Maulana Muhammad Sohail

Maulana Muhammad Sohail Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Maulana Muhammad Sohail, Education, Islamabad.

اس بچے کا نام عمر فاروق ہے اور والد کا نام دوست محمد خان ہے۔عمر فاروق 5 اپریل 2026 کو کراچی کے علاقے لانڈھی بھینس کالونی...
19/08/2026

اس بچے کا نام عمر فاروق ہے اور والد کا نام دوست محمد خان ہے۔
عمر فاروق 5 اپریل 2026 کو کراچی کے علاقے لانڈھی بھینس کالونی میں اپنے گھر سے نکلا تھا آج تک نہیں ملا ۔
عمر فاروق کے اہلخانہ دن رات اپنے 14 سالہ بچے کی تلاش میں مصروف ہیں لیکن کوئی سراغ نہیں مل رہا ۔ ماں باپ کی حالت بہت غیر ہوگئی ہے۔ بچے کی گم ہونے کے بعد سے ماں نے تاحال چین و سکون نہیں پایا ۔
تمام احباب اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں ۔ آپکا ایک شئیر عمر فاروق تک رسائی کا سبب بن سکتا ہے۔
برائے مہربانی کوئی بھی شخص اس بچے کے متعلق کچھ جانتا ہو تو برائے مہربانی نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔اگر عمر فاروق خود یہ پوسٹ پڑھے تو اس سے گزارش ہے کہ خدارا گھر لوٹ آو تمہیں کوئی کچھ نہیں کہےگا۔ سب بہت پریشان ہیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے اس نمبر پر رابطہ کریں
03162529829

19 Aug 2026

16 سال سے اپنوں کی منتظر ایک بیٹی۔۔۔!!یہ بچی، جس کا نام مریم اور والد کا نام عثمان بتایا جاتا ہے، سال 2009 میں  لاوارث ح...
18/08/2026

16 سال سے اپنوں کی منتظر ایک بیٹی۔۔۔!!

یہ بچی، جس کا نام مریم اور والد کا نام عثمان بتایا جاتا ہے، سال 2009 میں لاوارث حالت میں ملی تھی۔ اس وقت وہ بہت کم عمر تھی۔ بعد ازاں اسے ایک شیلٹر ہوم میں منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ آج بھی موجود ہے۔
زندگی کے کئی سال گزر گئے، لیکن مریم کے اہلِ خانہ کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ نہ جانے اس کی ماں کس حال میں ہوگی، اس کے بہن بھائی کہاں ہوں گے، اور آج بھی گھر والے اس کی واپسی کا منتظر ہونگے۔ (شہر شاید کراچی ہو لیکن یقینی نہیں ہے)۔
اگر آپ اس بچی کو پہچانتے ہیں یا اس کے خاندان کے بارے میں کوئی معلومات رکھتے ہیں تو براہِ کرم رابطہ کریں۔
آپ سب سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ ہوسکتا ہے آپ کی ایک شیئر برسوں سے بچھڑی ہوئی اس بیٹی کو اس کے اپنے خاندان سے ملا دے۔
اپنی بیٹی یا بہن سمجھ کر شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لیے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں

03162529829

17 Aug 2026

یہ دردوں کا درد ہے..... یہ غموں کا گھر ہے..... یہ آنسوؤں کا شہر ہے..... یہاں درد کا کوئی درماں نہیں..... یہاں کسی کا کوئ...
10/08/2026

یہ دردوں کا درد ہے..... یہ غموں کا گھر ہے..... یہ آنسوؤں کا شہر ہے..... یہاں درد کا کوئی درماں نہیں..... یہاں کسی کا کوئی پرساں نہیں.....
یہاں بچے بھی بڑے ہیں..... اور بڑے بھی بچے ہیں..... یہاں ننھے ہاتھ کھلونوں کے بجائے وزن ڈھوتے ہیں..... معصوم پھول کھیل کے میدانوں کے بجائے ملبے اور بھوک کے راستوں پر چلتے ہیں.....
یہاں کوئی بچہ اپنی ٹانگ کھو کر بھی زندگی کا بوجھ اپنے کندھے پر اٹھائے پھر رہا ہے..... وہ خود سہارے کا محتاج ہے..... مگر اپنے گھر والوں کے لیے سہارا بنا ہوا ہے.....
یہ غزہ کے بچے ہیں..... اپنے زخموں کو سہارا بنا کر چلنے والے..... یہ پانی کا کین نہیں..... یہ ایک بچے کے کندھے پر پوری جنگ کا بوجھ ہے..... یہ صرف ایک معذور بچہ نہیں ٓ..... یہ غزہ کی وہ تصویر ہے..... جس میں پوری انسانیت اپنی بے بسی دیکھ سکتی ہے۔

13 سال کی عمر میں بچھڑنے والا محب اللہ… 23  سال بعد بھی گھر والے منتظر ہیں!یہ تصویر محب اللہ کی ہے۔سال 2003 میں جب محب ا...
10/08/2026

13 سال کی عمر میں بچھڑنے والا محب اللہ…
23 سال بعد بھی گھر والے منتظر ہیں!
یہ تصویر محب اللہ کی ہے۔
سال 2003 میں جب محب اللہ کی عمر صرف 13 سال تھی، وہ اسلام آباد سے لاپتہ ہوگیا تھا۔ اُس وقت وہ اسلام آباد کے ایک مدرسے میں حفظِ قرآن کر رہا تھا۔

محب اللہ کے والد قاری عبداللہ مدنی مسجد، F-8 اسلام آباد کے امام تھے۔ چند سال قبل وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن اپنے بیٹے کی واپسی کی حسرت اپنے ساتھ لے گئے۔

محب اللہ کی والدہ حنیفہ بی بی آج بھی اپنے بیٹے کی راہ دیکھ رہی ہیں۔
اس کے بھائی وصی اللہ، منیب اللہ، امداد اللہ اور عباد اللہ اور بہنیں سلمیٰ، تسلیم، ام ہانی اور حبیبہ آج بھی اس امید کے ساتھ زندہ ہیں کہ ان کا بچھڑا ہوا بھائی ایک دن اچانک دروازے پر آ کھڑا ہوگا۔
آبائی تعلق: گاؤں بیڑ، ضلع بٹگرام۔۔۔ رہائش: F-8/2، اسلام آباد
گھر میں محب اللہ کی یہی ایک تصویر موجود ہے۔ تصویر وقت کے ساتھ سیاہ پڑ چکی ہے، مگر اس تصویر میں آج بھی اس کے گھر والوں کو امید کی ایک کرن نظر آتی ہے۔
ماں کی آنکھیں آج بھی دروازے پر لگی ہیں… شاید کبھی اس کا بیٹا واپس آ جائے۔
محب اللہ! اگر آپ یہ پوسٹ دیکھ رہے ہیں اور آپ دنیا میں کہیں بھی موجود ہیں، تو اپنی ماں کی بے قراری اور اپنے بہن بھائیوں کی برسوں کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے ہم سے رابطہ کریں۔
آپ کے گھر والے آج بھی آپ کے منتظر ہیں۔
اگر محب اللہ تک یہ پوسٹ نہ بھی پہنچ سکے، تو ممکن ہے آپ کا ایک شیئر کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو اسے جانتا ہو، اور یوں 23 سال سے بچھڑا ہوا بیٹا اپنی ماں سے مل جائے۔

کسی بھی معلومات کی صورت میں رابطہ کریں:
+92 316 2529829

10 اگست 2026

اس بچے کا نام جاوید ہے اور والد کا نام ایاز ہے۔جاوید سال 2006 کے اگست میں کراچی کے تھانہ شاہ پولیس چوکی لطیف آباد ٹاؤن ک...
09/08/2026

اس بچے کا نام جاوید ہے اور والد کا نام ایاز ہے۔
جاوید سال 2006 کے اگست میں کراچی کے تھانہ شاہ پولیس چوکی لطیف آباد ٹاؤن کو لاوارث حالت میں ملا تھا۔6 سال عمر تھی۔
جاوید کی مادری زبان پشتو ہے۔ اس کے بقول وہ گھر سے نکل کر سمندر کے قریب کہیں پہنچا تھا تو وہاں سے پولیس کو ملا تھا۔
خاندان کے افراد میں سے کسی کا نام یاد نہیں ہے۔
جاوید نے زندگی میں بہت ہی مشکل حالات دیکھے ہیں جو ناقابل بیان ہیں۔ اس وقت بے یار و مددگار زندگی بسر کررہا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو دیکھے اور اذیت ناک زندگی سے نکل کر سکون میں آجائے۔
ان شاءاللہ فیملی ملنے کے بعد ہم جاوید کی زندگی پر لکھیں گے آپ پڑھ کر اپنی آنکھوں پر قابو نہیں رکھ پائیں گے۔ فی الحال اسکی تکلیف کا احساس کرکے اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ آپ کا ایک شئیر کسی کی زندگی بدلنے کا سبب بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

9 Aug 2026

تمام قارئین

الحمدللہ ! ‏پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدہ طے پا گیا۔ ‏پاکستاں ،ترکیہ اور سعودی عرب کے دریمان معاہدے...
07/08/2026

الحمدللہ ! ‏پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدہ طے پا گیا۔

‏پاکستاں ،ترکیہ اور سعودی عرب کے دریمان معاہدے کے اہم نکات

‏🔸 تینوں ممالک اپنے دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
‏خطے اور دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے۔
‏🔸 اگر تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے، تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
🔸 کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنایا جائے گا۔
‏. دفاع، سکیورٹی، تربیت، انٹیلی جنس اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

ہم اس معاہدہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ برادر ملکوں میں یہ معاہدہ امن وسلامتی کا ضامن ہوگا۔ ان شاءاللہ

29/07/2026

انا للہ وانا الیہ راجعون

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری انتقال فرماگئے۔

زمین کا سب سے گہرا کنواںانسان زمین کے اندر کھدائی کرکے کتنی گہرائی تک پہنچ سکا ہے، تو جواب ہے: 12 ہزار 262 میٹر۔ یہ کارن...
20/07/2026

زمین کا سب سے گہرا کنواں
انسان زمین کے اندر کھدائی کرکے کتنی گہرائی تک پہنچ سکا ہے، تو جواب ہے: 12 ہزار 262 میٹر۔ یہ کارنامہ دنیا کے مشہور "کولا سپرڈیپ بورہول" (Kola Superdeep Borehole) نے انجام دیا، جو آج بھی انسانی تاریخ کی سب سے گہری کھدائی ہے۔
یہ منصوبہ سابق سوویت یونین نے زمین کی بیرونی پرت (Earth's Crust) کے راز جاننے کے لیے شروع کیا۔ تقریباً 20 سال تک جاری رہنے والی اس سائنسی مہم کا ہدف 15 ہزار میٹر کی گہرائی تک پہنچنا تھا، مگر سائنس کو ایک ایسی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا جس نے دنیا کی جدید ترین مشینوں کو بھی بے بس کر دیا۔
جیسے جیسے کھدائی آگے بڑھتی گئی، زمین کے اندر درجۂ حرارت توقع سے کہیں زیادہ بڑھتا گیا۔ 12 ہزار 262 میٹر کی گہرائی پر درجۂ حرارت تقریباً 180 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا تھا، جبکہ اندازہ تھا کہ مزید تین کلومیٹر نیچے یہ 300 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہو جائے گا۔ اس شدت حرارت میں ڈرلنگ کا سامان نرم پڑنے لگا، چٹانیں غیر متوقع انداز میں بدلنے لگیں اور آخرکار منصوبہ روکنا پڑا۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنی گہرائی تک پہنچنے کے باوجود انسان زمین کی بیرونی پرت کا بھی مکمل سفر طے نہ کر سکا، کیونکہ بعض مقامات پر اس کی موٹائی 40 کلومیٹر تک ہے۔
سب سے حیران کن حقیقت یہ ہے کہ انسان اب تک زمین میں صرف 12.262 کلومیٹر تک ہی پہنچ سکا، جبکہ زمین کے مرکز تک فاصلہ تقریباً 6371 کلومیٹر ہے۔ یعنی انسانی تاریخ کی سب سے گہری کھدائی بھی زمین کے مرکز تک کے فاصلے کا صرف تقریباً 0.2 فیصد بنتی ہے۔ سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق زمین کے عین مرکز میں درجۂ حرارت 5500 سے 6000 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہے، جو سورج کی سطح کے درجۂ حرارت کے قریب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ ٹیکنالوجی کے ساتھ انسان کے لیے زمین کی آخری تہہ تک پہنچنا فی الحال ناممکن سمجھا جاتا ہے۔
اس کنویں کی کھدائی کے دوران سائنس دانوں کو کئی اہم حقائق معلوم ہوئے۔ زمین کی تہہ در تہہ ساخت کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئیں، گہرائی میں بڑی مقدار میں میتھین گیس ملی، اربوں سال پرانی چٹانوں اور خردبینی فوسلز (Microfossils) نے زمین کی قدیم تاریخ پر نئی روشنی ڈالی، جبکہ بعض چٹانوں کی خصوصیات نے زمین اور چاند کی تشکیل سے متعلق سائنسی تحقیق کو مزید تقویت دی۔
بعد ازاں اس کنویں کے بارے میں ایک سنسنی خیز افواہ پوری دنیا میں پھیل گئی کہ کھدائی کے دوران زمین کی گہرائی سے انسانوں کی چیخیں اور خوفناک آوازیں سنائی دیں، اسی لیے اسے "جہنم کا کنواں" (Well to Hell) کہا جانے لگا۔ تاہم بعد میں تحقیقی مرکز کے سربراہ اور ماہرین ارضیات نے اس کی واضح تردید کرتے ہوئے بتایا کہ ایسی تمام کہانیاں بے بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق جو آوازیں ریکارڈ ہوئیں وہ زمین کی گہرائی میں موجود چٹانوں، شدید دباؤ اور پگھلے ہوئے مادے (Magma) کی قدرتی گونج تھیں، جنہیں بعض لوگوں نے پراسرار رنگ دے دیا۔
دنیا کا یہ مشہور کنواں آج بھی روس کے جزیرہ نما کولا میں موجود ہے۔ البتہ 1992 میں منصوبہ بند کر دیا گیا، تمام مشینری ہٹا دی گئی، عمارتیں ویران ہو گئیں اور کنویں کے انتہائی باریک دہانے، جس کا قطر صرف 23 سینٹی میٹر (تقریباً 9 انچ) ہے کو ایک موٹے فولادی ڈھکن سے مضبوطی سے بند کر دیا گیا، تاکہ کوئی شخص یا چیز اس میں نہ گر سکے۔
یوں یہ مقام آج بھی انسانی تجسس، سائنسی جستجو اور زمین کے سینے میں پوشیدہ ان رازوں کی خاموش یادگار بنا کھڑا ہے، جن تک پہنچنے کی کوشش میں انسان اپنی تمام تر ترقی کے باوجود ایک حد سے آگے نہ بڑھ سکا اور اسے اپنی بے بسی کا اعتراف کرنا پرا۔

جو شخص نبی ﷺ پر درود بھیجتا ہے، فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔
03/07/2026

جو شخص نبی ﷺ پر درود بھیجتا ہے، فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔

12 سالہ روسی بچہ رمضان“میرا نام رمضان ہے۔ تعلق روس سے۔ میں نے 12 سال کی عمر میں خود مطالعہ کرکے اسلام قبول کرلیا۔ روایتی...
24/06/2026

12 سالہ روسی بچہ رمضان
“میرا نام رمضان ہے۔ تعلق روس سے۔ میں نے 12 سال کی عمر میں خود مطالعہ کرکے اسلام قبول کرلیا۔ روایتی عیسائی گھرانے میں میری پیدائش ہوئی۔ والدین کا تعلق سوویت یونین کے اس دور سے تھا جہاں تمام مذاہب پر سخت پابندیاں عائد تھیں اور اسکولوں میں مذہب کی تعلیم بالکل مختلف انداز میں دی جاتی تھی۔ والدہ کا ہمیشہ سے یہ نظریہ تھا کہ کائنات میں ایک اعلیٰ طاقت یعنی خدا موجود ہے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ تم کوئی بھی مذہب چن لو، آخرکار تم اسی ایک خدا کی عبادت کر رہے ہو گے۔ ان کی اسی بات نے میرے لیے سوچ کے نئے دروازے کھول دیئے۔ چونکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ طریقہ کار سے فرق نہیں پڑتا، اس لیے میں نے 10 سے 12 سال کی عمر میں بائبل کا گہرا مطالعہ شروع کر دیا۔ میں اب بھی اپنے پاس بائبل کا ''کنگ جیمز ورژن'' رکھتا ہوں۔ بائبل پڑھنے کے دوران یوٹیوب پر میرے سامنے مذہب سے متعلق کچھ ویڈیوز آنے لگیں، جن میں کچھ مسلمان مبلغین کی ویڈیوز بھی شامل تھیں۔ بائبل میں میں نے پڑھا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنا چہرہ زمین پر رکھ کر سجدہ کرتے اور دعا مانگتے تھے۔ جب میں نے دیکھا کہ مسلمان بھی بالکل اسی طرح نماز پڑھتے ہیں اور خدا سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں، تو میرے دل میں خیال آیا کہ شاید اسلام ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو خدا کے سب سے زیادہ قریب کرتا ہے۔ میں نے اسلام پر تحقیق شروع کر دی، اگرچہ شروع میں مجھے لگتا تھا کہ اسلام صرف عربوں کا مذہب ہے اور عربی نہ جاننے کی وجہ سے میں اسے کیسے اپنا پاؤں گا؟ لیکن ایک ہم جماعت سہیلی نے میری رہنمائی کی اور بتایا کہ اسلام قبول کرنے کے لیے صرف دل سے شہادتین کا اقرار کرنا کافی ہے۔ چونکہ میری والدہ نے سکھایا تھا کہ خدا سے قربت اہم ہے، اس لیے ایک رات میں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا اور سو گیا۔
اگلی صبح میرے ذہن میں وسوسے آئے کہ عربی سیکھنا اور اسلام پر چلنا بہت مشکل ہوگا، تو میں پہلے ہی دن دوبارہ عیسائیت کی طرف لوٹ گیا۔ لیکن اسکول میں میرے مسلمان دوستوں نے میرے شکوک دور کیے اور اسی دن میں نے دوبارہ سچے دل سے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔ شروع کا ایک ہفتہ بہت ہی خوبصورت اور پرسکون تھا۔ چونکہ میری عمر اس وقت محض 12 یا 13 سال تھی، اس لیے میرے گھر والوں نے شروع میں توجہ نہیں دی اور سمجھا کہ یہ بچوں کا ایک عارضی شوق یا فیز ہے جو دو تین ہفتوں میں خود ہی ختم ہو جائے گا۔ لیکن رب کا شکر، اس بات کو اب 4 سال بیت چکے ہیں۔”
(امریکی نو مسلم پوڈکاسٹر کینن ممز کو تفصیلی انٹرویو)

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maulana Muhammad Sohail posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category