03/06/2021
فن لینڈ کا نظام تعلیم۔۔۔۔۔ایک طلسماتی نظام
فن لینڈ کے بہترین نظام تعلیم کی ”خفیہ ترکیب“ کیا ہے؟ - ہم سب
پاکستان میں اپنی بہن کی بہو مہوش سے بات ہو رہی تھی۔ جو روزانہ کی بنیاد پہ زوم پہ اپنے تین بچوں کے ساتھ تعلیمی دنگل سے نبٹتی ہیں۔ وہ تعلیم کہ جس نے وبا کے د....
06/03/2021
🔻 *Job Opportunities in an Educational Organization* 🔻
*Urgent Required*
*Postion:Co-Ambassadors & DETO's*
Required from all Districts of Azad Jammu&Kashmir
*Requirements:*
🔖The incumbents should have a reasonable experience in teaching.
🔖Should be a University graduate
🔖Should have strong interpersonal communication skills
🔖Should have strong connections with private schools in the relevant district
Send your CV's at
[Email hidden]
Feel free to contact
Matloob Hussain Shakir
Regional Director
The Educare School Developers
AJK&Rawalpindi
Islamabad
03025878788
23/01/2021
حروف تہجی کی تعداد
٭… بابائے اردو مولوی عبدالحق نے طے کیا کہ ہائیہ آوازوں (بھ، پھ، تھ وغیرہ) کو ظاہر کرنے والے حروف بھی حروف ِتہجی میں شامل ہیں۔
٭…شان الحق حقی نے اردوکے حروف تہجی کی تعداد تریپن (۵۳) قرار دی اور مقتدرہ قومی زبان نے چو ّن (۵۴)
…٭…٭…٭
اردو میں کتنے حروفِ تہجی ہیں؟ اس مسئلے پر مختلف آرا رہی ہیں اور آج بھی کچھ لوگ اس سوال کو اٹھاتے رہتے ہیں ۔ دراصل حروف تہجی کا مسئلہ لسانیات اور صوتیات سے جڑا ہوا ہے اور اسی کی روشنی میں اس مسئلے کا جائزہ لینا چاہیے۔ لسانیات اور صوتیات کے ماہرین کے مطابق حروف ِ تہجی دراصل آوازوں کی علامات ہیں اور ان کا مقصد کسی زبان میں موجود آوازوں کو ظاہر کرنا ہے۔
بیسویں صدی کے ابتدائی بیس پچیس برسوں تک یہی خیال کیا جاتا تھا کہ اردو میں پینتیس (۳۵) یا چھتیس (۳۶) حروف ِتہجی ہیں اور اس زمانے کے ابتدائی اردو قاعدوں اور بچوں کو اردو سکھانے والی کتابوں میں یہی تعداد لکھی جاتی تھی ۔ البتہ بعض کتابوں میں پہلے ’’مفرد‘‘ حروف ِ تہجی لکھ کر بعد میں ’’مرکب ‘‘ حروف ِ تہجی لکھے جاتے تھے اور یہ طریقہ بعض کتابوں میں آج بھی ملتا ہے۔ یہ مرکب حروف ِ تہجی کیا تھے ؟یہ دراصل ہائیہ یا ہکاری آوازوں کو ظاہر کرنے والے حروف ِ تہجی (یعنی بھ، پھ، تھ وغیرہ) تھے۔ ان آوازوں کو انگریزی میں aspirated sounds کہاجاتا ہے۔ مغرب میں جب جدید لسانیات کی بنیادیں سائنس پر استوار ہوئیں تو لسانیاتی اور صوتیاتی تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ یہ ہائیہ آوازیں (بھ، پھ، تھ وغیرہ) دراصل باقاعدہ، الگ اور منفرد آوازیں ہیں ۔ گویا لسانیات کی زبان میں یہ الگ فونیم (phoneme) ہیں۔لسانیاتی تجربہ گاہوں میں مشینوں کے ذریعے کی گئی جانچ نے بھی اس نظریے کو آج تک درست ثابت کیا ہے کہ وہ آوازیں جوہوا کے ایک جھٹکے کے ساتھ مل کرہمارے منھ سے نکلتی ہیں (بھ ، پھ، تھ وغیرہ )وہ الگ آوازیں یا منفرد صوتیے ( فونیم) ہیں اور ان آوازوں کو ظاہر کرنے والے حروف ِ تہجی بھی الگ حروف سمجھے جانے چاہییں ۔
بابائے اردو مولوی عبدالحق نے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ اردو میں اوکسفرڈ کی عظیم لغت کی طرز پر ایک ایسی کثیر جلدوں پر مبنی لغت بنائی جائے جس میں اردوکا ہر لفظ ہو اور ہر لفظ کے استعمال کی سند بھی شعرو ادب سے دی گئی ہو۔ اس منصوبے پر ۱۹۳۰ء میں کام شروع ہوا تو پہلا مسئلہ حروف تہجی کی تعداد اور ترتیب کا تھا کیونکہ اس کے بغیر کسی لغت میں الفاظ کی ترتیب طے نہیںکی جاسکتی۔اردو کی پرانی لغات میں عام حروف اور ہائیہ آوازوں کو ظاہر کرنے والے حروف (مثلاً ب اور بھ ) میں کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا اور ان میںبعض الفاظ (مثلاً بہانا اور بھانا ،بہر اور بھر، پہر اور پھر)ترتیب کے لحاظ سے ایک ساتھ ہی درج ہیں جو لسانیات کی رو سے غلط ہے اور قاری کے لیے بھی الجھن کا باعث ہے۔ لہٰذا باباے اردو نے طے کیا کہ اردو کی ہائیہ آوازوں کو ظاہر کرنے والے حروف ِتہجی کو بھی الگ حرف مانا جائے اور لغت میں ان کی الگ تقطیع قائم کرکے ان کی ترتیب غیر ہائیہ حروف کے بعد رکھی جائے ، مثال کے طور پر جب ’’ب ‘‘ سے شروع ہونے واے تمام الفاظ کا لغت میں اندراج ہوجائے تو ’’بھ‘‘ سے شروع ہونے والے الفاظ لکھے جائیں ، و علیٰ ہٰذا القیاس۔اس طرح مولوی عبدالحق وہ پہلے لغت نویس تھے جنھوں نے ان ہائیہ آوازوں کو ظاہر کرنے والے حروف (بھ ، پھ وغیرہ)کو باقاعدہ الگ حرف مان کر اردو کے حروف تہجی کی تعداد اور ترتیب درست کی ۔اردو میں ان ہائیہ حروف کی تعداد پندرہ (۱۵) ہے اور یہ بھی اردو کے حروف تہجی میں شامل ہیں۔
قیام ِپاکستان سے قبل اردو لغت کا یہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکا ۔اس عظیم لغت کے منصوبے کو حکومت پاکستان نے اردو لغت بورڈ کے تحت ازسرِ نوشروع کیا ۔ شان الحق حقی نے بطور معتمد (سیکریٹری)بورڈ کی لغت کے منصوبے کو آگے بڑھانا شروع کیا تو علم ِ لسانیات سے واقفیت کی بنا پر باباے اردو کی طے کردہ اردو حروف تہجی کی تعداد اور ترتیب سے اتفاق کرتے ہوئے اردو کے ہائیہ حروف کو بھی اس میں شامل کیا ۔ اس طرح عربی کے اٹھائیس (۲۸)حروف ،فارسی کے مزید چار (۴)حروف(یعنی پ۔چ۔ژ۔گ) ، اردو کی معکوسی آوازوں (یعنی ٹ۔ ڈ ۔ ڑ )کو ظاہر کرنے والے تین (۳)حروف، اردو کی ہائیہ آوازوں کو ظاہر کرنے والے پندرہ (۱۵) حروف ، الف ممدودہ (یعنی الف مد آ)اور ہمزہ (ء) کے علاوہ بڑی ’’ے‘‘ کو بھی الگ سے حرف ِتہجی شمار کیا کیونکہ اردو میں یاے مجہول (یعنی بڑی ’’ے ‘‘) کا الگ استعمال ہے۔ اس طرح اردو کے حروف تہجی کی کل تعداد’’الف ‘‘سے لے کر ’’ے ‘‘تک تریپن (۵۳) ہوگئی جن کو ترتیب سے یہاں لکھا جاتا ہے :
ا۔آ۔ ب۔ بھ۔پ۔ پھ۔ت۔ تھ۔ٹ۔ ٹھ۔ث۔ ج۔ جھ۔چ۔ چھ۔ ح۔ خ۔ د۔
دھ۔ڈ۔ ڈھ۔ذ۔ ر۔ رھ۔ڑ۔ ڑھ۔ز ۔ ژ۔ س ۔ ش۔ ص۔ ض۔ ط۔ ظ۔ ع۔ غ۔ ف۔
ق۔ک۔ کھ۔ گ۔ گھ۔ ل۔لھ۔ م۔ مھ۔ن۔ نھ۔ و ۔ ہ ۔ ء۔ ی ۔ ے
ان میں شامل حروف لھ، مھ، نھ وغیرہ باقاعدہ حروف ِ تہجی ہیں کیونکہ وہ اردو کی بعض آوازوںکو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی لیے ننھا، تمھارا ، جنھیں اور چولھاجیسے الفاظ میں دو چشمی ھ لکھنی چاہیے ورنہ ان کا املا غلط ہوجائے گا (ان الفاظ کے املا میں دوچشمی ھ کے استعمال پر تفصیلی گفتگو پھر کبھی سہی)۔
(محترم مدیران سے درخواست ہے کہ یہاں ان الفاظ مثلاً تمھارا، جنھیں وغیرہ کو دو چشمی ھ ہی سے لکھا رہنے دیجیے ، خواہ آپ اس املا سے اتفاق نہ کرتے ہوں، ورنہ ساری بحث بے کا ر ہوجائے گی۔ شکریہ )
اردو کے حروف تہجی کی صحیح تعداد اردو لغت بورڈ میں شان الحق حقی نے تریپن (۵۳) طے کی اور اسی ترتیب اور تعداد کی بنیاد پر اردو کی بائیس(۲۲) جلدوں پر مبنی لغت باون (۵۲) سال کی محنت شاقہ کے بعد مرتب اور شائع کی گئی۔ البتہ دور جدید میں کمپیوٹر آنے کے بعد جب مشینی کتابت میں نون غنے (ں) کی وجہ سے مسئلہ ہونے لگا تو مقتدرہ قومی زبان (جس کا نام اب ادارہ ٔ فروغ ِ قومی زبان ہوگیا ہے ) نے اپنے صدر نشین افتخار عارف صاحب کی نگرانی میں ایک مجلس(کمیٹی ) بنائی جس نے یہ طے کیا کہ نون غنے (ں) کو بھی ایک حرف تسلیم کیا جائے تاکہ ایک معیاری (اسٹینڈرڈ) کلیدی تختے (یعنی key بورڈ ) کی مدد سے جب عالمی سطح پر اردو کو فون اور کمپیوٹر میں استعمال کیا جائے تو کوئی الجھن نہ ہو۔ اس طرح اردو کے حروف ِتہجی میں ترتیب کے لحاظ سے نون (ن) کے بعد نون غنے (ں) کا اضافہ کرنا پڑا۔اس اضافے سے ان حروف کی کُل تعداد چو ّن (۵۴) ہوگئی ہے اور اب اسی کو سرکاری طور پر درست تسلیم کیاجاتا ہے۔ گویا اردو کے حروف تہجی کی صحیح تعداد چو ّ ن (۵۴) ہے۔
23/01/2021
Briefing Principals of Schools in a Workshop
23/01/2021
Presentation at AFAQ Workshop for School Principals and Owners
13/01/2021
Nurturing Child's Mental Health
13/01/2021
Supporting Child's Mental Health
05/01/2021
*Convert Your Conventional School into Montessori School System* (OR)
Strengthen your existing system by improving your teachers skills
*Give a Smart Start to your Schooling and make your school a brand name of trust by imparting quality education*
《Get Your Teachers Trained by Montessori qualified Master Trainer》
*7-Days International Montessori Teachers Training Workshop*
*Understand & educate Kids in a Montessori Way*
*《Course Contents》*
🌠Futuristic Approach in Education
🌠International standard of ECE
🌠Intro to Montessori System of Education,Dr.Maria Montessori her life and works
🌠Discovery of Child&Psychology by Dr.Maria Montessori
🌄Cosmos &Peace Education with Manners&Courtesy
🌠English Language&Literacy with Phonics
🌠Urdu Language&Literacy with Phonics
🌠Mathematical Exercises (Numeracy,Fractions,Geometry,Measurements & Statistics)
🌠Montessori Padagogy (Teaching Methodologies)
●TPR Method
●TPL Method
●IIPR Method
🌠Phonemic Poems & Rhymes
🌠Copy Making & Writing Skills
🌠Expo to Montessori Apparatus by Videos
🌠Class Room Spoken Language
🌠Circle Time Activities
🔰EPL(Exercises of Practical Life)
🔰History&Geography with Maps&Atlas
🔰Project based learning
🔰Artistic & Creative Learning
🔰Teaching of Eng, Urdu, Math & Science at Primary&
Middle Levels
*Venue of the Workshop:
At Your own School Campus*
*Package* .5000 Per Day is charged for the workshop.
An additional amount of Rs.15,000 would be charged for the cities other than Rawalpindi & Islamabad
♤ *《Smart Montessori Services(SMS)》* ♤
Contact us@
Call/WhatsApp:+923025878788
08/12/2020
اپنے بچوں کی پرورش کے دوران ہم اپنے ماں باپ کے انداز سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے ہم اپنے بچوں کی پرورش اپنے ماں باپ کی طرح کرتے ہیں۔
ہوسکتا ہے ہم نے کچھ اچھی باتیں سیکھی ہوں۔ لیکن آپ یقیناً اور بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
ماہر نفسیات فلیپا پیری نے اپنی کتاب ’دا بک یو وش یور پیرنٹس ہیڈ ریڈ‘ (وہ کتاب جو آپ چاہیں گے آپ کے والدین نے پڑھی ہوتی) میں لوگوں کو اچھے ماں باپ بننے کے مشورے دیے ہیں۔
وہ اس میں بتاتی ہیں کہ آپ اچھے والدین کیسے بن سکتے ہیں تاکہ آپ کے بچے زندگی کا بہتر آغاز کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی آپ کو اس کے لیے زیادہ کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے
ایک مثالی باپ کیسا ہوتا ہے
جاپان میں بچے سکول کیوں نہیں جانا چاہتے
’کیا تنہائی مجھے اپنی ماں سے ورثے میں ملی؟‘
ماہر نفسیات کے مطابق اچھے ماں باپ بننے کے لیے آپ ان پانچ مشوروں پر عمل کریں:
1. حدود کا تعین
جی ہاں یہ کافی مشکل ہوگا کیونکہ ہم سب ہی اپنے بچوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔ لیکن ایک موقع پر ہم اس کی حد پار کر دیتے ہیں۔
اگر آپ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آپ اپنے بچوں کو کچھ زیادہ ہی آزاد رہنے دیتے ہیں تب بھی آپ کو کچھ حدود کا تعین کر لینا چاہیے۔
لیکن پیار کی حد کیسے بنائی جائے؟ اس کا جواب ’میں‘ کے اندر ہے، ’تم‘ میں نہیں۔ آپ کو اپنا کردار واضح کرنا ہوگا، نہ کہ اپنے بچوں کا۔
تو اس کا مطلب ہے آپ کو یہ کہنا ہو گا ’مجھے معلوم ہے کہ آپ رات کو بس پر سفر کرتے ہوئے دور جانا چاہتے ہیں لیکن میں ابھی اس کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔‘
والدین کو ایسے نہیں ٹوکنا چاہیے کہ ’نہیں آپ تو صرف 13 سال کے ہو، آپ ابھی بہت کم عمر ہو۔‘
کسی کو یہ پسند نہیں ہوتا کہ کوئی اور ان کے بارے میں ایسے بات کرے۔ اس لیے خود کی وضاحت کریں، نہ کہ اپنے بچوں کی۔
والدین ہوتے ہوئے حدود کا تعین اہم ہے
2. اپنے بچوں کے ہر موڈ کو قبول کریں
ہماری غلطی یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں ہمارے بچے ہر وقت شدید خوش رہیں۔
یہ ایسا ہے جیسے ہم ان سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ کبھی انھیں مایوس نہیں دیکھ سکتے۔ اس لیے ہم انھیں کہتے ہیں: ’اداس نہ ہوں۔‘
لیکن یہ ضروری ہے کہ ہم انھیں ہر قسم کا موڈ (مزاج) رکھنے کی اجازت دیں جبکہ اس دوران ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں۔
ہمیں بچوں کے تمام جذبات کو منظور کرنا چاہیے تاکہ بچے اداس ہونے یا غصہ کرنے پر مزید مایوس نہ ہوں۔
ماہر نفسیات فلیپا پیری کہتی ہیں کہ یہ ممکن نہیں کہ آپ کا بچہ ہر وقت خوش رہے
3. یاد رکھیں کہ آپ اپنے بچے کا عکس ہیں
آپ اپنے بچے سے مماثلت رکھتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ آپ ان کا انسانی عکس ہیں تو یہ غلط نہ ہوگا۔
بچوں کے ساتھ ہمارا برتاؤ ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔
اگر ہم انھیں ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے کہ ’دیکھو آپ نے جوتے گندے کر لیے ہیں!‘ تو وہ ہمیشہ آپ کی غصے والی شکل ہی دیکھ پائیں گے۔
یہ ضروری ہے کہ آپ پہلے ان کے ساتھ ہنسی مذاق کریں اور اس کے بعد گندے جوتوں کا ذکر کریں۔
آپ کو ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے کہ ان سے ملتے ہوئے خوشی کا اظہار کریں۔
اگر آپ کے بچے کچھ برا کریں تو انھیں اپنا غصہ نہ دکھائیں
4. ہر قسم کا رویہ بات کرنے کا طریقہ ہے
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے بچے کے رویے میں کوئی برائی ہے تو یہ بات یاد رکھیں: ہر قسم کا رویہ بات کرنے کا طریقہ ہوتا ہے۔
بچے اس طرح کے رویے سے آپ کو کچھ بتانا چاہتے ہیں اور ان کے پاس یہ کہنے کا یہی بہترین طریقہ ہوتا ہے۔
تو آپ کو ایسے رویے کا اصل مطلب تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس کے بعد ان کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ جو محسوس کر رہے ہو اسے صاف الفاظ میں بلا ہچکچاہٹ کہہ سکیں۔
ہمیں ان کے تمام جذبات کو منظور کرنا چاہیے، بے شک اگر ٹھیک نہ لگتے ہوں۔
ہمیں بچوں کو اپنے جذبات کا اظہار سیکھانا چاہیے اور اس بات کی فکر نہیں کرنی چاہیے کہ ہم ان کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے۔ ہر شخص دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔
یاد رکھیں کہ ہر شخص دوسرے سے الگ ہوتا ہے
5. آپ کا بچہ کوئی پراجیکٹ نہیں ہے
ماہر نفسیات کے مطابق ’آپ کا بچہ ایک مشق نہیں جسے آپ جلدی جلدی نمٹا دیں۔ نہ ہی یہ ایک پراجیکٹ ہے جسے آپ بہترین انداز میں مکمل کر سکیں۔‘
’آپ کا بچہ ایک انسان ہے جو اپنی انفرادیت رکھتا ہے۔‘
بچے چھوٹے ہوں یا بڑے، وہ سب سے پہلے ایک انسان ہیں