7 careers will stay in demand for the next 25 years! (Choose only if they match your aptitude)
Eduvision Career Counselling
We help students and youth choose the best subjects, programs & careers. We assist them in career development and enable them to reach their full potential.
Eduvision is Pakistan's first career counselling organization founded by the country's leading career counselor, life coach, and trainer, Sir Yousuf Almas in 2001. We provide educational consultancy, quality career planning services and systemized educational guidance to school/college/university students, parents, and professionals. Our aim is to ensure a successful life and career for you. To schedule an appointment for career counselling session with Sir Yousuf Almas - call now 03335766716
06/06/2026
ایک بڑا بحری جہاز کئی دنوں سے خراب کھڑا تھا۔ اس کا انجن جواب دے چکا تھا۔ ماہر مکینک بلائے گئے، انجینئر آئے، معائنہ ہوا، مشورے ہوئے، مگر خرابی اپنی جگہ برقرار رہی۔ آخرکار کسی نے ایک بوڑھے مکینک کا نام تجویز کیا۔
بوڑھا آیا تو نہ اس کے ہاتھ میں کوئی جدید آلہ تھا اور نہ ہی اس کے ساتھ معاونین کی کوئی ٹیم۔ اُس نے انجن کے پاس جا کر کہا: "ذرا انجن سٹارٹ کرو۔"
انجن سٹارٹ کیا گیا۔ بوڑھے نے کچھ دیر خاموشی سے انجن کی آواز سنی، پھر رک جانے کا اشارہ کیا۔ اس نے اپنا ہتھوڑا اٹھایا اور انجن کے ایک خاص مقام پر ایک ضرب لگائی۔ اس کے بعد دوبارہ انجن چلانے کو کہا۔
حیرت انگیز طور پر انجن فوراً چل پڑا۔
اب معاوضہ دینے کی باری آئی۔ بوڑھے نے دس ہزار روپے طلب کیے۔
جہاز کے مالک نے حیران ہو کر کہا: "صرف ایک ہتھوڑا مارنے کے دس ہزار روپے؟"
بوڑھا مسکرایا اور اُس نے کہا:
"ہتھوڑا مارنے کا معاوضہ تو صرف سو روپے ہے، باقی نو ہزار نو سو روپے اس بات کے ہیں کہ ہتھوڑا کہاں مارنا تھا۔"
یہ ایک سادہ سی کہانی ہے، مگر اس میں کیریئر اور معیشت کا ایک بڑا اصول پوشیدہ ہے۔ کسی کام کا معاوضہ صرف اس بات پر منحصر نہیں ہوتا کہ وہ کام کرنے میں کتنا وقت لگا یا کتنی جسمانی محنت ہوئی۔ بہت سے مواقع پر اصل قیمت اس علم، تجربے اور مہارت کی ہوتی ہے جو کسی شخص کو یہ بتاتی ہے کہ مسئلہ کہاں ہے اور اسے حل کیسے کرنا ہے۔
جو اصول بیان کیا گیا ہے اُسی کی بنیاد پر مختلف پیشوں کے معاوضے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ پودوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک خاص درجے کا علم درکار ہوتا ہے، جبکہ ہسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے کہیں زیادہ علم، تربیت اور ذمہ داری کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مالی اور ڈاکٹر، یا مالی اور نرسنگ سٹاف کے معاوضوں میں فرق پایا جاتا ہے۔ یہ فرق محض محنت کا نہیں بلکہ علم، مہارت اور ذمہ داری کا بھی ہوتا ہے۔
اگر آپ اپنے کیریئر کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو خراب انجن، بوڑھے مکینک اور ہتھوڑے کی یہ کہانی یاد رکھیے۔ کوشش کیجیے کہ ایسے شعبے کا انتخاب کریں جس میں علم، مہارت اور تخصص (Specialization) کا حصہ زیادہ ہو۔ عموماً ایسے شعبوں میں داخل ہونے کے لیے باقاعدہ تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت یا کسی پروفیشنل ڈگری کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہی تعلیم بعد میں بہتر مواقع اور معقول معاوضے کی صورت میں اپنا پھل دیتی ہے۔
البتہ یہ بھی یاد رہے کہ ڈگری محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ حقیقی علم، عملی مہارت اور مسئلے حل کرنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے۔ آخرکار لوگوں کو ہتھوڑا مارنے والے نہیں، بلکہ یہ جاننے والے درکار ہوتے ہیں کہ ہتھوڑا کہاں مارنا ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اپنے لیے درست راستے کا انتخاب کریں۔ ابھی ایجوویژن کیریئر ایپٹیٹیوڈ اسیسمنٹ دیں۔ یہ نہ صرف آپ کو اپنی شخصیت، صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو سمجھنے میں مدد دے گا بلکہ ان کے مطابق صحیح کیرئیر اور مستقبل کا راستہ بھی بتائے گا۔ 03335766716
پینسلین، پیٹنٹ اور انسانیت
اکثر سائنس دان اپنی ایجاد یا دریافت کو قانونی طور پر اپنے نام محفوظ کرواتے ہیں۔ اس عمل کو پیٹنٹ کروانا کہتے ہیں جو ایجاد کرنے والے کا قانونی حق ہے۔ اس حق کے تحت ایک خاص مدت تک صرف ایجاد کرنے والے کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی ایجاد کو بنائے، استعمال کرے یا فروخت کرے۔ اگر کوئی دوسرا فرد یا ادارہ اس کی اجازت کے بغیر ایسا کرے تو یہ قانوناً جرم سمجھا جاتا ہے۔ اسی حق کی بدولت بہت سے موجِد اپنی ایجادات سے بڑی دولت کماتے ہیں۔
سن 1928 میں سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے فزیشن اور مائیکرو بایولوجسٹ Alexander Fleming نے ایک غیر معمولی دریافت کی۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک پھپھوندی، Penicillium، بیکٹیریا کو ختم کر دیتی ہے۔ یہ مشاہدہ آگے چل کر پینسلین کی دریافت کا سبب بنا، جو دنیا کی پہلی مؤثر اینٹی بایوٹک ثابت ہوئی۔ اس دریافت نے میڈیکل کی دنیا بدل کر رکھ دی۔ تب سے لے کر آج تک پینسلین نے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی جان بچانے میں مدد دی ہے۔
فلیمنگ چاہتے تو پینسلین کا پیٹنٹ کروا کر بے پناہ دولت کما سکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ پینسلین ان کی ایجاد نہیں بلکہ ایک دریافت ہے؛ یہ فطرت میں پہلے سے موجود تھی، انہوں نے صرف اسے پہچانا۔ اسی لیے یہ کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں بلکہ پوری انسانیت کی امانت ہے۔
فلیمنگ کے فیصلے کے نتیجے میں دنیا بھر کی دوا ساز کمپنیوں کو پینسلین تیار کرنے کا موقع ملا۔ یوں پیداوار بڑھی اور پینسلین عام لوگوں کی پہنچ میں رہی۔ اگر یہ دریافت پیٹینٹ ہوتی تو ایک کمپنی ہی اِسے بناتی اور زیادہ قیمت کی وجہ سے ڈھیروں کماتی۔ اس کمائی میں یقیناََ فلیمنگ کا بھی حصہ ہوتا۔ لیکن فلیمنگ کے نزدیک قدر (value) روپے کی نہیں انسانیت کی تھی۔
پینسلین کی دریافت ایسے وقت میں سامنے آئی جب دنیا بڑے بحرانوں سے گزر رہی تھی۔ خصوصاً دُوسری جنگِ عظیم کے دوران اس نے زخمی فوجیوں اور عام شہریوں کی بے شمار جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس عظیم خدمت کے اعتراف میں الیگزینڈر فلیمنگ کو “سر” کا خطاب بھی دیا گیا اور انہیں ”نوبل انعام“ سے بھی نوازا گیا۔
سر الیگزینڈر فلیمنگ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ کچھ دریافتیں صرف سائنسی کامیابی نہیں ہوتیں بلکہ انسانیت کے لیے تحفہ ہوتی ہیں۔ ان کی سوچ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم کی اصل قدر اس وقت بڑھتی ہے جب وہ زیادہ سے زیادہ انسانوں کے کام آئے۔
یہ سوال آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے: کیا ہم اپنی زندگی میں کچھ ایسا کر سکتے ہیں جس سے صرف ہمیں نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے ہر فرد کو فائدہ پہنچے؟
اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اپنے لیے درست راستے کا انتخاب کریں۔ ابھی ایجوویژن ایپٹیٹیوڈ اسیسمنٹ دیں۔ یہ نہ صرف آپ کو اپنی شخصیت، صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو سمجھنے میں مدد دے گا بلکہ ان کے مطابق صحیح کیرئیر بھی بتائے گا۔ 03335766716
04/06/2026
گرمیوں کی چھٹیاں: کریں تو کیا کریں؟
طلبہ گرمیوں کی چھٹیوں میں کیا کریں؟ کیا صرف سمر ہوم ورک مکمل کر لینا کافی ہے؟ میٹرک اور انٹر کے طلبہ کے لیے تو اکیڈمی کی کلاسز موجود ہوتی ہیں، مگر دوسرے طلبہ اپنا وقت کیسے گزاریں؟ سمر کیمپ میں بھی آخرکار لکھنا، پڑھنا ہی شروع ہو جاتا ہے۔ تو پھر گرمیوں کی چھٹیوں کا بہترین استعمال کیا ہو سکتا ہے؟
اگر آپ طالب علم ہیں تو گرمیوں کی چھٹیوں میں چند کام ضرور کریں۔ پہلا کام صبح جلد جاگنے کی روٹین کو برقرار رکھنا ہے۔ چھٹیوں کا مطلب یہ نہیں کہ رات گئے تک جاگا جائے اور آدھا دن سوتے ہوئے گزار دیا جائے۔ دوسرا کام سمر ویکیشن ہوم ورک کا ٹائم ٹیبل بنانا اور اسے معیاری انداز میں مکمل کرنا ہے۔ تیسرا کام جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینا ہے۔ اگر کسی کو باقاعدہ کھیل کھیلنے کا موقع میسر نہ ہو تو وہ صبح یا شام کی سیر کو اپنا معمول بنائیں۔ چوتھا کام مطالعہ ہے۔ اردو یا انگریزی میں بچوں کے لیے لکھی گئی معیاری کہانیاں، ناولٹ اور معلوماتی کتابیں اس مقصد کے لیے بہترین انتخاب ہو سکتی ہیں۔ مطالعے کی اہمیت اور کتابوں کے انتخاب پر کسی اور موقع پر تفصیل سے بات ہو گی۔
اگر آپ کسی ایک مضمون میں کمزور ہیں تو چھٹیوں میں یہ کمزروری دور کریں۔ اس مقصد کے لیے کسی تجربہ کار یا سینئر استاد سے رہنمائی لییں۔ استاد ایک جامع جائزہ (Comprehensive Assessment) لے کر اُن موضوعات (topics) کی نشاندہی کرے کہ جن میں آپ کمزور ہیں۔ اب گھر میں کسی بڑے یا ٹیوٹر کی مدد سے ان کمزوریوں کو دور کریں۔
گرمیوں کی چھٹیوں میں بعض مقامات پر ترجمۂ قرآن یا بنیادی دینی تعلیمات کے کورسز بھی کروائے جاتے ہیں۔ آپ ان کورسز میں بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ البتہ اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ کورسز آپ کی ذہنی سطح کے مطابق ہوں، اور انہیں پڑھانے والے کسی خاص مسلک سے نہ ہوں۔
آج کل گرمیوں کی چھٹیوں میں ڈیجیٹل اسکلز کے کورسز بھی خاصی توجہ حاصل کر رہے ہیں، مثلاً گرافک ڈیزائننگ، بلاگنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، کوڈنگ اور دیگر جدید مہارتیں۔ اسی طرح روبوٹکس کے کورسز بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ یہ تمام مہارتیں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان کے انتخاب میں دو باتوں کا خیال رکھیں۔ پہلی یہ کہ آپ کا رجحان واقعی اس شعبے کی طرف ہو، اور دوسری یہ کہ آپ کے پاس ان کورسز کے لیے وقت اور فیس موجود ہو۔
ایک طالب علم کی نظر سے گرمیوں کی چھٹیاں صرف آرام کرنے کا نام نہیں ہیں بلکہ یہ خود کو بہتر بنانے کا ایک قیمتی موقع بھی ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب آپ اپنی روٹین کو منظم رکھ سکتے ہیں، صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں، اپنی تعلیمی کمزوریاں دور کر سکتے ہیں اور نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں۔ اب آپ نے گرمیوں کی چھٹیوں کو کس طرح گزارنا ہے، اس کا فیصلہ بہرحال آپ ہی نے کرنا ہے۔
اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اپنے لیے درست راستے کا انتخاب کریں۔ ابھی ایجوویژن ایپٹیٹیوڈ اسیسمنٹ دیں۔ یہ نہ صرف آپ کو اپنی شخصیت، صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو سمجھنے میں مدد دے گا بلکہ ان کے مطابق صحیح کیرئیر بھی بتائے گا۔ 03335766716
04/06/2026
Every student has potential. The challenge is helping them recognize it.
Through the Mera Career Program, students across Federal Government Educational Institutions are gaining valuable insights into their abilities, interests, and future opportunities through aptitude assessments and career guidance sessions.
With each institution we visit, more students are taking meaningful steps towards informed decisions, greater confidence, and a clearer vision for their future.
An initiative by Eduvision in collaboration with the Ministry of Federal Education and Professional Training Pakistan and Federal Directorate of Education.
Studying or Choosing Career without Eduvision Aptitude Assessment?
Book Your Aptitude Assessment Now!
0333 5766716
جب شوق کیریئر بنا
”مکی ماؤس“ اور اس کردار کو تخلیق کرنے والے Walt Disney سے کون واقف نہیں۔ جی ہاں، وہی ڈزنی لینڈ والے والٹ ڈزنی۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈزنی کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی مکی ماؤس کی تخلیق تھی۔ مگر حقیقت میں ان کی زندگی کی اصل کہانی کچھ اور ہے: ڈرائنگ کا شوق ہی ان کا کیریئر بنا۔
والٹ ڈزنی کی پیدائش 1901 میں شکاگو میں ہوئی۔ بچپن ہی سے انہیں ڈرائنگ کرنے اور کہانیاں سنانے کا شوق تھا۔ وہ روایتی تعلیم میں نمایاں طالبِ علم ثابت نہ ہوئے، مگر جہاں بات سکیچ بنانے، تصویریں کھینچنے یا کردار تراشنے کی آتی، وہاں ان کی دلچسپی سب سے آگے ہوتی۔ وہ کاپیوں کے کناروں پر تصویریں بناتے، جانوروں کے خاکے کھینچتے اور اپنے تخیل کو پنسل کے ذریعے کاغذ پر اتارتے۔ یہی شوق رفتہ رفتہ ان کی پہچان بنتا گیا۔
والٹ ڈزنی کی پہلی نوکری بھی اسی شوق سے جڑی ہوئی تھی۔ نوجوانی میں انہوں نے اشتہارات بنانے والی ایک کمپنی میں کام شروع کیا، جہاں وہ ڈرائنگ اور ڈیزائن تیار کرتے تھے۔ یہ ملازمت ان کے لیے صرف روزگار نہ تھی بلکہ ان کے شوق کا عملی میدان تھی۔ وہ سیکھ رہے تھے کہ اپنے پسندیدہ ہنر کو کیریئر میں کیسے بدلا جاتا ہے۔ یہی تجربہ آگے چل کر انہیں اینی میشن کی دنیا میں لے آیا۔
ڈزنی نے کارٹون فلمیں بنانا شروع کیں، مگر ابتدا آسان نہ تھی۔ مالی مشکلات بھی آئیں، ناکامی بھی دیکھنی پڑی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ان کی کمپنی تقریباً بند ہونے کے قریب پہنچ گئی۔ مگر انہوں نے اپنے شوق کا ساتھ نہ چھوڑا۔ وہ مسلسل ڈرائنگ کرتے رہے، نئے کردار سوچتے رہے اور کہانیاں تخلیق کرتے رہے۔ آخرکار مِکی ماؤس وجود میں آیا، اور یہی کردار ان کی کامیابی کی پہچان بن گیا۔
مکی ماؤس کی کامیابی کے بعد ڈزنی نے اینی میشن کو ایک نئی جہت دی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ کارٹون صرف بچوں کی تفریح نہیں بلکہ کہانی سنانے کا ایک مکمل فن بھی ہے۔ 1937 میں انہوں نے Snow White and the Seven Dwarfs بنائی، جو پہلی مکمل طویل اینی میٹڈ فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ اس فلم نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی اور دنیا کو دکھا دیا کہ ایک شوق، جب فن اور محنت سے مل جائے، تو تاریخ بھی بنا سکتا ہے۔
بعد ازاں انہوں نے The Walt Disney Company کو وسعت دی، جو وقت کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی تفریحی کمپنیوں میں شامل ہو گئی۔ اسی تخلیقی سفر میں Disneyland کا خواب بھی حقیقت بنا۔ ڈزنی لیند ایک ایسی جگہ ہے جہاں کہانیاں، کردار اور تخیل حقیقی دنیا کا حصہ بن گئے۔
والٹ ڈزنی کی زندگی ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے کہ شوق صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں ہوتا۔ اگر اس کے ساتھ محنت، صبر اور مستقل مزاجی شامل ہو جائے تو وہی شوق ایک کامیاب کیریئر بن سکتا ہے۔ ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی صلاحیت اور کوئی نہ کوئی دلچسپی ضرور ہوتی ہے۔ ضرورت صرف اسے پہچاننے، اس پر یقین رکھنے اور اسے مسلسل محنت سے نکھارنے کی ہوتی ہے۔
والٹ ڈزنی کی کہانی ایک شوق کو کیریئر بنانے کی کہانی ہے۔ ایک ایسے لڑکے کی کہانی جسے تصویریں بنانا پسند تھا، اور جس نے اسی پسند کو اپنی زندگی کا راستہ بنا لیا۔ اسی لیے ان کی زندگی کو ایک جملے میں سمیٹا جا سکتا ہے: جب شوق کیریئر بنا۔
*اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اپنے لیے درست راستے کا انتخاب کریں۔ ابھی ایجوویژن ایپٹیٹیوڈ اسیسمنٹ دیں۔ یہ نہ صرف آپ کو اپنی شخصیت، صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو سمجھنے میں مدد دے گا بلکہ ان کے مطابق صحیح کیرئیر بھی بتائے گا۔ 03335766716*
02/06/2026
The future isn't built by chance — it's built through awareness, guidance, and informed decisions.
As the Mera Career journey continues, students across Federal Government Educational Institutions are discovering more about themselves through aptitude assessments and career exploration sessions.
Together, we're shaping a generation that doesn't just dream big — but knows how to get there.
An initiative by Eduvision in collaboration with the Ministry of Federal Education and Professional Training Pakistan
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
70, Street 92, G-13/1
Islamabad
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 19:00 |
| Tuesday | 09:00 - 19:00 |
| Wednesday | 09:00 - 19:00 |
| Thursday | 09:00 - 19:00 |
| Friday | 09:00 - 19:00 |
| Saturday | 09:00 - 19:00 |