Sirat al mustaqim

Sirat al mustaqim

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sirat al mustaqim, Education, Islamabad.

TikTok · The Realist 18/09/2025

TikTok · The Realist 30.9K likes, 323 comments. “Mam! what a profoundly moving truth you’ve expressed.”

04/09/2025

If you are interested contact me🤗

01/07/2025

مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں ایک شخص جنگل میں اپنی بکریاں چرا رہا تھا ۔ اچانک اس اس کی نظر دور چمکتے پتھر پر پڑی تو وہ پاس گیا وہاں چمکتے ہوئے کافی پتھر تھے زمین میں دھنسے ہوئے ۔ وہ چرواہا وہ سارے پتھر نکال کر جھولی بھر لیتا ہے اور بکریوں کو ہانکتے ہوئے گھر کی طرف چل پڑتا ہے ۔ رستے میں وہ ایک ایک کر کے پتھر اچھال کر پھینکنا شروع کر دیتا کیونکہ اس نے بس کر انہیں جمع کر لیا تھا جمع کر لیا تھا اب وہ بوجھ لگ رہے تھے تو ایک ایک کر کے رستے میں پھینکتے ہوئے چلتا جا رہا ہے ۔ جب وہ آبادی والے علاقے میں آیا تو اس کے پاس دو تین ہی وہ پتھر رہ گئے تھے ۔ اس بار اس نے جب پتھر پھینکا تو وہ کسی دانا بزرگ کے سر میں لگا بزرگ نے پتھر اٹھایا اور حیران ہو گیا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا تو چرواہا لا پتھر پھینک رہا تھا بزرگ دوڑ کر گئے یہ پتھر کہا سے لیے اور تمہیں پتا بھی ہے یہ کیا ہیں ؟۔۔ چرواہا بولا بابا جی جنگل میں ایک جگہ زمین میں چمکتے ے ہوئے ہوئے نظر نظر آئے آئے زیادہ نہیں تھے جتنے تھے سب نکال نکال کر جھولی میں ڈال لیے واپسی پر سوچا کا کیا کروں گا تو ایک ایک کر کے اچال کر پھینک دیا بس یہ دو تین ہی بچے بچے تھے وہ بھی پھینک دیے دیے بس یہ آپ کے ہاتھ والا ہی آخری ہے ۔ بزرگ بولے کہ عقل کے اندھےتجھے کیا پتا یہ پتھر کتنا قیمتی ہے یہ وہ پتھر ہے جسے ہیرا ہے نادان کیا کر دیا ۔ چرواہے کا سننا تھا کہ وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور رونا شروع کر دیا اب سبق یہ ہے کہ بعض دفعہ لوگ ہماری چمک سے متاثر ہو کر ہمیں اپنی زندگی میں شامل کر لیتے ہیں مگر وہ ہماری حقیقت سے انجان ہوتے ہیں پھر وہ ہماری ناقدری کرتے ہیں ، اور اپنی زندگی سے خد بی نکال دیتے ہیں مگر ایک وقت ایسا آتا ہے ہی وہ سر پکڑ کر روتے ہیں کہ یہ کر دیا ۔ پتا ہے ہیرے کی پرکھ تو جوہری کو ہوتی ہے آپ کی قدرو منزلت تو کوئی آپ جیسا نیاب شخص ہی سمجھے گا کوئی بھی عام شخص آپ کو پہچان نہیں سکتا ۔ میں نے ایک جگہ پڑھا تھا بات تو حقیقت ہے مگر منسوب مولا علی علیہ السلام سے تھی اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ مولا علی کرم م اللہ وجہہ الکریم نے کہی ی کہ نہیں مگر لکھا تھا کہ مولا علی کرم الله وجہہ الکریم کا فرمان ہے جب ایک انسان مخلص ہوتا نم ہے اور اس کی نیت بھی صاف ہے تو فکر ہو جانا چاہیے کیونکہ وہ لوگوں کو نہیں ہیں کھوتا بلکہ لوگ اسے کھو دیتے ہیں ۔ پس آپ کا دل دل پاک ہے ، آپ کی نیت صاف ہے بے ہے تو اسے بسي آپ کی ذات مخلصی ہوئی ہے اور لوگوں کو کھو دیتے ہیں تو در حقیقت آپ لوگوں کو نہیں لوگ آپ کو کھو دیتے ہیں ۔ نا شناس شناس شخص ہمارےاندر کی کی چمک ، ما مخلصی ، ، پاکیزه سچا دل کبھی بھی نہیں بھی نہیں دیکھ سکتا کبد کبھی بھی نہیں ۔ الحمد للہ شکر الحمداللہ نا شناسا لوگوں میں نہیں چمکتے ہوئے لوگوں میں پایا ہے خد کو ۔ یاد رہے بات ساری کی ساری نیت ، مخلصی اور صاف دل کی ہے اگر تو آپ ایسے ہیں ہیں تب ہی لوگ آپ کو کھوتے ہیں اگر آپ ایسے نہیں ہیں تو سمجھ لیں آپ نے کسی کو کھو دیا ہے جو بہت قیمتی تھا

صلي_على_محمد # لنبي_محمد_صلى_الله_عليه_وسلم عليه وسلم نبي_محمد_صلى_الله_عليه #ختم نبوت نبوت_پر_جان_قربان

27/06/2025

دنیا کی اعلیٰ ترین مصروفیت
حضور پاک ﷺ پر درود و سلام بھیجنا ہے
اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ 🌹




26/06/2025

مولانا رومی

مولانا روم نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے اللہ اللہ کی عبادت کرنا شروع کر دی اور پروردگار کی عبادت میں اتنا مشغول ہوا کہ دنیا میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر سب کچھ بھول دیا اور سچے دل سے اللہ کی رضا میں راضی رہنے کے کے لیے انسانیت کے رستے پر چل پڑا

مولانا روم کہتے ہیں کہ ایک وقت وہ آیا کہ اس کے گھر میں کچھ کھانے کو بھی نہ بچا اور ہوتے ہوتے وہ وقت بھی آیا کہ باہر سب ختم ہو گیا اور وہ شخص چلتے ہوئے موت کے انتظار میں گلیاں گھومتا کہ اب پلے تو بچا کچھ نہیں تو انتظار ہی کر سکتا ہوں اللہ سنبھال لے

ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ دیکھا اس کے دنا یا لمبی قطار میں گھوڑے قریب سے گزرے

ان گھوڑوں کی سیٹ سونے اور چاندی سے بنی ہوئی تھی اور ان کی پیٹوں پر سونے کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور انہیں

ان گھوڑوں پر ۔ جو لوگ بیٹھے تھے وہ کسی شاہی گھرانے سے کم نہ لگتے تھے ان کے سروں پر سونے کی سونے کی ٹوپیاں تھیں اور ایسےمعلوم ہو رہا تھا کوئی بادشاہ جا رہے ہیں

اس شخص کے دریافت کرنے پر اسے بتایا کہ یہ ساتھ گاؤں گار میں ایک بادشاہ ہے ہے یہ سب اس کے غلام م ہیں اور بادشاہ کے دربار میں جا رہے ہیں وہ شخص کچھ دیر حیران ہوا کہ یہ حالت غلاموں کی ہے تو بادشاہ کی کیا حالت ہو گی

اس نے آسمان کی طرف سے اٹھا کر کہا میرے بادشاہ میرے مالک میرے اللہ شکوہ تو تجھ سے نہیں کرتا لیکن اس بادشاہ سے ہی غلاموں کا خیال رکھنا سیکھ .... لے

اتنی بات کہہ کر وہ شخص چل دیا کچھ دن گزرے تو ایک بزرگ آئے اور اس کا بازو پکڑ کر اسے ایک جگہ لے گئے جہاں وہی غلام وہی گھوڑے تھے

اور دیکھتا کیا ہے کہ کسی گھوڑے کی ٹانگ کٹی ہوئی ہے کسی غلام کا کا دھر گھوڑے کی پشت پر پڑا ہوا ہے کسی غلام کے ہاتھ کٹے ہوئے ہیں کسی کے سر سے خون نکل رہا ہے کوئی گھوڑے کو زخمی میں واپس لے کر جا رہا ہے حالت

وہ شخص حیران ہوا اور بزرگ سے پوچھا جناب آپ کون ہیں اور یہ سب کیا ماجراہے

اس وقت اس بزرگ نے کہا کہ یہ وہی غلام ہیں جو اس دن سونے میں لپٹے ہوئے تھے اور آج یہ ایک جنگ . سے واپس آ رہے ہیں اس اس لیے خواب گیا ہے ے ان کی یہ حالت ہے مجھے ب میں بس اتنا کہا گیا۔ کہ اسے کہنا بادشاہوں کے لیے قربانیاں دینا بھی ان غلاموں سے سیکھ لے

حقیقت میں ہمیں قربانی دینا آیا ہی نہیں.... چاہے چاہے دین کا کا معاملہ سیدھا کرنا ہو ، رشتہ داروں کا یا دنیا کا جس دن ریم دن ہم قربانی دینا سیکھ لیں گے دین وں کے لیے اور دنیا کے لیے... اس پر توکل کر نا سیکھ لیں گے، اس کے لیے اپنوں کے دن شہنشاہ اللہ رب العزت ہمیں ایسی بادشاہت عطا فرمائے گا جو کبھی نہ ختم ہو گی.

゚viralシ

19/10/2023

Humesha such bolo💕,,,,,, 🌹,,,,,,,😊

19/10/2023

Allah hum sub ko apni panah m rakhyn.Ameen

18/10/2023

SubhanAllah 💕.....😊









18/10/2023

,,,,🥀,,,💕,,,,🕋








18/10/2023

SubhanAllah 💕




Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Culinary Team

Attire

Website

Address


Islamabad