Justice for Fathers & Children

Justice for Fathers & Children

Share

Father..! a son's first hero.. a daughter's first love..

25/02/2024
26/09/2023

جس روز عورتوں کو سمجھ آ گئی کہ مرد کی دنیا میں ادھ ننگا گھومنا "ویمن ایمپاورمنٹ" نہیں، اس روز وہ واقعی مرد سے آگے بڑھ جائیں گی۔

عورت کی ٹانگیں ننگی رکھنا، اس کے گریبان کو کھلا رکھنا، مغرب کی سخت سردیوں میں اسکو ہلکے لباس میں پارٹی کروانا جب کہ اسی پارٹی میں مرد تھری پیس میں ملبوس ہو، یہ کسی عورت کی دنیا نہیں ہو سکتی ۔ ۔ ۔ یہ مرد کی بنائی اور سجائی دنیا ہے، جس میں اس نے عورت کو باربی ڈول بنا کر "ان_ڈریس می اینی وئیر" والا گانا دیا ہے۔ ۔

عورت، مرد کی اس دنیا کا مقابلہ مرد سے ویل کے نوٹوں سے جیتی معیشت سے کرنا چاہتی ہے۔ می ٹو اور کروڑوں مردوں کو اپنے جسم کی ادا اور جھلک بیچنے والی ماڈل بظاہر بہت پاورفل لگتی ہے مگر فوک وزڈم والے جانتے ہیں کہ ناچنے والی کے پاس گاوں کے سردار سے بھی زیادہ مال و دولت ہو، معاشرے کی ترتیب میں اسکا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ ۔

ہاں، یہ ڈیجیٹل ناچ ایک نیا تماشا ہے۔ اس میں عورت کے پاس اسی ناچنے والی جیسا پیسہ آنلائن آ رہا ہے تو اسکو دھوکہ ہو رہا ہے کہ میرا جسم تو محفوظ ہے۔ ۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ پرانے زمانے کی عورت کے جسم سے مرد کی لذت خیالوں میں جڑتی تھی۔ اب یہی لذت ویژوئل سے جڑ گئی ہے۔

ساری عورتیں کیمرے پر اپنے جنسی ابھار نہیں دکھا سکتیں، اس لیے یہ معاشی "ایمپاورمنٹ" ایسی عورتوں کے پاس جائیگی جو اپنے جیسیوں کو پروموٹ کرینگی۔ اور ڈاکٹر، آرکیٹیکٹ، سرجن، رائیٹر، معمار، گھردار، کاروباری عورتوں کی میمز بنائینگی اور حیا کے فطری پن کو دقیانوسی قرار دیں گی۔

آنے والی دنیا عورت کے لیے آسان نہیں مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ پہلے دنیا مرد کے ہاتھ میں تھی اور وہ ہر عورت کو نچانا چاہتا تھا۔ اب دنیا اسی ناچنے والی کے ہاتھ میں جا رہی ہے جو خود تو مرد سے ہر ناچ کے بدلے ہمیشہ کی طرح نوٹ وصول کریگی ، مگر عام عورت کی زندگی اور مسائل کبھی حل نہیں کریگی۔ ۔ ابھی دیکھ لیجیے کتنی "ناچ سے ایمپاورڈ عورتیں" دنیا میں بےحیائی کے فروغ کے علاوہ کچھ کر رہی ہیں؟

عام عورت کی زندگی پہلے سے زیادہ مشکل ہے، پہلے وہ ناچنے والی کو بےعزت، بے حیا سمجھ کر تسلی میں تھی کہ اسکا مرد کبھی اسکو اسکے برابر نہیں لا کھڑا کریگا۔ ۔ ۔ مگر اب جدید معاشرے میں ناچنے والی اپنے لیے "ایمپاورڈ ویمن" کا بیج خود میڈیا سے خرید کر اپنے سینے پر سجا لے گی۔ ۔ اور عام عورت کا گھر تباہ کر دیگی ۔

تحریر: محمود فیاض

13/09/2023
24/04/2023

#والدین کے لیے اہم پیغام...

22/04/2023

. ...
اس مبارک موقع پر
ایک اہم پیغام👇🏽👇🏽👇🏽 آپ کے نام ...

10/03/2023

کمنٹس میں جواب ضرور لکھئے.

06/01/2023

اک بار ضرور غور سے پڑھیں
جوانی میں انسان باپ کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے ، جیسے باپ کو ہمارے مسائل ، تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں ، یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا- کبھی کبھی ہم اپنے باپ کا موازنہ بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں ،
" اتنی محنت ہمارے باپ نے کی ہوتی ، بچت کی ہوتی ،کچھ بنایا ہوتا تو آج ہم بھی ...فلاں کی طرح عالیشان گھر ، گاڑی میں گھوم رہے ہوتے "
" کہاں ہو ؟ کب آؤ گے ؟ زیادہ دیر نہ کرنا " جیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتو سے لگتے ہیں .
" سویٹر تو پہنا ہے کچھ اور بھی پہن لو سردی بہت ہے " انسان سوچتا ہے کہ اولڈ فیشن کی وجہ سے والد کو باہر کی دنیا کا اندازہ نہیں .

اکثر اولادیں اپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں، گھر ، گاڑی، پلاٹ ، بینک بیلنس ، کاروبار اور اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال کر خود سرخرو ہو جاتے ہیں " ہمارے پاس بھی کچھ ہوتا تو اچھےاسکول میں پڑھتے، کاروبار کرتے "

اس میں شک نہیں ، اولاد کے لئے آئیڈیل بھی انکا باپ ہی ہوتا ہے لیکن کچھ باتیں جوانی میں سمجھ نہیں آتیں یا ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ،اسلئے کہ ہمارے سامنے وقت کی ضرورت ہوتی ہے ، دنیا سے مقابلے کا بھوت سوار ہوتا ہے ، جلد سے جلد سب کچھ پانے کی جستجو میں ہم کچھ کھو بھی رہے ہوتے ہیں جس کا احساس بہت دیر سے ہوتا ہے .

بہت سی اولادیں ، وقتی محرومیوں کا پہلا ذمہ دار اپنے باپ کو قرار دے کر ، ہر چیز سے بری الزمہ ہو جاتی ہیں .

وقت گزر جاتا ہے ، اچھا بھی برا بھی ، اور اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ انسان پلک جھپکتے ماضی کی کہانیوں کو اپنے ارد گرد منڈلاتے دیکھنا شروع کر دیتا ہے. جوانی، پڑھائی، نوکری شادی ،اولاد اور پھر وہی اسٹیج وہی کردار ، جو نبھاتے ہوئے ، ہر لمحہ ، اپنے باپ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ آ کر باپ کی ہر سوچ ،احساس ،فکر ، پریشانی ، شرمندگی اور اذیت کو ہم پر کھول کے رکھ دیتا ہے .

باپ کی کبھی کبھی بلا وجہ خاموشی، کبھی پرانے دوستوں میں بے وجہ قہقہے ، اچھے کپڑوں کو ناپسند کرکے ، پرانوں کو فخر سے پہننا ، کھانوں میں اپنی سادگی پر فخر ، کبھی کبھی سر جھکائے اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں میں مگن ہونے کی وجہ، کبھی بغیر وجہ تھکاوٹ کے بہانے سر شام بتی بجھا کر لیٹ جانا، نظریں جھکائے ، انتہائی محویت سے ڈوب کر قران کی تلاوت کرنا، سمجھ تو آنا شروع ہو جاتا ہے لیکن بہت دیر بعد، جب ہم خود راتوں کو جاگ جاگ کر ، دوسرے شہروں میں گئے بچوں پر آیت الکرسی کے دائرے پھونکتے ہیں .
جب ہم سردی میں وضو کرتے ہوئے اچانک سوچتے ہیں ، پوچھ ہی لیں "بیٹا آپ کے ہاں گرم پانی آتا ہے؟ "
جب قہر کی گرمی میں روم کولر کی خنک ہوا بدن کو چھو تی ہے تو پہلا احساس جو دل و دماغ میں ہلچل سی مچاتا ہے ، وہ " کہیں اولاد گرمی میں تو نہیں بیٹھی "

جوان اولاد کے مستقبل ، شادیوں کی فکر ، ہزار تانے بانے جوڑتا باپ ، تھک ہار کر اللّه اور اسکی پاک کلام میں پناہ ڈھونڈتا ہے ، تب یاد آتا ہے ، ہمارا باپ بھی ایک ایک حرف ،ایک ایک آیت پر رک رک کر بچوں کی سلامتی، خوشی، بہتر مستقبل کی دعائیں ہی کرتا ہوگا .

ہر نماز کے بعد ،اٹھے کپکپاتے ہاتھ، اپنی دعاؤں کو بھول جاتے ہونگے ، ہماری طرح ہمارا باپ بھی ایک ایک بچے کو ، نمناک آنکھوں سے اللّه کی پناہ میں دیتا ہوگا .

سر شام کبھی کبھی ، کمرے کی بتی بجھا کر ، اس فکر کی آگ میں جلتا ہوگا کہ میں نے اپنی اولاد کے لئے بہت کم کیا ؟
اولاد کو باپ بہت دیر سے یاد آتا ہے ، اتنی دیر سے کہ ہم اسے چھونے، محسوس کرنے ، اس کی ہر تلخی، اذیت، فکر کا ازالہ کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں . یہ ایک عجیب احساس ہے، جو وقت کے بعد اپنی اصل شکل میں ہمیں بےچین ضرور کرتا ہے . لیکن یہ حقیقتیں جن پر وقت پر عیاں ہو جائیں وہی خوش قسمت اولادیں ہیں .

اولاد ہوتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں باپ کا چھونا پیار کرنا ، دل سے لگانا، یہ تو بچپن کی باتیں ہیں . باپ بن کر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ، پتہ نہیں باپ نے کتنی دفعہ دل ہی دل میں ، ہمیں چھاتی سے لگانے کو بازو کھولے ہونگے ؟ پیار کے لئے اس کے ہونٹ تڑپے ہوں گے ، اور ہماری بے باک جوانیوں نے اسے یہ موقع نہیں دیا ہوگا .

ہم جیسے درمیانے طبقے کے سفید پوش لوگوں کی ہر خواہش، ہر دعا ، ہر تمنا ، اولاد سے شروع ہو کر اولاد پر ختم ہو جاتی ہے .
لیکن کم ہی باپ ہوں گے جو یہ احساس اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں دلا سکے ہوں . یہ ایک چھپا ، میٹھا میٹھا درد ہے جو باپ اپنے ساتھ لے جاتا ہے ،اولاد کے لئے ، بہت کچھ کر کے بھی کچھ نہ کرسکنے کی ایک خلش ، آخری وقت تک ایک باپ کو بے چین رکھتی ہے ، اور یہ سب بہت شدت سے محسوس ہوتا ہے جب ہم باپ بنتے ہیں . بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں . تو باپ کے دل کا حال جیسے قدرت ہمارے دلوں میں منتقل کر دیتی ہے .

اولاد اگر باپ کے دل میں اپنے لئے محبت کو کھلی آنکھوں سے، وقت پر دیکھ لے تو شاید اسے یقین ہو جائے کہ دنیا میں باپ سے زیادہ اولاد کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔
تحریر: ارشاد الحق

06/01/2023

#باپ کی #بیٹیوں کے لیے قیمتی #نصیحت

کلام= مولانا ابو جعفر صاحب
آواز= سمیہ غزالہ صاحبہ

05/01/2023

ہائی کورٹ کے احکامات پر تمام پرائیویٹ اور سرکاری سکولوں میں موسم سرما کی تعطیلات 9 جنوری 2023ء تک توسیع کر دی گئی ہے.
As per notification of School Education Department, Winter vacation will end on 08.01.2023 and consequently All Private and public Schools will open on 09.01.2023.

Photos from Justice for Fathers & Children's post 29/12/2022

سال 2023ء میں سرکاری تعطیلات کا نوٹیفکیشن

29/12/2022

#باپ جیسا...‼

22/12/2022
Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


F. E. Sons Arcade, Koral Interchange, Service Road East, Expressway
Islamabad