Quaid-i-Azam Academy

Quaid-i-Azam Academy Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Quaid-i-Azam Academy, Educational Research Center, Karachi/Islamabad, Islamabad.

Quaid-i-Azam Azam Academy is a research organization aimed at the promotion of studies relating to Quaid-i-Azam his associates and different aspects of Pakistan movement

21/09/2026

Visit of Honorable Minister for National Heritage & Culture Division to Quaid-i-Azam Academy on 19th September 2026

کراچی (    ) وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے اپنے کراچی دورے کے موقع پر قائد اعظم مزار منیجمنٹ ب...
21/09/2026

کراچی ( ) وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے اپنے کراچی دورے کے موقع پر قائد اعظم مزار منیجمنٹ بورڈ کے ریزیڈنٹ انجینئر عبد العلیم شیخ کے ہمراہ قائد اعظم اکادمی کراچی کا دورہ کیا جہاں ان کا قائد اعظم اکادمی کے روح رواں و سینئر افسر زاہد حسین ابڑو، عبد الماجد فاروقی، عاصم خان نیازی سمیت سول سوسائٹی کے نمائندوں ڈاکٹر فیاض شاہین، رانا اشفاق رسول، اسلم خان فاروقی، ڈاکٹر ارم مظفر و دیگر نے نہایت گرمجوشی کے ساتھ استقبال کیا۔ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے قائد اعظم اکادمی کی بہتری کے لیے سول سوسائٹی کے نمائندوں سے تجاویز لی۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے قائد اعظم کے افکار ونظریات کو عام شہریوں اور نئی نسل تک پہنچانے کے لیے قائد اعظم اکادمی کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس میں تیزی لانے کی ضرورت اور میڈیا سیل کے قیام جیسی مختلف تجاویز پیش کیں جبکہ قائد اعظم اکادمی میں مستقل ڈائریکٹر کے تقرر اور لائبریین و مختلف اسٹاف کی خالی آسامیوں کے خلا کو پر کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ قائد اعظم اکادمی پاکستان کا ایک اہم علمی و تحقیقی ادارہ ہے، یہ ادارہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی، افکار اور سیاسی نظریات پر تحقیق کرنے اور مواد شائع کرنے کے لیے بنایا گیا تھا لہذا قائد اعظم اکادمی کی کارکردگی کو مزید بہتر و معیاری بنانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جانے چاہیے تاکہ نئی نسل قائد اعظم کے افکار اور نظریات سے روشناس ہوسکے۔

15/09/2026
کراچی (  ) قائد اعظم اکادمی قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، حکومتِ پاکستان کراچی کے زیر اہتمام قائد اعظم محمد علی جناح کی 150وی...
14/09/2026

کراچی ( ) قائد اعظم اکادمی قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، حکومتِ پاکستان کراچی کے زیر اہتمام قائد اعظم محمد علی جناح کی 150ویں یومِ ولادت کے سلسلے میں منائے جانے والے سال کے حوالے سے قائد اعظم اکادمی کے جناح ہال میں قائد اعظم کی سیاسی بصیرت 21ویں صدی کے پاکستان کے لیے رہنمائی کے موضوع پر ایک مذاکرہ منعقد ہوا مذاکرے کے مہمان شرکاء میں پرفیسر ڈاکٹر ایس ایم سعید، پروفسر منور عباس، ذاکر حسین شامل تھے جبکہ ماڈریٹر پروفیسر محمد علی پنہیار تھے اسی طرح نظامت کے فرائض عاصم نیاز خان نے انجام دیے اور مذاکرے کا آغاز عبد الماجد فاوقی نے تلاوت قرآن مجید سے کیا، روح رواں قائد اعظم اکادمی زاہد حسین ابڑو نے خطبئہ استقبالیہ دیا اور کہا کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت صرف 1947ء کے حالات تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ 21ویں صدی کے پاکستان کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مکمل اور واضح روڈ میپ ہے ان کا کہنا تھا کہ آج جب ہمارا ملک معاشی، سیاسی اور سماجی جن بحرانوں سے گزر رہا ہے ان میں قائد کے اصولوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے اگر ہم اکیسویں صدی میں ایک مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں قائد اعظم کے بنیادی رہنما اصولوں کو اپنانا ہوگا مہمان شرکاء نے کہا کہ قائدِ اعظم بنیادی طور پر ایک قانون دان تھے جو ہر صورت میں ائینی راستے پر یقین رکھتے تھے ان کا کہنا تھا کہ آج کے پاکستان کو سیاسی استحکام کے لیے اسی قانون کی حکمرانی اور اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے مقررین نے کہا کہ آج ہمارا معاشرہ جس داخلی انتشار اور دھڑے بندی کا شکار ہے اس کا علاج قائد کے دیے گئے اس سنہری اصول میں ہے قوم پرستی اور فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر ہی ہم ایک مضبوط قوم بن سکتے ہیں ماڈریٹر محمد علی نے مہمان شرکا سے مختلف سوالات کیے جن میں قائد اعظم نے "ایمان، اتحاد، نظم و ضبط" کا نعرہ دیا۔ 21ویں صدی میں ان تینوں صفات کو پاکستان کے موجودہ سیاسی، معاشی، اور سماجی حالات میں کیسے ڈھالا جا سکتا ہے؟ کیا یہ نعرہ آج بھی اتنا ہی موثر ہے جتنا قیام پاکستان کے وقت تھا؟ جیسے سوالات شامل تھے مہمان شرکاء کا سوالات کے جواب میں کہنا تھا کہ قائدِ اعظم ایک ایسا پاکستان چاہتے تھے جہاں نوجوان جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے لیس ہوں، جہاں معاشی انصاف ہو اور جہاں میرٹ کا بول بالا ہو۔ آج ہمیں تقریروں سے آگے بڑھ کر قائد کے افکار کو عملی شکل دینے کی ضرورت ہے آخر میں مہمان شرکاء حاضرین نے بھی سوالات کیے تقریب مذکراہ میں مہمان شرکاء کو شیلڈ بھی پیش کی گئیں۔

راچی (  ) قائد اعظم اکادمی قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، حکومتِ پاکستان کراچی اور شہید بے نظیر  بھٹو دیوان یونیورسٹی کورنگی ک...
14/09/2026

راچی ( ) قائد اعظم اکادمی قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، حکومتِ پاکستان کراچی اور شہید بے نظیر بھٹو دیوان یونیورسٹی کورنگی کراچی کے زیر اہتمام قائد اعظم محمد علی جناح کی 150ویں یومِ ولادت کے سلسلے میں منائے جانے والے سال کے سلسلے میں دیوان یونیورسٹی کے آڈیٹوریم ہال میں قائد اعظم کا پاکستان، خواب حقیقت اور مستقبل کا راستہ کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا سیمینار کے مہمان خصوصی لیفٹینٹ جنرل (ر) سید پرویز شاہد تھے اور مہمان مقررین میں پروفیسر شاہد علی خان، پروفیسر زاہد حسین منگی، ڈاکٹر ارم مظفر تھی جبکہ نظامات کے فرائض عاصم نیاز خان نے خوش اسلوبی سے انجام دیے اور عبد الماجد فاروقی نے معاونت کی، تقریب کا آغاز قاری طالب علم سعد خان نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا اور بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں طالبہ فلک ناز نے ہدیہ نعت کا نذرانہ پیش کیا جس کے بعد روح رواں قائد اعظم اکادمی زاہد حسین ابڑو نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جس کی بنیاد دو قومی نظریے پر رکھی گئی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیں اپنے بزرگوں کی قربانیوں اور قائد اعظم محمد علی جناح کی اعلیٰ قیادت سے ملا ہے تاہم ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم آج کہاں کھڑے ہیں کیا ہم نے وہ پاکستان بنا لیا جس کا خواب قائد اعظم نے دیکھا تھا اور اگر نہیں بنایا تو پھر اس غلطی کو درست کرنے کا آخر راستہ کونسا ہے مہمان خصوصی لیفٹینٹ جنرل (ر) سید پرویز شاہد نے کہا کہ قائد اعظم کا وژن ایک فلاحی ریاست تھا ایک منصوبہ تھا انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کا خواب ایک ایسے پاکستان کا تھا جہاں عدل و انصاف کا اعلیٰ نظام ہو مقررین نے کہا کہ قائد اعظم بدعنوانی، صوبائیت، رشوت اور جبر کے خلاف تھے ان کا پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہو اور ہر شخص قانون کے سامنے جوابدہ دے ہو انہوں نے کہا کہ قائد اعظم تعلیم کے حصول کو ترقی کی چابی سمجھتے تھے سیمینار میں طلبہ و طالبات نے ملی نغمیں بھی گائے اور خوب داد وصول کی آخر میں وائس چانسلر دیوان یونیورسٹی ڈاکٹر اورنگزیب خان نے اظہار تشکر کرتے ہوئے معزز مہمانوں اور طلبہ و طالبات کا شکریہ ادا کیا اور قائد اعظم کے خواب کی تکمیل کو ملکی استحکام کی ضمانت قرار دیا سیمینار کے اختتام پر مہمان خصوصی و مہمان مقررین کو یادگاری شیلڈز اور گلستے پیش کیے گئیں۔

کراچی (        ) قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کی 150ویں یومِ ولادت کے سلسلے میں منائے جانے والے سال اور 61ویں یوم دفاع پاکس...
11/09/2026

کراچی ( ) قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کی 150ویں یومِ ولادت کے سلسلے میں منائے جانے والے سال اور 61ویں یوم دفاع پاکستان کی مناسبت سے قائدِ اعظم اکادمی، قائدِ اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، حکومتِ پاکستان اور برکلن سیکنڈری اسکول کے زیر اہتمام مزارِ قائد کے آڈیو ویژول ہال میں فکر قائد اور یوم دفاع وطن کے عنوان سے تقریب کا انعقاد ہوا جس کے مہمان خصوصی ڈی آئی جی پی آر، کمانڈر (ریٹائرڈ)، سابق کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج سعید آباد، کراچی محترم سید شوکت علی شاہ، مہمان اعزازی محترم سید ندیم جیلانی، محترم فصیح الدین خان، محترم سلمان احمد صدیقی اور اظہار تشکر کرنے والوں میں محترم ارشد ملک تھے جبکہ نظامت کے فرائض طالبہ رافع طاہر نے خوش اسلوبی سے انجام دیے اور عبد الماجد فاروقی نے معاونت کی، زاہد حسین ابڑو نے ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے تقریب کے اغراض و مقاصد بیان کیے تقریب کا آغاز قاری شمس الدین نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا اور بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں طالبہ حلیمہ نے ہدیہ نعت پیش کی۔ قائدِ اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کے ریزیڈنٹ انجینئر عبد العلیم شیخ نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب کا مقصد صرف بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور جنگ ستمبر 1965ء کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں بلکہ وطن عزیز کے دفاع و استحکام کا جذبہ اپنے سینوں میں بھرپور پروان چڑھانا ہے انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کا تصور وطن محض جغرافیائی حدود تک محدود نہیں تھا ان کا وطن ایک ایسا نظریاتی کلچر تھا قانون کی حکمرانی ہو، جمہوریت کا فروغ، مساوی حقوق، آزادی ہو، عدل و انصاف ہو مقررین نے کہا کہ اس تقریب کے ذریعے ہمیں یہ پیغام دینا ہوگا کہ ہم سب ایک اور متحد ہیں، پائیدار امن چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں قائد اعظم کے افکار کی روشنی میں وطن عزیز میں پائیدار امن، ترقی و استحکام کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے تقریب کے اختتام پر معزز مہمانانِ گرامی اور مقررین کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں اور طلبا و طالبات کو سرٹیفکیٹ دئے گئے۔

کراچی (        ) قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے سیاسی افکار، آئینی تصورات اور جمہوری اصول آج بھی پاکستان کی ریاستی و قومی ...
11/09/2026

کراچی ( ) قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے سیاسی افکار، آئینی تصورات اور جمہوری اصول آج بھی پاکستان کی ریاستی و قومی زندگی میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ قائدِ اعظم ایک ایسی ریاست کے خواہاں تھے جہاں آئین و قانون کی بالادستی، جمہوریت، آزادی، مساوات، عدل و انصاف اور سماجی بہبود کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔

ان خیالات کا اظہار مقررین نے قائدِ اعظم اکیڈمی، قائدِ اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، حکومتِ پاکستان اور شعبہ تاریخ جامعہ کراچی کے زیرِ اہتمام قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کی 150ویں یومِ ولادت کے سلسلے میں منعقدہ سیمینار بعنوان "قائدِ اعظم، سیاسی فکر اور آئینی تصور: ایک جائزہ" سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار مزارِ قائد کے آڈیو ویژول ہال میں منعقد ہوا۔

سیمینار سے پروفیسر ثریا قمر، ڈاکٹر معیز خان، پروفیسر ڈاکٹر اصغر علی دستی، پروفیسر کشور خان، پروفیسر منیب الحسن اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

تقریب کا آغاز قاری شمس الدین کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد طالبہ حلیمہ نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں ہدیۂ نعت پیش کیا۔ بعد ازاں قومی ترانہ پیش کیا گیا۔

قائدِ اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کے ریزیڈنٹ انجینئر عبدالعلیم شیخ نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ان کی مدبرانہ اور اصولی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد وطن، پاکستان، حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام قائدِ اعظم کی پُرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد کا نتیجہ تھا۔

عبدالعلیم شیخ نے کہا کہ "جب ہم قائدِ اعظم کے سیاسی افکار اور آئینی تصورات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ان تاریخی حالات کو بھی سمجھنا ہوگا جن میں پاکستان وجود میں آیا۔" انہوں نے کہا کہ قائدِ اعظم کے افکار آج بھی نہایت اہم اور وقت کی ضرورت ہیں، کیونکہ ان کے تصورات میں ریاستی نظم و نسق، قانون کی حکمرانی، جمہوریت، مساوات اور عوامی فلاح کے واضح اصول موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قائدِ اعظم نے ایسی ریاست کا تصور پیش کیا تھا جہاں ہر شہری کو قانون کے تحت مساوی حقوق حاصل ہوں اور ریاست عوام کی فلاح و بہبود، معاشرتی انصاف اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

دیگر مقررین نے قائدِ اعظم کی سیاسی بصیرت اور آئینی جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قائدِ اعظم کا سیاسی فلسفہ محض قیامِ پاکستان تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ ایک مضبوط، آئینی، جمہوری اور فلاحی ریاست کے قیام کے خواہاں تھے۔ ان کے اصول آج بھی پاکستان کو درپیش سیاسی، سماجی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ نئی نسل کو قائدِ اعظم کے سیاسی افکار، آئینی جدوجہد اور قومی نظریے سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پاکستان کے بنیادی اصولوں اور قومی تشخص کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

آخر میں قائدِ اعظم اکیڈمی کے روحِ رواں محترم زاہد حسین ابڑو نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے معزز مہمانانِ گرامی، مقررین، حاضرین اور میڈیا نمائندگان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہمان مقررین نے جس جامع اور مؤثر انداز میں قائدِ اعظم کے افکار و نظریات کو اجاگر کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ "آج کے سیمینار کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ قائدِ اعظم کا تصور ایک فلاحی، جمہوری اور آئینی ریاست کا تھا اور ہمیں اسی تصور کو اپنی قومی زندگی میں آگے بڑھانا ہے۔"

تقریب کی نظامت کے فرائض عاصم نیاز خان نے خوش اسلوبی سے انجام دیے، جبکہ عبدالماجد فاروقی نے معاون ناظم کے فرائض سرانجام دیے۔ تقریب کے اختتام پر معزز مہمانانِ گرامی اور مقررین کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔

کراچی، 8 ستمبر 2026: قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 150ویں یومِ ولادت کے سلسلے میں منائے جانے والے سال کی مناسبت سے قائداعظم...
11/09/2026

کراچی، 8 ستمبر 2026: قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 150ویں یومِ ولادت کے سلسلے میں منائے جانے والے سال کی مناسبت سے قائداعظم اکیڈمی، قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، حکومتِ پاکستان اور انجمنِ اساتذہ پاکستان کے زیرِ اہتمام مزارِ قائد کے آڈیو ویژول ہال میں ”قائد کے ہم سفر: اولادِ مجاہد کی زبانی“ کے عنوان سے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب میں طلبہ و طالبات نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے ملی نغمے، تقاریر اور ٹیبلوز پیش کیے، جنہیں شرکائے تقریب نے بے حد سراہا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر وسیم الدین تھے، جبکہ مہمانانِ گرامی میں تحریکِ پاکستان کے نامور رہنما نواب محمد اسماعیل خان کے پوتے اسد آئی اے خان اور پوتی عائشہ اسلام شامل تھیں۔ تقریب کی نظامت اور ماڈریشن کے فرائض ڈاکٹر فیاض احمد شاہین نے انجام دیے، جبکہ عبدالمجید فاروقی نے معاونِ ناظم کے فرائض سرانجام دیے۔

تقریب کا آغاز قاری شمس الدین کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد طالب علم محمد حسین اور طالبہ عاملہ کاشمیری نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں علیحدہ علیحدہ ہدیۂ نعت پیش کیا۔

قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کے ریزیڈنٹ انجینئر عبدالعلیم شیخ نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”قائد کے ہم سفر“ دراصل تاریخ کے ایک زندہ باب کو نئی نسل کے سامنے اجاگر کرنے کی ایک قابلِ تحسین کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریکِ پاکستان کے عظیم مجاہدین نے اپنی جان، مال اور عزت کی قربانی دے کر ہمیں ایک آزاد وطن عطا کیا، اور آج ہم انہی مجاہدین کی اولاد کی زبانی ان کے آباؤ اجداد کی جدوجہد اور داستانِ شجاعت سننے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجاہدینِ تحریکِ پاکستان کی اولاد کو مدعو کرنے کا مقصد محض ماضی کی یاد تازہ کرنا نہیں بلکہ ان واقعات اور تجربات کو نئی نسل تک منتقل کرنا بھی ہے جو اکثر تحریری تاریخ کا حصہ نہیں بن سکے اور نسل در نسل خاندانوں میں منتقل ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قائداعظم اکیڈمی اور قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے شروع کیا گیا یہ سلسلہ نوجوان نسل کو اپنی تاریخ اور قومی ورثے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

عبدالعلیم شیخ نے کہا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد ماضی کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے حال اور مستقبل کے لیے سبق حاصل کرنا ہے۔

مہمانانِ گرامی اسد آئی اے خان اور عائشہ اسلام نے ڈاکٹر فیاض احمد شاہین کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے تحریکِ پاکستان میں نواب محمد اسماعیل خان کے کردار اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ ان کے قریبی تعلق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نواب محمد اسماعیل خان تحریکِ پاکستان کے صفِ اوّل کے رہنماؤں میں شامل تھے اور قائداعظم کے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی گراں قدر خدمات اور قربانیوں کے باعث انہیں تحریکِ پاکستان کی تاریخ میں ایک معتبر مقام حاصل ہے۔

مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر وسیم الدین نے کہا کہ نواب محمد اسماعیل خان کی اولاد کی جانب سے ان کی جدوجہد اور خدمات کی داستان سنانے کے ساتھ ساتھ اسکول کے طلبہ و طالبات کی جانب سے ملی نغموں، تقاریر اور ٹیبلوز کے ذریعے حب الوطنی کا اظہار ایک خوبصورت اور بامعنی امتزاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام اس امر کا واضح پیغام ہے کہ ہماری نئی نسل اپنے اسلاف کی قربانیوں کو فراموش نہیں کر رہی بلکہ انہیں اپنے لیے مشعلِ راہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی تقریبات نوجوان نسل میں قومی شعور، حب الوطنی اور اپنے تاریخی ورثے سے وابستگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

تقریب میں مختلف اسکولوں کے طلبہ و طالبات نے موضوع کی مناسبت سے پُرجوش تقاریر، ملی نغمے اور خوبصورت ٹیبلوز پیش کیے۔ شرکائے تقریب نے طلبہ و طالبات کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔

تقریب کے اختتام پر قائداعظم اکیڈمی کے روحِ رواں زاہد حسین ابڑو نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے معزز مہمانوں، مقررین، اساتذہ، طلبہ و طالبات اور دیگر شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات ان عظیم شخصیات اور مجاہدین کی خدمات کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں جنہوں نے قیامِ پاکستان کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔

آخر میں معزز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں، جبکہ تقریب میں شریک تمام اسکولوں کے پرنسپلز کو اسنادِ شرکت بھی پیش کی گئیں

In connection with the 79th Independence day celebrations, a Book Exhibition was organized by Quaid-i-Azam Academy on 14...
18/08/2026

In connection with the 79th Independence day celebrations, a Book Exhibition was organized by Quaid-i-Azam Academy on 14 August 2026. Large number of people participated in the event

Address

Karachi/Islamabad
Islamabad
4400

Telephone

+923349208959

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quaid-i-Azam Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Quaid-i-Azam Academy:

Shortcuts

Share