05/09/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔
وجود باری تعالی /حقیقی یا خیالی
ایک فکر انگیز تحریر/بقلم خالد محمود ناظم . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
ہمارا اج کا موضوع بڑا ہی حساس اور نہایت ہی اہم ہے ۔جب ہم وجود باری تعالی سے متعلق کوئی بھی بات کرنے کے لیے قلم اٹھاتے ہیں تو سب سے پہلا خیال جو ذہن میں اتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات میں ظہور پذیر کئی ایسے واقعات ہیں، جو بظاہر یا خفیہ طور پر ہر وقت وجود پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ بعض چیزیں ایسی ہیں جن کو ہماری انکھ دیکھ سکتی ہے اور بعض ایسے ہیں جن کو ہماری انکھ دیکھ ہی نہیں سکتی اور بعض تو ایسے ہیں جو ہمارے خیال کی دسترس سے ہی باہر ہیں۔مثال کے طور پر خدا تعالی کا وجود، کائینات کی لا محدود وسعتیں ،انسانوں میں رزق کی تقسیم اور خدا کا اخرت کا تصور ۔ اس لیے ہم بحیثیت انسان،حتمی طور پر یہ دعوی قطعا" نہیں کر سکتے کہ کائنات میں ہر چیز ہماری سمجھ میں ا سکتی ہے۔ اس میں کوئی حکمت پوشیدہ ہے یا نہیں، ہم نہیں جان سکتے۔ لیکن انسانی ذہن کی ایک بہت بڑی خصوصیت یہ ہے، کہ وہ ہر وقت کسی نہ کسی دیدہ و نادیدہ چیزوں کی کھوج میں لگا رہتا ہے ۔اس کے سامنے یہ سوال بڑا ہی اہم سوال ہے کہ کیا یہ کائنات جو اتنی بڑی وسعت رکھتی ہے، اس کا بنانے والا کوئی ہے یا یہ خود بخود بن گئی۔ اوپر بیان کردہ سطور میں، میں نے یہ عرض کی ہے کہ انسانی ذہن کئی ایسی چیزوں سے، جو اس کی دسترس سے ہی باہر ہیں ان کو بیان کرنے سے ہی قاصر ہے۔ یہ سوال ہمارا اج کا نہیں بلکہ روز افرینش سے ہی چلا آ رہا ہے کہ جب وہ تن تنہا غاروں اور جنگلوں کا باشندہ تھا۔ شدید موسمی تغیرات میں،بھوک ننگ اور خوف کی ایمرجینسی میں،پانیوں میں سفر کے دوران شدید طوفانوں کی زد میں جہاں وہ خود کو بے بس لاغر اور کمزور پاتا ، اپنی سروایول اور تحفظ کے لئے کسی مافوق الفطرت ہستی سے مدد کا خواہاں ہوتا۔جہاں سب سہارے ٹوٹ جاتے وہاں وہ ایک احساس ضرور اپنے پہلو بہ پہلو پاتا جو اس کے نفس کے اندر ہی بلٹ ان تھا کہ ضرور کوئی نہ کوئی اسکی مدد کو پہنچے گا ۔ یہ احساس،یہ انر فیلنگز کسی عقیدے مذہب یا عقیدت کے تحت نہیں تھیں بلکہ تحفظ کے فطری جذبے اور اس کی اپنی سوچ کے تحت تھیں۔ یہاں سے ہی اس سوال کا جواب شروع ہوتا ہے کہ وہ کونسی ایسی ان دیکھی قوت تھی جو اس حالت میں بے سہاروں کو سہارا اور لاغر اور بے بس لوگوں کیلئے زندگی کا پیغام تھی۔ وہ اس ہستی کو ڈھونڈنے کے لیے سرگرداں ہو گیا ۔اس وحشی اور نابلد انسان نے اپنے سامنے اور ارد گرد کئی ایسی محیر العقول (جاندار اور بے جان ) اشیاء کو دیکھا جن میں اسکو اپنے اندر ان بلٹ پرستش کے اظہار کے مواقع نظر آئے۔ لہزا وہ ان کی پرستش میں لگ گیا۔وہ لا شعوری طور پر خدا بناتا گیا اور لا شعوری طور پر ان کے سامنے جھکتا چلا گیا۔وہی انسان کئی صدیاں غاروں اور جنگلوں میں
گزارنے کے بعد کئی تہذیبوں کو اختیار کرتے ہوئے بستیوں اور شہروں میں آباد ہوا تو اس کی ضروریات نے نیا رخ اختیار کر لیا۔ اس نے ایک عقیدے اور مذہب کی ضرورت کو محسوس کیا اور اس کے خیال کے مطابق جو درست تھا اپنا لیا۔ وہ لا شعور سے شعور میں داخل ہوا۔اسکے فطری جذبوں نے حقیقت کا روپ دھارا۔اور اپنے خ*ل سے باہر کی دنیا کا سفر شروع کیا اور رفتہ رفتہ وہ آگے سے آگے کی طرف بڑھتا چلا گیا۔
وہ تحقیقات کے نئے دور میں داخل ہوا اور حیرت انگیز طور پر کامیابیاں سمیٹتا چلا گیا۔اس کے اس سفر نے کئی ایجز عبور کیں۔پتھر کے زمانے سے گولڈن ایج تک کا سفر۔اب وہ سوک سینس کے اس دور میں ہے جس میں پرانے دیوتاؤں اور پریوں کی کہانیاں نہیں بلکہ ٹھوس دلایل کی بنیاد پر اس کو مسائل کا حل چاہیے۔وہ بار بار کائینات کی لا محدود وسعتوں کو دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ کس نے اسے بنایا۔اب وہ زمینی راستوں سے ہٹ کر خلائی راستوں سے واقف ہے۔اب وہ اپنی زمین کے اوپر اپنا آسمان دیکھ چکا ہے۔لیکن سوال اپنی جگہ پر قائم ہے کہ خدا نے کائینات کو بنایا یا کائینات نے خدا بنایا۔ انسان کوخدا نے بنایا یا انسان نے خدا کو تخلیق کیا۔اگر وہ حقیقت میں کوئی تشخص رکھتا ہے تو سامنے کیوں نہیں آتا؟ اس طرح کے سوالات اج بھی انسان کو پریشان کر دیتے ہیں ۔آئیں جدید سائنس کی روشنی میں ہم ان سوالات کے جوابات ڈھونڈتے ہیں۔ہمارے خیال کے مطابق کائینات کی تخلیق اور اس کا انتظام اور میکنزم اس طرح کا ہے، کہ وہ کسی نہ کسی خالق کے وجود کا اقرار کر رہا ہے۔ اور نہ صرف اقرار کر رہا ہے بلکہ اس خالق کی براہ راست مداخلت کے بغیر وہ نظام شاید چل ہی نہیں سکتا ۔اب ہم اتے ہیں اپنی ذاتی تحقیق کے اسی سوال پر کہ اگر وہ خالق اپنی مادی یا غیر مادی کسی بھی حیثیت میں "حئ القیوم " ہے تو سامنے کیوں نہیں اتا اور دکھائی کیوں نہیں دیتا؟ ۔ اس سوال کا مختصرا"جواب یہ ہے کہ وہ سامنے بھی آتا ہے اور دکھائی بھی دیتا ہے مگر اس راز کو پانے کے لئے ذرا زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔مورس بوکائلے جو غالبا"عیسائی پادری تھا اور بعد میں مسلمان ہو گیا، نے اپنی کتاب" بائیبل،قرآن اور سائنس" میں یہ حقیقت مسلمہ طور پر بیان کر دی ہے کہ"حقائق بالآخر اپنے وجود کو ظاہر کر دیتے ہیں خواہ لوگ ان کی راہ میں کتنی ہی رکاوٹیں کیوں نہ ڈالیں" اگر ہم قلب سلیم رکھنے والے لوگ ہوں اور تاریخی واقعات سے واقفئت رکھتے ہوں تو موسی کے تاریخی واقعہ کوہ طور کا مطالعہ ضرور کریں " حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اشتیاقِ الٰہی میں عرض کیا کہ "اے رب! مجھے اپنا دیدار کرا تاکہ میں تجھے دیکھ سکوں"۔ [1, 2, 3, 4]
تجلی اور بے ہوشی کا واقعہ
اللہ کا جواب: ارشاد ہوا کہ "تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا، لیکن اس پہاڑ کی طرف دیکھ، اگر یہ اپنی جگہ برقرار رہا تو تو مجھے دیکھ سکے گا"۔ [1]
پہاڑ کا ریزہ ریزہ ہونا: جب رب العزت نے پہاڑ پر اپنی تجلی ظاہر کی، تو وہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر زمین بوس ہو گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ ہیبت ناک منظر دیکھ کر بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ [1, 2]
توبہ و استغفار: ہوش میں آنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پکارا کہ "تو پاک ہے، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں"۔ اس واقعہ میں ایک چیز جو بطور تحقیق کنندہ میرے سامنے ائی وہ یہ ہے کہ اس واقعہ سے پہلے جب موسی علیہ السلام کو نبوت عطا ہوئی تو درخت پر یہی تجلی کار فرما تھی اور موسی علیہ السلام بھی سامنے کھڑے تھے اس وقت کیوں نہ درخت جلا اور نہ موسی بے ہوش ہوئے۔ تو اس کا جواب میری نظر میں کچھ یوں سامنے ایا کہ اللہ تعالی جب چاہتا ہے جس طرح چاہتا ہے چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیتا ہے اس وقت نازل ہونے والی تجلی کی مقدار شاید اتنی ہی تھی کہ جس سے ہر چیز اپنی ہیت میں برقرار رہے اور طور کے واقعہ پر چونکہ مو سی علیہ السلام نے اللہ کے پورے وجود کو دیکھنے کا تقاضہ کیا تو تجلی کی مقدار اتنی زیادہ تھی کہ ہر چیز اس کی لپیٹ میں ا کر بھسم ہو گئی ۔اب ہم ایک بار پھر اپنے سوال کی طرف لوٹتے ہیں یہ دیکھتے اور مشاہدہ کرتے ہوئے کہ اللہ کی ذات موجود تو ہے اور اس سے انکار کی گنجائش بھی باقی نہیں
اس خالق نے خود اپنی قدرت سے اس سوال کا جواب دے دیا ہے کہ تمہاری حیثیت اس قابل نہیں کہ اس کی تجلی کو برداشت کر سکے۔ اس کا وجود ظاہریت میں مخلوقات کے سامنے نہ انا ہی ان کے لئے فائدہ مند اور نفع بخش ہے۔ وہ سامنے نہ آ کر بھی ہر وہ کام بڑے احسن طریقے سے کر رہا ہے جو وہ سامنے ا کر کر سکتا تھا ۔ چلو ہم اس فیکٹ کو ایک اور اینگل سے دیکھتے ہیں۔ یہ بات ہر ذی شعور کے لئے اظہر من الشمس ہے کہ بہت سی کائناتی قوتیں ایسی ہیں جو غیر مادی حیثیت کے ساتھ خفیہ طور پر ، سامنے نہ اتے ہوئے بھی اپنا کام سرانجام دے رہی ہیں ان کو پروف کرنے کی بھی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ یہ تسلیم شدہ حقیقت بن کر سامنے آچکی ہیں، ہم ہر وقت ان کا مشاہدہ اپنی ان انکھوں سے کرتے رہتے ہیں کہ وہ ہیں اور پس پردہ اپنا کام سر انجام دے رہی ہیں۔ ان پوشیدہ قوتوں میں سے سب سے بڑی قوت جو انسان نے دریافت کی ہے وہ کائنات کے بنیادی ذرہ ایٹم کی ہے۔ذرا اس کی حیئت ترکیبی میں چھپی ہوئی دنیا کا جائزہ لیں تو انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔اس میں حیات بھی ہے اور موت بھی اور یہ انسان کی صوابدید ہے کہ وہ اس کو کس مقصد کے لیے استعمال کر کے نتائج برآمد کرتا ہے۔
سائنسدان اج کائنات کے سر بستہ رازوں کو افشا کرنے کی تگ و دو میں ایٹم اور مالیکیول سے بھی بڑی حیرت انگیز دریافت کے قریب ترین پہنچ چکا ہے بلکہ جیسے اوپر بیان ہو چکا کہ شاید وہ اس کو پا بھی چکا ہے۔اج کے سائنس دان کی تحقیق یہ کہہ رہی ہے کہ ایٹم جیسی خفیہ طاقتوں کے پیچھے ایک اور بہت بڑی مؤثر خفیہ طاقت کار فرما ہے جو ایٹم سمیت اس سارے نظام کو واچ کر رہی ہے اور براہ راست تمام کائناتی قوتوں کو آزادانہ کنٹرول کرتی ہے ۔ اب یہ خیال کرنا کہ یہ فینامینہ کیسے اور کن اشکال میں کائیناتی سر بستہ رازوں کی صورت میں عمل پزیر ہے ان کے لئے معمہ بنا ہوا ہے ۔اپنی تیز ترین کوششوں کے باوجود کوئی نہیں جان سکا کہ یہ غیر مرعی طاقت کا لا محدود ذخیرہ جو کبھی بگ بینگ کا باعث اور کبھی بلیک ہول کی صورت میں منتقل ہو جاتا ہے۔کیسے عمل پزیر ہے؟۔اب یہاں سوال یہ ہے کہ جیسے سائنس بھی اس لا محالہ قوت سے انکار نہیں کرتی بلکہ اس قوت کی شدت،گہرائی اور گیرائی پر انگشت بدنداں ہے جو ابھی تک اس کی سمجھ میں نہیں آ رہی، اور ہمارے نقطۀ نظر سے کبھی نہیں آ سکے گی۔ تو کوئی وجہ مانع نہیں کہ اس لا محالہ اور لا محابہ قوت کو اپنا خالق اور مالک مان کر اس کے سامنے سرینڈر ہو جائیں۔ کہ بقول شاعر۔
وہی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے
دکھائی بھی نہ دے ، نظر بھی جو ارہا ہے، وہی خدا ہے۔
قبل ازیں بات ہو رہی تھی ایٹم اور اس کے مضمرات کی تو عرض یہ ہے کہ انسان نے تو اب جا کر اس کو دریافت کیا ہے۔قرآن اس بارے میں چودہ سو سال پہلے بڑے واضح اشارات دے چکا ہے .لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَلَا أَصْغَرُ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرُ...
یعنی:
ذرّے کے وزن کے برابر بھی کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں، اور نہ اس سے چھوٹی، نہ اس سے بڑی۔✅ قرآن انتہائی چھوٹی مادی حقیقت کے تصور کو “ذرّة” کے ذریعے بیان کرتا ہے اور اس سے بھی چھوٹی چیزوں کا امکان بیان کرتا ہے
رہی یہ بات کہ سائنس دان کی طرح ہم اوسط درجے کا ذہن رکھنے والے انسان بھی متذبذب ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ اس خالق کے ذہن میں کائنات کے بنانے کا خیال کیوں اور کیسے آیا؟اس کو ان جھمیلوں میں پڑنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ تو اس کے جواب کے لئے اس خالق نے خاص انتظام کیا ہوا ہے ۔اسے پتہ تھا کہ یہ سوال اس کے سامنے ضرور ائے گا ۔ وہ اپنے کلام ہدایت میں بیان کر رہا ہے کہ" وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا"
ترجمہ:
"اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، بے مقصد پیدا نہیں کیا۔" اور پھر خاص طور پر انسانوں اور جنوں کی تخلیق کا مقصد بیان کرنے کے لیے فرمایا" وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
ترجمہ:
"اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔" پھر فرمایا ".سورۃ النحل، 16:3
خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ
ترجمہ:
"اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔"
یہاں بِالْحَقِّ بہت گہرا قرآنی تصور ہے۔ یعنی تخلیق محض اتفاق، کھیل یا بے معنی عمل نہیں؛ اس کے پیچھے اللہ کی حکمت اور مقصد ہے۔اس کا واضح اعلان ہے کہ جنوں اور انسانوں میں سے اگر کوئی کائنات کے سر بستہ رازوں سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کی بھیجی ہوئی کتابوں سے ، تعصبات کی عینک اتار کر استفادہ کیا
جا سکتا ہے۔ ویسے میرے خیال میں تو یہ سوال ہی انسانی دماغ اور سوچ کی دسترس سے باہر کا لگتا ہے۔کیونکہ یہ خالق کا پرسنل معاملہ ہے کہ وہ کیا چاہے کیا نہ چاہے، اور ہمیں اس کے، بلکہ اس کی بنائی ہوئی کسی مخلوق کے بھی پرسنل معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔ پھر بھی اس خدائے رحمن نے بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو خود اپنے بارے میں اظہار فرما دی ہیں۔ جن کا جاننا انسانوں بلکہ باشعور مخلوقات کے لیے نہ صرف ضروری اور فائدہ مند ہے بلکہ لازم بھی ہے ۔ ۔وہ قرآن میں اپنے بارے میں کیہ رہا ہے۔سورہ بقرہ 2 آیت 163.ترجمہ۔"اور تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں جو سب پر مہربان ہے اور بہت ہی مہربان ہے۔" اب ضمنی طور پر چونکہ یہ سوال سامنے اگیا ہے تو عرض کرتا چلوں کہ وہ اپنے کلام میں یہ کہہ رہا ہے کہ میں بہت مہربان ہوں تو پھر یہ ظلم و ستم ، دہشت گردی اور نا انصافی کیوں ہے؟ اس پر بھی وہ تخصیص کے ساتھ اپنے کلام میں یہ کہہ رہا ہے کہ یہ سارا کیا دھرا جن و انس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ اگر ان پر کوئی اچھا وقت اتا ہے تو یہ ان کے خالق کا فضل ہے اور اگر ان پر کوئی مصیبت اتی ہے تو یہ ان کا اپنا کیا دھرا ہے ۔اس خالق سے کسی کو بلا وجہ کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ وہ سراپۂ خیر ہے اور شر کی قوتوں کا خالق ہونے کے باوجود، کسب شر سے بالکل پاک ہے ۔ ہم اس ارشاد کو مشاہداتی معنوں میں لیں تو عرف عام میں بھی اس سے انکار ممکن نہیں کہ بات اپنی آخری حد تک درست ہے۔ چونکہ معاملہ بحث طلب ہے اس لیے اس کو کسی اور موقع پر چھوڑ دیتے ہیں یہاں صرف اتنا ضروری ہے۔ کہ مادی اور غیر مادی ، سائنسی اور غیر سائنسی، ہر طریقے سے اس سپیرئر قوت کا موجود ہونا ایک اٹل حقیقت اور انسانی ضرورت ہے۔ چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی زندگی گزارنے کے لیے اس کا اقرار کرنا لازمی امر ہے جو مورس بوکایلے کے بیان میں اوپر بیان ہو چکا ہے یہاں دو باتیں کرنے کے بعد میں اپنی اس بحث کو سمیٹتا ہوں کہ کفار و ملحدین کو سمجھانے کے لئے دو ہی صورتیں ہیں یا وہ الله ہے یا نہیں ہے۔ ہمارے خیال اور قرائن کی شہادتوں کے پیش نظر، وہ ہے۔اور اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ ہے۔ ۔دوسری صورت میں اگر ہم یقین کر لیں کہ وہ نہیں ہے تو پھر انسانوں کے رویوں اور کائنات کے اس نظام کی صورتحال بالکل ہی تبدیل ہو جاتی ہے ۔جو سرکشی پر مبنی تباہی کا پیش خیمہ ہوتی ہے کیونکہ انسان کسی کے سامنے جوابدہ ہی نہیں رہتا ۔دین نے آخرت کے تصور کے ساتھ انسانوں کو بعض ایسی پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے کہ اگر ان کو ان سے ازاد کر دیا جائے تو وہ پورے نظام کو تلپٹ کر کے رکھ دیں۔ یہ بات ہمارے روزمرہ مشاہدے میں بھی ا چکی ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے ۔خدا کی موجودگی کا اقرار باشعور مخلوقات کے مثبت رویوں کا غماض ہے ۔ اور سب سے بڑا مثبت رویہ یہ ہے کہ اس کو اپنا خالق حقیقی مان کر،اس کے پیغمبروں اور اسکی نازل کردہ کتب کے احکامات کے مطابق زندگی بسر کی جائے جو تمام انسانوں کو ایک فرد واحد کی اولاد کہتا ہے۔یہی فلاح کا راستہ ہے۔ جس سے فرار ممکن نہیں۔ ۔اللہ خود اپنے کلام میں پوری انسانیت کو یہ وارننگ دے رہا ہے کہ" ا ہے انسان تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔اس نے تجھے خلق کیا ، تیری پور پور کو سنوارا اور جیسے چاہا تجھ کو بنا دیا، کیا وہ تجھے موت دینے کے بعد دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا۔؟
ہمارے خیال میں وہ ارض و سماء کا حقیقی اقتدار اعلی ہے اس لئے وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ میں نے مضمون کی طوالت کے پیش نظر انتہائی اختصار کے ساتھ یہ چند سطور لکھ دی ہیں اور حوالہ جات کی لمبی فہرست سے احتراظ کیا ہے۔اگر قارئین میں سے کسی کو زیر بحث مضمون میں درج کسی بات کو سمجھنے کے لیے کسی حوالہ کی ضرورت ہو تو بندہ حاضر ہے۔
والسلام۔ خیر اندیش۔ آپکا بھائی خالد محمود ناظم