27/02/2022
Drama Serial Sinf e Aahan | 𝗘𝗽𝗶𝘀𝗼𝗱𝗲 𝟭𝟰 | 26 February 2022 | ISPR
Our heroines are now confronting the world and society with their newly found confidence and strength. They are on their way to becoming strong and independe...
27/02/2022
Nikal Para | 𝗦𝘂𝗿𝗽𝗿𝗶𝘀𝗲 𝗗𝗮𝘆 𝗦𝗼𝗻𝗴 | 27 February 2022 | ISPR
𝗦𝗼𝗻𝗴 𝗡𝗶𝗸𝗮𝗹 𝗣𝗮𝗿𝗮: Paying tribute to the services and sacrifices of our armed forces. It reflects their devotion to the cause by putting the call ...
08/10/2019
افغانستان میں امریکہ کے زیر استعمال بگرام فوجی اڈے سے 11 طالبان قیدیوں کو مبینہ طور پر رہا کر دیا گیا ہے۔ اُن کی رہائی طالبان کی قید سے تین بھارتی افراد کی رہائی کے بدلے میں عمل میں آئی ہے۔
29/09/2019
( دنیا کو بتایا جائے کہ بھٹو ایک عظیم لیڈر نہیں بلکہ ایک قومی مجرم ہے )
بھٹو 11 دسمبر 1971 کو نیویارک پہنچ گئے تھے 15 دسمبر کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے گئے کیونکہ انھیں زکام ہو گیا تھا اور بخار تھا جس وجہ سے وہ چار دن اپنی ہوٹل کے لگثرری کمرے میں آرام کرتے رہے جبکہ بنگال میں ہماری فوج کے پاس ہر گزرتے دن کے ساتھ اسلحہ اور رسد ختم ہوتی جا رہی تھی کمک پہنچ نہیں رہی تھی کیا ایسے موقع پر بھٹوکا ہوٹل میں قیام کرنا مناسب تھا ؟
بھٹو 15 دسمبر کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں گئے جہاں ساری دنیا نے سویت اور پولش کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کی متفقہ منظوری دیدی جس کے بعد پاکستان کی رضامندی ضروری تھی ۔۔
قرارداد کے مطابق ۔
پاکستان اقتدار پر امن طور پر جیتنے والے ممبر کو سونپ دے یعنی مجیب الراحمن کو ۔
پاکستان کی فوج کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں بحفاظت بنگال سے نکالنا دنیا یقینی بنائے گی
انڈین مداخلت کو بنگال سے ختم کیا جائے گا ۔
اس قرار داد کے منظور ہو جانے کے بعد ہمیں کیا ملتا ؟
نا ہماری فوج یرغمال بنتی اور نا انڈیا کامیاب ہوتا اور نا ہی پاکستان کے دو ٹکڑے ہوتے ۔
مگر بھٹو نے اپنا خطاب شروع کیا تو کہا میں اپنے ملک میں کسی کا قبضہ برداشت نہیں کرونگا ۔ حالانکہ وہ کوئی نہیں ایک جیتا ہوا عوامی لیڈر تھا (مجیب الرحمان)
میں اقتدار کسی کو نہیں دونگا
مجبیب الراحمن محب وطن نہیں غدار ہے (بغیر کسی ثبوت کے)
ہم لڑینگے اور ہر حالت میں لڑینگے ۔ جبکہ وہ جانتا تھا کہ فوج کے پاس اسلحہ نہیں ہے ۔
میں سلامتی کونسل کی کسی قرارداد کو نہیں مانتا ۔
وہاں پڑی پولش اور سویت کی قراد داد کو پھاڑا اپنی جیب میں ڈالا ہوٹل پہنچا واپس پاکستان کے لئے سفر پر نکلا ابھی راستے میں ہی تھا کہ سولہ 16 کو پاکستانی فوج کو سرینڈر کرنا پڑا ۔ اور یوں ہم عالمی فورم پر جیتی ہوئی جنگ ایک اقتدار کے بھوکے ، کمینے شاطر شخص کی وجہ سے ہار گئے ۔۔۔
مگر وہ الفاظ اور جذبات سے کھیلنا جانتا تھا اس نے واپس آکر قومی کو جذباتی کیا اپنی غلطی کو چھپایا اور بتایا کہ اس نے کیسے سلامتی کونسل میں پیپر پھاڑے تھے دنیا اسی پر خوش ہو گئی اور بھول گئے کہ اس شخص کی وجہ سے ہمارے 34 ہزار فوجی یرغمال بنے ملک دو لخت ہوا
آج بھی اس کی پارٹی اور اس کے ماننے والے اسے عظیم لیڈر کہتے ہوئے تھکتے نہیں تو عرض فقط یہ کرنی تھی وہ 1971 تھا جبکہ انفارمیشن کے محدود ذرائع تھے آج جب میں یہ بلاگ لکھ رہا ہوں تو میرے سامنے 10 دسمبر سے لیکر 16 دسمبر تک کی دنیا کی تمام اخبارات کے تراشے میرے میز پر موجود ہیں بھٹو کی تقریر سے پہلے اور بعد کے دنیا کے راہنماوں کے بیانات میرے ایک کلک پر کھل جاتے ہیں جو بات حمود الراحمن کمیشن بیان نہیں کر سکا آج میں دنیا کے ایک کونے میں بیٹھ کر آسانی سے بیان کر سکتا ہوں ۔۔
دنیا کو بتایا جائے کہ بھٹو ایک عظیم لیڈر نہیں بلکہ ایک قومی مجرم تھا ۔
شکریہ
جہانزیب منہاس
28 ستمبر 2019
10/07/2019
پاکستان کے دور مار میزائلوں سے خائف انڈین ڈیفنس ایکسپرٹس سر جوڑ کر بیٹھے اور ایک انتہائی مکارانہ حل نکالا ۔منصوبہ یہ تھا کہ بجائے پاکستان سے باقاعدہ جنگ چھیڑنے کے دہشت گردوں کی پناگاہوں کی آڑ میں پاکستان کے مخصوص حصوں پر بھاری بھرکم فوج کے ذریعے انتہائی کم وقت میں حملہ کرکے پاکستانی فوج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیا جائے اور ساتھ ہی عالمی برادری کو اعتماد میں لے کر اسے دہشت گردوں کے خلاف ایک سرجیکل سٹرائیک دکھایا جائے۔اس منصوبے کوCold Start Doctrineکا نام دیا گیا۔ابھی اس منصوبے پر کام جاری ہی تھا کہ ISI نے اس کا پتہ چلایا اور رپورٹ GHQ کو دی۔اس رپورٹ کے ملتے ہی جی ایچ کیو میں کھلبلی مچ گئی کیونکہ اس کے نتائج انتہائی بھیانک ہوسکتے تھے ۔فوراً سر جوڑ کر بیٹھا گیا اور اسکا حل تلاش کیا گیا ۔اسکا حل یہ نکالا گیا کہ پاکستان نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار اور کم رینج کروز میزائل بنا نے پر کام شروع کیا ۔
دوسری طرف، Cold Start Doctrine منصوبے کو حتمی شکل دی جاچکی تھی ۔اور اس کے مختلف پیرامیٹرز جانچنے کے لئے بھارت نے پاکستانی سرحد کے قریب بہت بڑی جنگی مشقوں کا انعقاد کیا جس میں حیران کن طور پر بہت بڑی انفنٹری، آرٹلری اور SU 31 جیسے جدید ترین جنگی طیاروں کی بڑی تعداد راجھستان کے صحرا میں آموجود ہوئے ۔پاکستان IS I کی رپورٹ کی روشنی میں پہلے ہی اپنا کام مکمل کر چکا تھا ۔
چناچہ پاکستان نےBRBM نصر میزائل کے تجربات شروع کیئے (50km) جوکہ ایک شارٹ رینج میزائل ہے ساتھ ہی پاکستان نے ٹیکٹیکل وارہیڈ بنائے اور عالمی سطح پر اعتراف کیااور ہاں ساتھ ہی آرمی نے عزم نو تھری فضائہ کی ہائی مارک مشقوں کے ساتھ شروع کیں۔انڈیا کے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کے مطابق 8بریگیڈز سے حملہ کیا جاسکتا تھا جسے فضائی سپورٹ بھی حاصل ہوتی لیکن جیسے ہی فوج عین میدان جنگ کے درمیان پہنچتی نصر میزائل ٹیکٹیل وارہیڈ سے اسے ہندووں کا قبرستان بنا دیتا ۔انڈیا کا کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن خاک میں مل چکل تھا ۔ایک دفعہ پھر سر جوڑ کر بیٹھا گیا اور جنگ کی صورت میں پاکستانی میزائلوں سے بچنے کا حل یہ نکالا گیا کہ اسرائیل کی مدد میزائل ڈیفنس شیلڈ بنائی گئی ۔پاکستان کے محافظوں نے اپنی عقابی نگاہیں انڈیا کی مکاریوں پر ہمیشہ گاڑھی ہوتی ہیں چنانچہ پاکستان نے انڈیا کی اس دفاعی شیلڈ کا مقابلہ کرنے کے لئے ابابیل جیسے جدید ترین میزائل سسٹم کا تجربہ کیا جو ہمیں دیتا ہے ایک ہی میزا ئل میں 10 سے 12وار ہیڈز کا مزہ تو اگر ہم اسے بمبئ پر لاک کریں تو راستے میں راجھستان اور گجرات کے شہروں کو مفت میں خاک ہونا پڑے گا اور انڈین ڈیفنس شیلڈ اسکا کچھ بھی نہیں بگاڑ پائےگی کیونکہ اسے پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔
وسیم
24/05/2019
محسن داوڑ کی بکواس پر حکومت کی بزدلانہ، مجرمانہ اور مفاد پرستی سے بھرپور خاموشی پر صرف اتنا کہوں گا کہ پاکستانی قوم بے غیرت نہیں ہے ۔ یہ داوڑ وغیرہ تو عبرت ناک انجام کے ساتھ تاریخ کا حصہ ہونگے مگر ایسے ہی چلتا رہا تو عمران خان صاحب آپ بھی مستقبل میں کہیں نظر نہیں آو گے۔۔ @وطن پرست #پاکستان #جان ما #ایمان ما
ایڈمن #کیف