کیا اسلام مولانا رومی، ابن عربی یا شیخ سید عبدالقادر جیلانی کی روحانیت سے مختلف ہے؟
نہیں، اسلام مولانا رومی، ابن عربی یا شیخ عبدالقادر جیلانی کی روحانیت سے مختلف نہیں ہے۔ بلکہ، ان کی روحانیت اسلام کی اصل گہرائی اور حقیقت کا عکاس ہے۔ یہ شخصیات کسی الگ راستے کی دعوت نہیں دیتیں بلکہ انہوں نے اسلامی تعلیمات کو مزید گہرائی میں سمجھا اور اس پر عمل کیا، جس کا مقصد دل کی صفائی، اللہ کی محبت اور اس کے قریب ہونا تھا۔
1. توحید (اللہ کی وحدانیت) ان کی تعلیمات کی بنیاد تھی
مولانا رومی، ابن عربی اور شیخ عبدالقادر جیلانی نے توحید (اللہ کی وحدانیت) کو اپنی روحانیت کی بنیاد بنایا۔ ان کی تعلیمات کا محور اللہ کی صفات کو سمجھنا، اس کی مرضی کے سامنے جھکنا اور اخلاص کے ساتھ اس کی عبادت کرنا تھا۔
مولانا رومی نے کہا: "پانی نہ ڈھونڈو، پانی کی پیاس پیدا کرو، کیونکہ یہ پیاس تمہیں اللہ کے قریب کر دے گی۔" یہ قرآن کی اس تعلیم کی عکاسی کرتا ہے کہ صرف اللہ کی طرف رجوع کرو۔
2. تزکیہ نفس اسلام کا لازمی حصہ ہے
قرآن و سنت میں تزکیہ نفس (دل کی پاکیزگی) پر زور دیا گیا ہے۔ ان صوفیاء کی روحانیت کا مقصد غرور، نفرت اور دنیاوی تعلقات سے دل کو پاک کرنا اور اللہ کے سامنے حقیقی طور پر جھکنا تھا۔
قرآن میں ہے: "کامیاب ہوا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔" (سورہ الشمس: 9)
3. شریعت کی پیروی
یہ صوفیاء اور علما شریعت (اسلامی قانون) کو ترک نہیں کرتے تھے بلکہ اس پر سختی سے عمل کرتے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی نے فرمایا: "شریعت بنیاد ہے اور روحانیت (حقیقت) اس پر عمارت ہے۔ بنیاد کے بغیر عمارت قائم نہیں ہو سکتی۔"
4. اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت
ان کی روحانیت قرآن اور سنت کی روشنی میں تھی۔ مولانا رومی کی شاعری اکثر حضور اکرم ﷺ کی محبت کی عکاس ہے، جنہیں وہ اللہ تک پہنچنے کا کامل راستہ مانتے تھے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی نے اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ سنت پر عمل کرنے اور اللہ سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کی نصیحت کی۔
5. ظاہری اور باطنی عمل کا امتزاج
اسلام ظاہری اعمال (نماز، روزہ، زکوٰۃ) اور باطنی پاکیزگی کا امتزاج ہے۔ ان صوفیاء نے اس توازن کو اپنایا اور سکھایا کہ عبادات کے بغیر دل کی خلوص اور صفائی بے معنی ہے۔
ابن عربی نے کہا: "حقیقی علم اپنے نفس کو جاننا ہے، کیونکہ اپنے نفس کو جاننے میں تم اپنے رب کو جان لیتے ہو۔" یہ اس حدیث کی عکاسی کرتا ہے: "جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔"
6. وہ پہلے اسلامی علما تھے
ان تمام شخصیات کا تعلق اسلامی علم سے گہرا تھا۔ مولانا رومی حنفی فقہ کے ماہر تھے، شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلی عالم تھے، اور ابن عربی قرآن اور حدیث میں گہری بصیرت رکھتے تھے۔ ان کی روحانیت اسلام سے الگ نہیں تھی بلکہ قرآن و سنت کی تعلیمات کی گہرائی کا اظہار تھا۔
نتیجہ
مولانا رومی، ابن عربی اور شیخ عبدالقادر جیلانی کی روحانیت اسلام سے الگ نہیں بلکہ اس کی اصل حقیقت اور گہرائی کو سمجھنے کا نام ہے۔ ان کی تعلیمات یاد دلاتی ہیں کہ سچی روحانیت قرآن و سنت کے گہرے مطالعے اور عمل سے جنم لیتی ہے، جس کا مقصد اللہ سے محبت، نفس کی پاکیزگی اور انسانیت کی خدمت ہے۔
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی
مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ
صوفی ازم
An informative page about Sufi Path & its different colors, Spiritualism & Ishq (Love) "
Love is the way of Peace in whole world.The Main theme is Love.
10/11/2024
22/03/2024
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو
09/08/2022
الصلاۃ والسلام علیک یا سیدی یا امام الحسین علیہ السلام
02/08/2022
نفس کو کبھی مارا نہیں جاتا۔۔۔
بلکہ نفس کو لگام دیا جاتا ہے۔۔۔
قابو کیا جاتا ہے۔۔
جیسے ایک بدمست جانور اپنی پوری طاقت کیساتھ چھوڑ دیا جائے۔۔۔۔
تو وہ سراسر نقصان بن جاتا ہے۔۔۔۔
پر جب اسی جانور کو لگام دیا جائے تو وہ قابو میں آجاتا ہے۔۔۔ اس کی طاقت محدود ہو جاتی ہے۔۔۔۔
اورہم اس پر بیٹھ کر اپنی من پسند سواری کرسکتے ہیں۔۔۔۔
یاد رکھیے گا مرشد کامل نور الھدی ہی وہ ہستی ہے جو طالب حق کے دل سے ہوائے نفس کی لذتوں کو ختم کرکے اس میں قرب الہی کے بیج بوتا ہے۔۔۔
باج فقیراں کسے نہ ماریا باھو۔۔۔۔
ظالم چور اندر دا ھو۔۔۔۔۔
#حکایاتِ_رومیؒ (شیطانی وسوسہ)
ایک صوفی کثرت سے سے اللّٰه کا ذکر کرتا رہتا تھا حتیٰ کہ ایک دن اس ذکر کی کثرت سے اس کے لب شیریں ہو گۓ شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ تم خواہ مخواہ ذکر کی کثرت کرتے رہتے ہو جبکہ تمہارے اس ذکر کے جواب میں اللّٰه پاک کی طرف سے لبیک کی آواز ایک مرتبہ بھی نہیں آئی اور نہ ہی تمہیں اللّٰه پاک کی طرف سے جواب ملتا ہے تم یک طرفہ محبت کر رہے ہو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمہارا ذکر اللّٰه پاک کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا۔ اس شیطانی وسوسہ کی وجہ سے اس صوفی نے ذکر کرنا چھوڑ دیا۔ اور شکستہ دل اور افسردہ ہو کر سو گیا اس کی آنکھ سو گئی لیکن اس کی قسمت جاگ گئی۔
اس نے عالمِ خواب میں دیکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام تشریف لاۓ اور انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے ذکر کرنا کیوں روک دیا؟ آخر تو ذکرِ حق سے پشیمان کیوں ہو گیا؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے اللّٰه پاک کی بارگاہ سے ذکر کا جواب ہی نہیں ملتا اس وجہ سے میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ میرا ذکر ہی قبول نہیں ہو رہا۔
حضرت خضر علیہ السّلام نے اس سے کہا کہ تمہارے لیے اللّٰه تعالیٰ نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ تمہارا ذکر میں مشغول ہونا تمہارے ذکر کی قبولیت کی دلیل ہے ، تمہارا پہلی مرتبہ اَللّٰه کہنا قبول ہوتا ہےتب دوسری بار تمہیں اَللّٰه کہنے کی توفیق ملتی ہےاور تمہارے دل میں جو سوز و گداز ہےاور میری چاہت و محبت اور تڑپ ہے یہی تمہارے ذکر کی قبولیت کی نشانی ہے۔
اے بندے! میری محبت میں تیری یہ تدبیریں اور محنتیں سب ہماری طرف سے جزب و کشش کا ہی عکس ہیں ۔ اے بندے! تیرا خوف اور میری ذات سے تیرا عشق میرا ہی انعام ہےاور میری ہی مہربانی و محبت کی کشش ہے کہ تیری ہر بار یا اللّٰه کی پکار میں میرا لبیک کہنا شامل ہوتا ہے۔ تمہارے ذکر کی قبولیت کی نشانی یہی ہے کہ تمہیں ذکرِ حق میں مشغول کر دیا ہے۔
جان جاھل زیں دعا جز دور نیست
زانکه یا رب گفتش دستور نیست
”ایک جاہل اور غافل ذکرِ حق اور دعا مانگنے کی توفیق سے محروم رہتا ہے۔“
اللّٰہ پاک کے ذکر کا اجر خود اس ذکر میں ہی پوشیدہ ہوتا ہے۔اللّٰہ پاک اپنے ذکر اور یاد کی توفیق اسی کو عطا کرتے ہیں جس سے خوش ہوتے ہیں اور یہی اس کی قبولیت کی دلیل ہے۔
#حکایاتِ_رومیؒ صفحہ: 117
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Address
Islamabad