03/09/2026
…★ گارڈین عدالتیں اور بچوں کے حقوق: تحفظ یا پامالی؟ ★…
تحریر: عبدالرحمن ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، اسلام آباد
فیملی اور گارڈین عدالتوں کے قیام کا ایک اہم اور بنيادی مقصد معصوم اور نابالغ بچوں کے حقوق کا تحفظ تھا لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ عدالتیں اب بچوں کے حقوق اور ان کے مفاد کے تحفظ کے بجائے خود ان کی پامالی کا ایک باضابطہ ذریعہ بن چکی ہیں۔
آج صورتحال یہ ہے کہ والدین کے مابین علیحدگی کے بعد جب کوئی ایک فریق دوسرے کو بچے سے محروم کرنا چاہتا ہے، تو وہ گارڈین عدالت سے رجوع کی دھمکی دیتا ہے۔ کیوں؟!!
کیونکہ اسے بخوبی علم ہوتا ہے کہ ہمارے عائلی قوانین اور گارڈین عدالتی نظام کے اندر بچے تک رسائی یا ملاقات کے لیے صبرِ ایوب، عمرِ نوح اور خزانہٴ قارون بہرصورت مطلوب ہیں۔ اور یہ عدالتیں جنہیں فراہمئ انصاف کی مقدس ذمہ داری سونپی گئی تھیں، وہ بے جا پیچیدگیوں اور غیر معمولی تاخیر کے باعث ایک فریق کے لیے دوسرے پر ظلم کا ذریعہ بن چکی ہیں۔
علیحدگی کے بعد بچوں کو والدین میں سے کسی ایک سے جدا کر دینا نہ صرف انسانی بنیادوں پر ظلم ہے بلکہ یہ صریحاً قرآنی احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ربِ کریم کا ارشادِ گرامی ہے:
لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌ ۢ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوۡلۡوۡدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ
”نہ تو والدہ کو اس کے بچے کی وجہ سے تکلیف دی جائے اور نہ ہی باپ کو اپنے بچے کی وجہ سے تکلیف پہنچائی جائے۔“ ( البقرة: 233)
یہ فرمان الہی ہر منصف، قاضی، جج اور اس قانونی، عدالتی اور معاشرتی نظام کے لیے ایک واضح اور ابدی رہنما اصول ہے جو والدین اور بچوں کے حقوق کا تعیّن کرتا ہے۔ والدین کے درمیان علیحدگی کے بعد قرآن کا یہ فرمان انہیں ان باتوں کا پابند بناتا ہے کہ
① بچے کو اس کی ماں سے الگ کر کے ماں کو اذیت نہ دی جائے
② باپ کو اپنے بچے سے ملاقات، رسائی، تربیت اور شفقت سے محروم کر کے ذہنی یا جذباتی کرب میں مبتلا نہ کیا جائے
③ اور سب سے اہم یہ کہ بچے کو والدین کے باہمی تنازعات اور انا کی جنگ میں بطورِ ہتھیار (Weapon) استعمال نہ کیا جائے۔
پاکستان میں Guardian and Wards Act, 1890 اور Family Courts Act, 1964 کے تحت فیصلوں کا بنیادی معیار "Child's Best Interest" (بچے کی بہتری اور مفاد) رکھا گیا ہے۔ تاہم، عملی سطح پر درج ذیل نقائص نے اس کی روح کو بالکل مٹا دیا ہے:
①… بچے کی ملاقات کے لیے واضح قانون کا نہ ہونا:
فیملی کورٹ ایکٹ اور گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ میں غیر حاضن کے ساتھ ملاقات کا کوئی واضح قانون یا دفعہ موجود نہیں ہے. متبادل کے طور پر گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ ۱۲ اور فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 5 کے تحت شیڈول پر انحصار کیا جاتا ہے.
②… ملاقات کے نام پر مذاق:
ملاقات کا مقصد بچے کا والدین کے ساتھ فطری بندھن، محبت اور لگاؤ کو برقرار رکھنا ہے لیکن گارڈین عدالتوں میں عموماً مہینے میں صرف ایک یا دو بار، وہ بھی عدالتی احاطے جیسے غیر موزوں ماحول میں محض رسمی خانہ پوری کے لیے دو سے تین گھنٹے کی ملاقات کا حکم دیا جاتا ہے۔ یہ ماحول بچے اور غیر حاضن (Non-custodial Parent) کے درمیان کبھی بھی قدرتی اور جذباتی تعلق برقرار رکھنے نہیں دیتا نہ ہی اس سے ملاقات کا مقصد حاصلبہوتا ہے۔ حالانکہ خود اعلی عدالتوں نے متعدد نظائر میں عدالتی کمرہ، عدالتی ماحول، اور دو تین گھنٹے کے دورانیے کو غیرقانونی، غیرانسانی اور فطرت کے منافی قرار دے رکھا ہے. تاہم گارڈین عدالتیں ان نظائر کو یکسر نظر انداز کر دیتی ہیں جو آئین کی صریح خلاف ورزی ہے.
شرعی اور اخلاقی نقطہ نظر سے بھی غیر حاضن والد یا والدہ کی ملاقات کا معقول اور مناسب وقت، مقام اور دورانیہ مقرر ہونا لازمی ہے۔ شریعت اسلامیہ بچے کو والدین سے روزانہ بنیادوں پر ملاقات کا حق دیتی ہے اور اگر روزانہ کسی وجہ سے ممکن نہ ہو تو ہفتہ وار ملاقات تو بہرصورت لازم ہے.
③… مقدمات میں طوالت اور Parent Alienation:
فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 12A واضح طور پر چھ (06) ماہ کے اندر مقدمے کا فیصلہ کرنے کا پابند کرتی ہے، مگر خود عائلی اور گارڈین عدالتیں اس دفعہ کی پاسداری نہیں کرتیں۔ نتیجتاً کیس سالہا سال لٹکتے رہتے ہیں۔ اس طویل عرصے میں بچے کو ایک فریق کے پاس رکھ کر اس کا ذہن دوسرے والد /والدہ کے خلاف اس حد تک مسموم (Alienated) کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ہی سگے ماں یا باپ سے نفرت کرنے لگتا ہے۔
④ … احکامات پر عدم عملدرآمد اور قطعِ رحمی کا فروغ:
اگر خدا خدا کر کے ملاقات کا کوئی عبوری حکم جاری ہو بھی جائے تو فریق مخالف مختلف بہانے بنا کر ملاقات سے انکار کر دیتا ہے۔ عدالتی احکامات کی دانستہ خلاف ورزی پر توہینِ عدالت کی کوئی مؤثر سزا موجود نہیں، بلکہ محض دفعہ 100 کے وارنٹ پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
شرعی لحاظ سے کسی بچے کو اس کے والد یا والدہ سے جدا کرنے والے کو حضانت سے محروم کر دیا جاتا ہے اور یہ عمل "قطعِ رحمی" کے زمرے میں آتا ہے، جسے اسلام نے گناہِ کبیرہ قرار دیا ہے۔ لیکن ہمارے قانونی فریم ورک میں اس قبیح اور سنگین گناہ کا نہ کوئی تصور ہے اور نہ ہی کوئی سزا مقرر ہے.
⑤…بھیانک معاشرتی وسماجی اثرات
طلاق کی شرح میں تشویشناک اضافے کے باعث اس وقت ملک کے کروروں معصوم بچے والدین کی موجودگی اور ان کی زندگیوں میں یتیمی اور مسکینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اپنے ہی کسی ایک والدین کی شفقت سے محروم یہ بچے مہلک نفسیاتی عوارض، اعتماد میں کمی، احساسِ کمتری اور شخصیت کے نقائص کا شکار ہو رہے ہیں۔ معاشرے کا ایک مفید اور فعال شہری بننے کے بجائے یہ بچے ذہنی تناؤ، نشے، child abuse اور جرم کی دنیا کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔
پاکستان اقوامِ متحدہ کے حقوقِ اطفال کا معاہدہ (UN CRC - Articles 9 & 10) کا دستخط کنندہ ہے، جو بچے کو اپنے دونوں والدین سے باقاعدہ اور براہِ راست رابطے کا حق دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 35 ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ خاندان، ماں اور بچے کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
نہایت افسوسناک امر اور لمحہٴ فکریہ یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں، ان کی پارلیمانی قیادتوں، اراکین پارلیمنٹ، وزارتِ انسانی حقوق اور قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال (NCRC) نے اس سنگین معاملے کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا اور 136 سالہ قدیم قانون میں کسی قسم کی ترمیم یا اصلاحات کی ضرورت کو محسوس ہی نہیں کیا۔ یہی نہیں، بلکہ خود کو انسانی حقوق کے علمبردار کہلوانے والوں نے بھی اس اہم ترین موضوع پر کبھی لب کشائی کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔
حل اور مقننہ کی ذمہ داری
یہ سنگین صورت حال اس بات کی اشد متقاضی ہے کہ ہمارے ارباب اقتدار اور مقننہ فوری طور پر اس سنگین صورت حال کا نوٹس لیں اور حقوق اطفال پر مؤثر اور مثالی قانون سازی کریں.
قوانین میں ایسی ٹھوس، جامع اور متوازن اصلاحات کی جائیں تاکہ کوئی بھی معصوم بچہ والدین کی انا کی بھینٹ نہ چڑھے اور کوئی بھی باپ یا ماں اپنے ہی جگر گوشے کے دیدار سے محروم نہ ہو. وما علینا الا البلاغ!