31/03/2026
1998 Eid PTV Transmission
Can you name the hosts?
COMSATS Institute of Information Technology, also known by its acronym CIIT, is a public research uni Join us on twitter @CIIT_Isb
31/03/2026
1998 Eid PTV Transmission
Can you name the hosts?
بجا یہ رونق محفل مگر
کہاں ہیں وہ لوگ
یہاں جو اہل محبت کے جانشیں ہوں گے
شاید اک وصل کے امکان میں رکھا ہوا ہے
دل نے مدت سے تجھے دھیان میں رکھا ہوا ہے
یوسف علی یوسف
ہم نے تقدیر کے اوراق سبھی دیکھے ہیں
گو کہ ہر چیز کنندہ تھی مگر " تُم " نہیں تھے!
آیت فاطمہ
بازار ہیں خاموش تو گلیوں پہ ہے سکتہ
اب شہر میں تنہائی کا ڈر بول رہا ہے۔
اسحاق وردگ
Complete the sentence
محبت اچھی چیز ہے اگر۔۔۔
بتا اور کتنا بڑھوں تیری جانب
تو ہے کہ آسماں ھوا جاتا ہے
20/09/2025
دکھائی دیتی ہیں خوابوں میں گم شدہ چیزیں
کہاں خسارہ خیالات سے نکلتا ہے
وہ بات جو ابھی ابھی میں نے نہیں سنی
وہ بات ہو سکے تو دوبارہ نہ کیجئے
جواد شیخ
دل کے تیں آتش ہجراں سے بچایا نہ گیا
گھر جلا سامنے پر ہم سے بجھایا نہ گیا
- میر
#نوکری زندگی کے برس چرا لیتی ہے مگر فائدہ کچھ خاص نہیں ہوتا
دنیا کی سب سے تھکا دینے والی چیز شاید یہ ہے کہ تم ایک ملازم بن جاؤ صبح ساڑھے آٹھ بجے سے شام ساڑھے چار بجے تک قید میں رہو اور باہر زندگی کے خوبصورت لمحات گزرتے رہیں مگر تم ان سے محروم رہو
تمہاری پوری جوانی اس چکر میں گزر جاتی ہے
نہ تم بغیر اجازت چھٹی کر سکتے ہو نہ آرام کی چھٹی ملتی ہے اور اگر بیمار ہو جاؤ تو کوئی تمہاری بات کا یقین نہیں کرتا جب تک تم میڈیکل رپورٹ نہ دکھاؤ اور کبھی کبھار چہرے پہ صاف بیماری کے آثار ہوتے ہیں پھر بھی تمہیں ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا جاتا ہے تاکہ یقین آ جائے
نہ تم صبح کے سکون سے لطف اٹھا سکتے ہو نہ اپنی جوانی اور مردانگی سے جی بھر کے جیتے ہو
کام کی نوعیت تمہیں ایسی لڑائیوں میں الجھا دیتی ہے جن کا نہ تم سے کوئی تعلق ہوتا ہے نہ تمہیں سکون ملتا ہے
روز تم سواریوں میں دوڑتے پھرتے ہو بس اس وقت پر پہنچنے کے لیے جو کسی اور نے طے کیا ہوتا ہے
تمہاری زندگی بے سکونی کا شکار ہو جاتی ہے تمہارے اعصاب کھچ جاتے ہیں تم دوائیاں کھاتے ہو کبھی طاقت کے لیے کبھی ذہنی دباؤ سے بچنے کے لیے
تم ہر وقت تنخواہ بڑھنے کے خواب دیکھتے ہو اور امید لگائے رکھتے ہو کہ شاید ترقی ہو جائے تم یونین کی خبریں پڑھتے ہو شاید کبھی تمہیں وہ حق مل جائے جو تم سے چھینا گیا تھا
مگر تمہیں اس قید سے نکلنے کی اجازت نہیں جب تک کہ پچیس سال کی مشقت نہ پوری ہو یا تم ریٹائرمنٹ کی عمر کو نہ پہنچ جاؤ
اور جب وہ دن آئے گا تو تمہارے ساتھی جشن منائیں گے تمہارے رخصت ہونے کا تمہارے بوڑھے ہونے کا اور تمہارے مرنے کے قریب آنے کا
وہ تمہارے حق میں کوئی الوداعی جملہ کہیں گے کچھ آنکھوں میں نمی آئے گی لیکن وہ تمہارے لیے نہیں بلکہ اپنے حال پر افسوس کرتے ہوئے ہوگی
تمہیں تمہارا افسر ایک سرٹیفکیٹ دے گا ایک ایسی تحفہ زندگیی کے بدلے دیا جائے گا ایک خالی سا کاغز ء
اور تم خاموشی سے گھر واپس آ جاؤ گے
اگلی صبح تمہیں محسوس ہو گا کہ بچے اب اس گھر میں نہیں ہیں بیوی بوڑھی ہو چکی ہے اس کے بال سفید ہو گئے ہیں
تم اس کے چہرے کو غور سے دیکھو گے اور حیران ہو کر خود سے پوچھو گے کہ یہ سب کب ہو گیا
تب تمہارے دل کی گہرائی سے آواز آئے گی
نوکری زندگی چرا لیتی ہے اور کچھ نہیں دیتی تنخواہ کے فریب میں مت آؤ
کوشش کرو کہ تم وہ بنو جو خود کچھ کرتا ہے نہ کہ وہ جس کے ساتھ سب کچھ کیا جاتا ہے😟😟
ایک قبیلہ چھوڑ دیا اور اک دنیا آباد رکھی
میں نے پہلا شعر کہا اور شجرے کی بنیاد رکھی