ٌآپ کے مسائل اور ان کا شرعی حل
مستند مفتیانِ عظام کے فتاوٰی جات ،جدید فقھی مسائل اور ?
مستند مفتیانِ عظام کے فتاوٰی جات ،جدید فقھی مسائل اور کوئی بھی مسئلہ معلوم کرنے کے لئے اس پیج کو لائیک کریں۔ جزاک اللہ خیر
`کیا جن لوگوں کے اولاد نہ ہوتی ہو اور کوئی امید بھی نہ ہو تو کیا وہ ٹیسٹ ٹیوب سے اولاد حاصل کر سکتے ہیں؟ اگر بیٹیاں ہوں تو کیا ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے بیٹا حاصل کر سکتے ہیں؟`
*الجواب:-*
اولاد نعمتِ خداوندی ہے ، ہر شخص کے دل میں اس نعمت کی تمنا ہوتی ہے ، لیکن اس سلسلہ میں بندہ عطاءِ خداوندی کا پابند ہے،بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ یہ نعمت دے دیتے ہیں اور بعض کو اس سے محروم کردیتے ہیں ۔ قرآنِ کریم میں ہے :﴿ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ الذُّكُوْر... اِنَّه عَلِیْم قَدِیْر﴾ [الشوریٰ،آیت :49،50]
ترجمہ: وہ (اللہ تعالیٰ) عطا کرتاہے جسے چاہتاہے لڑکیاں، اور دیتاہے جس کو چاہتاہے لڑکے، یا لڑکے لڑکیاں ملاکر (دونوں) دیتاہے ان کو، اور جس کو چاہتاہے بانجھ بنادیتاہے، بلاشبہ وہ علم والا قدرت والا ہے۔ اس نعمت کے حصول کے لیے مردکواللہ تعالیٰ نے چارعورتوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنے کی اجازت دی ہے، لہٰذا اگر بیوی میں کوئی ایسی بیماری ہے جوولادت کے لیے مانع ہے اور دوسری شادی کے اخراجات اور دونوں بیویوں کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ان میں برابری کی قدرت بھی ہے تو دوسری شادی کرلی جائے۔
ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی پیدائش غیرفطری طریقہ ہے،جس میں شوہرکے مادہ منویہ اوراس کے جرثومےغیر فطری طریقے مثلاً جلق وغیرہ کے ذریعے حاصل کرکے بیوی کے رحم میں غیرفطری طریقے سے ڈالے جاتے ہیں، مردکامادہ منویہ اورعورت کابیضہ ملاکرٹیوب میں کچھ مدت کے لیے رکھ لیے جاتے ہیں اور پھرانجکشن کے ذریعے رحم میں پہنچا دیے جاتے ہیں؛ چوں کہ اس کے پہنچانے کا عمل عموماً اجنبی مرد یا عورت سرانجام دیتے ہیں جوکہ شرعاً جائزنہیں ہے؛ اس لیے اس سے اجتناب لازمی ہے ۔
اگر شوہر کا مادہ منویہ نکالنے اور بیوی کے رحم میں داخل کرنے کے عمل میں کسی اجنبی مرداور عورت کا دخل نہ ہو، یعنی مادہ منویہ بھی شوہر کا ہی ہو اور اسی کی بیوی کے رحم میں ڈالا جائے اور یہ کام شوہر اور بیوی خودانجام دیں تو اس کی گنجائش ہے، لیکن اگر مادہ منویہ شوہر کے علاوہ کسی اور کا ہو، یا شوہر کے مادہ منویہ کوغیرفطری طریقہ سے نکالنے یا عورت کے رحم میں داخل کرنے میں تیسرے مردیاعورت کا عمل دخل ہوتاہے اور اجنبی مردیاعورت کے سامنے ستر کھولنے یا چھونے کی ضرورت پڑتی ہے تو اس طرح کرنے کی شرعاً اجازت نہیں؛ کیوں کہ اولاد (بیٹا یا بیٹی )کے حصول کے لیے کئی گناہوں کا ارتکاب جائز نہیں ۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم......!
“کیا نماز جمعہ واجب نہیں رہی”
آجکل غامدی صاحب کی ایک ویڈیو خوب وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ یہ کہتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں کہ “جمعہ کی نماز ریاست کا حق ہے، ریاست کے نمائندے ہی جمعہ کی نماز کی امامت کرا سکتے ہیں اور خطبہ دے سکتے ہیں۔ علماء کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ منبروں پر قبضہ کریں ان کا ایسا کرنا دراصل ریاست کے خلاف بغاوت کے زمرے میں آتا ہے”۔ یہ کہہ کر غامدی صاحب نے ہندوستان پاکستان بنگلہ دیش اور دنیا کے بیشتر ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کی جمعہ کی نماز معطل کر دی ہے۔
دراصل مسئلہ جمعہ کی نماز نہیں ہے، بلکہ علماء کی قیادت ہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ علماء کی قیادت مدرسوں اور مساجد کے منبروں سے قائم ہے۔ اس لیے اولا تو انہوں نے مدارس کو دہشت گردی کے مراکز کے طور پر پیش کیا، دوسرے نمبر پر یہ فتوی داغ دیا کہ علماء کو جمعہ کی نماز پڑھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ فطری طور پر یہ سوال ہونا تھا کہ حکومت کے نمائندے تو نماز پڑھاتے نہیں ہیں اور علماء بھی نہ پڑھائیں تو جمعہ کی نماز کیسے قائم ہوگی؟ اس کے لیے غامدی صاحب نے جمعہ کی نماز ہی کینسل کردی۔ وہ کہتے ہیں کہ “جمعہ کی نماز دراصل ظہر کی نماز کا بدل ہے اگر بدل قائم نہیں کیا جا سکتا ہو، تو حکم اصل کی طرف لوٹ جائے گا”۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ غامدی صاحب الفاظ بڑی احتیاط سے استعمال کرتے ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ اگر میں جمعہ کی نماز کو صرف ریاست کا حق بتاؤں گا، تو یہ سوال کھڑا ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے مدینہ منورہ میں جمعہ کی نماز کیوں قائم ہوئی جبکہ وہاں کوئی اسلامی ریاست نہیں تھی۔ اس اعتراض سے بچنے کے لیے انہوں نے جن الفاظ کا انتخاب کیا، ان پر جتنی داد دی جائے اتنی کم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مدینے میں چونکہ اسلامی ریاست کی “بنیاد” پڑ چکی تھی اس لیے مسلمانوں نے مدینہ میں جمعہ کی نماز ادا کرنی شروع کر دی تھی۔
یہ استدلال بھی بڑا عجیب ہے۔ ابھی ریاست قائم نہیں ہوئی ہے، بلکہ صرف بنیاد پڑی ہے لیکن ریاست نے اپنا کام کرنا پہلے ہی شروع کر دیا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ میرے مکان کی بنیادیں بن گئی ہیں، لہذا میں نے اپنے مکان میں رہنا شروع کردیا ہے کیونکہ مکان تو بننا ہی ہے۔
جمعہ کی نماز کو ریاست کا حق قرار دے کر اس نماز کو کینسل کرانے کی کوشش میں، غامدی صاحب یہ بھول گئے کہ وہ تو اسلامی ریاست کے خلاف ہیں۔ ایک ویڈیو میں وہ یہ کہتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مدینہ کی ریاست کا قائم کرنا ضروری نہیں تھا، وہ تو اتفاقا قائم ہوگئی۔ ظاہر ہے کہ جب مدینے کی ریاست ہی ایک اتفاقی حادثہ قرار پائی تو پھر مسلمانوں کے لیے اسلامی ریاست کا تصور ہی ختم ہو گیا۔ تو کیا غامدی صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جمعہ کی نماز قائم کرنا ایک سیکیولر ریاست کے سربراہ کی ذمہ داری ہے؟
اپنے استدلال کو تقویت دینے کے لیے غامدی صاحب اپنے مخاطبین سے پوچھتے ہیں کہ “کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ امام ابو حنیفہ نے یا امام شافعی نے یا امام احمد ابن حنبل نے جمعہ کی نماز پڑھائی ہو؟” کیا یہ مضحکہ خیز نہیں ہے کہ ایک طرف تو غامدی صاحب کے نزدیک حدیث حجت نہیں ہے، فقہ اور ائمہ کی تقلید کی تو کیا حیثیت ہے۔ لیکن جہاں اپنا مطلب نکلتا ہو، وہاں ائمہ کی تقلید بھی موصوف کے یہاں گوارا ہے۔
غامدی صاحب کے اصول کے مطابق اگر استدلال صرف قرآن سے ہی کرنا ہے اور سنت کو اسی صورت میں تسلیم کیا جاسکتا ہے جب وہ ان کی عقل کے مطابق قرآن کے معارض نہ ہو، تو سورہ جمعہ کی آیت جس میں عام مومنین کو جمعہ کی نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے کس بنیاد پر ترک کیا گیا؟
غامدی صاحب نے علماء کو منبروں سے دور رکھنے کی کوشش میں دو اصطلاحوں کے درمیان بھی خلط ملط کیا ہے۔ ان کے مطابق جمعہ کی نماز قائم کرنا ریاست کا حق ہے۔ انہوں نے اسلامی ریاست کی ذمہ داری کو ریاست کا حق قرار دے دیا۔ حالانکہ ذمہ داری اور حقوق دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اسلامی فقہ کے مطابق جمعہ کی نماز کا قیام ریاست کی ذمہ داری ہے، یہ ریاست کا حق نہیں ہے۔ یہ عوام کا حق ہے اگر اس کو ریاست پورا کرنے کی استطاعت رکھتی ہے تو یہ اسی کی ذمہ داری ہے، لیکن اگر ریاست یہ ذمہ داری نہ اٹھا سکے، تو دوسرے ذرائع سے عوام اپنا حق حاصل کریں گے۔
ہمارا استدلال واضح ہے۔ ہم سورہ جمعہ کو کسی بھی صورت میں معطل تصور نہیں کرتے ہیں۔ جہاں ریاست جمعہ کی نماز قائم کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کریگی، وہاں مسلمانوں کی جمعیت اس ذمہ داری کو نبھائے گی۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ مدینہ کی ریاست قائم ہونے سے پہلے حضرت اسعد بن زرارہ نے جمعہ کی نماز قائم کی۔ دوسری روایت کے مطابق حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے بارہ لوگوں کے ساتھ مل کر جمعہ کی نماز قائم فرمائی۔ غامدی صاحب کو اگر علماء کے طبقے سے پریشانی ہے تو وہ اپنی پریشانی کے اظہار میں آزاد ہیں، لیکن انہیں چاہیے کہ وہ مسلمانوں کی عبادت سے کم ازکم کھلواڑ نہ کریں۔
کاپی۔۔۔۔
علامہ یاس ندیم الواجدی۔۔
07/06/2025
EID MUBARAK...
05/06/2025
Nimaaaz e EID sy pehly Qurbani karny ki mamaniyat....
05/06/2025
Yao mul Arfaah.
9 Zilhijjah
Friday.(Pakistan)
مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ سے رمضان المبارک کے روزے رکھنا ۔
اگر کسی نے رمضان المبارک کے شروع کے روزے مکے میں رکھے اور کچھ دن بعد پاکستان آگیا اور باقی روزے پاکستان میں رکھے تو اس طرح اس کے روزے اکتیس ہوگئے یہ اکتیسواں روزہ نفل ہوگا یا فرض؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کے لیے اکتیسواں روزہ رکھنا فرض نہیں ہے، اس لیے کہ قمری مہینہ تیس دن سے زیادہ کا نہیں ہوسکتا، البتہ دیگر روزہ داروں اور رمضان کے احترام میں یہ شخص بھی روزہ رکھ لے۔ (فتاوی محمودیہ 10/37۔روزہ کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا 257، فتاوی بینات 3/79)
واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں بعض علماءِ کرام کے نزدیک ایسے شخص کے حق میں اکتیسواں روزہ رکھنا شہودِ شہر کی وجہ سے فرض ہے، لہذا اختلاف سے بچنے کے لیے احتیاطاً روزہ رکھ لینا ہی بہترہے۔فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144008201847
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
ط
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
G. 9 Markaz
Islamabad
44000