17/06/2026
اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں ایک اور بچے زاہد آفریدی نے خودکشی کرلی۔
بتایا جاتا ھے کہ سیکنڈ ائیر کا سٹوڈنٹ تھا اور بہترین ایتھلیٹ تھا۔جنہوں نے حال ہی میں انڈر ٹونٹی مقابلوں میں پاکستان بھر میں سیکنڈ پوزیشن حاصل کی تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی سالوں میں یہ اسلامیہ کالج میں خودکشی کا پانچواں واقعہ ھے۔
ٹرائبل ہاسٹل کے روم نمبر 29 میں یہ افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ ایک آدھ سال پہلے عثمانیہ ہاسٹل میں ایک بچے نے خودکشی کی تھی جو ایک بہترین شاعر بھی تھا۔
اسلامیہ کالج صوبے کا وہ مایہ ناز ادارہ ھے جہاں صوبہ کے قابل ترین بچے داخلہ لینے کا خواب دیکھتے ہیں لیکن گزشتہ کئی سالوں سے اس ادارے کے اندر ایسے واقعات کا رونما ہونا نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ غور طلب بھی ہیں۔ ان وجوہات کی بیخ کنی کیوں نہیں کی جاتی جو اتنی سنگین واقعات کا سبب بن جاتی ہیں؟۔
میری دانست میں سب سے بڑی وجہ وہ ٹینس ماحول ھے جو نوجوانوں کی جذبات کی ترجمانی نہیں کرتے۔
ہمارے وقتوں میں ہمیں مکمل آزادی ہوتی تھی۔ رات دو بجے بھی ہم تین چار لڑکے ملکر کالج سے نکل کر سپین جماعت اور شیرپاؤ ہسپتال کے آس پاس پراٹے کھانے جاتے تھے۔ کافی شاپ رات دیر تک کھلا رہتا۔ ھم جوس پینے جاتے تھے۔
اب تو اسلامیہ کالج ایک جیل کی منظر پیش کر رہا ھے۔ گیٹس بند، ہاسٹل بند، کوئی تفریحی ایکٹیوٹی نہیں۔
دوسری بڑی وجہ اسلامیہ کالج میں مخلوط تعلیم ھے۔ چونکہ فرسٹ ایئر سیکنڈ ائیر میں بچہ بڑا جذباتی ہوتا ھے۔ ذہنی طور پر اتنا میچور نہیں ہوتا، ۔ اگر جنس مخالف کی طرف سے توجہ یا محبت نہ ملے تو بھی بچے جذباتی فیصلہ کر جاتے ہیں۔
تیسری بڑی وجہ اسلامیہ کالج کی وہ پرانی طرز تعمیر ھے، ہاسٹلز بھی بوت بنگلوں کا منظر پیش کر رھے ہیں اور بذات خود میرے لئے یہ بہت تکلیف دہ ہوتا تھا۔ مجھے ایسے ماحول سے گھٹن محسوس ہوتا تھا۔ اور شاید یہی وجہ تھی کہ نہ میں نے اپنے بھائی کیلئے وہاں داخلہ لیا اور نہ بیٹے کیلئے داخلہ کا کوئی ارادہ ھے۔ اسلامیہ کالج ان بچوں کیلئے تو بہتر ھے جو کلاسز کے بعد اپنے گھر جاتے ہیں لیکن مجھے ذاتی طور پر ہاسٹل کی زندگی سے سخت نفرت ھے۔
چوتھی وجہ سمسٹر سسٹم اور اساتذہ کے رویے بھی ہوسکتے ہیں لیکن ہمارے وقتوں میں اساتذہ بہت اچھے تھے۔ ہمیں بچوں جیسی محبت کرتے تھے کبھی بھی ہمیں یہ محسوس نہیں ہوا کہ ہمارے ساتھ امتحان میں یا پیپر چیکنگ میں کوئی زیادتی کریں گے۔آج کل کے اساتذہ کا مجھے علم نہیں۔
اب بھی وقت ھے کہ اسلامیہ کالج ایڈمنسٹریشن مل بیٹھ کر اس سنگین مسئلے کا حل نکال لیں۔ ماہرین نفسیات، وکلاء، اور اسلامیہ کالج کے پرانے طلباء کو دعوت دیں اور اس مسئلہ کا دیرپا حل نکالا جائے ورنہ ایسے شمعیں بجھتے رہیں گے اور والدین کے خواب چکنا چور ہونگے۔