Asma Huda

Asma Huda Assalaamu Alaikum

This is the only original and persona Page created by myself

Follow it through this link and share your family:
(1)

30/07/2026

✒️ علم وہ جو عمل میں ڈھل جائے

الحمدللہ! آج استاذہ محترمہ کے درس سے یہ بات دل میں اتری کہ اصل علم وہ نہیں جو صرف ذہن میں محفوظ ہو، بلکہ وہ ہے جو انسان کے کردار، اخلاق اور اعمال میں نظر آئے۔ یہی علمِ نافع ہے، جو انسان کو اللہ کے قریب کرے، آخرت کی فکر دے اور زندگی کا رخ بدل دے۔

استاذہ نے توجہ دلائی کہ ہر علم نفع بخش نہیں ہوتا۔ اگر علم انسان کو اللہ کی اطاعت، عاجزی اور عمل کی طرف نہ لے جائے تو وہ اس کے لیے حجت بن سکتا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ کے دور میں ابوالحکم کہلانے والا شخص، حق کو جاننے کے باوجود اس پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ابوجہل کہلایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل عزت علم کے نام سے نہیں بلکہ اس پر عمل کرنے سے ملتی ہے۔

✨ علمِ نافع کے لیے محنت اور جدوجہد بھی ضروری ہے۔ جس طرح دنیا کے کسی شعبے میں مہارت حاصل کرنے کے لیے وقت، محنت اور قربانی درکار ہوتی ہے، اسی طرح دین کا علم بھی مسلسل کوشش، استقامت اور اخلاص مانگتا ہے۔

🌸 استاذہ کی چند خوبصورت نصیحتیں:

▫️ علم حاصل کرنے کے لیے کوئی عمر کی قید نہیں۔ عورت ہو یا مرد، جوان ہو یا بزرگ، زندگی بھر علم سیکھتے رہنا چاہیے۔

▫️ آج کے دور میں اللہ نے علم کے بے شمار ذرائع عطا کیے ہیں، انہیں غنیمت جان کر اپنی استطاعت کے مطابق فائدہ اٹھانا چاہیے۔

▫️ نفع بخش علم وہ ہے جو اللہ سے تعلق مضبوط کرے، عمل کی توفیق دے، عاجزی پیدا کرے اور دوسروں تک بھی پہنچے۔

🌱 کرنے کے کام

✅ روزانہ قرآن اور دینی علم کے لیے کچھ وقت ضرور نکالیں۔

✅ جو بات سیکھیں، سب سے پہلے اپنی زندگی میں اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔

✅ علم حاصل کرنے کے ہر جائز ذریعے سے فائدہ اٹھائیں اور سیکھنے کا سفر کبھی نہ روکیں۔

✅ اپنے علم کو دوسروں تک پہنچانے کی فکر کریں تاکہ یہ ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بن جائے۔

✅ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے علمِ نافع اور اس پر عمل کی توفیق مانگتے رہیں۔

📿 اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا عِلْمًا نَافِعًا، وَعَمَلًا صَالِحًا، وَإِخْلَاصًا فِي الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ، وَاجْعَلْ مَا نَتَعَلَّمُهُ حُجَّةً لَنَا لَا عَلَيْنَا۔ آمین۔

🎙️ استاذہ محترمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے لیکچر سے ماخوذ

📍 Venue:
NurulQuran Institute
Næringsvein 26, 4th Floor
1067
Oslo
Norway
موضوع : علم کے فائدے
✍️ منیرہ ضیاء
📆 29 جولائی 2026

30/07/2026

قرآن مجید سے محبت اور اس کا ادب

آج کل کی تیز رفتار زندگی میں کچھ دیر رک کر ہمیں یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ہم قرآن مجید سے کتنی محبت اور کتنا اس کا ادب کرتے ہیں؟ اس سے ہمارا کیسا تعلق ہے؟
تجوید: ایک کورس نہیں ادب ہے ان حروف کا ان کی ادایگی و صفات کا، سنت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طریقہ کا جس طرح وہ قرآن پڑھتے جس طرح قرآن مجید نازل کیا گیا اور یہ ایک امانت ہے۔ تاکہ غلط ادایگی سے معنی تبدیل نہ ہوں۔
قرآت: پہلی وحی اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ قرآن کریم کو رب کے نام سے پڑھنے کا حکم جس نے پیدا کیا۔ قرآت کا ایک مطلب بار بار دہرانا ہے۔
ترتيل: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ایک واضح ادایگی اور رپط کے ساتھ نازل فرمایا ہے ایک ترتیل ایک بہاؤ flow کے ساتھ تاکہ ہم اسے سمجھیں دل مضبوط ہوں قرار پکڑیں۔
..كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ ۖ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا
وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا
اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے ایک کیفیت کے ساتھ تاکہ اپنے اور دوسروں کے دلوں پر اثر ہو۔
تلاوت: الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ به ۔۔. اس میں قرآن مجید کے تمام حقوق کے بات ہے کہ سمجھ کر تلاوت کی جائے، فہم کے لیے بار بار پلٹا جائے اور اس پر عمل کیا جائے ۔علماء کرام کہتے ہیں کہ تلاوت ہمیشہ عربی text کی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ کلام اللہ ہے۔ باقی تراجم ہیں۔ قرآن مجید کے Arabic text کو ہم اتنا ضرور سمجھ جائیں کہ اس کی تلاوت کریں تو سمجھ آ جائے اور عمل میں ڈھل جائے ورنہ اگر کلام کی سمجھ نہ ہو تو کیا تعلق ہوگا ؟کیا معرفت کیا محبت ہوگی رب تعالیٰ سے؟ اور کیا ادب ہوگا اس عظیم ہستی کے عظیم کلام کا۔ اس کے تلاوت کے دوران مجھے ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد آتی ہے ،اس کے ہر حرف پڑھنے پر دس نیکیوں کا ثواب ہے۔ (مفہوم) اور قیامت کے دن انسان ایک ایک نیکی کو ترسے گا.
قران مجید کو دوسروں سے سننا:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے انہوں نے صحابہ کرام رضی الله عنہم سے قرآن كريم سنا اور یہ جبرئیل علیہ السلام کی سنت بھی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دور کرتے صحابہ کرام ایک دوسرے کو سنتے صحابہ کرام ایک دوسرے کو سکھاتے۔
اس کو غور اور خاموشی سے سننے سے اللہ کی رحمت ملتی ہے جو کہ بہت بڑی چیز ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ کی رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں اپنی رحمت کا سایہ میں رکھے۔
حفظ: لوگ پوچھتے ہیں کہ حفظ کیوں کریں؟ اتنا مشکل بھی ہے اور پھر بھولنے کا ڈر اور ہماری طرز زندگی ۔۔ ضروری بھی نہیں۔
اللہ کی توفیق سے کچھ کام فرض سے ہٹ کر کیے جاتے ہیں بس محبت میں، بس ادب میں اور اس سے بہتر کوئی چیز ہے ہی نہیں جس کو دل میں محفوظ کیا جائے۔۔ قُلْ بِفَضْل الله وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ. ہم وہ منازل بھول جاتے ہیں جو اس کے ذریعے آخرت میں ملنے کا وعدہ ہے۔
تدبر:۔ یہ بہت ضروری ہے اپنے رب کی پہچان کے لیے،اللہ تعالی نے اس کے بارے میں خود فرمایا کہ کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں۔ کرتے؟
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا
اس کی آیات میں غور و فکر کرنا بے حد ضروری ہے كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ.
اگر ہم کسی چیز کو جانتے نہیں ہیں تو اس سے پہچان کیا ہوگی؟ نہ اس کی پہچان نہ اس کے احکامات کی پہچان؟ نہ دنیا کی نہ آخرت کی ۔۔
عمل: اس کا پڑھنا، یاد کرنا دہرانا سمجھنا اس کے احکامات پر عمل کرنا (اور یہ مطلوب ہے) دوسروں تک پہنچانا اور اس میں
اعمال قلوب ، اعمال لسان اعمال جواح سب داخل ہیں۔
یہ اعمال درست ہوں گے تو باقی اعمال بھی درست ہوجایں گے دوسروں کے ساتھ معاملات معاشی ہوں یا معاشرتی ہو یا ،گھریلو زندگی ہو۔ اپنی اصلاح ہو یا دوسروں کی اصلاح۔ زندگی قرآن و سنت کے مطابق ہوجاے ہمارے اعمال بہتر ہوجایں رب تعالیٰ کی خاطر ہوجایں اسی میں نجات ہے۔
وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ.

اللهم اجعلنا من أهل القرآن.

29/07/2026

ایک سوال
قرآن کی تکرار… یا میرے رب کی پکار؟

الہدیٰ کے پُرسکون کلاس روم میں، سامنے کھلے سپارے اور سورۂ الحجر کی گونجتی آواز کے ساتھ تفسیر جاری تھی۔ ہر آیت دل کے کسی نہ کسی گوشے میں اترتی محسوس ہو رہی تھی۔ پھر گزشتہ قوموں کے واقعات اور اُن کے انجام کا ذکر آیا (61–84)، تو قرآن کی حکمت سے ناآشنا ذہن میں ایک معصوم سا سوال جاگا:

“کیا قرآنِ مجید میں بس یہی باتیں دہرائی جاتی ہیں؟”

یہ تو میں پہلے بھی پڑھ چکی تھی۔ صرف گزشتہ قوموں کے واقعات ہی نہیں، بہت سی نصیحتیں، مثالیں اور تنبیہات بھی بار بار سامنے آ چکی تھیں۔

یہ محض لمحاتی خیال نہ تھا، بلکہ ایک فکری کشمکش کی شروعات تھی۔ میری نگاہ ظاہری “تکرار” پر جا کر ٹھہر گئی تھی اور میں حکمتِ الٰہی سے محروم تھی۔ جہاں زندگی کو سنوارنے اور بیدار کرنے کا سامان تھا، وہاں میں صرف “یکسانیت” تلاش کر رہی تھی۔ جسے میں محض ایک دہرایا ہوا بیان سمجھ بیٹھی تھی، وہ دراصل میرے رب کی تربیت کا ایک خاص انداز تھا۔

چند دن بعد، تفسیر کے دوران، سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (89) سامنے آئی:
“اور یقیناً ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثالیں مختلف انداز سے بیان کر دی ہیں، مگر اکثر لوگوں نے انکار ہی کیا۔”

یوں لگا جیسے میرے رب نے میرے ذہن میں اٹھنے والے ایک اَن کہے سوال کا جواب خود عطا کر دیا ہو۔

اسی لمحے ایک عظیم حقیقت کا انکشاف ہوا:
قرآن میں تکرار قصوں یا واقعات کی نہیں، بلکہ رب کی رحمت اور شفقت کی ہے۔

اللہ تعالیٰ گزشتہ قوموں کا ذکر اس لیے بار بار نہیں کرتا کہ اُن کی تاریخ ذہن نشین ہو جائے، بلکہ اس لیے کہ اُن کا انجام میری تقدیر نہ بن جائے۔ وہ مجھے ہر بار متنبہ کرتا ہے کہ اپنے نفس کا محاسبہ کر لوں، اپنی غفلت کو پہچان لوں، اور وقت باقی ہے تو پلٹ آؤں؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ جن راستوں نے اُنہیں ہلاکت تک پہنچایا، میں بھی انہی راہوں کی مسافر بن جاؤں۔

تب مجھے سمجھ آیا۔ قرآن قصے نہیں دہراتا، وہ دلوں کو جگاتا ہے۔ ایک ہی حقیقت ہر بار نئے انداز سے سامنے آتی ہے، کیونکہ بدلنے والی آیت نہیں ہوتی، بدلنے والا انسان اور اس کی کیفیات ہوتی ہیں۔ کبھی دل غفلت میں ڈوبا ہوتا ہے، کبھی سوالوں میں الجھا، اور کبھی ہدایت کو قبول کرنے کے لیے آمادہ۔

اور شاید یہی قرآن کا اعجاز ہے۔
وہ ایک ہی آیت کو دہراتا نہیں، بلکہ ہر بار میرے دل کے کسی نئے دریچے پر دستک دیتا ہے۔ ہر اعادہ ایک نئی مہلت ہے، ہر نصیحت ایک نئی امید، اور ہر آیت رب کے حضور واپسی کی ایک نئی دعوت…

اس سے پہلے کہ وقت کا دائرہ مکمل ہو جائے۔

انیلہ الفت
گروپ 02

29/07/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بہت پیاری اور محترم استاذہ!💐

اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کی ان مسلسل کوششوں، سفر اور دعوتِ قرآن کی خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اور جس اخلاص اور حکمت کے ساتھ آپ علمِ قرآن کو آگے پہنچا رہی ہیں، ہمیں بھی اس علم کو سیکھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کا حق ادا کرتے ہوئے آگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین🤲

آج کے درس نے ایک نہایت اہم اصول سمجھایا کہ علم کا اصل مقصد انسان کو ہدایت تک پہنچانا ہے۔ اسی لیے قرآن کا حق صرف تلاوت نہیں، بلکہ فہم، عمل اور پھر اسے دوسروں تک پہنچانا بھی ہے۔ اگر علم انسان کے کردار، ترجیحات اور فیصلوں میں تبدیلی پیدا نہ کرے تو وہ اپنے اصل مقصد کو پورا نہیں کرتا۔

یہاں ہر طالبِ علمِ قرآن، اور خصوصاً ہر والدین کو اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ اگر ہم برسوں سے قرآن پڑھ رہے ہیں تو ہماری زندگیوں میں قرآن کی ہدایت کتنی نمایاں ہے؟ اگر قرآن نور، شفا اور ہدایت ہے تو پھر ہمارے گھروں میں بے سکونی، ہماری نسلوں میں فکری انتشار، اور ہمارے بچوں کا قرآن سے تعلق کیوں کمزور ہوتا جا رہا ہے؟

شاید اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو پڑھنے کی کتاب تو بنایا، مگر جینے کی کتاب کم بنایا۔ ہم اس کی تلاوت ضرور کرتے ہیں، لیکن کیا ہمارے فیصلے، ہمارے اخلاق، ہماری ترجیحات اور ہمارے تعلقات بھی قرآن سے رہنمائی لیتے ہیں؟ کیا ہمارے بچے ہماری زندگی میں قرآن کی عملی جھلک دیکھتے ہیں؟

آج یورپ میں رہنے والے والدین کی سب سے بڑی آزمائش صرف بچوں کو دین سکھانا نہیں، بلکہ ایک ایسے ماحول میں ان کی فکر، شناخت اور ایمان کی حفاظت کرنا ہے جہاں ہر روز مختلف نظریات ان کی شخصیت کو تشکیل دے رہے ہیں۔ اگر اس خلا کو قرآن کی ہدایت پُر نہیں کرے گی تو دنیا کے نظریات ضرور اسے پُر کریں گے۔

اس لیے شاید ہمیں بچوں سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔ کیا قرآن نے میری سوچ کو بدلا ہے؟ کیا میرا علم میرے عمل میں نظر آتا ہے؟ کیا میرے بچے میرے کردار میں قرآن کی روشنی دیکھتے ہیں؟ کیونکہ بچے ہماری نصیحت سے زیادہ ہماری زندگی سے سیکھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اس نے ہمیں ایسے اہلِ علم کی صحبت عطا فرمائی جو صرف علم نہیں دیتے، بلکہ قرآن کے ساتھ تدبر، محاسبہ اور عملی تعلق پیدا کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ دعا ہے کہ استاذہ کے یہ فکر انگیز دروس ہمارے لیے صرف معلومات میں اضافے کا ذریعہ نہ ہوں، بلکہ ہمارے دلوں کی اصلاح، ہماری فکر کی تعمیر، ہمارے گھروں کی آبادکاری، اور ہماری آنے والی نسلوں کی ہدایت کا ذریعہ بن جائیں۔

علم وہی نافع ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرے، اس کے عمل کو سنوارے، اس کے دل میں خشیت پیدا کرے، اور پھر اس کی ذات کو دوسروں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنا دے۔ آمین🤲
شازیہ حسین
Chippenham,UK
26 جولائی 2006

29/07/2026

اور سیکھا میں نے اپنی استاذہ سے
سیریز: 17

استاذہ کی رہنمائی پر جب میں سوچتی تو مجھے اپنے آنے والے بچے کی تربیت کی فکر ہونے لگے۔ اس کے لیے میں نے سوچا کہ اب میں بہت سی وجوہات کی وجہ سے نہ کسی ادارے میں پڑھ سکتی ہوں نہ آن لائن کر سکتی ہوں، تو میں نے سوچا ہے کہ میں عربی سیکھوں تاکہ میں پھر عربی میں قرآن کو سمجھ سکوں اور اس کا ترجمہ مجھے خود بخود آ جائے۔ یہ میرے دماغ میں ایک بات آئی، جس کی میں نے انٹرنیٹ پر کافی سرچ کی، عربی کورسز کرنے کے لیے۔

اس سے متعلق میں نے استاذہ سے مشورہ مانگا کہ کیا میں عربی کورسز کروں؟ اور میں نے آج عربی کے کورسز سے متعلق کچھ معلومات حاصل کر رہی تھی تو آپ اس بارے میں کیا کہتی ہیں؟ تو پیاری استاذہ نے کہا:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔دو تین چیزیں ہیں۔ایک تو یہ کہ ایک وقت میں ایک ہی کام کرنا چاہیے۔قرآن پر اتنا فوکس کریں کہ
100% کو ٹارگٹ کریں کہ میں نے %100 ترجمہ اور تفسیر سمجھنی ہے۔کوئی ایک آیت بھی ایسی نہ ہو جس کی مجھے سمجھ نہ آئے۔یہ ٹارگٹ جب تک اچیو نہیں ہوتا، تو اِدھر اُدھر اور کورسز کو جوائن کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو "ہم اور ہمارے بچے" سیریز سننا شروع کرنی چاہیے۔ اگر آپ نے پہلے بھی سنی ہے تو دوبارہ سنیں، کیونکہ آپ کو اب بچے کی تربیت کی فکر ہونی چاہیے اور اس کو look after کرنے کی۔اب اپنی ذات سے آپ باہر نکلیں۔ بہت پڑھ لیا آپ نے، جو پڑھنا تھا۔ تھوڑا تھوڑا ساتھ پڑھنا جاری رکھیں اور بچے کے اوپر توجہ کریں کہ اس کی صحیح تربیت ہو۔
اور تیسری بات یہ ہے کہ اب آپ چونکہ ماں بننے والی ہیں تو اپنا بچپنا جو ہے، اس کو کسی طرح ختم کریں۔ جب بات کریں تو mature انداز میں کریں۔ بچہ بن کے نہ کیا کریں، کیونکہ اچھا بھی نہیں لگتا اور جب انسان بچے کے ساتھ بات کرتا ہے تو جب تک اس کی آواز میں رعب نہ ہو اور جب تک ایک وقار نہ ہو، تو بچے ماں کو کبھی serious بھی نہیں لیتے اور اس کی سنتے بھی نہیں ہیں۔
تو اس لیے قرآن پر فوکس کریں۔ اسی کو حفظ کریں، اسی کا ترجمہ کریں، سب کچھ قرآن کے اوپر، اور پھر عربی سیکھنے کے لیے weekly فقہ القلوب کی کلاس جوائن کر لیں، فی الحال اتنا کافی ہے، اور باقی "ہم اور ہمارے بچے" سننا شروع کریں۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

استاذہ کی نصیحت اور تربیت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ بار بار اس طرف بھی توجہ دلاتی کہ ایک کام کے بعد دوسرا کام کرنا چاہیے، اور اس میں مجھے وہ دعا کا بھی کہتی ہیں، اور بار بار قرآن کی طرف میری توجہ دلانا، آخر میں خود سوچنے لگی کہ قرآن واقعی اتنا اہم ہے۔
استاذہ نے مجھے وجہ بھی بتائی کہ مجھے اپنا بچپنا کیوں دور کرنا چاہیے۔ عام طور پر ہم حکم چلاتے ہیں وجہ نہیں بتاتے جس کی وجہ سے نوجوان نسل بڑوں کی اکثر باتوں سے متنفر ہو جاتی ہے۔
کیونکہ ان کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہم یہ کام کیوں کریں تو کسی بھی کام کا *کیوں* بچوں کو یا جن کی بھی ہم تربیت کریں ان کو واضح کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

استاذہ نے جب میری اس طرح توجہ دلائی کہ میں "ہم اور ہمارے بچے" سیریز سنوں جو میں نے پہلے بھی لیکچر تھوڑے دیکھے تھے، لیکن اب میرے ذہن میں ایک اور بات یہ آئی کہ میں بچے کے بارے میں تو پڑھ لوں گی لیکن شاید میں اس کی اس طرح سے تربیت نہ کر سکوں، اگر میری اپنی تربیت نہ ہوئی ہو تو مجھے اپنی تربیت کی فکر پڑنے لگی کہ پہلے میں خود ٹھیک ہوں، کیونکہ میرا انداز بہت بچگانہ تھا اور مزاج میں جو چیزیں ہونی چاہیے، ایک ماں کے اندر تحمل، صبر، اس کی میرے اندر بہت سی کمیاں تھیں، تو میں سوچنے لگی کہ اپنی تربیت کیسے کروں۔

اس کا اظہار میں نے استاذہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ دعاؤں میں کثرت کریں، اللہ سے مانگیں۔
مجھے پتہ نہیں کیوں غصہ آ گیا۔

میں نے کہا کہ آپ کے پاس ہر وقت جواب یہ ہوتا ہے کہ میں دعا کروں اور دعا مانگوں۔ آپ کو مسئلہ کیا ہے؟ آپ نے بس ایک ہی بات کہنی ہوتی ہے کہ دعا کرو۔ دعا تو میں کرتی ہوں، لیکن دعا کے علاوہ مجھے کوئی حل بتائیں جو میں اپنے آپ کے ساتھ کر سکوں، جس کی وجہ سے میری تربیت ہو سکے۔

استاذہ نے مجھے جواب دینے میں کچھ دیر کر دی۔ میں نے کہا، آپ جواب کیوں نہیں دیتیں؟ مجھے جواب دیں۔ میں نے آپ سے اپنی کوئی بات پوچھی ہے، جواب دیں، اور مجھے اب آپ نے یہ نہیں کہنا کہ ہر بات کا حل دعا ہوتا ہے۔ دعا کے علاوہ بھی کچھ ہوتا ہے۔

استاذہ نے اس دن میرے کئی میسجز اور انتہائی تنگ کرنے کے بعد، انتہائی تحمل اور برداشت کے ساتھ کہا۔
جاری ہے...

ام عبد اللہ

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Abdul Manan Khan, Shugufta Shah, Imran Ahmed, Naveed Iqba...
29/07/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Abdul Manan Khan, Shugufta Shah, Imran Ahmed, Naveed Iqbal, Luqman Saeed, Muhammad Younis Dhawa, Akhlaq Ahmed, Nasreen Yasin, Asif Yaqoob, Akbar Jan, Sadaf Ali Ali, Rabia Goraya, Diya Bilal, Razia Sheikh, Sana Irfan, Anjum Navida, Reshma Naushad Hussain, Amatullah Rahmath, Shafique Rehman, Zafar Yunus, Nasir Mehmood, Ambreen Shahid, Saima Haroon, Aneela Khan, Azhad Shaikh, Muhammad Rashid Majeed Choudhary, Asma Barkat, Molvi Munir Khoso, Ata Ul Bari Nazki, Chand Bibi, Tanvir Marwat, Zeenat Ahmed, Nadeem Mohammad, Tanweer Md Tanweer, Muhammad Qtr, Mohammad Fayyaj, Saima Adnan, Jawairia Faisal, Momal Cool, Raja Aqeel Dhanyal, Javed Iqbal, Nawaz Shah, Ali Ahmed, Sadia Mustafa, Naz Gee, Shazia Sajjad, Raheela Naz, Najma Iqbal, Rahila Amjad, Ajeed Ullah

28/07/2026

سبق نمبر 12
فعل ماضی
میم سلمہ عثمانی صاحبہ
لائیو کلاس آسان قرآنی عریبک گرائمر و لینگویج کورس

27/07/2026

آج میم سلمہ عثمانی صاحبہ کی کلاس ہوگی سب بہنیں لازمی لائیو کلاس کا حصہ بنیں

Address

Islamabad

00666

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asma Huda posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Asma Huda:

Shortcuts

  • Want your school to be the top-listed School/college?

Share