Justice for Fathers & Children

Justice for Fathers & Children Father..! a son's first hero.. a daughter's first love..

…★ گارڈین عدالتیں اور بچوں کے حقوق: تحفظ یا پامالی؟  ★…تحریر: عبدالرحمن ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، اسلام آبادفیملی اور گارڈین ع...
03/09/2026

…★ گارڈین عدالتیں اور بچوں کے حقوق: تحفظ یا پامالی؟ ★…

تحریر: عبدالرحمن ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، اسلام آباد

فیملی اور گارڈین عدالتوں کے قیام کا ایک اہم اور بنيادی مقصد معصوم اور نابالغ بچوں کے حقوق کا تحفظ تھا لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ عدالتیں اب بچوں کے حقوق اور ان کے مفاد کے تحفظ کے بجائے خود ان کی پامالی کا ایک باضابطہ ذریعہ بن چکی ہیں۔

آج صورتحال یہ ہے کہ والدین کے مابین علیحدگی کے بعد جب کوئی ایک فریق دوسرے کو بچے سے محروم کرنا چاہتا ہے، تو وہ گارڈین عدالت سے رجوع کی دھمکی دیتا ہے۔ کیوں؟!!

کیونکہ اسے بخوبی علم ہوتا ہے کہ ہمارے عائلی قوانین اور گارڈین عدالتی نظام کے اندر بچے تک رسائی یا ملاقات کے لیے صبرِ ایوب، عمرِ نوح اور خزانہٴ قارون بہرصورت مطلوب ہیں۔ اور یہ عدالتیں جنہیں فراہمئ انصاف کی مقدس ذمہ داری سونپی گئی تھیں، وہ بے جا پیچیدگیوں اور غیر معمولی تاخیر کے باعث ایک فریق کے لیے دوسرے پر ظلم کا ذریعہ بن چکی ہیں۔

علیحدگی کے بعد بچوں کو والدین میں سے کسی ایک سے جدا کر دینا نہ صرف انسانی بنیادوں پر ظلم ہے بلکہ یہ صریحاً قرآنی احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ربِ کریم کا ارشادِ گرامی ہے:
لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌ ۢ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوۡلۡوۡدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ
”نہ تو والدہ کو اس کے بچے کی وجہ سے تکلیف دی جائے اور نہ ہی باپ کو اپنے بچے کی وجہ سے تکلیف پہنچائی جائے۔“ ( البقرة: 233)

یہ فرمان الہی ہر منصف، قاضی، جج اور اس قانونی، عدالتی اور معاشرتی نظام کے لیے ایک واضح اور ابدی رہنما اصول ہے جو والدین اور بچوں کے حقوق کا تعیّن کرتا ہے۔ والدین کے درمیان علیحدگی کے بعد قرآن کا یہ فرمان انہیں ان باتوں کا پابند بناتا ہے کہ

① بچے کو اس کی ماں سے الگ کر کے ماں کو اذیت نہ دی جائے

② باپ کو اپنے بچے سے ملاقات، رسائی، تربیت اور شفقت سے محروم کر کے ذہنی یا جذباتی کرب میں مبتلا نہ کیا جائے

③ اور سب سے اہم یہ کہ بچے کو والدین کے باہمی تنازعات اور انا کی جنگ میں بطورِ ہتھیار (Weapon) استعمال نہ کیا جائے۔

پاکستان میں Guardian and Wards Act, 1890 اور Family Courts Act, 1964 کے تحت فیصلوں کا بنیادی معیار "Child's Best Interest" (بچے کی بہتری اور مفاد) رکھا گیا ہے۔ تاہم، عملی سطح پر درج ذیل نقائص نے اس کی روح کو بالکل مٹا دیا ہے:

①… بچے کی ملاقات کے لیے واضح قانون کا نہ ہونا:
فیملی کورٹ ایکٹ اور گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ میں غیر حاضن کے ساتھ ملاقات کا کوئی واضح قانون یا دفعہ موجود نہیں ہے. متبادل کے طور پر گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ ۱۲ اور فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 5 کے تحت شیڈول پر انحصار کیا جاتا ہے.

②… ملاقات کے نام پر مذاق:

ملاقات کا مقصد بچے کا والدین کے ساتھ فطری بندھن، محبت اور لگاؤ کو برقرار رکھنا ہے لیکن گارڈین عدالتوں میں عموماً مہینے میں صرف ایک یا دو بار، وہ بھی عدالتی احاطے جیسے غیر موزوں ماحول میں محض رسمی خانہ پوری کے لیے دو سے تین گھنٹے کی ملاقات کا حکم دیا جاتا ہے۔ یہ ماحول بچے اور غیر حاضن (Non-custodial Parent) کے درمیان کبھی بھی قدرتی اور جذباتی تعلق برقرار رکھنے نہیں دیتا نہ ہی اس سے ملاقات کا مقصد حاصلبہوتا ہے۔ حالانکہ خود اعلی عدالتوں نے متعدد نظائر میں عدالتی کمرہ، عدالتی ماحول، اور دو تین گھنٹے کے دورانیے کو غیرقانونی، غیرانسانی اور فطرت کے منافی قرار دے رکھا ہے. تاہم گارڈین عدالتیں ان نظائر کو یکسر نظر انداز کر دیتی ہیں جو آئین کی صریح خلاف ورزی ہے.

شرعی اور اخلاقی نقطہ نظر سے بھی غیر حاضن والد یا والدہ کی ملاقات کا معقول اور مناسب وقت، مقام اور دورانیہ مقرر ہونا لازمی ہے۔ شریعت اسلامیہ بچے کو والدین سے روزانہ بنیادوں پر ملاقات کا حق دیتی ہے اور اگر روزانہ کسی وجہ سے ممکن نہ ہو تو ہفتہ وار ملاقات تو بہرصورت لازم ہے.

③… مقدمات میں طوالت اور Parent Alienation:

فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 12A واضح طور پر چھ (06) ماہ کے اندر مقدمے کا فیصلہ کرنے کا پابند کرتی ہے، مگر خود عائلی اور گارڈین عدالتیں اس دفعہ کی پاسداری نہیں کرتیں۔ نتیجتاً کیس سالہا سال لٹکتے رہتے ہیں۔ اس طویل عرصے میں بچے کو ایک فریق کے پاس رکھ کر اس کا ذہن دوسرے والد /والدہ کے خلاف اس حد تک مسموم (Alienated) کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ہی سگے ماں یا باپ سے نفرت کرنے لگتا ہے۔

④ … احکامات پر عدم عملدرآمد اور قطعِ رحمی کا فروغ:

اگر خدا خدا کر کے ملاقات کا کوئی عبوری حکم جاری ہو بھی جائے تو فریق مخالف مختلف بہانے بنا کر ملاقات سے انکار کر دیتا ہے۔ عدالتی احکامات کی دانستہ خلاف ورزی پر توہینِ عدالت کی کوئی مؤثر سزا موجود نہیں، بلکہ محض دفعہ 100 کے وارنٹ پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

شرعی لحاظ سے کسی بچے کو اس کے والد یا والدہ سے جدا کرنے والے کو حضانت سے محروم کر دیا جاتا ہے اور یہ عمل "قطعِ رحمی" کے زمرے میں آتا ہے، جسے اسلام نے گناہِ کبیرہ قرار دیا ہے۔ لیکن ہمارے قانونی فریم ورک میں اس قبیح اور سنگین گناہ کا نہ کوئی تصور ہے اور نہ ہی کوئی سزا مقرر ہے.

⑤…بھیانک معاشرتی وسماجی اثرات

طلاق کی شرح میں تشویشناک اضافے کے باعث اس وقت ملک کے کروروں معصوم بچے والدین کی موجودگی اور ان کی زندگیوں میں یتیمی اور مسکینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اپنے ہی کسی ایک والدین کی شفقت سے محروم یہ بچے مہلک نفسیاتی عوارض، اعتماد میں کمی، احساسِ کمتری اور شخصیت کے نقائص کا شکار ہو رہے ہیں۔ معاشرے کا ایک مفید اور فعال شہری بننے کے بجائے یہ بچے ذہنی تناؤ، نشے، child abuse اور جرم کی دنیا کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔

پاکستان اقوامِ متحدہ کے حقوقِ اطفال کا معاہدہ (UN CRC - Articles 9 & 10) کا دستخط کنندہ ہے، جو بچے کو اپنے دونوں والدین سے باقاعدہ اور براہِ راست رابطے کا حق دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 35 ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ خاندان، ماں اور بچے کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

نہایت افسوسناک امر اور لمحہٴ فکریہ یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں، ان کی پارلیمانی قیادتوں، اراکین پارلیمنٹ، وزارتِ انسانی حقوق اور قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال (NCRC) نے اس سنگین معاملے کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا اور 136 سالہ قدیم قانون میں کسی قسم کی ترمیم یا اصلاحات کی ضرورت کو محسوس ہی نہیں کیا۔ یہی نہیں، بلکہ خود کو انسانی حقوق کے علمبردار کہلوانے والوں نے بھی اس اہم ترین موضوع پر کبھی لب کشائی کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

حل اور مقننہ کی ذمہ داری

یہ سنگین صورت حال اس بات کی اشد متقاضی ہے کہ ہمارے ارباب اقتدار اور مقننہ فوری طور پر اس سنگین صورت حال کا نوٹس لیں اور حقوق اطفال پر مؤثر اور مثالی قانون سازی کریں.

قوانین میں ایسی ٹھوس، جامع اور متوازن اصلاحات کی جائیں تاکہ کوئی بھی معصوم بچہ والدین کی انا کی بھینٹ نہ چڑھے اور کوئی بھی باپ یا ماں اپنے ہی جگر گوشے کے دیدار سے محروم نہ ہو. وما علینا الا البلاغ!

میرا بالکل ارادہ نہیں تھا کہ اپنا کوئی ذاتی معاملہ سوشل میڈیا پر لکھوں گا مگر  جب اپنے مسئلے کی طرز پر دوچار نہیں بلکہ ہ...
28/08/2026

میرا بالکل ارادہ نہیں تھا کہ اپنا کوئی ذاتی معاملہ سوشل میڈیا پر لکھوں گا مگر جب اپنے مسئلے کی طرز پر دوچار نہیں بلکہ ہزاروں افراد کو پریشان دیکھا اور علم ہوا کہ یہ ہمارے ملک کا ایک سنگین بحران ہے تو مجھے محسوس ہوا کہ میرا مسئلہ ذاتی نہیں بلکہ ایک قانونی اور سماجی معاملہ ہے تو میں نے فیصلہ کیا کہ اب اس معاملے کو لکھوں گا اور وہ کہانیاں بیان کروں گا جن کی کوئی سنوائی نہیں ہے۔

بظاہر تو یہ میری اور جبرئیل کی کہانی ہے مگر اس کہانی کا “میں” وہ لاکھوں نان کسٹوڈیل باپ اور مائیں ہیں جو اپنے اپنے “جبرئیل” سے برسوں عدالتوں میں دھکے کھانے کے باوجود ایک ملاقات نہ کرسکے، جبرئیل میرا بیٹا ہے اور سابق اہلیہ کی جانب سے خلع لینے کے بعد ڈیڑھ سال سے میں اس سے ایک ملاقات نہیں کرسکا ہوں، میں عدالتوں میں گیا، ڈیڑھ سال سے پابندی سے مینٹیننس ادا کررہا ہوں، الگ سے کسٹڈی کیس بھی دائر کیا ہوا ہے، عدالت کو متعدد بار بچے سے ملاقات کی درخواست کی مگر سب بے سود رہا، اس دوران سینکڑوں اپنے جیسے لوگوں سے ملا جو سالہا سال سے عدالتوں کے دھکے صرف اس لئے کھارہے ہیں کہ اپنی اولاد سے ملاقات کرسکیں۔

میری اہلیہ نے اپنی مرضی سے خلع لی، میں نے ان کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش بھی کی مگر ناکام رہا تاہم میں سمجھتا ہوں کہ اس کی سزا باپ اور بیٹے کے رشتے کو نہیں ملنا چاہئیے، میں نے اپنے بیٹے سے ملاقات کے لئے صرف قانونی طریقہ اختیار نہیں کیا بلکہ سابق اہلیہ کے رشتے داروں سے لے کر مشترکہ دوستوں تک سب سے رابطے کرکے ان کو اپنا درد بیان کیا، میں نے اپنی اہلیہ کو دو خطوط بھی لکھے جن میں کہا کہ شوہر اور بیوی کے درمیان نااتفاقی کا مطلب ماں اور باپ میں نااتفاقی نہیں ہوتا، ایک بیٹے کا حق ہے کہ اسے ماں اور باپ دونوں کا ساتھ ملے، گو ہم میاں بیوی کے طور پر الگ ہوچکے ہیں مگر بطور ماں باپ ایک ساتھ بچے کی تربیت کرسکتے ہیں، میں نے Co-Parenting کی تجاویز پیش کیں، میں نے یہانتک پیش کش کی کہ آپ پاکستان کے کسی بھی شہر میں رہیں، میں تعلیم اور روزگار تک آپ کی سپورٹ کروں گا، ہم اپنے بیٹے کو ماں اور باپ دونوں کی کمی نہیں ہونے دیں گے مگر انہوں نے بوجوہ کسی پیش کش کو تسلیم نہیں کیا۔

اور ان کی جانب سے ایسا کرنے کی ایک وجہ بھی سامنے آئی، میری سابق اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ صرف عدالت کے حکم پر مجھے اپنے بیٹے سے ملاقات کی اجازت دیں گی، ایک بار جب میں نے عدالت میں ملاقات کی درخواست دی تو ان کے وکیل نے جواب جمع کرایا کہ وہ میرے بیٹے کو لے کر دوسرے شہر چلی گئی ہیں اور یوں ہر بار کسی نہ کسی وجہ سے میری ہر درخواست بے کار گئی، میں نے اپنے وکیل کی وساطت سے اپنی سابق اہلیہ کو بیٹے کی مشترکہ تربیت کا ایک پلان بھی بناکر بھیجا، میری خواہش تھی کہ اس پلان کو ہم اتفاق رائے کے بعد عدالت میں جمع کراتے اور مسئلہ حل ہوجاتا مگر شاید یہ حل بھی ان کی سمجھ نہیں آیا، میں عدالت کے ذریعے ادا کی جانے والی مینٹیننس کی رقم سے اپنے بیٹے کے تعلیمی و دیگر اخراجات پورے کررہا ہوں مگر مجھے اس سے ملنے کا حق نہیں دیا جارہا، المیہ یہ ہے کہ اگر حق مل بھی گیا تو پاکستانی قانون کے تحت میں اپنے بیٹے کے لئے ایک باپ ہونے کا کردار ادا نہیں کرسکتا بلکہ شاید مجھے پوری زندگی اپنے بیٹے کے لئے ایک وزیٹر یا فنانسر ہی رہنا ہوگا، اس بات کے تصور سے بھی تکلیف ہوتی ہے مگر یہ حق بھی مل جائے تو فی الحال غنیمت ہے۔

اپنے اس معاملے کے دوران، ان ڈیڑھ سالوں میں سینکڑوں اور ہزاروں نان کسٹوڈیل والدین سے ملا، ان میں مائیں بھی شامل ہیں اور باپ بھی اور ان سب کا یہی دکھ تھا کہ عدالت برسوں دھکے کھانے کے بعد بچوں سے ملاقات کی اجازت دیتی ہے اور یہ ملاقاتوں کا سلسلہ کسی بھی وقت معطل ہوجاتا ہے اور پھر نئے سرے سے جدوجہد کرنا پڑتی ہے، پاکستان کی عدالتوں میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں رائج حضانت کا قانون غیراعلانیہ طور پر نافذ ہے کہ سات سال کی عمر تک لڑکا اور بلوغت تک لڑکی باپ کی کسٹڈی تک میں نہیں دی جائے گی جبکہ پاکستان میں موجود گارجین اینڈ وارڈ ایکٹ میں ایسا کوئی اصول نہیں بلکہ پاکستان میں نافذ 1890 کے قانون کے مطابق جہاں بچے کی ویلفیئر اچھی ہوگی، بچے کی کسٹڈی اسی کے پاس ہوگی تاہم اصلاحات کے متقاضی اس قانون پر بھی شاید ٹھیک سے عمل نہیں ہوتا۔

مجھ سے ایسے باپ ملے جو برسوں سے اپنے بچوں سے ایک ملاقات نہ کرسکے، راولپنڈی کورٹ میں ایک غریب باپ ملا جو آٹھ برسوں سے اپنے بچوں سے ملاقات کے لئے چکر کاٹ رہا تھا اور تھک ہار کر وہ کورٹ کے باہر ایک پلے کارڈ لے کر کھڑا تھا جس پر لکھا تھا کہ اس سے پہلے کہ میرے بچے مجھے بھول جائیں، خدارا مجھے ان سے ملوادیں، مجھے وہ باپ کبھی نہیں بھولتا جو پاکستان کا ایک معروف بزنس مین ہے، اس کی بیوی نے جب خلع لی تو بیٹا دوسال کا تھا، اس کو کورٹ کے فیملی روم میں بچے سے ملاقات کا وقت جلدی مل گیا تاہم وہ کورٹ کے فیملی روم کے اندھیرے اور ڈراؤنے ماحول میں بچے سے نہیں ملنا چاہتا تھا تو اس نے ایک بڑی چھتری، کرسی اور ٹیبل خریدی اور کورٹ روم کے باہر اسے رکھ کر کافی اہتمام سے اپنے بیٹے سے ملاقات کرتا، ڈیڑھ سال ملاقات ہوتی رہی، ڈیڑھ سال بعد اس کے بیٹے نے اپنے باپ کے چہرے پر یہ کہہ کر تھپڑ ماردیا کہ آپ گندے ہیں، میں نے اس دن کے بعد اس شخص کو بہت کم کسی سے بات کرتے دیکھا ہے اور بہت وہ بہت تیزی سے بوڑھا ہورہا ہے، مجھے کراچی میں ایک ایسی ماں بھی ملی جو 15 سال سے جدوجہد کررہی ہے کہ اپنے دو بچوں سے ملاقات کرے، شوہر نے اسے طلاق دی اور بچوں کو لے کر چلاگیا اور ہر کچھ عرصے میں اپنا پتہ بدل لیتا ہے، کوئی قانون اس بے بس ماں کی مدد نہیں کرپارہا۔

مجھے علم ہوا کہ پاکستان کے جج پہلے باپ کو حکم دیتے ہیں کہ وہ بچے کے لئے عبوری مینٹیننس ادا کرے، پھر جب سالوں بعد مینٹیننس کا حتمی فیصلہ آتا ہے تو کچھ کیسز میں یہ عبوری مینٹیننس سے دگنا نہیں تو کافی زیادہ ہوتا ہے اور عدالت، شوہر اور بیوی کی علیحدگی کے دن سے اضافی رقم شمار کرتی ہے اور یوں اچانک یہ رقم لاکھوں میں بن جاتی ہے، گو اپیل کا حق ہوتا ہے مگر یہ بھی کچھ وکیلوں کی کمائی کا ایک ذریعہ ہے، بہرحال ابھی حالیہ دنوں میں ایک معروف پوڈکاسٹر کے ساتھ یہی مسئلہ ہوا، وہ پابندی سے عبوری مینٹیننس ادا کررہا تھا اور اچانک حتمی فیصلے میں مینٹیننس کی زیادہ ادائیگی کا فیصلہ آیا اور اس کی بیوی سے علیحدگی سے اب تک یہ اضافی رقم 25 لاکھ روپے بن رہی ہے جس کی فوری ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں وہ عدالتی مفرور بھی قرار دیا جاسکتا ہے، یہ صورت حال انتہائی گھمبیر ہے اور وہ کافی پریشان ہے۔

مجھے علم ہوا کہ ایک جج نے میٹروبس کے ایک ملازم جس کی تنخواہ 50 ہزار کے لگ بھگ تھی، 60 ہزار روپے مینٹیننس لگادی، اس نے نظرثانی کی درخواست دی تو 75 ہزار روپے مینٹیننس کردی، اس غریب نے چند ماہ ادھار لے کر یہ ادائیگی کی اور عدم ادائیگی کے بعد اب وہ اڈیالہ جیل میں ہے، مجھے علم ہوا کہ اگر عدالتی حکم کے باوجود ماں، بچوں کی باپ سے ملاقات نہ کروائے تو بہت سارے کیسز میں عدالت ماں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی، اسلام آباد کے ہی ایک کیس میں عدالت نے سات بار ماں کو بچوں سے باپ کی ملاقات کا حکم دیا، ساتوں بار ملاقات نہیں ہوئی، باپ نے ساتوں بار توہین عدالت کی درخواست دی تو فیملی کورٹ کے جج نے کہا کہ توہین عدالت ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتی، باپ ہائی کورٹ گیا تو وہاں سے بھی یہی حکم آیا، دوسری جانب اسی عدالت میں ایک باپ ملاقات کے بہانے بچوں کو اپنے ساتھ، اپنے گھر لے گیا، ماں نے بچوں سے ملاقات کی درخواست اور پھر ملاقات نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواست دی اور عدالت نے یہ درخواست قبول کرکے پولیس کے ذریعے بچوں کو باپ سے “بازیاب” کرایا، یہ دہرا نظام لاکھوں ایسے بچوں کی زندگی تباہ کررہا ہے جو محض انا کے قیدی ہیں۔

مجھے دیہی علاقے کا ایک مزدور کبھی نہیں بھولتا جو پانچ ہزار روپے ماہانہ مینٹیننس 10 سالوں سے دے رہا ہے اور اس کا بیٹا اس سے نفرت کرتا ہے، جب یہ مزدور مجھ سے ملا تھا تو زاروقطار رویا تھا، میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور نجانے کہاں کہاں ایسے درجنوں باپوں کو جانتا ہوں جو چھپ چھپ کر اپنے بچوں کو دیکھنے جاتے ہیں کیونکہ اگر اچانک ملنے پہنچ گئے تو ماں ان کے خلاف درخواست دے سکتی ہے اور عدالت کسی بھی قسم کا سخت ایکشن لے سکتی ہے، میں مختلف مواقعوں پر ایسے باپوں کے ساتھ خود بھی گیا ہوں، کبھی ہم کسی پارک کے باہر گاڑی میں بیٹھے تو کبھی کسی اسکول کے باہر ۔۔ اس دوران میں نے ان باپوں کی اپنے بچوں سے محبت کے حوالے سے باتیں سنی ہیں، محبت کی یہ کہانیاں کبھی سامنے نہیں آئی ہیں، ان جذبات اور احساسات کو کبھی لکھا نہیں گیا ہے، یہ وہ گونگی داستانیں ہیں جن کو سننے میں بھی کسی کی دلچسپی نہیں اور سنانے والے بھی شاید ہر کسی کو نہیں سناپاتے کیونکہ مرد باہر سے بہت مضبوط ہوتا ہے۔

پاکستان میں گارجین اینڈ وارڈ ایکٹ 1890 کے دور کا ہے اور یہ 2026 ہے، 135 سال پرانا یہ قانون پاکستان میں رائج ہے، اس دوران بچوں کی نفسیات سے تربیت تک پر بہترین ریسرچ ہوچکی ہے، پاکستان میں انگریزوں کے دور کا یہ قانون بدلنا چاہئیے، دنیا Co-Parenting کی جانب جارہی ہے اور ہم باپ کی شفقت یا ماں کی محبت سے محروم لاکھوں ایسے Broken Children اپنے سماج میں پال رہے ہیں جن کی ٹوٹی پھوٹی شخصیت پوری زندگی ان کے ساتھ چلتی ہے، پاکستان میں اس قانون کو اب بدلنا ہوگا اور ایسا قانون بننا ہوگا کہ جس میں بطور میاں بیوی تو کوئی الگ ہوسکتا ہے مگر بطور ماں باپ ان کا کردار بچے کے لئے ہمیشہ ایسا مؤثر رہے کہ ان دونوں کی علیحدگی کے فیصلے کا بچے پر کوئی اثر نہ پڑے۔

اس موضوع پر اب میں مستقل لکھوں گا اور ایسی کہانیاں اور معاملات سامنے لانے کی کوشش کروں گا جو معاشرے کا وہ درد بیان کرتی ہیں جس کی کوئی دوا کو تیار نہیں، میں بے شمار بچوں سے بھی ملا، قانون اور نفسیات کے ماہرین سے واسطہ پڑا تو میں کوشش کروں گا کہ اس موضوع پر لکھتا رہوں، ہمیں ان بچوں کے حقوق کے لئے کھڑا ہونا ہوگا جن کو باپ یا ماں ایک دوسرے کے خلاف گمراہ کرتے ہیں اور وہ معصوم زندگیاں کھیلنے کودنے کے بجائے تنازعات کے ساتھ اپنی زندگیوں کی ابتدا کرتے ہیں، پاکستان میں بچوں کے حقوق کا ایسا قانون ہونا چاہئیے جو ماں یا باپ میں سے کسی ایک کے بجائے صرف بچوں کے مفاد کو ترجیح دے۔

عثمان غازی

25/02/2024
جس روز عورتوں کو سمجھ آ گئی کہ مرد کی دنیا میں ادھ ننگا گھومنا "ویمن ایمپاورمنٹ" نہیں، اس روز وہ واقعی مرد سے آگے بڑھ جا...
26/09/2023

جس روز عورتوں کو سمجھ آ گئی کہ مرد کی دنیا میں ادھ ننگا گھومنا "ویمن ایمپاورمنٹ" نہیں، اس روز وہ واقعی مرد سے آگے بڑھ جائیں گی۔

عورت کی ٹانگیں ننگی رکھنا، اس کے گریبان کو کھلا رکھنا، مغرب کی سخت سردیوں میں اسکو ہلکے لباس میں پارٹی کروانا جب کہ اسی پارٹی میں مرد تھری پیس میں ملبوس ہو، یہ کسی عورت کی دنیا نہیں ہو سکتی ۔ ۔ ۔ یہ مرد کی بنائی اور سجائی دنیا ہے، جس میں اس نے عورت کو باربی ڈول بنا کر "ان_ڈریس می اینی وئیر" والا گانا دیا ہے۔ ۔

عورت، مرد کی اس دنیا کا مقابلہ مرد سے ویل کے نوٹوں سے جیتی معیشت سے کرنا چاہتی ہے۔ می ٹو اور کروڑوں مردوں کو اپنے جسم کی ادا اور جھلک بیچنے والی ماڈل بظاہر بہت پاورفل لگتی ہے مگر فوک وزڈم والے جانتے ہیں کہ ناچنے والی کے پاس گاوں کے سردار سے بھی زیادہ مال و دولت ہو، معاشرے کی ترتیب میں اسکا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ ۔

ہاں، یہ ڈیجیٹل ناچ ایک نیا تماشا ہے۔ اس میں عورت کے پاس اسی ناچنے والی جیسا پیسہ آنلائن آ رہا ہے تو اسکو دھوکہ ہو رہا ہے کہ میرا جسم تو محفوظ ہے۔ ۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ پرانے زمانے کی عورت کے جسم سے مرد کی لذت خیالوں میں جڑتی تھی۔ اب یہی لذت ویژوئل سے جڑ گئی ہے۔

ساری عورتیں کیمرے پر اپنے جنسی ابھار نہیں دکھا سکتیں، اس لیے یہ معاشی "ایمپاورمنٹ" ایسی عورتوں کے پاس جائیگی جو اپنے جیسیوں کو پروموٹ کرینگی۔ اور ڈاکٹر، آرکیٹیکٹ، سرجن، رائیٹر، معمار، گھردار، کاروباری عورتوں کی میمز بنائینگی اور حیا کے فطری پن کو دقیانوسی قرار دیں گی۔

آنے والی دنیا عورت کے لیے آسان نہیں مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ پہلے دنیا مرد کے ہاتھ میں تھی اور وہ ہر عورت کو نچانا چاہتا تھا۔ اب دنیا اسی ناچنے والی کے ہاتھ میں جا رہی ہے جو خود تو مرد سے ہر ناچ کے بدلے ہمیشہ کی طرح نوٹ وصول کریگی ، مگر عام عورت کی زندگی اور مسائل کبھی حل نہیں کریگی۔ ۔ ابھی دیکھ لیجیے کتنی "ناچ سے ایمپاورڈ عورتیں" دنیا میں بےحیائی کے فروغ کے علاوہ کچھ کر رہی ہیں؟

عام عورت کی زندگی پہلے سے زیادہ مشکل ہے، پہلے وہ ناچنے والی کو بےعزت، بے حیا سمجھ کر تسلی میں تھی کہ اسکا مرد کبھی اسکو اسکے برابر نہیں لا کھڑا کریگا۔ ۔ ۔ مگر اب جدید معاشرے میں ناچنے والی اپنے لیے "ایمپاورڈ ویمن" کا بیج خود میڈیا سے خرید کر اپنے سینے پر سجا لے گی۔ ۔ اور عام عورت کا گھر تباہ کر دیگی ۔

تحریر: محمود فیاض

13/09/2023
24/04/2023

#والدین کے لیے اہم پیغام...

22/04/2023

. ... اس مبارک موقع پر ایک اہم پیغام👇🏽👇🏽👇🏽 آپ کے نام ...

کمنٹس میں جواب ضرور لکھئے.
10/03/2023

کمنٹس میں جواب ضرور لکھئے.

06/01/2023

اک بار ضرور غور سے پڑھیں
جوانی میں انسان باپ کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے ، جیسے باپ کو ہمارے مسائل ، تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں ، یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا- کبھی کبھی ہم اپنے باپ کا موازنہ بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں ،
" اتنی محنت ہمارے باپ نے کی ہوتی ، بچت کی ہوتی ،کچھ بنایا ہوتا تو آج ہم بھی ...فلاں کی طرح عالیشان گھر ، گاڑی میں گھوم رہے ہوتے "
" کہاں ہو ؟ کب آؤ گے ؟ زیادہ دیر نہ کرنا " جیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتو سے لگتے ہیں .
" سویٹر تو پہنا ہے کچھ اور بھی پہن لو سردی بہت ہے " انسان سوچتا ہے کہ اولڈ فیشن کی وجہ سے والد کو باہر کی دنیا کا اندازہ نہیں .

اکثر اولادیں اپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں، گھر ، گاڑی، پلاٹ ، بینک بیلنس ، کاروبار اور اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال کر خود سرخرو ہو جاتے ہیں " ہمارے پاس بھی کچھ ہوتا تو اچھےاسکول میں پڑھتے، کاروبار کرتے "

اس میں شک نہیں ، اولاد کے لئے آئیڈیل بھی انکا باپ ہی ہوتا ہے لیکن کچھ باتیں جوانی میں سمجھ نہیں آتیں یا ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ،اسلئے کہ ہمارے سامنے وقت کی ضرورت ہوتی ہے ، دنیا سے مقابلے کا بھوت سوار ہوتا ہے ، جلد سے جلد سب کچھ پانے کی جستجو میں ہم کچھ کھو بھی رہے ہوتے ہیں جس کا احساس بہت دیر سے ہوتا ہے .

بہت سی اولادیں ، وقتی محرومیوں کا پہلا ذمہ دار اپنے باپ کو قرار دے کر ، ہر چیز سے بری الزمہ ہو جاتی ہیں .

وقت گزر جاتا ہے ، اچھا بھی برا بھی ، اور اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ انسان پلک جھپکتے ماضی کی کہانیوں کو اپنے ارد گرد منڈلاتے دیکھنا شروع کر دیتا ہے. جوانی، پڑھائی، نوکری شادی ،اولاد اور پھر وہی اسٹیج وہی کردار ، جو نبھاتے ہوئے ، ہر لمحہ ، اپنے باپ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ آ کر باپ کی ہر سوچ ،احساس ،فکر ، پریشانی ، شرمندگی اور اذیت کو ہم پر کھول کے رکھ دیتا ہے .

باپ کی کبھی کبھی بلا وجہ خاموشی، کبھی پرانے دوستوں میں بے وجہ قہقہے ، اچھے کپڑوں کو ناپسند کرکے ، پرانوں کو فخر سے پہننا ، کھانوں میں اپنی سادگی پر فخر ، کبھی کبھی سر جھکائے اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں میں مگن ہونے کی وجہ، کبھی بغیر وجہ تھکاوٹ کے بہانے سر شام بتی بجھا کر لیٹ جانا، نظریں جھکائے ، انتہائی محویت سے ڈوب کر قران کی تلاوت کرنا، سمجھ تو آنا شروع ہو جاتا ہے لیکن بہت دیر بعد، جب ہم خود راتوں کو جاگ جاگ کر ، دوسرے شہروں میں گئے بچوں پر آیت الکرسی کے دائرے پھونکتے ہیں .
جب ہم سردی میں وضو کرتے ہوئے اچانک سوچتے ہیں ، پوچھ ہی لیں "بیٹا آپ کے ہاں گرم پانی آتا ہے؟ "
جب قہر کی گرمی میں روم کولر کی خنک ہوا بدن کو چھو تی ہے تو پہلا احساس جو دل و دماغ میں ہلچل سی مچاتا ہے ، وہ " کہیں اولاد گرمی میں تو نہیں بیٹھی "

جوان اولاد کے مستقبل ، شادیوں کی فکر ، ہزار تانے بانے جوڑتا باپ ، تھک ہار کر اللّه اور اسکی پاک کلام میں پناہ ڈھونڈتا ہے ، تب یاد آتا ہے ، ہمارا باپ بھی ایک ایک حرف ،ایک ایک آیت پر رک رک کر بچوں کی سلامتی، خوشی، بہتر مستقبل کی دعائیں ہی کرتا ہوگا .

ہر نماز کے بعد ،اٹھے کپکپاتے ہاتھ، اپنی دعاؤں کو بھول جاتے ہونگے ، ہماری طرح ہمارا باپ بھی ایک ایک بچے کو ، نمناک آنکھوں سے اللّه کی پناہ میں دیتا ہوگا .

سر شام کبھی کبھی ، کمرے کی بتی بجھا کر ، اس فکر کی آگ میں جلتا ہوگا کہ میں نے اپنی اولاد کے لئے بہت کم کیا ؟
اولاد کو باپ بہت دیر سے یاد آتا ہے ، اتنی دیر سے کہ ہم اسے چھونے، محسوس کرنے ، اس کی ہر تلخی، اذیت، فکر کا ازالہ کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں . یہ ایک عجیب احساس ہے، جو وقت کے بعد اپنی اصل شکل میں ہمیں بےچین ضرور کرتا ہے . لیکن یہ حقیقتیں جن پر وقت پر عیاں ہو جائیں وہی خوش قسمت اولادیں ہیں .

اولاد ہوتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں باپ کا چھونا پیار کرنا ، دل سے لگانا، یہ تو بچپن کی باتیں ہیں . باپ بن کر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ، پتہ نہیں باپ نے کتنی دفعہ دل ہی دل میں ، ہمیں چھاتی سے لگانے کو بازو کھولے ہونگے ؟ پیار کے لئے اس کے ہونٹ تڑپے ہوں گے ، اور ہماری بے باک جوانیوں نے اسے یہ موقع نہیں دیا ہوگا .

ہم جیسے درمیانے طبقے کے سفید پوش لوگوں کی ہر خواہش، ہر دعا ، ہر تمنا ، اولاد سے شروع ہو کر اولاد پر ختم ہو جاتی ہے .
لیکن کم ہی باپ ہوں گے جو یہ احساس اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں دلا سکے ہوں . یہ ایک چھپا ، میٹھا میٹھا درد ہے جو باپ اپنے ساتھ لے جاتا ہے ،اولاد کے لئے ، بہت کچھ کر کے بھی کچھ نہ کرسکنے کی ایک خلش ، آخری وقت تک ایک باپ کو بے چین رکھتی ہے ، اور یہ سب بہت شدت سے محسوس ہوتا ہے جب ہم باپ بنتے ہیں . بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں . تو باپ کے دل کا حال جیسے قدرت ہمارے دلوں میں منتقل کر دیتی ہے .

اولاد اگر باپ کے دل میں اپنے لئے محبت کو کھلی آنکھوں سے، وقت پر دیکھ لے تو شاید اسے یقین ہو جائے کہ دنیا میں باپ سے زیادہ اولاد کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔
تحریر: ارشاد الحق

06/01/2023

#باپ کی #بیٹیوں کے لیے قیمتی #نصیحت

کلام= مولانا ابو جعفر صاحب
آواز= سمیہ غزالہ صاحبہ

Address

F. E. Sons Arcade, Koral Interchange, Service Road East, Expressway
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Justice for Fathers & Children posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share