒﯿﺐ ﺧﺪﺍ ﷺ ﭘﺮ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺩﺭﻭﺩ ﺑﮭﯿﺠﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﺩﺱ۔
2 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺏ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺭﺣﻤﺖ ﺍﻭﺭﺑﺨﺸﺶ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
3 ) ﺟﺐ ﺗﮏ ﺑﻨﺪﮦ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
4 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﻔﺎﺭﮦ ﮨﮯ۔
5 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﺳﮯ ( ﻧﯿﮏ ) ﻋﻤﻞ ﭘﺎﮎ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
6 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
7 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
8 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻗﯿﺮﺍﻁ ﺛﻮﺍﺏ ﻟﮑﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﺣﺪ ﭘﮩﺎﮌ ﺟﺘﻨﺎ ﮨﮯ۔
9 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﭘﺌﻤﺎﻧﮯ ﺑﮭﺮ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺛﻮﺍﺏ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔
10 ) ﺟﻮ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﮐﻮ ﮨﯽ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﺑﻨﺎﻟﮯ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺫﻣﮧ ﻟﮯ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ۔
11 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﮨﮯ۔
12 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﮨﻮﻟﻮﮞ ( ﺧﻮﻑ ) ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
13 ) ﺷﻔﯿﻊ ﺍﻟﻤﺬﻧﺒﯿﻦ ﷺ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔
14 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
15 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﺣﻤﺖ ﻟﮑﮫ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
16 ) ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ٰ ﮐﮯ ﻏﻀﺐ ﺳﮯ ﺍﻣﺎﻥ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
17 ) ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯﯾﮧ ﻧﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﺑﺮﯼ ﮨﮯ۔
18 ) ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺩﻭﺯﺥ ﺳﮯ ﺑﺮﯼ ﮨﮯ۔
19 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﻋﺮﺵِ ﺍِﻟٰﮩﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺟﮕﮧ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﻴﮕﯽ۔
20 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﻧﯿﮑﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﭘﻠﮍﺍ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﮨﻮﮔﺎ۔
21 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺣﻮﺽ ﮐﻮﺛﺮﭘﺮ ﺟﺎﺋﯿﮕﺎ، ﺧﺼﻮﺻﯽ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﮨﻮﮔﯽ۔
22 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻞ ﺳﺨﺖ ﭘﯿﺎﺱ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺍﻣﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔
23 ) ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﭘﺮ ﺳﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﮔﺬﺭ ﺟﺎﺋﯿﮕﺎ۔
24 ) ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﻮﺭ ﻋﻄﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔
25 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﮑﺎﻥ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ۔
26 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﺜﺮﺕ ﺳﮯ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﻋﻄﺎ ﮨﻮﻧﮕﯿﮟ۔
27 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﻣﺎﻝ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﮨﮯ۔
28 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮨﮯ۔
29 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺳﺐ ﻋﻤﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﮨﮯ۔
30 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ( ﺫﮐﺮ ﮐﯽ ) ﻣﺠﻠﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﯾﻨﺖ ﮨﮯ۔
31 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭖ ﺗﻨﮕﺪﺳﺘﯽ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
32 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺑﺲ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺁﻧﺤﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﻮﮔﺎ۔ ( ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﮔﺎ، ﺍﺗﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﻮﮔﺎ )
33 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ، ﺩﺭﻭﺩ ﺷﺮﯾﻒ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺍﻭ ﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺭﻧﮓ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ( ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﻭﻟﯽ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺳﮑﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺑﮭﯽ ﻭﻟﯽ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺑﮭﯽ ﻭﻟﯽ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ۔ﺻﺮﻑ ﺍﻧﮩﯽ ﺳﻠﺴﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﻮﺍﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﻻﯾﺖ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﮐﺜﺮﺕ ﺩﺭﻭﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﺜﺮﺕ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﻋﺎﻡ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ 1 ہزار ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ 3 ہزار ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ 10 ہزار ﺍﻭﺭ ﺧﻠﻔﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﻮﺍﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ 30 ہزار ﮨﮯ )
34 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮪ ﮐﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺑﺨﺸﺎ ﺟﺎﺋﮯ، ﺍﺳﮯ ﻧﻔﻊ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔
35 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭖ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺣﺒﯿﺐ ﷺ ﮐﺎ ﻗﺮﺏ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
36 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﭘﺮ ﻓﺘﺢ ﻭ ﻧﺼﺮﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
37 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﺩﻝ ( ﻗﻠﺐ ) ﺯﻧﮕﺎﺭ ( ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﮨﯽ ) ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
38 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
39 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻏﯿﺒﺖ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔
40 ) ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﻧﻌﻤﺖ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺁﻧﺤﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ( ﺟﻮ ﻣﻨﺰﻝ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﻣﺆﻣﻦ ﮨﮯ۔ )
41 ) ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺩﺱ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﺱ ﻧﯿﮑﯿﺎﮞ ﻟﮑﮭﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﺱ ﺩﺭﺟﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﺱ ﺭﺣﻤﺘﯿﮟ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔
42 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
43 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﮐﻨﺪﮬﺎ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺁﻧﺤﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﺟﺎﺋﯿﮕﺎ۔
44 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﻗﺎﺋﮯ ﺩﻭﺟﮩﺎﮞ ﷺ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﯿﮕﺎ۔
45 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ۔۔۔۔۔ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺁﻧﺤﻀﻮﺭ ﷺ ﻣﺘﻮﻟﯽ ( ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ) ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﻨﮕﮯ۔
46 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺩﻝ ﭘﺮﻧﻮﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
47 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺳﮑﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔
48 ) ﺟﺲ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﺎ ﺟﺎﺋﮯ، ﺍﺱ ﻣﺠﻠﺲ ﮐﻮ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ﮔﮭﯿﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
49 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺁﻧﺤﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﮨﮯ۔
50 ) ﺁﻧﺤﻀﻮﺭ ﷺ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
51 ) ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺳﯿﺪ ﺩﻭﻋﺎﻟﻢ ﻧﻮﺭ ﻣﺠﺴﻢ ﷺ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔
52 ) ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
53 ) ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺩ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﻮ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻗﻠﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﮯ ﻭﺭﻕ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
54 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺩ ﺷﺮﯾﻒ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﷺ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎ ﮐﺮﯾﻮﮞ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
" ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ! ﻓﻼﮞ ﮐﮯﺑﯿﭩﮯ ﻓﻼﮞ ﻧﮯ ﺁﻧﺤﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﺣﺎﺿﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔
55 ) ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﮔﻨﺎﮦ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺗﮏ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ۔ ❤️
ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ہم زیادہ سے زیادہ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ
ﺩﻧﯿﺎ، ﻗﺒﺮ، ﺣﺸﺮ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔ ❤️
جزاک اللہ خیرا کثیرا
شیخ سعدی رحمہ الله فرماتےہیں.
ﺟﺐ ﺁﭖ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﯿﺐ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﺗﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯﮐﮩﻮ
ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭسےﻧﮩﯿﮟ.
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻋﯿﺐ ﮐﻮ ﻣجھےﮬﯽ ﺑﺪﻟﻨﺎﮬﮯ
ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ کو ﻧﮩﯿﮟ.
ﻣﺠﮫ ﺳﮯﮐﮩﻮﮔﮯ
ﺗﻮ ﻧﺼﯿﺤﺖ
ﮐﮩﻼﺋﮯﮔﯽ
ﺍﻭﺭ ﺍﺟﺮﻟﮑﮭﺎ
ﺟﺎﺋﮯﮔﺎ.
ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭﺳﮯ ﮐﮩﻮ ﮔﮯ
ﺗﻮ ﻏﯿﺒﺖﮐﮩﻼۓﮔﯽ
ﺍﻭﺭﮔﻨﺎﮦ ﻟﮑﮭﺎﺟﺎئیگا.....!!
براہ کرم شیئر کریں۔۔۔۔
16/01/2023
ایک سعودی بچہ اپنے کھلونوں کو صف میں کھڑا کر کے ان کی امامت کروا رہا ہے۔
یقیناً بچوں کی معصومانہ باتیں
اور کام زبان حال سے بتا دیا کرتے ہیں کہ
ان کے پیچھے بہترین تربیت کرنے والے ماں باپ موجود ہیں۔🥰🤍
گھر سے باہر بھی بچے ایک نمائندہ،
اپنے والدین کی پہچان ہوتے ہیں
جو بتاتے ہیں کہ ہمارا تعلق کس گھرانے سے ہے۔💞
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا
قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
آمین آمین یاربنا 🥹🤲
16/01/2023
16/01/2023
حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذابِ الہٰی:۔
حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی سرکشی جب حد سے بڑھ گئی اور اس میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا تو انہوں نے اللہ پاک سے التجا کی کہ وہ فسادیوں کے خلاف انکی مدد فرماۓ۔ انکی دعا قبول ہوئی اور آپ کی ناراضی کی وجہ سے قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے فرشتے اس قوم کے لئے عذاب الہٰی لیکر پہنچے اور انسانی شکل میں حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آۓ اور ان کے گھر ٹھہرنے کی خواہش ظاہر کی۔ حضرت لوط علیہ السلام کو انکی درخواست رد کرنے سے شرم آئی اور وہ انہیں لیکر گھر کیطرف چل پڑے۔ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر انہوں نے ان مسافروں کی مہمانی نہ کی تو کوئی اور ان کو اپنے گھر لے جاۓ گا اور وہ انتہائی بد کردار قوم تھی ۔ آپ علیہ السلام اسی لئے پریشان بھی تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مہمانوں کا دفاع اور بدکاروں سے انکا بچاؤ ایک مشکل کام ہے ، انہیں پہلے بھی اس کام میں مشکلات آ چکی تھیں اور شہر کے لوگوں نے کہہ رکھا تھا کہ کسی اجنبی کو اپنا مہمان نہ بنائیں۔ راستے میں حضرت لوط علیہ السلام نے کہا کہ قسم ہے اللہ کی میں نہیں جانتا کہ روۓ زمین پر اس بستی والوں سے زیادہ گندے اور خبیث لوگ بھی ہونگے۔
وہ فرشتے کم سن لڑکے بن کر گئے تھے اور انہیں اللہ پاک کی طرف سے کم ملا تھا کہ اس وقت تک اس قوم کو تباہ نہ کریں جب تک انکا نبی ان کے خلاف گواہی نہ دے لے۔
حضرت لوط علیہ السلام کو اس قوم کی بد افعالیاں اچھی طرح معلوم تھیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
" ولما جآءت رسلنا لوطا سی بھم وضاق بھم ذرعا و قال ھذا یوم عصیب0"
ترجمہ: " اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آۓ تو وہ ان کے آنے سے غمناک اور تنگ دل ہوۓ اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے۔" (ھود،۷۷)
پس حضرت لوط علیہ السلام ان مہمانوں (فرشتوں) کو لیکر اپنے گھر آ گئے۔ تاکہ انکی حفاظت کر سکیں لیکن انکی بیوی انکی قوم جیسی تھی اور کافرہ تھی، اس نے قوم کو ان مہمانوں کی خبر کر دی پس قوم کے لوگ حضرت لوط علیہ السلام کے دروازے پر آۓ اور بلند آواز سے کہنے لگے کہ اے لوط وہ حسین اور کم سن اشخاص جو تمہارے ہاں مہمان ہوۓ ہیں تم انکو ہماری طرف بھیج دو تب حضرت لوط علیہ السلام نے کہا:
" اے قوم! یہ (جو میری قوم کی) لڑکیاں ہیں، یہ تمہارے لئے جائز اور پاک ہیں۔" (ھود،۷۸)
ایک اور آیت میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
" کیا تم اہلِ عالم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں انکو چھوڑ دیتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔" (الشعراء، ۱۶۵/۱۶۶)
" سو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں(کے بارے) میں مجھے ذلیل نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں؟۔" (سورۃ ھود)
لیکن اس قوم نے یہ بات بھی نہ مانی سب کے سب کافر اور بدکار تھے انہوں نے بے حیائی کا مطاہرہ کرتے ہوۓ پیغمبر سے کہہ دیا :
" اے لوط! آپکو معلوم ہے ہم تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی خواش نہیں رکھتے۔ ہم جو چاہتے ہیں وہ آپکو معلوم ہی ہے۔" (ھود، ۷۹)
یہ بات کہتے ہوۓ ان ذلیلوں کو نہ تو معزز اور پاکباز رسول سے شرم آئی اور نہ اللہ عظیم و برتر کی گرفت سے خوف محسوس ہوا حضرت لوط علیہ السلام ان کو اپنے گھر میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ دروازہ بند تھا اور وہ لوگ اسے کھولنے اور اندر گھسنے کی کوشش کر رہے تھے جب صورتحال نازک ہو گئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:
"اے کاش! مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط قلعے میں پناہ پکڑ سکتا۔" (ھود، ۸۰)
یعنی انکی یہ تمنا کہ کاش انکے پاس قوم سے مقابلے کی طاقت ہوتی یا انکے قبیلے یا خاندان کے لوگ وہاں موجود ہوتے جو ظالموں کے خلاف انکی مدد کرتے اور انکی بدتمیزی کی سزا دے سکتے۔
تب فرشتوں نے کہا :
" اے لوط! ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں ۔ یہ لوگ ہر گز تم تک نہیں پہنچ سکتے۔" (ھود، ۸۱)
حضرت جبریل علیہ السلام باہر تشریف لے گئے اور اپنے پر کا ایک کنارا ان کے چہرے پر مارا تو وہ اندے ہو گئے، بعض علماء کہتے ہیں انکی آنکھیں بالکل معدوم ہو گئیں نہ انکی جگہ باقی رہی نہ کوئی نشان باقی رہا وہ دیوارون کو ٹٹولتے اور نبی (علیہ السلام) کو دھمکیاں دیتے لوٹ گئے کہ جب صبح ہو گی تو تمکو دیکھیں گے۔
پھر فرشتوں نے حضرت لوط علیہ السلام کیطرف متوجہ ہو کر کہا کہ
"آپ اپنے گھر والوں کو لیکر رات کے آخری حصے میں یہاں سے تشریف لے جائیں اور جب قوم پر عذاب نازل ہو تو انکی آواز سن کر تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ سواۓ تمہاری عورت کے اسے بھی وہی پہنچنا ہے جو انہیں پہنچے کا۔ ان کے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے اور کیا صبح کچھ دور ہے؟" (ھود، ۸۱)
حضرت حضرت لوط علیہ السلام جب شہر سے نکلے تو ان کے ساتھ انکی بیٹیاں اور بیوی بھی تھی اورجب وہ شہر سے نکل گئے اور سورج طلوع ہوا تو اللہ کا عذاب بھی آ گیا جسے ٹال دینا کسی کے بس میں نہیں تھا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
" تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (الٹ کر) نیچے اوپر کر دیا۔ اور ان پر پتھر کے تہ بہ تہ کنکر برساۓ جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوۓ تھے اور وہ ظالموں سے کچھ دور نہیں۔" (ھود، ۸۲،۸۳)
یعنی اللہ تعالیٰ نے ان بستیوں کو اسطرح الٹ دیا کہ انکا اوپر والا حصہ نیچے ہو گیا، پھر مسلسل پتھروں کی بارش سے انہیں نظروں سے اوجھل کر دیا۔ ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا تھا جس پر اسے گرنا تھا، خواہ ان میں سے کوئی اپنے شہر میں تھا یا سفر کی وجہ سے شہر سے باہر تھا۔
حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی بھی اپنے خاوند اور بیٹیوں کے ہمراہ روانہ ہوئی تھی، لیکن جب شہر تباہ ہونے کی آواز اور ہلاک ہونے والوں کا شور سنا تو اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوۓ اس نے مڑ کر دیکھا اور بولی "ہاۓ میری قوم" وہیں ایک پتھر اس پر آ پڑا، جس نے اسکا سر پھاڑ کر اسے اسکی قوم سے ملا دیا۔ وہ انہی لوگوں کے مذہب پر تھی اور حضرت لوط علیہ السلام کی جاسوسی کرتے ہوۓ آپکے پاس آنیوالوں مہمانوں کے بارے میں قوم کو اطلاع دے دیا کرتی تھی۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
" اللہ نے کافروں کے لئے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے۔ دونوں ہمارے نیک بندوں کے گھر میں تھیں اور دونوں نے انکی خیانت کی تو وہ اللہ کے مقابلے میں ان عورتوں کے کچھ بھی کام نہ آۓ اور انکو حکم دیا گیا کہ دوسرے داخل ہونیوالوں کیساتھ ت بھی دوزخ میں داخل ہو جاؤ!"
(التحریم، ۱۰)
۔۔۔مقامِ عبرت:۔۔
اللہ تعالیٰ نے ان بستیوں کی جگہ ایک بدبودار جھیل بنا دی جسکے پانی اور اردگرد کی زمین سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا کہ وہ قطعہِ زمیں انتہائی بیکار ہے۔اللہ پاک فرماتا ہے:
" سو ان کو سورج نکلتے نکلتے چنگھاڑ نے آ پکڑا اور ہم نے اس شہر کو ال کر نیچے اوپر کر دیا اور ان پر کنکر کی پتھریاں برسائیں۔ بیشک اس قصے میں اہلِ فراست کے لئے نشانی ہے اور وہ شہر اب تک سیدھے راستے پر موجود ہے ۔ بیشک اسمیں ایمان لانے والوں کے لئے نشانی ہے۔" ( الحجر، ۷۳/۷۷)
"وہ شہر اب تک سیدھے راستے پر موجود ہے " کا مطلب ہے کہ وہ بستیاں اس شاہراہ پر واقع تھیں جس پر اب بھی لوگ سفر کرتے ہیں جیسے فرمایا:
" اور تم دن کو بھی ان (کی بستیوں) کے پاس سے گزرتے ہو اور رات کو بھی۔ تو کیا تم عقل نہیں رکھتے؟" (الصافات ، ۱۳۷/۱۳۸)
مزید فرمایا:
" تو وہاں جتنے مومن تھے، ان کو ہم نے نکال لیا اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا اور جو لوگ دردنک عذاب سے ڈرتے ہیں، ان کے لئے وہاں نشانیاں چھوڑ دیں۔" ( الذاریات ۳۵/۳۷)
مہنگائی بہت زیادہ ھے اپنے قریب یتیم مسکین بیوہ اور غریب لوگوں کا ضرور خیال رکھیں ✍️
15/01/2023
مختلف اشیاء میں ملاوٹ پکڑنے کے بہت ہی آسان طریقے..
آج کل ہر کھانے اور چیز میں ملاوٹ کا ہونا ایک عام سی بات بنتی جارہی ہے. چند روپوں کے لئے انسانیت سے کھیلنے والے یہ ظالم لوگ اس چیز کا بھی خیال نہیں کرتے کہ ان کے اس قابل مذمت عمل سے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں.
■- چائے
پتی کو ٹھنڈے پانی میں ڈالیں اور اگر پانی کا رنگ براؤن ہوجائے تو جان لیں کہ آپکی چائے میں ملاوٹ ہے.
■- فروزن مٹر
اگر مٹروں کو فریز کردیا جائے تو وہ محفوظ ہوجاتے ہیں.
لیکن کچھ کمپنیاں انہیں لمبے عرصے تک محفوظ رکھنے کے لئے ایک ایسا کیمیکل استعمال کرتی ہیں جو کہ ہمارے لئے بہت ہی خطرناک ہے.
اگر فریج سے نکال کر مٹروں کو پانی میں ڈالا جائے اور پانی کی رنگت سبز ہوجائے تو فوری طور پر ان مٹروں کو تلف کردیں.
■- ثابت دارچینی
ثابت دار چینی کی ڈنڈیوں کو اپنے ہاتھوں پر رکھ کر توڑیں.اگر آپکے ہاتھ رنگدار ہوجائیں تو یہ ڈنڈیاں ملاوٹ زدہ ہیں.
■- ثابت ہلدی
یہ مت سمجھیں کہ آپ ہلدی کی جڑیں استعمال کرکے خالص ہلدی استعمال کررہے ہیں کیونکہ یہ بھی ملاوٹ زدہ ہوسکتی ہیں.
ہلدی کی جڑوں کو کاغذ پر رکھیں اور تھوڑا سا ٹھنڈا پانی ڈالیں.
اگر کاغذ پیلا ہوجائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہلدی کی جڑیں جعلی ہیں.
■- سیب
کچھ لوگ سیب کو چمکدار بنانے کے لئے اس پر پالش کرتے ہیں.
اگر سیب کے کاٹنے کے دوران اسکے اوپر سے سفید چیز اترے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اس پر ویکس لگایا گیا ہے.
■- ثابت کالی مرچ
اگر ثابت کالی مرچ چمکدار ہو اوراس میں سے کیروسین آئل کی بدبو آرہی ہو تو یہ ملاوٹ زدہ ہے.
■- زیرہ
اگر آپ زیرہ کو اپنے ہاتھ پر رکھ کر پیسیں یا رگڑیں اور آپکی ہتھیلی سیاہ ہوجائے تو یہ زیرہ ملاوٹ شدہ ہے.
■- دودھ
اگر دودھ میں ڈٹرجنٹ کی ملاوٹ جاننی ہو تو 10ملی لیٹر پانی اور10ملی لیٹر دودھ لے کر ملائیں اور اگر دودھ پر جھاگ آجائے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ دودھ میں ڈٹرجنٹ کی ملاوٹ ہے.
■- سوکھا دھنیا
اس مصالحے میں اگر چورے کی ملاوٹ کے بارے میں جاننا ہو تو سوکھے دھنیے کو پانی میں ڈالیں, جو چیز بھی پانی کے اوپر ابھرے گی وہ چورا ہوگا.
■- ناریل کا تیل
اس تیل کو فریج میں رکھیں جو چیز جم جائے گی وہ ناریل کا تیل ہے اور جو مائع رہ جائے گا وہ ملاوٹی اجزاء ہیں.
■- شہد
روئی میں شہد کو بھگوئیں اور اب اس روئی کو آگ لگائیں،اگر بآسانی آگ لگ جائے تو شہد خالص ہے اور اگر’چڑ چڑ‘ کی آواز آئے تو اس میں ملاوٹ ہے.
■- سرخ مرچ
سرخ مرچ کو پانی کے گلاس میں ڈالیں،اگر یہ رنگ چھوڑ جائے تو سرخ مرچ ملاوٹ شدہ ہے.
ہر عمل اللَّـه رب العزت کی رضا کے لیے ﺁﺋﯿﮯ اور آپ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍپنے ﺍﺭﺍﺩﻭﮞ ﮐﻮ اللَّـه ﮐﯽ ﭘﻨﺎﮦ میں ﺩﮮ ﺩﯾﮟ
خود میں اور معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش جاری رکھیں.....
15/01/2023
اگر کوئی چاہتا ہے کہ وہ بدبخت نہ ہو تو مندرجہ ذیل چھ حالات کو ہمیشہ سامنے رکھے
ان چھ حالات کو اختیار کرنے والا ان شاء اللہ کبھی بدبخت نہیں ہوگا ہمیشہ خوش بخت رہے گا!
(1) والدین سے حسن سلوک کرنے والا بدبخت نہیں ہوگا
قرآن کریم میں ہے!
وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّاراً شَقِيّاً
اس نے مجھے میری والدہ کیساتھ اچھا سلوک کرنے والا بنایا اور مجھے سخت طبیعت اور بد بخت نہیں بنایا!
(2) دعاء مانگنے والا کبھی بدبخت نہیں ہوتا
وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيّاً
اور میں تجھ سے دعاء مانگ کر اے میرے رب میں بدبخت نہیں ہوا
(3) قرآن کے ساتھ قرآن پڑھنے والے کیساتھ کبھی بدبختی نہیں آتی
مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْءانَ لِتَشْقَى
ہم نے قرآن اس لیئے نہیں اتارا کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ!
(4) ہدایت کی اتباع کرنے والا کبھی بدبخت نہیں ہوتا
فمن اتبع هداي فلا يضل ولا يشقى
تو جس نے میری ھدایت کی پیروی کی نہ وہ گمراہ ہوگا نہ بدبخت ہوگا!
(5) خشیت الٰہی رکھنے والا کبھی بدبخت نہیں ہوگا
سيذكر من يخشى ويتجنبها الأشقى
عنقریب نصیحت پائے گاجو ڈرتاھے اور اس سے دور رہے گا بڑابدبخت!
(6) تقوی اختیار کرنے والاکبھی بدبخت نہیں ہوگا
وسيجنبها الأتقى
اور عنقریب اس سے دور رہے گا جو سب سے بڑا متقی ہے!
والدین سے حسنِ سلوک کریں,رب العالمین سے دعاء کرتے رہیں,قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہیں,قرآنی ہدایات کی پیروی کرتے رہیں,اللہ رب العزت سے ڈرتے رہیں اور حرام چیزوں سے بچتے رہیں تو بد بختی قریب بھی نہیں آئے گی!
آپ کے دن رات اچھے ہوں گے, حالات غربت میں بھی پرسکون ہوں گے, خوش بخت رہیں گے, خوش باش رہیں گے, اس خوش بختی کا اثر چہرے پر نور و سکون کی صورت واضح دیھکنے والے کو نظر آئے گا!
15/01/2023
انسان کو کچھ ایسے اعمال کرنے چاہیے
جنہیں کوئی نہ جانتا ہو جیسے
پوشیدہ صدقہ ، رات کی نماز ،
خوف الہٰی سے گرنے والے آنسو
استغفار ، ذکر و اذکار
تسبیح و تہلیل ،،،،،،،،،وغیرہ
اس لیے کے جس طرح
پوشیدہ گناہ انسان کے لیے ہلاکت اور تباہی کا سبب بنتے ہیں ،
اسی طرح پوشیدہ نیکیاں نجات کا باعث ہوتی ہیں 🤲
15/01/2023
راستے بنانے والا وہ ہے
آپ بس
اپنی دعاؤں پر یقین کامل رکھیں۔
پریشان نہ ہوا کریں
اللہ نے آپکا مستقبل
آپکی سوچ سے بہتر لکھا ہے۔
*اے پاک پروردگار* 🤲🏻
ہماری رہنمائی فرما
ہميں ہمیشہ بہتر اور صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرما. ماضی میں کی گئی ہماری ہر نادانی اور خطا کو معاف فرما. ہدایت کے دروازے ہم پر کھول دے. دکھ اور تکلیف ہم سے ہمیشہ کیلئے دور فرما دے اور ہمیں پرسکون زندگی عطا فرما.۔
آمین ثم آمین