15/05/2026
جو جماعت سڑکوں کو عدالت، ہجوم کو قانون، اور جذبات کو دلیل سمجھنے لگے… وہ آخرکار خود قانون کے شکنجے میں آ جاتی ہے۔
تاریخ بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ وقتی طاقت، ہجوم کے نعرے، اور مذہبی جذبات کا سیاسی استعمال ہمیشہ مستقل فتح نہیں دیتے۔
ریاستی اداروں سے تصادم، ملک گیر دھرنے، عوامی زندگی مفلوج کرنا، پولیس اہلکاروں پر حملوں کے مقدمات، املاک کو نقصان، اشتعال انگیز تقاریر، اور مذہب کے نام پر سیاسی دباؤ۔
اسکے علاوہ توحین مذہب کے الزام میں لوگوں کا موارئے عدالت قتل ۔
یہ سب برسوں سے اس جماعت کے ساتھ جڑے تنازعات رہے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ جب کوئی تحریک اپنے کارکنوں کو صرف غصہ سکھائے، سوچ نہیں…
صرف نعرہ سکھائے، شعور نہیں…
صرف دشمنی سکھائے، برداشت نہیں…
تو پھر اس کا انجام اکثر عدالتوں، گرفتاریوں، اندرونی انتشار، اور سیاسی تنہائی کی صورت میں نکلتا ہے۔
طاقت کا نشہ ہمیشہ عارضی ہوتا ہے۔
ہر وہ گروہ جو خود کو قانون سے اوپر سمجھنے لگے، ایک دن قانون ہی اس کے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے۔
تاریخ میں جذباتی ہجوم بہت آئے…
لیکن آخر میں زندہ وہی نظریات رہتے ہیں جو عقل، اخلاق، اور برداشت پر کھڑے ہوں۔