Education Informer

Education Informer

Share

Join us as we explore what is happening in education around the world. Write for us at info@weeklyinf

To promote Eduction System , Students , Teachers , Talent , Top Students , Education in remote areas , female Education , Reporting fake institutions.

Photos from Urdualert's post 24/08/2021
24/06/2021

محمد طارق ملک کی کہانی میری زبانی
تحریر طاہر نعیم ملک
بہت سے دوست کرمفرما بڑے بھائی محمد طارق ملک کی بحیثیت چئیرمین نادرا انتخاب اور تعیناتی پر مبارکباد دے رھے ھیں.
اور اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کر رھے ھیں کہ میں نے اس ضمن میں مبارکباد یا خوشی کا اظہار نہیں کیا.
دراصل میں اپنے یا اپنے خاندان کے ذاتی احوال پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتا ھوں.
طارق ملک کی کہانی میں نوجوانوں کے لئے سیکھنے کے بھی مواقع ہیں لہذا ان جیسے کامیاب اور قابل فخر لوگوں کی داستان بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں.

یقیناً میں بہت خوش ھوں اور میری دعا ھے کہ وہ بہتر انداز میں ادارے اور ملک کی خدمت کرسکیں.
باقی ھم تین بھائی اور ایک بہن پر مشتمل کنبہ ھیں.بہن کینیڈا کی یارک یونیورسٹی میں معاشیات کی پروفیسر ھیں.

سب سے چھوٹے بھائی ڈاکٹر عدیل ملک نے آکسفورڈ یونیورسٹی کا سکالرشپ حاصل کیا اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں ھی درس و تدریس سے منسلک ھیں سب سے چھوٹے بھائی سب سے ذھین اور علم دانش میں ھم سب سے آگے ہیں.
میں اور طارق ڈاکٹر عدیل کے مقابلے میں نالائق ہیں.
ھم سب بھائی سرکاری سکول سرکاری کالج سرسید کالج راولپنڈی اور بعد ازاں سرکاری یونیورسٹی قائداعظم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ھیں.
عمومی طور پر ھماری کامیابی کی وجہ ھمارے والد محترم پروفیسر فتح محمد ملک کی علمی حیثیت گردانا جاتا ھے.
یقیناً انہوں نے ھماری پرورش رزق حلال سے کی.
حرام کا لقمہ پیٹ میں جانے نہ دیا.
کتاب اور علم سے محبت کرنا سکھایا.
علمی اور ادبی شخصیات سے ان کے قریبی مراسم نے ھماری شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کئے لیکن ان سب کے باوجود بچپن میں والد محترم بہت اپنی علمی ادبی مصروفیات میں مگن تھے انہیں یہ بھی نہ پتہ ھوتا کہ ھم کس جماعت میں پڑھ رھے ہیں.
ھماری والدہ مرحومہ ذکیہ ملک اس زمانے میں بھی بی اے کی ڈگری کی حامل تھیں.
گھریلو حالات میں زیادہ معاشی کشادگی نہ تھی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھتیں.
مہمانوں کی وسیع آمد و رفت کے باوجود ان کے ماتھے پر کبھی شکن نہ آئی.
پیدل سکول جاتے پبلک ٹرانسپورٹ پر کالج جاتے.
ان کی خواہش تھی کہ میرے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں
ٹیوشن کا رواج شروع ھوچکا تھا لیکن والدین اس کے متحمل نہ ھو سکتے لہذا وہ خود ھی ھمارے ساتھ محنت کرتیں .
وہ سلیقہ شعاری سے ھمارے کپڑے بھی سلائی کرتیں.
مجھے یاد ھے کہ 1986 کی بات ھے پاکستان میں جاگرز باٹا نے متعارف کروائے پہلے امپورٹڈ جاگرز بازار میں دستیاب ھوتے جو کہ ھماری دسترس سے باھر ھوتے.
ھماری رھائش چاندنی چوک مری روڈ راولپنڈی پر واقع تھی سکول کے بچوں نے کھیل کے اوقات میں جاگرز پہنے ھوتے تو ھم نے ضد کی کہ ھمیں بھی جاگرز خرید کر دیں.
ماں پہلی تاریخ کے انتظار میں تھی پہلی کے بعد جب ھم خوشی خوشی سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی باٹا کی دوکان گئے تو قیمت دیکھ کر ماں نے کہا کہ تمہیں اگلے مہینے دلوا دوں گی طارق بڑا بھائی ھے مجھ سے تعلیمی لحاظ سے ایک کلاس آگے بھی تھے اس ماہ اسے لے دیتے ہیں.
پھر میٹرک کے امتحانات میں اعلیٰ نمبرز سے پاس ھونے پر سہراب سائیکل کی سواری کا اعلان رکھا گیا.
طارق امتیازی نمبرز سے پاس ھوگیا اسے سائیکل انعام میں ملی.
ھم دونوں مختلف اوقات میں سائکل چلانے پر بہت خوش ھوتے جتنی خوشی میں نے طارق کو سائیکل حاصل کرتے ھوئے دیکھی اتنی عملی زندگی میں اھم عہدے اور تقرریاں حاصل کر تے وقت بھی نہ دیکھی.
پھر کالج میں ان کے دوست اود کلاس فیلو ڈاکٹر طارق فضل جو بعد ازاں اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر بھی رھے کہ پاس یاماھا موٹر سائیکل ھوا کرتی تھی وہ صادق آباد میں رھتے صبح کا معمول یہ ھوتا کہ کالج جاتے وقت طارق کو بھی ھمراہ لیجاتے.
سائیکل میرے تصرف میں آگئی.
وقت کا دھارا آگے بڑھتا گیا طارق نوے کی دھائی میں قائد اعظم یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں فارغ التحصیل ھوئے.
بعدازاں جرمنی اور امریکہ سے بھی اعلئ تعلیم حاصل کی.
بڑا بھائی ھونے کے ناطے نوکری کے حوالے سے فکر مند تھے.
ھم شام کو واک کرتے راستے میں مین چاندنی چوک سے قبل اسماعیلی جماعت خانہ واقع تھا.
اسماعیلی برادری کے کمیونٹی سنٹر میں شام کی تدریسی کلاسز بھی جاری رھتی.
ایک روز طارق بھائی نے اسعیملی جماعت خانے کے باھر نصب بیل بجائی اور استقبالیہ میں موجود شخص کو اپنا سی وی تھماتے ھوئے کہا کہ وہ قریب ھی رھتے ہیں اپنی تعلیمی قابلیت بتائی اور کمپیوٹر کلاسز کے لئے اپنی خدمات پیش کیں.
چند روز بعد انہیں اس ضمن میں ملازمت کی کال موصول ھوگئی.
پھر یہ جا وہ جا پاکستان میں مختلف ملازمتوں کے بعد وہ بحرین پہنچے پھر کینیڈا امریکہ اور پھر اقوام متحدہ تک اھم عہدوں تک پہنچے.
بد قسمتی سے جب ھم قائداعظم یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے تو ماں صرف 46 سال کی عمر میں چل بسیں.
وہ ھمارے اچھے دن دیکھنے سے محروم رھیں یہی ھماری زندگی کا سب سے بڑا قلق ھے.
طارق ملک کی کامیابی کا راز شبانہ روز محنت اور لگن ھے وہ زمانہ طالب علمی میں بہترین ڈبیٹر رھے انہوں نے کئ تقریری انعامات جیتے
فن تقریر اور تحریر سے وقت پڑنے پر اب بھی کام لیتے ہیں.
سرسید کالج طلبہ کے میگزین کے وہ ایڈیٹر رھے کالج میں ان کے استاد محترم عرفان صدیقی ڈاکٹر رشید امجد جلیل عالی اور دیگر تھے.
عملی زندگی میں بھی اپنے اساتذہ کا بیحد احترام کرتے ہیں. .
قائداعظم یونیورسٹی میں جب طارق ملک زیر تعلیم تھے ظفر اللہ خان اور طارق اخبارات میں کیمپس ڈائری لکھتے. مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی مہناز عزیز معروف گلوکار ابرار الحق طلبہ سیاست میں ان کے ساتھ فعال کردار ادا کرتیں آصف میمن عامر جبار مرحوم رانا ریاض عمران سعید راجہ مبین انیق ظفر جمیل بھٹی ریحان سعید اور نہ جانے کتنے دوست جو آج اعلئ عہدوں پر فائز ہیں ان دنوں طارق بھائی کے ساتھ زیر تعلیم تھے.
کرکٹ میں وہ وکٹ کیپر اور بیٹسمین تھے.
کالج یونیورسٹی میں ھم طلبہ سیاست میں بھی بھرپور حصہ لیتے
چوہدری نثار جب وزیر داخلہ تھے وہ بھی قائداعظم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے کچھ ایشوز پر اختلافات نے جنم لیا اور طارق ملک کو نامناسب انداز سے برطرف کردیا گیا
اب ایک جانب وزیر داخلہ ایف آئی اے پولیس عدالتی نظام دوسری طرف ھم سڑک چھاپ طارق ملک نے مزاحمت کا فیصلہ کیا.
تمام تر چھان بین کے باوجود حکومت کرپشن کا ایک کیس بھی طارق ملک کے خلاف قائم نہ کرسکی.
لیکن بے بنیاد جھوٹے مقدمات حکومتی اثر و رسوخ پر قائم کئے گئے.
اب ھماری صبح اور شامیں کورٹ کچہری بسر ھونے لگیں
شام کو وکلا کے دفاتر میں ھوتے
ماں کی دعاؤں کا سایہ قبر سے بھی شامل حال رھا والد محترم فتح محمد ملک کی دعا بھی معمولی نہ تھی
اور بے شک اللہ تعالیٰ کی ذات قرآن مجید میں کہتی ھے کہ میں لوگوں کی آزمائش کے لئے دن .پھیرتا ھوں.
ان دعاؤں اور مالک پروردگار کی برولت ملزم طارق ملک آج ایک بار پھر چئیرمین نادرا بن گئے.
طارق ملک کا وکیل بابر ستار ایڈووکیٹ اسلام آباد ھائکورٹ کے جسٹس بن گئے.
طارق ملک کا کیس سننے والے جج سہیل ناصر بھی حال ھی میں لاھور ھائکورٹ کے جسٹس مقرر ھوگئے.
بے شک مالک کائنات بے نیاز ھے جسے چاہے اپنی رحمتوں سے نواز دے.
نوٹ زیر نظر تصویر چند سال قبل آکسفورڈ برطانیہ کی ھے جہاں چھوٹے بھائی ڈاکٹر عدیل ملک کے ھاں ھم تینوں اکھٹے ھوئے.

20/03/2021

بیکن ہاؤس سکول سسٹم کی پراپرٹی کے کاروبار میں انٹری

اکمل سومرو لاہور

متوسط اور ایلیٹ طبقات کے والدین سے بھاری فیسیں وصول کر کے سالانہ اربوں روپے منافع کمایا جاتا ہے، تعلیم کے نام پر دھندہ کرنے والوں کو حکومت اور بیوروکریسی تحفظ دیتی ہے، میڈیا ہاؤسز ان سرمایہ کاروں کی رکھیلیں ہوتی ہیں بلکہ بیکن ہاؤس سسٹم کے مالکان خورشید قصوری صاحب تو خود حکومت رہے ہیں، اب بیکن ہاؤس دولت کمانے کی ہوس میں پراپرٹی کے کاروبار میں داخل ہو گیا ہے اور لاہور میں الفا ہومز کے نام سے پراجیکٹ لانچ کر دیا ہے، حکومت کبھی بھی ایسا قانون رائج نہیں کرے گی کہ تعلیمی ادارے چلانے والوں کا محاسبہ ہو سکے، وزراء، سیکرٹریز اپنے بچوں کی مفت یا آدھی فیس کے عوض پوری قوم کا سودا کر چھوڑتے ہیں۔ پراپرٹی کے کاروبار میں اشتہارات کا متن ہی یہی ہوتا ہے کہ سرمایہ کاری کا بہترین موقع گویا مقصد بے گھر افراد کو سستے گھر فراہم کرنے سے زیادہ منافع کمانے والے سرمایہ کار عزیز ہوتے ہیں۔ لوٹو لوٹو اس قوم کو لوٹو اس کے بنانے والوں نے بھی ملک کو لوٹنے کیلئے ہی تقسیم کرائی تھی۔ عالیشان گاڑیوں، بنگلوں کی بنیادوں کے نیچے لاکھوں انسانوں کی گردنوں کا خون ہوتا ہے۔ تین برس قبل مجھے لاہور کے نامور وکیل نے بیکن ہاؤس سکول کے سالانہ آمدن کی دستاویزات دکھائیں تو میں چونک گیا کہ ایک سال میں 18 ارب روپے سے زائد آمدن۔

02/03/2021

قصہ یوسف رضا گیلانی کے سینٹ انتخاب لڑنے کا
تحریر طاہر نعیم ملک
قمر زمان کائرہ سے ملاقات ھوئی تو دریافت کیا کہ سینٹ انتخابات میں کیا ھونے جارھا ھے کیا سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کامیاب ھوسکیں گے تو کائرہ کہنے لگے کہ گذشتہ شب گیلانی صاحب سے ملاقات ھوئی تو کہنے لگے کہ ان کے بطور سینٹر امیدوار بننے کے بعد عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے نمائندے اور مشیر خزانہ جو اراکین اسمبلی کو کسی خاطر میں نہ لاتے اب چاروں صوبوں کا دورہ کرکے اراکین اسمبلی سے ووٹ مانگ رھے.
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے ھوئے ہیں جنوبی پنجاب سے اراکین قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کررھے ہیں ان کے شکوہ و شکایات پر کان دھر رھے ہیں.
انتظامی آرڈر پاس کر رھے ہیں.
وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی میں اپنے چیمبر میں اراکین قومی اسمبلی کے لئے دستیاب ہیں ان کے وفود سے ملاقاتیں جاری ہیں.
یوسف رضا گیلانی نے اس پر کہا کہ وہ ابھی نو عمر تھے کہ 1970 کے انتخابات سے قبل پیپلزپارٹی کی جب بنیاد رکھی گئی تو کسی نے یہ شوشہ چھوڑ دیا کہ ذوالفقار علی بھٹو سانگھڑ سے پیر صاحب پگاڑا شریف کے مقابلے پر انتخابات لڑیں گے بس پھر کیا تھا ھلچل مچ گئی پیر صاحب پگاڑا شریف عوامی شخصیت نہ تھے سال میں ایک دفعہ مریدوں کو دیدار دیتے تو سونے چاندی اور نذرانے کے ڈھیر لگ جاتے.
اس خبر کے بعد پیر صاحب عوام میں جلوہ افروز ھوئے دکھائی دینے لگے اس پر بھٹو صاحب نے کہا چلو اور کچھ ہوا نہ ہوا چلو پیر صاحب کا عوام میں دیدار تو عام ہوا.
لہذا گیلانی صاحب کا بھی کہنا تھا کہ ھار جیت تو اللہ تعالیٰ کے ھاتھ میں ھے انسان کا کام کوشش کرنا ہے لیکن اسی بہانے اراکین اسمبلی کو حفیظ شیخ اور وزیر اعظم عمران خان کا دیدار تو نصیب ہوا.

23/02/2021

اسلام آباد کا مشہور روٹس اسکول

08/02/2021

The Chinese People's Liberation Army (PLA) delivered a batch of COVID-19 vaccines to the Pakistani military on Nur Khan air base. Major General Chen Wenrong, Defence Attaché of Chinese Embassy handed
over these vaccines to the Pakistan army.

Pic by : ISPR

07/02/2021
28/12/2020

‏چین نے پاکستان کے ہزاروں طلبہ کے لیے خصوصی سکالر شپ پروگرام جاری کر دیا ہے سکالرشپ پروگرام کی تفصیلات اور اپلائی کرنے کے لیے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ویب سائیٹ پر وزٹ کریں

17/12/2020
Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


House No 445-C, Street 94, G-11/3
Islamabad
44000